Tag: ڈیلٹا

  • نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    بدین میں پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب نریڑی جھیل کے وسیع و عریض پھیلے ہوئے خشک حصے پر کھڑے ہو کر یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یہ علاقہ کبھی بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے آبی پرندوں کے لیے ایک اہم مسکن ہوا کرتا تھا۔

    نریڑی، جسے نریڑی لگون بھی کہا جاتا ہے، زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کا حصہ ہے اور اسے عالمی سطح پر اہم آبی علاقے کی حیثیت سے رامسر کنونشن کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ اسے 2001 میں رامسر سائٹ کا درجہ دیا گیا۔

    نریڑی بدین کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ان وسیع آبی اور ساحلی نظاموں کا حصہ ہے جہاں جھیلوں، لگونز، کھاڑیاں، کیچڑ زدہ میدانوں اور دیگر دلدلی علاقوں کا ایک پیچیدہ سلسلہ پایا جاتا ہے۔ یہ پورا خطہ دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی، سمندری مدوجزر، موسمی بارشوں اور بحیرہ عرب کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔

    نریڑی کی اہمیت کا ایک بڑا سبب یہاں آنے والے نقل مکانی کرنے والے پرندے ہیں۔ سندھ انڈس فلائی وے سے منسلک ہے، جو پرندوں کی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ ہر سال شمالی یوریشیا کے مختلف علاقوں سے پرندے سردیوں کے موسم میں جنوب کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں اور سندھ کی جھیلوں، دلدلی علاقوں اور ساحلی آبی مساکن میں قیام کرتے ہیں۔

    سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے آبی پرندوں کے سالانہ سروے نریڑی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025-26 کے موسم سرما کے سروے کے دوران نریڑی جھیل میں ایک لاکھ 71 ہزار 171 نقل مکانی کرنے والے پرندے ریکارڈ کیے گئے، جو سروے میں شامل سندھ کے 30 مقامات میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔

    ان سرویز کے دوران مختلف اقسام کے پرندے ریکارڈ کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شمالی شاولر، کامن پوچارڈ، ٹفٹڈ ڈک، یوریشین ویجن، کاٹن پگمی گوز، گارگنی، نادرن پن ٹیل، فیریجینس پوچارڈ، کامن کوٹ، ریڈ کرسٹڈ پوچارڈ، گیڈوال، ماربلڈ ٹیل، گری لیگ گوز اور بار ہیڈڈ گوز شامل ہیں۔

    تاہم نریڑی میں پرندوں کی تعداد اور آبی رقبہ ہر سال یکساں نہیں رہا۔ 2022-23 کے موسم سرما کے سروے میں یہاں 100,766 پرندے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ مختلف ادوار میں نریڑی اور سندھ کے دیگر آبی علاقوں میں پانی کی کمی اور ماحولیاتی بگاڑ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ایک حالیہ تحقیق نے بھی نریڑی میں ہونے والی طویل مدتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق 2000 میں نریڑی کا نقشہ شدہ آبی رقبہ تقریباً 88.12 مربع کلومیٹر تھا، جو 2023 تک کم ہو کر تقریباً 19.12 مربع کلومیٹر رہ گیا۔ اس تحقیق میں جھیل کے پانی سے متعلق دیگر اشاریوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو آبی مسکن میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    نریڑی کی موجودہ صورتحال کو کسی ایک وجہ سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔ تحقیق اور مختلف ماحولیاتی جائزوں کے مطابق زیریں دریائے سندھ اور ڈیلٹا کے آبی علاقوں کو میٹھے پانی کی کمی، دریائی بہاؤ میں تبدیلی، خشک سالی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نمکیات میں اضافے، سمندری پانی کے اندر آنے، آلودگی اور نکاسی آب کے نظام میں تبدیلی جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

    اس پورے بحران کا ایک بنیادی پہلو دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں طویل مدتی تبدیلی ہے۔ زیریں سندھ کا ڈیلٹا دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً کوٹری بیراج سے نیچے کے علاقے میں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے ماحولیاتی بہاؤ کی کمی اور اس میں بے قاعدگی نے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔

    دریائے سندھ کے پانی کا بڑا حصہ آبپاشی کے لیے مختلف بیراجوں اور نہری نظاموں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تاریخی طور پر جتنا پانی دریائے سندھ کے نچلے حصے اور ڈیلٹا تک پہنچتا تھا، اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کے باعث سمندری پانی کا اثر اندرونی علاقوں تک بڑھ سکتا ہے، جس سے زمین، میٹھے پانی کے ذخائر، نباتات اور آبی حیات متاثر ہوتی ہے۔

    سمندری پانی کی پیش قدمی اور نمکیات میں اضافے کا اثر صرف جھیلوں تک محدود نہیں رہتا۔ ان تبدیلیوں کا تعلق ڈیلٹا کے مینگرووز، مچھلیوں، زرعی زمینوں، میٹھے پانی کے ذرائع اور مقامی آبادی کے روزگار سے بھی ہے۔ دریائی بہاؤ میں کمی کے ساتھ دریائے سندھ کے ذریعے آنے والی تلچھٹ میں کمی بھی ڈیلٹا کے ساحلی نظام کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    نریڑی کو نکاسی آب اور آلودگی کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ مختلف سرکاری اور ماحولیاتی دستاویزات میں زرعی اور صنعتی فضلے کے نکاسی آب کے راستوں کے ذریعے آبی علاقوں تک پہنچنے کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مطالعات میں ایسے ڈرینج سسٹمز کی نشاندہی کی گئی ہے جو آلودہ پانی نریڑی کے آبی نظام کی طرف لے جاتے ہیں۔

    نریڑی کی ماحولیاتی اہمیت کا تعلق مقامی آبادی کے روزگار سے بھی رہا ہے۔ ماضی میں اس علاقے کے آبی ذخائر میں ماہی گیری اور دیگر سرگرمیاں مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ تھیں۔ پانی کی سطح اور آبی مسکن میں تبدیلی کے اثرات نے ان سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

    اس کے باوجود نریڑی کو مکمل طور پر ختم شدہ یا مردہ جھیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے آبی رقبے میں نمایاں کمی کے شواہد موجود ہیں، لیکن 2025-26 میں 171,171 نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ اب بھی پرندوں کے لیے اہم مسکن کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    تصویر میں دکھائی دینے والا وسیع کیچڑ زدہ اور خشک منظر اس تبدیلی کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ تاہم ساحلی جھیلوں میں پانی کی سطح موسم اور مدوجزر کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے کسی ایک وقت کی تصویر کو جھیل کی مکمل سالانہ صورتحال کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسری طرف طویل مدتی سیٹلائٹ تحقیق میں نریڑی کے آبی رقبے میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جو موسمی اتار چڑھاؤ سے کہیں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    نریڑی کی کہانی بنیادی طور پر پانی کی کہانی ہے۔ اس جھیل کا مستقبل صرف مقامی بارشوں یا سمندری مدوجزر سے وابستہ نہیں بلکہ دریائے سندھ کے مجموعی بہاؤ اور زیریں ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار اور وقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

    نریڑی کا مقام اسے مزید اہم بنا دیتا ہے۔ یہ زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا، ساحلی آبی علاقوں اور پاکستان بھارت سرحدی خطے کے قریب واقع ایک ایسا مقام ہے جس کی اہمیت مقامی حدود سے کہیں آگے ہے۔ رامسر سائٹ کی حیثیت اس کی بین الاقوامی ماحولیاتی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ یہاں ہر سال آنے والے ہزاروں نقل مکانی کرنے والے پرندے اس کے مسلسل حیاتیاتی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    نریڑی کا مستقبل اس بات سے گہرا تعلق رکھتا ہے کہ دریائے سندھ کا کتنا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا ہے، آبی علاقوں کو کتنا میٹھا پانی دستیاب رہتا ہے اور ان علاقوں کو آلودگی، نمکیات اور انسانی دباؤ سے کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ نریڑی میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار واضح ہیں، لیکن اس کا موجودہ پرندوں کا مسکن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ آبی علاقہ اب بھی زندہ ہے اور اس کے تحفظ کی اہمیت برقرار ہے۔

  • زاویہ: سندھ کا ڈوبتا ڈیلٹا اور پانی کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ

    زاویہ: سندھ کا ڈوبتا ڈیلٹا اور پانی کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ

    آج آئیے سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کے ایک اور اہم پہلو پر بات کرتے ہیں، یعنی پانی کی سیاست میں طاقت کی غیر مساوات اور پنجاب کو تاریخی طور پر حاصل رہی ترجیح۔

    سندھ طاس کے ڈیلٹا کی تباہی کی کہانی صرف پانی کم ہونے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کی غیر مساوات کی کہانی بھی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پانی کہاں گیا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کے بارے میں فیصلے کرنے کی طاقت تاریخی طور پر کس کے پاس رہی، پانی کا بنیادی ڈھانچہ کہاں بنایا گیا، ترقی کی تعریف کس نے کی، اور اس ترقی کی قیمت آخر کس نے ادا کی؟

    برطانوی دور حکومت میں پنجاب کو سندھ طاس کی نوآبادیاتی زرعی معیشت کا مرکز بنایا گیا۔ انگریزوں کے لیے پنجاب صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ آمدنی، زرعی پیداوار اور سیاسی کنٹرول کے لیے انتہائی اہم خطہ تھا۔ نہری آبادیاں قائم کی گئیں، نئی نہریں کھودی گئیں، بیراج اور آبپاشی کا ایک بڑا نظام قائم کیا گیا، اور پانی کو اس طرح منظم کیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ زمین کو مستقل آبپاشی کے نظام میں لایا جا سکے۔

    اس سے پنجاب کی زرعی معیشت مضبوط ہوئی، لیکن اسی کے ساتھ دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں نچلے علاقوں کی طرف کمی اور تبدیلی شروع ہوگئی۔ ہماری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی دور میں پانی کے انتظام اور تقسیم کا جو نظام قائم ہوا، وہ وقت کے ساتھ اتنا مضبوط ہوگیا کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اسی راستے پر چلتا رہا۔

    1947 میں نیا ملک قائم ہوا، لیکن پانی کی حکمرانی کا پرانا نقشہ زیادہ نہیں بدلا۔ بلکہ قومی ترقی کے نام پر اسے مزید طاقت مل گئی۔ اب دلیل نوآبادیاتی آمدنی کی نہیں تھی، بلکہ نئے الفاظ استعمال کیے گئے، ترقی، غذائی تحفظ، آبپاشی، پن بجلی اور قومی مفاد۔ لیکن نتیجہ بڑی حد تک وہی رہا: مزید بیراج، مزید نہریں، مزید رابطہ نہریں، مزید پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور پانی کے بالائی بہاؤ پر مزید کنٹرول۔

    ہم نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس پوری کہانی کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اگر 1860 سے 1980 تک پانی سے متعلق بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو صوبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو علاقائی فرق بہت واضح نظر آتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق تقریباً 67 فیصد بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری پنجاب میں کی گئی تھی۔

    سندھ، بلوچستان اور دوسرے علاقوں کے مقابلے میں پنجاب میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کا بہت زیادہ ارتکاز پیدا ہوا۔ یہ صرف نقشے پر بنے ہوئے چند مقامات نہیں ہیں۔ ہر بیراج، نہر، رابطہ نہر اور پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ پر ایک نیا ادارہ جاتی کنٹرول بھی پیدا کرتا ہے۔

