دریائے سندھ کے کنارے سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع ستین کا آستانہ سندھ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم طرز تعمیر، لوک روایات اور تاریخی شواہد ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
روہڑی ریلوے پل کے قریب اروڑ کی پہاڑیوں کی ایک شاخ پر قائم یہ مقام صدیوں سے سیاحوں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ تاریخی قبرستان اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی اہم قبریں موجود ہیں، جن میں بعض ایک بلند مرکزی چبوترے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر مینار نما برج قائم ہیں، جو مغل دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ قبروں اور برجوں پر نفیس کاشی کاری کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں،
جبکہ مغرب کی جانب ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمارت بھی اپنے زمانے میں خوبصورت کاشی کاری سے آراستہ تھی۔
ستین کا آستانہ صرف اپنے تاریخی آثار ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق سات پاکدامن خواتین ایک ظالم حکمران سے بچنے کے لیے اس مقام پر پہنچیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئیں۔
اسی روایت کی بنیاد پر اس مقام کو "ستین کا آستانہ” کہا جانے لگا۔ تاہم اس روایت کی تاریخی یا آثار قدیمہ کی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی اور محققین اسے ایک مقامی لوک داستان قرار دیتے ہیں۔
تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور متعدد محققین کے مطابق یہاں موجود اہم قبریں مغل دور کے بکھر کے گورنر میر ابو القاسم نمکین اور ان کے اہل خانہ سے منسوب ہیں۔ قبروں پر کندہ فارسی کتبے بھی اسی نسبت کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث بیشتر مؤرخین اس مقام کو مغل دور کے ایک اہم تدفینی احاطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ستین کا آستانہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ سندھ کے کئی تاریخی مقامات پر لوک روایات اور مستند تاریخی شواہد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف عوامی عقیدت سے جڑی داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، تو دوسری جانب آثار قدیمہ اور کتبے ان مقامات کی حقیقی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔
بلند پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریائے سندھ، روہڑی اور سکھر کے دلکش مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ مقام تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات ستین کا آستانہ کو سندھ کے ان منفرد مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں تاریخ، روایت اور قدرت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔
