Tag: ملیر

  • زاویہ: ملیر کے تاریخی علاقے کاٹھوڑ کی یادیں

    زاویہ: ملیر کے تاریخی علاقے کاٹھوڑ کی یادیں

    کاٹھوڑ صرف ایک گاؤں یا بازار کا نام نہیں بلکہ ملیر کی قدیم تاریخ، ثقافت، سماجی رشتوں اور روزگار سے جڑا ہوا ایک ایسا مقام ہے، جس کی جڑیں کئی نسلوں کی یادوں میں پیوست ہیں۔

    کاٹھوڑ ضلع ملیر کے گڈاپ ٹاؤن میں واقع ایک قدیم دیہہ ہے، جس نے اپنے گرد پھیلے چھوٹے بڑے دیہات کو صدیوں سے ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔

    مقامی انتظامی تاریخ میں بھی کاٹھوڑ کی اپنی ایک حیثیت رہی ہے۔ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کاٹھوڑ کو یونین کونسل کا درجہ دیا گیا، جبکہ 2023 میں انتظامی تبدیلی کے تحت اسے یوسی گڈاپ کا وارڈ بنا دیا گیا۔

    سابقہ یوسی کاٹھوڑ اور موجودہ وارڈ کے منتخب نمائندے بھی ہمارے گاؤں لعل بخش کاچھيلو کے رہائشی معزز خادم حسین کاچھيلو ہیں، جن کے حلقے میں کاٹھوڑ اور اس کے آس پاس کے تقریباً پچاس چھوٹے بڑے گاؤں شامل ہیں۔

    کاٹھوڑ کا مرکزی بازار سپر ہائی وے سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہے۔ آج جو بازار سینکڑوں لوگوں کے روزگار اور خرید و فروخت کا مرکز بن چکا ہے، اس کی ابتدا اتنی وسیع نہیں تھی۔ مقامی روایات اور بزرگوں سے سنی ہوئی باتوں کے مطابق کاٹھوڑ بازار کی بنیاد رکھنے والوں میں مرحوم مراد جوکھیو، مرحوم ارباب گبول اور مرحوم صالح محمد جوکھیو شامل تھے۔

    انہوں نے یہاں ابتدائی طور پر دکانیں اور ہوٹل قائم کیے، جنہوں نے رفتہ رفتہ اس ویران مقام کو ایک چھوٹے سے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا شروع کیا۔

    اس کے بعد مرحوم محمد ہاشم گبول، حاجی گبول، مرحوم راسل جوکھیو، مرحوم ملاں اسحاق کھوسو، مرحوم رمضان فقیر حیدری، مرحوم نواز علی گوندر اور دیگر کئی لوگوں نے یہاں دکانیں، ہوٹل اور منڈیاں قائم کیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کاٹھوڑ بازار وسعت اختیار کرتی گئی اور آج یہاں 300 سے زائد مختلف دکانیں، میڈیکل اور جنرل اسٹور، منڈیاں، ہوٹل اور دیگر کاروباری مراکز موجود ہیں۔

    کاٹھوڑ بازار کی تاریخ صرف دکانوں اور ہوٹلوں کی تاریخ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی محنت کی بھی داستان ہے، جنہوں نے اپنے روزگار کے ساتھ ساتھ کاٹھوڑ کی سماجی زندگی کو بھی تشکیل دیا۔ ان میں وڈیرہ صالح محمد جوکھیو، وڈیرہ سفر کھوسو، واجا ابراہیم جدگال، عارب سیٹھ، مراد سیٹھ، وڈیرہ غلام رسول جوکھیو، امیرالدین جوکھیو، علی مراد ماچھی، مراد فقیر، عزیز پکوڑوں والا، موسا ہوٹل والا، فقیرو لوہار شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ محراب بڑھئی، ڈاکٹر سید حیدر علی، ڈاکٹر شریف، ہارون بندیجو، فتح محمد ٹیبر، سچيدنو جوکھیو، عبدالکھوسو، ہادی بخش گبول، تاج محمد جوکھیو، حاصل خان جوکھیو، خان محمد جوکھیو، میر عبدالکریم، علی رند، حاجی اسحاق، ناکو حسن بلوچ، حاجی فتح محمد برو، عبدالمجید برو، آچار ملنگی نے بھی اپنا حصے کا کام کیا۔

    پنہور خان گبول سائیکلوں کا مستری، عارب جوکھیو، لیموں خان گبول مستری، غلام قادر گبول ویلڈر، ولی رام موچی اور ڈاکٹر روپ چند جیسے کردار کاٹھوڑ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بعض کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جبکہ بعض کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سنا۔

    کاٹھوڑ کے ابتدائی درزیوں میں دودو ماچھی، روزی گبول، یوسف بروہی، موسا گوندر اور ہوتو بندیجو کے نام بھی مقامی یادداشت میں محفوظ ہیں۔ اس دور میں کپڑے سینے سے لے کر لوہے کے کام، بڑھئی گیری، موچی گری اور سائیکلوں کی مرمت تک ہر چھوٹا بڑا ہنر مقامی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تھا۔

    کاٹھوڑ کی سماجی اور تجارتی زندگی صرف مرکزی بازار تک محدود نہیں رہی۔ بازار سے تقریباً نصف کلومیٹر شمال کی جانب سراج احمد گوٹھ میں بھی چائے کے ہوٹل اور دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں تجارتی سرگرمیوں کی بنیاد مرحوم ناکو چاکر بلوچ، مرحوم ملاں دادرحیم، ناکو شہک اور مرحوم حاجی احمد مرید بلوچ نے رکھی۔

    اس سے کچھ فاصلے پر موریو فقیر خاندان کی زمینوں پر مرحوم میاں خان فقیر کا چائے کا ہوٹل بھی علاقے کی سماجی زندگی کا اہم مرکز تھا۔ اس دور میں ہوٹل صرف چائے پینے کی جگہیں نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگوں کی بیٹھک، خبروں کے تبادلے، مشاورت اور علاقائی جرگوں کے مراکز بھی ہوا کرتے تھے۔ چھوٹے بڑے فیصلے اور کئی اہم سماجی معاملات اکثر ایسی ہی جگہوں پر بیٹھ کر طے کیے جاتے تھے۔

    کاٹھوڑ کی ترقی میں آمدورفت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مقامی یادداشتوں کے مطابق لی مارکیٹ سے کاٹھوڑ کے لیے ابتدائی بس سروس مرحوم حاجی علو سیٹھ نے شروع کی، جس سے کاٹھوڑ کا شہر کے ساتھ رابطہ مزید آسان ہو گیا۔ بس سروس شروع ہونے کے بعد لوگوں کی آمدورفت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا اور کاٹھوڑ رفتہ رفتہ اپنے گردونواح کے دیہات کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔

    تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی کاٹھوڑ کی اہمیت نمایاں ہے۔ یہاں بڑا سرکاری ہسپتال، ڈگری گرلز کالج اور ہائر سیکنڈری اسکول موجود ہیں۔ ان اداروں کے قیام سے کاٹھوڑ اور گردونواح کے دیہات کے نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوا۔

    ہائر سیکنڈری اسکول کے لیے زمین دینے میں مرحوم مراد خان جوکھیو کے خاندان کے کردار کو بھی مقامی لوگ احترام سے یاد کرتے ہیں۔ مرحوم مراد خان کے بعد ان کے صاحبزادے کمال خان جوکھیو بھی سیاسی اور سماجی خدمات میں نمایاں رہے۔

    آج کاٹھوڑ بازار آس پاس کے کئی دیہات کے لوگوں کے لیے روزگار، خریداری، علاج، تعلیم اور تجارت کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ صبح سویرے ہی بازار میں لوگوں کی آمدورفت شروع ہو جاتی ہے اور شام تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ دیہاتیوں کے لیے کاٹھوڑ صرف ایک بازار نہیں بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔

    کاٹھوڑ کی سرزمین نے کئی نامور لوگوں کو جنم دیا ہے، جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنائی اور اپنے علاقے کا نام روشن کیا۔ سیاسی حوالے سے بھی کاٹھوڑ کا نام نمایاں رہا ہے۔

    اس وقت کاٹھوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد ساجد جوکھیو اور محمد سلیم بلوچ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے ارکان ہیں۔ اسے بھی کاٹھوڑ کے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    وقت بدل گیا ہے۔ کاٹھوڑ کا بازار چند ہٹوں اور منڈیوں سے بڑھ کر سینکڑوں دکانوں تک پہنچ چکا ہے، آمدورفت کے ذرائع تبدیل ہو گئے ہیں، نئے تعلیمی اور طبی ادارے قائم ہوئے ہیں، لیکن کاٹھوڑ کی اصل شناخت آج بھی اس کے لوگوں، ان کی محنت، محبت، مہمان نوازی اور اجتماعی سماجی زندگی میں موجود ہے۔

    جس دھرتی پر ہم نے اپنے بچپن کے قدم اٹھائے، جس بازار میں اپنے بزرگوں کی محنت کے نشان دیکھے، جن ہوٹلوں میں علاقے کے فیصلے ہوتے دیکھے اور جن لوگوں کے نام آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں، وہ کاٹھوڑ ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ہماری شناخت، ہماری تاریخ اور ہماری جنم بھومی ہے۔

    کاٹھوڑ کی تاریخ ابھی مکمل طور پر لکھی نہیں گئی۔ یہ تاریخ ان لوگوں کی زبانوں، پرانی بازاروں، گاؤں، ہوٹلوں، اسکولوں، راستوں اور ان شخصیات کی یادوں میں بکھری ہوئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی اس دھرتی کے ساتھ وابستہ کر دی۔

    کاٹھوڑ کی ان زندہ یادوں کو قلمبند کرکے آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے، تاکہ وقت کے بہاؤ کے ساتھ ملیر کے اس قدیم مقام کی مقامی تاریخ کہیں گم نہ ہو جائے۔

  • زاویہ: ایک بار پھر بلڈوزر چلے،  اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ملیر کا دہقان

    زاویہ: ایک بار پھر بلڈوزر چلے،  اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ملیر کا دہقان

    ملیر کی مٹی پر ایک بار پھر بلڈوزر چلے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بلڈوزر کسی خالی زمین پر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی صدیوں پرانی شناخت پر چلے ہیں، جس کے آباؤ اجداد اس وقت ملیر ندی کے کنارے آ کر آباد ہوئے تھے جب یہاں نہ شاہراہیں تھیں، نہ ایکسپریس وے، نہ پل، نہ ریلوے، نہ بڑے بڑے منصوبے، نہ ہاؤسنگ اسکیمیں اور نہ طاقت و اختیار کا وہ نظام جو آج ملیر کی زمینوں کے گرد کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    اس وقت یہاں صرف زمین تھی، درخت تھے، کھیت تھے، باغ تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے اور انسان تھے۔ ان لوگوں کے پاس سب سے بڑی دولت ان کی زمین تھی۔

    صدیاں گزر گئیں۔ ملیر بدل گیا۔ زمین پر کنکریٹ کے جنگل اُگ آئے، شاہراہیں بنیں، پل تعمیر ہوئے، ریل گاڑیاں دوڑنے لگیں، بڑے منصوبے آئے، ہاؤسنگ اسکیمیں اور صنعتیں پھیلیں، لیکن ایک چیز نہیں بدلی، مقامی لوگوں کا اپنی زمین سے رشتہ۔

    مگر اب یہی رشتہ خطرے میں ہے۔

    عظیم دہقان اپنی زمین کے ایک ٹکڑے پر اکیلا کھڑا ہے۔ شاید وہ سوچ رہا ہے کہ اس کے بزرگوں نے یہ زمین کیسے بچائی ہوگی؟ اس کے باپ نے اس مٹی میں کون سے خواب بوئے ہوں گے؟ ان درختوں کو کس نے لگایا ہوگا؟ ان قبروں میں کون سو رہا ہے؟ اور آج وہ اپنی ہی زمین پر اتنا بے بس کیوں ہے؟

    اس کے سامنے کھیت لہلہا رہے تھے، درخت ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے اور پرندے چہچہا رہے تھے، لیکن شاید عظیم دہقان کی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھیں جو اگلے ہی روز حقیقت بننے والا تھا۔

    اس نے اپنے ساتھیوں کو ایک روز پہلے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شاید اگلے دن اس کے آباؤ اجداد کی قبریں، کھیت، باغ، درخت اور پرندوں کے گھونسلے باقی نہ رہیں۔

    ساتھیوں کے پاس جواب تھا، مذمت کریں گے۔ بس، مذمت۔ پھر خاموشی۔

    مگر زمین کو صرف مذمت نہیں، تحفظ چاہیے۔ بے دخل ہونے والے انسان کو صرف بیان نہیں، ساتھ چاہیے۔ اور جب بلڈوزر زمین کی طرف بڑھیں تو صرف موبائل کیمرہ نہیں، مزاحمت کی آواز بھی چاہیے۔

    اگلے روز مشینیں واقعی پہنچ گئیں۔ انتظامیہ پہنچی، پولیس پہنچی اور بھاری مشینری بھی پہنچ گئی۔ پھر وہ ہوا جو ایک آباد انسان کے لیے شاید اس کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔

    بلڈوزر چلنے لگے۔ کھیت اجڑنے لگے۔ باغ متاثر ہونے لگے۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے اور زمین کے سینے پر مشینوں کے دانت چلنے لگے۔

    ایک طرف عظیم دہقان اور اس کے خاندان کی فریادیں تھیں، دوسری طرف مشینوں کا شور۔ ایک طرف نسلوں کی محنت تھی، دوسری طرف سرکاری اختیار۔ ایک طرف ایک خاندان اپنی زمین بچانے کی کوشش کر رہا تھا، دوسری طرف ایک بڑا ترقیاتی منصوبہ۔

    اس کارروائی کے دوران عظیم دہقان سمیت اس کے بعض رشتہ داروں کی گرفتاری کی خبر بھی سامنے آئی۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق یہ زمین شاہراہ بھٹو کے انٹرچینج کے لیے درکار تھی۔ حکام کا کہنا تھا کہ زمین کی قیمت کے حوالے سے مذاکرات ہوئے اور رقم بھی طے کی گئی، تاہم زمین خالی نہ کرنے کی وجہ سے کارروائی کرنا پڑی۔

    اگر سرکاری مؤقف یہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کا مطلب کیا یہ ہے کہ زمین کے مالک کو اپنی ہی دھرتی پر بے دخل اور گرفتار کر دیا جائے؟

    کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کی میز کے بجائے بلڈوزر آگے بھیج دیے جائیں؟

    اور اگر زمین کی قیمت طے ہو چکی تھی تو تمام کھاتہ داروں کے حقوق، ملکیت کے حصے اور معاوضے کے معاملات شفاف طریقے سے حل کیوں نہیں کیے گئے؟

    عظیم دہقان سرکاری مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ قانون، سرکاری ریکارڈ اور عدالتیں کریں گی۔ لیکن ایک حقیقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ایک انسان اپنی زمین پر بے بس کھڑا تھا اور اس کے سامنے اس کی دنیا اجاڑی جا رہی تھی۔

    یہ صرف عظیم دہقان کا مسئلہ نہیں۔ یہ ملیر کا مسئلہ ہے۔ یہ ان تمام مقامی لوگوں کا مسئلہ ہے جو اپنی آبائی زمینوں پر آج بھی ملکیت کا حق رکھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ اپنی ہی دھرتی پر اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔

    آخر ملیر کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟

    ایک طرف زرعی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف باغ اجڑ رہے ہیں۔ درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ نئے نئے منصوبے آ رہے ہیں اور مقامی لوگ اپنے حقوق کے لیے مختلف اداروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

    یہ ترقی ہے یا بے دخلی کا نیا ماڈل؟

    اگر شاہراہ ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر انٹرچینج ضروری ہے تو بنائیں۔ اگر شہر کو ترقی چاہیے تو ترقی کریں۔ لیکن ترقی کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو مٹا کر ترقی نہ کی جائے۔

    جس شخص کی زمین لی جائے، اس سے عزت سے بات کی جائے۔ اس کے قانونی حقوق محفوظ کیے جائیں۔ معاوضہ شفاف اور منصفانہ ہو۔ ماحولیاتی نقصان کا حساب رکھا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ مقامی انسان کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اپنی ہی دھرتی پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

    لیکن افسوس، منتخب نمائندے کہاں ہیں؟

    جس عظیم دہقان سے ووٹ لیا گیا، اس کی فریاد سننے کون پہنچا؟ جس خاندان کی زمین اجڑی، اس کے ساتھ کون کھڑا ہوا؟ جن درختوں اور باغات پر بلڈوزر چلے، ان کے تحفظ کے لیے اسمبلی میں کس نے آواز اٹھائی؟

    جس ملیر سے ووٹ لے کر اقتدار کے ایوان آباد کیے گئے، اسی ملیر کے مقامی لوگوں کے لیے اقتدار کے دروازوں پر کتنے راستے کھلے ہیں؟

    انتخابات کے وقت عوام مالک ہوتا ہے، لیکن انتخابات کے بعد یہی عوام اتنا بے بس کیوں ہو جاتا ہے؟

    یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں۔ یہ سوال اپوزیشن سے بھی ہے۔ یہ سوال منتخب نمائندوں سے بھی ہے۔ اور یہ سوال ان تمام سیاسی رہنماؤں سے ہے جو ملیر کے نام پر سیاست کرتے ہیں، مگر ملیر کی زمین پر بلڈوزر چلتے وقت ان کی آواز کیوں گم ہو جاتی ہے؟

    عظیم دہقان آج شاید اکیلا ہے، لیکن یہ سمجھنا خطرناک ہوگا کہ معاملہ صرف ایک خاندان تک محدود ہے۔

    آج اس کا کھیت ہے، کل کسی اور کا باغ ہو سکتا ہے۔ آج اس کا درخت ہے، کل کسی اور کی زمین ہو سکتی ہے۔ آج اس کا گھر ہے، کل کسی اور کا گھر بھی اسی خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔

    کیونکہ زمین کی بھوک کی کوئی حد نہیں۔

    جب زمین کو صرف پلاٹ، اسکیم، منصوبہ اور قیمت سمجھا جائے گا تو سب سے پہلے وہ انسان خطرے میں آئے گا جو صدیوں سے اس زمین سے جڑا ہوا ہے۔

    ملیر کے اصل باشندے صرف زمین کے مالک نہیں، وہ ملیر کی تاریخ کے وارث ہیں۔ ان کے کھیت ملیر کی شناخت ہیں۔ ان کے باغ ملیر کے حسن کا حصہ ہیں۔ ان کے درخت ماحول کے محافظ ہیں اور ان کے قبرستان اس سرزمین کی تاریخ کی کتابیں ہیں۔

    ان زمینوں اور باغات کو مٹا کر ملیر کو جدید بنانے کا دعویٰ دراصل ملیر کی روح کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں ایسا ملیر چاہیے جہاں صرف کنکریٹ ہو، یا ایسا ملیر جہاں شاہراہ بھی ہو اور کھیت بھی بچیں؟ جہاں پل بھی ہوں اور درخت بھی سلامت رہیں؟ جہاں انٹرچینج بھی ہو اور مقامی انسان کا حق بھی محفوظ ہو؟ جہاں ترقی بھی ہو اور دھرتی کا احترام بھی؟

    کیوں کہ شاہراہیں دوبارہ بن سکتی ہیں، عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، لیکن صدیوں کی تاریخ دوبارہ پیدا نہیں کی جا سکتی۔

    ایک کٹا ہوا درخت دوبارہ اسی عمر تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لے سکتا ہے۔ ایک اجڑا ہوا باغ صرف چند درختوں کا نقصان نہیں۔ ایک قبرستان صرف قبروں کا مجموعہ نہیں۔ اور کسی دہقان کو اس کی زمین سے بے دخل کرنا صرف ملکیت کا معاملہ نہیں، یہ اس کی شناخت، عزت اور نسلوں کی تاریخ کا معاملہ بھی ہے۔

    ملیر کو خاموش تماشائیوں کی ضرورت نہیں۔ ملیر کو سوال کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ملیر کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو ووٹ لینے کے بعد بھی عوام کے درمیان کھڑے نظر آئیں۔ ملیر کو ایسی انتظامیہ چاہیے جو قانون نافذ کرے، طاقت کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور ملیر کو ایسی ترقی چاہیے جو انسان کو اجاڑے نہیں، بلکہ انسان کے لیے راستہ بنائے۔

    عظیم دہقان کی زمین پر بلڈوزر شاید چند گھنٹوں میں گزر گئے، لیکن ان بلڈوزروں نے ایک بہت بڑا سوال چھوڑ دیا ہے۔

    آخر ملیر کس کا ہے؟

    ان لوگوں کا جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں؟ یا ان کا جو طاقت، سرمایہ اور اختیار کے ساتھ آتے ہیں اور دھرتی کو صرف ایک نمبر، ایک فائل اور ایک قیمت میں تبدیل کر دیتے ہیں؟

    یہ سوال آج جواب مانگتا ہے۔ کیوں کہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی۔

    آج عظیم دہقان اپنی اجڑی ہوئی زمین کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے درخت خاموش ہیں۔ اس کے پرندے اُڑ چکے ہیں۔ اس کے کھیت مٹا دیے گئے ہیں اور اس کے آباؤ اجداد کی دھرتی جیسے پوچھ رہی ہے: ‘مجھے بچانے کے لیے میرے اپنے کہاں تھے؟’

    اس سوال کا جواب صرف عظیم دہقان کو نہیں، پورے ملیر کو دینا ہوگا۔ کیونکہ آگ اگر لگ گئی ہے تو صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہے گی۔

    لگی ہے آگ تو سب گھر آئیں گے زد میں،
    یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہی ہے۔

    اور شاید آج کے اس اکیلے دہقان کی سب سے بڑی پکار یہی ہے: ‘میری زمین بچاؤ، کیونکہ زمین صرف میری نہیں۔ یہ ہماری تاریخ، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کا حق ہے۔’

  • تعلیم کے نام پر ملیر کی مٹی کا ماتم: ایجوکیشن سٹی، اجڑتے گوٹھ اور خاموش عوامی نمائندے

    تعلیم کے نام پر ملیر کی مٹی کا ماتم: ایجوکیشن سٹی، اجڑتے گوٹھ اور خاموش عوامی نمائندے

    ملیر کی مٹی آج رو رہی ہے۔ یہ وہی مٹی ہے جس نے صدیوں تک کراچی کو سبزیاں، پھل، کھجوریں، دودھ اور روزگار دیا۔ یہی وہ زمین ہے جس کے سینے پر بلوچ اور سندھی خاندانوں کی نسلیں پروان چڑھیں، جس کے باغوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہی، جس کے کنوؤں سے پیاس بجھتی رہی اور جس کے قبرستانوں میں بزرگ نسلوں سے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ آج اسی مٹی سے ایک سوال پوچھا جا رہا ہے، تم آخر کس کی ہو؟

    ترقی کے نام پر ملیر میں ایک منصوبہ موجود ہے جسے ایجوکیشن سٹی کہا جاتا ہے۔ تعلیم کا نام سن کر خوشی ہونی چاہیے، لیکن ملیر کے گوٹھوں کے رہنے والوں کی آنکھوں میں اس نام کے ساتھ خوشی کے بجائے خوف کیوں ہے؟ اگر یہاں واقعی تعلیم کا شہر بننا ہے تو پھر مقامی لوگوں کے گھر، باغات، زرعی زمینیں، روزگار، مسجدیں اور قدیم آبادیاں خطرے میں کیوں محسوس ہو رہی ہیں؟

    یہ سوال اب صرف فقیر محمد بلوچ گوٹھ کا سوال نہیں رہا بلکہ ملیر کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔

    ایجوکیشن سٹی کی اصل تاریخ کیا ہے؟

    سب سے پہلے ایک اہم تاریخی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔ ایجوکیشن سٹی کا تصور 2024 میں پہلی مرتبہ وجود میں نہیں آیا۔ سندھ اسمبلی نے سندھ ایجوکیشن سٹی ایکٹ 2013 منظور کیا تھا، جس کے تحت دیہہ چوہڑ، ملیر میں ہزاروں ایکڑ زمین کو ایجوکیشن سٹی کے لیے مختص کرنے کا قانونی فریم ورک بنایا گیا۔

    بعد ازاں مختلف ادوار میں اس منصوبے کے حوالے سے عالمی معیار کی یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز، ہسپتالوں، رہائشی سہولیات، سڑکوں، پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے دعوے سامنے آتے رہے۔ 2024 میں اس منصوبے کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولیات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر حکومتی سطح پر پیش رفت سامنے آئی، جس کے بعد ملیر کے مقامی لوگوں کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا۔

    یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ایجوکیشن سٹی کا نام کب رکھا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتنے برس گزرنے کے باوجود اس منصوبے نے ملیر کے عام لوگوں کی زندگی میں کیا حقیقی تبدیلی پیدا کی؟

    تعلیم کا شہر یا زمین کا نیا باب؟

    اگر ہزاروں ایکڑ زمین تعلیم کے لیے مختص کی گئی ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس زمین پر کتنے مکمل تعلیمی ادارے قائم ہوئے؟ کتنی یونیورسٹیاں مکمل طور پر فعال ہیں؟ کتنے تحقیقی مراکز قائم ہوئے؟ ملیر کے مقامی بچوں کے لیے کتنے تعلیمی مواقع پیدا ہوئے؟ کتنے مقامی نوجوانوں کو روزگار ملا؟

    اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو زمین تعلیم کے نام پر حاصل کی گئی، کیا اس کا ہر ایک ایکڑ آج بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟

    اگر ان سوالات کے واضح اور شفاف جوابات عوام کے سامنے موجود ہیں تو انہیں منظرعام پر لایا جائے۔ کیونکہ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں تعلیم کے خوبصورت نام کے پیچھے زمین کے استعمال، جائیداد، تجارتی سرگرمیوں یا طاقتور مفادات کا کوئی نیا کھیل تو نہیں چل رہا۔

    زمین تعلیم کے لیے ہے یا نئی جاگیرداری کے لیے؟

    ملیر کے مقامی لوگوں کا سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ تعلیم کے نام پر ان کی زرعی زمینوں اور قدیم آبادیوں کو ایسے منصوبوں کے حصے میں تبدیل نہ کردیا جائے جن کا اصل فائدہ عام آدمی کے بجائے بااثر طبقات کو حاصل ہو۔

    اگر کسی زمین پر تعلیمی ادارہ نہیں بنتا، لیکن اس کے گرد سڑکیں، زمین کی تقسیم، تجارتی سرگرمیاں اور زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر سوال ضرور اٹھے گا کہ اصل مقصد تعلیم ہے یا زمین؟

    یہی وجہ ہے کہ حکومت کو عوام کے سامنے مکمل تفصیلات رکھنی چاہئیں۔ کس کو کتنی زمین دی گئی؟ کس مقصد کے لیے دی گئی؟ کب دی گئی؟ اس پر کیا تعمیر ہونا تھی؟ کتنا کام مکمل ہوا؟ کتنی رقم خرچ ہوئی؟ اور اگر مقررہ مقصد پورا نہیں ہوا تو زمین واپس لینے کا قانونی طریقہ کیا ہے؟

    یہ سوالات کسی مخالفت یا سیاست کے نہیں بلکہ عوامی شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے سوالات ہیں۔

    گوٹھوں پر کارروائیاں، ترقی کا یہ کیسا چہرہ ہے؟

    فقیر محمد بلوچ گوٹھ میں مبینہ کارروائی نے ملیر کے لوگوں کے زخم مزید گہرے کردیے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ایجوکیشن سٹی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھروں، باغات، فارم ہاؤس اور ایک مقامی مسجد کو مبینہ طور پر مسمار کیا۔

    اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف چند دیواروں اور چھتوں کا گرنا نہیں۔ ایک گھر گرتا ہے تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں بلکہ ایک خاندان کی تاریخ مٹتی ہے۔ ایک باغ کٹتا ہے تو صرف درخت نہیں گرتا بلکہ ایک مزدور کا روزگار، ایک کسان کی امید اور آنے والی نسل کا حصہ ختم ہوتا ہے۔ ایک مسجد مسمار ہوتی ہے تو صرف ایک عمارت ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک آبادی کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم حصہ متاثر ہوتا ہے۔

    مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ کارروائی ایسے وقت کی گئی جب لوگ رات گئے تک اپنے گھروں اور زمینوں کی حفاظت کے لیے جاگتے رہے اور تھکن کے باعث سو گئے۔

    ان الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر انتظامیہ کے خلاف لگائے گئے الزامات درست نہیں تو انتظامیہ کو حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں، اور اگر الزامات درست ہیں تو ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔

    ملیر کی زمین صرف زمین نہیں

    کسی سرکاری نقشے میں ملیر کی زمین شاید صرف ایک عدد ہو، ہزاروں ایکڑ۔ لیکن ملیر کے کسان کے لیے یہ صرف عدد نہیں۔ ہر ایک ایکڑ کے پیچھے ایک خاندان کی داستان ہے۔

    کسی جگہ بزرگوں کا لگایا ہوا آم کا باغ ہے۔ کسی جگہ کھجور کے درخت ہیں۔ کسی جگہ کنواں ہے۔ کسی جگہ مویشیوں کا باڑا ہے۔ کسی جگہ قبرستان ہے۔ اور کہیں ایک ایسا قدیم گوٹھ ہے جہاں ایک خاندان کی کئی نسلیں آباد ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ جب کسی مشین کا بلیڈ ایک گھر کی دیوار سے ٹکراتا ہے تو صرف دیوار نہیں ٹوٹتی بلکہ ایک پوری زندگی زخمی ہوتی ہے۔

    ملیر کی سبز پٹی کا مستقبل

    ملیر کراچی کی اہم زرعی پٹی رہی ہے۔ اگر زرعی زمین مسلسل ختم ہوتی رہی، باغات کاٹے گئے، قدرتی پانی کے راستے بند ہوئے اور زمین کنکریٹ میں تبدیل ہوتی گئی تو اس کا اثر صرف ملیر تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے کراچی پر پڑے گا۔

    آج کراچی کے بازاروں میں ملیر کی سبزیاں اور پھل پہنچتے ہیں۔ ہزاروں خاندان زراعت، باغبانی، مویشی پالنے اور اس سے وابستہ کاروبار سے اپنا روزگار کماتے ہیں۔

    اگر یہ زمین ختم ہوگئی تو سوال یہ ہے کہ کراچی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہر کہاں جائے گا؟ اور اگر سبز زمین ختم ہوگئی تو کراچی کے پہلے ہی شدید ماحولیاتی مسائل مزید سنگین نہیں ہوں گے؟

    یہی وجہ ہے کہ ملیر کے مسئلے کو صرف زمین کے تنازعے کے طور پر دیکھنا خطرناک ہوگا۔ یہ ماحول، خوراک، روزگار، ثقافت اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے۔

    منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟

    ملیر کے عوام ووٹ دیتے ہیں۔ وہ نمائندوں کو اس امید کے ساتھ منتخب کرتے ہیں کہ ان کے مسائل اسمبلیوں، بلدیاتی اداروں اور حکومت کے ایوانوں تک پہنچیں گے۔

    وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے گھر محفوظ رہیں گے، ان کی زمینیں محفوظ رہیں گی، ان کے بچوں کو تعلیم ملے گی، انہیں پانی، بجلی، صحت اور روزگار کی سہولتیں حاصل ہوں گی۔ لیکن جب انہی لوگوں کی زمینیں اور گھر خطرے میں پڑ جائیں تو منتخب نمائندوں کی آواز کہاں ہے؟

    یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ہر اس نمائندے سے ہے جو ملیر کے عوام کے ووٹ سے ایوانوں تک پہنچا ہے۔

    اگر ایجوکیشن سٹی واقعی ملیر کے لیے ترقی کا منصوبہ ہے تو منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے درمیان آئیں، منصوبے کی تفصیلات بتائیں، نقشے عوام کے سامنے رکھیں، مقامی آبادی کے لیے تعلیم، روزگار اور دیگر سہولتوں کی ضمانتیں واضح کریں۔

    اور اگر عوام کے خدشات غلط ہیں تو انہیں دور کرنے کی ذمہ داری بھی انہی نمائندوں کی ہے۔ خاموشی ہمیشہ سوالات کو ختم نہیں کرتی، بعض اوقات خاموشی سوالات کو مزید گہرا کردیتی ہے۔

    اصل خطرہ آج نہیں، کل ہے

    آج فقیر محمد بلوچ گوٹھ ہے، کل کوئی دوسرا گوٹھ ہوسکتا ہے۔ آج ایک باغ ہے، کل دوسرا باغ ہوسکتا ہے۔ آج ایک کسان اپنی زمین بچانے کے لیے کھڑا ہے، کل ہزاروں خاندان اپنی آبائی زمینوں کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر ہوسکتے ہیں۔

    یہ مسئلہ اب کسی ایک خاندان، ایک گوٹھ یا ایک برادری کا نہیں رہا۔ یہ ملیر کے اجتماعی مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    اور اگر آج اس معاملے کو قانون، انصاف اور مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو کل صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

    تعلیم کی مخالفت نہیں، ناانصافی کی مخالفت ہے

    ملیر کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دشمنی نہیں۔ انہیں یونیورسٹیوں سے کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں تحقیقی مراکز سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہیں ترقی سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔

    ان کا سوال صرف یہ ہے کہ تعلیم ضرور بنائیں، لیکن لوگوں کے گھر اجاڑ کر نہیں۔ یونیورسٹیاں ضرور بنائیں، لیکن کسانوں کی زمین چھین کر نہیں۔ ترقی ضرور کریں، لیکن مقامی آبادی کو بے گھر کرکے نہیں۔

    ایجوکیشن سٹی ضرور بنائیں، لیکن ملیر کو ایجوکیشن سٹی کی قیمت نہ بنائیں۔

    ترقی وہ ہوتی ہے جس میں انسان مرکز میں ہو۔ ترقی وہ ہوتی ہے جس سے مقامی لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ تعلیم وہ ہوتی ہے جو انسان کو اپنے حقوق کا شعور دے، نہ کہ ایسی ترقی جو انسان سے اس کی زمین، گھر، روزگار اور شناخت چھین لے۔

    حکومت کے سامنے چند بنیادی سوالات

    اب وقت آگیا ہے کہ سندھ حکومت اور ایجوکیشن سٹی انتظامیہ عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھیں۔

    ایجوکیشن سٹی کے لیے مختص کل زمین کتنی ہے؟ اس میں سے کتنی زمین پر واقعی تعلیمی ادارے قائم ہیں؟ کتنی زمین خالی ہے؟ کتنی زمین مختلف اداروں یا افراد کو الاٹ کی گئی؟ الاٹمنٹ کی شرائط کیا ہیں؟ کیا تمام زمین مقررہ تعلیمی مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہے؟

    مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے؟ قدیم گوٹھوں، قبرستانوں، مساجد، زرعی زمینوں اور باغات کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟ اور سب سے اہم، کیا ملیر کے مقامی لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں شامل کیا گیا ہے؟

    یہ سوالات آج جواب مانگ رہے ہیں۔

    ملیر کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ملیر صرف کراچی کا ایک جغرافیائی حصہ نہیں۔ ملیر ایک تاریخ ہے۔ ملیر ایک تہذیب ہے۔ ملیر ایک سبز پٹی ہے۔ ملیر ہزاروں محنت کش خاندانوں کا روزگار ہے۔

    اور سب سے بڑھ کر، ملیر آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

    اگر آج ہم اس امانت کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتا دیکھتے رہے تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے صرف ایک سوال کریں گی۔

    جب ہمارے گوٹھ اجڑ رہے تھے، باغ کٹ رہے تھے، زمینیں ختم ہورہی تھیں اور لوگوں کے گھر مسمار کیے جارہے تھے، تب آپ کہاں تھے؟

    ملیر کی مٹی آج یہی سوال پوچھ رہی ہے۔ اور اس سوال کا جواب صرف حکومت کو نہیں، ہم سب کو دینا ہوگا۔

  • زاویہ: ملیر کا معصوم امین میمن کہاں ہے؟ سب خاموش ہیں، آخر کب تک؟

    زاویہ: ملیر کا معصوم امین میمن کہاں ہے؟ سب خاموش ہیں، آخر کب تک؟

    کبھی کبھی کسی ایک گھر کا دکھ پورے معاشرے کی بے حسی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسا زخم جو صرف ایک خاندان کے سینے پر نہیں لگتا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو بھی لہولہان کر دیتا ہے۔

    مگر افسوس، جب معاشرہ خاموش ہو جائے، جب سیاست مفادات کی قیدی بن جائے، جب سماجی تنظیمیں صرف تصویروں اور بیانات تک محدود رہ جائیں، اور جب انصاف کے دروازے برسوں تک بند رہیں، تو مظلوم کی فریاد آسمان تک ضرور پہنچتی ہے، مگر زمین پر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

    آج بھی ملیر سمیت پورے سندھ میں ایک ایسا ہی دردناک سوال گونج رہا ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب نہ کسی منتخب نمائندے کے پاس ہے، نہ کسی سیاسی جماعت کے پاس، نہ کسی سماجی تنظیم کے پاس، اور نہ ہی ان اداروں کے پاس جن پر شہریوں کے جان و مال اور بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    سب خاموش ہیں، سب تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ملیر سمیت پورے سندھ کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور انسانی حقوق کی دعوے دار تنظیموں کے کانوں میں جیسے روئی ٹھونس دی گئی ہے۔ آنکھوں پر بے حسی کی ایسی چادر پڑ چکی ہے کہ انہیں میمن گوٹھ کے ایک غریب محنت کش اللہ بچایو میمن کے گھر میں برپا ہونے والی قیامت دکھائی نہیں دیتی۔ ایک ماں کی سسکیوں کی آواز شاید ان کے ایوانوں تک پہنچتی ہی نہیں، یا پھر وہ سن کر بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    کیا واقعی ہمارا ضمیر اتنا مر چکا ہے کہ ایک معصوم بچے کی گمشدگی بھی ہمیں جھنجھوڑ نہیں سکتی؟

    سال 2022 میں ملیر کے قدیم اور مصروف تجارتی علاقے میمن گوٹھ کی ایک بھری بازار سے معصوم امین میمن ولد اللہ بچایو میمن پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔ وہ ایک عام بچہ تھا، جس کے خواب بھی عام بچوں جیسے تھے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ اچانک اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے گا اور اس کی تلاش میں ایک خاندان کی پوری زندگی انتظار کی اذیت میں بدل جائے گی۔

    پانچ سال گزر چکے ہیں۔ وقت گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، افسر بدلتے رہے، منتخب نمائندے بدلتے رہے، مگر نہیں بدلا تو صرف ایک ماں کا انتظار۔ آج بھی وہ دروازے کی طرف دیکھتی ہے، ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہے، ہر قدموں کی چاپ پر اس کا دل دھڑکنے لگتا ہے کہ شاید میرا امین واپس آگیا ہو۔

    ایک باپ، جو اپنے بچوں کا سہارا ہوتا ہے، آج خود بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکا ہے۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اب صرف اتنی رہ گئی ہے کہ کسی دن کوئی آکر کہہ دے، ‘آپ کا بیٹا مل گیا۔’

    چھ بہن بھائی آج بھی اپنے بھائی کی یاد میں اداس ہیں۔ عید ہو یا خوشی کا کوئی موقع، امین کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے۔ گھر میں اس کے کھلونے، اس کی یادیں اور اس کی ہنسی آج بھی زندہ ہیں، مگر وہ خود کہیں نظر نہیں آتا۔

    جب ملیر کے صحافیوں کی ایک ٹیم امین کے گھر پہنچی تو وہاں غم کا ایسا عالم تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ماں کی آنکھوں سے بہتے آنسو، باپ کی خاموشی، بہن بھائیوں کی ٹوٹتی امیدیں اور گھر کی ویرانی ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جو کسی بھی صاحبِ دل انسان کو رلا دے۔

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہر ممکن دروازہ کھٹکھٹایا، متعلقہ اداروں سے رابطے کیے، منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، سماجی تنظیموں سے مدد مانگی، مگر انہیں صرف وعدے ملے، عملی اقدامات نہیں۔

    یہ صرف ایک بچے کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری، انسانی حقوق اور انصاف کے نظام کا امتحان ہے۔

    پاکستان کا آئین ہر شہری کے جان و مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال (CRC)، جس پر پاکستان بھی دستخط کر چکا ہے، ریاست کو پابند کرتا ہے کہ ہر بچے کی حفاظت، شناخت اور بحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

    اگر ایک بچہ برسوں تک لاپتا رہے اور ریاست اس کے بارے میں کوئی واضح جواب نہ دے سکے تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

    سندھ میں آئے روز بچوں کے اغوا اور گمشدگی کے خلاف احتجاج، سیمینار، ریلیاں اور دھرنے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہمات چلتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں میں امین میمن کا نام شاید ہی سنائی دیتا ہو۔ کسی کے ہاتھ میں اس کی تصویر نظر نہیں آتی۔ آخر کیوں؟ کیا ایک غریب مزدور کا بچہ اس معاشرے کا بچہ نہیں؟ کیا اس کی ماں کے آنسو کم قیمت ہیں؟

    خاموشی بعض اوقات جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہوتی ہے۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش ہو جائے تو ظالم مضبوط اور مظلوم مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں، ذاتی مفادات اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہر باشعور شہری امین میمن سمیت تمام لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرے۔

    یہ صرف اللہ بچایو میمن کے خاندان کی جنگ نہیں، بلکہ ہر اس والدین کی جنگ ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور گھر میں یہی قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امین میمن کے مقدمے سمیت تمام لاپتا بچوں کے کیسز کو دوبارہ کھولا جائے، جدید فرانزک، ڈیجیٹل اور تفتیشی ذرائع استعمال کیے جائیں، تحقیقات کی شفاف نگرانی کی جائے، اگر کہیں غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا بھی تعین کیا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کو مسلسل پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔

    یہ معاملہ سیاست کا نہیں، انسانیت کا ہے۔ یہ کسی جماعت یا برادری کا نہیں، ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو انصاف، قانون اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے۔

    آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے، جو ہر حساس دل، ہر انصاف پسند انسان اور ہر ذمہ دار ادارے سے جواب مانگ رہا ہے۔

    آخر امین میمن کہاں ہے؟

    کیا اسے آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی؟ یا پھر ہماری بے حسی، ہماری خاموشی اور ہماری اجتماعی غفلت نے اس معصوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا؟

    جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، تب تک صرف امین کا خاندان ہی نہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑا رہے گا۔ ایک ماں کی سسکیاں، ایک باپ کی بے بسی اور بہن بھائیوں کا انتظار ہم سب سے پوچھتا رہے گا کہ آخر ہم کب جاگیں گے؟

  • کراچی کے فوڈ باسکٹ، ملیر میں ریت نکالنے، صنعتی آلودگی اور پانی کی قلت نے زراعت کو مکمل طور تباہ کردیا

    کراچی کے فوڈ باسکٹ، ملیر میں ریت نکالنے، صنعتی آلودگی اور پانی کی قلت نے زراعت کو مکمل طور تباہ کردیا

    کراچی کا ضلع ملیر ایک وقت میں شہر کا ‘فوڈ باسکٹ’ سمجھا جاتا تھا، جہاں سے سبزیاں، پھل، اناج اور دیگر زرعی اجناس بڑی مقدار میں شہر کی منڈیوں تک پہنچتی تھیں۔ ملیر کے سرسبز باغات، کھیت اور زرعی زمینیں نہ صرف مقامی معیشت کا اہم حصہ تھیں بلکہ کراچی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ تاہم مقامی کاشت کاروں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مختلف عوامل کے باعث ملیر کی زراعت شدید زوال کا شکار ہو گئی ہے۔

    ملیر کے کاشت کار سعید بلوچ نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ملیر میں وسیع پیمانے پر سبزیاں، آم، امرود، چیکو، کھجور اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ زراعت آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ان کے مطابق زرعی زمینوں کے بڑے حصے پر ہاؤسنگ اسکیمیں، صنعتی یونٹس اور دیگر تعمیرات قائم ہو چکی ہیں جس سے کاشت کے لیے دستیاب رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق ملیر میں زرعی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں پانی کی قلت، زرعی زمینوں کی غیر زرعی استعمال میں تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔ ماضی میں ملیر کے بیشتر علاقوں کو دریائے سندھ کے نظام اور مقامی آبی گزرگاہوں سے پانی ملتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے دستیاب پانی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پانی کی قلت کے باعث بہت سے کاشت کار زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملیر اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر ریت نکالنے کی سرگرمیوں نے بھی ماحول اور زراعت کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق بے ہنگم ریت نکالنے سے زمین کی ساخت، زیر زمین پانی کے ذخائر اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اثرات کی شدت اور دائرۂ کار کے تعین کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔

    کاشت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والا دھواں اور آلودگی فصلوں اور باغات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگرچہ مختلف صنعتوں کے اثرات ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتے، لیکن ماحولیاتی آلودگی کو زرعی پیداوار میں کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

    زرعی ماہرین کے مطابق کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں زرعی زمینوں کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ملیر میں آبادی اور تعمیرات کے پھیلاؤ نے زرعی رقبے کو مسلسل محدود کیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی زرعی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    مقامی کاشت کاروں کا مطالبہ ہے کہ زرعی زمینوں کے تحفظ، آبپاشی کے پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملیر کی باقی ماندہ زراعت کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کا یہ تاریخی زرعی علاقہ مستقبل میں اپنی زرعی شناخت مکمل طور پر کھو سکتا ہے۔

  • کراچی کا اپنا زرعی خطہ ویران کیوں ہوا؟ ملیر کے سرسبز باغات اور کھیتوں کے اجڑنے کی داستان

    کراچی کا اپنا زرعی خطہ ویران کیوں ہوا؟ ملیر کے سرسبز باغات اور کھیتوں کے اجڑنے کی داستان

    کراچی کا ضلع ملیر کبھی شہر کا سب سے زرخیز اور سرسبز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں ایکڑ پر کاشت کاری ہوتی تھی اور زرخیز کھیت موجود تھے جہاں صحت مند فصلیں اگتی تھیں۔ یہ ہریالی شہر کو زندگی بخشتی تھی۔ بلکہ یہی علاقہ کراچی کی سبزیوں اور پھلوں کی بڑی ضرورت بھی پوری کرتا تھا۔

    آج بیشتر اراضی بے رونق ویرانے کا منظر پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی زرعی شناخت مدھم پڑ گئی۔ وسیع باغات اور کھیت تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

    کچھ عشرے قبل تک ملیر کو کراچی کا زرعی دل کہا جاتا تھا۔ مراد میمن گوٹھ، گڈاپ اور ملیر ندی کے اطراف ہزاروں ایکڑ پر کاشت کاری ہوتی تھی۔ مقامی افراد کے مطابق یہ رقبہ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل تھا، جہاں مستقل بنیادوں پر فصلیں اگائی جاتی تھیں۔

    مراد میمن گوٹھ خاص طور پر اپنے باغات کے لیے مشہور تھا، جہاں دو سو سے ڈھائی سو ایکڑ تک پھلوں کے باغات موجود تھے۔ آج یہ باغات صرف سات یا آٹھ ایکڑ زمین تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ یہ باغات نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں اپنی پیداوار کے لیے الگ پہچان رکھتے تھے۔

    ملیر کی زرخیز زمین اور زیر زمین پانی کے امتزاج نے اس خطے کو الگ مقام عطا کیا تھا۔ یہاں ٹماٹر، پیاز، گوبھی اور کئی ہری سبزیاں اگائی جاتی تھیں۔ گندم اور چارے کی پیداوار بھی عام تھی۔ صرف یہی نہیں، پھلوں میں امرود یہاں کی خاص پہچان بن گیا تھا۔ چیکو، پپیتا اور کسٹرڈ ایپل کی بھی قابل ذکر پیداوار ہوا کرتی تھی۔

    ملیر کی زرعی زمینوں کی تباہی نے صرف کسانوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ یہ پاکستان میں خوراک کی کمی کے بڑے مسئلے کو بھی بڑھا رہی ہے، جو مہنگائی، خشک سالی اور مویشیوں کی بیماریوں کی وجہ سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2021 سے اپریل 2022 کے دوران پاکستان میں چھیالیس لاکھ ساٹھ ہزار افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔

    ماہرین اور مقامی افراد کے مطابق ملیر میں زراعت کے زوال کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور سن دو ہزار کے بعد تو زرعی زمینیں اجڑنا شروع ہو گئیں۔

    ملیر کی زرعی تباہی کی کئی وجوہات ہیں، جو وقت کے ساتھ مل کر ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئیں۔

    زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی۔ ملیر ندی سے ریت اور بجری نکالنے کے عمل نے پانی کے ذخائر کو مزید متاثر کیا، جس سے باغات اور فصلوں کی باقاعدہ تباہی شروع ہوئی۔

    کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی نے زرعی زمینوں کو رہائشی منصوبوں میں بدل دیا۔ فارم ہاؤسز، سوسائٹیز اور اسکیم پینتالیس جیسے منصوبوں نے کھیتوں کی جگہ لے لی۔

    حکومتی عدم توجہی اور شہری آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے سیوریج کا پانی اور بڑھتی آلودگی نے زمین کی زرخیزی کو متاثر کیا، جس سے پیداوار کم ہوتی گئی۔

    نتیجہ یہ ہوا کہ آج ملیر میں کاشت کاری ہزاروں ایکڑ سے سمٹ کر بمشکل چند ایکڑ اراضی تک محدود ہو گئی ہے۔ وہ کراچی جو اجناس اور پھلوں کی بیشتر ضروریات کو پورا کرنے میں بڑی حد تک خود کفیل تھا، آج سبزیاں اور پھل دیگر علاقوں سے درآمد کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر ملیر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ماحول دوست اقدامات کیے جائیں تو کراچی کو ہیٹ ویوز، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

    ملیر کی اجڑتی زمینیں صرف ماضی کی یاد نہیں، یہ ایک انتباہ بھی ہیں۔ اگر آج بھی اس طرف توجہ نہ دی گئی تو کراچی اپنا زرعی دل ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔ ضرورت ہے کہ پانی کی تجدید، شجرکاری اور کسانوں کی مدد کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، تبھی اس دھرتی کی ہریالی واپس آ سکتی ہے۔