ابتدائی دور: مائی کولاچی جو گوٹھ
کراچی کی تاریخ کا آغاز ایک چھوٹی سی ماہی گیر بستی سے ہوتا ہے، جسے مقامی روایات میں ‘مائی کولاچی جو گوٹھ‘ کہا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ 17ویں صدی میں ایک خاتون مائی کولاچی نے اپنے قبیلے کے ساتھ ساحلِ سمندر کے قریب ایک بستی بسائی۔
سندھی زبان میں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ کا مطلب ہے ‘کولاچی کا گاؤں‘۔
یہ بستی ماہی گیروں کی ایک چھوٹی بندرگاہ تھی جہاں سے مقامی لوگ مچھلی اور نمک کی تجارت کرتے تھے۔
کولاچی کا سب سے پرانا تحریری حوالہ
کراچی کے قدیم ترین تحریری ذکر پرتگالی اور انگریز ریکارڈز میں ملتے ہیں۔
17ویں صدی (1640 تا 1650) کے دوران پرتگالی ملاحوں کے سفرناموں میں ‘Kolechi‘ یا ‘Kolachi Bandar‘ کا ذکر ایک چھوٹی بندرگاہ کے طور پر ملتا ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب عرب، پرتگالی اور مقامی تاجر سندھ کے ساحلوں سے تجارتی جہاز رانی کرتے تھے۔
18ویں صدی (1795 سے 1800) میں میر کلام الدین تالپور کے دورِ حکومت میں یہاں ایک قلعہ تعمیر ہوا جو ‘کولاچی جو قلعو‘ یا ‘قلعہ کولاچی‘
اسی قلعے کے گرد بستی آباد ہوئی، جو بعد میں بڑھ کر ایک شہر میں تبدیل ہو گئی۔
1754 میں Sind Gazetteer میں صاف لکھا گیا:
‘Karachi was originally a small fishing village known as Kolachi, situated on the coast of Sind‘
کولاچی نام کی لسانی جڑ
‘کولاچی‘ بنیادی طور پر سندھی زبان کا نسوانی نام ہے۔
یہ لفظ ممکنہ طور پر ‘کولاچی کول‘ (پانی یا ندی کے قریب رہنے والا) سے نکلا ہے۔
یوں ‘کولاچی‘ کا مطلب سمجھا جاتا ہے, ‘پانی کے کنارے رہنے والی عورت‘
یہ مفہوم اُس جغرافیائی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ بستی سمندر اور دریا کے سنگم پر آباد تھی۔
کیا یونانی مؤرخوں نے کراچی یا کولاچی کا ذکر کیا؟
تاریخی طور پر نہیں۔
یونانی مؤرخین جیسے ہیروڈوٹس، اریان، اور اروستھینیز نے سندھ کے خطے اور دریائے سندھ کے کنارے موجود شہروں، جیسے پٹالا (Patala) اور دیبل (Debal) کا ذکر ضرور کیا،
مگر ‘کولاچی‘ یا ‘کراچی‘ کا نام کسی یونانی تحریر میں موجود نہیں۔
ممکن ہے کہ قدیم بندرگاہ ‘دیبل (Debal)‘ موجودہ کراچی کے قریب ہو، لیکن اس زمانے میں ‘کولاچی‘ بطور نام موجود نہیں تھا۔
لہٰذا ‘کولاچی‘ یونانی لفظ نہیں بلکہ مقامی سندھی ماخذ سے آیا ہے۔
پہلا انگریزی تذکرہ ‘Kurrachee‘
19ویں صدی کے آغاز میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کے ساحلی علاقوں کا سروے شروع کیا،
تو ان کے سرکاری ریکارڈز میں پہلی بار اس بندرگاہ کا ذکر ‘Kurrachee‘ کے نام سے کیا گیا۔
1820 تا 1830 کے دوران بنائے گئے British Admiralty Charts (بحری نقشے) میں اسے ‘Port of Kurrachee‘ درج کیا گیا۔
1843 میں سر چارلس نیپئر کی قیادت میں جب سندھ برطانوی قبضے میں آیا، تو برطانوی فوجی رپورٹوں اور Gazetteers میں یہی ہجے استعمال ہوئے۔ ‘Kurrachee (Sind)‘
1843 کی جنگِ سندھ کے بعد شائع ہونے والی رپورٹ کا عنوان بھی یہی تھا:
‘Report on the Capture of Kurrachee by the British Troops‘
جب کہ 1851 کی Gazetteer of India میں درج تھا:
‘Kurrachee, a rising port of Sind, is expected to become the chief harbour of Western India‘
یہ وہ وقت تھا جب انگریزوں کو یقین تھا کہ Kurrachee مستقبل میں پورے خطے کا سب سے اہم بندرگاہی شہر بنے گا۔
‘Kurrachee‘ سے ‘Karachi‘ : انگریزی ہجوں کی تبدیلی
19ویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے ہندوستان بھر کے شہروں کے انگریزی ناموں کو معیاری (Standardize) کرنے کا فیصلہ کیا۔
1870 کی دہائی میں برطانوی سروے اور ڈاک محکمے نے یہ طے کیا کہ تمام نقشوں، خطوط اور ڈاک کے نظام میں ایک ہی ہجے استعمال ہوں گے۔
اسی دوران ‘Kurrachee‘ کے ہجے بدل کر ‘Karachi‘ کر دیے گئے۔کیونکہ یہ تلفظ میں آسان اور ہجوں میں مختصر تھا۔
1900 کے بعد سے یہی ‘Karachi‘ انگریزی اور بین الاقوامی نام بن گیا۔
کولاچی سے کراچی : ارتقا کی کہانی
یوں ایک ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی جو گوٹھ‘ سے آغاز ہوا، پھر برطانوی ریکارڈ میں ‘Kurrachee‘ لکھا گیا، اور بالآخر جدید زمانے میں ‘Karachi‘ کہلایا۔
ایک ایسا شہر جو آج پاکستان کا تجارتی، معاشی، اور بندرگاہی دارالحکومت ہے۔
انگریزوں کی وہ پیش گوئی کہ ‘Kurrachee will become the chief harbour of Western India‘ واقعی حقیقت بنی۔ مگر کراچی کی اصل شناخت آج بھی اُس ‘کولاچی‘ سے جڑی ہے، جو سمندر کے کنارے ایک ماہی گیر عورت کے خواب سے وجود میں آئی تھی۔
کراچی کی تاریخ کسی ایک عہد کی کہانی نہیں، بلکہ کئی صدیوں کی ارتقائی داستان ہے۔
یہ نام وقت کے ساتھ ‘کولاچی‘ سے ‘کراچی‘ بنا، مگر اس کی روح آج بھی سمندر، محنت اور ہمت سے وابستہ ہے۔ وہی ہمت جو ایک ماہی گیر مائی کولاچی نے دکھائی تھی۔
