Tag: زاویہ

  • زاویہ: ایک بار پھر بلڈوزر چلے،  اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ملیر کا دہقان

    زاویہ: ایک بار پھر بلڈوزر چلے،  اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ملیر کا دہقان

    ملیر کی مٹی پر ایک بار پھر بلڈوزر چلے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بلڈوزر کسی خالی زمین پر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی صدیوں پرانی شناخت پر چلے ہیں، جس کے آباؤ اجداد اس وقت ملیر ندی کے کنارے آ کر آباد ہوئے تھے جب یہاں نہ شاہراہیں تھیں، نہ ایکسپریس وے، نہ پل، نہ ریلوے، نہ بڑے بڑے منصوبے، نہ ہاؤسنگ اسکیمیں اور نہ طاقت و اختیار کا وہ نظام جو آج ملیر کی زمینوں کے گرد کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    اس وقت یہاں صرف زمین تھی، درخت تھے، کھیت تھے، باغ تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے اور انسان تھے۔ ان لوگوں کے پاس سب سے بڑی دولت ان کی زمین تھی۔

    صدیاں گزر گئیں۔ ملیر بدل گیا۔ زمین پر کنکریٹ کے جنگل اُگ آئے، شاہراہیں بنیں، پل تعمیر ہوئے، ریل گاڑیاں دوڑنے لگیں، بڑے منصوبے آئے، ہاؤسنگ اسکیمیں اور صنعتیں پھیلیں، لیکن ایک چیز نہیں بدلی، مقامی لوگوں کا اپنی زمین سے رشتہ۔

    مگر اب یہی رشتہ خطرے میں ہے۔

    عظیم دہقان اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہے کہ اس کے بزرگوں نے یہ زمین کیسے بچائی ہوگی؟ اس کے باپ نے اس مٹی میں کون سے خواب بوئے ہوں گے؟ ان درختوں کو کس نے لگایا ہوگا؟ ان قبروں میں کون سو رہا ہے؟ اور آج وہ اپنی ہی زمین پر اتنا بے بس کیوں ہے؟

    اس کے سامنے کھیت لہلہا رہے تھے، درخت ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے اور پرندے چہچہا رہے تھے، لیکن شاید عظیم دہقان کی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھیں جو اگلے ہی روز حقیقت بننے والا تھا۔

    اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک روز پہلے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شاید اگلے دن اس کے آباؤ اجداد کی قبریں، کھیت، باغ، درخت اور پرندوں کے گھونسلے باقی نہ رہیں۔

    ساتھیوں کے پاس جواب تھا، مذمت کریں گے۔ بس، مذمت۔ پھر خاموشی۔

    مگر زمین کو صرف مذمت نہیں، تحفظ چاہیے۔ بے دخل ہونے والے انسان کو صرف بیان نہیں، ساتھ چاہیے۔ اور جب بلڈوزر زمین کی طرف بڑھیں تو صرف موبائل کیمرہ نہیں، مزاحمت کی آواز بھی چاہیے۔

    اگلے روز مشینیں واقعی پہنچ گئیں۔ انتظامیہ پہنچی، پولیس پہنچی اور بھاری مشینری بھی پہنچ گئی۔ پھر وہ ہوا جو ایک آباد انسان کے لیے شاید اس کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔

    بلڈوزر چلنے لگے۔ کھیت اجڑنے لگے۔ باغ متاثر ہونے لگے۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے اور زمین کے سینے پر مشینوں کے دانت چلنے لگے۔

    ایک طرف عظیم دہقان اور اس کے خاندان کی فریادیں تھیں، دوسری طرف مشینوں کا شور۔ ایک طرف نسلوں کی محنت تھی، دوسری طرف سرکاری اختیار۔ ایک طرف ایک خاندان اپنی زمین بچانے کی کوشش کر رہا تھا، دوسری طرف ایک بڑا ترقیاتی منصوبہ۔

    اس کارروائی کے دوران عظیم دہقان سمیت اس کے بعض رشتہ داروں کی گرفتاری کی خبر بھی سامنے آئی۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق یہ زمین شاہراہ بھٹو کے انٹرچینج کے لیے درکار تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ زمین کی قیمت کے حوالے سے مذاکرات ہوئے اور رقم بھی طے کی گئی، تاہم زمین خالی نہ کرنے کی وجہ سے کارروائی کرنا پڑی۔

    اگر سرکاری مؤقف یہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کا مطلب کیا یہ ہے کہ زمین کے مالک کو اپنی ہی دھرتی پر بے دخل اور گرفتار کر دیا جائے؟

    کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کی میز کے بجائے بلڈوزر آگے بھیج دیے جائیں؟

    اور اگر زمین کی قیمت طے ہو چکی تھی تو تمام کھاتہ داروں کے حقوق، ملکیت کے حصے اور معاوضے کے معاملات شفاف طریقے سے حل کیوں نہیں کیے گئے؟

    عظیم دہقان سرکاری مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ قانون، سرکاری ریکارڈ اور عدالتیں کریں گی۔ لیکن ایک حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ایک انسان اپنی زمین پر بے بس کھڑا تھا اور اس کے سامنے اس کی دنیا اجاڑی جا رہی تھی۔

    یہ صرف عظیم دہقان کا مسئلہ نہیں۔ یہ ملیر کا مسئلہ ہے۔ یہ ان تمام مقامی لوگوں کا مسئلہ ہے جو اپنی آبائی زمینوں پر آج بھی ملکیت کا حق رکھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ اپنی ہی دھرتی پر اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔

    آخر ملیر کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟

    ایک طرف زرعی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف باغ اجڑ رہے ہیں۔ درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ نئے نئے منصوبے آ رہے ہیں اور مقامی لوگ اپنے حقوق کے لیے مختلف اداروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

    یہ ترقی ہے یا بے دخلی کا نیا ماڈل؟

    اگر شاہراہ ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر انٹرچینج ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر شہر کو ترقی چاہیے تو ترقی کریں۔ لیکن ترقی کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو مٹا کر ترقی نہ کی جائے۔

    جس شخص کی زمین لی جائے، اس سے عزت سے بات کی جائے۔ اس کے قانونی حقوق محفوظ کیے جائیں۔ معاوضہ شفاف اور منصفانہ ہو۔ ماحولیاتی نقصان کا حساب رکھا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ مقامی انسان کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اپنی ہی دھرتی پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

    لیکن افسوس، منتخب نمائندے کہاں ہیں؟

    جس عظیم دہقان سے ووٹ لیا گیا، اس کی فریاد سننے کون پہنچا؟ جس خاندان کی زمین اجڑی، اس کے ساتھ کون کھڑا ہوا؟ جن درختوں اور باغات پر بلڈوزر چلے، ان کے تحفظ کے لیے اسمبلی میں کس نے آواز اٹھائی؟

    جس ملیر سے ووٹ لے کر اقتدار کے ایوان آباد کیے گئے، اسی ملیر کے مقامی لوگوں کے لیے اقتدار کے دروازوں پر کتنے راستے کھلے ہیں؟

    انتخابات کے وقت عوام مالک ہوتا ہے، لیکن انتخابات کے بعد یہی عوام اتنا بے بس کیوں ہو جاتا ہے؟

    یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں۔ یہ سوال اپوزیشن سے بھی ہے۔ یہ سوال منتخب نمائندوں سے بھی ہے۔ اور یہ سوال ان تمام سیاسی رہنماؤں سے ہے جو ملیر کے نام پر سیاست کرتے ہیں، مگر ملیر کی زمین پر بلڈوزر چلتے وقت ان کی آواز کیوں گم ہو جاتی ہے؟

    عظیم دہقان آج شاید اکیلا ہے، لیکن یہ سمجھنا خطرناک ہوگا کہ معاملہ صرف ایک خاندان تک محدود ہے۔

    آج اس کا کھیت ہے، کل کسی اور کا باغ ہو سکتا ہے۔ آج اس کا درخت ہے، کل کسی اور کی زمین ہو سکتی ہے۔ آج اس کا گھر ہے، کل کسی اور کا گھر بھی اسی خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔

    کیونکہ زمین کی بھوک کی کوئی حد نہیں۔

    جب زمین کو صرف پلاٹ، اسکیم، منصوبہ اور قیمت سمجھا جائے گا تو سب سے پہلے وہ انسان خطرے میں آئے گا جو صدیوں سے اس زمین سے جڑا ہوا ہے۔

    ملیر کے اصل باشندے صرف زمین کے مالک نہیں، وہ ملیر کی تاریخ کے وارث ہیں۔ ان کے کھیت ملیر کی شناخت ہیں۔ ان کے باغ ملیر کے حسن کا حصہ ہیں۔ ان کے درخت ماحول کے محافظ ہیں اور ان کے قبرستان اس سرزمین کی تاریخ کی کتابیں ہیں۔

    ان زمینوں اور باغات کو مٹا کر ملیر کو جدید بنانے کا دعویٰ دراصل ملیر کی روح کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں ایسا ملیر چاہیے جہاں صرف کنکریٹ ہو، یا ایسا ملیر جہاں شاہراہ بھی ہو اور کھیت بھی بچیں؟ جہاں پل بھی ہوں اور درخت بھی سلامت رہیں؟ جہاں انٹرچینج بھی ہو اور مقامی انسان کا حق بھی محفوظ ہو؟ جہاں ترقی بھی ہو اور دھرتی کا احترام بھی؟

    کیوں کہ شاہراہیں دوبارہ بن سکتی ہیں، عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، لیکن صدیوں کی تاریخ دوبارہ پیدا نہیں کی جا سکتی۔

    ایک کٹا ہوا درخت دوبارہ اسی عمر تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لے سکتا ہے۔ ایک اجڑا ہوا باغ صرف چند درختوں کا نقصان نہیں۔ ایک قبرستان صرف قبروں کا مجموعہ نہیں۔ اور کسی دہقان کو اس کی زمین سے بے دخل کرنا صرف ملکیت کا معاملہ نہیں، یہ اس کی شناخت، عزت اور نسلوں کی تاریخ کا معاملہ بھی ہے۔

    ملیر کو خاموش تماشائیوں کی ضرورت نہیں۔ ملیر کو سوال کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ملیر کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو ووٹ لینے کے بعد بھی عوام کے درمیان کھڑے نظر آئیں۔ ملیر کو ایسی انتظامیہ چاہیے جو قانون نافذ کرے، طاقت کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور ملیر کو ایسی ترقی چاہیے جو انسان کو اجاڑے نہیں، بلکہ انسان کے لیے راستہ بنائے۔

    عظیم دہقان کی زمین پر بلڈوزر شاید چند گھنٹوں میں گزر گئے، لیکن ان بلڈوزروں نے ایک بہت بڑا سوال چھوڑ دیا ہے۔

    آخر ملیر کس کا ہے؟

    ان لوگوں کا جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں؟ یا ان کا جو طاقت، سرمایہ اور اختیار کے ساتھ آتے ہیں اور دھرتی کو صرف ایک نمبر، ایک فائل اور ایک قیمت میں تبدیل کر دیتے ہیں؟

    یہ سوال آج جواب مانگتا ہے۔ کیوں کہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی۔

    آج عظیم دہقان اپنی اجڑی ہوئی زمین کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے درخت خاموش ہیں۔ اس کے پرندے اُڑ چکے ہیں۔ اس کے کھیت مٹا دیے گئے ہیں اور اس کے آباؤ اجداد کی دھرتی جیسے پوچھ رہی ہے: ‘مجھے بچانے کے لیے میرے اپنے کہاں تھے؟’

    اس سوال کا جواب صرف عظیم دہقان کو نہیں، پورے ملیر کو دینا ہوگا۔ کیونکہ آگ اگر لگ گئی ہے تو صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہے گی۔

    لگی ہے آگ تو سب گھر آئیں گے زد میں،
    یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہی ہے۔

    اور شاید آج کے اس اکیلے دہقان کی سب سے بڑی پکار یہی ہے: ‘میری زمین بچاؤ، کیونکہ زمین صرف میری نہیں۔ یہ ہماری تاریخ، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کا حق ہے۔’

  • زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    زاویہ: جھرک، آغا خان اول کے محل سے قائداعظم سے منسوب ‘جائے پیدائش’ تک ایک بھولی ہوئی تاریخ

    جھرک کو دیکھنے کا تجسس مجھے کئی برسوں سے تھا۔ اس تجسس کی ایک بڑی وجہ اس شہر میں موجود آغا خان اول کا تاریخی محل تھا، جبکہ دوسری وجہ وہ سبق تھا جو ہم نے پرائمری اسکول کے زمانے میں سندھی نصاب کی کتابوں میں پڑھا تھا۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں پڑھاتے ہوئے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ محمد علی جناح سندھ کے قدیم شہر جھرک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔

    شاید یہی وجہ تھی کہ جھرک میرے لیے محض ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جس کے ساتھ ہماری تاریخ، نصاب اور یادداشت جڑی ہوئی تھی۔ جب ہم شہر کی طرف جانے لگے تو دور سے ہی پرانی سرکاری عمارات اور مختلف کھنڈرات نظر آنے لگے۔ کتابوں میں جس تاریخی جھرک کا تصور ذہن میں بنا تھا، موجودہ شہر اس تصویر سے خاصا مختلف دکھائی دے رہا تھا۔

    آخرکار ہم آغا خان اول کے تاریخی محل تک پہنچے۔ محل کی دیکھ بھال کرنے والے چوکیدار نے ہمیں اندر کا حصہ دکھایا۔ عمارت آج بھی اپنی اصل ساخت کے کئی پہلو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ مٹی اور لکڑی سے تعمیر شدہ یہ عمارت مقامی طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے۔ اندر ایک بڑا صحن، مختلف کمرے، چھوٹے ہال، آنگن اور ایک پرانا درخت موجود ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کی تعمیراتی سمجھ بوجھ کا بھی پتا دیتے ہیں۔

    یہ عمارت دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جھرک کبھی محض ایک عام قصبہ نہیں تھا بلکہ یہاں زندگی، تجارت اور ثقافت کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

    اسی دوران جھرک کے مقامی تاریخ نویس مشتاق ملاح سے ایک طویل نشست ہوئی۔ وہ قائداعظم یادگار کمیٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ گفتگو میں کئی مقامی لوگ بھی شامل ہوگئے اور بات جھرک کی تاریخ سے ہوتی ہوئی قائداعظم سے منسوب مکان تک جا پہنچی۔

    ہم نے قائداعظم کے گھر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ آغا خان اول کے محل سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ ہم جب اس جگہ پہنچے تو وہ تاریخی مکان اپنی اصل حالت میں موجود نہیں تھا۔ وقت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جگہ ایک نئی عمارت تعمیر ہوچکی ہے، جہاں ایک اسکول قائم ہے۔

    میں کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ جس شہر کا شمار کبھی اہم تاریخی اور تجارتی مراکز میں ہوتا تھا، جس کی گلیوں میں کبھی تجارت، تعلیم اور انتظامی سرگرمیاں عروج پر تھیں، اس شہر کے تاریخی ورثے کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ہے؟

    ایک زمانے کا خوشحال تجارتی مرکز

    جھرک ضلع ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے قریب واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے سندھ سے قربت نے اسے تاریخی طور پر اہم تجارتی اور دریائی بندرگاہی مرکز بنایا۔ برطانوی دور میں جھرک دریائی تجارت اور آمدورفت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا اور انڈس فلوٹیلا سے بھی اس کا گہرا تعلق رہا۔

    مقامی روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق جھرک کی آبادی مختلف برادریوں پر مشتمل تھی۔ دریائے سندھ سے وابستہ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہی، جبکہ مچھلی کی تجارت بھی شہر کی معاشی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔

    تاریخی حوالوں میں جھرک کے بازار کا بھی ذکر ملتا ہے، جہاں تقریباً 200 دکانیں موجود تھیں۔ شہر کی تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اسے انتظامی اور فوجی اعتبار سے بھی اہم مقام حاصل تھا۔

    جھرک کی انتظامی اہمیت

    سندھ پر برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد جھرک کی تجارتی اہمیت کے ساتھ اس کی انتظامی حیثیت بھی بڑھی۔ تاریخی حوالوں میں جھرک کے میونسپل انتظام، کراچی کلیکٹوریٹ سے اس کے تعلق اور برطانوی انتظامی و فوجی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔

    جھرک میں مختلف سرکاری اور انتظامی سہولتیں قائم تھیں، جبکہ شہر کی فوجی اہمیت بھی برقرار رہی۔ آج ان میں سے بعض تاریخی عمارتوں اور ڈھانچوں کے آثار جھرک کے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔

    آغا خان اول اور جھرک

    برطانوی دور میں آغا حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول، 1843 میں جھرک پہنچے اور یہاں قیام کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق سر چارلس نیپیئر نے انہیں جھرک میں رہنے اور برطانوی مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔

    آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل آج بھی جھرک کے ماضی کی اہم علامت ہے۔ عمارت پر 1843 کی تاریخ درج ہے اور اس کی تعمیر میں مقامی تعمیراتی طریقوں اور مواد کے استعمال کے آثار نمایاں ہیں۔ محل کے صحن، لکڑی کے کام اور ہوا کے گزر کے انتظامات اس دور کے طرز تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

    آغا خان اول کی جھرک میں موجودگی کے باعث یہ شہر اسماعیلی برادری کے لیے بھی اہم مرکز بن گیا۔ تاریخی حوالوں میں سندھ، کَچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات اور دیگر علاقوں سے ان کے پیروکاروں کے جھرک آنے کا ذکر ملتا ہے۔

    قائداعظم اور جھرک کا تعلق

    جھرک کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس پہلو قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کا سوال ہے۔

    مقامی تاریخ نویسوں اور بعض تاریخی حوالوں کے مطابق قائداعظم کا خاندان جھرک سے گہرا تعلق رکھتا تھا اور یہ روایت بھی موجود ہے کہ قائداعظم کی پیدائش اسی شہر میں ہوئی۔ بعض پرانے سندھی نصابی مواد میں بھی جھرک کو قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی قطعی دستاویزی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    قائداعظم کی جھرک میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کی روایت بھی اسی تاریخی بحث کا حصہ ہے۔ جھرک میں 1870 میں قائم ہونے والے ایک اسکول کا ذکر ملتا ہے، تاہم اس اسکول کا تاریخی رجسٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے قائداعظم کے وہاں زیر تعلیم رہنے کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    اسی لیے جھرک میں قائداعظم کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے دعوے کو تاریخی حقیقت کے بجائے ایک متنازع تاریخی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط طرز عمل ہے۔ دوسری جانب کراچی کا وزیر مینشن سرکاری طور پر قائداعظم کی جائے پیدائش کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

    قائداعظم کے خاندان کا جھرک سے تعلق بھی تاریخی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مقامی روایات میں خاندان کے جھرک آنے اور یہاں قیام کرنے کے مختلف دعوے ملتے ہیں، لیکن خاندان کے ہر فرد کی جھرک آمد، قیام اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات کی یکساں اور قطعی دستاویزی تصدیق موجود نہیں۔

    اسی لیے اس معاملے کو جذبات یا قیاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور مستند تحقیقی مواد کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    جھرک کے قدیم آثار

    جھرک اور اس کے آس پاس کا علاقہ صرف برطانوی دور کی تاریخ تک محدود نہیں۔ یہاں قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات کے حوالے بھی ملتے ہیں، جو اس خطے کی پرانی تہذیبی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    شہر کی جغرافیائی حیثیت نے بھی اس کی تاریخی اہمیت میں کردار ادا کیا۔ دریائے سندھ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے جھرک طویل عرصے تک دریائی آمدورفت، تجارت اور مقامی آبادیوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مقام رہا۔

    جھرک: ایک شہر جو اپنا ماضی مانگ رہا ہے

    جھرک کی موجودہ حالت اس شہر کی تاریخی اہمیت کے مقابلے میں ایک افسوسناک تضاد پیش کرتی ہے۔ جس شہر میں کبھی دریائی تجارت، بازار، سرکاری ادارے، فوجی سرگرمیاں اور تعلیمی مراکز موجود تھے، وہاں آج ماضی کی بہت سی نشانیاں بوسیدہ عمارتوں اور خاموش گلیوں کی صورت میں باقی ہیں۔

    دریائے سندھ سے جھرک کا تعلق اس شہر کی معیشت اور زندگی کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ وقت کے ساتھ دریائی بہاؤ اور پانی کی دستیابی میں آنے والی تبدیلیوں نے دریا سے وابستہ سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ماہی گیری اور دریائی وسائل پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کے لیے یہ تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

    جھرک صرف کھنڈرات کا نام نہیں۔ یہ سندھ کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم باب ہے۔ یہاں آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل ہے، قائداعظم کے خاندان اور جائے پیدائش سے متعلق ایک طویل مقامی روایت ہے، برطانوی دور کی عمارتیں ہیں، قدیم مذہبی اور آثار قدیمہ کے مقامات ہیں اور دریائے سندھ سے وابستہ ایک پوری تہذیبی کہانی موجود ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس کہانی کو کب محفوظ کریں گے؟

    جھرک کو صرف قائداعظم کی جائے پیدائش کے تنازع تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل تاریخی اور ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخی عمارتوں اور آثار کی باقاعدہ نشاندہی، دستاویز بندی، آثار قدیمہ کی تحقیق، بحالی اور قانونی تحفظ کے ذریعے اس شہر کے ماضی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ جھرک کو ثقافتی سیاحت کے نقشے پر بھی نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

    شاید جھرک کی گلیوں میں چلتے ہوئے سب سے بڑا دکھ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کو کتابوں میں تو محفوظ رکھا، مگر اس تاریخ سے جڑے اصل مقامات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

    آغا خان اول کا محل آج بھی خاموش کھڑا ہے۔ بوسیدہ سرکاری عمارتیں آج بھی اپنے عروج کی گواہی دے رہی ہیں اور قائداعظم سے منسوب مکان کی جگہ کھڑی نئی عمارت جیسے ہم سے ایک سوال کر رہی ہے۔

    جھرک کو آج ہماری توجہ، تحقیق اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، ان کی یادیں بھی انہیں زندہ رکھتی ہیں اور یہی یادیں آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ اور شناخت سے جوڑتی ہیں۔

  • زاویہ: چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز: کیا پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

    زاویہ: چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز: کیا پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

    ہماری یہ مسافت کسی گول دائرے میں گھومنے والی مسافت نہیں، بلکہ حماقت کے اس دائرے کا سفر ہے جس میں یہ قوم بار بار گھومتی رہی ہے۔ اگر تاریخ سے ہم نے کوئی ایک سبق سیکھا ہے تو شاید وہ یہی ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہی نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک بار پھر وہی پرانا راگ شروع ہو گیا ہے کہ صوبوں کو چھوٹی اور ’قابلِ انتظام‘ اکائیوں میں تقسیم کیا جائے۔ گویا گلگت بلتستان اور کشمیر، جو پہلے ہی رقبے اور آبادی کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹے ہیں، اس وقت جنت کے مثالی نمونے بن چکے ہیں۔ یا گویا بلوچستان، جو ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے، بہترین انداز میں چل رہا ہے؛ جہاں ہر شخص خوشحال ہے، ہر گھر میں روزگار موجود ہے، کسی کو کوئی معاشی پریشانی نہیں اور ہر شہری کو بجلی، پانی اور گیس وافر مقدار میں میسر ہے۔ لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال خود اس سوال کا جواب ہے۔

    اصل مسئلہ صوبوں کے حجم کا نہیں، بلکہ ملک کو چلانے کے طریقۂ کار کا ہے۔ گزشتہ 79 برسوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے جس انداز میں ملک کو چلایا ہے، خرابی کی بنیادی وجہ بھی وہی ہے۔ مسئلہ صوبے نہیں، بلکہ ملک کے نگہبان اور حکمران ذہن ہیں۔

    پھر آتے ہیں ’سیالکوٹ کے سقراط‘ خواجہ آصف، جو اپنے غیر سنجیدہ اور بغیر سوچے سمجھے بیانات کے ذریعے ملک کے لیے عزت کے بجائے شرمندگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ کراچی اور گوادر کو صوبوں کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو پھر، خواجہ صاحب، یہ کس کا حصہ ہوں؟ وفاقی حکومت کا؟

    وفاقی حکومت تو کئی دہائیوں سے ان اہم ساحلی گزرگاہوں پر اپنا کنٹرول رکھتی آئی ہے۔ کیا خواجہ صاحب یہ بتانا پسند کریں گے کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی آخر کس صوبے کو مل رہی ہے؟ یا پھر یہ آمدنی پنجاب کے حکمرانوں یا اسٹیبلشمنٹ کے حصے میں جا رہی ہے؟

    جو وفاقی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنے کا نظام بھی نہیں چلا سکتی، کیا وہ کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر کو چلانے کی اہل ہو سکتی ہے؟ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور ریلوے جیسے تباہ حال وفاقی ادارے وفاقی کارکردگی کی کون سی کہانی بیان کرتے ہیں؟

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب طالبان جیسے مسلح گروہ اسلام آباد کے دروازوں تک پہنچ گئے تھے۔ آخر یہ ناکامی کس کی تھی؟ آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، افغانستان اور انہی طالبان کے تناظر میں، کشیدگی اور لڑائی جاری ہے۔ وہاں بھی کوئی بنیادی بہتری نہیں لائی جا سکی، لیکن اس کے باوجود نئے صوبوں کا راگ چھیڑ دیا گیا ہے۔

    1948 میں کراچی کے ساتھ ناانصافی

    1948 میں ایک ایسی وفاقی حکومت نے کراچی کو زبردستی سندھ سے الگ کر لیا جو سندھ کے مقامی لوگوں، ان کی ثقافت اور تاریخ سے بیگانہ تھی۔ سندھ اسمبلی کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا گیا جس میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔

    کراچی کو پہلے وفاقی دارالحکومت بنایا گیا اور بعد ازاں اسے مغربی پاکستان کی ایک ڈویژن کی حیثیت سے وفاقی کنٹرول میں رکھا گیا، یہاں تک کہ 1970 میں ون یونٹ کا خاتمہ ہوا۔

    سوال یہ ہے کہ اس زبردستی کے وفاقی کنٹرول کے طویل عرصے کے دوران کراچی کے لیے وفاق کی جانب سے ایسا کون سا بڑا اور تاریخی منصوبہ دیا گیا جس نے شہر کی زندگی بدل دی ہو؟

    1947 تک ایشیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہونے والا کراچی، دارالحکومت بننے کے بعد رفتہ رفتہ ایسے بے ہنگم شہری پھیلاؤ کا شکار ہوتا گیا جہاں بدانتظامی، جرائم، کرپشن اور گندگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

    مسئلہ صوبوں کا نہیں، حکمرانی کا ہے

    پاکستان کبھی مستقل سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ صوبے یا سیاست دان نہیں، بلکہ حکمرانی کا وہ اسٹیبلشمنٹی طریقہ ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مختلف شکلوں میں جاری رہا ہے۔

    ملک کی بنیاد کا پہلا پتھر ہی ایسے انداز میں رکھا گیا جس نے آگے چل کر متعدد مسائل کو جنم دیا۔ ابتدائی اسٹیبلشمنٹ میں مہاجر بیوروکریسی، پنجابی فوج اور ایسے سیاست دان شامل تھے جن کے سیاسی و سماجی پس منظر کے حوالے سے بھی متعدد سوالات موجود تھے۔

    جب ملک کی پہلی کابینہ تشکیل دی گئی تو اس میں ایک بھی بلوچ یا سندھی شامل نہیں تھا، حالانکہ قانون ساز اسمبلی سندھ کی سرزمین پر اجلاس کر رہی تھی۔

    ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری آئین بنانا تھی، لیکن وہ اپنی اس پہلی اور بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہی۔

    کراچی کو سندھ سے الگ کرنا، اردو کو مسلط کرنا، 1948 کے منظم نسلی فسادات اور سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے منتقل کرنے جیسے اقدامات مقامی آبادی کو سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کے ایک وسیع عمل کا حصہ بنے۔

    اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی آواز کو دبانے اور لوگوں کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھنے کی روش نے ملک کو سیاسی انتشار اور افراتفری کی طرف دھکیل دیا۔

    لیکن مسائل حل کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ نے ایک اور ’عظیم‘ تجویز پیش کی: ون یونٹ۔

    ون یونٹ سے چھوٹے صوبوں تک

    مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ملا کر ایک یونٹ تشکیل دینے کو اس وقت ملک کے تمام مسائل کا علاج قرار دیا گیا تھا۔ آج چھوٹے صوبوں کا تصور بھی تقریباً اسی انداز میں ایک حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    لیکن ون یونٹ بالآخر ملک کو کس سمت لے گیا، یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ موجودہ نئی تجرباتی مہم بھی اگر اسی طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھائی گئی تو اس کے نتائج مختلف نہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کبھی سیدھی راہ پر نہیں چل سکا۔ اقتدار کی چوٹی پر بیٹھے لوگوں کے بدلنے کے ساتھ ملک کا سیاسی اور نظریاتی رخ بھی بدلتا رہا۔ کبھی ہم جمہوریہ بنتے ہیں، پھر اسلامی جمہوریہ، پھر مذہبی جذبات کے راستے پر چلتے ہیں اور اچانک ’روشن خیال‘ بن جاتے ہیں۔

    ملک کا تصور ہر نئے حکمران کی سیاسی سوچ، نظریے اور خواہش کے مطابق تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اور اب ’سپر وزیر اعظم‘ چھوٹے صوبوں کا تصور لے کر آئے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے سے بھی چھوٹی اکائیوں کے قیام سے آخر ایسا کیا حاصل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ صوبائی نظام میں حاصل نہیں کیا جا سکتا؟

    یا پھر اصل مقصد یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے اختیارات دوبارہ واپس لیے جائیں؟

    گوادر اور سندھ کی تقسیم؟

    آئیے ایک بار پھر ’سیالکوٹ کے سقراط‘ کی تجویز کی طرف آتے ہیں۔

    گوادر کو الگ کرنا شاید اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ مشکل نہ ہو، کیونکہ بلوچستان پہلے ہی طاقت کے دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن کیا سندھ کے لوگ اپنی مادری دھرتی کی تقسیم اتنی آسانی سے قبول کر لیں گے؟

    صرف انتہائی نادان شخص ہی یہ سمجھ سکتا ہے کہ سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کو خاموشی سے قبول کر لیں گے۔

    سندھ پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر نہیں آیا۔ پہلا بڑا دھچکا 1948 میں لگا، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنا دیا گیا۔ سندھ کے لوگ اس واقعے کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی اسے معاف کیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے لوگ ایک مرتبہ پھر اسی تاریخ کو دہرانے کی اجازت دیں گے؟

    ایک اور محاذ کیوں؟

    اسٹیبلشمنٹ صرف محدود سوچ کا شکار نہیں، بلکہ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے بہت جلد بھول جاتی ہے۔

    اگر ایم آر ڈی کی تحریک بھی فراموش ہو چکی ہے تو کم از کم گزشتہ سال ڈبلرو بائی پاس پر پانی کے مسئلے کے خلاف ہونے والا دھرنا تو یاد ہونا چاہیے۔

    ملک پہلے ہی اندرونی بحرانوں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بلوچستان میں بدامنی جاری ہے، خیبر پختونخوا بے چینی کا شکار ہے اور کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کی صورتِ حال موجود ہے۔

    کیا یہ مسائل کافی نہیں ہیں؟

    آخر کس نادان شخص نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ سندھ میں ایک اور محاذ کھولا جائے؟

    چھوٹے صوبے بنانے کے بجائے عوام کو اختیار دیا جائے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے آپ کو کس نے روکا ہے؟ میونسپل کمیٹیوں کو آپ اہمیت ہی نہیں دیتے، حالانکہ یہی ادارے تقسیمِ ہند سے بھی پہلے کے دور میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے رہے ہیں۔

    اس لیے چھوٹے صوبوں کی تجویز کو ترک کر دینا چاہیے۔ یہ مسائل حل کرنے کے بجائے شاید مزید مسائل پیدا کرے۔

    اصل ضرورت ملک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی نہیں، بلکہ ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے آزاد کرنے کی ہے۔

    عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔ لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے، اپنے وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا اختیار دیا جائے۔

    ملک کے مسائل کا حقیقی حل نئے صوبوں کے نقشے میں نہیں، بلکہ اختیار عوام کو دینے میں پوشیدہ ہے۔

  • زاویہ: چار دیواری سے شاہراہوں تک:  برصغیر میں مذہبی رسومات کا عوامی سفر

    زاویہ: چار دیواری سے شاہراہوں تک:  برصغیر میں مذہبی رسومات کا عوامی سفر

    تاریخ صرف جنگوں، بادشاہوں کی تبدیلیوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معاشروں کے اندر رینگنے والی ان خاموش سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کا عکس بھی ہوتی ہے جو انسانی طرزِ زندگی کو یکسر بدل دیتی ہیں۔

    برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی مذہبی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کا دور ایک ایسے ہی فکری اور سماجی انقلاب کا پتا دیتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی مذہبی رسومات اور عقیدت کا اظہار گھروں، خانقاہوں، مساجد اور امام بارگاہوں کی ’چار دیواری‘ سے نکل کر شہروں کی ’شاہراہوں اور چوراہوں‘ پر جلوہ گر ہونے لگا۔

    بارہ وفات‘ سے ’میلاد کے جلوس‘ تک کا سفر

    آج ہم جب 12 ربیع الاول کو ملک بھر کی سڑکوں پر عید میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے اور متحرک جلوس دیکھتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ یہ روایت شاید صدیوں پرانی ہے۔ لیکن تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک، کراچی سمیت پورے برصغیر میں اس دن کو ’عید میلاد النبی‘ کے بجائے عام طور پر ’بارہ وفات‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

    اس دور میں عقیدت کا رنگ جشن کا نہیں بلکہ ملال، سنجیدگی اور احترامِ نبوی کا امتزاج تھا۔ دن کا آغاز مساجد یا گھروں میں صبح کے وقت ہونے والی خاموش ’سیرت النبی ﷺ‘ اور ’وفات نامہ‘ کی مجالس سے ہوتا تھا۔

    لوگ خاموشی سے بیٹھ کر خطبہ کو سنتے، درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے، تبرک بانٹتے اور اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اس دور کے برصغیر کی گلیوں اور سڑکوں پر کسی قسم کے عوامی میلاد کے جلوسوں کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔

    لکھنؤ سے راولپنڈی تک: عوامی بیداری کے دو اہم سال

    اس روایتی اور خاموش طرزِ عبادت میں تبدیلی برطانوی راج کے آخری چند عشروں میں آئی، جب برصغیر کے مسلمان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنی ’عوامی مذہبی شناخت‘ نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ اس ضمن میں 1926 اور 1927 کے سال تاریخ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    سال 1926 میں لکھنؤ میں ہندوستان کی پہلی ’مجلسِ شامِ غریباں‘ منعقد ہوئی۔ اگرچہ شیعہ مسلمانوں میں عزاداری کی یہ سوگوار روایت پہلے سے موجود تھی، لیکن وہ امام بارگاہوں اور نجی حلقوں تک محدود تھی۔ لکھنؤ کی اس مجلس نے اسے ایک نمایاں عوامی اور اجتماعی صورت عطا کی، جہاں ہزاروں لوگ سڑکوں اور میدانوں میں جمع ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔

    اس کے ٹھیک ایک سال بعد، ستمبر 1927 میں راولپنڈی میں ہندوستان کا پہلا باقاعدہ عوامی عید میلاد النبی جلوس نکالا گیا۔ دستیاب روایات کے مطابق، اس جلوس کی تجویز اس وقت کے ایک برطانوی ڈپٹی کمشنر کی طرف سے دی گئی تھی، جو نوآبادیاتی انتظامیہ کی طرف سے مقامی آبادی کو اپنے تہوار کھلے عام منانے کی اجازت دینے کی پالیسی کا حصہ تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر 12 ربیع الاول کا دن ایک بڑے عوامی اجتماع اور برآمدی جلوس کی شکل میں نمودار ہوا۔

    کراچی کا منفرد کیس: 1872 کا استثنائی نقش

    اگرچہ پورے برصغیر میں عوامی جلوسوں کا یہ رواج 1920 کی دہائی کے بعد ہی جڑ پکڑ سکا، لیکن اگر ہم قدیم کراچی کی تاریخ کا پتا لگائیں تو یہاں ہمیں ایک منفرد اور بہت قدیم استثنائی نقش ملتا ہے۔ کراچی کی تاجر اور مذہبی برادری ملک کے دیگر حصوں سے کہیں پہلے اپنی مذہبی موجودگی کا اظہار سڑکوں پر کر چکی تھی۔

    معروف محقق ڈاکٹر سہیل انصاری کی تحقیق کے مطابق، کراچی میں عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس روایتی طور پر تقسیم سے قبل بھی پوری عقیدت سے نکالا جاتا تھا۔ سال 1872 میں اس جلوس کے لیے کھارادر سے موجودہ عیدگاہ میدان تک کی باقاعدہ سرکاری اجازت حاصل کی گئی تھی، جس کی قیادت علامہ حافظ محمد عبداللہ درس نے کی تھی۔

    بعد ازاں، جب انگریزوں نے کراچی کو جدید شہر میں بدلا اور یہاں کلاک ٹاورز اور چوراہے بنے تو یہ روایت بھی پھیلتی گئی۔ 1914 سے 1925 تک شیخ عبدالکریم درس کی قیادت میں یہ جلوس منظم ہوا، جبکہ 1925 کے بعد مولانا ظہور الحسن درس نے اس کی کمان سنبھالی۔ یہ مرکزی جلوس میری ویدر ٹاور سے شروع ہو کر رام باغ، موجودہ آرام باغ، گراؤنڈ پر جا کر ختم ہوتا تھا اور شہر کی اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔

    تقسیمِ ہند اور قائدِ اعظم کا تاریخی خطاب (25 جنوری 1948)

    مذہبی رسومات کا یہ عوامی سفر قیامِ پاکستان کے بعد ایک نئے تشخص کے ساتھ ابھرا۔ ڈاکٹر سہیل انصاری کے ریکارڈز اور محفوظ کردہ نایاب تصویر کے مطابق، تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں پہلی عید میلاد النبی ﷺ 25 جنوری 1948 کو منائی گئی۔

    یہ دن پاکستان کی تاریخ میں اس لیے بھی امر ہو گیا کیونکہ اس بابرکت موقع پر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ایک استقبالیہ تقریب میں خصوصی شرکت کی اور وہاں موجود وکلا اور عمائدینِ شہر سے ایک تاریخی خطاب فرمایا۔ یہ تصویر اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ نئے وطن میں مذہبی آزادی، روایات کا احترام اور عوامی تشخص کس طرح مملکت کے رہنماؤں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہا تھا۔

    رسومات کے سڑکوں پر آنے کی سیاسی و سماجی وجہ

    انگریزوں کے دور میں مسلمانوں نے یہ نئے عوامی طریقے کیوں اختیار کیے؟ تاریخ دان اس کی دو بڑی وجوہات بتاتے ہیں:

    شہری جگہوں کا استعمال: برطانوی حکومت نے جب برصغیر میں سڑکوں کا جال بچھایا، بڑے چوراہے، پارک اور عوامی ہال بنائے تو مقامی آبادی نے ان شہری جگہوں کو اپنے اجتماعی تشخص کے اظہار کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    سیاسی اور عددی طاقت کا مظاہرہ: یہ وہ دور تھا جب ہندو برادری نے ’آریہ سماج‘ اور دیگر تحریکوں کے تحت ’شوبھا یاترا‘، یعنی مذہبی جلوسوں، اور گنیش چترتھی جیسے تہواروں کو سڑکوں پر لا کر اپنی عوامی اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی عددی موجودگی، تشخص اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے میلاد کے بڑے جلوسوں اور کھلی عوامی مجالس کا سہارا لیا تاکہ نوآبادیاتی حکومت پر ان کا سیاسی دباؤ برقرار رہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ برصغیر میں مذہبی رسومات کا یہ سفر محض عبادات کے طریقوں کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ مسلمانوں کی سیاسی و سماجی بیداری کا پیش خیمہ تھا۔ ’بارہ وفات‘ کا مسجد کے اندر ہونے والا خاموش ذکر جب سڑکوں پر آیا تو اس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ’اجتماعی طاقت‘ کا احساس دلایا۔ 25 جنوری 1948 کو قائد اعظم کا کراچی بار میں خطاب اسی سفر کا ایک خوبصورت تسلسل تھا، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ کراچی کی سڑکیں اور میدان ہمارے مذہبی، سیاسی اور تہذیبی ارتقا کے کتنے بڑے شاہد ہیں۔

  • زاویہ: سندھ کا ڈوبتا ڈیلٹا اور پانی کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ

    زاویہ: سندھ کا ڈوبتا ڈیلٹا اور پانی کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ

    آج آئیے سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کے ایک اور اہم پہلو پر بات کرتے ہیں، یعنی پانی کی سیاست میں طاقت کی غیر مساوات اور پنجاب کو تاریخی طور پر حاصل رہی ترجیح۔

    سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کی کہانی صرف پانی کم ہونے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کی غیر مساوات کی کہانی بھی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پانی کہاں گیا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے بارے میں فیصلے کرنے کی طاقت تاریخی طور پر کس کے پاس رہی، پانی کا بنیادی ڈھانچہ کہاں بنایا گیا، ترقی کی تعریف کس نے کی، اور اس ترقی کی قیمت آخر کس نے ادا کی؟

    برطانوی دور حکومت میں پنجاب کو سندھ طاس کی نوآبادیاتی زرعی معیشت کا مرکز بنایا گیا۔ انگریزوں کے لیے پنجاب صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ آمدنی، زرعی پیداوار اور سیاسی کنٹرول کے لیے انتہائی اہم خطہ تھا۔ نہری آبادیاں قائم کی گئیں، نئی نہریں کھودی گئیں، بیراج اور آبپاشی کا ایک بڑا نظام قائم کیا گیا، اور پانی کو اس طرح منظم کیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ زمین کو مستقل آبپاشی کے نظام میں لایا جا سکے۔

    اس سے پنجاب کی زرعی معیشت مضبوط ہوئی، لیکن اسی کے ساتھ دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں نچلے علاقوں کی طرف کمی اور تبدیلی شروع ہوگئی۔ ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی دور میں پانی کے انتظام اور تقسیم کا جو نظام قائم ہوا، وہ وقت کے ساتھ اتنا مضبوط ہوگیا کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اسی راستے پر چلتا رہا۔

    1947 میں نیا ملک قائم ہوا، لیکن پانی کی حکمرانی کا پرانا نقشہ زیادہ نہیں بدلا۔ بلکہ قومی ترقی کے نام پر اسے مزید طاقت مل گئی۔ اب دلیل نوآبادیاتی آمدنی کی نہیں تھی، بلکہ نئے الفاظ استعمال کیے گئے، ترقی، غذائی تحفظ، آبپاشی، پن بجلی اور قومی مفاد۔ لیکن نتیجہ بڑی حد تک وہی رہا: مزید بیراج، مزید نہریں، مزید رابطہ نہریں، مزید پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور پانی کے بالائی بہاؤ پر مزید کنٹرول۔

    ہم نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس پوری کہانی کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اگر 1860 سے 1980 تک پانی سے متعلق بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو صوبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو علاقائی فرق بہت واضح نظر آتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق تقریباً 67 فیصد بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری پنجاب میں کی گئی تھی۔

    سندھ، بلوچستان اور دوسرے علاقوں کے مقابلے میں پنجاب میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کا بہت زیادہ ارتکاز پیدا ہوا۔ یہ صرف نقشے پر بنے ہوئے چند مقامات نہیں ہیں۔ ہر بیراج، نہر، رابطہ نہر اور پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ پر ایک نیا ادارہ جاتی کنٹرول بھی پیدا کرتا ہے۔

    یہاں ایک مشہور قومی بیانیے کو بھی سمجھنا ضروری ہے: ‘پنجاب پاکستان کی غذائی ٹوکری ہے۔’ اس جملے میں بذات خود کوئی غلط بات نہیں۔ پنجاب واقعی ملک کی زرعی پیداوار میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس حقیقت کو اس سیاسی دلیل میں تبدیل کردیا جائے کہ پنجاب کی طرف زیادہ پانی جانا خود بخود قومی مفاد ہے، جبکہ کوٹری سے نیچے پانی چھوڑنے کو سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کے طور پر پیش کیا جائے۔

    اسی لیے ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں اسے ‘بیانیاتی طاقت’ کا نام دیا ہے۔ یعنی طاقت صرف ڈیم یا بیراج پر قبضہ کرنے کا نام نہیں، طاقت یہ بھی ہے کہ آپ کسی چیز کے معنی طے کرسکیں۔ اگر پنجاب میں جانے والے پانی کو غذائی تحفظ کہا جائے، لیکن یہی پانی سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی طرف جائے تو اسے ‘سمندر میں بہہ جانے والا پانی’ یا ‘ضائع شدہ پانی’ کہا جائے، تو پھر یہ صرف پانی کے بہاؤ کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ سیاست بن جاتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق پنجاب کی پانی کی ضروریات کو تاریخی طور پر قومی ترقی اور غذائی تحفظ کی زبان کے ساتھ جوڑا گیا، جبکہ سندھ کے ماحولیاتی بہاؤ کے مطالبے کو اکثر ترقی کی مخالفت کے طور پر پیش کیا گیا۔

    لیکن دریا کا پانی سمندر تک پہنچنا ضائع ہونا نہیں ہے۔ یہ پانی اپنے ساتھ مٹی اور دریائی تلچھٹ لے کر جاتا ہے، سمندری نمکین پانی کو پیچھے دھکیلتا ہے، مینگرووز کے جنگلات کو زندہ رکھتا ہے، مچھلیوں کی افزائش اور ماہی گیری کو برقرار رکھتا ہے، دریائی کھاڑیوں میں میٹھے پانی کی مقدار بڑھاتا ہے، زمین کو سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور لاکھوں لوگوں کے روزگار اور زندگی کے نظام کو برقرار رکھتا ہے۔ جو پانی انجینئرنگ کے حساب کتاب میں ‘بہہ جانے والا’ یا ‘ضائع’ دکھائی دیتا ہے، وہ ڈیلٹا کے لیے زندگی ہے۔

    ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں ‘آبی بالادستی’ کو تین حصوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ پہلا حصہ ‘مادی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس ڈیم، بیراج، نہریں اور پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ زیادہ ہو، اس کے پاس پانی پر عملی کنٹرول بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ ‘مذاکراتی طاقت’ ہے۔ جن مفادات کو طاقتور وفاقی اداروں اور پانی سے متعلق فیصلہ سازی میں زیادہ اہمیت حاصل ہو، وہ پانی کے اصولوں اور تقسیم پر زیادہ اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

    تیسرا حصہ ‘بیانیاتی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ اپنی پانی کی ضرورت کو قومی مفاد اور غذائی تحفظ کے طور پر پیش کرے اور زیریں علاقوں کی پانی کی ضرورت کو غیر ضروری یا ترقی مخالف قرار دے۔ طاقت کی یہ تینوں شکلیں مل کر ایسا نظام بناتی ہیں جس میں قانونی اور رسمی برابری تو موجود ہوتی ہے، لیکن عملی نتائج برابر نہیں ہوتے۔

    اس پس منظر میں 1955 سے 1970 تک قائم رہنے والے ون یونٹ نظام کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمارے مقالے کے مطابق ون یونٹ نے صوبائی نمائندگی کو کم کیا اور پانی کی پالیسی میں بالائی علاقوں کے طاقتور طبقوں کو زیادہ اثر و رسوخ دیا۔ اسی دور میں سندھ طاس معاہدہ اور بڑے پیمانے پر پانی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا نظام مزید مضبوط ہوا۔ اس کے بعد منگلا، تربیلا، رابطہ نہروں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے ایسا ادارہ جاتی نظام قائم ہوگیا جسے بعد میں تبدیل کرنا مزید مشکل ہوتا گیا۔

    اب اس کے زیریں علاقوں پر اثرات دیکھیں۔ 1960 کی دہائی کے بعد کوٹری بیراج سے نیچے دریائے سندھ کا بہاؤ تیزی سے کم ہوا۔ کئی برسوں میں سالانہ بہاؤ 10 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم رہا اور بعض ادوار میں تقریباً ختم ہی ہوگیا۔ یعنی بڑھتا ہوا بنیادی ڈھانچہ اور کم ہوتا ہوا میٹھے پانی کا بہاؤ ایک دوسرے سے الگ کہانیاں نہیں ہیں۔

    ہماری تحقیق میں واقعات اور پالیسیوں کے تسلسل کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی سے متعلق فیصلوں نے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی مستقبل کو تشکیل دیا۔

    اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پنجاب کا کسان دشمن ہے یا پنجاب کو پانی نہیں ملنا چاہیے۔ ہماری تحقیق ایسی کوئی بات نہیں کہتی۔ اصل سوال صوبے کے خلاف صوبہ نہیں ہے، بلکہ ایسے نظام حکمرانی کا ہے جو ایک علاقے کے معاشی فوائد کو قومی مفاد بنا دیتا ہے، لیکن دوسرے علاقے کی ماحولیاتی بقا کو وہی سیاسی اہمیت نہیں دیتا۔

    ہمیں ‘غذائی ٹوکری’ کی دلیل پر دوبارہ سوچنا ہوگا۔ ملک کو خوراک ضرور چاہیے، لیکن غذائی تحفظ کیا صرف گندم اور گنے کا نام ہے؟ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی مچھلیاں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ وہاں کی زراعت غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہے؟ مویشی پالنے والے لوگوں کی چراگاہیں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ پینے کے صاف پانی کا تحفظ قومی مفاد نہیں ہے؟ مینگرووز اور ماہی گیری کی تباہی سے ختم ہونے والی معیشت قومی نقصان نہیں ہے؟

    اگر ایک علاقے کے ہر ایکڑ کو پانی دینا ترقی ہے، لیکن دوسرے علاقے کو سمندر میں ڈوبنے اور سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے کے لیے پانی چھوڑنا ‘ضیاع’ ہے، تو پھر مسئلہ پانی کی کمی سے زیادہ طاقت کی تعریف کا ہے۔

    اسی لیے ہماری تحقیق کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے بحران کو صرف پانی کے بہاؤ کے علم کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسے طاقت کی غیر مساوات کے ذریعے بھی سمجھنا ہوگا۔ تاریخی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، مرکزی اداروں کا کنٹرول اور قومی مفاد کے بیانیے نے مل کر ایسا آبی بالادستی کا نظام قائم کیا ہے جس کا فائدہ بالائی علاقوں کو زیادہ حاصل ہوا، جبکہ اس کی ماحولیاتی قیمت زیریں سندھ اور سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو زیادہ ادا کرنا پڑی۔

    اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پنجاب کو پانی کیوں ملتا ہے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ دریائے سندھ کے پانی کے بارے میں قومی مفاد کی تعریف میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی بقا کیوں شامل نہیں ہے؟

    شاید اب ہمیں ‘پاکستان کی غذائی ٹوکری’ کے ساتھ ایک اور جملہ بھی سیکھنا ہوگا: ‘دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک پہنچنے والا پانی ضائع شدہ پانی نہیں، بلکہ پاکستان کی ماحولیاتی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔’

  • زاویہ: امر جگدیش کمار ملانی: تھر کی عوامی سیاست کا روشن استعارہ

    زاویہ: امر جگدیش کمار ملانی: تھر کی عوامی سیاست کا روشن استعارہ

    جگدیش ملانی نے تھر میں پارٹی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے مٹھی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا پرچم لہرایا تھا۔ جگدیش ملانی ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں شہید بے نظیر بھٹو ہر ‘راکھی پونم’ (راکھی کے تہوار) پر راکھی باندھا کرتی تھیں۔

    جگدیش پر نظر پڑتے ہی مادرِ جمہوریت نصرت بھٹو کے دل میں ممتا کی لہر جاگ اٹھتی تھی۔ جگدیش نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جام صادق کے جبر کے تحت جیلیں کاٹیں۔ انہوں نے مٹھی میں رواداری کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے عید اور دیوالی کے موقع پر محبتوں کے میلے سجائے۔ وہ ہولی کے تہوار پر بازار کے مرکزی چوک میں رنگوں کا ڈرم بھر کر رکھا کرتے تھے۔ وہ افسران کے مقابلے میں عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔

    وہ، جو جدید سندھی صحافت کے دلیر نام فقیر محمد لاشاری اور اسماعیل اڈھیجو کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کال پر بحالیِ جمہوریت کی خاطر لانگ مارچ میں ‘جیئے بھٹو’ کے نعرے لگاتے ہوئے نکلے تھے اور راہِ وفا میں 31 جولائی 1993 کو اپنا خون بہا کر ابدیت (امرتا) کا مقام پا گئے۔

    جگدیش کمار ملانی 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت ایم پی اے (رکن صوبائی اسمبلی) منتخب ہو گئے۔ بعد ازاں، 1990 کے انتخابات میں جگدیش کمار ملانی ایم این اے (رکن قومی اسمبلی) کی نشست پر امیدوار بنے، تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

    جگدیش ملانی کے پاس پارٹی سیاست کی بڑی طاقت ہوا کرتی تھی۔ وہ تھر کے ٹیلوں میں سیاسی سرگرمیوں سے زلزلہ برپا کر کے کہا کرتے تھے کہ ‘محنت کشوں اور مسکینوں کے خوابوں کو آزاد کرو۔’

    جگدیش سیاسی جدوجہد کے لیے شب بیداریوں کے عادی بہادروں کو اپنے دل کا ہار بنا کر رکھتے تھے۔ ان کی محبت کے شیریں رازوں اور سانس کی ترنم میں سیاسی کارکنوں کے لیے سراپا خلوص ہوتا تھا۔ جگدیش سچے اور مضبوط انسان تو تھے مگر سخت دل نہیں تھے۔ غریب و مارو لوگوں کے لیے ان کا دل اتنا نرم و ملائم تھا جتنا تھر میں سنئی (ایک نرم پودا) کا پھول ہوتا ہے۔

    جگدیش کمار ملانی کو کبھی کسی پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہر شخص سے خلوص اور محبت سے ملنا ان کا نصب العین تھا۔ امر جگدیش ملانی کی عوامی سیاست کا تھر کی سیاسی تاریخ پر ایک گہرا نقش ہے۔ عوامی سیاست کا یہ انوکھا اور منفرد کردار سندھ کی فکری و شعوری تحریک سے جڑا رہتا تھا، چاہے تھر کے دیہاتی ہوں یا پورا سندھ، جگدیش کا تذکرہ دل کی زبان سے کرتے ہیں۔

    امر جگدیش کمار ملانی کے بعد ان کے بھائی موتی رام ملانی نے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت وہ ایم این اے بنے، لیکن زندگی نے موتی رام سے وفا نہ کی۔ موتی رام ملانی کی ناگہانی وفات کے بعد یہ سنگین ذمہ داری ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کے کندھوں پر آ پڑی۔ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبر کے ساتھ امر جگدیش کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھنے کے لیے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

    نہایت کٹھن سفر میں بھی ڈاکٹر مہیش کمار آزمائش کی گھڑیوں سے گزر کر پارٹی اور عوامی سیاست کے ساتھ مخلص رہے۔ وزیراعظم کے امیدوار شوکت عزیز جب تھر کے حلقے سے الیکشن میں کھڑے ہوئے، تب ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار کے طور پر ان کا مقابلہ کیا۔

    ڈاکٹر مہیش کمار اقلیت کی مخصوص نشست پر رکن بننے سے لے کر مشترکہ ووٹوں پر الیکشن لڑ کر صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ مختلف اوقات میں پارٹی کی ضلعی صدارت سنبھالنے والے ڈاکٹر مہیش اس وقت میرپورخاص ڈویژن کے ڈویژنل صدر ہیں۔

    ملانی خاندان کے اس سیاسی سفر میں امر جگدیش کے بڑے بھائی، استاد رانے مل ملانی نے پس منظر میں رہ کر ایک رہنما کا کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر منوج ملانی دوسری بار میونسپل کمیٹی مٹھی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

    جگدیش ملانی کے بیٹے ونود ملانی اور سشیل ملانی بھی وراثت میں ملی سیاست کے اس کٹھن سفر کے مسافر ہیں۔ سیاست کے صحرا میں کوئی چاہے جتنے بھی اختلافات تراش لے، لیکن سماجی زندگی میں سشیل ملانی پیار، اپنائیت، عمدہ اوصاف، شیریں دوستی اور انوکھی روایت والا ایسا نوجوان ہے جس کے ساتھ احساسات، جذبات، تصورات اور تخلیق کے سمندر میں آنسوؤں کی لہریں اور دل پر نقش چاہت کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔

    باہم جھگڑوں، محفلوں، تنقیدوں اور اختلافات کے باوجود سشیل کا مسکرا کر ملنا اور پیار و اپنائیت کے ساتھ پیش آنا اس کی عالی ظرفی کا ثبوت ہے۔

    سیاست کی کتنی ہی مصروفیات ہوں، لیکن ‘دل وراکو دوست سين’ (دل کا دلاسہ، سکون دوست کے ساتھ) برقرار رکھنے کی سشیل ملانی پوری کوشش کرتا ہے۔ جگدیش ملانی کی طرح تعلق داروں اور دوستوں کے پاس چلا آتا ہے۔

    سشیل ملانی اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ اس عہدے پر امر جگدیش کمار ملانی بھی فائز رہ چکے ہیں۔ تاریخ کو دہراتے ہوئے وقت نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا ہے، اب عوام کے دلوں میں اپنی جگہ انہیں خود بنانی ہے۔

    نوٹ: اس تحریر میں شامل آرا، تجزیے اور تاثرات مصنف کے ذاتی ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  • زاویہ: روشنیوں کا اصل خون پسینہ، کراچی کا پنجابی مسیحی ورثہ اور گمنام معمار

    زاویہ: روشنیوں کا اصل خون پسینہ، کراچی کا پنجابی مسیحی ورثہ اور گمنام معمار

    دریائے سندھ کے کنارے پھیلا عروس البلاد، روشنیوں کا بندرگاہی شہر کراچی اپنے جغرافیائی و تزویراتی مقام، بلند و بالا فلک بوس عمارات اور معاشی و مالیاتی مرکز کے طور پر تو دنیا بھر کی نظروں میں رہتا ہے۔

    لیکن اس شہرِ بے مہر کے وجود کی تعمیر و تشکیل کا اصل تانا بانا ان گمنام، جفاکش اور محروم طبقات کے خون پسینے سے بنا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھندلکے میں خاموشی سے اس شہر کی صفائی، عمومی صحت اور بنیادی تحفظ کے سنگ بنیاد رکھے۔

    تقسیم ہند 1947 سے قبل کا کراچی ایک ایسا کثیر الثقافتی گلستان تھا جہاں پارسی، یہودی، ہندو، مسلمان، اینگلو انڈین اور گوانی کیتھولک مسیحی برادریاں شانہ بشانہ آباد تھیں۔ لیکن اس شہر کی عمرانی تاریخ کا سب سے اہم، متحرک اور نظرانداز کیا جانے والا باب وہ ‘پنجابی مسیحی برادری’ ہے، جس نے وسطی پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں کی مظلومیت سے نکل کر اس ساحلی شہر کو اپنا مسکن بنایا اور اس کے بلدیاتی، تعلیمی اور طبی ڈھانچے کو سنبھالنے میں تاریخی اور ناگزیر کردار ادا کیا۔

    پنجاب کی ‘ماس موومنٹ’ سے بندرگاہی شہر تک کی ہجرت

    پنجابی مسیحی برادری کا پس منظر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز، یعنی 1870 سے 1930 کے درمیانی برسوں میں پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور گورداسپور میں جنم لینے والی ایک بڑی سماجی و مذہبی تحریک سے جڑا ہے۔

    برطانوی راج اور معاصر جاگیردارانہ ڈھانچے کے زیر اثر، ہندو مت کے کڑے اور ظالمانہ ذات پات نظام نے اس دلت طبقے کو ‘اچھوت’ بنا کر رکھا تھا، جنہیں نہ زمین کی ملکیت کا حق حاصل تھا اور نہ ہی تعلیم کے ایوانوں میں قدم رکھنے کی اجازت۔

    اس ساختیاتی اور نسلی ذلت سے نجات اور انسانی وقار کی تلاش میں، جب برطانوی اور امریکی مشنریوں نے پنجاب کی دیہی پٹی میں اسکول اور ہسپتال قائم کیے، تو اس مظلوم طبقے نے اجتماعی سطح پر مسیحیت قبول کرنا شروع کی، جسے تاریخی اصطلاح میں ‘تبدیلی مذہب کی ماس موومنٹ’ کہا جاتا ہے۔

    مسیحیت کے دائرے میں آنے اور بنیادی تعلیم کے فروغ کے بعد، اس برادری نے نئی زندگی کی تلاش میں برطانوی حکومت کے زیر انتظام ابھرتے ہوئے صنعتی و تجارتی بندرگاہی شہر کراچی کا رخ کیا۔

    پیشوں کی تقسیم اور لیاری کے بلدیاتی کوارٹرز

    کراچی کی مٹی میں پاؤں جماتے ہی اس جفاکش برادری نے شہر قائد کی زندگی کو رواں دواں رکھنے کا کٹھن ذمہ اپنے سر لیا۔ مرد حضرات نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے تحت صفائی کے کارکنوں کے طور پر گلیوں، سڑکوں اور زیر زمین نکاسی آب کے نظام کو سنبھالا، تو دوسری طرف اس برادری کی خواتین نے تعلیم اور تربیت پر غیر معمولی توجہ مرکوز کی۔

    ان کی بیٹیوں اور بہنوں نے بڑے پیمانے پر نرسنگ اور تدریس کا پیشہ چنا، جس کے نتیجے میں کراچی کے تاریخی مشنری اسکولوں اور بڑے سرکاری ہسپتالوں، سول ہسپتال اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پنجابی مسیحی خواتین کا کردار صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔

    جغرافیائی تناظر میں، قیام پاکستان کے وقت اس برادری کا سب سے بڑا مرکز اور گڑھ لیاری کی ‘سلاٹر یارڈ روڈ’، ٹینری روڈ اور کمیلا سے ملحقہ علاقہ تھا۔ سنہ 1916 میں کراچی میونسپل کارپوریشن نے اپنے صفائی عملے کے لیے یہاں باقاعدہ پکے کوارٹرز قائم کیے تھے، جہاں نسل در نسل مقیم رہ کر اس برادری نے اپنے وجود سے اس شہر کو رونق اور صفائی بخشی۔

    1971 کا موڑ اور مہاراشٹرین دلت برادری کا داخلہ

    سنہ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے سانحے اور اس کے بعد کے برسوں میں کراچی کا آبادیاتی نقشہ تیزی سے بدلا۔ 1971 تک پنجابی مسیحی برادری کی چوتھی نسل پڑھ لکھ کر باقاعدہ متوسط طبقے کا حصہ بن چکی تھی اور وہ صفائی کے روایتی اور سخت کام کو چھوڑ کر دیگر سفید پوش پیشوں، دفتری محرر، بینکار اور اساتذہ کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔

    صفائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے اس معاشی خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف ادوار میں بھارت کے خطوں مہاراشٹر، گجرات اور کاٹھیاواڑ سے آنے والی دلت ہندو برادریوں، والمیکی اور چوہڑا برادری کی بڑی تعداد کراچی منتقل ہوئی۔ یہ لوگ زیادہ تر لیاری کے مضافاتی کوارٹرز اور کچی آبادیوں میں مقیم ہوئے اور صفائی کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے بلدیاتی اداروں میں مسیحی برادری کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ہندو صفائی کارکن بھی نظر آتے ہیں، جن کی تاریخ اسی معاشی ہجرت سے جڑی ہے۔

    تاریخی شخصیات اور جدوجہد کے باب

    پنجابی مقامی مسیحی برادری اور ان کے حقوق کی جدوجہد نے پاکستان کو ایسی نابغہ روزگار شخصیات دیں جنہوں نے قانون، مزدور تحریک، تعلیم اور انسانی حقوق میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

    جسٹس اے آر کارنیلیس

    اگرچہ ان کا تعلق براہ راست کراچی کے مزدور طبقے سے نہیں تھا، لیکن پنجاب کے اس عظیم مسیحی نژاد ماہر قانون نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کو وقار بخشا۔ وہ ملک کے چوتھے چیف جسٹس بنے اور اقلیتوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے تحفظ کے لیے ایسے فیصلہ کن نظائر قائم کیے جو آج بھی قانون کا فخر ہیں۔ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد ساتھیوں میں شامل تھے۔

    کرامت علی، مزدور رہنما

    کرامت علی بلاشبہ کراچی کی مزدور تاریخ میں صفائی کارکنوں اور اقلیتی مزدوروں کے حقوق کی سب سے توانا آواز بنے۔ اگرچہ وہ ملتان کے مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور مارکسی فکر سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد عیسیٰ نگری اور لیاری کے مسیحی اور دلت ملازمین کے معاشی تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے محنت کش طبقہ انہیں اپنا مسیحا مانتا تھا۔

    پروفیسر مائیکل جاوید

    کراچی کی مسیحی کچی آبادیوں اور بلدیاتی ملازمین کے حقوق کے عظیم علمبردار۔ انہوں نے عیسیٰ نگری اور لیاری کے کوارٹرز میں رہنے والے اقلیتی ملازمین کو پکی ملازمتیں اور کوارٹرز کے مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی معرکے لڑے اور سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

    جے چودھری

    کراچی کی مزدور تحریک کے گمنام ہیرو، جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے صفائی کارکنوں کو باقاعدہ مزدور تنظیموں کی شکل میں منظم کر کے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

    ڈاکٹر رتھ فاؤ کی صف اول کی ٹیم اور سسٹر برنارڈائن

    ڈاکٹر رتھ فاؤ کی قیادت میں ‘ماریہ ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر’ کے تحت لیاری اور ماتیلا کے گندے نالوں کے پاس جذام کے مریضوں کی خدمت کرنے والی نیم طبی عملے اور نرسوں کی ٹیم میں بڑی تعداد پنجابی مسیحی خواتین اور نوجوانوں کی تھی، جنہوں نے اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر پاکستان سے جذام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ثقافتی رنگ اور ‘دیسی مسیحیت’ کا روپ

    پنجاب سے جب یہ برادری ہجرت کر کے ساحل سمندر پر آئی، تو اپنے ساتھ پنجاب کی مٹی، زبان، لوک رنگ اور روایات بھی لے کر آئی۔ ان کی مذہبی تقریبات مغربی مسیحیت کی بجائے خالصتاً دیسی اور مقامی رنگ میں رنگی ہوتی ہیں۔

    کرسمس اور ‘تارے دا پھیرا’

    دسمبر کے آغاز سے ہی کراچی کی مسیحی بستیوں میں بانس اور چمکدار کاغذ سے ایک بہت بڑا ستارہ بنا کر گلیوں میں گھمایا جاتا ہے، جسے پنجابی میں ‘تارے دا پھیرا’ کہتے ہیں۔ نوجوان رات بھر ڈھولک کی تھاپ پر بائبل کی کتاب ‘زبور’ کے دیسی گیت گاتے ہیں۔

    ایسٹر اور روزوں کا مہینہ

    ایسٹر سے قبل چالیس روزوں کے دوران بستیوں میں سوگ اور پرہیز کا سماں ہوتا ہے۔ ‘گڈ فرائیڈے’ پر سیاہ لباس میں مرثیے نما گیت گائے جاتے ہیں، جبکہ ایسٹر کی صبح شمعیں روشن کر کے مسیح کی قیامت کا جشن منایا جاتا ہے۔

    میلاد مسیح

    مقامی مسلم آبادی کی روایات کی طرح یہ برادری بھی ‘میلاد مسیح’ کے پرشکوہ جلوس نکالتی ہے، جن میں اونٹ گاڑیاں، لاؤڈ اسپیکر اور بائبل کے مناظر سجائے جاتے ہیں۔

    آبادیاتی صورتحال اور موجودہ چیلنجز

    حالیہ مردم شماری کے مطابق کراچی میں مسیحی برادری کل آبادی کا تقریباً 2.14 سے 2.2 فیصد ہے، جو شہر کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ ان میں سے اکثریت افراد کا لسانی اور خاندانی تعلق پنجاب سے ہی ہے۔ لیاری کے پرانے کوارٹرز سے نکل کر یہ برادری اب گلشن اقبال کی ‘عیسیٰ نگری’، جو 1962 میں قائم ہوئی، اختر کالونی، محمود آباد اور کورنگی کی مسیح کالونی میں آباد ہے۔

    اگرچہ موجودہ نسل میں اعلیٰ تعلیم کا تناسب بڑھا ہے اور نوجوان معلوماتی ٹیکنالوجی، بینکاری اور کاروباری شعبے میں نام بنا رہے ہیں، لیکن یہ برادری اب بھی شدید سماجی اور سیاسی محرومیوں کا شکار ہے۔ توہین مذہب کے مبینہ الزامات کے دائم خوف اور تحفظ کے خدشات کی وجہ سے ان کی بستیوں میں ایک خاموش سہم پایا جاتا ہے۔

    مزید برآں، لیاری گینگ وار کے دور میں سلاٹر ہاؤس کے تاریخی کوارٹرز سے مسیحی خاندانوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل ہونا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس برادری کا پڑھا لکھا طبقہ اب تیزی سے کینیڈا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی طرف ہجرت کر رہا ہے۔

    کراچی کی تاریخ اس جفاکش پنجابی مسیحی برادری، ان کے معماروں اور رہنماؤں کے ذکر کے بغیر ادھوری اور بے رنگ ہے۔ انہوں نے اچھوت پن کا تاریخی داغ مٹانے کے لیے ایک نیا مذہبی راستہ چنا اور کراچی کی گلیوں کو اپنے خون پسینے سے دھونے سے لے کر ہسپتالوں میں بیمار انسانیت کی خدمت تک اس شہر کو جو تنوع اور وقار بخشا، وہ شہر قائد کا انمول اثاثہ ہے۔

    تاریخ صرف فاتحین اور بلند و بالا محل بنانے والوں کی نہیں ہوتی، بلکہ ان خاموش اور پسے ہوئے طبقوں کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے چھالوں سے تہذیبوں کی صفائی کی اور کراچی کو سچ مچ ‘روشنیوں کا شہر’ بنانے کے لیے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔

  • زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    زاویہ: کیا تاریخ کا اصل حسن بادشاہوں کے محلوں میں ہے یا عام انسان کی برابری میں؟

    ایک ایسے دور میں جب دنیا کی دیگر تہذیبیں طبقاتی اشرافیت اور خوف کے کھیلوں میں مصروف تھیں، وادی سندھ کے لوگ مٹی کے سادے پاسوں سے ایک منفرد تہذیبی روایت رقم کر رہے تھے۔ آئیے کانسی کے دور کی سیر کریں اور جانیں کہ ہڑپہ کے کھلونے آج کے انسان کو کیا سبق دیتے ہیں۔

    جب کوئی آثار قدیمہ کا طالب علم کانسی کے دور کی عظیم شہری تہذیبوں کے مادی ثقافتی شواہد کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ صرف ان کے دفاعی قلعوں، غلے کے گوداموں یا نکاسی آب کے نظام پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ ان نوادرات کو بھی دیکھتا ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی، فراغت اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

     انسان نے جب اوزار بنانا اور تانبے و کانسی کو پگھلا کر دھات گری سیکھ لی تو اسی کے ساتھ اس نے تفریح اور سماجی میل جول کے مختلف طریقے بھی اختیار کیے۔

    آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل، جب نیل کے کنارے مصر، دجلہ و فرات کے میدانوں میں میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ میں موہنجوداڑو، ہڑپہ، چنہودڑو اور لوتھل جیسے شہر اپنے عروج پر تھے، تب ان تمام تہذیبوں میں کھیل اور کھلونے انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ تھے۔

    لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے سب سے دلچسپ فرق ان تہذیبوں کے کھیلوں کی نوعیت اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد میں نظر آتا ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا سے ملنے والے کئی کھیل شاہی طبقے، مذہبی رسومات یا اشرافیہ سے وابستہ نظر آتے ہیں، جبکہ وادی سندھ سے برآمد ہونے والے بیشتر کھلونے اور کھیل عام مٹی سے تیار کیے گئے تھے، جو اس تہذیب کے روزمرہ طرز زندگی کی ایک منفرد جھلک پیش کرتے ہیں۔

    مادی ثقافت کا فرق، شاہی بورڈز اور مٹی کے کھلونے

    قدیم مصر میں فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے ہاتھی دانت، آبنوس، سونے اور نیم قیمتی پتھروں سے مزین ‘سینٹ’ کھیل کے بورڈ دریافت ہوئے۔ اسی طرح عراق میں ‘اُر کے شاہی مقبروں’ سے صدف، عقیق اور دیگر قیمتی پتھروں سے تیار کردہ ‘اُر کا شاہی کھیل’ ملا، جسے آج دنیا قدیم ترین بورڈ گیمز میں شمار کرتی ہے۔

    اس کے برعکس، جب 1921 میں ہڑپہ میں باقاعدہ کھدائی شروع ہوئی اور بعد ازاں موہنجوداڑو کی گلیاں دریافت ہوئیں تو وہاں سے بڑی تعداد میں مٹی سے بنے مہرے، چوکور پاسے، پہیوں والی گاڑیاں، جانوروں کے کھلونے اور دیگر ٹیراکوٹا نوادرات برآمد ہوئے۔ یہ اشیا دریا کی باریک مٹی سے تیار کر کے بھٹی میں پکائی گئی تھیں۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر کے مطابق ہڑپہ کے ٹیراکوٹا کھلونوں کی تیاری اعلیٰ درجے کی مہارت کی عکاس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی کے یہ کھلونے صرف بچوں کی دل بہلانے کی چیزیں نہیں تھے بلکہ اس تہذیب کی دستکاری اور فنی مہارت کا بھی اظہار تھے۔

    کھیل اور معاشرہ

    آثار قدیمہ میں کسی نوادر کی جگہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔ مصر اور میسوپوٹیمیا میں کئی قیمتی کھیل شاہی مقبروں اور اشرافیہ سے وابستہ مقامات سے ملے ہیں، جبکہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ میں مٹی کے پاسے اور کھیلوں کے آثار عام رہائشی علاقوں، صحنوں، گلیوں اور دکانوں کے قریب بھی دریافت ہوئے ہیں۔

    سر جان مارشل نے اپنی کتاب ‘موہنجوداڑو اینڈ دی انڈس سیولائزیشن’ میں ان دریافتوں کا ذکر کیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق ان شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کھیل صرف محدود طبقے تک محدود نہیں تھے بلکہ شہری زندگی کا حصہ تھے، اگرچہ اس بارے میں قطعی نتائج اخذ کرنا ممکن نہیں۔

    اگر ہم ان آثار کو سامنے رکھ کر ایک تاریخی منظر کا تصور کریں تو شاید شام کے وقت موہنجوداڑو کی کسی گلی یا صحن میں لوگ مٹی کے پاسوں اور مہروں کے ساتھ وقت گزارتے ہوں گے۔ یہ تصور آثار قدیمہ کے شواہد سے متاثر ضرور ہے، تاہم اس کی مکمل تاریخی تصدیق ممکن نہیں۔

    کھیل اور عقائد

    برٹش میوزیم کے ماہر ڈاکٹر ارونگ فنکل کے مطابق مصر کا مشہور کھیل ‘سینٹ’ وقت کے ساتھ مذہبی تصورات سے بھی وابستہ ہو گیا تھا، جبکہ میسوپوٹیمیا میں ‘اُر کے شاہی کھیل’ کے بارے میں بھی بعض محققین کا خیال ہے کہ اس کے بعض مذہبی یا فال گیری سے متعلق پہلو موجود تھے۔

    اس کے برعکس، وادی سندھ سے ملنے والے پاسوں اور کھیلوں پر اب تک ایسے واضح مذہبی مناظر یا تحریری شواہد نہیں ملے جو انہیں کسی مخصوص مذہبی رسم یا بعد از موت عقائد سے براہ راست جوڑتے ہوں۔ اس لیے بیشتر ماہرین انہیں بنیادی طور پر کھیل اور تفریح سے متعلق اشیا تصور کرتے ہیں۔

    ہڑپہ سے ملنے والے چوکور پاسوں پر ایک سے چھ تک نقطوں کی ترتیب آج کے جدید پاسوں سے خاصی مشابہت رکھتی ہے۔ یہ اس تہذیب کی ریاضیاتی ترتیب، پیمائش اور معیاری کاری کی مہارت کی ایک اور مثال سمجھی جاتی ہے۔

    بچوں کے لیے بنائے گئے مٹی کے بندر، پہیوں والی گاڑیاں، جانور اور سیٹی نما پرندے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کھلونوں کی ایک متنوع روایت موجود تھی۔ ان میں بعض ایسے کھلونے بھی شامل ہیں جن میں حرکت پیدا کرنے کے سادہ میکانیکی طریقے استعمال کیے گئے تھے۔

    عجائب گھروں کی گواہی

    آج برٹش میوزیم، نیشنل میوزیم آف انڈیا اور پاکستان کے مختلف عجائب گھروں میں محفوظ وادی سندھ کے کھلونے، مٹی کے پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور دیگر نوادرات اس تہذیب کی روزمرہ زندگی کی اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی سندھ کی کھدائیوں سے بڑی تعداد میں کھلونے، مہریں، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا ملی ہیں، جبکہ مصر اور میسوپوٹیمیا کی طرح شاہی فتوحات یا جنگی عظمت کی نمائندگی کرنے والی یادگاریں نسبتاً کم سامنے آئی ہیں۔ اسی بنا پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وادی سندھ کی شناخت زیادہ تر شہری منصوبہ بندی، تجارت، دستکاری اور روزمرہ شہری زندگی سے وابستہ تھی۔

    وادی سندھ کا سبق

    تاریخ صرف عظیم محلات، بلند اہرام یا قیمتی نوادرات کا نام نہیں۔ بعض اوقات ایک مٹی کا کھلونا بھی اپنے عہد کے بارے میں اتنا کچھ بتا دیتا ہے جتنا ایک شاہی محل نہیں بتا سکتا۔

    ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے ملنے والے مٹی کے سادہ پاسے، پہیوں والی گاڑیاں اور بچوں کے کھلونے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایک عظیم تہذیب کی پہچان صرف اس کی دولت نہیں بلکہ اس کی شہری زندگی، دستکاری، تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ انسانی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

    ساڑھے چار ہزار سال گزرنے کے باوجود یہ مٹی کے کھلونے آج بھی خاموشی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ تہذیبوں کی اصل طاقت صرف ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی ہوتی ہے جنہوں نے انہیں آباد کیا۔

  • زاویہ: ایڈہاک ازم کی موت اور پاکستان کا انرجی بحران: متبادل راستوں کی تزویراتی ضرورت، اب نہیں تو کبھی نہیں

    زاویہ: ایڈہاک ازم کی موت اور پاکستان کا انرجی بحران: متبادل راستوں کی تزویراتی ضرورت، اب نہیں تو کبھی نہیں

    اگر آپ کو بین الاقوامی تعلقات اور جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں یہ سمجھنا ہو کہ کوئی تزویراتی طور پر انتہائی اہم، ایٹمی صلاحیت سے لیس اور چوبیس کروڑ کی آبادی والا ملک کس طرح بیرونی حملوں کے بغیر، محض اپنے ہی فیصلوں اور مجرمانہ پالیسیوں کے ذریعے خود کو معاشی طور پر مفلوج کر سکتا ہے، تو آپ کو کسی اور ملک کی نہیں بلکہ پاکستان کی انرجی پالیسی کی پچھلی ستر سالہ تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔

    جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا، سسکتا ہوا مہینہ جہاں ایک طرف ملکی معیشت کے پھیپھڑوں سے آخری سانسیں نچوڑ رہا ہے، وہیں دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بھڑکنے والی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ تہران پر امریکی بمباری کے شعلے اور خلیجِ فارس میں بحری ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل کو چھو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی محض 15 روزہ سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے سسکیاں لی جا رہی ہیں۔

    لیکن افسوسناک اور شرمناک امر یہ ہے کہ اس انتہائی ہنگامی حالت اور وجودی خطرے کے دوران بھی ہماری مقتدرہ، مصلحت پسند اشرافیہ اور کٹھ پتلی حکمران طویل مدتی حل تلاش کرنے کے بجائے ‘ڈے ٹو ڈے’، روزمرہ، کے عارضی فیصلوں، فائر فائٹنگ اور اشتہاری تسلیوں میں مصروف ہیں۔

    مجرمانہ تضاد اور موقع پرستی کا لامتناہی چکر

    پاکستان کا انرجی سیکٹر گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک سنگین اور مجرمانہ تضاد کا شکار رہا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو ہر چند سال بعد خود کو دہراتا ہے، لیکن ہماری مقتدر قوتیں اس سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب بھی عالمی منڈی میں کسی بحران کے باعث پٹرول اور بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور ملکی عوام سڑکوں پر آنے لگتے ہیں، تو حکمران طبقے کی جانب سے یکدم انقلابی بیانیے داغے جاتے ہیں۔

    روس سے سستا خام تیل منگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، وسطی ایشیا کے قدرتی خزانوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ‘تاپی’، ٹی اے پی آئی، گیس پائپ لائن کو گیم چینجر قرار دیا جاتا ہے، اور پڑوسی ملک ایران سے سستی بجلی اور گیس درآمد کرنے کے غلغلے بلند کر کے عوام کو لوریاں دی جاتی ہیں۔

    لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جوں ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں عارضی طور پر چند ڈالر نیچے آتی ہیں، مقتدر حلقے اور بیوروکریسی سکھ کا سانس لے کر ان تمام طویل مدتی اور سستے منصوبوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ دوبارہ اسی مہنگے خلیجی تیل اور ایل این جی، ایل این جی، پر انحصار شروع کر دیتے ہیں جو ہماری معیشت کا دم نکال رہا ہے۔

    اس تزویراتی سستی، ذہنی غلامی اور مجرمانہ غفلت کے پیچھے کوئی اتفاقی عوامل نہیں ہیں، بلکہ دو انتہائی طاقتور اور بااثر مہروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ ایک طرف عالمی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف، اور واشنگٹن کا سفارتی و سیاسی دباؤ ہے، اور دوسری طرف ملک کے اندر جڑیں جمائے بیٹھا وہ طاقتور ‘آئل کارٹل اور ریفائنری مافیا’ ہے جو ملکی بقا پر اپنے ذاتی منافع کو ترجیح دیتا ہے۔

    واشنگٹن کی ڈکٹیشن اور آئی ایم ایف کا طوق

    اس خطرناک گٹھ جوڑ کا پہلا اور سب سے بڑا مہرہ آئی ایم ایف اور اس کے پیچھے کھڑے مغربی سرپرست ہیں۔ پاکستان کی معیشت چونکہ دہائیوں سے قرضوں کے وینٹی لیٹر پر ہے اور ہمارا پورا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگراموں کے رحم و کرم پر چل رہا ہے، اس لیے واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد کے مقتدر حلقوں کو ہمیشہ یہ غیر تحریری لیکن انتہائی سخت ڈکٹیشن دی جاتی ہے کہ وہ روس، ایران یا کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ طویل مدتی تزویراتی تجارتی روابط استوار نہ کریں جو امریکہ کے عالمی نقشے پر حریف تصور کیے جاتے ہیں۔

    یوکرین جنگ کے بعد روس پر عائد کی جانے والی مغربی پابندیوں کا طوق پاکستان کے گلے میں اس طرح ڈالا گیا کہ ہم نے روس سے سستا تیل منگوانے کے چند علامتی، نمائشی اور ‘فوٹو سیشن’ نما تجربات تو کیے، لیکن آئی ایم ایف اور واشنگٹن کی ناراضگی کے خوف سے اسے کبھی ایک مستقل، قانونی، سستی اور سب سے بڑھ کر ایک وسیع سپلائی لائن میں تبدیل کرنے کی تزویراتی جرات نہیں دکھائی۔

    جب کسی ریاست کی معاشی اور تجارتی پالیسیاں اس کے اپنے پچیس کروڑ عوام کے مفاد کے بجائے واشنگٹن اور برسلز کے تزویراتی اشاروں پر مرتب کی جائیں گی، تو اس ملک کا انرجی سیکٹر اسی طرح مفلوج رہے گا اور عوام مہنگی بجلی کے بلوں کی شکل میں اس غلامی کا تاوان بھرتے رہیں گے۔

    اندرونی آئل کارٹل اور بوسیدہ ریفائنریز کی بلیک میلنگ

    اس گٹھ جوڑ کا دوسرا، زیادہ سفاک اور مہلک مہرہ ملک کا داخلی آئل کارٹل اور درآمدی مافیا ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی آئل ریفائنریز کا تکنیکی ڈھانچہ دہائیوں پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے، جو صرف خلیجی ممالک، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، سے آنے والے ہلکے خام تیل، لائٹ کروڈ، کو صاف کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    اس کے برعکس، روس کا خام تیل نسبتاً بھاری، ہیوی کروڈ، ہوتا ہے، جسے صاف کرنے اور اس سے زیادہ مقدار میں پٹرول اور ڈیزل نکالنے کے لیے ان ریفائنریز کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے فوری طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    لیکن ملکی آئل مافیا، درآمد کنندگان اور وہ مڈل مین جو خلیجی تیل کی درآمد کے سودوں میں اربوں روپے کا خفیہ کمیشن، کِک بیکس اور منافع کماتے ہیں، اس اپ گریڈیشن پر اپنی جیب سے ایک ٹکا لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ مقتدرہ اور حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر روسی تیل مستقل بنیادوں پر لایا گیا تو ملکی ریفائنریز بند ہو جائیں گی اور ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

    نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان مافیاز کی تجوریاں روز بروز بھرتی رہتی ہیں اور ان کی فرسودگی کا پورا بوجھ نیپرا اور اوگرا کے ذریعے بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں غریب عوام کی جیبوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

    وسطی ایشیا کا خواب اور ناقص افغان پالیسی کی قربانی

    انرجی سیکیورٹی کا دوسرا بڑا متبادل وسطی ایشیا کا تزویراتی روٹ ہے، جو بدقسمتی سے ہماری ناقص، غیر مستحکم اور مصلحت پسند خارجہ و دفاعی پالیسی کی نذر ہو چکا ہے۔ ترکمانستان، قازقستان اور ازبکستان کے پاس دنیا کے امیر ترین قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کو انتہائی سستے داموں فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے افغانستان کا پرامن اور مستحکم ہونا، اور اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کا خوشگوار ہونا پہلی اور بنیادی شرط ہے۔

    سفارتی محاذ پر ہماری مقتدرہ نے ہمیشہ طویل مدتی پالیسی کے بجائے ‘ڈے ٹو ڈے’ کی بنیاد پر افغان سرحد سے متعلق حکمتِ عملی بدلی، جس کا خمیازہ آج ہمیں کابل اور اسلام آباد کے مابین شدید سرد مہری، سیکیورٹی تلخی اور بنوں جیسے سرحد پار دہشت گردی کے پے در پے حملوں کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    جب تک ہماری مغربی سرحد پر بندوقیں خاموش نہیں ہوں گی اور ہم کابل کے ساتھ ایک پائیدار سیکیورٹی معاہدہ قائم نہیں کریں گے، تب تک دنیا کا کوئی بھی بڑا بین الاقوامی مالیاتی ادارہ وسطی ایشیا سے پاکستان تک آنے والے اربوں ڈالر کے انرجی اور پائپ لائن منصوبوں میں ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا رسک بھی نہیں لے گا۔

    اب نہیں تو کبھی نہیں

    مشرقِ وسطیٰ میں چھڑنے والی ایران، امریکہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے پاس ‘ایڈہاک ازم’، عارضی اقدامات اور مصلحت پسندی کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی روایتی اسٹیٹس کو، اسٹیٹس کو، کے تحت اسی تساہل اور غلامانہ رویے کو برقرار رکھا گیا، تو خلیجی سپلائی لائن میں ذرا سا تعطل اور بجلی کے بلوں کا حالیہ بحران مل کر ملک کے طول و عرض میں ایک ایسی سویلین انارکی، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کو جنم دے گا، جسے سنبھالنا پھر کسی بھی سیکیورٹی فورس یا ادارے کے بس میں نہیں رہے گا۔

    اس ہولناک دلدل سے نکلنے کا واحد، حتمی اور تزویراتی حل یہ ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ ‘خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل’، ایس آئی ایف سی، کے بااختیار فورم کا فائدہ اٹھائے۔ روزمرہ کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، مقدمات اور عارضی لڑائیوں سے باہر نکل کر ملک کی بقا کا ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ کیا جائے۔

    آئی ایم ایف اور واشنگٹن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے انہیں یہ دوٹوک اور غیر مبہم پیغام دیا جائے کہ روس، ایران اور وسطی ایشیا سے سستا ایندھن لانا اب پاکستان کی جغرافیائی اور معاشی بقا کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی، ملکی آئل ریفائنریز پر ریاست کی رِٹ، رٹ، قائم کی جائے اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر روسی اور دیگر سستے خام تیل کو صاف کرنے کے قابل بنانے کے لیے الٹی میٹم دیا جائے۔

    اگر مقتدرہ نے اب بھی اس جرات کا مظاہرہ نہ کیا، تو روزمرہ کی بنیاد پر لگی چھوٹی موٹی آگ بجھاتے بجھاتے ایک دن یہ پورا نظام ہی اس انرجی بحران کی ہولناک آگ کی نذر ہو جائے گا، اور تاریخ کے صفحات پر اس مجرمانہ غفلت کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

  • زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

    تاریخ اقوام عالم کے سامنے بعض اوقات ایسے کڑے، بے رحم اور سفاک لمحات آتے ہیں جہاں تساہل کی گنجائش اور غلطی کا مارجن صفر ہو جاتا ہے۔

    جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا مہینہ پاکستان کے لیے ایک ایسے ہی تاریخی، تزویراتی اور جغرافیائی امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں ’چٹانوں کا عالمی دن‘ منایا گیا، جو ہمیں دھرتی کے مضبوط، غیر متزلزل اور قدیم جغرافیائی ڈھانچے کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف خود پاکستان کا جغرافیہ اس وقت ایک دم گھونٹ دینے والے تزویراتی شکنجے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے ’بیک وقت کئی محاذوں پر پھیلے بحران‘ کا شکار ہے، جہاں اس کی اندرونی سیاست مفلوج، معیشت وینٹی لیٹر پر اور سرحدیں بارود کی بو سے بوجھل ہیں۔ اس تاریک سرنگ میں اب سویلین قیادت کی بے بسی اور بے اختیاری پوری طرح عیاں ہو چکی ہے، اور اب فیصلہ کن گیند مکمل طور پر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں آ گری ہے۔

    مقتدرہ کو اب اپنی روایتی انا اور مائیکرو مینیجمنٹ کی پالیسی کو پس پشت ڈال کر نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بلکہ بیرونی محاذ پر برادر ملک سعودی عرب کے تاریخی و معتبر کردار کو بروئے کار لا کر ملک کو اس تاریخی دلدل سے نکالنا ہوگا۔

    جغرافیائی شکنجہ چار متحرک اور خطرناک محاذ

    اگر ہم پاکستان کے موجودہ جغرافیائی و سیاسی نقشے پر نگاہ دوڑائیں، تو ہمارا ملک اس وقت چار انتہائی متحرک اور مہلک محاذوں کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    جنوب مغربی محاذ ایران امریکہ جنگ کا ہولناک سایہ

    پہلا اور سب سے بڑا تزویراتی دھچکا ہمارے جنوب مغرب میں پڑوسی ملک ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی تازہ ترین ہولناک جنگ ہے۔ جون 2026 میں ہونے والے ’اسلام آباد جنگ بندی معاہدے‘ کے ٹوٹنے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ساحلی شہروں پر فضائی حملوں نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز میں خلیجی ممالک کے آئل ٹینکرز اور بحرین و اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے پاکستان کو براہ راست لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    اس جنگ کا سب سے مہلک اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کو ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کا کمر توڑ اضافہ کرنا پڑا ہے۔

    اس بیرونی جھٹکے نے ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان نوح کھڑا کیا ہے جس نے عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ مزید برآں، فرنس آئل اور درآمدی گیس کی سپلائی معطل ہونے سے ملک کا توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، طویل لوڈشیڈنگ نے صنعتی پہیے کو جام کر دیا ہے، اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حالیہ سخت پروگرام کے اہداف بھی کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس محاذ پر پاکستان کی بقا صرف اور صرف ’سخت اور غیر متزلزل غیر جانبداری‘ میں ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا یا اپنی فضائی حدود کی فراہمی بلوچستان کے حساس بارڈر پر جنگ کی ایک نئی آگ بھڑکانے کے مترادف ہوگا۔

    مغربی محاذ کابل سے تلخی اور زیرو ٹولرینس

    دوسرا فعال محاذ ہماری مغربی سرحد یعنی افغانستان کا ہے۔ کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملے کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملنے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی و عسکری تلخی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

    پاکستان کی عسکری قیادت اب اپنی دہائیوں پرانی ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کی روایتی پالیسی کو دفن کر کے ’زیرو ٹولرینس‘ کا جارحانہ اصول اپنا چکی ہے۔ طورخم اور چمن بارڈرز پر سخت ترین سکیورٹی ضابطے نافذ ہیں اور بغیر پاسپورٹ و ویزا کے افغان شہریوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کو اس مغربی محاذ پر اپنے قلیل عسکری اور مالی وسائل جھونکنے پڑ رہے ہیں تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر ملک دشمن گروہوں کے حملوں کا راستہ روکا جا سکے۔

    تزویراتی ماہرین کو یہ شدید تشویش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا فائدہ اٹھا کر پاکستان مخالف قوتیں مغربی سرحد پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں تاکہ پاک فوج کی توجہ اور دفاعی وسائل کو تقسیم کیا جا سکے۔

    مشرقی محاذ روایتی حریف کی گھات

    تیسرا محاذ مشرق میں روایتی حریف بھارت کا دیرینہ عناد ہے، جو ہمیشہ سے پاکستان کی اندرونی سیاسی کمزوری اور مغربی سرحدوں پر مصروفیت کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان اندرونی طور پر کمزور اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا، مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ایڈونچر ازم کا خطرہ دوچند ہو گیا۔

    اندرونی محاذ سیاسی انتشار اور معاشی مفلوجگی

    لیکن ان تمام بیرونی محاذوں سے زیادہ مہلک اور ہولناک چوتھا محاذ خود پاکستان کا مرکز یعنی اس کا اندرونی سیاسی اور معاشی خلفشار ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہوگا، کوئی بھی ریاست بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

    موجودہ سویلین حکمران اتحاد اور حقیقی اپوزیشن کے مابین نفرتیں اور خلیج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ ملکی بقا کے لیے کسی ایک میز پر بیٹھنے یا عارضی ’سیاسی جنگ بندی‘ کرنے پر بھی راضی نہیں ہیں۔ سویلین قیادت اس وقت عوامی مقبولیت کے بدترین بحران اور شدید دھڑے بندی کا شکار ہے، جس سے پورا نظام حکومت مفلوج ہو چکا ہے۔ عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے اور اپوزیشن مہنگائی کو ڈھال بنا کر ملک گیر احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہے۔

    بند گلی سے نکلنے کا راستہ سیاسی فراخدلی

    ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تزویراتی بند گلی سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واحد، حتمی اور معروضی جواب یہ ہے کہ اب گیند مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں ہے۔ چونکہ سویلین پارٹیاں اپنی سیاسی بقا، نظریاتی دشمنیوں اور ووٹ بینک کے خوف سے طویل مدتی یا کڑوے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو خود آگے بڑھ کر ایک ’معاشی اور سیاسی منتظم‘ کا تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

    لیکن اس کے لیے مقتدرہ کو اپنا روایتی طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ انہیں اب انتہائی ’فراخدلی‘ کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود ملک کی حقیقی اپوزیشن اور عوامی نمائندوں کے ساتھ پس پردہ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔

    اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر، یا انہیں سیاسی عمل سے زبردستی باہر رکھ کر بنایا گیا کوئی بھی ’قومی ایجنڈا‘ یا ’میثاق معیشت‘ عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا، اور ملک اسی طرح دائروں کے بے سود سفر میں بھٹکتا رہے گا۔ ملک کو اس وقت انتقام سے پاک ایک ’سیاسی عام معافی‘ اور تمام متعلقہ فریقوں کے مابین ایک طویل مدتی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

    سعودی عرب کا کردار معتبر ضامن اور تزویراتی شراکت دار

    اس اندرونی فراخدلی کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو اس معاشی و سیاسی دلدل سے نکالنے کے لیے بیرونی طور پر سب سے معتبر چابی برادر ملک ’سعودی عرب‘ کے پاس ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قیادت اور اہم متعلقہ فریقوں کے درمیان ڈیڈ لاک ناقابل حل ہوا، تو ریاض نے ہمیشہ ایک مخلص ’بڑے بھائی‘ اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

    موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا مستحکم ہونا خود سعودی عرب کے اپنے مفاد میں ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے سائے میں سعودی عرب کو اپنی آئل تنصیبات اور اندرونی سلامتی کے حوالے سے شدید تزویراتی خدشات لاحق ہیں۔ اس ہولناک جنگی ماحول میں پاکستان کی ایٹمی پوزیشن اور اس کی مضبوط روایتی عسکری قوت ہی وہ واحد دفاعی حصار اور ’ایٹمی چھتری‘ ہے جس پر خلیجی ممالک انحصار کر سکتے ہیں۔ ایک کمزور، ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مگر معاشی طور پر مفلوج پاکستان خود سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے۔

    علاوہ ازیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے پروگرام ’ویژن 2030‘ کے تحت پاکستان کے کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر سیاسی ہیجان اور امن و امان کا بحران ختم نہ ہوا، تو ان کی یہ تمام تر سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔

    چنانچہ، اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو اس سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے بطور ثالث استعمال کرے۔ سعودی قیادت کا احترام پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، حکمران جماعتوں اور حقیقی اپوزیشن، تینوں کے ہاں بلا تفریق پایا جاتا ہے۔ اگر سعودی عرب پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ پیکج دینے کے ساتھ یہ دوستانہ شرط عائد کرے کہ وہ تمام حقیقی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر دیکھنا چاہتا ہے، تو پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور ملک میں ایک طویل مدتی سیاسی جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔

    جیسا کہ کارونجھر کی چٹانوں کے بارے میں تھر کے تھری لوگ کہتے ہیں کہ ’کارونجھر سونا دیتا ہے‘ کیونکہ وہ پہاڑ ان کی زندگی، روزگار اور پانی کے ذخائر کا ضامن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا تزویراتی جغرافیہ اور اس کا دفاعی مقام بھی ہمارا سب سے قیمتی اور بیش بہا اثاثہ ہے، بشرطیکہ ہم اسے اندرونی لڑائیوں اور انتقام کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے عقل و دانش سے استعمال کریں۔

    چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ آفاقی سبق یاد رکھنا چاہیے کہ جو قومیں اندرونی طور پر چٹان کی طرح مضبوط اور متحد نہیں ہوتیں، بیرونی طوفانی ہوائیں ان کے وجود کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر لے جاتی ہیں۔

    پاکستان کے پاس اب مزید سیاسی تجربات، بند کمروں کے فیصلوں، انتقامی سیاست یا اندرونی خلفشار کی گنجائش قطعی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن چال چلنی ہوگی۔ انہیں سویلین قیادت کی مصلحت پسندی اور بے بسی کو بالائے طاق رکھ کر خود ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا، حقیقی اپوزیشن کے لیے اپنے دروازے کھولنے ہوں گے اور سعودی عرب کی باوقار ضمانت میں ایک ایسا ’میثاق پاکستان‘ تشکیل دینا ہوگا جو اگلے دس سال کے لیے ملک کی معاشی اور خارجہ پالیسی کو روزمرہ کی گندی سیاست کی دست برد سے محفوظ کر دے۔

    اگر آج یہ موقع گنوا دیا گیا، تو ایران کی جنگ، افغانستان کا تناؤ اور اندرونی مہنگائی کا یہ بھیانک طوفان پاکستان کو ایک ایسے تاریک گڑھے کی طرف دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور تاریخ کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