صحافت کے کلاس روم میں ہمیں سب سے پہلے یہ بنیادی اصول سکھایا جاتا تھا کہ "خبر” کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتی اور بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ شطرنج پر نہ تو دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں اور نہ ہی دوستیاں۔
عالمی سیاست کا کوئی بھی طالب علم جب تاریخ کے صفحات پلٹتا ہے، تو اسے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے عسکری تنازعات اور ہولناک ترین جنگیں بھی بالآخر کسی نہ کسی سفارتی میز پر، چند کاغذات پر دستخطوں کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔
لیکن جب بات مشرق وسطی جیسے سلگتے ہوئے آتش فشاں کی ہو، جہاں بارود کی بو اور سیاسی مفادات کے دھارے لمحوں میں رخ بدلتے ہیں، تو وہاں سفارت کاری کا راستہ کسی بارودی سرنگ پر چلنے سے کم نہیں ہوتا۔
رواں سال فروری 2026 میں جب پاک-امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تزویراتی تناؤ نے ایک ہولناک عسکری تصادم کی شکل اختیار کی، تو ہم جیسے بین الاقوامی تعلقات کے طالب علموں کے لیے یہ کتابی نظریات سے نکل کر ایک زندہ مطالعہ بن چکا تھا۔
واشنگٹن کا بگل بجاتا ہوا ‘آپریشن ایپک فیوری’، خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑوں کی گرج، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادل چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ دنیا ایک ایسی وسیع تر علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔
عالمی میڈیا پر سرخیاں روزانہ کی بنیاد پر بدلی جا رہی تھیں، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سفارت کاری کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
تاہم، فروری کے اس بھیانک عسکری ملبے اور سفارتی تعطل کے بعد، آج جب فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، تو صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے ذہن کے بند گوشوں میں یہ سوال مسلسل دستک دے رہا ہے ‘کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ ایک نیا، جامع اور سب سے اہم بات، ‘پائیدار’ جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟’
17 جون 2026 کو قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت نے فریقین کو اگست 2026 کے وسط تک کی جو مہلت دی ہے، وہ صحافتی اصطلاح میں ایک ‘ٹکنگ ٹائم بم’ ہے۔ یہ 60 دن محض جنگ بندی کے نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کے اس پہاڑ کو پگھلانے کا آخری موقع ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کھڑا ہے۔
سوئٹزرلینڈ سے قطر تک، پس پردہ راستوں کی تبدیلی
اس سے قبل کہ ہم قطر میں ہونے والی موجودہ پیش رفت کا احاطہ کریں، ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری کا محور کس طرح تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار، روایتی اور خاموش پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے۔
سوئس چینل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں ہونے والی گفتگو کا بنیادی مقصد کسی بڑے تزویراتی معاہدے کا حصول نہیں، بلکہ صرف "بحران کا کنٹرول” اور قیدیوں کے تبادلے جیسے محدود انسانی ہمدردی کے امور تھے۔ جنیوا اور زیورخ کے پرسکون ماحول میں ہونے والے مذاکرات نظریاتی حدود کے اندر رہ کر کیے جاتے تھے، جہاں فریقین اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹے بغیر صرف محاذ آرائی کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے روکتے تھے۔
لیکن موجودہ قطر مذاکرات کا کینوس ماضی کے سوئس چینل سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحہ اب محض ایک ڈاکیا یا پیغام رساں نہیں رہا، بلکہ وہ عمان اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک متحرک، فعال اور اثر و رسوخ رکھنے والے ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے برعکس، قطر مذاکرات فروری 2026 کے براہ راست عسکری تصادم کے بعد پیدا ہونے والے نئے حقائق کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔
یہ مذاکرات کسی پرسکون ماحول کی پیداوار نہیں، بلکہ بارود کی تپش اور معاشی ناکہ بندی کے دباؤ کے تحت شروع کیے گئے ہیں۔ یہاں بات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عملی مفادات، تیل کی عالمی سپلائی، اور خطے میں عسکری بقا کے سوالات میز پر رکھے ہوئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین سوئٹزرلینڈ کے روایتی چینل کے مقابلے میں دوحہ کے اس نئے سفارتی محور کو زیادہ سنجیدہ اور فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار
فروری 2026 کے شدید ترین بحران کے دوران جب مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کا یہ پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے والا تھا، تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔
ایک نیوکلیئر پاور اور ایران کے برادر پڑوسی ملک ہونے کے ناطے، پاکستان اس تنازع میں خاموش تماشائی بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، مشترکہ ثقافتی روابط، اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ معاملات کی وجہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی طویل مدتی جنگ کا براہ راست شکار پاکستان کی اپنی معیشت اور امن و امان کو ہونا تھا۔
چنانچہ، پاکستان نے انتہائی مہارت کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منفرد سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سیکیورٹی روابط کو استعمال کیا اور دوسری طرف تہران کے ساتھ سفارتی چینلز کو متحرک رکھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ عسکری طاقت کا استعمال کسی بھی فریق کو مکمل فتح نہیں دلا سکتا، بلکہ یہ پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔
پاکستان نے قطر کے امیر اور عمان کے سفارتی کارندوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط شٹل ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔ پاکستانی سفیروں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسے پیغامات کا تبادلہ کیا جنہوں نے دونوں فریقین کو اپنے سخت عسکری موقف سے پیچھے ہٹنے اور ایک دوسرے کی شرائط کو سنجیدگی سے سننے پر آمادہ کیا۔
پاکستان اور قطر کی اس مشترکہ سفارتی کامیابی نے ہی 17 جون کے مفاہمتی معاہدے کی راہ ہموار کی، جس نے بارود کے دھوئیں کو عارضی طور پر دبا کر مذاکرات کے روشن امکانات پیدا کیے۔
ٹرمپ کا ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ اور سازگار عوامل
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ کسی روایتی سیاست دان کی نظریاتی خارجہ پالیسی کے بجائے ایک سخت بزنس مین یا کارپوریٹ ڈیلر کی کاروباری حکمت عملی کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں انہیں ایک ‘نیو آئسولیشنسٹ’ رہنما کہا جاتا ہے، جو بیرون ملک امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور لاحاصل، طویل جنگوں پر اربوں ڈالر کے امریکی سرمائے کے ضیاع کے شدید مخالف ہیں۔
ٹرمپ کا فلسفہ سادہ ہے: طاقت کا مظاہرہ صرف اس وقت کرو جب آپ کو سامنے والی پارٹی کو معاشی یا عسکری طور پر مجبور کر کے اپنی شرائط پر سودے بازی کرنی ہو۔
فروری 2026 میں ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے ذریعے ایران کو اپنی عسکری طاقت کا جوہر دکھانے کے بعد، اب ٹرمپ اپنے اسی روایتی ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ کے تحت میدان میں اتر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کا یہ دعوی کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی بدولت ایران امریکہ کی تقریباً تمام سخت شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، ان کی اسی کاروباری سفارت کاری کا عکاس ہے۔
ٹرمپ اس مجوزہ جوہری معاہدے کو دنیا کے سامنے ایک ایسی ٹرافی یا ‘صدی کی سب سے بڑی ڈیل’ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جو ان کے بقول ایران کے جوہری عسکری پروگرام کے سامنے ایک ایسی ‘مضبوط دیوار’ ثابت ہو گی جسے ماضی کی کوئی بھی امریکی انتظامیہ تعمیر کرنے میں ناکام رہی تھی۔
واشنگٹن کی تزویراتی ترجیحات کا خاکہ
داخلی سیاسی برتری: امریکی ووٹرز کے سامنے خود کو ایک کامیاب ‘امن پسند لیکن طاقتور لیڈر’ کے طور پر پیش کرنا۔
توانائی کی مارکیٹ کا استحکام: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کر کے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا۔
عسکری اخراجات میں کمی: مشرق وسطی میں امریکی اثاثوں پر حملوں کا تدارک اور جنگی بجٹ پر دباؤ کا خاتمہ۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا محرک امریکی معیشت اور داخلی سیاست کا استحکام ہے۔ فروری کے تنازع کے بعد سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ امریکی صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا تھا، اور ٹرمپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن میں اقتدار کا راستہ خام تیل کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔
اگر دوحہ مذاکرات کے ذریعے ایران اپنے جوہری پروگرام پر دستبرداری کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے مستقل طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک زبردست سیاسی فتح ہو گی۔ یہ سازگار عوامل اس وقت دونوں ممالک کو ایک عارضی معاہدے کی طرف تیزی سے دھکیل رہے ہیں۔
تہران کا تزویراتی اضطراب اور اندرونی قیادت کا چیلنج
تہران کی سیاست کو باہر سے دیکھ کر اکثر ایک یک رنگی نظام کا گمان ہوتا ہے، جہاں سپریم لیڈر کا فیصلہ ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم بین الاقوامی تعلقات کے نظریات، بالخصوص ‘داخلی سیاست کا نظریہ’ کی عینک لگا کر دیکھیں، تو ایرانی اقتدار کی تہوں میں تضادات اور تزویراتی اضطراب کا ایک پورا سمندر موجزن نظر آتا ہے۔
قطر میں جاری فنی مذاکرات کے پس منظر میں تہران اس وقت اپنی جدید تاریخ کے حساس ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ حال ہی میں نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ، پاسداران انقلاب، اور سیکیورٹی بیوروکریسی کے اندر ایک شدید نظریاتی اور تزویراتی کھینچ تان شروع ہو چکی ہے۔
ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان ایک اصلاح پسند سوچ کے حامل رہنما ہیں، جن کا پورا سیاسی ایجنڈا اور بقا ایرانی معیشت کو وینٹی لیٹر سے نکالنے پر منحصر ہے۔ فروری 2026 کے فوجی تصادم اور اس کے نتیجے میں لگنے والی نئی پابندیوں نے ایرانی کرنسی ریال کو تاریخی گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اور ملکی اندرونی سیاست میں عوامی احتجاج کا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
صدر پزشکیان اور ان کی سفارتی ٹیم کا موقف واضح ہے: وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور دوحہ میں لچک دکھانے پر مجبور ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اگست 2026 کے وسط تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو معاشی ناکہ بندی ایران کے اندرونی سماجی ڈھانچے کو مفلوج کر دے گی۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ، جو اس پورے سفارتی عمل کی راہ میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے، وہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کا سخت گیر موقف ہے۔ نئی قیادت کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی نظام میں ‘طاقت ہی واحد کرنسی ہے’۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس شک کی ایک ٹھوس تاریخی دلیل موجود ہے؛ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے 2018 میں اس وقت کے صدر باراک اوباما کے دستخط شدہ ‘مشترکہ جامع منصوبہ بندی کے عمل’ کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔
تہران کی نئی قیادت کا یہ سوال انتہائی جاندار ہے کہ اگر ایران اپنے خون پسینے سے تیار کردہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کر دیتا ہے یا ملک سے باہر منتقل کر دیتا ہے، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ٹرمپ دو سال بعد کوئی نیا بہانہ بنا کر دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے؟
پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت ہی ایران کا واحد تزویراتی دفاع ہے، اور اسے میز پر کھو دینا عسکری خودکشی کے مترادف ہو گا۔ تہران کی یہ داخلی کشمکش اور نئی قیادت کے تحفظات دوحہ مذاکرات کے مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔
اسرائیلی فیکٹر، کانگریس کی قانونی گتھیاں اور خلاصہ کلام
بین الاقوامی مذاکرات کے اصولوں کا ایک بنیادی قانون ہے کہ "کسی بھی میز پر طے پانے والا معاہدہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک اس تنازع کے تمام بڑے فریق اس کا حصہ نہ ہوں”۔ دوحہ مذاکرات کا سب سے کمزور، نازک اور خطرناک پہلو یہی ہے کہ مشرق وسطی کی سب سے بڑی عسکری طاقت اور امریکی خارجہ پالیسی کا لاڈلا ‘اسرائیل’ اس پورے سفارتی عمل سے مکمل طور پر باہر ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیکیورٹی وزیر اتمار بن گویر جیسے سخت گیر رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں زلزلہ پیدا کر رکھا ہے۔ بن گویر کا یہ واضح اعلان کہ "ٹرمپ کا معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا” کوئی معمولی گیدڑ بھپکی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تزویراتی حقیقت کا اعتراف ہے۔
اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی یا پابندیوں کا خاتمہ، خواہ وہ کتنی ہی سخت شرائط پر کیوں نہ ہو، تہران کو دوبارہ معاشی آکسیجن فراہم کرے گا۔ اس معاشی بحالی کا براہ راست نتیجہ خطے میں حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی دوبارہ مضبوطی کی صورت میں نکلے گا۔
اسرائیلی فیکٹر اس لیے خطرناک ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس تہران اور واشنگٹن کی اس سفارتی بساط کو الٹنے کی مکمل عسکری صلاحیت موجود ہے۔ اگر قطر میں جاری تکنیکی مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے قریب پہنچتے ہیں اور اسرائیل کو لگتا ہے کہ اس کی سلامتی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، تو وہ تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر یکطرفہ سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے، یا لبنان و شام میں ایرانی اہداف پر حملوں میں تیزی لا سکتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اسے ‘اسپائلر فیکٹر’ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی عسکری کارروائی ایران کو دوحہ میز سے اٹھنے پر مجبور کر دے گی اور خطہ سیکنڈوں میں دوبارہ فروری 2026 والی خونی دلدل میں جا گرے گا۔
اس کے علاوہ، منجمد فنڈز اور معاشی ریلیف پر ٹرمپ کی کڑی شرائط نے ایران کے لیے مذاکرات کا نوالہ انتہائی کڑوا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ایران میں نہ تو کوئی سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی نقد رقم جاری کی جائے گی۔
جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی فنڈز اگر جاری کیے بھی گئے، تو وہ قطر کے زیر نگرانی ایک ایسے امانتی اکاؤنٹ میں جائیں گے جہاں سے ایران صرف اور صرف خوراک، ادویات اور انسانی ہمدردی کی اشیا خرید سکے گا۔
تہران کے لیے یہ شرائط اس کی قومی خودداری پر ایک کاری ضرب ہیں، کیونکہ انہیں اپنی تباہ حال معیشت کو بچانے کے لیے فوری نقد رقوم کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف راشن کی صورت میں امداد کی۔
امریکی کانگریس کی قانونی گتھیاں
اب ذرا واشنگٹن کے اندرونی آئینی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہیں، جو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی عمر کا تعین کرتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی صرف وائٹ ہاؤس سے نہیں چلتی، بلکہ امریکی کانگریس اس کا دوسرا اہم ترین ستون ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مائینڈ سیٹ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ڈیل کرنے کا ہے، لیکن امریکی آئین کے تحت کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک مستقل قانون نہیں بن سکتا جب تک امریکی سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس کی توثیق نہ کر دے۔
موجودہ امریکی کانگریس کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں اسرائیل نواز لابی کا اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے، اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے سخت گیر ارکان ایران کو کسی بھی قسم کا معاشی ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں۔
اگر ٹرمپ قطر ڈیل کو ایک باقاعدہ ‘معاہدہ’ کے طور پر کانگریس سے پاس کرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں وہاں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ کانگریس کو نظرانداز کر کے صرف ایک صدارتی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہیں، تو یہ معاہدہ ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہو گا۔ ایران یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کے بعد آنے والا کوئی بھی نیا امریکی صدر، خواہ وہ 2028 میں ہو یا بعد میں، اس معاہدے کو دوبارہ ایک دستخط سے منسوخ کر سکتا ہے۔
یہ قانونی عدم تحفظ ایران کو طویل مدتی اور بڑے تزویراتی فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔
مجموعی طور پر، اگر ہم اس پورے منظر نامے کا خلاصہ کریں، تو ہم ایک انتہائی دلچسپ لیکن خوفناک تضاد پر پہنچتے ہیں۔
رواں سال فروری 2026 کے ہولناک فوجی تصادم کے بعد فریقین کا سفارتی میز پر آنا، 17 جون کا مفاہمتی معاہدہ اور اگست 2026 کے وسط تک کی سخت ڈیڈ لائن یہ ثابت کرتی ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی داخلی سیاست اور امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشرق وسطی میں ایک بڑی "سیاسی فتح” درکار ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اپنی گرتی ہوئی حکومت اور تباہ حال عوام کو بچانے کے لیے پابندیوں کا خاتمہ چاہیے۔ یہ دونوں مجبوریاں ایک ‘نئے معاہدے’ کی پیدائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
تاہم، اس مجوزہ معاہدے کو ‘پائیدار’ بنانا ایک ایسا تزویراتی گورکھ دھندا ہے جس کا حل فی الحال دنیا کے کسی تھنک ٹینک کے پاس بھی نظر نہیں آتا۔
ایران میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی نئی قیادت کے شدید تحفظات اور ماضی کے تلخ تجربات، منجمد فنڈز کے استعمال پر واشنگٹن کی توہین آمیز اور سخت شرائط، امریکی کانگریس کی طرف سے اس کی مستقل قانونی توثیق کے نہ ہونے کے برابر امکانات، اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا اس سفارتی عمل سے باہر رہ کر مسلسل عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دینا، یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو اس معاہدے کے راستے میں بچھی ہوئی ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ مشرق وسطی اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جس کے اوپر سفارت کاری کی ایک عارضی چھتری تان دی گئی ہے۔ دوحہ کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سفارت کار اگر اگست 2026 کے وسط تک کسی کاغذ پر دستخط کرانے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تو وہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔
جب تک اسرائیل، ایران کی داخلی اسٹیبلشمنٹ، اور امریکی کانگریس اس ڈیل کے ضامن نہیں بنتے، یہ معاہدہ بھی تاریخ کے ان عارضی کاغذات کا حصہ بن جائے گا جو پہلی ہی عسکری چنگاری سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ صحافت کا طالب علم ہونے کے ناطے، میری نظریں اب اگست کے اس فیصلہ کن موڑ پر ہیں جو یہ طے کرے گا کہ دنیا امن کی طرف بڑھتی ہے یا دوبارہ بارود کے شعلوں کی نذر ہوتی ہے۔