زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

تاریخ

ایک ایسے دور میں جب دنیا کی دیگر تہذیبیں طبقاتی اشرافیت اور خوف کے کھیلوں میں مصروف تھیں، وادی سندھ کے لوگ مٹی کے سادے پاسوں سے ایک منفرد تہذیبی روایت رقم کر رہے تھے۔ آئیے کانسی کے دور کی سیر کریں اور جانیں کہ ہڑپہ کے کھلونے آج کے انسان کو کیا سبق دیتے ہیں۔

جب کوئی آثار قدیمہ کا طالب علم کانسی کے دور کی عظیم شہری تہذیبوں کے مادی ثقافتی شواہد کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ صرف ان کے دفاعی قلعوں، غلے کے گوداموں یا نکاسی آب کے نظام پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ ان نوادرات کو بھی دیکھتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی، فراغت اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

 انسان نے جب اوزار بنانا اور تانبے و کانسی کو پگھلا کر دھات گری سیکھ لی تو اسی کے ساتھ اس نے تفریح اور سماجی میل جول کے مختلف طریقے بھی اختیار کیے۔

آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل، جب نیل کے کنارے مصر، دجلہ و فرات کے میدانوں میں میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ میں موہنجوداڑو، ہڑپہ، چنہودڑو اور لوتھل جیسے شہر اپنے عروج پر تھے، تب ان تمام تہذیبوں میں کھیل اور کھلونے انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔

لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے سب سے دلچسپ فرق ان تہذیبوں کے کھیلوں کی نوعیت اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد میں نظر آتا ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا سے ملنے والے کئی کھیل شاہی طبقے، مذہبی رسومات یا اشرافیہ سے وابستہ نظر آتے ہیں، جبکہ وادی سندھ سے برآمد ہونے والے بیشتر کھلونے اور کھیل عام مٹی سے تیار کیے گئے تھے، جو اس تہذیب کے روزمرہ طرز زندگی کی ایک منفرد جھلک پیش کرتے ہیں۔

مادی ثقافت کا فرق، شاہی بورڈز اور مٹی کے کھلونے

قدیم مصر میں فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے ہاتھی دانت، آبنوس، سونے اور نیم قیمتی پتھروں سے مزین ‘سینٹ’ کھیل کے بورڈ دریافت ہوئے۔ اسی طرح عراق میں ‘اُر کے شاہی مقبروں’ سے صدف، عقیق اور دیگر قیمتی پتھروں سے تیار کردہ ‘اُر کا شاہی کھیل’ ملا، جسے آج دنیا قدیم ترین بورڈ گیمز میں شمار کرتی ہے۔

اس کے برعکس، جب 1921 میں ہڑپہ میں باقاعدہ کھدائی شروع ہوئی اور بعد ازاں موہنجوداڑو کی گلیاں دریافت ہوئیں تو وہاں سے بڑی تعداد میں مٹی سے بنے مہرے، چوکور پاسے، پہیوں والی گاڑیاں، جانوروں کے کھلونے اور دیگر ٹیراکوٹا نوادرات برآمد ہوئے۔ یہ اشیا دریا کی باریک مٹی سے تیار کر کے بھٹی میں پکائی گئی تھیں۔

ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر کے مطابق ہڑپہ کے ٹیراکوٹا کھلونوں کی تیاری اعلیٰ درجے کی مہارت کی عکاس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی کے یہ کھلونے صرف بچوں کی دل بہلانے کی چیزیں نہیں تھے بلکہ اس تہذیب کی دستکاری اور فنی مہارت کا بھی اظہار تھے۔

کھیل اور معاشرہ

آثار قدیمہ میں کسی نوادر کی جگہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا میں کئی قیمتی کھیل شاہی مقبروں اور اشرافیہ سے وابستہ مقامات سے ملے ہیں، جبکہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ میں مٹی کے پاسے اور کھیلوں کے آثار عام رہائشی علاقوں، صحنوں، گلیوں اور دکانوں کے قریب بھی دریافت ہوئے ہیں۔

سر جان مارشل نے اپنی کتاب ‘موہنجوداڑو اینڈ دی انڈس سیولائزیشن’ میں ان دریافتوں کا ذکر کیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق ان شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کھیل صرف محدود طبقے تک محدود نہیں تھے بلکہ شہری زندگی کا حصہ تھے، اگرچہ اس بارے میں قطعی نتائج اخذ کرنا ممکن نہیں۔

اگر ہم ان آثار کو سامنے رکھ کر ایک تاریخی منظر کا تصور کریں تو شاید شام کے وقت موہنجوداڑو کی کسی گلی یا صحن میں لوگ مٹی کے پاسوں اور مہروں کے ساتھ وقت گزارتے ہوں گے۔ یہ تصور آثار قدیمہ کے شواہد سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کی مکمل تاریخی تصدیق ممکن نہیں۔

کھیل اور عقائد

برٹش میوزیم کے ماہر ڈاکٹر ارونگ فنکل کے مطابق مصر کا مشہور کھیل ‘سینٹ’ وقت کے ساتھ مذہبی تصورات سے بھی وابستہ ہو گیا تھا، جبکہ میسوپوٹیمیا میں ‘اُر کے شاہی کھیل’ کے بارے میں بھی بعض محققین کا خیال ہے کہ اس کے بعض مذہبی یا فال گیری سے متعلق پہلو موجود تھے۔

اس کے برعکس، وادی سندھ سے ملنے والے پاسوں اور کھیلوں پر اب تک ایسے واضح مذہبی مناظر یا تحریری شواہد نہیں ملے جو انہیں کسی مخصوص مذہبی رسم یا بعد از موت عقائد سے براہ راست جوڑتے ہوں۔ اس لیے بیشتر ماہرین انہیں بنیادی طور پر کھیل اور تفریح سے متعلق اشیا تصور کرتے ہیں۔

ہڑپہ سے ملنے والے چوکور پاسوں پر ایک سے چھ تک نقطوں کی ترتیب آج کے جدید پاسوں سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ اس تہذیب کی ریاضیاتی ترتیب، پیمائش اور معیاری کاری کی مہارت کی ایک اور مثال سمجھی جاتی ہے۔

بچوں کے لیے بنائے گئے مٹی کے بندر، پہیوں والی گاڑیاں، جانور اور سیٹی نما پرندے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کھلونوں کی ایک متنوع روایت موجود تھی۔ ان میں بعض ایسے کھلونے بھی شامل ہیں جن میں حرکت پیدا کرنے کے سادہ میکانیکی طریقے استعمال کیے گئے تھے۔

عجائب گھروں کی گواہی

آج برٹش میوزیم، نیشنل میوزیم آف انڈیا اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ وادی سندھ کے کھلونے، مٹی کے پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور دیگر نوادرات اس تہذیب کی روزمرہ زندگی کی اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی سندھ کی کھدائیوں سے بڑی تعداد میں کھلونے، مہریں، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا ملی ہیں، جبکہ مصر اور میسوپوٹیمیا کی طرح شاہی فتوحات یا جنگی عظمت کی نمائندگی کرنے والی یادگاریں نسبتاً کم سامنے آئی ہیں۔ اسی بنا پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی شناخت زیادہ تر شہری منصوبہ بندی، تجارت، دستکاری اور روزمرہ شہری زندگی سے وابستہ تھی۔

وادی سندھ کا سبق

تاریخ صرف عظیم محلات، بلند اہرام یا قیمتی نوادرات کا نام نہیں۔ بعض اوقات ایک مٹی کا کھلونا بھی اپنے عہد کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیتا ہے جتنا ایک شاہی محل نہیں بتا سکتا۔

ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے ملنے والے مٹی کے سادہ پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور بچوں کے کھلونے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایک عظیم تہذیب کی پہچان صرف اس کی دولت نہیں بلکہ اس کی شہری زندگی، دستکاری، تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ انسانی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ مٹی کے کھلونے آج بھی خاموشی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ تہذیبوں کی اصل طاقت صرف ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی ہوتی ہے جنہوں نے انہیں آباد کیا۔

اسی بارے میں: