[rank_math_breadcrumb]

سکھر: ڈیجیٹل شجرکاری کے نئے ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر نئے پودے کا نام کسی فرد کے نام سے رکھا جائے گا

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
بڑھتی ہوئی گرمی، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی دباؤ شہری علاقوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں ڈیجیٹل شجرکاری محض درخت لگانے کی مہم نہیں بلکہ شہری شمولیت، ذمہ داری اور نگرانی پر مبنی ایک نیا ماڈل سامنے لا رہی ہے۔

میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ کے مطابق اس ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل کے تحت لگائے جانے والے ہر پودے کو ایک نام دیا جائے گا۔
پودا لگانے والے شہری کو اسی پودے کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر رجسٹر کیا جائے گا تاکہ اس کی شناخت، نگرانی اور بقا کو باقاعدہ طور پر ٹریک کیا جا سکے۔

اس نظام میں شہری اپنے نام سے منسوب پودے کی دیکھ بھال اور نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
بلدیاتی ادارے پانی کی فراہمی، تکنیکی معاونت اور مجموعی نگہداشت فراہم کریں گے۔

ڈیجیٹل شجرکاری کے لیے ایک علیحدہ انتظامی شعبہ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ شعبہ پودوں کا ریکارڈ رکھنے، نشوونما پر نظر رکھنے اور شجرکاری کے تسلسل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام کو شجرکاری کی طرف راغب کرنا ہے۔
ایک لاکھ درخت لگانے کے ہدف کو محض دعوے کے بجائے قابلِ عمل، پائیدار اور قابلِ تقلید ماڈل میں تبدیل کرنا اس منصوبے کا مرکزی نکتہ ہے۔

یہ ڈیجیٹل شجرکاری ماڈل اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ اگر شہری ذمہ داری اور ڈیجیٹل نگرانی کو یکجا کیا جائے۔
تو شہروں میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت ممکن ہے۔

اسی بارے میں: