Tag: سکھر

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سکھر میں دل کی دھڑکن سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کے سکھر مرکز میں اب دل کے برقی نظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور مخصوص طریقہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

    کارڈیک الیکٹروفزیالوجی دل کے برقی سگنلز اور دھڑکن کے نظام کا جائزہ لینے سے متعلق شعبہ ہے۔ سکھر مرکز میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی کے ذریعے مریض کے دل کے برقی سگنلز کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مخصوص مریضوں میں کیتھیٹر ایبلیشن اور جدید کارڈیک ڈیوائسز کی تنصیب جیسی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    سندھ حکومت نے سکھر سمیت مختلف مراکز میں جدید الیکٹروفزیالوجی لیبارٹریز کے قیام اور توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر میں ان جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا باقاعدہ افتتاح 12 اگست 2026 کو کیا گیا۔

    ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کو اب موجودہ کارڈیک سروسز کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے اور اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی پیچیدہ خرابیوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر مخصوص علاج تک ایک ہی مرکز پر جدید سہولت حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

    سکھر میں اس سہولت کی اہمیت شمالی سندھ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔ پیچیدہ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے علاج کے لیے ایسے مریضوں کو پہلے کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر جدید علاج تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

    سکھر کے علاوہ خیرپور، گھوٹکی اور شمالی سندھ کے دیگر علاقوں کے مریض بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکھر کا مرکز جغرافیائی اعتبار سے ایسا مقام بھی ہے جہاں پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اس جدید طبی سہولت تک رسائی ممکن ہے۔

    ایس آئی سی وی ڈی کا موجودہ نیٹ ورک سندھ میں دل کے علاج کی سہولیات کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے کا قیام 2017 میں سندھ بھر کے مریضوں کو جدید اور مکمل طور پر مفت دل کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سندھ کے مختلف شہروں میں 10 کارڈیک ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں، جبکہ اس نظام کو سندھ حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

    سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کی توسیع اسی وسیع تر نظام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ دل کی پیچیدہ دھڑکن سے متعلق بیماریوں کے لیے جدید تشخیص اور علاج اب شمالی سندھ کے مریضوں کے نسبتاً قریب دستیاب ہے۔

    یہ پیش رفت اس تصور کی عملی شکل بھی ہے کہ پیچیدہ دل کے علاج کے لیے مریض کو صرف فاصلے یا مالی مشکلات کی وجہ سے بڑے شہری مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور جدید طبی سہولیات علاقائی سطح پر بھی دستیاب ہوں۔

  • پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    ضلع سکھر کے شہر سنگرار سے اغوا ہونے والی پریا کماری کو اس سال محرم الحرام میں لاپتا ہوئے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ محرم الحرام 2021 میں پریا کماری کو اغوا کیا گیا تھا، مگر پانچ برس گزرنے کے باوجود آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    سندھ کی تاریخ میں ایسے کئی سانحات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کو غمزدہ کیا۔ پریا کماری کا معاملہ بھی سندھ میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔

    پریا کماری کی بازیابی کے لیے گزشتہ پانچ برس کے دوران سندھ حکومت نے متعدد بار تحقیقات کا اعلان کیا۔ اعلیٰ سطح پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے، متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور مختلف شواہد کا جائزہ لیا گیا، تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود کیس کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔

    تاحال نہ اغوا کی وجوہات سامنے آسکیں اور نہ ہی پریا کماری کی موجودگی کے بارے میں کوئی مستند معلومات سامنے آئیں۔

    پریا کماری کا معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ صرف ایک بچی کی گمشدگی تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ میں لاپتا بچوں کے وسیع تر مسئلے کی علامت بن گیا۔ مختلف سماجی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع سے متعدد بچے اور بچیاں لاپتا ہوئے، جن میں سے کئی اب تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ ان میں فضیلہ سرکی، اجالا سولنگی، صبا کلہوڑو، نوید لاشاری، آصفہ مغل، ماجد لاشاری اور دیگر بچے شامل ہیں، جن کے اہلِ خانہ بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

    پولیس کی جانب سے مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر 26 جون 2026 کو خیرپور کے قریب ببرلو بائی پاس پر پریا ایکشن کمیٹی نے سہنی پارس اور لیاقت جلبانی کی قیادت میں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ ابتدا میں یہ احتجاج صرف پریا کماری کی بازیابی کے لیے تھا، مگر آہستہ آہستہ دیگر لاپتا بچوں کے اہلِ خانہ بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ تقریباً سترہ خاندانوں کی شمولیت کے بعد یہ احتجاج سندھ میں لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے ایک مشترکہ عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

    مظاہرین کا مؤقف تھا کہ حکومت ہر بار مذاکرات اور یقین دہانیوں کے ذریعے احتجاج ختم کروا دیتی ہے، مگر عملی طور پر نہ بچوں کی بازیابی میں پیش رفت ہوتی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام لاپتا بچوں کے مقدمات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور خاندانوں کو باقاعدگی سے تحقیقات سے آگاہ رکھا جائے۔

    22 جولائی 2026 کو پریا کماری ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر ببرلو بائی پاس پر قومی شاہراہ بند کر دی۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان کئی دور کے مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں 24 جولائی کی علی الصبح ببرلو پولیس نے، ایس ایس پی خیرپور مسعود مگسی کی قیادت میں، دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کی۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ قومی شاہراہ کو کھلوانے کے لیے قانونی کارروائی کی گئی۔

    اس کارروائی کے دوران سول سوسائٹی کے کارکنوں، پریا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، خواتین مظاہرین اور احتجاج کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سہنی پارس، لیاقت جلبانی، صحافی ساحل جوگی اور دیگر افراد شامل تھے۔

    بعد ازاں پولیس نے تقریباً 150 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات پر انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا اور صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج میں شریک افراد اور صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق قابلِ اعتراض ہے۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمات قانون کے مطابق درج کیے گئے۔

    گرفتاریوں اور مقدمات کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، کندھکوٹ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور دیگر شہروں میں ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے گئے، جن میں لاپتا بچوں کی بازیابی، گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

    پریا کماری کے والدین گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کہاں ہے۔ اسی طرح دیگر لاپتا بچوں کے خاندان بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریاست ان کے بچوں کی بازیابی کو ترجیح دے، تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سندھ میں کسی بھی خاندان کو برسوں تک اپنے لاپتا بچوں کی واپسی کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

  • سکھر میں ریسکیو 1122: چند منٹ جو زندگی بچا سکتے ہیں

    سکھر میں ریسکیو 1122: چند منٹ جو زندگی بچا سکتے ہیں

    ایک سڑک حادثہ، اچانک دل کا دورہ، گھر میں آگ لگ جانا یا سیلابی پانی میں پھنسے لوگ۔ ایسے ہر واقعے میں سب سے قیمتی چیز وقت ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ صرف چند منٹ کی بروقت امداد ایک زندگی بچا سکتی ہے، جبکہ معمولی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے 2023 میں سکھر میں جدید ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کا آغاز کیا، تاکہ شمالی سندھ کے شہریوں کو تیز رفتار اور پیشہ ورانہ امداد فراہم کی جا سکے۔

    سکھر شمالی سندھ کا تیسرا بڑا شہر، اہم تجارتی مرکز اور صحت و تعلیم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں گاڑیاں قومی شاہراہوں، موٹرویز اور دریائے سندھ کے پلوں سے گزرتی ہیں، جبکہ خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، کشمور، جیکب آباد اور دیگر اضلاع سے بھی لوگ علاج، کاروبار اور تعلیم کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایک مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔

    ریسکیو 1122 صرف ایمبولینس سروس کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ہنگامی امدادی نظام ہے۔ اس کے تحت تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار مختلف نوعیت کی آفات اور حادثات میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں اور محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کرتی ہیں۔

    اگر سکھر یا اس کے اطراف میں کسی شخص کو اچانک دل کا دورہ پڑ جائے، ٹریفک حادثہ پیش آ جائے یا کوئی اور طبی ایمرجنسی ہو، تو شہری صرف 1122 پر کال کرکے مفت امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ کال موصول ہوتے ہی قریبی ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا جاتا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں متاثرہ مقام تک پہنچا جا سکے۔

    ریسکیو 1122 کی ایمبولینسیں جدید طبی آلات سے لیس ہیں اور ان میں تعینات ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن مریض کو اسپتال پہنچانے سے پہلے ضروری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق حادثے یا دل کے دورے کے بعد ابتدائی چند منٹ اکثر مریض کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    یہ سروس صرف طبی ایمرجنسی تک محدود نہیں۔ ریسکیو 1122 آگ لگنے کے واقعات، شہری سرچ اینڈ ریسکیو، پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے، سیلاب، عمارت گرنے، شاہراہوں پر بڑے حادثات اور دیگر قدرتی یا انسانی آفات کے دوران بھی امدادی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ اس کے اہلکار خصوصی تربیت اور جدید ریسکیو آلات کے ذریعے مختلف حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    سندھ حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے جدید ایمبولینسوں کا بیڑا بھی حاصل کیا، جنہیں صوبے کے مختلف اضلاع میں تعینات کیا گیا۔ ان کی نگرانی اور روانگی ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی کال موصول ہوتے ہی قریبی دستیاب ٹیم کو فوری طور پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔

    سکھر کی جغرافیائی حیثیت اس سروس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ شمالی سندھ کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہیں، دریائے سندھ کے اہم پل اور بین الاضلاعی سفر کا بڑا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی واقعات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایسے میں ریسکیو 1122 نہ صرف سکھر بلکہ پورے شمالی سندھ کے لیے ایک اہم حفاظتی نظام بن چکا ہے۔

    آج ریسکیو 1122 سکھر صرف ایک ہنگامی نمبر نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد اور امید کی علامت ہے۔ دن ہو یا رات، شدید گرمی ہو یا موسلا دھار بارش، حادثہ ہو یا قدرتی آفت، اس کے اہلکار ہر وقت انسانی جانیں بچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔

    مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر، شمالی سندھ میں قومی کھیل کی نئی امید

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر، شمالی سندھ میں قومی کھیل کی نئی امید

    سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے قریب واقع پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے اہم ترین ہاکی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس اسٹیڈیم کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ سکھر اور گرد و نواح کے اضلاع کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیتی سہولیات ان کے اپنے خطے میں میسر آ سکیں اور انہیں کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

    اگرچہ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی گزشتہ چند دہائیوں میں اپنے سنہری دور سے بہت دور ہو چکا ہے، لیکن سکھر میں قائم یہ اسٹیڈیم آج بھی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں شمالی سندھ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جدید سہولیات کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم منصوبے کی منظوری 2009 میں دی گئی تھی۔ منصوبے میں مصنوعی آسٹروٹرف، تماشائیوں کے لیے نشستیں، جم، ڈریسنگ رومز، فلڈ لائٹس، کھلاڑیوں کے ہاسٹل، واش رومز اور دیگر جدید سہولیات شامل کی گئیں تاکہ سکھر میں بین الاقوامی معیار کا ہاکی انفراسٹرکچر قائم کیا جا سکے۔

    2013 میں پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین صدیقی نے زیر تعمیر اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکام پر زور دیا کہ تعمیراتی کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ نوجوان کھلاڑی جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ اس وقت حکومت کی جانب سے فلڈ لائٹس، جم، ہاسٹل اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    اس منصوبے کا سب سے اہم حصہ مصنوعی آسٹروٹرف کی تنصیب تھی، کیونکہ جدید بین الاقوامی ہاکی مصنوعی ٹرف پر کھیلی جاتی ہے۔ اس سہولت کی بدولت شمالی سندھ کے نوجوانوں کو پہلی بار اپنے ہی علاقے میں عالمی معیار کے مطابق تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔

    یہ اسٹیڈیم صرف سکھر تک محدود نہیں بلکہ خیرپور، شکارپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور اور کندھ کوٹ سمیت شمالی سندھ کے متعدد اضلاع کے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک اہم تربیتی مرکز بن چکا ہے، جہاں ضلعی، صوبائی اور مختلف سطح کے ہاکی ٹورنامنٹس اور تربیتی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں۔

