آج آئیے سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کے ایک اور اہم پہلو پر بات کرتے ہیں، یعنی پانی کی سیاست میں طاقت کی غیر مساوات اور پنجاب کو تاریخی طور پر حاصل رہی ترجیح۔
سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کی کہانی صرف پانی کم ہونے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کی غیر مساوات کی کہانی بھی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پانی کہاں گیا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے بارے میں فیصلے کرنے کی طاقت تاریخی طور پر کس کے پاس رہی، پانی کا بنیادی ڈھانچہ کہاں بنایا گیا، ترقی کی تعریف کس نے کی، اور اس ترقی کی قیمت آخر کس نے ادا کی؟
برطانوی دور حکومت میں پنجاب کو سندھ طاس کی نوآبادیاتی زرعی معیشت کا مرکز بنایا گیا۔ انگریزوں کے لیے پنجاب صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ آمدنی، زرعی پیداوار اور سیاسی کنٹرول کے لیے انتہائی اہم خطہ تھا۔ نہری آبادیاں قائم کی گئیں، نئی نہریں کھودی گئیں، بیراج اور آبپاشی کا ایک بڑا نظام قائم کیا گیا، اور پانی کو اس طرح منظم کیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ زمین کو مستقل آبپاشی کے نظام میں لایا جا سکے۔
اس سے پنجاب کی زرعی معیشت مضبوط ہوئی، لیکن اسی کے ساتھ دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں نچلے علاقوں کی طرف کمی اور تبدیلی شروع ہوگئی۔ ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی دور میں پانی کے انتظام اور تقسیم کا جو نظام قائم ہوا، وہ وقت کے ساتھ اتنا مضبوط ہوگیا کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اسی راستے پر چلتا رہا۔
1947 میں نیا ملک قائم ہوا، لیکن پانی کی حکمرانی کا پرانا نقشہ زیادہ نہیں بدلا۔ بلکہ قومی ترقی کے نام پر اسے مزید طاقت مل گئی۔ اب دلیل نوآبادیاتی آمدنی کی نہیں تھی، بلکہ نئے الفاظ استعمال کیے گئے، ترقی، غذائی تحفظ، آبپاشی، پن بجلی اور قومی مفاد۔ لیکن نتیجہ بڑی حد تک وہی رہا: مزید بیراج، مزید نہریں، مزید رابطہ نہریں، مزید پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور پانی کے بالائی بہاؤ پر مزید کنٹرول۔
ہم نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس پوری کہانی کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اگر 1860 سے 1980 تک پانی سے متعلق بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو صوبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو علاقائی فرق بہت واضح نظر آتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق تقریباً 67 فیصد بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری پنجاب میں کی گئی تھی۔
سندھ، بلوچستان اور دوسرے علاقوں کے مقابلے میں پنجاب میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کا بہت زیادہ ارتکاز پیدا ہوا۔ یہ صرف نقشے پر بنے ہوئے چند مقامات نہیں ہیں۔ ہر بیراج، نہر، رابطہ نہر اور پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ پر ایک نیا ادارہ جاتی کنٹرول بھی پیدا کرتا ہے۔
یہاں ایک مشہور قومی بیانیے کو بھی سمجھنا ضروری ہے: ‘پنجاب پاکستان کی غذائی ٹوکری ہے۔’ اس جملے میں بذات خود کوئی غلط بات نہیں۔ پنجاب واقعی ملک کی زرعی پیداوار میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس حقیقت کو اس سیاسی دلیل میں تبدیل کردیا جائے کہ پنجاب کی طرف زیادہ پانی جانا خود بخود قومی مفاد ہے، جبکہ کوٹری سے نیچے پانی چھوڑنے کو سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کے طور پر پیش کیا جائے۔
اسی لیے ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں اسے ‘بیانیاتی طاقت’ کا نام دیا ہے۔ یعنی طاقت صرف ڈیم یا بیراج پر قبضہ کرنے کا نام نہیں، طاقت یہ بھی ہے کہ آپ کسی چیز کے معنی طے کرسکیں۔ اگر پنجاب میں جانے والے پانی کو غذائی تحفظ کہا جائے، لیکن یہی پانی سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی طرف جائے تو اسے ‘سمندر میں بہہ جانے والا پانی’ یا ‘ضائع شدہ پانی’ کہا جائے، تو پھر یہ صرف پانی کے بہاؤ کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ سیاست بن جاتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق پنجاب کی پانی کی ضروریات کو تاریخی طور پر قومی ترقی اور غذائی تحفظ کی زبان کے ساتھ جوڑا گیا، جبکہ سندھ کے ماحولیاتی بہاؤ کے مطالبے کو اکثر ترقی کی مخالفت کے طور پر پیش کیا گیا۔
لیکن دریا کا پانی سمندر تک پہنچنا ضائع ہونا نہیں ہے۔ یہ پانی اپنے ساتھ مٹی اور دریائی تلچھٹ لے کر جاتا ہے، سمندری نمکین پانی کو پیچھے دھکیلتا ہے، مینگرووز کے جنگلات کو زندہ رکھتا ہے، مچھلیوں کی افزائش اور ماہی گیری کو برقرار رکھتا ہے، دریائی کھاڑیوں میں میٹھے پانی کی مقدار بڑھاتا ہے، زمین کو سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور لاکھوں لوگوں کے روزگار اور زندگی کے نظام کو برقرار رکھتا ہے۔ جو پانی انجینئرنگ کے حساب کتاب میں ‘بہہ جانے والا’ یا ‘ضائع’ دکھائی دیتا ہے، وہ ڈیلٹا کے لیے زندگی ہے۔
ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں ‘آبی بالادستی’ کو تین حصوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ پہلا حصہ ‘مادی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس ڈیم، بیراج، نہریں اور پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ زیادہ ہو، اس کے پاس پانی پر عملی کنٹرول بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ ‘مذاکراتی طاقت’ ہے۔ جن مفادات کو طاقتور وفاقی اداروں اور پانی سے متعلق فیصلہ سازی میں زیادہ اہمیت حاصل ہو، وہ پانی کے اصولوں اور تقسیم پر زیادہ اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
تیسرا حصہ ‘بیانیاتی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ اپنی پانی کی ضرورت کو قومی مفاد اور غذائی تحفظ کے طور پر پیش کرے اور زیریں علاقوں کی پانی کی ضرورت کو غیر ضروری یا ترقی مخالف قرار دے۔ طاقت کی یہ تینوں شکلیں مل کر ایسا نظام بناتی ہیں جس میں قانونی اور رسمی برابری تو موجود ہوتی ہے، لیکن عملی نتائج برابر نہیں ہوتے۔
اس پس منظر میں 1955 سے 1970 تک قائم رہنے والے ون یونٹ نظام کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمارے مقالے کے مطابق ون یونٹ نے صوبائی نمائندگی کو کم کیا اور پانی کی پالیسی میں بالائی علاقوں کے طاقتور طبقوں کو زیادہ اثر و رسوخ دیا۔ اسی دور میں سندھ طاس معاہدہ اور بڑے پیمانے پر پانی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا نظام مزید مضبوط ہوا۔ اس کے بعد منگلا، تربیلا، رابطہ نہروں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے ایسا ادارہ جاتی نظام قائم ہوگیا جسے بعد میں تبدیل کرنا مزید مشکل ہوتا گیا۔
اب اس کے زیریں علاقوں پر اثرات دیکھیں۔ 1960 کی دہائی کے بعد کوٹری بیراج سے نیچے دریائے سندھ کا بہاؤ تیزی سے کم ہوا۔ کئی برسوں میں سالانہ بہاؤ 10 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم رہا اور بعض ادوار میں تقریباً ختم ہی ہوگیا۔ یعنی بڑھتا ہوا بنیادی ڈھانچہ اور کم ہوتا ہوا میٹھے پانی کا بہاؤ ایک دوسرے سے الگ کہانیاں نہیں ہیں۔
ہماری تحقیق میں واقعات اور پالیسیوں کے تسلسل کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی سے متعلق فیصلوں نے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی مستقبل کو تشکیل دیا۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پنجاب کا کسان دشمن ہے یا پنجاب کو پانی نہیں ملنا چاہیے۔ ہماری تحقیق ایسی کوئی بات نہیں کہتی۔ اصل سوال صوبے کے خلاف صوبہ نہیں ہے، بلکہ ایسے نظام حکمرانی کا ہے جو ایک علاقے کے معاشی فوائد کو قومی مفاد بنا دیتا ہے، لیکن دوسرے علاقے کی ماحولیاتی بقا کو وہی سیاسی اہمیت نہیں دیتا۔
ہمیں ‘غذائی ٹوکری’ کی دلیل پر دوبارہ سوچنا ہوگا۔ ملک کو خوراک ضرور چاہیے، لیکن غذائی تحفظ کیا صرف گندم اور گنے کا نام ہے؟ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی مچھلیاں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ وہاں کی زراعت غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہے؟ مویشی پالنے والے لوگوں کی چراگاہیں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ پینے کے صاف پانی کا تحفظ قومی مفاد نہیں ہے؟ مینگرووز اور ماہی گیری کی تباہی سے ختم ہونے والی معیشت قومی نقصان نہیں ہے؟
اگر ایک علاقے کے ہر ایکڑ کو پانی دینا ترقی ہے، لیکن دوسرے علاقے کو سمندر میں ڈوبنے اور سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے کے لیے پانی چھوڑنا ‘ضیاع’ ہے، تو پھر مسئلہ پانی کی کمی سے زیادہ طاقت کی تعریف کا ہے۔
اسی لیے ہماری تحقیق کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے بحران کو صرف پانی کے بہاؤ کے علم کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسے طاقت کی غیر مساوات کے ذریعے بھی سمجھنا ہوگا۔ تاریخی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، مرکزی اداروں کا کنٹرول اور قومی مفاد کے بیانیے نے مل کر ایسا آبی بالادستی کا نظام قائم کیا ہے جس کا فائدہ بالائی علاقوں کو زیادہ حاصل ہوا، جبکہ اس کی ماحولیاتی قیمت زیریں سندھ اور سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو زیادہ ادا کرنا پڑی۔
اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پنجاب کو پانی کیوں ملتا ہے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ دریائے سندھ کے پانی کے بارے میں قومی مفاد کی تعریف میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی بقا کیوں شامل نہیں ہے؟
شاید اب ہمیں ‘پاکستان کی غذائی ٹوکری’ کے ساتھ ایک اور جملہ بھی سیکھنا ہوگا: ‘دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک پہنچنے والا پانی ضائع شدہ پانی نہیں، بلکہ پاکستان کی ماحولیاتی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔’