    یہاں ایک مشہور قومی بیانیے کو بھی سمجھنا ضروری ہے: ‘پنجاب پاکستان کی غذائی ٹوکری ہے۔’ اس جملے میں بذات خود کوئی غلط بات نہیں۔ پنجاب واقعی ملک کی زرعی پیداوار میں بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس حقیقت کو اس سیاسی دلیل میں تبدیل کردیا جائے کہ پنجاب کی طرف زیادہ پانی جانا خود بخود قومی مفاد ہے، جبکہ کوٹری سے نیچے پانی چھوڑنے کو سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کے طور پر پیش کیا جائے۔

    اسی لیے ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں اسے ‘بیانیاتی طاقت’ کا نام دیا ہے۔ یعنی طاقت صرف ڈیم یا بیراج پر قبضہ کرنے کا نام نہیں، طاقت یہ بھی ہے کہ آپ کسی چیز کے معنی طے کرسکیں۔ اگر پنجاب میں جانے والے پانی کو غذائی تحفظ کہا جائے، لیکن یہی پانی سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی طرف جائے تو اسے ‘سمندر میں بہہ جانے والا پانی’ یا ‘ضائع شدہ پانی’ کہا جائے، تو پھر یہ صرف پانی کے بہاؤ کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ سیاست بن جاتا ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق پنجاب کی پانی کی ضروریات کو تاریخی طور پر قومی ترقی اور غذائی تحفظ کی زبان کے ساتھ جوڑا گیا، جبکہ سندھ کے ماحولیاتی بہاؤ کے مطالبے کو اکثر ترقی کی مخالفت کے طور پر پیش کیا گیا۔

    لیکن دریا کا پانی سمندر تک پہنچنا ضائع ہونا نہیں ہے۔ یہ پانی اپنے ساتھ مٹی اور دریائی تلچھٹ لے کر جاتا ہے، سمندری نمکین پانی کو پیچھے دھکیلتا ہے، مینگرووز کے جنگلات کو زندہ رکھتا ہے، مچھلیوں کی افزائش اور ماہی گیری کو برقرار رکھتا ہے، دریائی کھاڑیوں میں میٹھے پانی کی مقدار بڑھاتا ہے، زمین کو سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور لاکھوں لوگوں کے روزگار اور زندگی کے نظام کو برقرار رکھتا ہے۔ جو پانی انجینئرنگ کے حساب کتاب میں ‘بہہ جانے والا’ یا ‘ضائع’ دکھائی دیتا ہے، وہ ڈیلٹا کے لیے زندگی ہے۔

    ہم نے اپنے تحقیقی مقالے میں ‘آبی بالادستی’ کو تین حصوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ پہلا حصہ ‘مادی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس ڈیم، بیراج، نہریں اور پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ زیادہ ہو، اس کے پاس پانی پر عملی کنٹرول بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ ‘مذاکراتی طاقت’ ہے۔ جن مفادات کو طاقتور وفاقی اداروں اور پانی سے متعلق فیصلہ سازی میں زیادہ اہمیت حاصل ہو، وہ پانی کے اصولوں اور تقسیم پر زیادہ اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

    تیسرا حصہ ‘بیانیاتی طاقت’ ہے۔ جس کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ اپنی پانی کی ضرورت کو قومی مفاد اور غذائی تحفظ کے طور پر پیش کرے اور زیریں علاقوں کی پانی کی ضرورت کو غیر ضروری یا ترقی مخالف قرار دے۔ طاقت کی یہ تینوں شکلیں مل کر ایسا نظام بناتی ہیں جس میں قانونی اور رسمی برابری تو موجود ہوتی ہے، لیکن عملی نتائج برابر نہیں ہوتے۔

    اس پس منظر میں 1955 سے 1970 تک قائم رہنے والے ون یونٹ نظام کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمارے مقالے کے مطابق ون یونٹ نے صوبائی نمائندگی کو کم کیا اور پانی کی پالیسی میں بالائی علاقوں کے طاقتور طبقوں کو زیادہ اثر و رسوخ دیا۔ اسی دور میں سندھ طاس معاہدہ اور بڑے پیمانے پر پانی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا نظام مزید مضبوط ہوا۔ اس کے بعد منگلا، تربیلا، رابطہ نہروں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے ایسا ادارہ جاتی نظام قائم ہوگیا جسے بعد میں تبدیل کرنا مزید مشکل ہوتا گیا۔

    اب اس کے زیریں علاقوں پر اثرات دیکھیں۔ 1960 کی دہائی کے بعد کوٹری بیراج سے نیچے دریائے سندھ کا بہاؤ تیزی سے کم ہوا۔ کئی برسوں میں سالانہ بہاؤ 10 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم رہا اور بعض ادوار میں تقریباً ختم ہی ہوگیا۔ یعنی بڑھتا ہوا بنیادی ڈھانچہ اور کم ہوتا ہوا میٹھے پانی کا بہاؤ ایک دوسرے سے الگ کہانیاں نہیں ہیں۔

    ہماری تحقیق میں واقعات اور پالیسیوں کے تسلسل کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی کہ بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی سے متعلق فیصلوں نے سندھ کے ڈیلٹا کے ماحولیاتی مستقبل کو تشکیل دیا۔

    اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پنجاب کا کسان دشمن ہے یا پنجاب کو پانی نہیں ملنا چاہیے۔ ہماری تحقیق ایسی کوئی بات نہیں کہتی۔ اصل سوال صوبے کے خلاف صوبہ نہیں ہے، بلکہ ایسے نظام حکمرانی کا ہے جو ایک علاقے کے معاشی فوائد کو قومی مفاد بنا دیتا ہے، لیکن دوسرے علاقے کی ماحولیاتی بقا کو وہی سیاسی اہمیت نہیں دیتا۔

    ہمیں ‘غذائی ٹوکری’ کی دلیل پر دوبارہ سوچنا ہوگا۔ ملک کو خوراک ضرور چاہیے، لیکن غذائی تحفظ کیا صرف گندم اور گنے کا نام ہے؟ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی مچھلیاں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ وہاں کی زراعت غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہے؟ مویشی پالنے والے لوگوں کی چراگاہیں غذائی تحفظ کا حصہ نہیں ہیں؟ پینے کے صاف پانی کا تحفظ قومی مفاد نہیں ہے؟ مینگرووز اور ماہی گیری کی تباہی سے ختم ہونے والی معیشت قومی نقصان نہیں ہے؟

    اگر ایک علاقے کے ہر ایکڑ کو پانی دینا ترقی ہے، لیکن دوسرے علاقے کو سمندر میں ڈوبنے اور سمندر کے آگے بڑھنے سے بچانے کے لیے پانی چھوڑنا ‘ضیاع’ ہے، تو پھر مسئلہ پانی کی کمی سے زیادہ طاقت کی تعریف کا ہے۔

    اسی لیے ہماری تحقیق کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے بحران کو صرف پانی کے بہاؤ کے علم کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسے طاقت کی غیر مساوات کے ذریعے بھی سمجھنا ہوگا۔ تاریخی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، مرکزی اداروں کا کنٹرول اور قومی مفاد کے بیانیے نے مل کر ایسا آبی بالادستی کا نظام قائم کیا ہے جس کا فائدہ بالائی علاقوں کو زیادہ حاصل ہوا، جبکہ اس کی ماحولیاتی قیمت زیریں سندھ اور سندھ کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کو زیادہ ادا کرنا پڑی۔

    اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پنجاب کو پانی کیوں ملتا ہے؟ سوال یہ ہونا چاہیے کہ دریائے سندھ کے پانی کے بارے میں قومی مفاد کی تعریف میں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی بقا کیوں شامل نہیں ہے؟

    شاید اب ہمیں ‘پاکستان کی غذائی ٹوکری’ کے ساتھ ایک اور جملہ بھی سیکھنا ہوگا: ‘دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک پہنچنے والا پانی ضائع شدہ پانی نہیں، بلکہ پاکستان کی ماحولیاتی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔’