Tag: سکھر

  • موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    کراچی کی تاریخی شاہراہوں اور قدیم گلیوں کی اپنی ایک زبان دانی اور حافظہ ہوتا ہے۔ لارنس روڈ کراچی کے پرانے اور تاریخی علاقوں سے گزرتی ہے، جہاں برطانوی دور کی کئی پرانی عمارتیں، مساجد، مندر، چڑیا گھر اور بازار موجود ہیں۔

    بدلتے وقت کے ساتھ، گو کہ بلدیاتی کاغذات میں ’لارنس روڈ‘ کا نام تبدیل کرکے ’نشتر روڈ‘ رکھ دیا گیا ہو، لیکن اس شہرِ قائد کے پرانے اور اصیل کراچی واسیوں، قدیم تاجروں اور تاریخی شعور رکھنے والوں کے لبوں پر آج بھی یہ سڑک ’لارنس روڈ‘ ہی کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

    آخر یہ ’لارنس‘ کون تھے؟

    یہ شخصیت انگریز افسر شاہی کا کوئی عام پرزہ نہیں، بلکہ سر ہنری اسٹیولی لارنس تھے، جنہوں نے 1916 سے 1920 کے درمیان بحیثیت ’کمشنر سندھ‘ اس خطے کی قسمت، معیشت اور سب سے بڑھ کر اس کی ہزاروں سالہ قدیم تاریخی شناخت کی بنیادیں ازسرِ نو استوار کیں۔ اگر سکھر بیراج نہ ہوتا تو آج کا سندھ زرعی اعتبار سے بنجر اور قحط کا شکار ہوتا، اور اگر سر لارنس کی آثارِ قدیمہ سے متعلق بصیرت نہ ہوتی تو موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سالہ قدیم اور باوقار شہری تہذیب شاید دہائیوں تک مٹی کے ٹیلوں کے نیچے گمنام دفن رہتی۔

    تاریخ کا نیا موڑ: محمد بن قاسم اور راجہ داہر سے قبل سندھ کی شناخت

    سر ہنری لارنس کے دورِ کمشنری سے پہلے، سندھ کی تحریری اور عام فہم تاریخ کا افق انتہائی محدود تھا۔ مورخین، مستشرقین اور مقامی مؤلفین سندھ کی تاریخ کا آغاز بنیادی طور پر ’چچ نامہ‘ کے صفحات، راجہ داہر کے عہد اور 712 میں عماد الدین محمد بن قاسم کی آمد سے ہی فرض کرتے تھے۔

    سندھ کو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ، فاتحین کا بابِ اسلام یا قرونِ وسطیٰ کے راجواڑوں کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے پہلے کا زمانہ اساطیری کہانیوں اور ناخواندہ روایات کے دھندلکوں میں چھپا ہوا تھا۔

    سر لارنس محض ایک سویلین افسر نہیں تھے، بلکہ وہ سندھ کے قدیم آثار، اس کے جغرافیے اور برصغیر کی قدیم تہذیبوں کا گہرا تحقیقی اور عمیق ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے اس روایتی اور محدود تاریخی بیانیے کو چیلنج کیا۔

    آر ڈی بینرجی کی تعیناتی اور موہن جو دڑو کا سفر

    1917 کے دوران سر لارنس نے انڈین آرکیالوجیکل سروے کے مغربی سرکل کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ راکھال داس بینرجی کو سندھ طلب کیا۔ انہوں نے بینرجی کو سندھ بھر کے قدیم ٹیلوں، آثار اور تاریخی مقامات کی سائنسی درجہ بندی کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔

    انہی کی براہِ راست سرپرستی اور انتظامی احکامات کے تحت آر ڈی بینرجی نے 1918–1919 میں ضلع لاڑکانہ کے قریب واقع موہن جو دڑو کے پراسرار اور گمنام ٹیلوں کا رخ کیا۔ اس وقت تک عام خیال یہ تھا کہ یہ ٹیلے شاید کسی درمیانی دور کے بدھ مت کے اسٹوپا کی باقیات ہیں۔

    لیکن جب بینرجی نے ابتدائی کھدائی اور سروے کے بعد سر لارنس کو اپنی رپورٹس پیش کیں تو سر لارنس کی علمی پرکھ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ محض دوسری یا تیسری صدی کا اسٹوپا نہیں، بلکہ اس کے نیچے مہروں اور اینٹوں کی جو چنائی ہے، وہ قبل از تاریخ کے ایک عظیم الشان دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    سر لارنس نے بمبئی حکومت سے ہنگامی فنڈز کی منظوری کروائی اور اس مقام کو اینٹیں چرانے والوں اور مقامی تجاوزات سے محفوظ کرنے کا فوری انتظامی حکم دیا۔ اگرچہ باقاعدہ وسیع کھدائی بعد میں 1922 میں سر جان مارشل کی قیادت میں شروع ہوئی، لیکن وہ سر ہنری لارنس ہی کا تاریخی فیصلہ اور بصیرت تھی جس نے موہن جو دڑو کو عالمی تاریخی نقشے پر ابھارا۔

