کراچی کی تجارتی اور معاشی تاریخ میں چند عمارتیں ایسی ہیں جو محض دفتری استعمال تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ شہر کی اجتماعی یادداشت اور اقتصادی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ایسی ہی ایک عمارت کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت ہے، جسے عام طور پر کراچی کاٹن ایکسچینج کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وہ جگہ تھی جہاں سے دہائیوں تک پاکستان کی کپاس کی معیشت کی سمت متعین ہوتی رہی۔ یہاں جاری ہونے والے نرخ ملک بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدی معاہدوں، بینکاری نظام اور انشورنس سیکٹر کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا قیام 1933 میں برطانوی دور میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد کپاس کی خرید و فروخت کو منظم کرنا، معیار مقرر کرنا اور نرخوں کا تعین کرنا تھا۔
اس وقت کراچی برصغیر کی بڑی بندرگاہوں میں شامل تھا اور کپاس کی برآمد خطے کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیتی زمین پر کاٹن ایکسچینج کی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ کپاس کی تجارت کے لیے ایک مرکزی اور باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔
دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس عمارت کی تعمیر 1930 کی دہائی کے آخر یا 1940 کی دہائی کے آغاز میں مکمل ہوئی۔ زمین کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیت تھی، جو آج کی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پیش رو سمجھی جاتی ہے، جب کہ عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے میونسپل لیز کے تحت تعمیر کی۔
اس دور میں یہ زمین کسی نجی فرد یا کمپنی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ براہ راست ایک بلدیاتی ادارے کے انتظام میں تھی۔
یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنے دور کی تجارتی عمارتوں میں شمار ہوتی تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیاں اور اسپاٹ ریٹس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے لیے بھی حوالہ قیمت کی حیثیت رکھتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی یہ عمارت مسلسل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے زیر استعمال رہی اور کئی دہائیوں تک کپاس کی قومی معیشت کا عملی مرکز بنی رہی۔
وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کے تجارتی نقشے میں تبدیلی آئی، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر مالیاتی ادارے نمایاں ہوئے، مگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنی تاریخی اور معاشی اہمیت برقرار رکھتی رہی۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جب اس عمارت پر ملکیتی تنازع سامنے آیا تو یہ معاملہ محض قانونی نہیں رہا بلکہ شہری اور تجارتی سطح پر ایک حساس موضوع بن گیا۔
کاٹن ایکسچینج کی عمارت کیوں سیل کی گئی؟
13 دسمبر 2025 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت وفاقی اداروں، ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور ایف آئی اے نے اس عمارت کو ایویکی پراپرٹی قرار دیتے ہوئے کارروائی کی اور عمارت کو سیل کر دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق زمین اور عمارت ایویکی ٹرسٹ کی ملکیت ہیں اور ماضی میں انہیں غیر قانونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
عمارت کے سیل ہونے سے معمول کی تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور چند دن تک اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہو سکے۔
بعد ازاں ادارے نے سرکاری طور پر بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کپاس کی منڈی میں خلل سے بچنے کے لیے عبوری انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت اسپاٹ ریٹس متبادل مقام اور دفتری و آن لائن نظام کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکسٹائل صنعت، بینکوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو قیمتوں کے تعین میں تسلسل میسر رہے۔
ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا مؤقف ہے کہ تقسیم کے بعد بعض املاک کو سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایویکیو پراپرٹی قرار دیا گیا تھا اور یہ عمارت بھی انہی ریکارڈز میں شامل ہے۔
بورڈ کے مطابق اگر کسی جائیداد کو کسی مرحلے پر ایویکی پراپرٹی قرار دے دیا جائے تو وہ وفاقی حکومت کی تحویل میں آ جاتی ہے، چاہے اس پر بعد میں کسی ادارے کا استعمال کیوں نہ رہا ہو۔
تاہم اس مؤقف پر اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمارت کبھی کسی ایسے فرد کی ملکیت نہیں رہی جو ہجرت کر گیا ہو، اس لیے اسے روایتی معنوں میں ایویکی پراپرٹی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان اداروں کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین ابتدا ہی سے ایک بلدیاتی ادارے کی ملکیت تھی، اس لیے ایویکی قوانین کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عمارت کو سیل کرنے اور مکینوں کو نکالنے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل کراچی کے میئر نے وفاقی اداروں کو لکھے گئے خط میں اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔
کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ کارروائی بغیر پیشگی نوٹس اور اختیار کے کی گئی، جبکہ 2019 کے قانون کے بعد ایویکی پراپرٹی سے متعلق بعض اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت میں سخت کارروائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔
مزید برآں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یہ ادارہ انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت قائم ہوا تھا اور جائیداد 1947 سے قبل ہی اس کے استعمال میں آ چکی تھی، اس لیے اسے ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی ایکٹ 1975 کے تحت نہ تو چھوڑ دی گئی جائیداد اور نہ ہی ایویکی پراپرٹی قرار دیا جا سکتا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے بعض دستاویزات پر جعلی ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی ادارے اپنے ریکارڈ اور لیز دستاویزات کو درست قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد سرکاری ریکارڈ اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں تمام فریقین اپنے اپنے قانونی اور دستاویزی مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔
تاہم ایک بات واضح ہے کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت محض ایک عمارت نہیں بلکہ کراچی کی تجارتی تاریخ، کپاس کی معیشت، اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تشریح کا ایک اہم امتحان ہے۔ اس کا فیصلہ نہ صرف ملکیتی معاملہ طے کرے گا بلکہ مستقبل میں سرکاری زمینوں اور تاریخی تجارتی اداروں کے تحفظ کی سمت بھی متعین کرے گا۔

