ملڑی کی ٹکریاں: کراچی کی بارہ ہزار سال پرانی بھولی ہوئی تاریخ

ملڑی کی ٹکریاں

ہر شہر کی اپنی ایک شناخت، ایک تاریخ اور ایک کہانی ہوتی ہے۔ کچھ کہانیاں کتابوں کے صفحات میں محفوظ رہتی ہیں، کچھ عظیم یادگاروں کی صورت میں زندہ رہتی ہیں، جبکہ کچھ کہانیاں زمین کی تہوں کے نیچے ہزاروں سال تک خاموشی سے دبی رہتی ہیں۔ کراچی بھی ایسا ہی ایک شہر ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی’ سے شروع ہوئی، پھر برطانوی دور میں یہاں کی بندرگاہ نے ترقی کی اور پاکستان بننے کے بعد یہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی اور سمندری مرکز بن گیا۔ یقیناً یہ کراچی کی تاریخ کے اہم ابواب ہیں، لیکن یہ اس کی ابتدا نہیں ہے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ آج کے کراچی کی سرزمین پر تقریباً بارہ ہزار سال پہلے بھی انسان آباد تھے۔ اس لحاظ سے کراچی صرف جدید پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ انسانی آبادی کے اعتبار سے ملک کی قدیم ترین سرزمینوں میں سے بھی ایک ہے۔

تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ ہزار سال پہلے، جب دنیا آخری برفانی دور سے نکل رہی تھی، اس وقت کراچی کا منظر آج سے بالکل مختلف تھا۔ لیاری اور ملیر ندیاں سرسبز میدانوں اور دلدلی علاقوں سے گزرتی ہوئی بحیرۂ عرب میں گرتی تھیں، جبکہ چونے کی پہاڑیوں سے میٹھا پانی پھوٹتا تھا۔

آج کے ڈرگ روڈ، ہل پارک، گلستانِ جوہر اور گزری تک پھیلے ہوئے علاقوں کو ملڑی کی ٹکریاں کہا جاتا تھا۔ اس دور میں یہ ٹکریاں شکار کرنے والے انسانوں کے لیے قدرت کا ایک بہترین تحفہ تھیں۔ یہاں انہیں میٹھا پانی، جنگلی جانور، مچھلیاں، سمندری خوراک اور فلنٹ اور چرٹ جیسے اعلیٰ معیار کے پتھر آسانی سے مل جاتے تھے، جن سے وہ اپنے اوزار تیار کرتے تھے۔

بیسویں صدی کے دوران اس علاقے کی اہمیت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ 1947ء میں برطانوی محققین ٹوڈ اور پیٹرسن نے لیاری ندی کے کنارے سے پتھر کے کچھ قدیم اوزار دریافت کیے، جس کے بعد اس علاقے کی طرف آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی توجہ مبذول ہوئی۔

اس کے بعد 1968ء سے 1976ء تک کراچی یونیورسٹی کے نامور ماہر پروفیسر عبدالرؤف خان نے ملڑی کی ٹکریوں کا باقاعدہ سروے کیا۔ انہوں نے تقریباً بیس قدیم مقامات کی نشاندہی کی اور ہزاروں پتھریلے اوزار دریافت کیے، جن میں مائیکرولتھ، بلیڈ، اسکریپر، برین اور دیگر نفیس اوزار شامل تھے۔

بعد میں عالمی شہرت یافتہ اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے محققین نے ان دریافتوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ یہ اشیا میزولتھک دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس طرح ملڑی کی ٹکریاں سندھ کے اہم ترین قبل از تاریخ مقامات میں شامل ہو گئیں۔

کراچی کے پہلے باشندے

ان ٹکریوں پر رہنے والے لوگ ہومو سیپینس تھے، یعنی جسمانی طور پر آج کے انسانوں جیسے۔ وہ چھوٹے خاندانی گروہوں میں رہتے تھے اور موسم، پانی اور خوراک کی دستیابی کے مطابق اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے رہتے تھے۔

ان کی زندگی کا انحصار شکار، مچھلی پکڑنے اور جنگلی پودے، پھل، بیج اور جڑیں جمع کرنے پر تھا۔ زندگی کے ہنر لکھنے پڑھنے کے ذریعے نہیں بلکہ مشاہدے، تجربے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کے ذریعے آگے بڑھتے تھے۔

پتھروں کے علم، ان کی شناخت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملڑی کی ٹکریوں کے بارے میں یہ ثبوت ملا کہ اس ٹیکنالوجی کی ابتدا جدید دور میں نہیں بلکہ ہزاروں سال پہلے ہو چکی تھی۔ یہاں سے ملنے والے مائیکرولتھ نہایت مہارت سے بنائے گئے چھوٹے پتھریلے اوزار ہیں، جنہیں لکڑی یا ہڈی کے دستوں میں لگا کر تیر، بھالے، چاقو اور دوسرے ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

یہ اوزار بنانے کے لیے اعلیٰ مہارت، منصوبہ بندی اور پتھروں کی خصوصیات کے بارے میں گہری معلومات درکار تھیں، جو ان انسانوں کی ذہانت اور فنی صلاحیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

ملڑی کی ٹکریوں سے ایسا نامیاتی مواد نہیں ملا، جس کے ذریعے کاربن 14 کے طریقے سے درست تاریخ معلوم کی جا سکے۔

اسی لیے ماہرین نے ان اوزاروں کی ساخت، شکل اور بنانے کے طریقے کا پاکستان اور پڑوسی علاقوں کے تاریخ متعین شدہ میزولتھک اوزاروں سے موازنہ کیا اور ان کی عمر کا اندازہ لگایا۔ ارضیاتی شواہد بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی عمر تقریباً بارہ ہزار سال تسلیم کی گئی ہے۔

ملڑی کی ٹکریوں سے کسی باقاعدہ شہر کے آثار نہیں ملے۔ یہاں نہ اینٹوں کی عمارتیں ملی ہیں، نہ گلیاں اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا کوئی منظم نظام۔ یہ ٹکریاں انسانی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتی ہیں، جب انسان شکار اور خوراک جمع کرنے پر انحصار کرتا تھا۔

بعد میں مہر گڑھ میں زراعت کا آغاز ہوا اور پھر موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسی عظیم شہری تہذیبیں وجود میں آئیں۔ ملڑی کی ٹکریاں اسی ارتقائی سفر کے پہلے مرحلے کی گواہی دیتی ہیں۔

تقریباً بارہ ہزار سال پہلے میزولتھک دور کے انسان ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے۔ 1947ء میں ٹوڈ اور پیٹرسن نے قدیم پتھریلے اوزار دریافت کیے۔ 1968ء سے 1976ء تک پروفیسر عبدالرؤف خان نے ان آثار کا تفصیلی سروے کیا۔ 1980ء میں گلستانِ جوہر کی تعمیر کے ساتھ قدیم مقامات کا بڑا حصہ جدید آبادی کے نیچے آ گیا۔ 2000ء کے بعد پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے ماہرین نے ان دریافتوں کی عالمی سطح پر تصدیق کی۔

‘ملڑی’ نام کا معمہ

‘ملڑی’ نام کی اصل اب تک تحقیق طلب ہے۔ یہ نام آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے بہت پہلے برطانوی نقشوں میں موجود تھا۔ بعض ماہرین اسے قدیم سندھی یا بلوچی زبانوں سے جوڑتے ہیں، لیکن اب تک اس بارے میں کوئی حتمی لسانی تحقیق سامنے نہیں آئی۔

پروفیسر عبدالرؤف خان کے دریافت کردہ اوزار کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا محکمۂ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر ملڑی کی ٹکریوں کو ایک اہم قبل از تاریخ مقام تسلیم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ گراس روٹس، اینشینٹ سندھ اور دوسرے تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پروفیسر پاؤلو بیاجی کی تحقیقات اور نیشنل میوزیم آف پاکستان میں محفوظ آثار، کراچی کی اس قدیم تاریخ کے زندہ گواہ ہیں۔

ملڑی کی ٹکریوں پر تحقیق کسی سرکاری پابندی کی وجہ سے نہیں رکنی چاہیے تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، گلستانِ جوہر کی تعمیر، چونے کی کانوں، محدود مالی وسائل اور موہنجو دڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے بڑے مقامات کو ترجیح ملنے کی وجہ سے یہ علاقہ آہستہ آہستہ نظر انداز ہوتا گیا۔

جدید کراچی کے لیے سبق

ملڑی کی ٹکریاں ترقی کی مخالفت نہیں کرتیں بلکہ یہ سکھاتی ہیں کہ ترقی اور تاریخی ورثے کا تحفظ ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے جی آئی ایس، لائیڈار، سیٹلائٹ تصاویر اور گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار استعمال کر کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے قدیم آثار کی شناخت اور حفاظت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ملڑی کی ٹکریوں پر ایک تشریحی مرکز قائم کیا جائے، جہاں نئی نسل کو کراچی کی قدیم ترین تاریخ سے آگاہ کیا جا سکے۔

کراچی کی تاریخ نہ کولاچی سے شروع ہوئی، نہ برطانوی دور سے، اور نہ ہی صرف وادیٔ سندھ کی تہذیب سے۔ اس کی ابتدا ہزاروں سال پہلے ہوئی، جب انسانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے اور اپنے پیچھے پتھر کے نفیس اوزار چھوڑ گئے۔

آج ان ٹکریوں کا بڑا حصہ جدید گلستانِ جوہر کے نیچے چھپا ہوا ہے، لیکن جامعات، عجائب گھروں اور سائنسی تحقیق میں محفوظ شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی قدیم ترین انسانی تاریخوں میں سے ایک کا امین شہر ہے۔

ملڑی کی ٹکریاں صرف آثارِ قدیمہ کا ایک مقام نہیں بلکہ وہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ ہر عظیم شہر کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہوتی ہیں، اور جو معاشرہ اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے، وہ اپنی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیتا ہے۔