زاویہ: مشرق کی ملکہ سے لاوارث میگاسٹی تک، کراچی کا معاشی استحصال، مافیاز کا راج اور بوگوٹا، ممبئی ماڈل میں حل

کراچی

کسی دانا کا قول ہے کہ شہر محض مٹی، گارے اور کنکریٹ کی بے جان عمارتوں کا نام نہیں ہوتے، بلکہ شہر اپنے والی وارثوں، شہری ملکیت، تمدنی جمالیات اور انتظامی نظم و ضبط سے زندہ رہتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے تاریخی مراکز کو لاوارث چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج جب ہم ‘عالمی قابل رہائش شہروں کے اشاریے’ کو دیکھتے ہیں، تو پاکستان کا دل، اس کا معاشی انجن اور کبھی ‘روشنیوں کا شہر’ کہلانے والا کراچی دنیا کے بدترین اور ناقابلِ رہائش شہروں کی فہرست میں آخری نمبروں پر سسکتا ہوا نظر آتا ہے۔

یہ محض ایک شہر کے بنیادی ڈھانچے کا زوال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے شاندار تاریخی، ثقافتی اور معاشی تمدن کی بتدریج تباہی ہے جو کبھی برطانوی راج میں ‘مشرق کی ملکہ’ اور ‘برطانوی تاج کا ہیرا’ کہلاتا تھا۔

اگر ہم تاریخ کے پنّے پلٹیں، تو 1920 اور 1930 کی دہائی کا کراچی ایک خوبصورت رومانوی خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی کے پہلے پارسی میئر، جمشید نسروانجی، جنہیں تاریخ محبت سے ‘بابائے کراچی’ کہتی ہے، کے وژن کے تحت شہر کی سڑکیں روزانہ سمندر کے پانی اور جراثیم کش ادویات سے دھوئی جاتی تھیں۔ شہر کا زیرِ زمین سیوریج نظام اتنا جدید اور مربوط تھا کہ مون سون کی شدید بارشوں کا پانی بھی منٹوں میں غائب ہو جاتا تھا اور شہری زندگی بحال رہتی تھی۔

دملوتی کے تاریخی کنوؤں کے آبی فراہمی کے نظام سے شہریوں کو چوبیس گھنٹے صاف، شفاف اور مفت پانی ملتا تھا، اور سڑکوں پر پٹریوں پر دوڑتی ٹرامیں عوام کو ماحول دوست، سستا اور باوقار سفر فراہم کرتی تھیں۔

سب سے بڑھ کر، اس دور کے کراچی میں سیاسی، لسانی یا فرقہ وارانہ عصبیت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پارسی، ہندو، مسلمان، عیسائی اور یہودی نہ صرف مل جل کر رہتے تھے بلکہ شہر کی ترقی میں برابر کے شراکت دار تھے۔ دھرتی کے متمول ہندو اور پارسی خاندانوں نے اپنے سرمائے سے ایسے ہسپتال، اسکول اور لائبریریاں بنوائیں جو بلا تفریقِ رنگ و نسل سب کے لیے کھلی تھیں۔ فریئر ہال، ایمپریس مارکیٹ، ڈی جے سائنس کالج اور کے ایم سی بلڈنگ جیسے شاندار تاریخی ورثے اس دور کی بلدیاتی خودمختاری، سیاسی رواداری اور شہری جمالیات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

روشنیوں کا شہر اندھیروں کی نذر کیسے ہوا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشرق کی ملکہ رفتہ رفتہ اندھیروں کی نذر کیسے ہو گئی؟ اور وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اس ترقی یافتہ یورپی طرز کے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا؟

اس تمدنی المیے کا پہلا بڑا سبب 1947 کی تقسیمِ ہند، قدیم مقامی آبادی کا انخلا اور اس کے بعد آبادی کا بے تحاشا جغرافیائی و تزویراتی دباؤ ہے۔ تقسیم سے پہلے کا کراچی ایک پڑھا لکھا، پرامن اور بے حد منظم معاشرہ تھا۔ تقسیم کے بعد جب یہاں کے قدیم ہندو اور پارسی خاندان، جو یہاں کے اصل تاجر، ماہرینِ تعلیم، معمار اور وکیل تھے، ہجرت کر کے بھارت یا دیگر ممالک چلے گئے، تو کراچی ایک دم سے اپنے ان مخلص اور تجربہ کار معماروں سے محروم ہو گیا جنہوں نے اس شہر کو تراشا تھا۔ یہ ایک ایسا تہذیبی نقصان تھا جس کی تلافی آج تک نہ ہو سکی۔

اس قدیم آبادی کے انخلا کے ساتھ ہی کراچی کو نئے ملک پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا، جس کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا آغاز ہوا۔ 1941 کی مردم شماری میں جس شہر کی آبادی محض چار لاکھ کے قریب تھی، وہ 1951 تک، یعنی صرف چند سالوں میں، بڑھ کر دس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بھارت کے اتر پردیش، وسطی صوبوں، حیدرآباد اور دہلی سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین ہجرت کر کے کراچی آئے۔ شہر کے پاس اتنی بڑی آبادی کو فوری طور پر سنبھالنے کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ عارضی کیمپ بنے اور قائدِ اعظم کے مزار کے آس پاس کی زمینوں پر کچی بستیاں قائم ہوئیں، جس سے شہر کی ابتدائی منصوبہ بندی ہمیشہ کے لیے پٹری سے اتر گئی۔

شہر ابھی اس صدمے اور دباؤ سے سنبھل ہی رہا تھا کہ 1960 کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اس فیصلے سے کراچی کی سیاسی اہمیت تو کم ہو گئی، لیکن اس کا معاشی دباؤ برقرار رہا کیونکہ یہ ملک کا واحد صنعتی اور تجارتی مرکز تھا۔

چناں چہ اگلا مرحلہ اندرونِ ملک ہجرت کا شروع ہوا۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور ایرانی بلوچستان سے لاکھوں لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آئے۔ کراچی نے ایک سخی ماں کی طرح سب کو گلے لگایا، لیکن شہر کے وسائل، پانی، زمین اور بجلی، محدود رہے اور آبادی لامحدود ہوتی چلی گئی۔

اس کے بعد بین الاقوامی تارکینِ وطن کا بوجھ اس شہر پر لادا گیا۔ 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بہاری اور بنگلہ دیشی محصورین کراچی آئے۔ پھر 1979 کے افغان جہاد کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے کراچی کا رخ کیا۔ ان تارکینِ وطن کی اکثریت نے شہر کے مضافات، جیسے سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں، میں غیر قانونی بستیاں قائم کیں۔

ان بستیوں کے متبادل معاشرے کے طور پر ابھرنے سے شہر میں کلاشنکوف کلچر، منشیات کی بھرمار اور زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کا آغاز ہوا، جس نے کراچی کے روایتی امن و امان، امن پسندی اور تمدنی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر دیا۔ رہی سہی کسر 1980 اور نوے کی دہائی کی سوچی سمجھی لسانی اور سیاسی تقسیم نے پوری کر دی، جہاں شہر کو مسلح علاقوں میں بانٹ کر سیاست کو ‘بلدیات اور خدمت’ سے ہٹا کر ‘عصبیت اور بقا’ کی جنگ بنا دیا گیا۔

ووٹر کو شہری مسائل پر نہیں بلکہ لسانی شناخت پر متحرک کیا گیا، جس کی وجہ سے شہر کو ملکیت کا احساس دینے والی کوئی مشترکہ قیادت ابھر ہی نہ سکی۔

معاشی تضاد اور ریونیو کا سنگین استحصال

کراچی کا سب سے بڑا المیہ اس کا معاشی استحصال اور ریاستی بے حسی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور وفاقی ادارۂ محاصل کے حالیہ دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق، کراچی پاکستان کے کل ٹیکس ریونیو کا تقریباً 65 سے 70 فیصد اکیلا جمع کرتا ہے اور ملک کی مجموعی ملکی پیداوار میں اس کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہے۔

تضاد کی انتہا دیکھیے کہ پورے ملک کا پیٹ پالنے والا یہ شہر، جو قومی معیشت کا انجن ہے، جب اپنے جائز آئینی حق یا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبائی فنڈز میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے بجٹ کا محض ایک معمولی حصہ بھی نہیں دیا جاتا۔ ملکی برآمدات کا 54 فیصد سے زائد حصہ سنبھالنے والی کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی موجودگی کے باوجود اس شہر کی اپنی داخلی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس شہر کو سونے کی چڑیا تو سمجھتی ہیں جس کا معاشی خون نچوڑا جا سکتا ہے، لیکن اس کی بقا اور ترقی کے لیے کوئی بھی سنجیدہ انتظامی کوشش کرنے کو تیار نہیں۔

پانی کا بحران اور ٹینکر مافیا کی معیشت

آج کا کراچی دنیا کا واحد میگا سٹی ہے جو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے بھی مکمل طور پر ایک منظم کالی معیشت، یعنی ‘ٹینکر مافیا’، کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ بحران قدرتی نہیں بلکہ خالصتاً مصنوعی ہے، جس کے پیچھے چھپے تلخ حقائق کسی سنگین جرم کے اسکرپٹ سے کم نہیں ہیں۔

کراچی کو روزانہ تقریباً 1200 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ واٹر بورڈ کے بوسیدہ اور نااہل نظام کے ذریعے صرف 450 سے 500 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

اس فراہم کردہ پانی کا بھی 40 فیصد سے زائد حصہ جان بوجھ کر لائن لاسز اور ہائیڈرنٹ مافیا کی چوری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ تھنک ٹینک رپورٹس کے مطابق کراچی میں ٹینکر مافیا کا سالانہ کالا کاروبار 50 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

یعنی جو پانی شہریوں کو پائپ لائن کے ذریعے مفت یا چند سو روپے کے بل میں ملنا چاہیے تھا، اسی پانی کو سرکاری پائپوں سے چوری کر کے شہریوں ہی کو پانچ سے دس ہزار روپے فی ٹینکر بیچا جا رہا ہے، اور یہ کالی کمائی نیچے سے لے کر مقتدر حلقوں تک باقاعدگی سے تقسیم ہوتی ہے۔ غریب تو دور، پوش علاقوں کے لوگ بھی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

اسٹریٹ کرائم اور عدم تحفظ کا راج

شہر کی صرف سڑکیں، پارک اور نالے ہی تباہ نہیں ہوئے، جو چائنا کٹنگ اور لینڈ مافیا کی نذر ہو چکے ہیں، بلکہ شہریوں کا سکون، جان اور مال بھی سڑکوں پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہے۔ سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے حالیہ ریکارڈ کے مطابق کراچی میں روزانہ اوسطاً 250 سے 300 اسٹریٹ کرائم رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں موبائل فون، موٹر سائیکل چھیننا اور مسلح ڈکیتی شامل ہے۔

سب سے لرزہ خیز حقیقت یہ ہے کہ مزاحمت کرنے پر ہر سال سینکڑوں بے گناہ شہری، جن میں اکثریت یونیورسٹیوں کے ہونہار طلبہ اور اپنے گھروں کا واحد معاشی سہارا بننے والے نوجوانوں کی ہوتی ہے، سڑکوں پر سرِعام گولیوں کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ یہ اس شہر کے امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی بے حسی کی انتہا ہے کہ اب یہاں ایک سستے موبائل فون کی قیمت ایک زندہ انسان کی جان سے زیادہ ہو چکی ہے۔

آج کا کراچی ایک لاوارث اور یتیم شہر بن چکا ہے، جہاں ایک بااختیار میئر کے بجائے شہر کا انتظامی کنٹرول درجنوں مختلف وفاقی، صوبائی اور کینٹونمنٹ اداروں، کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کینٹ بورڈز، میں بری طرح بٹا ہوا ہے۔

کوئی ایک ادارہ بھی کچرا اٹھانے، سڑک بنانے یا پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا اور ہر ادارہ ملبہ دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑ لیتا ہے۔

عالمی ماڈلز کی روشنی میں ممکنہ حل: کیا کراچی کا یہ زوال مستقل ہے؟

کیا یہ شہر کبھی دوبارہ جمشید نسروانجی کے ماڈل پر واپس جا سکتا ہے؟ دنیا کے دوسرے بڑے میگا سٹیز کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم، طویل مدتی منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

دنیا کے کئی شہر ایک وقت میں بالکل اسی طرح کے بدترین بحرانوں کا شکار تھے، لیکن انہوں نے خود کو بدلا۔ ہم درج ذیل تین بنیادی تزویراتی اقدامات کے ذریعے کراچی کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

واٹر مافیا کا خاتمہ

کراچی میں پانی کی قلت سے زیادہ بڑا مسئلہ پانی کی چوری اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی کی بلدیہ نے شہر کے اندر غیر قانونی کنوؤں اور ہائیڈرنٹس پر سخت پابندی لگائی اور پورے آبی نظام پر ڈیجیٹل ‘فلو میٹرز’ اور نگرانی کا نظام نصب کیا تاکہ پائپ لائنوں سے پانی کی چوری پکڑی جا سکے۔

کراچی کو بھی سب سے پہلے ان ہائیڈرنٹس کو بند کرنا ہوگا۔

انڈونیشیا کے شہر جکارتہ نے زیرِ زمین پانی نکالنے کی وجہ سے شہر کے ڈوبنے کے خطرے کے بعد نجی شعبے کے تعاون سے بڑے پیمانے پر سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس لگائے۔

کراچی ایک ساحلی شہر ہے، یہاں بھی سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹس لگائے جائیں، جو پائپ لائنوں اور سستے واٹر میٹرز کے ذریعے پانی براہِ راست گھروں تک پہنچائیں۔ جب شہریوں کو سستا پانی نلکے سے ملے گا تو اربوں روپے کی یہ ٹینکر مافیا خود بخود دم توڑ جائے گی۔

تاجر برادری کا بطور ‘پریشر گروپ’ ابھرنا

لاطینی امریکہ کے شہر بوگوٹا کو 1990 کی دہائی میں وہاں کے چیمبر آف کامرس اور تاجروں نے بدترین جرائم، کرپشن اور ٹریفک جام سے نکال کر ایک ماڈل شہر بنایا۔ وہاں کے انقلابی میئر ‘اینریک پینالوسا’ نے تاجروں کی مدد سے کاروں کے راستے تنگ کر کے فٹ پاتھ چوڑے کیے، سیکڑوں کلومیٹر طویل سائیکل ٹریکس بنائے اور دنیا کا بہترین بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام شروع کیا۔ ان کا فلسفہ تھا:

ایک ترقی یافتہ شہر وہ نہیں جہاں غریب گاڑیوں میں گھومیں، بلکہ وہ ہے جہاں امیر عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔

کراچی کی تاجر برادری، کراچی چیمبر آف کامرس اور صنعتی انجمنیں جیسے سائٹ، کورنگی اور لانڈھی، ملک کا سب سے بڑا ریونیو پیدا کرتی ہیں، اس لیے ان کے پاس حکومتوں کو جھکانے کی زبردست طاقت موجود ہے۔

انہیں اب لسانی اور روایتی انتخابی سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط ‘کراچی فرسٹ پریشر گروپ’ بنانا ہوگا۔ وہ قانونی طور پر ایک ‘اسکرو اکاؤنٹ’ کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جس کے تحت کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکس کا ایک مخصوص حصہ، مثلاً 25 سے 30 فیصد، براہِ راست شہر کے بنیادی ڈھانچے، صفائی، جدید ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی، مثلاً نگرانی کے کیمروں، پر خرچ ہو اور صوبائی یا وفاقی حکومت اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

تاجر برادری سماجی ذمے داری کے تحت اپنے اپنے تجارتی مراکز کی ملکیت کا احساس اپناتے ہوئے بھی شہر کا آدھا حصہ سدھار سکتی ہے۔

آئینی بلدیاتی خودمختاری اور عمودی ترقی

کراچی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جب تک آئین کی رو سے کراچی کے میئر کو مالیاتی، انتظامی اور سکیورٹی کے مکمل اختیارات نہیں دیے جاتے، وفاق یا صوبے کے عارضی ‘پیکجز’ اس شہر کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ٹریفک پولیس کو براہِ راست میئر کے ماتحت ہونا چاہیے۔

شہر کے افقی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ممبئی کی ‘سلم ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی’ کی طرح سرکاری اور نجی شراکت داری کے تحت کچی آبادیوں کو عمودی رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا، جہاں بلڈرز کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کر کے قدیم رہائشیوں کو مفت فلیٹ دیں اور باقی مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع کمائیں۔

اس سے قیمتی زمین لینڈ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوگی اور غریبوں کو چھت ملے گی۔ ٹرام وے یا بڑے پیمانے پر برقی بسوں کا نیٹ ورک دوبارہ بحال کرنا ہوگا تاکہ نجی گاڑیوں کا دباؤ کم ہو۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کراچی کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل یا سرمائے کی کمی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص ‘والی وارث’ نہیں ہے۔ جمشید نسروانجی کے دور میں کراچی کے پاس ایک دل تھا جو شہر کے لیے دھڑکتا تھا، آج کراچی کے پاس صرف ایسی بیوروکریسی اور انتظامیہ ہے جو اس کا معاشی خون نچوڑنا جانتی ہے۔

کراچی صرف سندھ یا پاکستان کا ایک روایتی شہر نہیں، یہ اس ملک کی معاشی شہ رگ ہے۔ اگر یہ شہ رگ مختلف مافیاز کی بیدردی اور سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے بند ہو گئی تو پورا ملک معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے تاجر، دانشور، وکلائے کرام اور عام شہری اپنے داخلی اختلافات، مذہبی، لسانی اور سیاسی وابستگیوں کو پسِ پشت ڈال کر اس شہر کے بلدیاتی، انتظامی اور آئینی حقوق کے لیے یک زبان ہو کر ایک مشترکہ پریشر گروپ بنائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

اسی بارے میں: