ملیر کی مٹی پر ایک بار پھر بلڈوزر چلے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بلڈوزر کسی خالی زمین پر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی صدیوں پرانی شناخت پر چلے ہیں، جس کے آباؤ اجداد اس وقت ملیر ندی کے کنارے آ کر آباد ہوئے تھے جب یہاں نہ شاہراہیں تھیں، نہ ایکسپریس وے، نہ پل، نہ ریلوے، نہ بڑے بڑے منصوبے، نہ ہاؤسنگ اسکیمیں اور نہ طاقت و اختیار کا وہ نظام جو آج ملیر کی زمینوں کے گرد کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت یہاں صرف زمین تھی، درخت تھے، کھیت تھے، باغ تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے اور انسان تھے۔ ان لوگوں کے پاس سب سے بڑی دولت ان کی زمین تھی۔
صدیاں گزر گئیں۔ ملیر بدل گیا۔ زمین پر کنکریٹ کے جنگل اُگ آئے، شاہراہیں بنیں، پل تعمیر ہوئے، ریل گاڑیاں دوڑنے لگیں، بڑے منصوبے آئے، ہاؤسنگ اسکیمیں اور صنعتیں پھیلیں، لیکن ایک چیز نہیں بدلی، مقامی لوگوں کا اپنی زمین سے رشتہ۔
مگر اب یہی رشتہ خطرے میں ہے۔
عظیم دہقان اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہے کہ اس کے بزرگوں نے یہ زمین کیسے بچائی ہوگی؟ اس کے باپ نے اس مٹی میں کون سے خواب بوئے ہوں گے؟ ان درختوں کو کس نے لگایا ہوگا؟ ان قبروں میں کون سو رہا ہے؟ اور آج وہ اپنی ہی زمین پر اتنا بے بس کیوں ہے؟
اس کے سامنے کھیت لہلہا رہے تھے، درخت ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے اور پرندے چہچہا رہے تھے، لیکن شاید عظیم دہقان کی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھیں جو اگلے ہی روز حقیقت بننے والا تھا۔
اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک روز پہلے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شاید اگلے دن اس کے آباؤ اجداد کی قبریں، کھیت، باغ، درخت اور پرندوں کے گھونسلے باقی نہ رہیں۔
ساتھیوں کے پاس جواب تھا، مذمت کریں گے۔ بس، مذمت۔ پھر خاموشی۔
مگر زمین کو صرف مذمت نہیں، تحفظ چاہیے۔ بے دخل ہونے والے انسان کو صرف بیان نہیں، ساتھ چاہیے۔ اور جب بلڈوزر زمین کی طرف بڑھیں تو صرف موبائل کیمرہ نہیں، مزاحمت کی آواز بھی چاہیے۔
اگلے روز مشینیں واقعی پہنچ گئیں۔ انتظامیہ پہنچی، پولیس پہنچی اور بھاری مشینری بھی پہنچ گئی۔ پھر وہ ہوا جو ایک آباد انسان کے لیے شاید اس کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔
بلڈوزر چلنے لگے۔ کھیت اجڑنے لگے۔ باغ متاثر ہونے لگے۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے اور زمین کے سینے پر مشینوں کے دانت چلنے لگے۔
ایک طرف عظیم دہقان اور اس کے خاندان کی فریادیں تھیں، دوسری طرف مشینوں کا شور۔ ایک طرف نسلوں کی محنت تھی، دوسری طرف سرکاری اختیار۔ ایک طرف ایک خاندان اپنی زمین بچانے کی کوشش کر رہا تھا، دوسری طرف ایک بڑا ترقیاتی منصوبہ۔
اس کارروائی کے دوران عظیم دہقان سمیت اس کے بعض رشتہ داروں کی گرفتاری کی خبر بھی سامنے آئی۔
سرکاری مؤقف کے مطابق یہ زمین شاہراہ بھٹو کے انٹرچینج کے لیے درکار تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ زمین کی قیمت کے حوالے سے مذاکرات ہوئے اور رقم بھی طے کی گئی، تاہم زمین خالی نہ کرنے کی وجہ سے کارروائی کرنا پڑی۔
اگر سرکاری مؤقف یہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کا مطلب کیا یہ ہے کہ زمین کے مالک کو اپنی ہی دھرتی پر بے دخل اور گرفتار کر دیا جائے؟
کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کی میز کے بجائے بلڈوزر آگے بھیج دیے جائیں؟
اور اگر زمین کی قیمت طے ہو چکی تھی تو تمام کھاتہ داروں کے حقوق، ملکیت کے حصے اور معاوضے کے معاملات شفاف طریقے سے حل کیوں نہیں کیے گئے؟
عظیم دہقان سرکاری مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ قانون، سرکاری ریکارڈ اور عدالتیں کریں گی۔ لیکن ایک حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ایک انسان اپنی زمین پر بے بس کھڑا تھا اور اس کے سامنے اس کی دنیا اجاڑی جا رہی تھی۔
یہ صرف عظیم دہقان کا مسئلہ نہیں۔ یہ ملیر کا مسئلہ ہے۔ یہ ان تمام مقامی لوگوں کا مسئلہ ہے جو اپنی آبائی زمینوں پر آج بھی ملکیت کا حق رکھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ اپنی ہی دھرتی پر اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔
آخر ملیر کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟
ایک طرف زرعی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف باغ اجڑ رہے ہیں۔ درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ نئے نئے منصوبے آ رہے ہیں اور مقامی لوگ اپنے حقوق کے لیے مختلف اداروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔
یہ ترقی ہے یا بے دخلی کا نیا ماڈل؟
اگر شاہراہ ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر انٹرچینج ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر شہر کو ترقی چاہیے تو ترقی کریں۔ لیکن ترقی کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو مٹا کر ترقی نہ کی جائے۔
جس شخص کی زمین لی جائے، اس سے عزت سے بات کی جائے۔ اس کے قانونی حقوق محفوظ کیے جائیں۔ معاوضہ شفاف اور منصفانہ ہو۔ ماحولیاتی نقصان کا حساب رکھا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ مقامی انسان کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اپنی ہی دھرتی پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
لیکن افسوس، منتخب نمائندے کہاں ہیں؟
جس عظیم دہقان سے ووٹ لیا گیا، اس کی فریاد سننے کون پہنچا؟ جس خاندان کی زمین اجڑی، اس کے ساتھ کون کھڑا ہوا؟ جن درختوں اور باغات پر بلڈوزر چلے، ان کے تحفظ کے لیے اسمبلی میں کس نے آواز اٹھائی؟
جس ملیر سے ووٹ لے کر اقتدار کے ایوان آباد کیے گئے، اسی ملیر کے مقامی لوگوں کے لیے اقتدار کے دروازوں پر کتنے راستے کھلے ہیں؟
انتخابات کے وقت عوام مالک ہوتا ہے، لیکن انتخابات کے بعد یہی عوام اتنا بے بس کیوں ہو جاتا ہے؟
یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں۔ یہ سوال اپوزیشن سے بھی ہے۔ یہ سوال منتخب نمائندوں سے بھی ہے۔ اور یہ سوال ان تمام سیاسی رہنماؤں سے ہے جو ملیر کے نام پر سیاست کرتے ہیں، مگر ملیر کی زمین پر بلڈوزر چلتے وقت ان کی آواز کیوں گم ہو جاتی ہے؟
عظیم دہقان آج شاید اکیلا ہے، لیکن یہ سمجھنا خطرناک ہوگا کہ معاملہ صرف ایک خاندان تک محدود ہے۔
آج اس کا کھیت ہے، کل کسی اور کا باغ ہو سکتا ہے۔ آج اس کا درخت ہے، کل کسی اور کی زمین ہو سکتی ہے۔ آج اس کا گھر ہے، کل کسی اور کا گھر بھی اسی خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔
کیونکہ زمین کی بھوک کی کوئی حد نہیں۔
جب زمین کو صرف پلاٹ، اسکیم، منصوبہ اور قیمت سمجھا جائے گا تو سب سے پہلے وہ انسان خطرے میں آئے گا جو صدیوں سے اس زمین سے جڑا ہوا ہے۔
ملیر کے اصل باشندے صرف زمین کے مالک نہیں، وہ ملیر کی تاریخ کے وارث ہیں۔ ان کے کھیت ملیر کی شناخت ہیں۔ ان کے باغ ملیر کے حسن کا حصہ ہیں۔ ان کے درخت ماحول کے محافظ ہیں اور ان کے قبرستان اس سرزمین کی تاریخ کی کتابیں ہیں۔
ان زمینوں اور باغات کو مٹا کر ملیر کو جدید بنانے کا دعویٰ دراصل ملیر کی روح کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں ایسا ملیر چاہیے جہاں صرف کنکریٹ ہو، یا ایسا ملیر جہاں شاہراہ بھی ہو اور کھیت بھی بچیں؟ جہاں پل بھی ہوں اور درخت بھی سلامت رہیں؟ جہاں انٹرچینج بھی ہو اور مقامی انسان کا حق بھی محفوظ ہو؟ جہاں ترقی بھی ہو اور دھرتی کا احترام بھی؟
کیوں کہ شاہراہیں دوبارہ بن سکتی ہیں، عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، لیکن صدیوں کی تاریخ دوبارہ پیدا نہیں کی جا سکتی۔
ایک کٹا ہوا درخت دوبارہ اسی عمر تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لے سکتا ہے۔ ایک اجڑا ہوا باغ صرف چند درختوں کا نقصان نہیں۔ ایک قبرستان صرف قبروں کا مجموعہ نہیں۔ اور کسی دہقان کو اس کی زمین سے بے دخل کرنا صرف ملکیت کا معاملہ نہیں، یہ اس کی شناخت، عزت اور نسلوں کی تاریخ کا معاملہ بھی ہے۔
ملیر کو خاموش تماشائیوں کی ضرورت نہیں۔ ملیر کو سوال کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ملیر کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو ووٹ لینے کے بعد بھی عوام کے درمیان کھڑے نظر آئیں۔ ملیر کو ایسی انتظامیہ چاہیے جو قانون نافذ کرے، طاقت کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور ملیر کو ایسی ترقی چاہیے جو انسان کو اجاڑے نہیں، بلکہ انسان کے لیے راستہ بنائے۔
عظیم دہقان کی زمین پر بلڈوزر شاید چند گھنٹوں میں گزر گئے، لیکن ان بلڈوزروں نے ایک بہت بڑا سوال چھوڑ دیا ہے۔
آخر ملیر کس کا ہے؟
ان لوگوں کا جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں؟ یا ان کا جو طاقت، سرمایہ اور اختیار کے ساتھ آتے ہیں اور دھرتی کو صرف ایک نمبر، ایک فائل اور ایک قیمت میں تبدیل کر دیتے ہیں؟
یہ سوال آج جواب مانگتا ہے۔ کیوں کہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی۔
آج عظیم دہقان اپنی اجڑی ہوئی زمین کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے درخت خاموش ہیں۔ اس کے پرندے اُڑ چکے ہیں۔ اس کے کھیت مٹا دیے گئے ہیں اور اس کے آباؤ اجداد کی دھرتی جیسے پوچھ رہی ہے: ‘مجھے بچانے کے لیے میرے اپنے کہاں تھے؟’
اس سوال کا جواب صرف عظیم دہقان کو نہیں، پورے ملیر کو دینا ہوگا۔ کیونکہ آگ اگر لگ گئی ہے تو صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہے گی۔
لگی ہے آگ تو سب گھر آئیں گے زد میں،
یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہی ہے۔
اور شاید آج کے اس اکیلے دہقان کی سب سے بڑی پکار یہی ہے: ‘میری زمین بچاؤ، کیونکہ زمین صرف میری نہیں۔ یہ ہماری تاریخ، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کا حق ہے۔’