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر کے وسیع اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ ہے، جس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا۔ تاہم مختلف انتظامی وجوہات کے باعث منصوبہ کئی برس تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اس منصوبے کی ذمہ داری سندھ حکومت کو منتقل ہوئی، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا۔ سرکاری حکام کے مطابق اس اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، باکسنگ، جوڈو، کراٹے اور دیگر کھیلوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہاکی کے زوال کی بڑی وجوہات میں جدید آسٹروٹرف میدانوں کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور وسائل کا فقدان شامل ہیں۔ ایسے حالات میں سکھر کا پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے نوجوانوں کے لیے نہ صرف ایک تربیتی مرکز بلکہ قومی کھیل کے مستقبل سے وابستہ امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔

    یہ اسٹیڈیم اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر دور دراز علاقوں میں معیاری کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان کے ہر خطے سے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔

    مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل، شمالی سندھ کے ہزاروں کھلاڑیوں کے خوابوں کا پہلا پڑاؤ

    سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل، شمالی سندھ کے ہزاروں کھلاڑیوں کے خوابوں کا پہلا پڑاؤ

    سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے سامنے واقع سندھ اسپورٹس بورڈ کا پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز چلا آ رہا ہے، جہاں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کھلاڑی رہائش اختیار کرکے تربیتی کیمپوں، کوچنگ پروگراموں اور مختلف سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

    سندھ اسپورٹس بورڈ کے زیر انتظام قائم یہ ہاسٹل بنیادی طور پر دور دراز اضلاع سے آنے والے کھلاڑیوں کو محفوظ، منظم اور مناسب رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ دوران تربیت اور مقابلوں کے دوران یکسوئی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

    ہاسٹل میں ایک وقت میں ستر سے زائد کھلاڑیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہے۔ اسے مکمل طور پر فرنشڈ رہائشی سہولت کے طور پر تعمیر کیا گیا تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں سے آنے والے کھلاڑیوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔

    سکھر کو طویل عرصے سے شمالی سندھ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ، نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تربیتی پروگراموں کے دوران اسی ہاسٹل میں قیام کرتے رہے ہیں۔

    یہ ہاسٹل صرف رہائش تک محدود نہیں بلکہ کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں قیام کرنے والے کھلاڑی ہاکی، فٹبال، کرکٹ، ایتھلیٹکس، والی بال، باسکٹ بال، باکسنگ، ریسلنگ، بیڈمنٹن اور دیگر کھیلوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

    سندھ اسپورٹس بورڈ کی جانب سے سکھر میں برسوں سے انٹر ڈسٹرکٹ، انٹر ڈویژنل اور دیگر سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ کوچنگ اور ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شریک کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے اسی ہاسٹل کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ ہاسٹل روایتی کھیلوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سندھ اسپورٹس بورڈ کی نگرانی میں بیلہارو، کوڈی کوڈی، ونجھواٹی، ملاکھڑا اور دیگر مقامی کھیلوں کی تربیتی اور نمائشی سرگرمیوں میں شریک کھلاڑی بھی یہاں قیام کرتے رہے ہیں۔

    حالیہ برسوں میں اس ہاسٹل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ سکھر اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کمپلیکس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد منصوبہ سندھ حکومت کو منتقل کیا گیا، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔

    صوبائی حکومت کے مطابق سکھر اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، والی بال اور دیگر کھیلوں کی جدید سہولیات قائم کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں یہاں قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پلیئرز ہاسٹل کو منصوبے کا ایک بنیادی حصہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کی رہائش بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔

    سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خاموش مگر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک رہائشی عمارت نہیں بلکہ ایسا مرکز ہے جہاں مختلف شہروں اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ہی چھت تلے رہ کر کھیل، نظم و ضبط، محنت اور باہمی تعاون کی اقدار سیکھتے ہیں۔

    شمالی سندھ میں کھیلوں کے مستقبل کا ذکر ہو تو سکھر کے اس پلیئرز ہاسٹل کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ بے شمار کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کے سفر کا آغاز اسی ادارے سے کیا اور آگے بڑھنے کے مواقع حاصل کیے۔

  • سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    دریائے سندھ کے کنارے سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع ستین کا آستانہ سندھ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم طرز تعمیر، لوک روایات اور تاریخی شواہد ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔

    روہڑی ریلوے پل کے قریب اروڑ کی پہاڑیوں کی ایک شاخ پر قائم یہ مقام صدیوں سے سیاحوں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یہ تاریخی قبرستان اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی اہم قبریں موجود ہیں، جن میں بعض ایک بلند مرکزی چبوترے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر مینار نما برج قائم ہیں، جو مغل دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ قبروں اور برجوں پر نفیس کاشی کاری کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں،

    جبکہ مغرب کی جانب ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمارت بھی اپنے زمانے میں خوبصورت کاشی کاری سے آراستہ تھی۔

    ستین کا آستانہ صرف اپنے تاریخی آثار ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق سات پاکدامن خواتین ایک ظالم حکمران سے بچنے کے لیے اس مقام پر پہنچیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئیں۔

    اسی روایت کی بنیاد پر اس مقام کو "ستین کا آستانہ” کہا جانے لگا۔ تاہم اس روایت کی تاریخی یا آثار قدیمہ کی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی اور محققین اسے ایک مقامی لوک داستان قرار دیتے ہیں۔

    تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور متعدد محققین کے مطابق یہاں موجود اہم قبریں مغل دور کے بکھر کے گورنر میر ابو القاسم نمکین اور ان کے اہل خانہ سے منسوب ہیں۔ قبروں پر کندہ فارسی کتبے بھی اسی نسبت کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث بیشتر مؤرخین اس مقام کو مغل دور کے ایک اہم تدفینی احاطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ستین کا آستانہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ سندھ کے کئی تاریخی مقامات پر لوک روایات اور مستند تاریخی شواہد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف عوامی عقیدت سے جڑی داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، تو دوسری جانب آثار قدیمہ اور کتبے ان مقامات کی حقیقی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔

    بلند پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریائے سندھ، روہڑی اور سکھر کے دلکش مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ مقام تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات ستین کا آستانہ کو سندھ کے ان منفرد مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں تاریخ، روایت اور قدرت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

  • سکھر: ڈیجیٹل شجرکاری کے نئے ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر نئے پودے کا نام کسی فرد کے نام سے رکھا جائے گا

    سکھر: ڈیجیٹل شجرکاری کے نئے ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر نئے پودے کا نام کسی فرد کے نام سے رکھا جائے گا

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی دباؤ شہری علاقوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
    ایسے حالات میں ڈیجیٹل شجرکاری محض درخت لگانے کی مہم نہیں بلکہ شہری شمولیت، ذمہ داری اور نگرانی پر مبنی ایک نیا ماڈل سامنے لا رہی ہے۔

    میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ کے مطابق اس ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر پودے کو ایک نام دیا جائے گا۔
    پودا لگانے والے شہری کو اسی پودے کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر رجسٹر کیا جائے گا تاکہ اس کی شناخت، نگرانی اور بقا کو باقاعدہ طور پر ٹریک کیا جا سکے۔

    اس نظام میں شہری اپنے نام سے منسوب پودے کی دیکھ بھال اور نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
    بلدیاتی ادارے پانی کی فراہمی، تکنیکی معاونت اور مجموعی نگہداشت فراہم کریں گے۔

    ڈیجیٹل شجرکاری کے لیے ایک علیحدہ انتظامی شعبہ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
    یہ شعبہ پودوں کا ریکارڈ رکھنے، نشوونما پر نظر رکھنے اور شجرکاری کے تسلسل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔

    اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام کو شجرکاری کی طرف راغب کرنا ہے۔
    ایک لاکھ درخت لگانے کے ہدف کو محض دعوے کے بجائے قابلِ عمل، پائیدار اور قابلِ تقلید ماڈل میں تبدیل کرنا اس منصوبے کا مرکزی نکتہ ہے۔

    یہ ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ اگر شہری ذمہ داری اور ڈیجیٹل نگرانی کو یکجا کیا جائے۔
    تو شہروں میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت ممکن ہے۔

  • سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔ انہوں ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف “تاریخِ معصومی” سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے

  • سکھر: 84 فٹ اونچی ٹاور نما منفرد عمارت ‘معصوم شاہ جو مُنارو’ کے تعمیر کا کیا سبب تھا؟

    سکھر: 84 فٹ اونچی ٹاور نما منفرد عمارت ‘معصوم شاہ جو مُنارو’ کے تعمیر کا کیا سبب تھا؟

     

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔
    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سید امداد حسین شاہ نے بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف ‘تاریخِ معصومی’ سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔

    اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے