Tag: زاویہ

  • زاویہ: دھرتی کے خاموش پاسبان: بین الاقوامی یوم چٹان پر کارونجھر، کھیرتھر اور ہنگول کی بقا کا مقدمہ

    زاویہ: دھرتی کے خاموش پاسبان: بین الاقوامی یوم چٹان پر کارونجھر، کھیرتھر اور ہنگول کی بقا کا مقدمہ

    انسان نے جب تہذیب کی پہلی اینٹ رکھی تو اس کے ہاتھ میں پتھر تھا۔ جب اس نے اپنے عقائد کو لافانی بنانا چاہا تو چٹانوں کے سینے پر کتبے تراشے۔ آج 13 جولائی 2026 کو جب دنیا بھر میں چٹانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو یہ محض زمین کے ایک ٹھوس ارضیاتی ڈھانچے کا جشن نہیں بلکہ اس خاموش، قدیم اور غیور پاسبان کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جس کی گود میں انسانی تمدن، لامتناہی حیاتیاتی تنوع اور کرہ ارض کا مادی توازن سانس لے رہا ہے۔

    بدقسمتی سے ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی کی اندھی ہوس نے دھرتی کے ان قدیم ماحولیاتی ستونوں کو محض ‘معدنیات کی منڈی’ سمجھ لیا ہے۔ وادی سندھ کے تاریخی جغرافیے اور اس سے متصل مکران و لسبیلہ کے ساحلی پہاڑی سلسلوں پر نظر دوڑائیں تو کارونجھر کی ابدی گرینائٹ چٹانیں، کھیرتھر کا وسیع چونے کے پتھر کا قلعہ اور ہنگول کا ماورائی منظر پیش کرنے والا چٹانی شاہکار اس وقت تاریخ کے بدترین ماحولیاتی بحران اور انسانی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

     یہ مضمون ان چٹانی سلسلوں کی حیاتیاتی، تمدنی اور معاشی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے ان کو لاحق ہولناک خطرات اور ان کے پائیدار تحفظ کے لیے ایک جامع، سائنسی اور صحافتی مقدمہ پیش کرتا ہے۔

    کسی خطے کے ماحولیاتی اور حیاتیاتی نظام میں چٹانوں کی بنیادی اہمیت

    چٹانیں کسی بھی ماحولیاتی نظام میں وہی حیثیت رکھتی ہیں جو انسانی جسم میں ہڈیوں کے ڈھانچے کی ہوتی ہے۔ یہ بے جان پتھر نہیں بلکہ حیات نو کا سرچشمہ ہیں۔

    آبی تحفظ کے قدرتی مراکز

    پہاڑی چٹانیں قدرتی طور پر آبی ذخیرہ گاہوں کا کام کرتی ہیں۔ مون سون یا بارانی بارشوں کا پانی جب ان چٹانوں پر گرتا ہے تو یہ اس پانی کو ضائع ہونے سے روکتی ہیں۔ چٹانوں کی دراڑوں اور مساموں سے رس رس کر پانی زیر زمین جاتا ہے، جو نہ صرف مٹیالے پانی کو صاف کر کے میٹھے پانی کے چشموں کو جنم دیتا ہے بلکہ پورے خطے کی زیر زمین آبی سطح کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

    مٹی کی تخلیق اور نباتاتی بقا

    چٹانوں کے کٹاؤ اور موسمیاتی اثرات کے لاکھوں سالہ عمل سے ہی وہ زرخیز مٹی بنتی ہے جو معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پہاڑی چٹانوں کی اوٹ میں ایسے نایاب درخت، گھاس اور جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو شدید ترین قحط اور موسمی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مقامی مال مویشیوں کے لیے چارے کا واحد ذریعہ بنتی ہیں۔

    جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہیں

    چٹانوں کے قدرتی غار، عمودی چوٹیاں اور گہری کھائیاں چرند پرند کے لیے قدرتی قلعے کا کام کرتی ہیں۔ عقاب اور گدھ جیسے نایاب پرندے ان چٹانی بلندیوں پر گھونسلے بناتے ہیں، جبکہ پہاڑی بکرے، چیتے اور دیگر نایاب درندے ان غاروں میں اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔

    انسانی تمدن کی ڈھال

    تاریخ گواہ ہے کہ چٹانی سلسلوں نے ہمیشہ سیلابوں کے ہولناک رخ موڑے ہیں، صحرائی اور سرد ہواؤں کے سامنے فصیل بن کر مقامی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور صدیوں سے انسانوں کو پناہ، روزگار اور ثقافتی شناخت دی ہے۔

    کارونجھر کی چٹانیں، تھر کے ماتھے کا گلابی تاج جو بارود کے ڈھیر پر ہے

    ضلع تھرپارکر کے آخری قصبے نگرپارکر میں واقع ‘کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ’ تقریباً 19 کلومیٹر طویل ہے۔ ارضیاتی سائنس کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین چٹانی سلسلوں میں سے ایک ہے، جس کی عمر 3.5 سے 5 ارب سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ بنیادی طور پر انتہائی قیمتی اور خوبصورت ‘گلابی گرینائٹ’ اور آتش فشانی پتھروں پر مشتمل ہے۔

    جغرافیائی، تاریخی اور مذہبی سحر

    کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ تاریخ، تصوف اور قدیم مذاہب کا ایک حسین سنگم ہے۔ ہندو عقائد اور جین مت میں اسے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، جہاں مقامی روایات کے مطابق 108 مقدس آستان موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم ‘ساردھرو دھام’ ہے، جسے ہندو مت میں دریائے گنگا کے بعد اشنان کا دوسرا بڑا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں عقیدت مند اپنے پیاروں کی خاک ارپن کرتے ہیں۔

    یہاں کارونجھر کی چٹانوں کے بیچ بہتا ہوا سدا بہار قدرتی چشمہ اور انچلیشور مہادیو مندر واقع ہے۔ پاک بھارت سرحد کے بالکل قریب واقع چوڑیو جبل کی چوٹی پر ماتا درگا کا مندر سیاحوں کے لیے ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ خطہ ماضی میں بین الاقوامی تجارتی بندرگاہ ‘پاری نگر’ کا حصہ تھا۔ یہاں پہاڑ کے دامن میں واقع ‘بھوڈیسر تالاب’ میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اور سردیوں میں مہاجر پرندے ڈیرے ڈالتے ہیں۔ اسی تالاب کے قریب سفید سنگ مرمر سے بنی تاریخی ‘بھوڈیسر مسجد’ موجود ہے، جسے گجرات کے سلطان محمود بیگڑا نے 1505 میں تعمیر کروایا تھا، جو اسلامی اور مقامی فن تعمیر کا شاہکار ہے۔

    اس کے پاس ہی چودھویں صدی کے قدیم ‘جین مندر’ قائم ہیں، جن کے پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

    نایاب جنگلی حیات کا گڑھ

    تھر کے تپتے ریگستان کے بیچوں بیچ کارونجھر کا یہ سبز چٹانی سلسلہ نایاب جنگلی حیات کی آخری پناہ گاہ ہے۔ یہ دنیا کے ان چند آخری مقامات میں سے ایک ہے جہاں سفید پشت والے گدھ اور لمبی چونچ والے گدھ پائے جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

    یہاں کی وادیاں ہزاروں دیسی موروں کا مسکن ہیں، جن کا مون سون کی بارشوں میں چٹانوں پر رقص ایک سحر انگیز منظر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چنکارا ہرن، نیل گائے، صحرائی لومڑی، بھیڑیے، سرمئی اور کالا تیتر اور چکور ان چٹانوں کی اوٹ میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

    کارونجھر کو لاحق خطرات: کٹاؤ اور بارود کا کھیل

    کارونجھر کا سب سے بڑا المیہ اس کا یہی قیمتی ‘گلابی گرینائٹ’ ہے۔ کان کنی مافیا اور کارپوریٹ ہوس کی نظریں اس پہاڑ کو کھا رہی ہیں۔ یہاں گرینائٹ کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کے لیے ڈائنامائٹ کے ہولناک دھماکے کیے جاتے ہیں۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں:

    پہاڑ کا قدرتی ارضیاتی توازن بگڑ چکا ہے، جس سے 20 سے زائد بارانی اور قدرتی چشمے، جیسے اینچلیشور اور گؤمکھی، خشک ہو رہے ہیں، جو تھر کے انسانوں اور مال مویشیوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں۔

    بارود کے دھماکوں اور مشینوں کے شور کی وجہ سے نایاب گدھ، چنکارا اور مور ان پہاڑیوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا مر رہے ہیں۔

    چودھویں صدی کے نایاب جین مندروں کی چٹانی بنیادیں ہل چکی ہیں اور ان قدیم عمارتوں پر دراڑیں آ گئی ہیں۔ اگرچہ سندھ ہائی کورٹ نے کان کنی پر پابندی کے تاریخی فیصلے دیے ہیں، لیکن چوری چھپے کٹاؤ کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

    کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ، چونے کے پتھر کا قلعہ جو سیمنٹ فیکٹریوں کی نذر ہو رہا ہے

    سندھ اور بلوچستان کی جغرافیائی سرحد پر واقع کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر رسوبی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ کھیرتھر نیشنل پارک کے تحت محفوظ ہے، جو 3,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا تیسرا بڑا نیشنل پارک ہے۔

    قبل از تاریخ کے نقوش اور سیاحتی عجائبات

    کھیرتھر تمدنی اور مہم جوئی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس کی چٹانوں میں قبل از تاریخ دور کے انسانوں کی بنائی ہوئی چٹانی تصویریں اور قدیم غار موجود ہیں۔ یہاں مریدانی زرتشتیوں، پارسیوں، کے قدیم مقبرے اور آثار بھی ملتے ہیں۔

    کھیرتھر کے سائے میں ‘تائونگ’ کے مقام پر پتھروں سے بنے ہوئے چوکنڈی طرز کے سینکڑوں سال پرانے مقبرے موجود ہیں، جن پر قدیم جنگجوؤں اور روایتی زیورات کی نقش و نگاری ہے۔

    سیاحتی اعتبار سے یہاں دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ‘رانی کوٹ’ واقع ہے، جسے ‘دیوار سندھ’ کہا جاتا ہے۔ اس کی فصیلیں کھیرتھر کی چٹانوں پر 32 کلومیٹر تک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کھیرتھر کی سب سے اونچی چوٹی ‘گورکھ ہل اسٹیشن’ 5,688 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جسے ‘سندھ کا مری’ کہا جاتا ہے، جہاں کا درجہ حرارت سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور یہ ستارہ بینی کے لیے مشہور ہے۔

    کراچی کے قریب گڈاپ اور جامشورو کی سرحد پر کھیرتھر کی چٹانوں کے درمیان واقع پچران آبشار اور کیرچھات سیاحتی مرکز مہم جوئی کے لیے بہترین مقامات ہیں۔

    حیاتیاتی تنوع کی سلطنت

    کھیرتھر نیشنل پارک نایاب ترین جنگلی حیات کا مسکن ہے۔

    سندھ آئی بیکس

    خوبصورت مڑے ہوئے سینگوں والا یہ جنگلی بکرا کھیرتھر کی عمودی اور دشوار گزار چٹانوں پر حیرت انگیز پھرتی سے چلتا ہے اور یہی اس پارک کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

    بلینڈ فورڈ اڑیال

    یہ جنگلی بھیڑ کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے، جو صرف ان خشک چٹانی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

    نایاب جنگلی بلیاں

    حال ہی میں خودکار کیمروں کے ذریعے یہاں انتہائی پراسرار اور نایاب سیاہ گوش اور ریتلی بلی کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیاہ گوش اپنے کانوں کے اوپر بالوں کے گچھوں اور ہوا میں اچھل کر پرندوں کو پکڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔

    یہاں ہندوستانی بھیڑیا، لگڑ بھگا اور شہد خور بجو بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ ناپید ہو جانے والے کالے ہرن کو دوبارہ یہاں آباد کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

    کھیرتھر کو لاحق خطرات: تجارتی کان کنی اور ڈرلنگ

    کھیرتھر کا ماحولیاتی نظام اس وقت بارود اور بھاری مشینری کے بوٹوں تلے کچلا جا رہا ہے۔

    سیمنٹ فیکٹریوں کے لیے کان کنی

    سیمنٹ کی تیاری کے لیے کھیرتھر کے چونے کے پتھر کو بے رحمی سے کاٹا اور کرش کیا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کے پورے کے پورے حصے غائب کیے جا رہے ہیں، جس سے چٹانوں کی ساخت کمزور ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے۔

    تیل و گیس کی ڈرلنگ

    نیشنل پارک کی حدود کے اندر اور اس کے اطراف میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ اور دھماکوں نے خاموش جنگلی حیات، خصوصاً آئی بیکس اور اڑیال، کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ان کی افزائش نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    بارانی ندیوں کی تباہی

    چٹانوں کی کٹائی سے گاج ندی جیسے بارانی ندی نالوں کا قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے، جو دادو اور جامشورو کے اضلاع کو سیراب کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی تیزی سے خشک ہو رہا ہے۔

    ہنگول نیشنل پارک کی چٹانیں، خلائی منظرنامہ اور انسانی مداخلت کی دیمک

    اگرچہ ہنگول نیشنل پارک کھیرتھر کا حصہ نہیں بلکہ بلوچستان کے مکران ساحلی پہاڑی سلسلے، ضلع لسبیلہ، آواران اور گوادر، میں واقع ہے، لیکن یہ تقریباً 6,190 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے۔

    اپنی خلائی منظرنامے سے مشابہ چٹانی ساخت کے باعث یہ دنیا بھر میں ایک منفرد ارضیاتی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں لاکھوں سال تک سمندری ہواؤں اور پانی کے کٹاؤ نے چٹانوں کو حیرت انگیز قدرتی مجسموں کی شکل دے دی ہے۔

    ہنگول کی چٹانی کائنات

    مذہبی تقدس اور بین المذاہب ہم آہنگی: دریائے ہنگول کے کنارے پہاڑوں کی غار نما چٹانوں میں واقع ‘ہنگلاج ماتا مندر’ ہندو مت کے مقدس ترین مقامات، 51 شکتی پیٹھوں، میں شمار ہوتا ہے۔ عقیدے کے مطابق یہاں دیوی ستی کا ماتھا گرا تھا۔ ہر سال اپریل میں یہاں ہنگلاج یاترا ہوتی ہے، جہاں لاکھوں یاتری جمع ہوتے ہیں۔

    وہ یہاں موجود 300 فٹ اونچے مٹی کے متحرک آتش فشاں ‘چندر گپ’ پر چڑھ کر پوجا کرتے ہیں۔ اس مقام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ مقامی مسلم برادری اسے ‘نانی اماں کا آستانہ’ کہتی ہے اور صدیوں سے مسلمان ہی اس مندر کے محافظ ہیں۔

    سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی یہاں کا روحانی سفر کیا اور اپنے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ‘سر رپ’ اور ‘سر رامکلی’ میں ان جوگیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو نانی کے آستانے کی طرف مائل سفر تھے۔ تاریخی طور پر 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوج کا ایک بڑا حصہ بھی اسی چٹانی مکران ساحلی راستے سے گزرا تھا۔

    قدرت کے تراشے ہوئے شاہکار اور نایاب حیات

    مکران ساحلی شاہراہ کے کنارے کھڑی چٹانیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی نے پتھروں کا شہر آباد کر رکھا ہے۔ یہاں ‘امید کی شہزادی’ نامی چٹانی مجسمہ موجود ہے، جس کا یہ نام ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے رکھا تھا، اور ہو بہو مصر کے مجسمے جیسا ‘بلوچستان کا ابوالہول’ بھی موجود ہے۔

    یہاں کی چٹانی کھائیاں امریکہ کے گرینڈ کینین کی یاد دلاتی ہیں، اسی مناسبت سے انہیں ‘پاکستان کا گرینڈ کینین’ کہا جاتا ہے، جہاں نیلے سمندر کا ساحل کنڈ ملیر ان چٹانوں سے آ ملتا ہے۔ یہ چٹانیں آئی بیکس، چیتوں، ہنگول ندی کے نایاب اود بلاؤ اور مگرمچھوں کی محفوظ پناہ گاہ ہیں۔

    ہنگول کو لاحق خطرات: بے ہنگم سیاحت کی دیمک: اگرچہ ہنگول میں کارونجھر کی طرح کان کنی اس سطح پر نہیں ہے، لیکن یہاں کا بحران مختلف نوعیت کا ہے۔

    پلاسٹک اور ماحولیاتی آلودگی

    کنڈ ملیر بیچ اور مکران ساحلی شاہراہ پر آنے والے لاکھوں بے ہنگم سیاحوں نے ان نازک مٹیالی چٹانوں اور وادیوں کو کچرے دان میں تبدیل کر دیا ہے۔ پلاسٹک کے کچرے کی وجہ سے نایاب جنگلی جانور اور سمندری حیات موت کے منہ میں جا رہی ہے۔

    انسانی مداخلت اور ساخت کو نقصان

    تعمیراتی سرگرمیوں، تجارتی دکانوں اور ساحلی شاہراہ کے اطراف بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کی وجہ سے ہوا اور مٹی سے بنے یہ نازک چٹانی شاہکار، جیسے ‘بلوچستان کا ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’، اپنی اصل ارضیاتی ساخت کھو رہے ہیں، جبکہ لوگ ان پر چڑھ کر ان کی مٹیالی تہوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ان چٹانی اثاثوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

    ہم اپنے ان جغرافیائی اور تمدنی تاجوں کو یوں مٹنے نہیں دے سکتے۔ ان چٹانوں کا تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل فوری اور پائیدار اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    کارونجھر کے لیے: عالمی ورثے کا درجہ اور کان کنی کا مستقل خاتمہ

    کارونجھر کے مقامی لوگ سچ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر سونا دیتا ہے’۔ ان کا سونا یہ گرینائٹ نہیں بلکہ وہ پانی اور جڑی بوٹیاں ہیں جو انہیں تھر میں زندہ رکھتی ہیں۔

    قانونی تحفظ

    حکومت سندھ کو چاہیے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کارونجھر پر کان کنی کو ہمیشہ کے لیے ناقابل ضمانت جرم قرار دے۔

    عالمی ورثے کا درجہ

    کارونجھر کو اس کے قدیم جین مندروں، گرینائٹ چٹانوں اور نایاب گدھوں کی وجہ سے عالمی حیاتیاتی اور ثقافتی ورثہ قرار دلوانے کے لیے سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ذریعے فوری طور پر مقدمہ تیار کر کے بین الاقوامی سطح پر پیش کرے۔

    کھیرتھر کے لیے: کان کنی سے پاک علاقہ اور نیشنل پارک قوانین کا نفاذ

    سیمنٹ فیکٹریوں کی منتقلی

    کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود سے کم از کم 50 کلومیٹر کے دائرے تک چونے کے پتھر کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور سیمنٹ فیکٹریوں کو متبادل غیر حساس مقامات پر منتقل کیا جائے۔

    ماحول دوست سیاحت

    گورکھ ہل اور رانی کوٹ جیسے مقامات پر تجارتی ہوٹلنگ کے بجائے خیمہ بستیوں اور ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ آئی بیکس اور نایاب جنگلی بلیوں، خصوصاً سیاہ گوش، کا مسکن محفوظ رہے۔

    ہنگول کے لیے: منظم سیاحت اور پلاسٹک پر پابندی

    پلاسٹک سے پاک علاقہ: ہنگول نیشنل پارک اور کنڈ ملیر بیچ کی حدود میں ہر قسم کے غیر تحلیل ہونے والے پلاسٹک کے داخلے پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں۔ پارک کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

    حفاظتی باڑ اور نگرانی: ‘بلوچستان کے ابوالہول’ اور ‘امید کی شہزادی’ جیسی چٹانی ساختوں کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے تاکہ سیاح ان پر چڑھ کر انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں، جبکہ دور سے مشاہدے کے لیے نگرانی کے ٹاور قائم کیے جائیں۔

    مقامی آبادی کی شمولیت

    کسی بھی پارک یا چٹان کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں کے مقامی لوگوں کو اس کا حصہ نہ بنایا جائے۔ تھر کے نگرپارکر، کھیرتھر کے گڈاپ اور جامشورو، اور ہنگول کے لاسی اور بلوچ باشندوں کو جنگلی حیات کے محافظوں کے طور پر بھرتی کیا جائے، جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ مقامی اسکولوں، اسپتالوں اور پانی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ وہ خود ان چٹانوں کے محافظ بنیں۔

    چٹانیں بولتی نہیں ہیں، لیکن جب وہ ٹوٹتی ہیں تو ان کی خاموشی پورے خطے کو قبرستان بنا دیتی ہے۔ اگر کارونجھر کا گرینائٹ ختم ہو گیا تو تھر پیاس سے مر جائے گا۔ اگر کھیرتھر کا چونا پتھر کٹ گیا تو سندھ کی جنگلی بکری تاریخ کی کتابوں میں گم ہو جائے گی، اور اگر ہنگول کی چٹانیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں تو ہم قدرت کے ایک عظیم شاہکار سے محروم ہو جائیں گے۔

    چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ترقی کے نام پر اپنے ان تاریخی اور ماحولیاتی ستونوں کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ پہاڑ ہماری زمین کا تاج ہیں، اور تاج بیچے نہیں جاتے، ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔

  • زاویہ: مشرق کی ملکہ سے لاوارث میگاسٹی تک، کراچی کا معاشی استحصال، مافیاز کا راج اور بوگوٹا، ممبئی ماڈل میں حل

    زاویہ: مشرق کی ملکہ سے لاوارث میگاسٹی تک، کراچی کا معاشی استحصال، مافیاز کا راج اور بوگوٹا، ممبئی ماڈل میں حل

    کسی دانا کا قول ہے کہ شہر محض مٹی، گارے اور کنکریٹ کی بے جان عمارتوں کا نام نہیں ہوتے، بلکہ شہر اپنے والی وارثوں، شہری ملکیت، تمدنی جمالیات اور انتظامی نظم و ضبط سے زندہ رہتے ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے تاریخی مراکز کو لاوارث چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج جب ہم ‘عالمی قابل رہائش شہروں کے اشاریے’ کو دیکھتے ہیں، تو پاکستان کا دل، اس کا معاشی انجن اور کبھی ‘روشنیوں کا شہر’ کہلانے والا کراچی دنیا کے بدترین اور ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست میں آخری نمبروں پر سسکتا ہوا نظر آتا ہے۔

    یہ محض ایک شہر کے بنیادی ڈھانچے کا زوال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے شاندار تاریخی، ثقافتی اور معاشی تمدن کی بتدریج تباہی ہے جو کبھی برطانوی راج میں ‘مشرق کی ملکہ’ اور ‘برطانوی تاج کا ہیرا’ کہلاتا تھا۔

    اگر ہم تاریخ کے پنّے پلٹیں، تو 1920 اور 1930 کی دہائی کا کراچی ایک خوبصورت رومانوی خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی کے پہلے پارسی میئر، جمشید نسروانجی، جنہیں تاریخ محبت سے ‘بابائے کراچی’ کہتی ہے، کے وژن کے تحت شہر کی سڑکیں روزانہ سمندر کے پانی اور جراثیم کش ادویات سے دھوئی جاتی تھیں۔ شہر کا زیرِ زمین سیوریج نظام اتنا جدید اور مربوط تھا کہ مون سون کی شدید بارشوں کا پانی بھی منٹوں میں غائب ہو جاتا تھا اور شہری زندگی بحال رہتی تھی۔

    دملوتی کے تاریخی کنوؤں کے آبی فراہمی کے نظام سے شہریوں کو چوبیس گھنٹے صاف، شفاف اور مفت پانی ملتا تھا، اور سڑکوں پر پٹریوں پر دوڑتی ٹرامیں عوام کو ماحول دوست، سستا اور باوقار سفر فراہم کرتی تھیں۔

    سب سے بڑھ کر، اس دور کے کراچی میں سیاسی، لسانی یا فرقہ وارانہ عصبیت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پارسی، ہندو، مسلمان، عیسائی اور یہودی نہ صرف مل جل کر رہتے تھے بلکہ شہر کی ترقی میں برابر کے شراکت دار تھے۔ دھرتی کے متمول ہندو اور پارسی خاندانوں نے اپنے سرمائے سے ایسے ہسپتال، اسکول اور لائبریریاں بنوائیں جو بلا تفریقِ رنگ و نسل سب کے لیے کھلی تھیں۔ فریئر ہال، ایمپریس مارکیٹ، ڈی جے سائنس کالج اور کے ایم سی بلڈنگ جیسے شاندار تاریخی ورثے اس دور کی بلدیاتی خودمختاری، سیاسی رواداری اور شہری جمالیات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

    روشنیوں کا شہر اندھیروں کی نذر کیسے ہوا؟

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشرق کی ملکہ رفتہ رفتہ اندھیروں کی نذر کیسے ہو گئی؟ اور وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اس ترقی یافتہ یورپی طرز کے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا؟

    اس تمدنی المیے کا پہلا بڑا سبب 1947 کی تقسیمِ ہند، قدیم مقامی آبادی کا انخلا اور اس کے بعد آبادی کا بے تحاشا جغرافیائی و تزویراتی دباؤ ہے۔ تقسیم سے پہلے کا کراچی ایک پڑھا لکھا، پرامن اور بے حد منظم معاشرہ تھا۔ تقسیم کے بعد جب یہاں کے قدیم ہندو اور پارسی خاندان، جو یہاں کے اصل تاجر، ماہرینِ تعلیم، معمار اور وکیل تھے، ہجرت کر کے بھارت یا دیگر ممالک چلے گئے، تو کراچی ایک دم سے اپنے ان مخلص اور تجربہ کار معماروں سے محروم ہو گیا جنہوں نے اس شہر کو تراشا تھا۔ یہ ایک ایسا تہذیبی نقصان تھا جس کی تلافی آج تک نہ ہو سکی۔

    اس قدیم آبادی کے انخلا کے ساتھ ہی کراچی کو نئے ملک پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا، جس کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا آغاز ہوا۔ 1941 کی مردم شماری میں جس شہر کی آبادی محض چار لاکھ کے قریب تھی، وہ 1951 تک، یعنی صرف چند سالوں میں، بڑھ کر دس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بھارت کے اتر پردیش، وسطی صوبوں، حیدرآباد اور دہلی سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین ہجرت کر کے کراچی آئے۔ شہر کے پاس اتنی بڑی آبادی کو فوری طور پر سنبھالنے کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ عارضی کیمپ بنے اور قائدِ اعظم کے مزار کے آس پاس کی زمینوں پر کچی بستیاں قائم ہوئیں، جس سے شہر کی ابتدائی منصوبہ بندی ہمیشہ کے لیے پٹری سے اتر گئی۔

    شہر ابھی اس صدمے اور دباؤ سے سنبھل ہی رہا تھا کہ 1960 کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اس فیصلے سے کراچی کی سیاسی اہمیت تو کم ہو گئی، لیکن اس کا معاشی دباؤ برقرار رہا کیونکہ یہ ملک کا واحد صنعتی اور تجارتی مرکز تھا۔

    چناں چہ اگلا مرحلہ اندرونِ ملک ہجرت کا شروع ہوا۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور ایرانی بلوچستان سے لاکھوں لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آئے۔ کراچی نے ایک سخی ماں کی طرح سب کو گلے لگایا، لیکن شہر کے وسائل، پانی، زمین اور بجلی، محدود رہے اور آبادی لامحدود ہوتی چلی گئی۔

    اس کے بعد بین الاقوامی تارکینِ وطن کا بوجھ اس شہر پر لادا گیا۔ 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بہاری اور بنگلہ دیشی محصورین کراچی آئے۔ پھر 1979 کے افغان جہاد کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے کراچی کا رخ کیا۔ ان تارکینِ وطن کی اکثریت نے شہر کے مضافات، جیسے سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں، میں غیر قانونی بستیاں قائم کیں۔

    ان بستیوں کے متبادل معاشرے کے طور پر ابھرنے سے شہر میں کلاشنکوف کلچر، منشیات کی بھرمار اور زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کا آغاز ہوا، جس نے کراچی کے روایتی امن و امان، امن پسندی اور تمدنی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر دیا۔ رہی سہی کسر 1980 اور نوے کی دہائی کی سوچی سمجھی لسانی اور سیاسی تقسیم نے پوری کر دی، جہاں شہر کو مسلح علاقوں میں بانٹ کر سیاست کو ‘بلدیات اور خدمت’ سے ہٹا کر ‘عصبیت اور بقا’ کی جنگ بنا دیا گیا۔

    ووٹر کو شہری مسائل پر نہیں بلکہ لسانی شناخت پر متحرک کیا گیا، جس کی وجہ سے شہر کو ملکیت کا احساس دینے والی کوئی مشترکہ قیادت ابھر ہی نہ سکی۔

    معاشی تضاد اور ریونیو کا سنگین استحصال

    کراچی کا سب سے بڑا المیہ اس کا معاشی استحصال اور ریاستی بے حسی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور وفاقی ادارۂ محاصل کے حالیہ دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق، کراچی پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا تقریباً 65 سے 70 فیصد اکیلا جمع کرتا ہے اور ملک کی مجموعی ملکی پیداوار میں اس کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہے۔

    تضاد کی انتہا دیکھیے کہ پورے ملک کا پیٹ پالنے والا یہ شہر، جو قومی معیشت کا انجن ہے، جب اپنے جائز آئینی حق یا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبائی فنڈز میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے بجٹ کا محض ایک معمولی حصہ بھی نہیں دیا جاتا۔ ملکی برآمدات کا 54 فیصد سے زائد حصہ سنبھالنے والی کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی موجودگی کے باوجود اس شہر کی اپنی داخلی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس شہر کو سونے کی چڑیا تو سمجھتی ہیں جس کا معاشی خون نچوڑا جا سکتا ہے، لیکن اس کی بقا اور ترقی کے لیے کوئی بھی سنجیدہ انتظامی کوشش کرنے کو تیار نہیں۔

    پانی کا بحران اور ٹینکر مافیا کی معیشت

    آج کا کراچی دنیا کا واحد میگا سٹی ہے جو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے بھی مکمل طور پر ایک منظم کالی معیشت، یعنی ‘ٹینکر مافیا’، کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ خالصتاً مصنوعی ہے، جس کے پیچھے چھپے تلخ حقائق کسی سنگین جرم کے اسکرپٹ سے کم نہیں ہیں۔

    کراچی کو روزانہ تقریباً 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ واٹر بورڈ کے بوسیدہ اور نااہل نظام کے ذریعے صرف 450 سے 500 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

    اس فراہم کردہ پانی کا بھی 40 فیصد سے زائد حصہ جان بوجھ کر لائن لاسز اور ہائیڈرنٹ مافیا کی چوری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ تھنک ٹینک رپورٹس کے مطابق کراچی میں ٹینکر مافیا کا سالانہ کالا کاروبار 50 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

    یعنی جو پانی شہریوں کو پائپ لائن کے ذریعے مفت یا چند سو روپے کے بل میں ملنا چاہیے تھا، اسی پانی کو سرکاری پائپوں سے چوری کر کے شہریوں ہی کو پانچ سے دس ہزار روپے فی ٹینکر بیچا جا رہا ہے، اور یہ کالی کمائی نیچے سے لے کر مقتدر حلقوں تک باقاعدگی سے تقسیم ہوتی ہے۔ غریب تو دور، پوش علاقوں کے لوگ بھی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

    اسٹریٹ کرائم اور عدم تحفظ کا راج

    شہر کی صرف سڑکیں، پارک اور نالے ہی تباہ نہیں ہوئے، جو چائنا کٹنگ اور لینڈ مافیا کی نذر ہو چکے ہیں، بلکہ شہریوں کا سکون، جان اور مال بھی سڑکوں پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہے۔ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے حالیہ ریکارڈ کے مطابق کراچی میں روزانہ اوسطاً 250 سے 300 اسٹریٹ کرائم رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں موبائل فون، موٹر سائیکل چھیننا اور مسلح ڈکیتی شامل ہے۔

    سب سے لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ مزاحمت کرنے پر ہر سال سینکڑوں بے گناہ شہری، جن میں اکثریت یونیورسٹیوں کے ہونہار طلبہ اور اپنے گھروں کا واحد معاشی سہارا بننے والے نوجوانوں کی ہوتی ہے، سڑکوں پر سرِعام گولیوں کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ یہ اس شہر کے امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی بے حسی کی انتہا ہے کہ اب یہاں ایک سستے موبائل فون کی قیمت ایک زندہ انسان کی جان سے زیادہ ہو چکی ہے۔

    آج کا کراچی ایک لاوارث اور یتیم شہر بن چکا ہے، جہاں ایک بااختیار میئر کے بجائے شہر کا انتظامی کنٹرول درجنوں مختلف وفاقی، صوبائی اور کینٹونمنٹ اداروں، کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کینٹ بورڈز، میں بری طرح بٹا ہوا ہے۔

    کوئی ایک ادارہ بھی کچرا اٹھانے، سڑک بنانے یا پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا اور ہر ادارہ ملبہ دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑ لیتا ہے۔

    عالمی ماڈلز کی روشنی میں ممکنہ حل: کیا کراچی کا یہ زوال مستقل ہے؟

    کیا یہ شہر کبھی دوبارہ جمشید نسروانجی کے ماڈل پر واپس جا سکتا ہے؟ دنیا کے دوسرے بڑے میگا سٹیز کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم، طویل مدتی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

    دنیا کے کئی شہر ایک وقت میں بالکل اسی طرح کے بدترین بحرانوں کا شکار تھے، لیکن انہوں نے خود کو بدلا۔ ہم درج ذیل تین بنیادی تزویراتی اقدامات کے ذریعے کراچی کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

    واٹر مافیا کا خاتمہ

    کراچی میں پانی کی قلت سے زیادہ بڑا مسئلہ پانی کی چوری اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی کی بلدیہ نے شہر کے اندر غیر قانونی کنوؤں اور ہائیڈرنٹس پر سخت پابندی لگائی اور پورے آبی نظام پر ڈیجیٹل ‘فلو میٹرز’ اور نگرانی کا نظام نصب کیا تاکہ پائپ لائنوں سے پانی کی چوری پکڑی جا سکے۔

    کراچی کو بھی سب سے پہلے ان ہائیڈرنٹس کو بند کرنا ہوگا۔

    انڈونیشیا کے شہر جکارتہ نے زیرِ زمین پانی نکالنے کی وجہ سے شہر کے ڈوبنے کے خطرے کے بعد نجی شعبے کے تعاون سے بڑے پیمانے پر سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس لگائے۔

    کراچی ایک ساحلی شہر ہے، یہاں بھی سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس لگائے جائیں، جو پائپ لائنوں اور سستے واٹر میٹرز کے ذریعے پانی براہِ راست گھروں تک پہنچائیں۔ جب شہریوں کو سستا پانی نلکے سے ملے گا تو اربوں روپے کی یہ ٹینکر مافیا خود بخود دم توڑ جائے گی۔

    تاجر برادری کا بطور ‘پریشر گروپ’ ابھرنا

    لاطینی امریکہ کے شہر بوگوٹا کو 1990 کی دہائی میں وہاں کے چیمبر آف کامرس اور تاجروں نے بدترین جرائم، کرپشن اور ٹریفک جام سے نکال کر ایک ماڈل شہر بنایا۔ وہاں کے انقلابی میئر ‘اینریک پینالوسا’ نے تاجروں کی مدد سے کاروں کے راستے تنگ کر کے فٹ پاتھ چوڑے کیے، سیکڑوں کلومیٹر طویل سائیکل ٹریکس بنائے اور دنیا کا بہترین بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام شروع کیا۔ ان کا فلسفہ تھا:

    ایک ترقی یافتہ شہر وہ نہیں جہاں غریب گاڑیوں میں گھومیں، بلکہ وہ ہے جہاں امیر عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔

    کراچی کی تاجر برادری، کراچی چیمبر آف کامرس اور صنعتی انجمنیں جیسے سائٹ، کورنگی اور لانڈھی، ملک کا سب سے بڑا ریونیو پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کے پاس حکومتوں کو جھکانے کی زبردست طاقت موجود ہے۔

    انہیں اب لسانی اور روایتی انتخابی سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط ‘کراچی فرسٹ پریشر گروپ’ بنانا ہوگا۔ وہ قانونی طور پر ایک ‘اسکرو اکاؤنٹ’ کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جس کے تحت کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکس کا ایک مخصوص حصہ، مثلاً 25 سے 30 فیصد، براہِ راست شہر کے بنیادی ڈھانچے، صفائی، جدید ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی، مثلاً نگرانی کے کیمروں، پر خرچ ہو اور صوبائی یا وفاقی حکومت اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

    تاجر برادری سماجی ذمے داری کے تحت اپنے اپنے تجارتی مراکز کی ملکیت کا احساس اپناتے ہوئے بھی شہر کا آدھا حصہ سدھار سکتی ہے۔

    آئینی بلدیاتی خودمختاری اور عمودی ترقی

    کراچی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جب تک آئین کی رو سے کراچی کے میئر کو مالیاتی، انتظامی اور سکیورٹی کے مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے، وفاق یا صوبے کے عارضی ‘پیکجز’ اس شہر کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ٹریفک پولیس کو براہِ راست میئر کے ماتحت ہونا چاہیے۔

    شہر کے افقی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ممبئی کی ‘سلم ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی’ کی طرح سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت کچی آبادیوں کو عمودی رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا، جہاں بلڈرز کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کر کے قدیم رہائشیوں کو مفت فلیٹ دیں اور باقی مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع کمائیں۔

    اس سے قیمتی زمین لینڈ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی اور غریبوں کو چھت ملے گی۔ ٹرام وے یا بڑے پیمانے پر برقی بسوں کا نیٹ ورک دوبارہ بحال کرنا ہوگا تاکہ نجی گاڑیوں کا دباؤ کم ہو۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ کراچی کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل یا سرمائے کی کمی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جمشید نسروانجی کے دور میں کراچی کے پاس ایک دل تھا جو شہر کے لیے دھڑکتا تھا، آج کراچی کے پاس صرف ایسی بیوروکریسی اور انتظامیہ ہے جو اس کا معاشی خون نچوڑنا جانتی ہے۔

    کراچی صرف سندھ یا پاکستان کا ایک روایتی شہر نہیں، یہ اس ملک کی معاشی شہ رگ ہے۔ اگر یہ شہ رگ مختلف مافیاز کی بیدردی اور سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے بند ہو گئی تو پورا ملک معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے تاجر، دانشور، وکلائے کرام اور عام شہری اپنے داخلی اختلافات، مذہبی، لسانی اور سیاسی وابستگیوں کو پسِ پشت ڈال کر اس شہر کے بلدیاتی، انتظامی اور آئینی حقوق کے لیے یک زبان ہو کر ایک مشترکہ پریشر گروپ بنائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

  • زاویہ: مالیاتی بحران، آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی مالیاتی فنڈ کی زنجیریں اور پاکستان کے لیے نادہندگی کا خطرہ

    زاویہ: مالیاتی بحران، آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی مالیاتی فنڈ کی زنجیریں اور پاکستان کے لیے نادہندگی کا خطرہ

    تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ریگزاروں سے بارود کی بو اٹھی ہے، اس کی تپش نے ہزاروں میل دور واقع کراچی کے ساحلوں اور اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں کو جھلسا کر رکھ دیا ہے۔

    لیکن اس بار معاملہ محض پٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کے اضافے یا بجلی کے بلوں پر لگنے والے عارضی جھٹکے کا نہیں ہے۔ اس بار آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی اور امریکہ و ایران کے درمیان بھڑکنے والی براہِ راست جنگ نے پاکستان کی نازک معیشت کے ماتھے پر ساختی اور مالیاتی زلزلے کی وہ لکیریں کھینچ دی ہیں، جن کے دوسرے سرے پر ‘ریاستی نادہندگی’ کا ہولناک گڑھا منہ کھولے کھڑا ہے۔

    یہ ایک ایسا ‘نظامی جھٹکا’ ہے جس نے ہمارے پورے معاشی ڈھانچے کی قلعی کھول دی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے عالمی مالیاتی فنڈ کے وینٹی لیٹر اور دوست ممالک کے وقتی سہارے پر سانس لے رہا تھا۔ اگر یہ ناکہ بندی ایک ماہ سے تجاوز کرتی ہے، تو یہ صرف اندھیرے اور مہنگائی کا بحران نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے پورے مالیاتی نظام کا بستر گول کر دینے والا المیہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی فنڈ کا پروگرام دھڑام سے گرنا: شرائط، ضوابط اور زمینی حقیقتیں

    پاکستان کا موجودہ معاشی استحکام، جسے حکومت اپنی سب سے بڑی کامیابی گردانتی ہے، دراصل شیشے کے ایک ایسے محل کی مانند ہے جس کی بنیادیں عالمی مالیاتی فنڈ کی کڑی شرائط پر رکھی گئی ہیں۔ اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ کو دو سب سے بڑی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ اول، مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے ‘بنیادی مالیاتی سرپلس’ کا حصول، اور دوم، بجلی و پٹرول پر کسی بھی قسم کی سبسڈی کا مکمل خاتمہ۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جب تک 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں، یہ جادوئی ہندسے کاغذوں پر درست دکھائی دیتے رہے، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں تیل کو 120 ڈالر فی بیرل کی فرضی حد سے بھی اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس ایک جھٹکے نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو بارودی سرنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

    مالیاتی خسارے کا طوفان

    جب ملک کا درآمدی بل یکمشت ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر ماہانہ کے اضافی بوجھ تلے دب جائے گا، تو حکومت کا سارا بجٹ خسارہ بکھر جائے گا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جب آسمان کو چھوئیں گی، تو ان کی ملکی کھپت میں 30 سے 40 فیصد کی تاریخی کمی واقع ہوگی۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی اور عمومی فروختی ٹیکس کے ذریعے جو اربوں روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کر رکھا تھا، وہ بری طرح متاثر ہوگا۔

    سبسڈی کا ناگزیر دباؤ اور عوامی ردعمل

    عالمی مالیاتی فنڈ کا مؤقف یہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے تو اس کا پورا بوجھ عوام تک منتقل کیا جائے۔ لیکن جب پٹرول ملکی تاریخ میں پہلی بار 500 روپے فی لیٹر کی حد عبور کرنے لگے اور بجلی کا فی یونٹ 100 روپے تک جا پہنچے، تو کوئی بھی حکومت، چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، عوامی بغاوت اور امن و امان کی بدترین صورت حال کے خوف سے یہ بوجھ منتقل کرنے کی سکت نہیں رکھ پائے گی۔

    حکومت کو مجبوراً پٹرولیم مصنوعات اور لائف لائن صارفین کے لیے بجلی پر عارضی سبسڈیز کا اعلان کرنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہوگا جہاں عالمی مالیاتی فنڈ کا پروگرام فوری طور پر معطل ہو جائے گا، کیونکہ فنڈ اپنے بنیادی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا۔

    بیرونی ادائیگیوں کا تعطل: جب ڈالر کی روانی خشک ہو جائے

    عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی معطلی کا مطلب صرف ایک قسط کا رکنا نہیں ہوتا بلکہ یہ عالمی مالیاتی برادری کی طرف سے کسی ملک کو دیے جانے والے اعتماد کے سرٹیفکیٹ کی منسوخی بھی ہوتی ہے۔ جیسے ہی عالمی مالیاتی فنڈ کا اشارہ سرخ ہوگا، پاکستان کے لیے بیرونی مالی معاونت کے تمام متبادل راستے بیک وقت بند ہو جائیں گے۔

    عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سے ملنے والے اربوں ڈالر کے منصوبے منجمد ہو جائیں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین، جو ہر سال ہمارے پرانے قرضوں کو مزید مدت دیتے ہیں، عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی عدم موجودگی میں اپنے واجب الادا قرضوں کی واپسی کا تقاضا شروع کر سکتے ہیں یا مزید مہلت دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی ہماری معیشت کی سب سے بڑی شہ رگ یعنی ترسیلات زر شدید دباؤ میں آ جائیں گی۔ خلیجی ممالک کی معیشتیں اگرچہ تیل مہنگا ہونے سے وقتی طور پر مضبوط دکھائی دیتی ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کی صورت میں پورا خلیج فارس جنگی پٹی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تنصیبات یا بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تو وہاں کی معاشی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی، جس کا پہلا شکار وہاں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکن ہوں گے۔ ان کی ملازمتیں متاثر ہونے سے پاکستان آنے والے ڈالر کی آمد یکدم کم ہو سکتی ہے۔

    جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرِ مبادلہ کے ذخائر محض چند ہفتوں کے درآمدی بل کے برابر رہ جائیں اور بیرونی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کا وقت آ جائے، تو ملک کے پاس بین الاقوامی مالیاتی قوانین کے تحت خود کو ‘تکنیکی نادہندہ’ قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ اس کے بعد ملک کی درآمدی ساکھ تقریباً ختم ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی بینک پاکستان کے درآمدی قرض نامے قبول کرنا بند کر دیتے ہیں۔

    بینکاری اور سرمایہ بازار: ملکی مالیاتی نظام کا اندرونی بکھراؤ

    جب بیرونی محاذ پر نادہندگی کے بادل گرج رہے ہوں، تو ملکی مالیاتی منڈیاں اور بینکاری شعبہ بھی اس کی تپش سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ یہ مالیاتی بحران چند لمحوں میں پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

    شرح سود کا تاریخی دھماکہ

    جب جنگ اور رسد کے عالمی نظام کی تباہی کے باعث پٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل کی قیمتیں دوگنی ہوں گی، تو ملک میں پیداواری لاگت بڑھنے سے مہنگائی کا ایسا طوفان آئے گا جو ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 35 سے 40 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

    اس بے لگام مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان مجبوراً شرح سود کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جائے گا۔ شرح سود میں یہ غیر معمولی اضافہ نجی شعبے اور صنعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ فیکٹریوں کے لیے بینکوں سے کاروباری سرمایہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

    پیداواری لاگت بڑھنے سے کمپنیاں اپنے قرضے واپس کرنے میں ناکام رہیں گی اور یوں کمرشل بینکوں کے قرضوں کے ذخیرے میں ناقابل وصول قرضوں کا ایک ایسا پہاڑ کھڑا ہو جائے گا جو پورے بینکاری نظام کو ہلا کر رکھ دے گا۔

    اسٹاک مارکیٹ کا کریش اور روپے کی بے قدری

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج، جو معیشت کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے، اس نظامی جھٹکے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ توانائی، ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور آٹوموبائل جیسے بڑے شعبوں کے حصص کو خریدار نہیں ملیں گے۔ غیر ملکی اور مقامی بڑے سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر مارکیٹ سے نکل جائیں گے اور محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے یا اوپن مارکیٹ سے امریکی ڈالر خریدنے کی طرف رجوع کریں گے۔

    روپے کی فراوانی اور ڈالر کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باعث بینکوں اور اوپن مارکیٹ کے درمیان شرح مبادلہ کا فرق ختم ہو جائے گا اور روپیہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی قدر کھوتا چلا جائے گا، جس سے مہنگائی کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جائے گا۔

    کیا پاکستان اس ٹائم بم کو ناکارہ بنا سکتا ہے؟

    آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے نتیجے میں مالیاتی نادہندگی کا یہ خوفناک منظرنامہ کسی فلمی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک تلخ زمینی حقیقت ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے گزشتہ سات دہائیوں میں اپنی معیشت کو کس قدر کمزور چھوڑا ہے۔ صرف 14 سے 18 دن کا پٹرولیم ذخیرہ رکھنا اور اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے 85 فیصد درآمدی ایندھن پر انحصار کرنا کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

    اگر ہمیں اس ‘ٹائم بم’ کو ہمیشہ کے لیے ناکارہ بنانا ہے، تو جنگ کے اس ہنگامی ماحول میں سعودی عرب کے متبادل ‘ینبع روٹ’ کے لیے جارحانہ سفارت کاری کرنا ہوگی۔ تاہم طویل مدتی بقا کے لیے چند بنیادی ساختی فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

    قومی تزویراتی ذخائر

    گوادر اور مکران کے ساحل پر کم از کم 60 سے 90 دن کے قومی تزویراتی تیل اور گیس کے ذخائر ہنگامی بنیادوں پر قائم کیے جائیں، تاکہ بحری ناکہ بندی کی صورت میں معیشت کو کم از کم تین ماہ کا حفاظتی وقفہ مل سکے۔

    توانائی کے ذرائع میں تبدیلی

    درآمدی مائع قدرتی گیس اور فرنس آئل سے چلنے والے منصوبوں کو مرحلہ وار محدود کر کے تھر کے مقامی کوئلے، پن بجلی اور شمسی توانائی پر مکمل انحصار کی حکمت عملی اختیار کی جائے، تاکہ بجلی کے شعبے کا آبنائے ہرمز اور درآمدی بل پر انحصار مستقل طور پر ختم ہو سکے۔

    زمینی تجارتی راہداری

    افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی کے معاملات طے کر کے ‘تاپی’ گیس پائپ لائن اور وسطی ایشیا تک زمینی تجارتی راستوں کو مستقل فعال بنایا جائے، تاکہ بحری راستے بند ہونے کی صورت میں وسطی ایشیا سے گیس اور توانائی کی فراہمی کا زمینی متبادل ہر وقت دستیاب رہے۔

    وقت تیزی سے ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں اٹھنے والی چنگاریاں اگر ایک بار آبنائے ہرمز تک پہنچ گئیں، تو پھر ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں رہے گا۔

    پاکستان کو خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر خلیج میں امن قائم رکھنے کے لیے نہ صرف مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا بلکہ اپنے مالیاتی نظام کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے داخلی سطح پر بھی کڑے اور انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے۔

    ورنہ تاریخ ایسے معاشروں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اپنے دفاعی قلعے تو مضبوط بناتے ہیں لیکن اپنی معاشی فصیلوں کو کمزور چھوڑ دیتے ہیں۔

  • زاویہ: پرانے پارکر کا مصنف: سائیں منگھارام اوجھا

    زاویہ: پرانے پارکر کا مصنف: سائیں منگھارام اوجھا

    ملیر کی مٹی کے دیے ہوئے ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کو صحیح استعمال میں لا کر دھرتی کا قرض اتارنے والوں میں منگھارام اوجھا کا نام صفِ اول میں شامل ہے۔

    ان کی قلمی محنت کے طفیل پارکر کا میدان، موہن جو دڑو اور اروڑ کی تاریخ کے ساتھ چمک اٹھا۔ انہوں نے تاریخ اور ثقافت کے ملاپ کو لفظوں کا روپ دے کر پورے برصغیر کے تہذیبی ادب پر ‘پاری نگر’ کی بندرگاہ، ‘کارونجھر’ کی کہانیوں اور بھالوا کے دلکش رنگوں کی روشنی پھیلائی۔

    جب بھی کسی کو تھرپارکر کے متعلق کوئی معلومات حاصل کرنی ہوتی ہے تو اس نے ‘شاہ جو رسالو’، ‘تاریخِ ریگستان’ اور ‘پرانو پارکر’ (قدیم پارکر) نامی کتابوں کی طرف ہی رجوع کیا ہے۔ ‘پرانے پارکر’ میں منگھارام اوجھا نے اپنی تخلیقی صلاحیت سے کلاسیکی انداز اور جدت کے ملاپ کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔

    ‘وہ کردار اور کہانیاں جو داستانوں کے ڈھیر میں گم ہو رہی تھیں، انہیں انہوں نے ایک سنار کی طرح چمکا کر، اجلا کر کے ایک نیا رخ دیا۔ معروف نقاد اور ادیب تاج جویو کے بقول، ‘سائیں منگھارام نے تاریخ کو روایتوں اور لوک شاعری کے پس منظر میں لکھ کر ایک انوکھا کام کیا ہے۔’

    سندھی ادب کا انقلاب جو کشن چند ‘بیوس’ کی شاعری اور مرزا قلیچ بیگ کے نثر سے شروع ہو چکا تھا، منگھارام اوجھا نے انہی کا اثر لیتے ہوئے تعصب اور منافقت پر مبنی تاریخ نویسی کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے گندی تاریخ کی کتابوں، ‘جن میں سینکڑوں کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے تھے’، سے کوئی حوالہ لینے کے بجائے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی زبانی روایات اور لوک شاعری کو ماخذ بنا کر لکھا۔

    اگرچہ جدید تاریخ نویسی کے تقاضے اب کچھ اور ہیں، لیکن سچائی، وابستگی کی انتہا اور پیار سے کی گئی اس محنت کی وجہ سے ان کا کام ہمیشہ کے لیے قابلِ ستائش ہے۔

    تصور کریں کہ تھرپارکر کا گاؤں چیلہار، جہاں برہمنوں کا بنیادی کام جنتریاں (ٹپنو) دیکھنا اور مرنے جینے کی رسمیں ادا کرنا ہے۔ ان میں سے ایک نوجوان استاد بنتا ہے، ناگرپارکر جیسے پسماندہ علاقے میں علم کی شمع جلاتے ہوئے قلم اٹھاتا ہے اور ‘پرانو پارکر’ جیسی سدا بہار کتاب لکھ ڈالتا ہے، جس کی زبان دیکھ کر شیخ ایاز جیسا عظیم شاعر پاسترناک کے ناول ‘ڈاکٹر ژواگو’ کی سطر دہراتے ہیں: ‘زبان خوبصورتی اور سمجھ کا گھر ہے، جو ندی کے بہاؤ کی طرح دلکش لگتی ہے۔’

    ‘پرانے پارکر’ کے لکھے جانے سے تھرپارکر کی اعلیٰ انسانی اقدار گمنامی کے اندھیرے میں گم ہونے سے بچ کر ہمیشہ کے لیے تحریر میں محفوظ ہو گئیں۔ باغ کے پھول کی طرح بڑھتی ہوئی ثقافت زمانوں کے ہاتھوں جڑ سے محروم ہونے سے بچ گئی۔ چندیرام بھاٹ اور کرشن جی چارن جیسے شاعروں کی شاعری متعارف ہوئی۔ گجراتی ‘رس مالا’ میں شامل سندھ کے دوہے، ماموئی فقیروں کے بیت اور بھیرویں جوگی کی رام کہانی نمودار ہوئی۔

    سدونمت اور سارنگا، ہوتھل پری اور اوڈھے کے عشق کی بلندیوں کو چھوتے کردار قلم بند ہوئے۔ اسی طرح منگھارام اوجھا نے مٹی کے محبوب کرداروں اور جان نچھاور کرنے والے سورماؤں سینڈھل سوڈھے سے لے کر رانے کلجی اور روپلو کولھی تک سب کے کارناموں پر لکھا ہے۔ اس کے علاوہ ‘چندن گڑھ کے چاووی’ کا تفصیلی ذکر بھی شامل ہے، جس سے ہر پڑھنے والے کے اندر قومی شعور اور یکجہتی کا احساس بیدار ہوتا ہے۔

    ‘پارکر کے پہاڑ’ سے لے کر آخری باب ‘آدم شماری’ تک پوری کتاب میں کسی ایک سطر میں بھی دھرتی کے غدار کو معزز بنا کر پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے تاریخ کی دیگ میں حرام خوروں کی ہڈی ہڈی کو ابالا ہے۔

    سندھ کے اس لائق مصنف کی سوانح عمری پر آج کے دن تک ایک مضمون بھی نہیں لکھا جا سکا۔ عبدالغفار تبسم کے شعر کی طرح:

    ‘الائی کنے کنے جو اونیوسیں جیون، (نجانے کس کس کی زندگی کو بنتے رہے)’
    ‘پر پنھنجي چولي تي ڪو ڀرت نه هو۔ (پر اپنے کُرتے پر کوئی کڑھائی نہ تھی)’

    معروف مؤرخ رائے چند  ہریجن ان کے ہم گاؤں تھے۔ منگھارام نے چیلہار کے برہمنوں کی ‘شریمالی’ شاخ میں امرچند اوجھا کے بیٹے لالچند اوجھا کے گھر 28 جنوری 1928 کو جنم لیا۔

    انہیں بچپن میں ہی یتیمی کی زندگی دیکھنی پڑی۔ ان کے والد لالچند اور چچا پونم چند انہیں ماں کی گود میں چھوڑ کر پرلوک سدھار گئے۔ منگھارام، سندھی صوفی شاعر ‘سامی’ کے اس فلسفے کے تحت کہ ‘غریبی گلزار ہے’، اسی میں پل کر بڑے ہوئے۔ انہوں نے پرائمری تعلیم اپنے آبائی گاؤں چیلہار میں حاصل کی۔ چیلہار کے نامور استاد آسنگر ان کے ہم جماعت تھے۔

    پرائمری کے بعد مٹھی سے فائنل کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہین سرکاری اسکول میں استاد کا آرڈر ملا۔ اس دور میں ‘استاد’ ایک معزز پیشہ تھی۔ مال و دولت کو مٹی سمجھنے والے اور جنگل میں لسی پی کر گزارا کرنے والے سادہ لوح مارواڑی لوگ بھی استاد کو اعلیٰ درجے کی عزت دیتے تھے۔ استادوں کی بھرتی آج کے کوٹہ اور سفارش کلچر کی طرح نہیں ہوتی تھی، بلکہ استاد قابلیت کی بنیاد پر منتخب ہوتا تھا۔

    منگھارام اوجھا نے ایک بہترین استاد کا کردار ادا کیا۔ کچھ عرصہ چیلہار میں رہنے کے بعد نوکری کے سلسلے میں ناگرپارکر کا رخ کیا۔ ‘ڈونگری’ نامی گاؤں میں انہوں نے شادی کی اور پھر وہیں اپنا مسکن بنا کر رہ گئے۔ ناگرپارکر میں ان کے کئی شاگرد ہیں۔

    سائیں رائے چند  ہریجن ‘تاریخِ ریگستان’ کے کچے مواد کی تلاش میں جب ناگرپارکر جاتے تھے تو وہ منگھارام اوجھا کے پاس ہی رات بسر کرتے تھے۔

    ‘رَهي اچجي راتڙي تِنَ آديسين وٽان’ (شاہ عبداللطیف بھٹائی کا بیت: ‘ان درویشوں کے پاس ایک رات رہ کر آنا چاہیے’)

    سائیں آسنگر کے مطابق منگھارام کو بچپن سے ہی ادبی کتابوں سے دلچسپی تھی۔ وہ کلاس میں ہندی اور گجراتی کی بچوں والی کہانیاں بار بار پڑھ کر سناتے تھے۔ ناگرپارکر جانے کے بعد انہوں نے ‘پرانے پارکر’ کا مواد جمع کرنا شروع کیا۔ چندیرام بھاٹ ان کے خاص ساتھی تھے۔ چندیرام کے اس شعر نے انہیں بہت متاثر کیا:

    ‘کارونجھر رِي ڪور، مَرئين تو ميلئي نهين، (کارونجھر کا دامن، مرتے دم تک بھی نہیں چھوٹتا)’
    ‘ماٿي ٽَهوڪي مور، ڏونگر لاگي ڏيپتو۔ (جب اس پر مور بولتا ہے تو پہاڑ چمک اٹھتا ہے)’

    اسی جذبے نے انہیں ادیب بنا دیا۔ 1954 کے لگ بھگ، جب ڈاکٹر نبی بخش بلوچ ‘لوک ادب کے منصوبے’ کے تحت ناگرپارکر پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات منگھارام اوجھا سے ہوئی۔ ڈاکٹر بلوچ نے ناگرپارکر تعلقہ کا مواد اکٹھا کرنے کا کام ان کے حوالے کیا۔ اس سلسلے میں اوجھا صاحب نے ڈاکٹر بلوچ کو پارکر کے علاقوں کی کئی لوک کہانیاں، قصے، داستانیں اور لوک گیت لکھ کر بھیجے۔ اس منصوبے کے دوران اور بعد میں بھی ڈاکٹر بلوچ کے ساتھ ان کا خط و کتابت کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔

    اوجھا مخدوم طالب المولیٰ کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ مخدوم صاحب سے ان کی محبت اور عقیدت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے اس ادبی شاہکار کا انتساب ‘مخدوم سائیں’ کے نام کیا ہے۔

    رسالوں ‘مہران’ اور ‘نئی زندگی’ میں اوجھا صاحب کے مختلف مضامین اور مقالے شائع ہو چکے ہیں، جنہیں یکجا کر کے چھپوایا جائے تو سندھی لوک ادب میں ایک اور اہم کتاب کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    منگھارام نے ناگرپارکر میں رہتے ہوئے ایک اور کتاب ‘شریمالی اتہاس’ (شریمالی تاریخ) کے نام سے لکھی، جس میں ‘شریمالی برہمنوں’ کی تاریخ کا تذکرہ ہے۔ 1971 کی جنگ کے دوران جب سندھ کا یہ نامور مصنف بھارت ہجرت کر گیا تو ‘شریمالی اتہاس’ کا مسودہ اپنے ساتھ بھارت لے گیا۔

    جہاں سے کئی سالوں بعد انہوں نے اسے چیلہار بھیج دیا، جسے چیلہار کے نوجوان شاعر اور صحافی کشور گھایل نے چھپوا کر منظر عام پر لایا۔ ‘شریمالی اتہاس’ کے پیش لفظ ‘دو لفظ’ لکھتے ہوئے انہوں نے آخر میں تاریخ 27 اکتوبر 1971 درج کی ہے۔ یہ کتاب سنہ 2000 کے قریب شائع ہوئی۔

    جولائی 2000 میں سندھی زبان کا یہ دل عزیز مصنف اور مؤرخ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بھارت کے علاقے کچھ میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

    بھارت میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے یقیناً اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہوں گے۔ ان کی وہ تحریریں ان کے پسماندگان سے مل سکتی ہیں۔ سندھی زبان کے بہی خواہوں کو چاہیے کہ وہ ان تحریروں کو حاصل کر کے یہاں شائع کریں۔ شاہ لطیف سائیں نے فرمایا ہے:

    ‘سي پُوڄارا پُر ٿيا، سَمُونڊ سيويو جن۔’ (ترجمہ: وہ پوجنے والے مالامال ہو گئے، جنہوں نے سمندر کی خدمت کی یا اس کی گہرائی کو پایا)

    منگھارام اوجھا کا اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی انفرادیت اور عظمت پر کامل ایمان تھا۔ انہوں نے جرمنی کے عظیم شاعر شیلر کی یہ سطریں شاید اپنی روح میں اتاری تھیں:

    ‘اپنے مادرِ وطن سے پوری عقیدت کے ساتھ جڑے رہو، اسے ہاتھ سے نہ جانے دو، کیونکہ اسی دھرتی میں تمہاری طاقت کی جڑیں ہیں۔’

  • زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    زاویہ: بارود کے ڈھیر پر سفارت کاری: کیا ٹرمپ، ایران ڈیل پائیدار ہو سکے گی؟

    صحافت کے کلاس روم میں ہمیں سب سے پہلے یہ بنیادی اصول سکھایا جاتا تھا کہ "خبر” کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتی اور بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ شطرنج پر نہ تو دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں اور نہ ہی دوستیاں۔

    عالمی سیاست کا کوئی بھی طالب علم جب تاریخ کے صفحات پلٹتا ہے، تو اسے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے عسکری تنازعات اور ہولناک ترین جنگیں بھی بالآخر کسی نہ کسی سفارتی میز پر، چند کاغذات پر دستخطوں کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہیں۔

    لیکن جب بات مشرق وسطی جیسے سلگتے ہوئے آتش فشاں کی ہو، جہاں بارود کی بو اور سیاسی مفادات کے دھارے لمحوں میں رخ بدلتے ہیں، تو وہاں سفارت کاری کا راستہ کسی بارودی سرنگ پر چلنے سے کم نہیں ہوتا۔

    رواں سال فروری 2026 میں جب پاک-امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تزویراتی تناؤ نے ایک ہولناک عسکری تصادم کی شکل اختیار کی، تو ہم جیسے بین الاقوامی تعلقات کے طالب علموں کے لیے یہ کتابی نظریات سے نکل کر ایک زندہ مطالعہ بن چکا تھا۔

    واشنگٹن کا بگل بجاتا ہوا ‘آپریشن ایپک فیوری’، خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑوں کی گرج، اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادل چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ دنیا ایک ایسی وسیع تر علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔

    عالمی میڈیا پر سرخیاں روزانہ کی بنیاد پر بدلی جا رہی تھیں، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سفارت کاری کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔

    تاہم، فروری کے اس بھیانک عسکری ملبے اور سفارتی تعطل کے بعد، آج جب فریقین قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، تو صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرے ذہن کے بند گوشوں میں یہ سوال مسلسل دستک دے رہا ہے ‘کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ ایک نیا، جامع اور سب سے اہم بات، ‘پائیدار’ جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟’

    17 جون 2026 کو قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت نے فریقین کو اگست 2026 کے وسط تک کی جو مہلت دی ہے، وہ صحافتی اصطلاح میں ایک ‘ٹکنگ ٹائم بم’ ہے۔ یہ 60 دن محض جنگ بندی کے نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کے اس پہاڑ کو پگھلانے کا آخری موقع ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کھڑا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ سے قطر تک، پس پردہ راستوں کی تبدیلی

    اس سے قبل کہ ہم قطر میں ہونے والی موجودہ پیش رفت کا احاطہ کریں، ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری کا محور کس طرح تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار، روایتی اور خاموش پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے۔

    سوئس چینل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں ہونے والی گفتگو کا بنیادی مقصد کسی بڑے تزویراتی معاہدے کا حصول نہیں، بلکہ صرف "بحران کا کنٹرول” اور قیدیوں کے تبادلے جیسے محدود انسانی ہمدردی کے امور تھے۔ جنیوا اور زیورخ کے پرسکون ماحول میں ہونے والے مذاکرات نظریاتی حدود کے اندر رہ کر کیے جاتے تھے، جہاں فریقین اپنے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹے بغیر صرف محاذ آرائی کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے روکتے تھے۔

    لیکن موجودہ قطر مذاکرات کا کینوس ماضی کے سوئس چینل سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحہ اب محض ایک ڈاکیا یا پیغام رساں نہیں رہا، بلکہ وہ عمان اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایک متحرک، فعال اور اثر و رسوخ رکھنے والے ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے برعکس، قطر مذاکرات فروری 2026 کے براہ راست عسکری تصادم کے بعد پیدا ہونے والے نئے حقائق کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔

    یہ مذاکرات کسی پرسکون ماحول کی پیداوار نہیں، بلکہ بارود کی تپش اور معاشی ناکہ بندی کے دباؤ کے تحت شروع کیے گئے ہیں۔ یہاں بات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عملی مفادات، تیل کی عالمی سپلائی، اور خطے میں عسکری بقا کے سوالات میز پر رکھے ہوئے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین سوئٹزرلینڈ کے روایتی چینل کے مقابلے میں دوحہ کے اس نئے سفارتی محور کو زیادہ سنجیدہ اور فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

    پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار

    فروری 2026 کے شدید ترین بحران کے دوران جب مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کا یہ پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے والا تھا، تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔

    ایک نیوکلیئر پاور اور ایران کے برادر پڑوسی ملک ہونے کے ناطے، پاکستان اس تنازع میں خاموش تماشائی بنے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، مشترکہ ثقافتی روابط، اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ معاملات کی وجہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی طویل مدتی جنگ کا براہ راست شکار پاکستان کی اپنی معیشت اور امن و امان کو ہونا تھا۔

    چنانچہ، پاکستان نے انتہائی مہارت کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منفرد سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سیکیورٹی روابط کو استعمال کیا اور دوسری طرف تہران کے ساتھ سفارتی چینلز کو متحرک رکھا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ عسکری طاقت کا استعمال کسی بھی فریق کو مکمل فتح نہیں دلا سکتا، بلکہ یہ پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔

    پاکستان نے قطر کے امیر اور عمان کے سفارتی کارندوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط شٹل ڈپلومیسی کا آغاز کیا۔ پاکستانی سفیروں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایسے پیغامات کا تبادلہ کیا جنہوں نے دونوں فریقین کو اپنے سخت عسکری موقف سے پیچھے ہٹنے اور ایک دوسرے کی شرائط کو سنجیدگی سے سننے پر آمادہ کیا۔

    پاکستان اور قطر کی اس مشترکہ سفارتی کامیابی نے ہی 17 جون کے مفاہمتی معاہدے کی راہ ہموار کی، جس نے بارود کے دھوئیں کو عارضی طور پر دبا کر مذاکرات کے روشن امکانات پیدا کیے۔

    ٹرمپ کا ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ اور سازگار عوامل

    ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ کسی روایتی سیاست دان کی نظریاتی خارجہ پالیسی کے بجائے ایک سخت بزنس مین یا کارپوریٹ ڈیلر کی کاروباری حکمت عملی کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں انہیں ایک ‘نیو آئسولیشنسٹ’ رہنما کہا جاتا ہے، جو بیرون ملک امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور لاحاصل، طویل جنگوں پر اربوں ڈالر کے امریکی سرمائے کے ضیاع کے شدید مخالف ہیں۔

    ٹرمپ کا فلسفہ سادہ ہے: طاقت کا مظاہرہ صرف اس وقت کرو جب آپ کو سامنے والی پارٹی کو معاشی یا عسکری طور پر مجبور کر کے اپنی شرائط پر سودے بازی کرنی ہو۔

    فروری 2026 میں ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے ذریعے ایران کو اپنی عسکری طاقت کا جوہر دکھانے کے بعد، اب ٹرمپ اپنے اسی روایتی ‘ڈیل میکر’ مائینڈ سیٹ کے تحت میدان میں اتر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کا یہ دعوی کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی بدولت ایران امریکہ کی تقریباً تمام سخت شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے، ان کی اسی کاروباری سفارت کاری کا عکاس ہے۔

    ٹرمپ اس مجوزہ جوہری معاہدے کو دنیا کے سامنے ایک ایسی ٹرافی یا ‘صدی کی سب سے بڑی ڈیل’ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جو ان کے بقول ایران کے جوہری عسکری پروگرام کے سامنے ایک ایسی ‘مضبوط دیوار’ ثابت ہو گی جسے ماضی کی کوئی بھی امریکی انتظامیہ تعمیر کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    واشنگٹن کی تزویراتی ترجیحات کا خاکہ

    داخلی سیاسی برتری: امریکی ووٹرز کے سامنے خود کو ایک کامیاب ‘امن پسند لیکن طاقتور لیڈر’ کے طور پر پیش کرنا۔

    توانائی کی مارکیٹ کا استحکام: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کر کے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا۔

    عسکری اخراجات میں کمی: مشرق وسطی میں امریکی اثاثوں پر حملوں کا تدارک اور جنگی بجٹ پر دباؤ کا خاتمہ۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا محرک امریکی معیشت اور داخلی سیاست کا استحکام ہے۔ فروری کے تنازع کے بعد سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ امریکی صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا تھا، اور ٹرمپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ واشنگٹن میں اقتدار کا راستہ خام تیل کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔

    اگر دوحہ مذاکرات کے ذریعے ایران اپنے جوہری پروگرام پر دستبرداری کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے مستقل طور پر کھلا رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک زبردست سیاسی فتح ہو گی۔ یہ سازگار عوامل اس وقت دونوں ممالک کو ایک عارضی معاہدے کی طرف تیزی سے دھکیل رہے ہیں۔

    تہران کا تزویراتی اضطراب اور اندرونی قیادت کا چیلنج

    تہران کی سیاست کو باہر سے دیکھ کر اکثر ایک یک رنگی نظام کا گمان ہوتا ہے، جہاں سپریم لیڈر کا فیصلہ ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم بین الاقوامی تعلقات کے نظریات، بالخصوص ‘داخلی سیاست کا نظریہ’ کی عینک لگا کر دیکھیں، تو ایرانی اقتدار کی تہوں میں تضادات اور تزویراتی اضطراب کا ایک پورا سمندر موجزن نظر آتا ہے۔

    قطر میں جاری فنی مذاکرات کے پس منظر میں تہران اس وقت اپنی جدید تاریخ کے حساس ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ حال ہی میں نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ، پاسداران انقلاب، اور سیکیورٹی بیوروکریسی کے اندر ایک شدید نظریاتی اور تزویراتی کھینچ تان شروع ہو چکی ہے۔

    ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان ایک اصلاح پسند سوچ کے حامل رہنما ہیں، جن کا پورا سیاسی ایجنڈا اور بقا ایرانی معیشت کو وینٹی لیٹر سے نکالنے پر منحصر ہے۔ فروری 2026 کے فوجی تصادم اور اس کے نتیجے میں لگنے والی نئی پابندیوں نے ایرانی کرنسی ریال کو تاریخی گراوٹ کا شکار کر دیا ہے، اور ملکی اندرونی سیاست میں عوامی احتجاج کا لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان اور ان کی سفارتی ٹیم کا موقف واضح ہے: وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور دوحہ میں لچک دکھانے پر مجبور ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اگست 2026 کے وسط تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو معاشی ناکہ بندی ایران کے اندرونی سماجی ڈھانچے کو مفلوج کر دے گی۔

    لیکن تصویر کا دوسرا رخ، جو اس پورے سفارتی عمل کی راہ میں ایک آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے، وہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کا سخت گیر موقف ہے۔ نئی قیادت کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی نظام میں ‘طاقت ہی واحد کرنسی ہے’۔ ان کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس شک کی ایک ٹھوس تاریخی دلیل موجود ہے؛ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے 2018 میں اس وقت کے صدر باراک اوباما کے دستخط شدہ ‘مشترکہ جامع منصوبہ بندی کے عمل’ کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔

    تہران کی نئی قیادت کا یہ سوال انتہائی جاندار ہے کہ اگر ایران اپنے خون پسینے سے تیار کردہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تلف کر دیتا ہے یا ملک سے باہر منتقل کر دیتا ہے، تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ٹرمپ دو سال بعد کوئی نیا بہانہ بنا کر دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے؟

    پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ماننا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت ہی ایران کا واحد تزویراتی دفاع ہے، اور اسے میز پر کھو دینا عسکری خودکشی کے مترادف ہو گا۔ تہران کی یہ داخلی کشمکش اور نئی قیادت کے تحفظات دوحہ مذاکرات کے مستقبل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فیکٹر، کانگریس کی قانونی گتھیاں اور خلاصہ کلام

    بین الاقوامی مذاکرات کے اصولوں کا ایک بنیادی قانون ہے کہ "کسی بھی میز پر طے پانے والا معاہدہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک اس تنازع کے تمام بڑے فریق اس کا حصہ نہ ہوں”۔ دوحہ مذاکرات کا سب سے کمزور، نازک اور خطرناک پہلو یہی ہے کہ مشرق وسطی کی سب سے بڑی عسکری طاقت اور امریکی خارجہ پالیسی کا لاڈلا ‘اسرائیل’ اس پورے سفارتی عمل سے مکمل طور پر باہر ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سیکیورٹی وزیر اتمار بن گویر جیسے سخت گیر رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں زلزلہ پیدا کر رکھا ہے۔ بن گویر کا یہ واضح اعلان کہ "ٹرمپ کا معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا” کوئی معمولی گیدڑ بھپکی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تزویراتی حقیقت کا اعتراف ہے۔

    اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی یا پابندیوں کا خاتمہ، خواہ وہ کتنی ہی سخت شرائط پر کیوں نہ ہو، تہران کو دوبارہ معاشی آکسیجن فراہم کرے گا۔ اس معاشی بحالی کا براہ راست نتیجہ خطے میں حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں جیسے ایرانی اتحادیوں کی دوبارہ مضبوطی کی صورت میں نکلے گا۔

    اسرائیلی فیکٹر اس لیے خطرناک ہے کیونکہ تل ابیب کے پاس تہران اور واشنگٹن کی اس سفارتی بساط کو الٹنے کی مکمل عسکری صلاحیت موجود ہے۔ اگر قطر میں جاری تکنیکی مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے قریب پہنچتے ہیں اور اسرائیل کو لگتا ہے کہ اس کی سلامتی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، تو وہ تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر یکطرفہ سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے، یا لبنان و شام میں ایرانی اہداف پر حملوں میں تیزی لا سکتا ہے۔

    بین الاقوامی تعلقات کی زبان میں اسے ‘اسپائلر فیکٹر’ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی عسکری کارروائی ایران کو دوحہ میز سے اٹھنے پر مجبور کر دے گی اور خطہ سیکنڈوں میں دوبارہ فروری 2026 والی خونی دلدل میں جا گرے گا۔

    اس کے علاوہ، منجمد فنڈز اور معاشی ریلیف پر ٹرمپ کی کڑی شرائط نے ایران کے لیے مذاکرات کا نوالہ انتہائی کڑوا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ایران میں نہ تو کوئی سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی نقد رقم جاری کی جائے گی۔

    جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی فنڈز اگر جاری کیے بھی گئے، تو وہ قطر کے زیر نگرانی ایک ایسے امانتی اکاؤنٹ میں جائیں گے جہاں سے ایران صرف اور صرف خوراک، ادویات اور انسانی ہمدردی کی اشیا خرید سکے گا۔

    تہران کے لیے یہ شرائط اس کی قومی خودداری پر ایک کاری ضرب ہیں، کیونکہ انہیں اپنی تباہ حال معیشت کو بچانے کے لیے فوری نقد رقوم کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف راشن کی صورت میں امداد کی۔

    امریکی کانگریس کی قانونی گتھیاں

    اب ذرا واشنگٹن کے اندرونی آئینی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہیں، جو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی عمر کا تعین کرتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی صرف وائٹ ہاؤس سے نہیں چلتی، بلکہ امریکی کانگریس اس کا دوسرا اہم ترین ستون ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مائینڈ سیٹ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ڈیل کرنے کا ہے، لیکن امریکی آئین کے تحت کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک مستقل قانون نہیں بن سکتا جب تک امریکی سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس کی توثیق نہ کر دے۔

    موجودہ امریکی کانگریس کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں اسرائیل نواز لابی کا اثر و رسوخ انتہائی گہرا ہے، اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے سخت گیر ارکان ایران کو کسی بھی قسم کا معاشی ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں۔

    اگر ٹرمپ قطر ڈیل کو ایک باقاعدہ ‘معاہدہ’ کے طور پر کانگریس سے پاس کرانے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں وہاں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ کانگریس کو نظرانداز کر کے صرف ایک صدارتی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہیں، تو یہ معاہدہ ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہو گا۔ ایران یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کے بعد آنے والا کوئی بھی نیا امریکی صدر، خواہ وہ 2028 میں ہو یا بعد میں، اس معاہدے کو دوبارہ ایک دستخط سے منسوخ کر سکتا ہے۔

    یہ قانونی عدم تحفظ ایران کو طویل مدتی اور بڑے تزویراتی فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔

    مجموعی طور پر، اگر ہم اس پورے منظر نامے کا خلاصہ کریں، تو ہم ایک انتہائی دلچسپ لیکن خوفناک تضاد پر پہنچتے ہیں۔

    رواں سال فروری 2026 کے ہولناک فوجی تصادم کے بعد فریقین کا سفارتی میز پر آنا، 17 جون کا مفاہمتی معاہدہ اور اگست 2026 کے وسط تک کی سخت ڈیڈ لائن یہ ثابت کرتی ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی داخلی سیاست اور امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مشرق وسطی میں ایک بڑی "سیاسی فتح” درکار ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اپنی گرتی ہوئی حکومت اور تباہ حال عوام کو بچانے کے لیے پابندیوں کا خاتمہ چاہیے۔ یہ دونوں مجبوریاں ایک ‘نئے معاہدے’ کی پیدائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔

    تاہم، اس مجوزہ معاہدے کو ‘پائیدار’ بنانا ایک ایسا تزویراتی گورکھ دھندا ہے جس کا حل فی الحال دنیا کے کسی تھنک ٹینک کے پاس بھی نظر نہیں آتا۔

    ایران میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی نئی قیادت کے شدید تحفظات اور ماضی کے تلخ تجربات، منجمد فنڈز کے استعمال پر واشنگٹن کی توہین آمیز اور سخت شرائط، امریکی کانگریس کی طرف سے اس کی مستقل قانونی توثیق کے نہ ہونے کے برابر امکانات، اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا اس سفارتی عمل سے باہر رہ کر مسلسل عسکری کارروائیوں کی دھمکیاں دینا، یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو اس معاہدے کے راستے میں بچھی ہوئی ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ مشرق وسطی اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جس کے اوپر سفارت کاری کی ایک عارضی چھتری تان دی گئی ہے۔ دوحہ کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سفارت کار اگر اگست 2026 کے وسط تک کسی کاغذ پر دستخط کرانے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تو وہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔

    جب تک اسرائیل، ایران کی داخلی اسٹیبلشمنٹ، اور امریکی کانگریس اس ڈیل کے ضامن نہیں بنتے، یہ معاہدہ بھی تاریخ کے ان عارضی کاغذات کا حصہ بن جائے گا جو پہلی ہی عسکری چنگاری سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ صحافت کا طالب علم ہونے کے ناطے، میری نظریں اب اگست کے اس فیصلہ کن موڑ پر ہیں جو یہ طے کرے گا کہ دنیا امن کی طرف بڑھتی ہے یا دوبارہ بارود کے شعلوں کی نذر ہوتی ہے۔

  • زاویہ: کارپوریٹ فاشزم یا شہریوں کا حق ملکیت

    زاویہ: کارپوریٹ فاشزم یا شہریوں کا حق ملکیت

    پاکستان اس وقت معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کے ایسے شدید بحرانوں کی زد میں ہے جہاں ریاست کا شیرازہ بکھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    ایک ایسے کٹھن وقت میں جب عام شہری بجلی کے بھاری بلوں، کمر توڑ مہنگائی اور سکیورٹی کی دگرگوں صورتحال سے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے پس پردہ ایک ایسے قانون کی تیاری کی جا رہی ہے جو نجی اور تجارتی کمپنیوں کو عام شہریوں کی ذاتی جائیدادوں پر زبردستی قبضہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    ٹیلی کام کمپنیوں کو پانچ جی انٹرنیٹ کے پردے میں اور ‘رائٹ آف وے’ کے مبہم نام پر شہریوں کی مرضی کے بغیر ان کے مکانات، چھتوں یا زمینوں پر موبائل ٹاورز اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ نصب کرنے کی یہ کھلی چھوٹ ایک ایسے وفاقی بل کی شکل میں سامنے آئی ہے جس پر ہمارے بزرگوں کا وہ مشہور دیسی محاورہ بالکل صادق آتا ہے کہ

    ‘ایسا سونا ہی نہیں چاہیے جو کان ہی کاٹ ڈالے’

    ایک قانون کے طالب علم کی حیثیت سے اگر اس مجوزہ بل کا آئینی جائزہ لیا جائے تو یہ قانون اساسی کی روح پر براہ راست اور ایک مہلک حملہ محسوس ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 24 ہر شہری کو اپنی ذاتی جائیداد اور زمین رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے اور واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    اگر ریاست کسی بڑے عوامی مفاد جیسے سڑک، ہسپتال، ڈیم یا ملکی دفاع کے لیے کوئی زمین حاصل بھی کرتی ہے تو قانون حصول اراضی کے تحت مالک کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دینا اور اسے اعتماد میں لینا لازمی ہوتا ہے۔

    لیکن یہاں ریاست کا بھیس بدل کر معاملہ بالکل مختلف اور تشویشناک حد تک بھیانک ہے۔ یہ کوئی قومی دفاع یا جنگی ہنگامی صورتحال کا معاملہ نہیں کہ ریاست کسی فرد کی زمین وقتی طور پر اپنے قبضے میں لے لے۔ یہ خالصتاً ایک تجارتی اور کاروباری معاملہ ہے جس کی آڑ میں بین الاقوامی اور مقامی نجی ٹیلی کام کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

    یہ کمپنیاں عوامی فلاح کے ادارے نہیں بلکہ سالانہ اربوں روپے کا منافع کما کر اپنے حصص داروں کو منتقل کرنے والے تجارتی ادارے ہیں۔ ریاست کی طاقت کا استعمال کرکے ان نجی کارپوریٹ اداروں کو شہریوں کے گھروں اور املاک پر تصرف کا حق دینا آئینی اختیارات کا بدترین ناجائز استعمال اور کارپوریٹ فاشزم کی واضح مثال ہے۔

    مزید برآں یہ قانون آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی کھلی نفی ہے جو ہر شہری کو گھر کی خلوت، رازداری اور چادر و چار دیواری کی حرمت کی آئینی ضمانت دیتا ہے۔ کسی غیر متعلقہ تجارتی کمپنی کے عملے کا زبردستی کسی کے نجی مکان میں داخل ہونا اور وہاں ایسی ہائی فریکوئنسی تنصیبات لگانا جن کی شعاعیں انسانی صحت، خصوصاً معصوم بچوں اور بزرگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، شہریوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ بنا دے گا۔

    حکومت کو یہ غلط فہمی اپنے ذہن سے فوراً نکال دینی چاہیے کہ عوام خاموشی سے اپنے بنیادی حقوق کا یہ قتل عام دیکھتے رہیں گے۔ پاکستان کے روایتی معاشرے میں زمین اور گھر صرف ایک مادی جائیداد یا اینٹ گارے کا ڈھیر نہیں بلکہ عزت، ناموس اور غیرت کی علامت ہیں۔

    اگر ایسی کوئی غیر آئینی قانون سازی زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام اپنی ذاتی جائیداد اور نجی خلوت گاہوں کو بچانے کے لیے اس کارپوریٹ یلغار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے، جس سے ملک میں سول نافرمانی اور امن و امان کا ایک نیا اور پیچیدہ بحران جنم لے سکتا ہے۔

    ‘جب ریاستیں اپنے ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کو سرمائے کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں تو قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکل جاتا ہے’

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ کارپوریٹ شعبے کو عام عوام پر فوقیت دینے کا یہ کھیل ملکی سالمیت کے لیے بارود کا ڈھیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آج ٹیلی کام کمپنیوں کو یہ ماورائے آئین حق دے دیا گیا تو کل بااثر لینڈ مافیا، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان اور نجی بجلی کمپنیاں بھی اسی قسم کی قانون سازی کا مطالبہ کریں گی۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ اس متنازع بل کو فوری طور پر مسترد کرے اور کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ زبردستی کے بجائے باہمی رضامندی اور مارکیٹ کرایے کے مسلمہ اصول پر عمل کریں۔

    اگر ایوان بالا اور ایوان زیریں اس کارپوریٹ یلغار کو روکنے میں ناکام رہے تو پھر اعلیٰ عدلیہ پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ عدالتی نظرثانی کے اختیار کے تحت اس قانون سازی کو آئین کی کسوٹی پر پرکھے اور اگر یہ آئین سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دے۔ پارلیمنٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام نے انہیں ایوانوں میں قانون سازی کے لیے بھیجا ہے، اپنے حقوق کا سودا کرنے کے لیے نہیں۔

  • زاویہ: کارونجھر، لاکھوں سال پرانی ایک تہذیب جو پتھر بن گئی

    زاویہ: کارونجھر، لاکھوں سال پرانی ایک تہذیب جو پتھر بن گئی

    تم انہیں محض گرینائٹ کے پتھر جان کر کاٹنا چاہتے ہو، ہم انہیں مقدس تاریخ کو اپنے اندر سموئے وہ مقدس چٹانیں سمجھتے ہیں، جن کا ایک ایک عکس اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے۔ کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال تہذیب ہے جو پتھر بن گئی ہو۔

    جب نگرپارکر کے نوجوان فوٹوگرافر دلیپ پرمار نے اپنی آنکھ اور کیمرے کے لینز کو کارونجھر کے چھپے ہوئے حسن پر مرکوز کیا تو دنیا دنگ رہ گئی۔ کارونجھر کی چوٹی کی طرف بہنے والے پانی اور چٹان کے ملاپ کا عکس جب بڑا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح چہرہ یا شکل ابھرتی ہے، ایک ایسا پراسرار چہرہ جو موبائل کو سیدھا رکھنے پر واضح ہوتا ہے اور آڑا کرنے پر صرف پتھر اور پانی کا سنگم دکھائی دیتا ہے۔

    یہ اس دھرتی کا جادو ہے جو باریک تصویربندی کے ذریعے اب عالمی سطح پر وائرل ہو چکا ہے۔

    ماہرین ارضیات کے مطابق کارونجھر کا یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سے پانچ ارب سال پرانا ہے، یعنی یہ اس دور کی چٹانیں ہیں جب زمین کی اوپری سطح تشکیل پا رہی تھی۔ اربوں سال کے موسمیاتی اثرات، بارشوں اور ہوا کے دباؤ نے ان چٹانوں کو ایسی حیرت انگیز شکلیں بخشی ہیں جو انسانی فہم کو دنگ کر دیتی ہیں۔

    یہاں دلیپ پرمار کی دریافت کردہ اونٹ نما چٹان موجود ہے جو صحرا میں بیٹھے اونٹ کا گمان پیدا کرتی ہے، مگرمچھ نما چٹان ہے جس کی کھردری سطح مگرمچھ کی پشت جیسی ہے، اور عقاب، پرندوں اور انسانی کھوپڑی جیسی پراسرار شکلیں ہیں جو شام کے سائے گہرے ہوتے ہی داستان گوئی کرتی محسوس ہوتی ہیں۔

    یہ پہاڑی سلسلہ قدیم دور کی ایک عظیم تجارتی، تمدنی اور مذہبی سلطنت کا گواہ ہے۔ ماضی میں، خصوصاً 1226 تک، یہ خطہ جین مت کے ماننے والوں کا مضبوط قلعہ تھا، جہاں آج بھی تاج محل سے پرانا گوری مندر اور اس کے گنبدوں پر بنی قدیم تصاویر موجود ہیں۔ اسی پہاڑ کے دامن میں جین مندروں کے ساتھ سفید سنگ مرمر کی بھوڈیسر مسجد، جو 1505 میں سلطان محمود شاہ بیگڑا نے تعمیر کروائی، واقع ہے، جو یہاں کے مذہبی ہم آہنگی کے شاندار ماضی کو ظاہر کرتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ سردھڑو دھام، انچل ایشور اور چوڑیو مندر جیسے ہندو مت کے مقدس آستانے بھی اسی دامن میں موجود ہیں۔ مون سون کے آتے ہی کارونجھر کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس سے گوردھرو اور بھٹیانی جیسی بیس سے زائد بارانی ندیاں اور چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔

    مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر روزانہ سو تولے سونا دیتا ہے’ کیونکہ یہ نایاب جڑی بوٹیوں، جنگلی موروں، چنکارا ہرنوں اور قیمتی سرخ گرینائٹ کا امین ہے۔ یہ وہی دھرتی ہے جہاں انگریز استعمار کے خلاف یہاں کے سچے سپوت روپلو کولہی نے کارونجھر کی چٹانوں کو اپنی پناہ گاہ بنا کر جنگ لڑی اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

    بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں کارونجھر کے ان تیرتے اور متوازن پتھروں کو نجی کمپنیوں نے کان کنی اور دھماکوں کے ذریعے نقصان پہنچایا، لیکن سندھ کے باشعور عوام اور عدلیہ نے بروقت اقدام کرتے ہوئے یہاں ہر قسم کی کان کنی پر مستقل پابندی عائد کی اور اسے جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔ کارونجھر کو بچانا دراصل سندھ کی تاریخ اور میراث کو بچانا ہے۔

  • زاویہ: ‘آپ کی بات آپ ہی سے، کریں تو کیسے کریں’

    زاویہ: ‘آپ کی بات آپ ہی سے، کریں تو کیسے کریں’

    کافی عرصے سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اہم خبریں اور واقعات بہت جلد منظر سے غائب ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں۔ اسی سبب وہ نہ اخبارات میں جگہ پاتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی چینلوں پر نظر آتے ہیں۔ ان میں سے بعض خبریں اور واقعات سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر یتیم بچوں کی طرح بھٹکتے بھٹکتے کہیں دم توڑ دیتے ہیں یا لوگوں کی یادداشت سے گم ہو جاتے ہیں۔

    ان واقعات کی بھی کئی قسمیں ہیں، کچھ حکمران طبقے کے افراد سے متعلق ہوتے ہیں اور کچھ ریاستی معاملات اور عوامی احتجاجوں سے۔

    حکمرانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں جگہ پاتے ہیں، لیکن ان کے اثرات، ازالے یا انصاف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ سندھ میں ناظم جوکھیو غیر ملکی شکاریوں کو روکنے کی پاداش میں اپنے ہی لوگوں کی خواہش یا ان کے ہاتھوں بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، مگر کیس مک مکا سے ختم ہو گیا۔ فاطمہ پھرڑو رانی پور کے پیروں کی حویلی میں جان سے گئی۔ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر پولیس کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی لاش تک جلا دی گئی۔ عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ ملتی رہی اور انصاف کی امید کمزور ہوتی چلی گئی۔

    نصراللہ گڈانی ایک صحافی تھا۔ اس نے سرداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی جرات کی اور قتل کر دیا گیا۔ اس کے قتل کے معاملے میں بھی اب مفاہمت اور سودے بازی کی کوششیں ہو رہی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر انصاف کا قتل ہوگا۔

    ظلم اور ناانصافی کا مسئلہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ قوموں اور غریب عوام کے ساتھ بھی صدیوں سے یہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ غریب ممالک میں جمہوری نظام کی ہمیشہ مسکراتی ہوئی خوبصورت شکل کے پیچھے ایک وحشی، بے رحم اور خونخوار چہرہ چھپا ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً اپنا اظہار کرتا رہتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر عوام اور مظلوم قوموں پر جتنے مظالم ڈھائے جاتے ہیں، ان کے سامنے مارشل لا کے ادوار بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

    اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ خبر کے ساتھ خبر یا مضمون لکھنے والا بھی یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے "گائے کے اوپری دانت”۔ اس وقت پاکستان ایک طرف اپنی سفارتی کامیابیوں کے جشن منا رہا ہے۔ دنیا اس کی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششوں کو سراہ رہی ہے، لیکن دوسری طرف ملک کے اندر لوگ پریشانی اور احساسِ بیگانگی کا شکار ہیں۔

    یہ بے چینی کسی ایک صوبے تک محدود نہیں۔ پنجاب کے عوام پریشان ہیں کہ ان کے ووٹ کے جمہوری حق کو عزت نہیں دی گئی۔ ریاستی فیصلوں کے باعث سرحدیں بند ہو گئیں، آلو اور دیگر سبزیاں اونے پونے داموں فروخت ہوئیں اور چھوٹے کاشتکاروں کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ 9 مئی کے مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی عمر رسیدہ خاتون اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کو تیسری مرتبہ دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    عدالتیں آخرکار انصاف ضرور کریں گی، لیکن کب کریں گی، اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان ہزاروں دنوں سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی برقرار ہے۔ سندھ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمران خان سے اس بات پر ناراض ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے سندھ کے جزائر پر وفاقی قبضے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ ہمدردی بھی پائی جاتی ہے کہ کم از کم انہیں جیل کے قواعد کے مطابق اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے۔

    عدالتیں آزاد ہیں، چاہیں تو مقدمات کا فیصلہ کریں یا نہ کریں، اور اگر کریں تو کب کریں۔ صرف عمران خان کی ملاقاتوں کا مقدمہ ہی زیر التوا نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے سپریم کورٹ ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزاؤں کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اس حوالے سے سرکاری وکیل کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے۔ پھر چاہے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اور ان کے مقدمات لڑنے والے لوگ جیلوں میں سڑتے رہیں اور انہیں معلوم ہو جائے کہ سوشل میڈیا پر بڑی سرکار کے خلاف بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔

    البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو "لودووک ٹراویو بین الاقوامی ایوارڈ” دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وہ ایوارڈ ہے جو کبھی نیلسن منڈیلا کو بھی دورانِ اسیری دیا گیا تھا۔

    عدالتی انصاف کی تازہ مثال بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ایک دوسرے رہنما کو دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر ماہ رنگ نے مقدمہ لڑنے سے انکار کیا اور عدالت کے ساتھ تعاون بھی نہیں کیا، لیکن پھر بھی معزز عدالت نے مہربانی کرتے ہوئے حکم دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت شمار ہوں گی، البتہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ انصاف بہرحال انصاف ہی ہوتا ہے اور ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔

    شہید بے نظیر بھٹو کی جماعت اس وقت سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت کر رہی ہے۔ ظاہر ہے جہاں حکومت ہوگی وہاں ذمہ داری بھی ہوگی۔ اس لیے ان علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی سیاسی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔

    اسی طرح پنجاب اور اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) پر عائد ہوتی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اس وقت جو عوامی بے چینی پائی جاتی ہے اور جس سختی کا سامنا لوگوں کو ہے، اس کے بارے میں پیپلز پارٹی کو وضاحت کرنی چاہیے۔

    آزاد کشمیر بلاول بھٹو صاحب کو بھی بہت یاد ہے، آخر وہاں جولائی میں انتخابات جو ہونے والے ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر کی صورتِ حال خاصی خراب دکھائی دیتی ہے۔ "جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی” جو بنیادی طور پر بجلی اور آٹے کی قیمتیں کم کرانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی وسائل پر کشمیری عوام کی ملکیت کے مطالبات کے لیے قائم کی گئی تھی، اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    اس کمیٹی کا مؤقف تھا کہ کشمیر کے انتخابات میں صرف کشمیر کے رہائشی عوام ووٹ دیں اور اسمبلی کی وہ بارہ نشستیں، جو پاکستان کے دیگر علاقوں سے منتخب ہو کر کشمیری عوام کے سیاسی مینڈیٹ پر اثرانداز ہوتی ہیں اور اسمبلی کو عملاً اسلام آباد کے تابع بنا دیتی ہیں، ختم کی جائیں۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی انداز میں حل ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کشمیر میں ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے، لیکن نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی اسے اقتدار میں لانے والی قوتیں اس مسئلے کو حل کرتی نظر آتی ہیں۔ موجودہ صورتِ حال سے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اسے ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں گیس، سونا، تانبا اور دیگر معدنی وسائل کی موجودگی کے باوجود مقامی آبادی کا بڑا حصہ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔

    کئی دہائیوں سے بلوچ سیاسی قوتیں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ ان کے وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کا بڑا حصہ وفاق یا دیگر صوبے استعمال کرتے ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ملتا۔ اسی احساسِ محرومی کے باعث احتجاج جنم لیتے ہیں اور نتیجتاً نوجوان لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

    جب کوئی ماں، بہن یا بیٹی اپنے لاپتہ عزیز کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی ہے اور اسے ریاست مخالف یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان موجود فاصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھے سیاست دانوں سے مایوسی کے باعث بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں تاکہ ان مسائل پر پُرامن احتجاج کیا جا سکے، لیکن اب انہیں بھی شک اور بدگمانی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ان کے رہنماؤں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیمیں حقیقتاً ریاست کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی کارروائیوں میں بے گناہ شہری، دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے مزدور، سرکاری اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی تنظیموں کے خلاف قانونی اور حفاظتی کارروائی ریاست کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیکن جب پُرامن احتجاج کرنے والوں اور مسلح گروہوں کو ایک ہی خانے میں رکھا جاتا ہے تو اس سے سیاسی عمل کمزور اور تشدد پسند قوتیں مضبوط ہوتی ہیں۔

    گلگت بلتستان کی صورتِ حال بھی اطمینان بخش نہیں۔ یہ علاقہ جغرافیائی، معاشی اور دفاعی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور شاہراہ قراقرم دونوں ممالک کو زمینی راستے سے جوڑتی ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ مقامی آبادی کئی برسوں سے سیاسی حقوق، قانون سازی میں مؤثر شراکت اور مکمل صوبائی نمائندگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    انتخابات میں تاخیر، انتظامی فیصلے اور قدرتی وسائل پر اختیار کے مسائل وقتاً فوقتاً احتجاج کا باعث بنتے رہے ہیں۔ خاص طور پر چین کے ساتھ مقامی تجارت پر انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جنہیں سیاسی طور پر حل نہیں کیا جا سکا۔ شاہراہ قراقرم پر رکاوٹیں اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی آبادی اپنا سیاسی مستقبل خود طے کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ پیپلز پارٹی کی نئی حکومت یہاں ان مسائل کو بلوچستان کی طرز پر حل کرے گی یا کسی اور طریقے سے۔

    اس پوری صورتِ حال میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل ہو رہی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جدید ذرائع ابلاغ سے منسلک ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے واقف ہیں۔ وہ صرف روزگار ہی نہیں بلکہ عزت، سیاسی نمائندگی، انصاف اور مساوات بھی چاہتے ہیں۔

    جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے جا رہے ہیں، ان کے وسائل پر دوسروں کا قبضہ ہے اور ان کی سیاسی آواز کو دبایا جا رہا ہے تو ناراضگی کا بڑھنا فطری امر ہے۔ جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں کو بھی اسی نظر سے دیکھا جا رہا ہے جس نظر سے دہشت گردوں کو دیکھا جاتا ہے تو ان میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی انتہا پسند قوتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور مایوس نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر اپنی صفوں میں شامل کر لیتی ہیں۔

    لہٰذا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے کہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے عوامی نمائندوں، نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا انتظام کیا جائے۔ قوموں کے وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف نظام قائم کیا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں مؤثر شراکت دی جائے۔ روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خصوصی پروگرام متعارف کرائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو محسوس ہو کہ حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اختلاف کو غداری یا دہشت گردی سے جوڑنے کی روش بھی ترک کرنا ہوگی۔ ہر تنقید کرنے والا شخص دشمن نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر احتجاج کرنے والا فرد ریاست مخالف ہوتا ہے۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ لوگ اختلافِ رائے کا اظہار کریں، حکومت سے سوال پوچھیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔ اگر یہ دروازے بند کر دیے جائیں گے تو ناراضگی زیرِ زمین چلی جائے گی اور پھر اس کا اظہار زیادہ خطرناک شکلوں میں ہو سکتا ہے، لیکن باقی فیصلہ اختیار رکھنے والوں کو کرنا ہے۔