سکھر کے ریلوے گراؤنڈ کے قریب واقع پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے اہم ترین ہاکی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس اسٹیڈیم کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ سکھر اور گرد و نواح کے اضلاع کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیتی سہولیات ان کے اپنے خطے میں میسر آ سکیں اور انہیں کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
اگرچہ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی گزشتہ چند دہائیوں میں اپنے سنہری دور سے بہت دور ہو چکا ہے، لیکن سکھر میں قائم یہ اسٹیڈیم آج بھی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن سمجھا جاتا ہے۔ یہاں شمالی سندھ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جدید سہولیات کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پیپلز ہاکی اسٹیڈیم منصوبے کی منظوری 2009 میں دی گئی تھی۔ منصوبے میں مصنوعی آسٹروٹرف، تماشائیوں کے لیے نشستیں، جم، ڈریسنگ رومز، فلڈ لائٹس، کھلاڑیوں کے ہاسٹل، واش رومز اور دیگر جدید سہولیات شامل کی گئیں تاکہ سکھر میں بین الاقوامی معیار کا ہاکی انفراسٹرکچر قائم کیا جا سکے۔
2013 میں پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین صدیقی نے زیر تعمیر اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکام پر زور دیا کہ تعمیراتی کام جلد مکمل کیا جائے تاکہ نوجوان کھلاڑی جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ اس وقت حکومت کی جانب سے فلڈ لائٹس، جم، ہاسٹل اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا سب سے اہم حصہ مصنوعی آسٹروٹرف کی تنصیب تھی، کیونکہ جدید بین الاقوامی ہاکی مصنوعی ٹرف پر کھیلی جاتی ہے۔ اس سہولت کی بدولت شمالی سندھ کے نوجوانوں کو پہلی بار اپنے ہی علاقے میں عالمی معیار کے مطابق تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔
یہ اسٹیڈیم صرف سکھر تک محدود نہیں بلکہ خیرپور، شکارپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور اور کندھ کوٹ سمیت شمالی سندھ کے متعدد اضلاع کے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک اہم تربیتی مرکز بن چکا ہے، جہاں ضلعی، صوبائی اور مختلف سطح کے ہاکی ٹورنامنٹس اور تربیتی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں۔
پیپلز ہاکی اسٹیڈیم سکھر کے وسیع اسپورٹس کمپلیکس کا حصہ ہے، جس کا سنگ بنیاد 1996 میں رکھا گیا تھا۔ تاہم مختلف انتظامی وجوہات کے باعث منصوبہ کئی برس تک تاخیر کا شکار رہا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اس منصوبے کی ذمہ داری سندھ حکومت کو منتقل ہوئی، جس کے بعد اس پر دوبارہ کام کا آغاز کیا گیا۔ سرکاری حکام کے مطابق اس اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹبال، ہاکی، اسکواش، ٹینس، باکسنگ، جوڈو، کراٹے اور دیگر کھیلوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہاکی کے زوال کی بڑی وجوہات میں جدید آسٹروٹرف میدانوں کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور وسائل کا فقدان شامل ہیں۔ ایسے حالات میں سکھر کا پیپلز ہاکی اسٹیڈیم شمالی سندھ کے نوجوانوں کے لیے نہ صرف ایک تربیتی مرکز بلکہ قومی کھیل کے مستقبل سے وابستہ امید کی علامت بھی بن گیا ہے۔
یہ اسٹیڈیم اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر دور دراز علاقوں میں معیاری کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان کے ہر خطے سے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔
مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔
