Tag: تجارت

  • درآمدات میں اضافے اور بیرونِ ملک رقوم منتقلی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ ایک بار پھر خسارے میں

    درآمدات میں اضافے اور بیرونِ ملک رقوم منتقلی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ ایک بار پھر خسارے میں

    پاکستان کی بیرونی تجارت کی صورتحال دسمبر 2025 میں ایک بار پھر کمزور ہو گئی۔ درآمدات بڑھنے اور بیرونِ ملک رقوم جانے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔ چند مہینوں کی بہتری کے بعد یہ صورتحال حکومت اور پالیسی بنانے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ معیشت کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عام لوگ اور کاروباری طبقہ بھی بے یقینی محسوس کر رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 244 ملین ڈالر رہا۔ اس کے مقابلے میں نومبر میں 98 ملین ڈالر کا سرپلس تھا۔ صرف ایک ماہ میں یہ بڑی تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی مالی معاملات اب بھی مضبوط نہیں ہیں۔ معیشت ابھی چھوٹے جھٹکے بھی برداشت نہیں کر پا رہی۔

    مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر تک، مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 174 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ 957 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حالات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ گزشتہ سال کی بہتری مستقل ثابت نہیں ہو سکی۔

    دسمبر میں خسارے کی سب سے بڑی وجہ تجارت کا بگاڑ تھا۔ ملک میں اشیا کی درآمدات بڑھ کر پانچ ارب 74 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔ اس کے مقابلے میں برآمدات صرف دو ارب 75 کروڑ ڈالر رہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان یہ فرق براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالتا ہے۔ درآمدی بل بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    درآمدات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ صنعتوں کے لیے خام مال زیادہ منگوایا گیا۔ تیل، گیس اور دیگر توانائی سے متعلق اشیا کی درآمد بھی بڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ صارفین کی استعمال کی اشیا بھی زیادہ درآمد کی گئیں۔ دوسری جانب برآمدات میں نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا۔ عالمی منڈی میں طلب کم ہے اور ملک کے اندر پیداوار کی لاگت زیادہ ہے، جس سے برآمدی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

    پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومتی عدم توجہ کے باعث کئی ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔ صنعت کو مہنگی بجلی اور گیس جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

    ایپٹما کے سابق صدر ایس ایم تنویر نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو سال میں ملک بھر میں ٹیکسٹائل کے 100 سے زائد یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری خاص طور پر شدید متاثر ہوئی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اب تک ٹیکسٹائل کی 187 ملز بند ہو چکی ہیں۔ ان بندشوں کے باعث کم از کم 50 ہزار مزدور بیروزگار ہو گئے ہیں۔

    براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بھی بہتر نہیں رہی۔ حکومت کے معاشی بہتری کے دعوؤں کے باوجود بیرونِ ملک سے آنے والی سرمایہ کاری میں واضح کمی آئی ہے۔ جولائی سے دسمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد کم رہی۔ یہ سرمایہ کاری ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 80 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک آ گئی۔

    صرف دسمبر کے مہینے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ہوا۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں کے تسلسل پر سوالات بھی سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

    مرکزی بینک کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالی حالت ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی۔ درآمدات دوبارہ بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات کی رفتار سست ہے۔ اسی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ برقرار ہے۔

    یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ درآمدات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ توانائی کی قیمتیں، ٹیکس نظام اور کاروباری لاگت میں اصلاحات ضروری ہیں۔ صنعت کو سہولت دیے بغیر برآمدی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر 2025 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کو بہت احتیاط سے چلانے کی ضرورت ہے۔ وقتی بہتری پر مطمئن ہو جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ مضبوط بنیادوں کے بغیر بیرونی مالی استحکام برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر معاشی پالیسی میں توازن اور تسلسل نہ آیا تو کرنٹ اکاؤنٹ کے اتار چڑھاؤ کا بوجھ عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

  • کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت : تاریخی اہمیت، کپاس کی معیشت، اور ملکیتی تنازع

    کراچی کی تجارتی اور معاشی تاریخ میں چند عمارتیں ایسی ہیں جو محض دفتری استعمال تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ شہر کی اجتماعی یادداشت اور اقتصادی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    ایسی ہی ایک عمارت کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت ہے، جسے عام طور پر کراچی کاٹن ایکسچینج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ وہ جگہ تھی جہاں سے دہائیوں تک پاکستان کی کپاس کی معیشت کی سمت متعین ہوتی رہی۔ یہاں جاری ہونے والے نرخ ملک بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدی معاہدوں، بینکاری نظام اور انشورنس سیکٹر کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے۔

    کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کا قیام 1933 میں برطانوی دور میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد کپاس کی خرید و فروخت کو منظم کرنا، معیار مقرر کرنا اور نرخوں کا تعین کرنا تھا۔

    اس وقت کراچی برصغیر کی بڑی بندرگاہوں میں شامل تھا اور کپاس کی برآمد خطے کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیتی زمین پر کاٹن ایکسچینج کی عمارت تعمیر کی گئی تاکہ کپاس کی تجارت کے لیے ایک مرکزی اور باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔

    دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس عمارت کی تعمیر 1930 کی دہائی کے آخر یا 1940 کی دہائی کے آغاز میں مکمل ہوئی۔ زمین کراچی میونسپل کمیٹی کی ملکیت تھی، جو آج کی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی پیش رو سمجھی جاتی ہے، جب کہ عمارت کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے میونسپل لیز کے تحت تعمیر کی۔

    اس دور میں یہ زمین کسی نجی فرد یا کمپنی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ براہ راست ایک بلدیاتی ادارے کے انتظام میں تھی۔

    یہ بھی ایک کم معروف حقیقت ہے کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنے دور کی تجارتی عمارتوں میں شمار ہوتی تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیاں اور اسپاٹ ریٹس نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے لیے بھی حوالہ قیمت کی حیثیت رکھتے تھے۔

    قیام پاکستان کے بعد بھی یہ عمارت مسلسل کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے زیر استعمال رہی اور کئی دہائیوں تک کپاس کی قومی معیشت کا عملی مرکز بنی رہی۔

    وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کے تجارتی نقشے میں تبدیلی آئی، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر مالیاتی ادارے نمایاں ہوئے، مگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت اپنی تاریخی اور معاشی اہمیت برقرار رکھتی رہی۔

    یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جب اس عمارت پر ملکیتی تنازع سامنے آیا تو یہ معاملہ محض قانونی نہیں رہا بلکہ شہری اور تجارتی سطح پر ایک حساس موضوع بن گیا۔

    کاٹن ایکسچینج کی عمارت کیوں سیل کی گئی؟

    13 دسمبر 2025 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت وفاقی اداروں، ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ اور ایف آئی اے نے اس عمارت کو ایویکی پراپرٹی قرار دیتے ہوئے کارروائی کی اور عمارت کو سیل کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق زمین اور عمارت ایویکی ٹرسٹ کی ملکیت ہیں اور ماضی میں انہیں غیر قانونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    عمارت کے سیل ہونے سے معمول کی تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور چند دن تک اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہو سکے۔

    بعد ازاں ادارے نے سرکاری طور پر بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کپاس کی منڈی میں خلل سے بچنے کے لیے عبوری انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت اسپاٹ ریٹس متبادل مقام اور دفتری و آن لائن نظام کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹیکسٹائل صنعت، بینکوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو قیمتوں کے تعین میں تسلسل میسر رہے۔

    ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا مؤقف ہے کہ تقسیم کے بعد بعض املاک کو سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایویکیو پراپرٹی قرار دیا گیا تھا اور یہ عمارت بھی انہی ریکارڈز میں شامل ہے۔

    بورڈ کے مطابق اگر کسی جائیداد کو کسی مرحلے پر ایویکی پراپرٹی قرار دے دیا جائے تو وہ وفاقی حکومت کی تحویل میں آ جاتی ہے، چاہے اس پر بعد میں کسی ادارے کا استعمال کیوں نہ رہا ہو۔

    تاہم اس مؤقف پر اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق یہ عمارت کبھی کسی ایسے فرد کی ملکیت نہیں رہی جو ہجرت کر گیا ہو، اس لیے اسے روایتی معنوں میں ایویکی پراپرٹی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان اداروں کا کہنا ہے کہ چونکہ زمین ابتدا ہی سے ایک بلدیاتی ادارے کی ملکیت تھی، اس لیے ایویکی قوانین کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے عمارت کو سیل کرنے اور مکینوں کو نکالنے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل کراچی کے میئر نے وفاقی اداروں کو لکھے گئے خط میں اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔

    کے ایم سی کا مؤقف ہے کہ کارروائی بغیر پیشگی نوٹس اور اختیار کے کی گئی، جبکہ 2019 کے قانون کے بعد ایویکی پراپرٹی سے متعلق بعض اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت میں سخت کارروائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

    مزید برآں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یہ ادارہ انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت قائم ہوا تھا اور جائیداد 1947 سے قبل ہی اس کے استعمال میں آ چکی تھی، اس لیے اسے ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی ایکٹ 1975 کے تحت نہ تو چھوڑ دی گئی جائیداد اور نہ ہی ایویکی پراپرٹی قرار دیا جا سکتا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے بعض دستاویزات پر جعلی ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی ادارے اپنے ریکارڈ اور لیز دستاویزات کو درست قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد سرکاری ریکارڈ اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے، جہاں تمام فریقین اپنے اپنے قانونی اور دستاویزی مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ عدالت کے حتمی فیصلے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ایک بات واضح ہے کہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت محض ایک عمارت نہیں بلکہ کراچی کی تجارتی تاریخ، کپاس کی معیشت، اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی تشریح کا ایک اہم امتحان ہے۔ اس کا فیصلہ نہ صرف ملکیتی معاملہ طے کرے گا بلکہ مستقبل میں سرکاری زمینوں اور تاریخی تجارتی اداروں کے تحفظ کی سمت بھی متعین کرے گا۔

  • تقریباً دو مہینوں سے چمن بارڈر بند ہونے کے باعث کتنا نقصان؟

    تقریباً دو مہینوں سے چمن بارڈر بند ہونے کے باعث کتنا نقصان؟

    چمن پاک افغان بارڈر تقریباً دو ماہ سے بند ہے اور اس کے نتیجے میں تجارت اور انسانی بحران سنگین ہو گیا ہے۔ سرحد کی بندش نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے بلکہ انسانی زندگیوں پر بھی شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔

    چمن اور کوئٹہ سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں کاروباری حضرات، ٹرانسپورٹرز اور مزدور سخت مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پھنسے ہوئے شہری بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات میں گھِرے ہیں۔

    اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قریبی فورسز کے درمیان فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے، جس کے بعد دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں اور کشیدگی میں اضافے کے باعث پاک افغان بارڈرز کو سلامتی کے تناظر میں بند کر دیا گیا تھا۔

    افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں ہزاروں پاکستانی تاجر اور عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ افراد کاروباری یا دیگر مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے، لیکن سرحد بند ہونے کے باعث واپس نہیں آ سکے۔ اسپین بولدک میں پھنسے شہری خوراک، رہائش اور طبی سہولیات کے شدید بحران کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان میں ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    انسانی حقوق کے ماہرین اور مقامی ادارے بارڈر بندش کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
    چمن بارڈر تاریخی طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ یہاں سے یومیہ کروڑوں روپے کی درآمد و برآمد ہوتی تھی، جس میں پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

    سرحد کی بندش نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو روک دیا ہے بلکہ کاروباری حضرات کے سرمایہ کو بھی جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں دونوں جانب کھڑی ہیں اور اشیائے خورونوش کے خراب ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش کے باعث ان کے کاروبار شدید نقصان میں ہیں اور اگر جلد کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
    تجارتی حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ دو ماہ سے جاری بندش کے دوران نہ صرف مقامی معیشت متاثر ہوئی ہے بلکہ ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں اور عام مزدور بھی بے روزگار ہو گئے ہیں۔ بارڈر کے بند ہونے سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوا بلکہ روزمرہ کے روزگار پر بھی سنگین اثرات پڑے ہیں۔

    تاجروں اور عوامی حلقوں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد کھولنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ خاص طور پر پھنسے ہوئے شہریوں اور تاجروں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرحد جزوی طور پر کھولی جائے تاکہ انسانی بحران کم کیا جا سکے اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

    عوام اور تجارتی ادارے حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ فوری اقدامات کریں اور پھنسے ہوئے تاجروں اور شہریوں کو واپس لانے کے لیے بارڈر جزوی طور پر کھولیں۔ اس اقدام سے انسانی مشکلات میں کمی آئے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وقت پر مناسب قدم اٹھانا اس بحران سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے تاکہ مالی اور انسانی نقصان کم سے کم ہو۔

    چمن پاک افغان بارڈر تقریباً دو ماہ سے بند، تجارت اور انسانی بحران سنگین

    پاک افغان سرحد تقریباً دو ماہ سے ہر قسم کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے، جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ سرحد کی طویل بندش نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ ایک سنگین انسانی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔

    سرحد بند ہونے کے باعث افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں ہزاروں پاکستانی تاجر اور عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ افراد کاروباری مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے، تاہم بارڈر بند ہونے کے باعث ان کی واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔ اسپین بولدک میں پھنسے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں انہیں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان میں موجود ان کے اہلِ خانہ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    دوسری جانب سرحد کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ تقریباً دو ماہ سے مکمل طور پر معطل ہے۔ چمن بارڈر کے ذریعے یومیہ کروڑوں روپے کی درآمد و برآمد ہوتی تھی، جس میں پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔ تجارت بند ہونے سے چمن، کوئٹہ اور دیگر سرحدی علاقوں کے تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس بے روزگاری اور شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

    مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ بارڈر بندش کے باعث ان کا سرمایہ پھنسا ہوا ہے، کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں دونوں جانب کھڑی ہیں جبکہ اشیائے خورونوش کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد سرحد نہ کھولی گئی تو نقصانات ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔

    عوامی اور تجارتی حلقوں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد کھولنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ کم از کم پھنسے ہوئے شہریوں اور تاجروں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بارڈر جزوی طور پر کھولا جائے تاکہ انسانی بحران میں کمی آئے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

  • کوپ -20 نایاب گگرال درخت کو معدومیت کے شکار جنگلی انواع کی بین الاقوامی تجارت کا عالمی معاہدے کے تحت محفوظ قرار

    کوپ -20 نایاب گگرال درخت کو معدومیت کے شکار جنگلی انواع کی بین الاقوامی تجارت کا عالمی معاہدے کے تحت محفوظ قرار

     

    سندھ کے صحرا تھر اور کھیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں اُگنے والے نایاب پودے گگرال یا گگر کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
    خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن (سائٹس) کی کوپ 20 کانفرنس، جو سمرقند میں منعقد ہوئی، نے گگرال کو عالمی سطح پر محفوظ پودوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کی تجارت کو سخت نگرانی کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے

    یونیسکو کی جانب سے سندھ کے روایتی ساز بوڑینڈو کو عالمی اعزاز ملنے کے بعد گگرال کا تحفظ صوبے کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری ہے، جس کا باضابطہ اعلان بین الاقوامی اجلاس کے اختتام پر کیا گیا۔

    گُگر کو اس کی رال کے باعث قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ یونانی اور آیورویدک ادویات میں اس کی رال کو سوزش کم کرنے، کولیسٹرول گھٹانے اور وزن قابو میں رکھنے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انڈیا میں اسے روایتی مذہبی رسومات میں دھونی کے طور پر بھی جلایا جاتا ہے۔ یہی بڑھتی عالمی مانگ اس پودے کی بقا کے لیے بڑے خطرے کی وجہ بنی۔

    رال نکالنے کے لیے پودے کی چھال پر بار بار گہرے زخم لگائے جاتے ہیں اور کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہو کر مرجھانے لگتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں اس کے انڈیا سمگل ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    پانی کی شدید قلت، غیر ذمہ دار کٹائی، اور رال نکالنے کے کیمیکل طریقوں نے اس پودے کو نایاب ہونے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے تھے کہ اگر صورتِ حال نہ بدلی تو گُگُر جنگلی ماحول میں پوری طرح ختم ہو جائے گا۔
    سندھ حکومت نے مارچ 2024 میں اس کی کٹائی، گوند نکالنے، اور غیر قانونی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مگر خطرہ برقرار رہا۔

    سمرقند کوپ 20 میں فیصلہ کن موڑ

    خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی بین الاقوامی تجارت کے کنونشن کے تحت ہر چند سال بعد ایک بڑی میٹنگ کرتا ہے جسے کانفرنس آف پارٹیز (CoP) کہتے ہیں۔ اس میں مختلف میمبر ممالک مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ خطرے میں پڑی نسلوں کی بین الاقوامی تجارت کو کیسے کنٹرول کیا جائے تاکہ وہ ختم نہ ہوں۔پچھلی CoP- 19 میٹنگ نومبر 2022 میں پناما سٹی میں منعقد ہوئی تھی، جہاں کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے۔

    اس سال CoP-20 ازبیکستان کے شہر سمرقند میں 24 نومبر سے پانچ دسمبر تک ہوئی۔ جب کہ اگلا اجلاس ایک بار پھر پناما میں منعقد ہوگا، جس کی میزبانی کا اعلان حالیہ کانفرنس میں کیا گیا ہے، اور یہ کانفرنس متوقع طور پر 2028 میں منعقد ہوگی۔

    کوپ- 20 کانفرنس میں 184 ممالک کے پانچ ہزار سے زائد مندوبین نے 51 تجاویز پر بحث کی، مگر گُگُر کا معاملہ نمایاں رہا۔ پانچ دسمبر کو کانفرنس کے اختتام پر اعلان ہوا کہ اسے ‘ضمیمہ -دوم’ میں شامل کیا جا رہا ہے، یعنی تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوگی، مگر سخت قوانین یہ یقینی بنائیں گے کہ پودا ختم نہ ہو۔

    یہ تجویز باضابطہ طور پر یورپی یونین نے پیش کی، جس کی حمایت عالمی تحقیقاتی اداروں، جیسا کہ ٹریفک اور برطانیہ کے رائل بوٹینک گارڈنز، نے بھی کی۔ ان اداروں نے خبردار کیا تھا کہ اگر جڑی بوٹیوں کی صنعت کو سائنسی اصولوں کے تحت منظم نہ کیا گیا تو گگرال سمیت کئی نایاب پودے ہمیشہ کے لیے غائب ہو سکتے ہیں۔

    کچھ ممالک نے اعتراض اٹھایا کہ سخت قوانین سے مقامی لوگوں کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے، مگر ماحول دوست تنظیمیں بضد رہیں کہ فوری قدم نہ اٹھانے کی صورت میں نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔ پاکستان نے پائیدار تجارت کے حق میں ووٹ دیا اور آخرکار دو تہائی اکثریت سے فیصلہ منظور ہوا۔

    یہ عالمی فیصلہ جون 2027 سے نافذالعمل ہوگا۔ اس دوران ہر ملک کو اپنے نظام بہتر بنانا ہوں گے۔ پاکستان اور انڈیا، جہاں یہ پودا فطری طور پر زیادہ پایا جاتا ہے،کو ثابت کرنا ہوگا کہ جو بھی رال یا اس کی مصنوعات برآمد کی جائیں وہ قانونی، رجسٹرڈ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔

    اس عمل کو نان ڈیٹرمنٹ فائنڈنگ کہا جاتا ہے، جو برآمدات کو ماحول دوست بنانے کی شرط ہے۔ دوسری جانب درآمد کرنے والے ممالک کو بھی یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ وہ پائیدار ذرائع سے حاصل شدہ مال خرید رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے گگرال کی باقاعدہ کاشت کے دروازے کھلیں گے۔ نرسریوں اور فارموں میں اس کی افزائش بڑھائی جا سکتی ہے، جس سے جنگلی آبادی پر دباؤ کم ہوگا۔ ساتھ ہی وہ مقامی خاندان جو روایتی طریقوں سے اس پر انحصار کرتے تھے، اب تربیت یافتہ انداز میں بہتر معاشی مواقع حاصل کر سکیں گے۔

    اب دنیا کی نظریں سمرقند کے روشن ہالوں سے ہٹ کر سندھ کے ان خشک میدانوں پر ہیں جہاں گگرال اگتا ہے۔ وہاں کے لوگ ہر روز موسم کی شدت اور پانی کی کمی سے لڑتے رہتے ہیں۔ صدیوں سے شفا دینے والا یہ پودا اب انسانوں کی حفاظت کا محتاج ہے۔

    اگر عالمی قوانین پر سختی سے عمل ہوا تو امکان ہے کہ آنے والی نسلیں بھی گگرال کی خوشبو سے بھری دھونی اور اس کی شفا بخش رال سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر غفلت برتی گئی تو یہ پودا شاید صرف کتابوں اور تحقیقی رپورٹس میں رہ جائے گا۔

    سمرقند کی کانفرنس تو ختم ہو گئی، مگر گگرال کی بقا کی اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جس کے نتائج نہ صرف ماحول بلکہ روایتی طب اور مقامی معیشتوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