    اس ایک دریافت نے سندھ کی تاریخ کو راجہ داہر اور عرب فتح سے 5,000 سال پیچھے دھکیل کر اسے مصر اور میسوپوٹیمیا کی قدیم رین شہری تہذیبوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا۔

    سندھ کی معاشی شہ رگ، سکھر بیراج کا بانی

    سندھ کا زرعی اور معاشی جائزہ لیا جائے تو سندھ کی زندگی کا تمام تر انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ لیکن سر لارنس کے کمشنر بننے سے قبل، سندھ میں آب پاشی کا نظام انتہائی غیر یقینی اور دیسی نوعیت کا تھا۔ زمینیں صرف گرمیوں میں دریا کے چڑھاؤ اور سیلابی نہروں کے رحم و کرم پر تھیں؛ اگر دریا میں طغیانی نہ آتی تو قحط اور فاقہ کشی سندھ کے کسانوں کا مقدر بن جاتی۔

    التوا کے شکار منصوبے کا احیا

    دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر بیراج بنانے کا خیال سب سے پہلے 1847 میں کپتان فائف نے پیش کیا تھا، لیکن مالیاتی اور تکنیکی الجھنوں کے باعث برطانوی ہندوستانی حکومت اس پر ستر سال تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔

    1916 میں چارج سنبھالتے ہی سر ہنری اسٹیولی لارنس نے اس التوا کے شکار منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے چیف انجینئروں کی ایک باصلاحیت ٹیم تشکیل دی، جس نے 1913 کی ناقص تجاویز کا ازسرِ نو سائنسی اور مالیاتی تجزیہ کرکے ایک انتہائی جامع اور عملی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی۔

    بمبئی کونسل کے ساتھ اعصاب شکن لابنگ کا سامنا

    چوں کہ اس وقت سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا ایک حصہ تھا، اس لیے بمبئی کے حکمران سندھ پر اتنا بھاری سرمایہ خرچ کرنے کو تیار نہ تھے۔ سر لارنس نے ایک سخت گیر منتظم اور ماہرِ معیشت کی حیثیت سے بمبئی کے گورنر اور دہلی کی مرکزی حکومت کو قائل کیا کہ یہ بیراج نہ صرف سندھ بلکہ پورے برصغیر کو غذائی طور پر خودکفیل بنا دے گا۔

    انہی کی محنت، خلوص اور مسلسل خط و کتابت کے نتیجے میں 1920 میں اس عظیم الشان منصوبے کو بمبئی حکومت نے حتمی منظوری کی راہ پر ڈالا، جس کا سنگِ بنیاد بعد میں 1923 میں رکھا گیا اور 1932 میں لائیڈ بیراج، یعنی سکھر بیراج، نے کام شروع کیا۔

    معاشی انقلاب اور دائمی زراعت

    سکھر بیراج کی تعمیر نے سندھ کی قسمت بدل دی۔ 80 لاکھ ایکڑ کی سیرابی: سندھ کے بنجر اور غیر آباد خطے اچانک شاداب ہو گئے۔ بارہ ماہ نہری نظام: دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام، بشمول نارا کینال، روہڑی کینال، رائس کینال اور دادو کینال، کا وجود ممکن ہوا، جس سے سندھ سال میں دو فصلیں، ربیع اور خریف، پیدا کرنے کے قابل ہوا۔

    کراچی بندرگاہ کے لیے ایندھن: سندھ کی بمپر کپاس اور چاول نے کراچی بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں میں دھاک بٹھائی، جس سے کراچی کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز کا درجہ ملا۔

    آج 90 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی شہ رگ ہے اور صوبے کے 80 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کر رہا ہے۔ اس عظیم معاشی انقلاب کے پیچھے جو بنیادی دماغ اور انتظامی جرات تھی، وہ سر ہنری اسٹیولی لارنس ہی کی تھی۔

    کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جنگِ عظیم کا بحران

    بطور کمشنر سندھ، سر لارنس کا کراچی شہر سے تعلق بھی نہایت گہرا اور انقلابی نوعیت کا تھا۔ ان کا دورِ حکومت پہلی جنگِ عظیم کے انتہائی نازک اور پرآشوب سالوں پر محیط تھا۔

    بندر روڈ کی توسیع اور تجارتی زوننگ

    پہلی جنگِ عظیم کے دوران کراچی بندرگاہ برطانوی ہند کی اہم ترین جنگی اور تجارتی بندرگاہ بن کر ابھری۔ سر لارنس نے بندرگاہ سے لے کر شہر کے اندرونی حصوں تک مال برداری اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے موجودہ ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، کی چوڑائی، پختگی اور اس کی رابطہ سڑکوں کی توسیع کے منصوبے منظور کرائے۔

    انہی کے دور میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ایسٹ وارف کو باقاعدہ ریلوے لائن سے جوڑا گیا تاکہ پنجاب اور بلوچستان کی اجناس براہِ راست گودیوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے شہر کے اندرونی تجارتی حصوں، مثلاً برنس روڈ، کپڑا مارکیٹ اور بمبئی بازار، کی تجارتی زوننگ کی بنیاد رکھی۔

    غذائی بحران اور سستے غلے کی دکانیں

    1918 میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر جب پورا برصغیر شدید بارشوں کی کمی، قحط، ذخیرہ اندوزی اور اسپینش فلو کی مہلک وبا کی لپیٹ میں آیا تو سر لارنس نے کراچی اور سندھ کے عوام کو بھوک اور تباہی سے بچانے کے لیے حیران کن انتظامی صلاحیتوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ: ’انہوں نے کراچی بندرگاہ سے غلے اور گندم کی بے دریغ برآمد پر ہنگامی پابندی عائد کی۔‘

    ’ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غلے کی قیمتیں سرکاری طور پر مقرر کیں۔‘

    ’کراچی کے غریب طبقے، بندرگاہ کے مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری سرپرستی میں راشن شاپس، یعنی سستے غلے کی دکانیں، قائم کیں، جہاں رعایتی نرخوں پر راشن اور گندم فراہم کی جاتی تھی۔‘

    یہ وہ اقدامات تھے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہندوستان کے دیگر صوبے قحط اور فسادات کی آگ میں جل رہے تھے، کراچی سمیت سندھ کے عوام اس شدید غذائی بحران سے محفوظ رہے۔

    لارنس روڈ، ایک نام جو مٹایا نہ جا سکا

    سر ہنری اسٹیولی لارنس بعد میں بمبئی کے قائم مقام گورنر بھی رہے اور 29 جون 1949 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن سندھ اور کراچی کے لیے ان کی خدمات کا نقش اتنا گہرا تھا کہ کراچی کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں نے مل کر ان کی یاد میں اس اہم سڑک کا نام ’لارنس روڈ‘ رکھا تھا، جو کراچی کے پرانے تجارتی اور صنعتی علاقوں کو نیو کراچی اور سول لائنز سے جوڑتی تھی۔

    اگرچہ ہم نے تختیوں پر نام بدلنے کی روایتی روش پر عمل کرتے ہوئے اس سڑک کا نام کاغذی حد تک تبدیل کر دیا ہے، لیکن تاریخ کی سچائی کو سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔

    جب بھی کراچی کا کوئی باسی لارنس روڈ سے گزرتا ہے، جب بھی موہن جو دڑو کا ذکر دنیا کے سامنے سندھ کے فخر کے طور پر ابھرتا ہے، اور جب بھی سکھر بیراج کے 66 دروازوں سے سندھو ندی کا پانی نکل کر سندھ کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، تب تاریخ خاموشی سے سر ہنری اسٹیولی لارنس کی بصیرت کو سلام پیش کرتی ہے۔ وہ سندھ کے ایک سچے نوآبادیاتی محسن تھے، جنہوں نے اس دھرتی کو اس کا ہزاروں سالہ شاندار ماضی بھی لوٹایا اور اس کے مستقبل کی معاشی ضمانت بھی فراہم کی۔

  • بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر میں خواتین کے لیے جدید تعلیم کے مواقع

    بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر میں خواتین کے لیے جدید تعلیم کے مواقع

    سکھر میں قائم بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سندھ کی خواتین کے لیے قائم ایک سرکاری یونیورسٹی ہے، جہاں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، مینجمنٹ اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بھی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    یونیورسٹی سکھر میں روہڑی بائی پاس کے قریب واقع ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی کا قیام چھ جولائی 2018 کو عمل میں آیا۔

    یونیورسٹی کا بنیادی مقصد خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور معاشی طور پر بااختیار بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔

    یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں 2,400 سے زیادہ طالبات زیر تعلیم ہیں اور 21 سے زیادہ ڈگری پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔

    یہاں تعلیم، ریاضی، فزکس، شماریات، کیمسٹری، بایوٹیکنالوجی، جینیٹکس، ماحولیاتی علوم، فزیوتھراپی، مینجمنٹ سائنسز، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم دی جا رہی ہے۔

