سندھ کے ساحلی شہر کراچی اور اس کی قدیم بندرگاہ کی تاریخ کا ذکر برصغیر کی صدیوں پرانی ایرانی النسل برادری کے بغیر ادھورا رہے گا۔ یہ برادری گجراتی زبان بولنے والے پارسیوں پر مشتمل ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم اس برادری کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔
ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں جب ایران میں ساسانی سلطنت کا زوال ہوا اور اس کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، تو قدیم زرتشتی مذہب کے پیروکاروں کے لیے اپنے عقیدے اور بقا کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ وہ نسلیں جو صدیوں تک ایران کے تخت و تاج اور ثقافت کی امین رہی تھیں، اب اپنے دین کو بچانے کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔
زرتشتیوں کے ایک بڑے گروہ نے ایران کے صوبے ‘خراسان’ اور پھر ساحلی شہر ‘ہرمز’ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے گجرات کے بحری جہازوں کے ذریعے ہندوستان کے مغربی ساحلوں کی طرف ہجرت کا آغاز کیا۔
پارسیوں کے یہ بحری جہاز 716 یا بعض روایات کے مطابق 785 میں ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ساحلی علاقے ‘سنجان’ پر لنگرانداز ہوئے۔ اس وقت وہاں مقامی راجپوت راجہ یادیو رانا حکومت کرتا تھا۔ پارسیوں کی تاریخی دستاویز ‘قصہ سنجان’ فارسی زبان کی ایک رزمیہ نظم ہے جو 1599 میں بہمن کیکوباد سنجانا نامی ایک پارسی مذہبی پیشوا نے لکھی تھی۔
ان کے مطابق، راجپوت راجہ نے ایرانی پناہ گزینوں کی آمد پر ابتدا میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا اور اپنی سلطنت میں گنجائش کی کمی ظاہر کرنے کے لیے پارسی پیشواؤں کو کناروں تک دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس مزید لوگوں کی جگہ نہیں ہے۔
پارسی مذہبی رہنما نے اس کا جواب انتہائی دانشمندی سے دیا۔ انہوں نے اس دودھ کے پیالے میں ایک چٹکی شکر ڈال دی، جو دودھ سے باہر گرے بغیر اس میں پوری طرح حل ہو گئی اور دودھ کو میٹھا کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پارسی گجرات اور برصغیر کی سرزمین پر مقامی آبادی کے لیے بوجھ نہیں بنیں گے بلکہ ان کی ثقافت اور زندگی میں گھل مل کر اسے مزید شیریں اور خوشحال بنا دیں گے۔ راجہ یادیو رانا اس جواب سے حد درجہ متاثر ہوا اور اس نے پارسیوں کو چار بنیادی شرطوں پر پناہ دی۔
- وہ مقامی زبان گجراتی اختیار کریں گے۔
- ان کی خواتین مقامی لباس ساڑھی پہنیں گی۔
- وہ اپنی شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات رات کے وقت کریں گے تاکہ مقامی آبادی کے آرام میں خلل نہ پڑے۔
- وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور مقامی راجہ کے وفادار رہیں گے۔
پارسیوں نے ان شرائط کو تہہ دل سے قبول کیا اور صدیوں تک گجرات کے مختلف علاقوں جیسے سنجان، نوساری، سورت اور بھروچ میں پرامن زندگی گزاری۔ انہوں نے نہ صرف گجراتی زبان کو اپنی مادری زبان کے طور پر اپنایا بلکہ اپنے ناموں کے ساتھ گجراتی لہجے کا لاحقہ ‘جی’ جیسے دنشا جی، کاؤس جی اور جساوالا بھی جوڑ لیا، جو آج بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

برصغیر کی تجارتی سلطنتوں کا عروج
انیسویں صدی میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے ساحلی شہروں بمبئی اور کلکتہ کو بین الاقوامی تجارت کے مراکز کے طور پر ترقی دینا شروع کی، تو گجرات کے ساحلوں سے پارسیوں نے ان شہروں کا رخ کیا۔ پارسیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی غیر معمولی تجارتی بصیرت، ایمانداری اور زبانیں سیکھنے کی قدرتی صلاحیت تھی۔ وہ جلد ہی انگریزوں، پرتگالیوں اور دیگر یورپی تاجروں کے معتبر ترین تجارتی شراکت دار بن گئے۔
بمبئی میں ‘واڈیا خاندان’ نے بحری جہاز سازی کی صنعت کی بنیاد رکھی اور برطانوی بحریہ کے لیے ایسے شاندار اور مضبوط لکڑی کے جہاز تیار کیے جنہوں نے دنیا بھر کے سمندروں کا سفر کیا۔ اسی طرح ‘ٹاٹا خاندان’ نے ٹیکسٹائل اور لوہے کی صنعت میں قدم رکھا، اور سر جمشید جی نے چین کے ساتھ کپاس اور افیون کی تجارت کے ذریعے برصغیر کی سب سے بڑی تجارتی سلطنتوں میں سے ایک قائم کی۔
پارسیوں نے دولت کمانے کے بعد روایتی تاجروں کی طرح اسے صرف تجوریوں میں بند نہیں رکھا بلکہ جدید مغربی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ وہ برصغیر کے پہلے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے انگریزی زبان سیکھی اور وکالت، عدلیہ، طب، صحافت اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ پیشوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوا کر برصغیر کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور بااثر اشرافیہ میں صف اول کا مقام حاصل کر لیا۔
کراچی بندرگاہ کی جدید کاری میں پارسیوں کا حصہ
1839 میں جب برطانوی فوج نے منوڑہ کے قلعے پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپیئر نے سندھ کو برطانوی سلطنت کا حصہ بنایا، تو کراچی کی جغرافیائی اہمیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ انگریزوں کو وسطی ایشیا، پنجاب اور شمال مغربی سرحد تک تجارتی اور فوجی رسائی کے لیے ایک بہترین بندرگاہ کی ضرورت تھی۔ اس وقت کراچی محض چند ہزار ساحلی باشندوں، ماہی گیروں اور مقامی تاجروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔
بمبئی پریزیڈنسی کے تحت جب کراچی کے انتظامی معاملات چلانے کا آغاز ہوا، تو انگریزوں کے ساتھ جو سب سے پہلا متحرک، تعلیم یافتہ اور کاروباری طبقہ کراچی منتقل ہوا، وہ پارسی تاجر تھے۔ 1840 اور 1850 کے عشروں میں بمبئی سے بحری جہازوں کے ذریعے پارسی خاندان کراچی پہنچنا شروع ہوئے اور انہوں نے کیماڑی، صدر اور منوڑہ کے علاقوں میں اپنے ڈیرے جمائے۔
ابتدائی دور میں کراچی بندرگاہ پر بڑے بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت موجود نہیں تھی کیونکہ سمندر کی لہریں اور ریت کے ڈھیر جہازوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ سر چارلس نیپیئر اور بعد میں آنے والے برطانوی انجینئروں نے کراچی بندرگاہ کو جدید نمونے پر ترقی دینے کے لیے کئی منصوبے بنائے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے لیے مالی و انتظامی تعاون پارسیوں نے فراہم کیا۔
1887 میں جب کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ منظور ہوا اور بندرگاہ کا تمام انتظام ایک باقاعدہ بورڈ کے حوالے کیا گیا، تو اس کے بانی ارکان اور طویل عرصے تک بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن رہنے والوں میں پارسی نام سب سے نمایاں تھے۔ ان تاجروں نے بندرگاہ کی درج ذیل بڑی تکنیکی ترقیوں میں حصہ لیا۔
نیپیئر مول روڈ:
1854 میں کیماڑی جزیرے کو کراچی کے مرکزی شہر سے جوڑنے کے لیے بنائے گئے پل اور سڑک کی تعمیر کے لیے پارسی تاجروں نے گودام فراہم کیے اور رسد کا انتظام سنبھالا۔

منوڑہ بریک واٹر:
سمندر کی لہروں کے دباؤ کو کم کرنے اور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے منوڑہ کے ساحل پر پتھروں کی ایک بہت بڑی دیوار تعمیر کی گئی، جس کی وجہ سے برطانوی اور یورپی بحری جہازوں کے لیے کراچی کا راستہ کھل گیا۔ اس منصوبے کے لیے پارسیوں نے بندرگاہی فنڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔
برتھنگ اور کارگو ہینڈلنگ:
پارسیوں نے بندرگاہ پر پہلی بار جدید جیٹیاں بنائیں اور جہازوں سے مال اتارنے کے لیے کرینیں اور جدید حسابی نظام متعارف کرایا۔
کراچی بندرگاہ کے انیسویں صدی کے تجارتی دستاویزات اور ‘بمبئی پریزیڈنسی تجارتی گزٹ’ کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی پورٹ کس طرح دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شامل ہوئی۔ 1850 کے عشرے کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ لگ بھگ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جہاز یہاں آتے تھے۔
بیسویں صدی کے آغاز تک کراچی پورٹ سلطنت برطانیہ کو گندم، کپاس اور اون فراہم کرنے والی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ بن چکی تھی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پرانے حسابی ریکارڈ میں روزانہ کی بنیاد پر پارسی کمپنیوں کے نام درج ہیں، جنہوں نے کوئلے، نمک، کپڑے اور مشینری کی درآمد اور کلیئرنس کے معاملات سنبھالے۔
کراچی کے افق پر چمکتے پارسی خاندان
کراچی کے نامور پارسی خاندانوں نے نہ صرف بندرگاہ کے کاروبار پر حکمرانی کی بلکہ شہر کی صنعت، جائیداد، ہوٹلوں اور عوامی بہبود کی بنیاد بھی رکھی۔ ذیل میں ان بڑے خاندانوں کا تفصیلی خاکہ پیش ہے۔
1۔ کاؤس جی خاندان
کاؤس جی خاندان کا شمار پاکستان اور برصغیر کی قدیم ترین جہاز رانی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خاندان 1883 میں ہندوستان کے مغربی ساحل سے تجارتی مواقع کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ انہوں نے کوئلے اور نمک کی تجارت سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس دور میں بحری جہاز کوئلے سے چلتے تھے، اس لیے جہازوں کو کوئلہ فراہم کرنا ایک انتہائی منافع بخش اور اہم کاروبار تھا۔
جلد ہی انہوں نے ‘کاؤس جی گروپ’ کے نام سے پاکستان کی سب سے بڑی جہاز رانی اور کارگو ہینڈلنگ کمپنی قائم کی۔ کراچی بندرگاہ پر آنے والے برطانوی اور دیگر بین الاقوامی جہازوں کو سنبھالنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس خاندان کی کاروباری دیانت داری اور سمندری قوانین پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ عالمی جہاز رانی کمپنیاں ان پر مکمل اعتماد کرتی تھیں۔ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد اردشیر کاؤس جی تھے، جو پاکستان کے ایک بے باک کالم نگار، ماہر تعمیرات اور سماجی رہنما کے طور پر معروف ہوئے۔ انہوں نے کراچی کے ماحول اور تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے عمر بھر جدوجہد کی۔
2۔ ایڈلجی دنشا خاندان
سیٹھ ایڈلجی دنشا کو کراچی کی تاریخ کا امیر ترین تاجر، زمیندار اور مخیر شخصیت مانا جاتا ہے۔ ان کا خاندان جائیداد اور تجارت کا بے تاج بادشاہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کے مرکزی علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ اور سول لائنز میں ان کی سینکڑوں ایکڑ قیمتی زمین اور شاندار عمارتیں موجود تھیں۔
ایڈلجی دنشا اور ان کے خاندان کے افراد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بانی اراکین اور طویل عرصے تک ٹرسٹی رہے۔ بندرگاہ کے آس پاس کارگو کے گوداموں اور کسٹمز کلیئرنس کے معاملات میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ کراچی کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے بیٹے نادرشا ایڈلجی دنشا کی مالی معاونت اور عطیات کی بدولت کراچی کا پہلا انجینئرنگ کالج قائم ہوا، جسے آج ہم این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے لیے تاریخی لیڈی ڈفرن ہسپتال کی تعمیر کے لیے اس دور میں لاکھوں روپے کے فنڈز بھی فراہم کیے۔
3۔ ڈوباش خاندان
لفظ ڈوباش اصل میں سنسکرت اور گجراتی لفظ ‘دو بھاشا’ یعنی دو زبانیں جاننے والا سے نکلا ہے۔ قدیم دور میں جب غیر ملکی جہاز برصغیر کے ساحلوں پر آتے تھے، تو انگریزی یا دیگر یورپی زبانیں بولنے والے کپتانوں اور مقامی گجراتی و سندھی تاجروں کے درمیان براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس دور میں پارسیوں نے مترجم کا کردار ادا کیا اور جہازوں کو مقامی راشن، پانی اور دیگر سامان فراہم کرنے کا کاروبار شروع کیا۔
کراچی میں ڈوباش خاندان کا تعلق 1855 سے ہے۔ جہانگیر فیروز شاہ ڈوباش اور ان کے بعد ان کی نسلوں نے کراچی بندرگاہ پر مال برداری کی خدمات اور جہاز رانی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، جب کراچی پورٹ اتحادی افواج کا ایک بڑا مرکز تھا، تو ڈوباش خاندان کی کمپنیوں نے امریکی اور برطانوی فوج کے لیے مال برداری کی خدمات انجام دیں اور یونانی و دیگر عالمی جہاز رانی کمپنیوں کی نمائندگی بھی کی۔
4۔ آواری خاندان
ہوٹل انڈسٹری میں آواری خاندان کا نام پاکستان کے کونے کونے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس خاندان کے بانی دنشا آواری تھے، جنہوں نے 1944 میں آواری گروپ کی بنیاد رکھی۔ دنشا آواری نے اگرچہ ہوٹل کی صنعت میں نام کمایا، لیکن ان کے کاروبار کا آغاز بھی کراچی بندرگاہ سے جڑا ہوا تھا۔
انہوں نے 1948 میں کراچی کے ساحل کے قریب مائی کولاچی اور نیٹی جیٹی کے پاس تاریخی ‘بیچ لگژری ہوٹل’ کی بنیاد رکھی۔ اس ہوٹل کا مقام اس لیے منتخب کیا گیا تھا تاکہ سمندر کے راستے آنے والے غیر ملکی جہاز رانوں، کپتانوں اور بین الاقوامی کاروباری شخصیات کو بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی معیار کی رہائش، طعام اور تفریح فراہم کی جا سکے۔ بعد میں اس خاندان نے شاہراہ فیصل پر ‘آواری ٹاورز’ ہوٹل تعمیر کیا، جو آج بھی کراچی کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔
5۔ مینوالا خاندان
مینوالا خاندان نے بھی کراچی کی ہوٹل انڈسٹری، رسدی خدمات اور جائیداد کے شعبے میں تاریخی خدمات انجام دیں۔ اس خاندان کے سربراہ سائرس ایف مینوالا نے 1951 میں صدر کے علاقے میں پاکستان کا پہلا فائیو اسٹار لگژری ہوٹل ‘ہوٹل میٹروپول’ قائم کیا۔ اس ہوٹل کا افتتاح شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے کیا تھا۔ ہوٹل میٹروپول طویل عرصے تک کراچی کی سیاسی و سماجی اشرافیہ، غیر ملکی سفارت کاروں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے عملے کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ اس کے علاوہ کیماڑی کے علاقے میں ان کا ‘گرینڈ ہوٹل’ بھی بحری مسافروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ تھا۔
6۔ کیٹرک اور رستم جی خاندان
سر سہراب کیٹرک کا خاندان درآمد و برآمد اور شراب کی درآمد کے کاروبار کا بڑا نام تھا۔ ٹاور پر موجود ‘کیٹرک مینشن’ اور صدر کی ‘سہراب کیٹرک پارسی کالونی’ اسی خاندان کی یادگار ہیں۔ دوسری طرف سیٹھ ہرمز جی جمشید جی رستم جی نے کراچی میں ایک مضبوط تجارتی اور تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا، جس نے شہر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
وکالت، عدلیہ اور طب کے شعبوں میں پارسیوں کی اہمیت
کراچی کے پارسیوں نے نہ صرف تجارت اور معیشت میں نام کمایا بلکہ طب اور قانون کے شعبوں میں بھی صف اول کے ماہرین پیدا کیے۔ ان کی ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔

نامور پارسی ڈاکٹر
پرانے کراچی کے رہائشیوں کے لیے پارسی ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی ڈسپنسریاں اور ہسپتال سستے اور بہترین علاج کے لیے مشہور تھے۔
ڈاکٹر فریدون سیٹھنا:
انہیں پاکستان کے نامور اور معزز ماہر امراض نسواں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک لیڈی ڈفرن ہسپتال کے طبی سربراہ رہے اور کراچی کی ہزاروں خواتین کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں۔
ڈاکٹر برجور انکلیسریہ:
وہ گارڈن روڈ پر مشہور ‘انکلیسریہ ہسپتال’ کے بانی تھے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان نے کراچی میں نرسنگ ہومز اور جدید ہنگامی طبی سہولیات متعارف کرائیں۔
ڈاکٹر کے این اسپینسر:
وہ کراچی کے معروف ماہر چشم تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں لی مارکیٹ کے قریب تاریخی ‘اسپینسر آئی ہسپتال’ قائم کیا گیا، جس نے دہائیوں تک غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج اور آپریشن کیے۔
ڈاکٹر بیجن جی رستم جی:
تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ کراچی کے پہلے پارسی ڈاکٹر تھے، جو 1858 میں بمبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم مکمل کر کے کراچی آئے اور سول ڈسپنسری کا چارج سنبھالا۔
نامور پارسی وکیل اور جج
کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ کی تاریخ پارسی قانون دانوں کی دلیری اور قانون پسندی کی گواہ ہے۔
جسٹس دوراب پٹیل:
یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی معتبر اور اصول پسند نام ہے۔ انہوں نے 1955 کے عشرے میں کراچی سے وکالت کا آغاز کیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بنے۔ 1981 میں جب جنرل ضیا الحق نے عبوری آئینی حکم نافذ کیا اور ججوں سے وفاداری کا نیا حلف مانگا، تو جسٹس دوراب پٹیل نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔
بیرسٹر فرامروز رستم جی اور بیرسٹر ہوشنگ رستم جی:
کیٹرک اور رستم جی خاندانوں کے ان پڑھے لکھے نوجوانوں نے لندن کے مشہور ‘انز آف کورٹ’ سے بیرسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کی عدالتوں میں جرح کے کمالات دکھائے۔ بیرسٹر ہوشنگ رستم جی خاص طور پر بین الاقوامی کمپنیوں، جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز سے متعلق پیچیدہ تجارتی مقدمات کے ماہر تھے اور ان کی قانونی مسودہ نویسی کو عدالتوں میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
قائد اعظم محمد علی جناح اور پارسی خاندانوں کے روابط
قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، سیاست اور ذاتی معاملات کا مطالعہ پارسی برادری کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ان کے پارسیوں سے تعلقات پیشہ ورانہ احترام سے لے کر انتہائی گہرے ذاتی رشتوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
قائد اعظم محمد علی جناح اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں پارسی خاندان کے ‘دادا بھائی نوروجی’ کی شخصیت اور ان کے لبرل خیالات سے شدید متاثر تھے۔ دادا بھائی نوروجی، جنہیں احتراماً ‘گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا’ کہا جاتا ہے، انڈین نیشنل کانگریس کے بانی اراکین میں شامل تھے اور ایک ممتاز ماہر معاشیات تھے۔ جب دادا بھائی نوروجی 1892 میں برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے ایشیائی رکن منتخب ہوئے، تو لندن میں موجود نوجوان محمد علی جناح نے ان کی انتخابی مہم میں دن رات کام کیا۔
جب دادا بھائی نوروجی 1906 میں کلکتہ کے کانگریس اجلاس کے صدر بنے، تو قائد اعظم نے ان کے نجی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قائد اعظم کی ملکی سیاست میں ابتدائی شناخت قائم کرنے اور ان کے لبرل آئینی نقطہ نظر کو واضح کرنے میں دادا بھائی نوروجی کا بڑا کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں ایک اہم سڑک کا نام ‘دادا بھائی نوروجی روڈ’ رکھا گیا۔
قائد اعظم کی ذاتی زندگی کا سب سے اہم اور رومانوی واقعہ ایک پارسی خاتون سے ان کی شادی ہے۔ قائد اعظم کے قریبی دوست سر دنشا پیٹٹ، جو بمبئی کے ایک انتہائی امیر اور نامور پارسی ٹیکسٹائل مل کے مالک تھے، ان کی صاحبزادی رتن بائی، جنہیں رتی بھی کہا جاتا تھا، جناح صاحب کی ذہانت اور شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئیں۔ رتی اپنی خوبصورتی، فیشن کے ذوق اور تیز ذہن کی وجہ سے بمبئی کے حلقوں میں ‘بمبئی کا گلاب’ کہلاتی تھیں۔
جب جناح صاحب نے سر دنشا سے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو سر دنشا سخت ناراض ہوئے کیونکہ پارسی مذہب میں برادری سے باہر شادی کی سخت ممانعت ہے۔ انہوں نے اس شادی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
رتی جب 18 سال کی ہوئیں تو انہوں نے اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیا اور 18 اپریل 1918 کو جامع مسجد بمبئی میں مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جہاں ان کا اسلامی نام ‘مریم’ رکھا گیا۔ 19 اپریل 1918 کو قائد اعظم، جن کی عمر 42 سال تھی، اور رتی، جن کی عمر 18 سال تھی، کی شادی بمبئی میں جناح صاحب کے گھر پر منعقد ہوئی۔
اس شادی کی وجہ سے پارسی برادری نے رتی کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور ان کے والد نے مرتے دم تک رتی اور جناح سے بات نہیں کی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا رکھا گیا، جنہوں نے بعد میں ایک پارسی صنعت کار نیول واڈیا سے شادی کی۔
ایک تاریخی نکتہ:
قائد اعظم پیدائشی طور پر کچھی خوجہ اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالتی ریکارڈ اور مؤرخین کے مطابق، 1901 کے قریب جب ان کی بہنوں کی شادیاں خوجہ اسماعیلی برادری سے باہر ہوئیں اور برادری نے اس پر اعتراض اٹھایا، تو جناح خاندان نے اسماعیلی طریقہ ترک کر کے خوجہ اثنا عشری مسلک اختیار کر لیا۔ رتی کے ساتھ ان کے نکاح نامے میں بھی ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔
زرتشتی مذہبی عقائد اور ان کے بارے میں غلط فہمیاں
پارسیوں کا مذہب ‘زرتشت واد’ دنیا کے قدیم ترین توحیدی مذاہب میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد ایران میں پیغمبر اشو زرتشت نے رکھی تھی۔ برصغیر کے عوام میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ان کے عقائد کے بارے میں کئی سنگین غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کا علمی اور تحریری ازالہ کرنا ضروری ہے۔
بت پرستی کی نفی
اکثر لوگ جب پارسیوں کے کمیونٹی ہال یا ان کی تاریخی عمارتوں کا دورہ کرتے ہیں، تو وہاں موجود تصویروں اور مجسموں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ پارسی بت پرست ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک خالص توحیدی مذہب ہے جو صرف ایک خدا ‘اہورامزدا’ یعنی عقل کل یا دانشمند آقا کی عبادت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے آتش کدوں کے اندر کوئی بت یا مجسمہ نہیں ہوتا۔
ہالوں میں جو تصویریں لگی ہوتی ہیں، وہ ان کے پیغمبر ‘اشو زرتشت’ کی ایک علامتی اور فرضی شبیہ ہوتی ہے، جس کا مقصد صرف احترام ہے، پوجا نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عمارتوں پر ‘فروہر’ کا نشان ہوتا ہے، جو پروں والے ایک بزرگ کا خاکہ ہے۔ یہ انسان کی روح، ضمیر اور اچھے خیالات کی پرواز کی ایک علامتی تصویر ہے۔
آتش پرستی کا ابہام
برصغیر میں پارسیوں کو عام طور پر ‘آتش پرست’ کہا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ آگ کو اپنا معبود مانتے ہیں، جبکہ حقیقت میں پارسی آگ کو خدا نہیں مانتے اور نہ ہی اس کی پوجا کرتے ہیں۔ زرتشتی فلسفے میں آگ، سورج اور روشنی کو خدا کی پاکیزگی، نور اور کائنات کی سچائی کا مظہر اور علامتی قبلہ مانا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز پڑھتے وقت کعبہ شریف کی طرف رخ کرتے ہیں، لیکن کعبہ کے پتھروں کی پوجا نہیں کرتے، اسی طرح پارسی اپنی عبادت کے دوران آگ یا روشنی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آگ دنیا کا سب سے پاک عنصر ہے، جو ہر چیز کو پاک کر دیتا ہے مگر خود کبھی ناپاک نہیں ہوتا، اس لیے یہ خدا کی صفات کی بہترین علامت ہے۔ ان کے آتش کدوں میں صدیوں سے روشن مقدس آگ کی دیکھ بھال مذہبی پیشوا انتہائی احترام سے کرتے ہیں۔
زرتشتی اخلاقیات کے تین ستون
زرتشتی اخلاقیات کا پورا نظام تین سادہ لیکن انتہائی گہرے اصولوں پر قائم ہے، جنہیں ہر پارسی کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوتا ہے۔
1۔ ہمت، اچھے خیالات:
انسان کو اپنے ذہن کو حسد، نفرت اور جھوٹ سے پاک رکھ کر ہمیشہ مثبت اور تعمیری سوچ رکھنی چاہیے۔
2۔ ہوخت، اچھے الفاظ:
زبان سے ہمیشہ سچ، نرمی اور محبت پر مبنی الفاظ ادا کرنے چاہییں کیونکہ الفاظ انسان کے کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔
3۔ ہورشت، اچھے اعمال:
دوسروں کی مدد کرنا، درخت لگانا، پانی کو صاف رکھنا، کاروبار میں ایمانداری اختیار کرنا اور دنیا کو بہتر جگہ بنانا ہی اصل عبادت ہے۔
ان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں دو متضاد طاقتیں کارفرما ہیں، ایک یزداں ‘سپینتا مینییو’ یعنی خیر کی طاقت اور دوسری ‘انگر مینییو’ یا اہریمن یعنی شر کی طاقت۔ انسان کو اپنے آزاد ارادے کے ذریعے ان تین اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خیر کی طاقت کو غالب کرنا ہے۔

جنازے کا طریقہ، دخمہ
ان کا ایک منفرد عقیدہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کے بجائے ‘دخمے’ یا ‘ٹاور آف سائلنس’ میں رکھنے کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جسم وفات کے بعد ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر اسے دفنایا جائے تو زمین، جلایا جائے تو آگ اور پانی میں بہایا جائے تو پانی ناپاک ہو گا۔ کائنات کے ان عناصر کی پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے وہ میت کو ایک بلند ٹاور پر رکھ دیتے ہیں، جہاں شکاری پرندے گوشت کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں دھوپ میں سوکھ کر پاؤڈر بن جاتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ دور میں شکاری پرندوں کی کمی کی وجہ سے کئی پارسی اب تدفین یا شمشان گھاٹ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔
اہم عدالتی مقدمات اور تاریخی تنازعات
کراچی کی عدالتی تاریخ میں پارسی خاندانوں کی جائیدادوں، ٹرسٹ فنڈز اور مذہبی حقوق سے متعلق کئی ایسے مقدمات چلے، جنہوں نے پاکستان کے کارپوریٹ اور سول قوانین کی تشریح میں اہم کردار ادا کیا۔
قائد اعظم کی وراثت کا مقدمہ
قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات 1948 کے بعد کراچی ہائی کورٹ میں ان کی جائیداد اور مسلک کے تعین سے متعلق ایک طویل عدالتی مقدمہ شروع ہوا، جو دو دہائیوں تک چلتا رہا۔ یہ مقدمہ قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ان کے دیگر رشتہ داروں، جیسے احمد علی، کے درمیان تھا۔ اس مقدمے میں پارسی برادری سے تعلقات اور قائد اعظم کی شادی کے سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیے گئے۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جناح نے اپنی زندگی میں روایتی خوجہ اسماعیلی طریقہ ترک کر دیا تھا، رتی سے شادی کا 1918 کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔ نامور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی اس مقدمے میں اہم گواہی دی۔
یہ مقدمہ پاکستان کی قانونی تاریخ میں ‘قانون وراثت’ اور مسلم پرسنل لا کی تشریح کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
ایڈلجی دنشا رفاہی ٹرسٹ کا مقدمہ
تقسیم ہند کے بعد جب ایڈلجی دنشا خاندان کے کئی افراد انگلینڈ اور امریکہ ہجرت کر گئے، تو کراچی میں موجود ان کی اربوں روپے مالیت کی جائیداد اور سینکڑوں ایکڑ اراضی کو سنبھالنے کے لیے قائم ٹرسٹ کے معاملات عدالتوں میں پہنچے۔ ان مقدمات میں یہ قانونی نکتہ زیر بحث آیا کہ آیا ایک غیر مسلم رفاہی ٹرسٹ کی زمین کو حکومت پاکستان متروکہ وقف املاک کے طور پر ضبط کر سکتی ہے یا نہیں۔
کراچی ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلوں میں پارسی ٹرسٹیوں کے حقوق کو تحفظ دیا اور یہ طے کیا کہ پارسی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے رفاہی اداروں کی جائیدادیں کسی بھی صورت میں ضبط نہیں کی جا سکتیں۔ انہی فیصلوں کی بدولت آج بھی این ای ڈی یونیورسٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال جیسے ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔
سمندری قانون کے مقدمات
1950 اور 1960 کے عشروں میں جب پاکستان کی بحری تجارت عروج پر تھی، تو کاؤس جی گروپ اور ڈوباش کمپنیوں کے خلاف بین الاقوامی جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز حکام کے درمیان کارگو نقصان اور کراچی ہاربر کے برتھنگ چارجز سے متعلق پیچیدہ مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں دائر ہوئے۔
ان مقدمات کی پیروی بیرسٹر ہوشنگ رستم جی اور جسٹس دوراب پٹیل، جج بننے سے پہلے، کرتے تھے۔ ان مقدمات کی وجہ سے پاکستان میں سمندری قانون کے اصول وضع ہوئے اور بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔
ماضی اور حال کا موازنہ
انیسویں صدی کا کراچی ایک ایسا شہر تھا جس کی صفائی، امن اور ترقی کی مثالیں پورے ایشیا میں دی جاتی تھیں۔ اس دور میں پارسیوں کی آبادی اگرچہ چند ہزار تھی، لیکن شہر کے میئر، ڈاکٹر، وکیل اور تاجر اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جمشید نسروانجی نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر اور میئر کی حیثیت سے شہر کو جو نقشہ دیا، اس کی بدولت کراچی کی سڑکیں روزانہ رات کو سمندر کے پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔
کراچی شہر کی جدید تعمیر و ترقی میں پارسی خاندانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ کراچی بندرگاہ سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں وہ متحرک اور سرگرم رہے۔ آج اور ماضی کے کراچی کا موازنہ کیا جائے تو شدید افسوس اور دکھ کا احساس ہوتا ہے۔ جب 1970 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملکی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا، تو پارسی خاندانوں کا دل ٹوٹ گیا۔ ان کے بحری جہاز، فلور ملیں اور کاروباری ادارے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔
اس معاشی دھچکے اور بعد کے ادوار میں شہر کی امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پارسیوں کی نئی نسل نے تیزی سے کینیڈا، انگلینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا ہجرت کرنا شروع کر دی۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں پارسیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی، لیکن آج 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر محض چند سو افراد تک رہ گئی ہے، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے۔
شہر کے قلب میں جمشید کوارٹرز میں واقع ‘بائی ویربائی جی کاؤس باغ’ پارسی کالونی آج بھی پرانے کراچی کے امن اور صفائی کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے، جہاں اب بھی چند خاندان آباد ہیں۔
ان کا ورثہ آج بھی کراچی کی روح میں زندہ ہے۔ ‘ماما پارسی گرلز ہائی اسکول’ اور ‘بائی ویربائی سوپاری والا، بی وی ایس پارسی بوائز اسکول’ آج بھی شہر کے ہزاروں مسلم، ہندو اور عیسائی بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارسیوں نے شہر سے صرف لیا نہیں بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے سنوارا ہے۔
کراچی جب تک قائم ہے، وہ اپنے اس معمار، دیانت دار اور امن پسند طبقے کا قرض دار رہے گا، کیونکہ پارسی صرف ایک برادری کا نام نہیں تھے بلکہ وہ کراچی کی تہذیب، اس کے اخلاق اور اس کے سنہری دور کی علامت تھے۔

