کافی عرصے سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اہم خبریں اور واقعات بہت جلد منظر سے غائب ہو جاتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں۔ اسی سبب وہ نہ اخبارات میں جگہ پاتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی چینلوں پر نظر آتے ہیں۔ ان میں سے بعض خبریں اور واقعات سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر یتیم بچوں کی طرح بھٹکتے بھٹکتے کہیں دم توڑ دیتے ہیں یا لوگوں کی یادداشت سے گم ہو جاتے ہیں۔
ان واقعات کی بھی کئی قسمیں ہیں، کچھ حکمران طبقے کے افراد سے متعلق ہوتے ہیں اور کچھ ریاستی معاملات اور عوامی احتجاجوں سے۔
حکمرانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں جگہ پاتے ہیں، لیکن ان کے اثرات، ازالے یا انصاف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ سندھ میں ناظم جوکھیو غیر ملکی شکاریوں کو روکنے کی پاداش میں اپنے ہی لوگوں کی خواہش یا ان کے ہاتھوں بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، مگر کیس مک مکا سے ختم ہو گیا۔ فاطمہ پھرڑو رانی پور کے پیروں کی حویلی میں جان سے گئی۔ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر پولیس کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی لاش تک جلا دی گئی۔ عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ ملتی رہی اور انصاف کی امید کمزور ہوتی چلی گئی۔
نصراللہ گڈانی ایک صحافی تھا۔ اس نے سرداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی جرات کی اور قتل کر دیا گیا۔ اس کے قتل کے معاملے میں بھی اب مفاہمت اور سودے بازی کی کوششیں ہو رہی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر انصاف کا قتل ہوگا۔
ظلم اور ناانصافی کا مسئلہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ قوموں اور غریب عوام کے ساتھ بھی صدیوں سے یہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ غریب ممالک میں جمہوری نظام کی ہمیشہ مسکراتی ہوئی خوبصورت شکل کے پیچھے ایک وحشی، بے رحم اور خونخوار چہرہ چھپا ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً اپنا اظہار کرتا رہتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر عوام اور مظلوم قوموں پر جتنے مظالم ڈھائے جاتے ہیں، ان کے سامنے مارشل لا کے ادوار بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔
اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ خبر کے ساتھ خبر یا مضمون لکھنے والا بھی یوں غائب ہو جاتا ہے جیسے "گائے کے اوپری دانت”۔ اس وقت پاکستان ایک طرف اپنی سفارتی کامیابیوں کے جشن منا رہا ہے۔ دنیا اس کی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششوں کو سراہ رہی ہے، لیکن دوسری طرف ملک کے اندر لوگ پریشانی اور احساسِ بیگانگی کا شکار ہیں۔
یہ بے چینی کسی ایک صوبے تک محدود نہیں۔ پنجاب کے عوام پریشان ہیں کہ ان کے ووٹ کے جمہوری حق کو عزت نہیں دی گئی۔ ریاستی فیصلوں کے باعث سرحدیں بند ہو گئیں، آلو اور دیگر سبزیاں اونے پونے داموں فروخت ہوئیں اور چھوٹے کاشتکاروں کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ 9 مئی کے مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی عمر رسیدہ خاتون اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کو تیسری مرتبہ دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالتیں آخرکار انصاف ضرور کریں گی، لیکن کب کریں گی، اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان ہزاروں دنوں سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی برقرار ہے۔ سندھ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمران خان سے اس بات پر ناراض ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے دوران انہوں نے سندھ کے جزائر پر وفاقی قبضے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ ہمدردی بھی پائی جاتی ہے کہ کم از کم انہیں جیل کے قواعد کے مطابق اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے۔
عدالتیں آزاد ہیں، چاہیں تو مقدمات کا فیصلہ کریں یا نہ کریں، اور اگر کریں تو کب کریں۔ صرف عمران خان کی ملاقاتوں کا مقدمہ ہی زیر التوا نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے سپریم کورٹ ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزاؤں کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اس حوالے سے سرکاری وکیل کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے۔ پھر چاہے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اور ان کے مقدمات لڑنے والے لوگ جیلوں میں سڑتے رہیں اور انہیں معلوم ہو جائے کہ سوشل میڈیا پر بڑی سرکار کے خلاف بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو "لودووک ٹراویو بین الاقوامی ایوارڈ” دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وہ ایوارڈ ہے جو کبھی نیلسن منڈیلا کو بھی دورانِ اسیری دیا گیا تھا۔
عدالتی انصاف کی تازہ مثال بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ایک دوسرے رہنما کو دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر ماہ رنگ نے مقدمہ لڑنے سے انکار کیا اور عدالت کے ساتھ تعاون بھی نہیں کیا، لیکن پھر بھی معزز عدالت نے مہربانی کرتے ہوئے حکم دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت شمار ہوں گی، البتہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ انصاف بہرحال انصاف ہی ہوتا ہے اور ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔
شہید بے نظیر بھٹو کی جماعت اس وقت سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت کر رہی ہے۔ ظاہر ہے جہاں حکومت ہوگی وہاں ذمہ داری بھی ہوگی۔ اس لیے ان علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی سیاسی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔
اسی طرح پنجاب اور اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) پر عائد ہوتی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اس وقت جو عوامی بے چینی پائی جاتی ہے اور جس سختی کا سامنا لوگوں کو ہے، اس کے بارے میں پیپلز پارٹی کو وضاحت کرنی چاہیے۔
آزاد کشمیر بلاول بھٹو صاحب کو بھی بہت یاد ہے، آخر وہاں جولائی میں انتخابات جو ہونے والے ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر کی صورتِ حال خاصی خراب دکھائی دیتی ہے۔ "جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی” جو بنیادی طور پر بجلی اور آٹے کی قیمتیں کم کرانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی وسائل پر کشمیری عوام کی ملکیت کے مطالبات کے لیے قائم کی گئی تھی، اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس کمیٹی کا مؤقف تھا کہ کشمیر کے انتخابات میں صرف کشمیر کے رہائشی عوام ووٹ دیں اور اسمبلی کی وہ بارہ نشستیں، جو پاکستان کے دیگر علاقوں سے منتخب ہو کر کشمیری عوام کے سیاسی مینڈیٹ پر اثرانداز ہوتی ہیں اور اسمبلی کو عملاً اسلام آباد کے تابع بنا دیتی ہیں، ختم کی جائیں۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی انداز میں حل ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کشمیر میں ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے، لیکن نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی اسے اقتدار میں لانے والی قوتیں اس مسئلے کو حل کرتی نظر آتی ہیں۔ موجودہ صورتِ حال سے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اسے ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں گیس، سونا، تانبا اور دیگر معدنی وسائل کی موجودگی کے باوجود مقامی آبادی کا بڑا حصہ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔
کئی دہائیوں سے بلوچ سیاسی قوتیں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ ان کے وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کا بڑا حصہ وفاق یا دیگر صوبے استعمال کرتے ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ملتا۔ اسی احساسِ محرومی کے باعث احتجاج جنم لیتے ہیں اور نتیجتاً نوجوان لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
جب کوئی ماں، بہن یا بیٹی اپنے لاپتہ عزیز کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی ہے اور اسے ریاست مخالف یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان موجود فاصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھے سیاست دانوں سے مایوسی کے باعث بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں تاکہ ان مسائل پر پُرامن احتجاج کیا جا سکے، لیکن اب انہیں بھی شک اور بدگمانی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ان کے رہنماؤں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیمیں حقیقتاً ریاست کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی کارروائیوں میں بے گناہ شہری، دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے مزدور، سرکاری اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی تنظیموں کے خلاف قانونی اور حفاظتی کارروائی ریاست کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیکن جب پُرامن احتجاج کرنے والوں اور مسلح گروہوں کو ایک ہی خانے میں رکھا جاتا ہے تو اس سے سیاسی عمل کمزور اور تشدد پسند قوتیں مضبوط ہوتی ہیں۔
گلگت بلتستان کی صورتِ حال بھی اطمینان بخش نہیں۔ یہ علاقہ جغرافیائی، معاشی اور دفاعی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور شاہراہ قراقرم دونوں ممالک کو زمینی راستے سے جوڑتی ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ مقامی آبادی کئی برسوں سے سیاسی حقوق، قانون سازی میں مؤثر شراکت اور مکمل صوبائی نمائندگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انتخابات میں تاخیر، انتظامی فیصلے اور قدرتی وسائل پر اختیار کے مسائل وقتاً فوقتاً احتجاج کا باعث بنتے رہے ہیں۔ خاص طور پر چین کے ساتھ مقامی تجارت پر انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، جنہیں سیاسی طور پر حل نہیں کیا جا سکا۔ شاہراہ قراقرم پر رکاوٹیں اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی آبادی اپنا سیاسی مستقبل خود طے کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ پیپلز پارٹی کی نئی حکومت یہاں ان مسائل کو بلوچستان کی طرز پر حل کرے گی یا کسی اور طریقے سے۔
اس پوری صورتِ حال میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل ہو رہی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جدید ذرائع ابلاغ سے منسلک ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے واقف ہیں۔ وہ صرف روزگار ہی نہیں بلکہ عزت، سیاسی نمائندگی، انصاف اور مساوات بھی چاہتے ہیں۔
جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے ان کی مرضی کے بغیر کیے جا رہے ہیں، ان کے وسائل پر دوسروں کا قبضہ ہے اور ان کی سیاسی آواز کو دبایا جا رہا ہے تو ناراضگی کا بڑھنا فطری امر ہے۔ جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں کو بھی اسی نظر سے دیکھا جا رہا ہے جس نظر سے دہشت گردوں کو دیکھا جاتا ہے تو ان میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی انتہا پسند قوتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور مایوس نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر اپنی صفوں میں شامل کر لیتی ہیں۔
لہٰذا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے کہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے عوامی نمائندوں، نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا انتظام کیا جائے۔ قوموں کے وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف نظام قائم کیا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں مؤثر شراکت دی جائے۔ روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خصوصی پروگرام متعارف کرائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو محسوس ہو کہ حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اختلاف کو غداری یا دہشت گردی سے جوڑنے کی روش بھی ترک کرنا ہوگی۔ ہر تنقید کرنے والا شخص دشمن نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر احتجاج کرنے والا فرد ریاست مخالف ہوتا ہے۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ لوگ اختلافِ رائے کا اظہار کریں، حکومت سے سوال پوچھیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔ اگر یہ دروازے بند کر دیے جائیں گے تو ناراضگی زیرِ زمین چلی جائے گی اور پھر اس کا اظہار زیادہ خطرناک شکلوں میں ہو سکتا ہے، لیکن باقی فیصلہ اختیار رکھنے والوں کو کرنا ہے۔

