نوآبادیاتی دور میں کراچی کا نقشہ اگر دیکھا جائے، تو یہ شہر مختلف برادریوں کا گلدستہ تھا۔ موجودہ دور کا مصروف ترین تجارتی مرکز ‘صدر’ برطانوی راج کے دوران بنیادی طور پر مسلمان، مسیحی، پارسی، یہودی اور ہندو برادریوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، جہاں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل، کٹراک ہال اور جودھا مل جیسے نامور مندر اور عبادت گاہیں تعمیر ہو رہی تھیں۔
ایسے میں صدر کے قلب میں واقع راجہ غضنفر علی روڈ پر ایک ایسی عمارت کی بنیاد رکھی گئی جس نے نہ صرف خطے میں اسلامی فنِ تعمیر کی لاجواب چھاپ چھوڑی، بلکہ صدر میں کچھی مسلم کمیونٹی کی مذہبی اور سماجی شناخت کو بھی مستحکم کیا۔ یہ عمارت ‘تاریخی کچھی میمن مسجد’ ہے۔
اس تاریخی مسجد کی بنیاد 1893 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران رکھی گئی، جو اسے کراچی شہر کی قدیم ترین اور فعال ترین مساجد میں سے ایک بناتی ہے۔ اس کی تعمیر کا سہرا کراچی میں آباد ‘کچھی میمن’ برادری کے سر ہے۔

یہ وہ دور اندیش کاروباری برادری تھی جو قیامِ پاکستان سے کئی عشروں قبل ہی گجرات کے ساحلی علاقے ‘کچھ’ (Kutch) سے ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئی تھی اور شہر کے تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی تھی۔
اس دور میں صدر کے تجارتی علاقے میں مسلم ملازمین اور تاجروں کے لیے باجماعت نماز اور اذان کا کوئی مستقل گڑھ موجود نہ تھا، جس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس برادری نے زمین حاصل کر کے اس پختہ مسجد کی بنیاد رکھی۔
ثقافتی اور تعمیراتی لحاظ سے یہ مسجد گزری کے پیلے پتھر سے تیار کردہ کلاسیکی نوآبادیاتی طرز اور روایتی اسلامی فنِ تعمیر کا ایک حسین سنگم ہے۔
جبکہ مسجد کے بیرونی حصے اور محرابوں پر جودھپوری اور مقامی راجگیروں کے ہاتھ کی خوبصورت نقش و نگار اور خطاطی دیکھی جا سکتی ہے۔
مسجد کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا پستہ ہرا رنگ کا اندرونی دالان ہے۔
رنگین شیشے: مسجد کی کھڑکیوں میں نوآبادیاتی دور کا خاصہ سمجھے جانے والے روایتی رنگ برنگے شیشے نصب ہیں، جن سے چھن کر آنے والی روشنی مسجد کے ماحول کو ایک روحانی اور صدی پرانا تاریخی لمس بخشتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اندرونِ مسجد نصب قدیم کلاک اور نوادرات آج بھی جوں کے توں محفوظ ہیں۔
جدت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اگرچہ اب اس کے مرکزی دروازے پر نماز کے اوقات بتانے والا ایک جدید ڈیجیٹل بورڈ نصب کر دیا گیا ہے، مگر اس کا اصل تاریخی ڈھانچہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔

یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں رہی، بلکہ اس نے کراچی کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کو بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مایہ ناز مذہبی و سیاسی شخصیت، مفسرِ قرآن اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اسی مسجد کے جوار (قرب و جوار) میں گزارا۔
انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس منبر و محراب سے امامت، خطابت اور درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے، جس کی وجہ سے یہ مسجد تحریکِ ختمِ نبوت اور ملک کی سیاسی بیداری کا ایک اہم مرکز بنی رہی۔
اگرچہ کچھی میمن برادری کا پاکستان سے قبل کا ایک اور بڑا مرکز آرام باغ (پرانا گاڑی کھاتا) میں بھی واقع ہے، لیکن صدر کی یہ کچھی میمن مسجد اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، بازار کے بیچوں بیچ قائم ہونے اور اپنے پرسکون نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی وجہ سے کراچی کا ایک انمول تاریخی ورثہ ہے۔
صدر کی بھیڑ بھاڑ میں یہ مسجد آج بھی 1893 کے کراچی کی امن پسندی اور خوبصورتی کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔

