ایک سڑک حادثہ، اچانک دل کا دورہ، گھر میں آگ لگ جانا یا سیلابی پانی میں پھنسے لوگ۔ ایسے ہر واقعے میں سب سے قیمتی چیز وقت ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ صرف چند منٹ کی بروقت امداد ایک زندگی بچا سکتی ہے، جبکہ معمولی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے 2023 میں سکھر میں جدید ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروس کا آغاز کیا، تاکہ شمالی سندھ کے شہریوں کو تیز رفتار اور پیشہ ورانہ امداد فراہم کی جا سکے۔
سکھر شمالی سندھ کا تیسرا بڑا شہر، اہم تجارتی مرکز اور صحت و تعلیم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں گاڑیاں قومی شاہراہوں، موٹرویز اور دریائے سندھ کے پلوں سے گزرتی ہیں، جبکہ خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ، کشمور، جیکب آباد اور دیگر اضلاع سے بھی لوگ علاج، کاروبار اور تعلیم کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایک مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔
ریسکیو 1122 صرف ایمبولینس سروس کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ہنگامی امدادی نظام ہے۔ اس کے تحت تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار مختلف نوعیت کی آفات اور حادثات میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتی ہیں اور محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کرتی ہیں۔
اگر سکھر یا اس کے اطراف میں کسی شخص کو اچانک دل کا دورہ پڑ جائے، ٹریفک حادثہ پیش آ جائے یا کوئی اور طبی ایمرجنسی ہو، تو شہری صرف 1122 پر کال کرکے مفت امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ کال موصول ہوتے ہی قریبی ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا جاتا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں متاثرہ مقام تک پہنچا جا سکے۔
ریسکیو 1122 کی ایمبولینسیں جدید طبی آلات سے لیس ہیں اور ان میں تعینات ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن مریض کو اسپتال پہنچانے سے پہلے ضروری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق حادثے یا دل کے دورے کے بعد ابتدائی چند منٹ اکثر مریض کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ سروس صرف طبی ایمرجنسی تک محدود نہیں۔ ریسکیو 1122 آگ لگنے کے واقعات، شہری سرچ اینڈ ریسکیو، پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے، سیلاب، عمارت گرنے، شاہراہوں پر بڑے حادثات اور دیگر قدرتی یا انسانی آفات کے دوران بھی امدادی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ اس کے اہلکار خصوصی تربیت اور جدید ریسکیو آلات کے ذریعے مختلف حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سندھ حکومت نے عالمی بینک کے تعاون سے جدید ایمبولینسوں کا بیڑا بھی حاصل کیا، جنہیں صوبے کے مختلف اضلاع میں تعینات کیا گیا۔ ان کی نگرانی اور روانگی ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی کال موصول ہوتے ہی قریبی دستیاب ٹیم کو فوری طور پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔
سکھر کی جغرافیائی حیثیت اس سروس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ شمالی سندھ کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہیں، دریائے سندھ کے اہم پل اور بین الاضلاعی سفر کا بڑا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی واقعات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایسے میں ریسکیو 1122 نہ صرف سکھر بلکہ پورے شمالی سندھ کے لیے ایک اہم حفاظتی نظام بن چکا ہے۔
آج ریسکیو 1122 سکھر صرف ایک ہنگامی نمبر نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد اور امید کی علامت ہے۔ دن ہو یا رات، شدید گرمی ہو یا موسلا دھار بارش، حادثہ ہو یا قدرتی آفت، اس کے اہلکار ہر وقت انسانی جانیں بچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل آپ تک پاکستان کی منفرد اور معلوماتی کہانیاں پہنچاتا ہے۔
مزید ایسی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔
