Tag: تاریخ

  • کولاچی، Kurrachee  سے کراچی تک: نام، تاریخ اور ارتقا کی کہانی

    کولاچی، Kurrachee  سے کراچی تک: نام، تاریخ اور ارتقا کی کہانی

    ابتدائی دور: مائی کولاچی جو گوٹھ
    کراچی کی تاریخ کا آغاز ایک چھوٹی سی ماہی گیر بستی سے ہوتا ہے، جسے مقامی روایات میں ‘مائی کولاچی جو گوٹھ‘ کہا گیا۔
    کہا جاتا ہے کہ 17ویں صدی میں ایک خاتون مائی کولاچی نے اپنے قبیلے کے ساتھ ساحلِ سمندر کے قریب ایک بستی بسائی۔
    سندھی زبان میں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ کا مطلب ہے ‘کولاچی کا گاؤں‘۔
    یہ بستی ماہی گیروں کی ایک چھوٹی بندرگاہ تھی جہاں سے مقامی لوگ مچھلی اور نمک کی تجارت کرتے تھے۔

    کولاچی کا سب سے پرانا تحریری حوالہ


    کراچی کے قدیم ترین تحریری ذکر پرتگالی اور انگریز ریکارڈز میں ملتے ہیں۔
    17ویں صدی (1640 تا 1650) کے دوران پرتگالی ملاحوں کے سفرناموں میں ‘Kolechi‘ یا ‘Kolachi Bandar‘ کا ذکر ایک چھوٹی بندرگاہ کے طور پر ملتا ہے۔
    یہ وہ زمانہ تھا جب عرب، پرتگالی اور مقامی تاجر سندھ کے ساحلوں سے تجارتی جہاز رانی کرتے تھے۔
    18ویں صدی (1795 سے 1800) میں میر کلام الدین تالپور کے دورِ حکومت میں یہاں ایک قلعہ تعمیر ہوا جو ‘کولاچی جو قلعو‘ یا ‘قلعہ کولاچی‘
    اسی قلعے کے گرد بستی آباد ہوئی، جو بعد میں بڑھ کر ایک شہر میں تبدیل ہو گئی۔

    1754 میں Sind Gazetteer میں صاف لکھا گیا:
    ‘Karachi was originally a small fishing village known as Kolachi, situated on the coast of Sind‘

    کولاچی نام کی لسانی جڑ


    ‘کولاچی‘ بنیادی طور پر سندھی زبان کا نسوانی نام ہے۔
    یہ لفظ ممکنہ طور پر ‘کولاچی کول‘ (پانی یا ندی کے قریب رہنے والا) سے نکلا ہے۔
    یوں ‘کولاچی‘ کا مطلب سمجھا جاتا ہے, ‘پانی کے کنارے رہنے والی عورت‘
    یہ مفہوم اُس جغرافیائی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بستی سمندر اور دریا کے سنگم پر آباد تھی۔

    کیا یونانی مؤرخوں نے کراچی یا کولاچی کا ذکر کیا؟

    تاریخی طور پر نہیں۔
    یونانی مؤرخین جیسے ہیروڈوٹس، اریان، اور اروستھینیز نے سندھ کے خطے اور دریائے سندھ کے کنارے موجود شہروں، جیسے پٹالا (Patala) اور دیبل (Debal) کا ذکر ضرور کیا،
    مگر ‘کولاچی‘ یا ‘کراچی‘ کا نام کسی یونانی تحریر میں موجود نہیں۔
    ممکن ہے کہ قدیم بندرگاہ ‘دیبل (Debal)‘ موجودہ کراچی کے قریب ہو، لیکن اس زمانے میں ‘کولاچی‘ بطور نام موجود نہیں تھا۔
    لہٰذا ‘کولاچی‘ یونانی لفظ نہیں بلکہ مقامی سندھی ماخذ سے آیا ہے۔

    پہلا انگریزی تذکرہ     ‘Kurrachee‘

    19ویں صدی کے آغاز میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کے ساحلی علاقوں کا سروے شروع کیا،
    تو ان کے سرکاری ریکارڈز میں پہلی بار اس بندرگاہ کا ذکر ‘Kurrachee‘ کے نام سے کیا گیا۔
    1820 تا 1830 کے دوران بنائے گئے British Admiralty Charts (بحری نقشے) میں اسے ‘Port of Kurrachee‘ درج کیا گیا۔
    1843 میں سر چارلس نیپئر کی قیادت میں جب سندھ برطانوی قبضے میں آیا، تو برطانوی فوجی رپورٹوں اور Gazetteers میں یہی ہجے استعمال ہوئے۔ ‘Kurrachee (Sind)‘
    1843 کی جنگِ سندھ کے بعد شائع ہونے والی رپورٹ کا عنوان بھی یہی تھا:
    ‘Report on the Capture of Kurrachee by the British Troops‘
    جب کہ 1851 کی Gazetteer of India میں درج تھا:
    ‘Kurrachee, a rising port of Sind, is expected to become the chief harbour of Western India‘
    یہ وہ وقت تھا جب انگریزوں کو یقین تھا کہ Kurrachee مستقبل میں پورے خطے کا سب سے اہم بندرگاہی شہر بنے گا۔

    ‘Kurrachee‘ سے ‘Karachi‘ : انگریزی ہجوں کی تبدیلی

    19ویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے ہندوستان بھر کے شہروں کے انگریزی ناموں کو معیاری (Standardize) کرنے کا فیصلہ کیا۔
    1870 کی دہائی میں برطانوی سروے اور ڈاک محکمے نے یہ طے کیا کہ تمام نقشوں، خطوط اور ڈاک کے نظام میں ایک ہی ہجے استعمال ہوں گے۔
    اسی دوران ‘Kurrachee‘ کے ہجے بدل کر ‘Karachi‘ کر دیے گئے۔کیونکہ یہ تلفظ میں آسان اور ہجوں میں مختصر تھا۔
    1900 کے بعد سے یہی ‘Karachi‘ انگریزی اور بین الاقوامی نام بن گیا۔

    کولاچی سے کراچی :  ارتقا کی کہانی

    یوں ایک ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ سے آغاز ہوا، پھر برطانوی ریکارڈ میں ‘Kurrachee‘ لکھا گیا، اور بالآخر جدید زمانے میں ‘Karachi‘ کہلایا۔
    ایک ایسا شہر جو آج پاکستان کا تجارتی، معاشی، اور بندرگاہی دارالحکومت ہے۔
    انگریزوں کی وہ پیش گوئی کہ ‘Kurrachee will become the chief harbour of Western India‘ واقعی حقیقت بنی۔ مگر کراچی کی اصل شناخت آج بھی اُس ‘کولاچی‘ سے جڑی ہے، جو سمندر کے کنارے ایک ماہی گیر عورت کے خواب سے وجود میں آئی تھی۔

    کراچی کی تاریخ کسی ایک عہد کی کہانی نہیں، بلکہ کئی صدیوں کی ارتقائی داستان ہے۔
    یہ نام وقت کے ساتھ ‘کولاچی‘ سے ‘کراچی‘ بنا، مگر اس کی روح آج بھی سمندر، محنت اور ہمت سے وابستہ ہے۔ وہی ہمت جو ایک ماہی گیر مائی کولاچی نے دکھائی تھی۔

  • زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا

    زہران ممدانی نے امریکی شہر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھایا لیا۔ پہلے مسلمان میئر کے ساتھ وہ تاریخ میں نیو یارک کے سب سے کم عمر میئر بھی بن گئے۔

    حلف برداری کی تقریب کے دوران ان کی اہلیہ روما دواجی نے قران کے دو نسخے اٹھا رکھے تھے، جن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے حلف لیا۔

    ان کے ترجمان کے مطابق زہران ممدانی قرآن کے جن نسخوں پر حلف لیا ان میں ایک ان کے اپنے دادا کا قرآن اور ایک سیاہ فام مصنف اور مورخ آرتورو شومبرگ کا قرآن استعمال کیا جو نیو یارک پبلک لائبریری سے لیا گیا تھا۔

    ان کی حلف برداری کی تقریب نئے سال کے آغاز پر پرانے سٹی ہال سب وے سٹیشن پر منعقد ہوئی۔ جہاں زہران ممدانی نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر شہر کی سیاسی، سماجی اور شہری قیادت موجود تھی جبکہ دنیا بھر میں اس واقعے کو غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔

    حلف برداری کے بعد اپنے پہلے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ وہ نیو یارک کو تمام شہریوں کے لیے قابلِ رہائش، منصفانہ اور محفوظ شہر بنانے کے عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیو یارک تنوع کا شہر ہے اور یہی تنوع اس کی اصل طاقت ہے۔

    زہران ممدانی کب منتخب ہوئے

    زہران ممدانی کو نیو یارک سٹی کے میئر کے طور پر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں منتخب کیا گیا۔ انتخابی عمل کئی مراحل پر مشتمل تھا جس میں ابتدائی ووٹنگ کے بعد حتمی نتائج سامنے آئے۔ زہران ممدانی نے واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور یوں وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی کو شہر کی بدلتی ہوئی سماجی اور سیاسی ترجیحات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    الیکشن مہم کیسے چلائی گئی

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم روایتی سیاست سے مختلف نظر آئی۔ انہوں نے بڑی ریلیوں کے ساتھ ساتھ گلی محلوں میں جا کر براہ راست عوام سے ملاقاتوں پر زور دیا۔ کرایوں میں اضافے، رہائش کے بحران، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم ان کی مہم کے مرکزی نکات رہے۔ انہوں نے نوجوانوں، محنت کش طبقے اور اقلیتی برادریوں کو منظم کیا اور ایک ایسی مہم چلائی جس میں سادہ زبان اور واضح وعدے شامل تھے۔

    انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی نے کہا کہ شہر میں رہنا ایک حق ہے، کسی کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی مہم میں رضاکاروں کا کردار نمایاں رہا جو گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطہ کرتے رہے۔

    زہران ممدانی کون ہیں؟

    زہران ممدانی ایک نوجوان سیاست دان ہیں جو طویل عرصے سے نیو یارک کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل ریاستی اسمبلی کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی انصاف سے متعلق قانون سازی پر کام کیا۔ ان کی سیاست کا مرکز عام شہری اور کم آمدنی والے طبقات رہے ہیں۔

    زہران ممدانی نے اپنی ابتدائی تعلیم امریکہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کی جہاں ان کا جھکاؤ سماجی علوم اور عوامی پالیسی کی طرف رہا۔ میئر منتخب ہونے کے وقت ان کی عمر 34 بتائی جاتی ہے، جس کے باعث وہ نیو یارک کی تاریخ کے کم عمر ترین میئرز میں شامل ہو گئے ہیں۔

    زہران ممدانی کی ازدواجی زندگی نسبتاً سادہ اور نجی رہی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی اہلیہ روما دواجی سماجی شعبے سے وابستہ بتائی جاتی ہیں۔ زہران ممدانی متعدد مواقع پر یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی انہیں عوامی خدمت میں توازن سکھاتی ہے۔

    زہران ممدانی کو ‘مسٹر الائچی’ کیوں کہا جاتا تھا؟

    زہران ممدانی کو نوجوانی کے دور’مسٹر کارڈیمم‘ یعنی ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو لقب ‘مسٹر الائچی’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔  اور 2019 میں ان کا گانا ’نانی‘ خاصا زیر بحث رہا۔

    الیکشن مہم کے نعرے

    زہران ممدانی کی انتخابی مہم کے نعرے سادہ مگر مؤثر تھے۔ ان کے نعروں میں سب کے لیے رہائش، قابلِ برداشت کرائے، مفت اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ شہر کی پالیسیاں صرف امیر طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے ہونی چاہئیں۔

    انہوں نے بار بار کہا کہ نیو یارک کو ایک ایسا شہر بنایا جائے گا جہاں محنت کش خاندان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

    سوشل میڈیا پر ردعمل

    زہران ممدانی کے حلف اٹھانے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا ایک طوفان نظر آیا۔ فیس بک اور ایکس پر ہزاروں صارفین نے انہیں مبارکباد دی۔ بہت سی پوسٹس میں انہیں تاریخ ساز میئر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ لمحہ امریکی سیاست میں ایک نئی سمت کی علامت ہے۔

    کئی صارفین نے لکھا کہ ایک مسلمان میئر کا منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیو یارک واقعی تنوع کو قبول کرتا ہے۔ کچھ پوسٹس میں نوجوان قیادت اور سماجی انصاف کے بیانیے کو سراہا گیا۔
    دوسری جانب تنقیدی آوازیں بھی سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے اور خدشات کا اظہار کیا کہ آیا وہ اپنے انتخابی وعدے پورے کر پائیں گے یا نہیں۔

    سیاسی مبصرین اور شہری حلقے

    شہر کے سیاسی حلقوں میں زہران ممدانی کی کامیابی کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا ہے اور شہری مسائل کو مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب اصل امتحان اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوگا۔
    زہران ممدانی کو میئر کے طور پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ شہر میں رہائش کا بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کا دباؤ اور موسمیاتی اثرات ان کے سامنے بڑے مسائل ہوں گے۔ ان کے حامیوں کو امید ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کریں گے۔

     

  • پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    پاکستان  – مراکش تعلقات: ایک خاموش مگر زندہ سفارتی تاریخ

    بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں بعض ریاستی رشتے محض معاہدوں، سرکاری بیانات یا وقتی مفادات کے گرد نہیں گھومتے، بلکہ وہ اخلاقی اصولوں، نظریاتی ہم آہنگی اور مشکل وقت میں دی گئی بے لوث حمایت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔

    پاکستان اور مراکش کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک منفرد اور کم مثال رشتہ ہے۔ یہ تعلق نہ صرف دو مسلمان ممالک کے درمیان مذہبی اور ثقافتی قربت کا اظہار ہے بلکہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد اور اصولی سفارت کاری کی عملی تصویر بھی ہے۔

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات کی جڑیں اس دور میں پیوست ہیں جب پاکستان خود ایک نوآزاد ریاست تھا اور اسے داخلی استحکام، معاشی مشکلات اور علاقائی تنازعات جیسے بڑے چیلنجز درپیش تھے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا: مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت۔ یہی اصول مراکش کی آزادی کی جدوجہد کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا۔

    مراکش کی آزادی کی جدوجہد اور عالمی خاموشی

    1950 کی دہائی میں مراکش فرانسیسی استعمار کے خلاف اپنی آزادی کی تحریک میں مصروف تھا۔ اگرچہ مراکشی عوام میں آزادی کی شدید خواہش موجود تھی، مگر عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے باعث اس تحریک سے نظریں چرا رہی تھیں۔ فرانس، جو شمالی افریقہ میں ایک مضبوط نوآبادیاتی قوت تھا، ہر ممکن طریقے سے مراکش کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اسی دوران مراکش کے مقبول رہنما شاہ محمد پنجم کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے تحریکِ آزادی کو وقتی طور پر شدید دھچکا لگا۔ مراکشی قیادت عالمی فورمز تک رسائی سے محروم ہو چکی تھی اور اقوام متحدہ جیسے اداروں میں ان کی نمائندگی تقریباً ناممکن بنا دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں کسی بھی آزاد ریاست کی جانب سے مراکش کی کھلی حمایت نہ صرف سفارتی جرات کا تقاضا کرتی تھی بلکہ بڑی طاقتوں سے اختلاف مول لینے کا حوصلہ بھی چاہتی تھی۔

    پاکستان کا اصولی مؤقف اور سفارتی جرات

    پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے مراکش کی جدوجہدِ آزادی کو محض اخلاقی ہمدردی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ پاکستان کی قیادت کا یہ مؤقف تھا کہ نوآبادیاتی نظام نہ صرف انسانی آزادی کے منافی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ یہی سوچ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنی۔

    اقوام متحدہ میں مراکش کے مسئلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت فرانس کی جانب سے مراکشی نمائندوں کو اقوام متحدہ میں بولنے کی اجازت نہ دینا ایک بڑی سفارتی رکاوٹ تھی۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ، سر ظفر اللہ خان نے ایک ایسا تاریخی قدم اٹھایا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اصول پسند ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔

    اقوام متحدہ میں تاریخی لمحہ

    سر ظفر اللہ خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مراکش کے حقِ خودارادیت کے لیے نہ صرف بھرپور اور مدلل خطاب کرنا بلکہ مراکش کے وفد کو اپنی نشست فراہم کرنا، بظاہر ایک سادہ سفارتی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اُس دور کی عالمی سیاست میں ایسی اخلاقی جرات ایک معمول کی بات تھی؟

    حقیقت یہ ہے کہ نوآزاد ریاستیں عموماً بڑی طاقتوں کی ناراضی مول لینے سے گریز کرتی تھیں، مگر پاکستان نے اس موقع پر مفاد کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔ یہ اقدام محض ایک علامتی اظہار نہیں تھا بلکہ عالمی نظام کے اس دوہرے معیار پر ایک خاموش سوال بھی تھا، جہاں طاقتور اقوام نوآبادیاتی تسلط کو ‘اندرونی معاملہ’ کہہ کر نظر انداز کرتی تھیں۔

    تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عمل محض علامتی نہیں تھا، بلکہ اس نے مراکش کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کے بعد مراکش کی آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی اخلاقی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔

    پاکستانی پاسپورٹ: سفارت کاری سے بڑھ کر انسانیت

    پاکستان اور مراکش کی دوستی کا ایک اور غیر معمولی اور جذباتی باب وہ ہے جب مراکشی جلاوطن رہنماؤں کے پاس سفر کے لیے کوئی قانونی دستاویز موجود نہ تھی۔ فرانسیسی دباؤ کے باعث ان کے پاسپورٹ منسوخ یا ضبط کر لیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں سے عملاً کٹ چکے تھے۔

    ایسے میں پاکستان نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی۔ حکومتِ پاکستان نے مراکش کے ممتاز رہنماؤں، جن میں احمد بلافریج جیسے اہم سیاسی قائدین شامل تھے، کو پاکستانی سفارتی پاسپورٹ جاری کیے۔ ان پاسپورٹس کے ذریعے مراکشی رہنما مختلف ممالک کا سفر کرنے، حمایت حاصل کرنے اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے قابل ہوئے۔

    یہ اقدام محض سفارتی تعاون نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی وابستگی کا اظہار تھا۔ ان پاکستانی پاسپورٹس نے مراکش کی آزادی کی تحریک کو نئی زندگی دی اور عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو بھی بلند کیا۔

    شہری یادداشت اور علامتی تعلقات

    پاکستان اور مراکش کے تعلقات صرف سرکاری دستاویزات یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ تعلق دونوں ممالک کی شہری یادداشت (Urban Memory) کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ کراچی اور کاسابلانکا کی سڑکوں کے نام اس دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

    کراچی میں ‘مراکش ایونیو’ اور کاسابلانکا میں ‘Rue de Karachi’ اس بات کی علامت ہیں کہ قومیں ایک دوسرے کو محض مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مشکل وقت میں دی گئی قربانیوں کے ذریعے یاد رکھتی ہیں۔ یہ نام آنے والی نسلوں کو ایک خاموش پیغام دیتے ہیں کہ تاریخ میں بعض رشتے لفظوں سے زیادہ عمل سے بنتے ہیں۔

    آزادی کے بعد تعلقات اور باہمی اعتماد

    1956 میں مراکش کی آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے اس کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج دفاع، تعلیم، تجارت اور سفارت کاری کے مختلف شعبوں تک پھیلتے چلے گئے۔ سرد جنگ کے دور میں بھی پاکستان اور مراکش کے تعلقات کسی بڑے بحران کا شکار نہیں ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی بنیادیں محض وقتی سیاست پر نہیں تھیں۔

    مراکش نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی، جبکہ پاکستان نے مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا۔ یہ باہمی احترام اور اعتماد اس تعلق کو دیگر بین الاقوامی رشتوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    اقدار پر مبنی سفارت کاری کی مثال

    اکیڈمک اور تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان اور مراکش کا تعلق اس تصور کی تردید کرتا ہے کہ عالمی سیاست صرف طاقت اور مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ یہ رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاقی اصول، نظریاتی وابستگی اور مشکل وقت میں دیا گیا ساتھ بھی بین الاقوامی تعلقات میں دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔

    آج بھی مراکش کے عوام اور قیادت پاکستان کے اس تاریخی کردار کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک خاموش سفارتی تاریخ ہے—جو نہ بلند دعوے کرتی ہے، نہ تشہیر کی محتاج ہے، —مگر آج بھی زندہ ہے اور دونوں قوموں کے اجتماعی شعور میں محفوظ ہے۔