    مصنوعی ذہانت یونیورسٹی کے جدید تعلیمی پروگراموں میں شامل ہے۔ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی میں بی ایس مصنوعی ذہانت کا چار سالہ پروگرام موجود ہے، جس میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، ڈیٹا سائنس، ڈیٹا اینالیسس، نیچرل لینگویج پروسیسنگ، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات جیسے موضوعات شامل ہیں۔

    یونیورسٹی مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق اور عملی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے لیے مرکزِ فضیلت قائم کرنے کا منصوبہ بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ طالبات کے لیے مختلف ہم نصابی اور عملی سرگرمیوں کے مواقع بھی موجود ہیں۔ طالبات ادبی پروگراموں، مشاعروں، کھیلوں، ماحولیاتی سرگرمیوں، قیادت اور نوجوان خواتین کی تربیت سے متعلق پروگراموں میں حصہ لیتی ہیں۔

    یونیورسٹی میں عملی تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ فزیوتھراپی کے شعبے سے وابستہ طالبات کو کمیونٹی کے لیے منعقد کیے جانے والے طبی کیمپوں میں عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں تحقیقی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    یونیورسٹی میں اسمارٹ کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریز، فزیوتھراپی لیبارٹریز، لائبریری، لینگویج لیبارٹری، ہاسٹل، طبی سہولت، ڈے کیئر سینٹر اور طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔

    بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ سکھر اور شمالی سندھ کی طالبات کو اپنے ہی خطے میں اعلیٰ تعلیم کے مختلف مواقع فراہم کر رہی ہے۔

    یہاں روایتی مضامین کے ساتھ مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، بایوٹیکنالوجی، ماحولیاتی علوم اور دیگر جدید شعبوں میں بھی تعلیم اور تحقیق کے مواقع موجود ہیں۔

  • سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سکھر میں دل کی پیچیدہ دھڑکن کے علاج جدید الیکٹروفزیالوجی سے کیا جارہا ہے

    سکھر میں دل کی دھڑکن سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز کے سکھر مرکز میں اب دل کے برقی نظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور مخصوص طریقہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

    کارڈیک الیکٹروفزیالوجی دل کے برقی سگنلز اور دھڑکن کے نظام کا جائزہ لینے سے متعلق شعبہ ہے۔ سکھر مرکز میں الیکٹروفزیالوجی اسٹڈی کے ذریعے مریض کے دل کے برقی سگنلز کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مخصوص مریضوں میں کیتھیٹر ایبلیشن اور جدید کارڈیک ڈیوائسز کی تنصیب جیسی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    سندھ حکومت نے سکھر سمیت مختلف مراکز میں جدید الیکٹروفزیالوجی لیبارٹریز کے قیام اور توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ سکھر میں ان جدید کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کا باقاعدہ افتتاح 12 اگست 2026 کو کیا گیا۔

    ایس آئی سی وی ڈی سکھر میں الیکٹروفزیالوجی کو اب موجودہ کارڈیک سروسز کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے اور اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر بھی دستیاب ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن کی پیچیدہ خرابیوں میں مبتلا مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر مخصوص علاج تک ایک ہی مرکز پر جدید سہولت حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

    سکھر میں اس سہولت کی اہمیت شمالی سندھ کے مریضوں کے لیے خاص طور پر نمایاں ہے۔ پیچیدہ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی کے علاج کے لیے ایسے مریضوں کو پہلے کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا، لیکن سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر جدید علاج تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

    سکھر کے علاوہ خیرپور، گھوٹکی اور شمالی سندھ کے دیگر علاقوں کے مریض بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکھر کا مرکز جغرافیائی اعتبار سے ایسا مقام بھی ہے جہاں پنجاب اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی اس جدید طبی سہولت تک رسائی ممکن ہے۔

    ایس آئی سی وی ڈی کا موجودہ نیٹ ورک سندھ میں دل کے علاج کی سہولیات کو مختلف علاقوں تک پہنچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے کا قیام 2017 میں سندھ بھر کے مریضوں کو جدید اور مکمل طور پر مفت دل کے علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اس نیٹ ورک میں سندھ کے مختلف شہروں میں 10 کارڈیک ہسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس شامل ہیں، جبکہ اس نظام کو سندھ حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے۔

    سکھر میں کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سروسز کی توسیع اسی وسیع تر نظام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ دل کی پیچیدہ دھڑکن سے متعلق بیماریوں کے لیے جدید تشخیص اور علاج اب شمالی سندھ کے مریضوں کے نسبتاً قریب دستیاب ہے۔

    یہ پیش رفت اس تصور کی عملی شکل بھی ہے کہ پیچیدہ دل کے علاج کے لیے مریض کو صرف فاصلے یا مالی مشکلات کی وجہ سے بڑے شہری مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور جدید طبی سہولیات علاقائی سطح پر بھی دستیاب ہوں۔

  • پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    ضلع سکھر کے شہر سنگرار سے اغوا ہونے والی پریا کماری کو اس سال محرم الحرام میں لاپتا ہوئے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ محرم الحرام 2021 میں پریا کماری کو اغوا کیا گیا تھا، مگر پانچ برس گزرنے کے باوجود آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    سندھ کی تاریخ میں ایسے کئی سانحات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کو غمزدہ کیا۔ پریا کماری کا معاملہ بھی سندھ میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔

    پریا کماری کی بازیابی کے لیے گزشتہ پانچ برس کے دوران سندھ حکومت نے متعدد بار تحقیقات کا اعلان کیا۔ اعلیٰ سطح پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے، متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور مختلف شواہد کا جائزہ لیا گیا، تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود کیس کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔

    تاحال نہ اغوا کی وجوہات سامنے آسکیں اور نہ ہی پریا کماری کی موجودگی کے بارے میں کوئی مستند معلومات سامنے آئیں۔

    پریا کماری کا معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ صرف ایک بچی کی گمشدگی تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ میں لاپتا بچوں کے وسیع تر مسئلے کی علامت بن گیا۔ مختلف سماجی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع سے متعدد بچے اور بچیاں لاپتا ہوئے، جن میں سے کئی اب تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ ان میں فضیلہ سرکی، اجالا سولنگی، صبا کلہوڑو، نوید لاشاری، آصفہ مغل، ماجد لاشاری اور دیگر بچے شامل ہیں، جن کے اہلِ خانہ بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

    پولیس کی جانب سے مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر 26 جون 2026 کو خیرپور کے قریب ببرلو بائی پاس پر پریا ایکشن کمیٹی نے سہنی پارس اور لیاقت جلبانی کی قیادت میں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ ابتدا میں یہ احتجاج صرف پریا کماری کی بازیابی کے لیے تھا، مگر آہستہ آہستہ دیگر لاپتا بچوں کے اہلِ خانہ بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ تقریباً سترہ خاندانوں کی شمولیت کے بعد یہ احتجاج سندھ میں لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے ایک مشترکہ عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

    مظاہرین کا مؤقف تھا کہ حکومت ہر بار مذاکرات اور یقین دہانیوں کے ذریعے احتجاج ختم کروا دیتی ہے، مگر عملی طور پر نہ بچوں کی بازیابی میں پیش رفت ہوتی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام لاپتا بچوں کے مقدمات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور خاندانوں کو باقاعدگی سے تحقیقات سے آگاہ رکھا جائے۔

    22 جولائی 2026 کو پریا کماری ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر ببرلو بائی پاس پر قومی شاہراہ بند کر دی۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان کئی دور کے مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں 24 جولائی کی علی الصبح ببرلو پولیس نے، ایس ایس پی خیرپور مسعود مگسی کی قیادت میں، دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کی۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ قومی شاہراہ کو کھلوانے کے لیے قانونی کارروائی کی گئی۔

    اس کارروائی کے دوران سول سوسائٹی کے کارکنوں، پریا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، خواتین مظاہرین اور احتجاج کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سہنی پارس، لیاقت جلبانی، صحافی ساحل جوگی اور دیگر افراد شامل تھے۔

    بعد ازاں پولیس نے تقریباً 150 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات پر انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا اور صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج میں شریک افراد اور صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق قابلِ اعتراض ہے۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمات قانون کے مطابق درج کیے گئے۔

    گرفتاریوں اور مقدمات کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، کندھکوٹ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور دیگر شہروں میں ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے گئے، جن میں لاپتا بچوں کی بازیابی، گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

    پریا کماری کے والدین گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کہاں ہے۔ اسی طرح دیگر لاپتا بچوں کے خاندان بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریاست ان کے بچوں کی بازیابی کو ترجیح دے، تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سندھ میں کسی بھی خاندان کو برسوں تک اپنے لاپتا بچوں کی واپسی کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

  • سکھر میں ریسکیو 1122: چند منٹ جو زندگی بچا سکتے ہیں

    سکھر میں ریسکیو 1122: چند منٹ جو زندگی بچا سکتے ہیں

    ایک سڑک حادثہ، اچانک دل کا دورہ، گھر میں آگ لگ جانا یا سیلابی پانی میں پھنسے لوگ۔ ایسے ہر واقعے میں سب سے قیمتی چیز وقت ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ صرف چند منٹ کی بروقت امداد ایک زندگی بچا سکتی ہے، جبکہ معمولی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے 2023 میں سکھر میں جدید ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کا آغاز کیا، تاکہ شمالی سندھ کے شہریوں کو تیز رفتار اور پیشہ ورانہ امداد فراہم کی جا سکے۔

    سکھر شمالی سندھ کا تیسرا بڑا شہر، اہم تجارتی مرکز اور صحت و تعلیم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں گاڑیاں قومی شاہراہوں، موٹرویز اور دریائے سندھ کے پلوں سے گزرتی ہیں، جبکہ خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، کشمور، جیکب آباد اور دیگر اضلاع سے بھی لوگ علاج، کاروبار اور تعلیم کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایک مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔

    ریسکیو 1122 صرف ایمبولینس سروس کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ہنگامی امدادی نظام ہے۔ اس کے تحت تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار مختلف نوعیت کی آفات اور حادثات میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں اور محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کرتی ہیں۔

    اگر سکھر یا اس کے اطراف میں کسی شخص کو اچانک دل کا دورہ پڑ جائے، ٹریفک حادثہ پیش آ جائے یا کوئی اور طبی ایمرجنسی ہو، تو شہری صرف 1122 پر کال کرکے مفت امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ کال موصول ہوتے ہی قریبی ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا جاتا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں متاثرہ مقام تک پہنچا جا سکے۔

    ریسکیو 1122 کی ایمبولینسیں جدید طبی آلات سے لیس ہیں اور ان میں تعینات ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن مریض کو اسپتال پہنچانے سے پہلے ضروری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق حادثے یا دل کے دورے کے بعد ابتدائی چند منٹ اکثر مریض کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    یہ سروس صرف طبی ایمرجنسی تک محدود نہیں۔ ریسکیو 1122 آگ لگنے کے واقعات، شہری سرچ اینڈ ریسکیو، پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے، سیلاب، عمارت گرنے، شاہراہوں پر بڑے حادثات اور دیگر قدرتی یا انسانی آفات کے دوران بھی امدادی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ اس کے اہلکار خصوصی تربیت اور جدید ریسکیو آلات کے ذریعے مختلف حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    سندھ حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے جدید ایمبولینسوں کا بیڑا بھی حاصل کیا، جنہیں صوبے کے مختلف اضلاع میں تعینات کیا گیا۔ ان کی نگرانی اور روانگی ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی کال موصول ہوتے ہی قریبی دستیاب ٹیم کو فوری طور پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔

    سکھر کی جغرافیائی حیثیت اس سروس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ شمالی سندھ کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہیں، دریائے سندھ کے اہم پل اور بین الاضلاعی سفر کا بڑا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی واقعات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایسے میں ریسکیو 1122 نہ صرف سکھر بلکہ پورے شمالی سندھ کے لیے ایک اہم حفاظتی نظام بن چکا ہے۔

    آج ریسکیو 1122 سکھر صرف ایک ہنگامی نمبر نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد اور امید کی علامت ہے۔ دن ہو یا رات، شدید گرمی ہو یا موسلا دھار بارش، حادثہ ہو یا قدرتی آفت، اس کے اہلکار ہر وقت انسانی جانیں بچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔

    مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر، شمالی سندھ میں قومی کھیل کی نئی امید

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر، شمالی سندھ میں قومی کھیل کی نئی امید

    سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے قریب واقع پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے اہم ترین ہاکی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس اسٹیڈیم کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ سکھر اور گرد و نواح کے اضلاع کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیتی سہولیات ان کے اپنے خطے میں میسر آ سکیں اور انہیں کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

    اگرچہ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی گزشتہ چند دہائیوں میں اپنے سنہری دور سے بہت دور ہو چکا ہے، لیکن سکھر میں قائم یہ اسٹیڈیم آج بھی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں شمالی سندھ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جدید سہولیات کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم منصوبے کی منظوری 2009 میں دی گئی تھی۔ منصوبے میں مصنوعی آسٹروٹرف، تماشائیوں کے لیے نشستیں، جم، ڈریسنگ رومز، فلڈ لائٹس، کھلاڑیوں کے ہاسٹل، واش رومز اور دیگر جدید سہولیات شامل کی گئیں تاکہ سکھر میں بین الاقوامی معیار کا ہاکی انفراسٹرکچر قائم کیا جا سکے۔

    2013 میں پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین صدیقی نے زیر تعمیر اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکام پر زور دیا کہ تعمیراتی کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ نوجوان کھلاڑی جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ اس وقت حکومت کی جانب سے فلڈ لائٹس، جم، ہاسٹل اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    اس منصوبے کا سب سے اہم حصہ مصنوعی آسٹروٹرف کی تنصیب تھی، کیونکہ جدید بین الاقوامی ہاکی مصنوعی ٹرف پر کھیلی جاتی ہے۔ اس سہولت کی بدولت شمالی سندھ کے نوجوانوں کو پہلی بار اپنے ہی علاقے میں عالمی معیار کے مطابق تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔

    یہ اسٹیڈیم صرف سکھر تک محدود نہیں بلکہ خیرپور، شکارپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور اور کندھ کوٹ سمیت شمالی سندھ کے متعدد اضلاع کے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک اہم تربیتی مرکز بن چکا ہے، جہاں ضلعی، صوبائی اور مختلف سطح کے ہاکی ٹورنامنٹس اور تربیتی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں۔

    پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر کے وسیع اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ ہے، جس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا۔ تاہم مختلف انتظامی وجوہات کے باعث منصوبہ کئی برس تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اس منصوبے کی ذمہ داری سندھ حکومت کو منتقل ہوئی، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا۔ سرکاری حکام کے مطابق اس اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، باکسنگ، جوڈو، کراٹے اور دیگر کھیلوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہاکی کے زوال کی بڑی وجوہات میں جدید آسٹروٹرف میدانوں کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور وسائل کا فقدان شامل ہیں۔ ایسے حالات میں سکھر کا پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے نوجوانوں کے لیے نہ صرف ایک تربیتی مرکز بلکہ قومی کھیل کے مستقبل سے وابستہ امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔

    یہ اسٹیڈیم اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر دور دراز علاقوں میں معیاری کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان کے ہر خطے سے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔

    مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل، شمالی سندھ کے ہزاروں کھلاڑیوں کے خوابوں کا پہلا پڑاؤ

    سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل، شمالی سندھ کے ہزاروں کھلاڑیوں کے خوابوں کا پہلا پڑاؤ

    سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے سامنے واقع سندھ اسپورٹس بورڈ کا پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز چلا آ رہا ہے، جہاں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کھلاڑی رہائش اختیار کرکے تربیتی کیمپوں، کوچنگ پروگراموں اور مختلف سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

    سندھ اسپورٹس بورڈ کے زیر انتظام قائم یہ ہاسٹل بنیادی طور پر دور دراز اضلاع سے آنے والے کھلاڑیوں کو محفوظ، منظم اور مناسب رہائشی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ دوران تربیت اور مقابلوں کے دوران یکسوئی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

    ہاسٹل میں ایک وقت میں ستر سے زائد کھلاڑیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہے۔ اسے مکمل طور پر فرنشڈ رہائشی سہولت کے طور پر تعمیر کیا گیا تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں سے آنے والے کھلاڑیوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔

    سکھر کو طویل عرصے سے شمالی سندھ میں کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ، نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تربیتی پروگراموں کے دوران اسی ہاسٹل میں قیام کرتے رہے ہیں۔

    یہ ہاسٹل صرف رہائش تک محدود نہیں بلکہ کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں قیام کرنے والے کھلاڑی ہاکی، فٹبال، کرکٹ، ایتھلیٹکس، والی بال، باسکٹ بال، باکسنگ، ریسلنگ، بیڈمنٹن اور دیگر کھیلوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

    سندھ اسپورٹس بورڈ کی جانب سے سکھر میں برسوں سے انٹر ڈسٹرکٹ، انٹر ڈویژنل اور دیگر سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ کوچنگ اور ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شریک کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے اسی ہاسٹل کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ ہاسٹل روایتی کھیلوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سندھ اسپورٹس بورڈ کی نگرانی میں بیلہارو، کوڈی کوڈی، ونجھواٹی، ملاکھڑا اور دیگر مقامی کھیلوں کی تربیتی اور نمائشی سرگرمیوں میں شریک کھلاڑی بھی یہاں قیام کرتے رہے ہیں۔

    حالیہ برسوں میں اس ہاسٹل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ سکھر اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کمپلیکس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد منصوبہ سندھ حکومت کو منتقل کیا گیا، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔

    صوبائی حکومت کے مطابق سکھر اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، والی بال اور دیگر کھیلوں کی جدید سہولیات قائم کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں یہاں قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پلیئرز ہاسٹل کو منصوبے کا ایک بنیادی حصہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کی رہائش بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔

    سکھر کا سندھ اسپورٹس بورڈ پلیئرز ہاسٹل کئی دہائیوں سے شمالی سندھ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خاموش مگر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک رہائشی عمارت نہیں بلکہ ایسا مرکز ہے جہاں مختلف شہروں اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ہی چھت تلے رہ کر کھیل، نظم و ضبط، محنت اور باہمی تعاون کی اقدار سیکھتے ہیں۔

    شمالی سندھ میں کھیلوں کے مستقبل کا ذکر ہو تو سکھر کے اس پلیئرز ہاسٹل کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ بے شمار کھلاڑیوں نے اپنے کھیل کے سفر کا آغاز اسی ادارے سے کیا اور آگے بڑھنے کے مواقع حاصل کیے۔

  • سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    سکھر: ستین کا آستانہ، روایت اور تاریخ کے سنگم پر کھڑا ایک پراسرار ورثہ

    دریائے سندھ کے کنارے سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع ستین کا آستانہ سندھ کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی حسن، قدیم طرز تعمیر، لوک روایات اور تاریخی شواہد ایک دوسرے سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔

    روہڑی ریلوے پل کے قریب اروڑ کی پہاڑیوں کی ایک شاخ پر قائم یہ مقام صدیوں سے سیاحوں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یہ تاریخی قبرستان اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی اہم قبریں موجود ہیں، جن میں بعض ایک بلند مرکزی چبوترے پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر مینار نما برج قائم ہیں، جو مغل دور کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ قبروں اور برجوں پر نفیس کاشی کاری کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں،

    جبکہ مغرب کی جانب ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عمارت بھی اپنے زمانے میں خوبصورت کاشی کاری سے آراستہ تھی۔

    ستین کا آستانہ صرف اپنے تاریخی آثار ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق سات پاکدامن خواتین ایک ظالم حکمران سے بچنے کے لیے اس مقام پر پہنچیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جس کے بعد زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئیں۔

    اسی روایت کی بنیاد پر اس مقام کو "ستین کا آستانہ” کہا جانے لگا۔ تاہم اس روایت کی تاریخی یا آثار قدیمہ کی بنیاد پر تصدیق نہیں ہو سکی اور محققین اسے ایک مقامی لوک داستان قرار دیتے ہیں۔

    تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور متعدد محققین کے مطابق یہاں موجود اہم قبریں مغل دور کے بکھر کے گورنر میر ابو القاسم نمکین اور ان کے اہل خانہ سے منسوب ہیں۔ قبروں پر کندہ فارسی کتبے بھی اسی نسبت کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث بیشتر مؤرخین اس مقام کو مغل دور کے ایک اہم تدفینی احاطے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ستین کا آستانہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ سندھ کے کئی تاریخی مقامات پر لوک روایات اور مستند تاریخی شواہد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف عوامی عقیدت سے جڑی داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، تو دوسری جانب آثار قدیمہ اور کتبے ان مقامات کی حقیقی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔

    بلند پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے دریائے سندھ، روہڑی اور سکھر کے دلکش مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث یہ مقام تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی کشش بھی رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات ستین کا آستانہ کو سندھ کے ان منفرد مقامات میں شامل کرتی ہیں جہاں تاریخ، روایت اور قدرت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

  • سکھر: ڈیجیٹل شجرکاری کے نئے ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر نئے پودے کا نام کسی فرد کے نام سے رکھا جائے گا

    سکھر: ڈیجیٹل شجرکاری کے نئے ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر نئے پودے کا نام کسی فرد کے نام سے رکھا جائے گا

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی دباؤ شہری علاقوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
    ایسے حالات میں ڈیجیٹل شجرکاری محض درخت لگانے کی مہم نہیں بلکہ شہری شمولیت، ذمہ داری اور نگرانی پر مبنی ایک نیا ماڈل سامنے لا رہی ہے۔

    میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ کے مطابق اس ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر پودے کو ایک نام دیا جائے گا۔
    پودا لگانے والے شہری کو اسی پودے کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر رجسٹر کیا جائے گا تاکہ اس کی شناخت، نگرانی اور بقا کو باقاعدہ طور پر ٹریک کیا جا سکے۔

    اس نظام میں شہری اپنے نام سے منسوب پودے کی دیکھ بھال اور نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
    بلدیاتی ادارے پانی کی فراہمی، تکنیکی معاونت اور مجموعی نگہداشت فراہم کریں گے۔

    ڈیجیٹل شجرکاری کے لیے ایک علیحدہ انتظامی شعبہ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
    یہ شعبہ پودوں کا ریکارڈ رکھنے، نشوونما پر نظر رکھنے اور شجرکاری کے تسلسل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔

    اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام کو شجرکاری کی طرف راغب کرنا ہے۔
    ایک لاکھ درخت لگانے کے ہدف کو محض دعوے کے بجائے قابلِ عمل، پائیدار اور قابلِ تقلید ماڈل میں تبدیل کرنا اس منصوبے کا مرکزی نکتہ ہے۔

    یہ ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ اگر شہری ذمہ داری اور ڈیجیٹل نگرانی کو یکجا کیا جائے۔
    تو شہروں میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت ممکن ہے۔

  • سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔ انہوں ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف “تاریخِ معصومی” سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے