تاریخ صرف جنگوں، بادشاہوں کی تبدیلیوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معاشروں کے اندر رینگنے والی ان خاموش سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کا عکس بھی ہوتی ہے جو انسانی طرزِ زندگی کو یکسر بدل دیتی ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی مذہبی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کا دور ایک ایسے ہی فکری اور سماجی انقلاب کا پتا دیتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی مذہبی رسومات اور عقیدت کا اظہار گھروں، خانقاہوں، مساجد اور امام بارگاہوں کی ’چار دیواری‘ سے نکل کر شہروں کی ’شاہراہوں اور چوراہوں‘ پر جلوہ گر ہونے لگا۔
’بارہ وفات‘ سے ’میلاد کے جلوس‘ تک کا سفر
آج ہم جب 12 ربیع الاول کو ملک بھر کی سڑکوں پر عید میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے اور متحرک جلوس دیکھتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ یہ روایت شاید صدیوں پرانی ہے۔ لیکن تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک، کراچی سمیت پورے برصغیر میں اس دن کو ’عید میلاد النبی‘ کے بجائے عام طور پر ’بارہ وفات‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
اس دور میں عقیدت کا رنگ جشن کا نہیں بلکہ ملال، سنجیدگی اور احترامِ نبوی کا امتزاج تھا۔ دن کا آغاز مساجد یا گھروں میں صبح کے وقت ہونے والی خاموش ’سیرت النبی ﷺ‘ اور ’وفات نامہ‘ کی مجالس سے ہوتا تھا۔
لوگ خاموشی سے بیٹھ کر خطبہ کو سنتے، درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے، تبرک بانٹتے اور اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اس دور کے برصغیر کی گلیوں اور سڑکوں پر کسی قسم کے عوامی میلاد کے جلوسوں کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔
لکھنؤ سے راولپنڈی تک: عوامی بیداری کے دو اہم سال
اس روایتی اور خاموش طرزِ عبادت میں تبدیلی برطانوی راج کے آخری چند عشروں میں آئی، جب برصغیر کے مسلمان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنی ’عوامی مذہبی شناخت‘ نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ اس ضمن میں 1926 اور 1927 کے سال تاریخ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
سال 1926 میں لکھنؤ میں ہندوستان کی پہلی ’مجلسِ شامِ غریباں‘ منعقد ہوئی۔ اگرچہ شیعہ مسلمانوں میں عزاداری کی یہ سوگوار روایت پہلے سے موجود تھی، لیکن وہ امام بارگاہوں اور نجی حلقوں تک محدود تھی۔ لکھنؤ کی اس مجلس نے اسے ایک نمایاں عوامی اور اجتماعی صورت عطا کی، جہاں ہزاروں لوگ سڑکوں اور میدانوں میں جمع ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔
اس کے ٹھیک ایک سال بعد، ستمبر 1927 میں راولپنڈی میں ہندوستان کا پہلا باقاعدہ عوامی عید میلاد النبی جلوس نکالا گیا۔ دستیاب روایات کے مطابق، اس جلوس کی تجویز اس وقت کے ایک برطانوی ڈپٹی کمشنر کی طرف سے دی گئی تھی، جو نوآبادیاتی انتظامیہ کی طرف سے مقامی آبادی کو اپنے تہوار کھلے عام منانے کی اجازت دینے کی پالیسی کا حصہ تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر 12 ربیع الاول کا دن ایک بڑے عوامی اجتماع اور برآمدی جلوس کی شکل میں نمودار ہوا۔
کراچی کا منفرد کیس: 1872 کا استثنائی نقش
اگرچہ پورے برصغیر میں عوامی جلوسوں کا یہ رواج 1920 کی دہائی کے بعد ہی جڑ پکڑ سکا، لیکن اگر ہم قدیم کراچی کی تاریخ کا پتا لگائیں تو یہاں ہمیں ایک منفرد اور بہت قدیم استثنائی نقش ملتا ہے۔ کراچی کی تاجر اور مذہبی برادری ملک کے دیگر حصوں سے کہیں پہلے اپنی مذہبی موجودگی کا اظہار سڑکوں پر کر چکی تھی۔
معروف محقق ڈاکٹر سہیل انصاری کی تحقیق کے مطابق، کراچی میں عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس روایتی طور پر تقسیم سے قبل بھی پوری عقیدت سے نکالا جاتا تھا۔ سال 1872 میں اس جلوس کے لیے کھارادر سے موجودہ عیدگاہ میدان تک کی باقاعدہ سرکاری اجازت حاصل کی گئی تھی، جس کی قیادت علامہ حافظ محمد عبداللہ درس نے کی تھی۔
بعد ازاں، جب انگریزوں نے کراچی کو جدید شہر میں بدلا اور یہاں کلاک ٹاورز اور چوراہے بنے تو یہ روایت بھی پھیلتی گئی۔ 1914 سے 1925 تک شیخ عبدالکریم درس کی قیادت میں یہ جلوس منظم ہوا، جبکہ 1925 کے بعد مولانا ظہور الحسن درس نے اس کی کمان سنبھالی۔ یہ مرکزی جلوس میری ویدر ٹاور سے شروع ہو کر رام باغ، موجودہ آرام باغ، گراؤنڈ پر جا کر ختم ہوتا تھا اور شہر کی اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔
تقسیمِ ہند اور قائدِ اعظم کا تاریخی خطاب (25 جنوری 1948)
مذہبی رسومات کا یہ عوامی سفر قیامِ پاکستان کے بعد ایک نئے تشخص کے ساتھ ابھرا۔ ڈاکٹر سہیل انصاری کے ریکارڈز اور محفوظ کردہ نایاب تصویر کے مطابق، تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں پہلی عید میلاد النبی ﷺ 25 جنوری 1948 کو منائی گئی۔
یہ دن پاکستان کی تاریخ میں اس لیے بھی امر ہو گیا کیونکہ اس بابرکت موقع پر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ایک استقبالیہ تقریب میں خصوصی شرکت کی اور وہاں موجود وکلا اور عمائدینِ شہر سے ایک تاریخی خطاب فرمایا۔ یہ تصویر اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ نئے وطن میں مذہبی آزادی، روایات کا احترام اور عوامی تشخص کس طرح مملکت کے رہنماؤں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہا تھا۔
رسومات کے سڑکوں پر آنے کی سیاسی و سماجی وجہ
انگریزوں کے دور میں مسلمانوں نے یہ نئے عوامی طریقے کیوں اختیار کیے؟ تاریخ دان اس کی دو بڑی وجوہات بتاتے ہیں:
شہری جگہوں کا استعمال: برطانوی حکومت نے جب برصغیر میں سڑکوں کا جال بچھایا، بڑے چوراہے، پارک اور عوامی ہال بنائے تو مقامی آبادی نے ان شہری جگہوں کو اپنے اجتماعی تشخص کے اظہار کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
سیاسی اور عددی طاقت کا مظاہرہ: یہ وہ دور تھا جب ہندو برادری نے ’آریہ سماج‘ اور دیگر تحریکوں کے تحت ’شوبھا یاترا‘، یعنی مذہبی جلوسوں، اور گنیش چترتھی جیسے تہواروں کو سڑکوں پر لا کر اپنی عوامی اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی عددی موجودگی، تشخص اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے میلاد کے بڑے جلوسوں اور کھلی عوامی مجالس کا سہارا لیا تاکہ نوآبادیاتی حکومت پر ان کا سیاسی دباؤ برقرار رہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ برصغیر میں مذہبی رسومات کا یہ سفر محض عبادات کے طریقوں کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ مسلمانوں کی سیاسی و سماجی بیداری کا پیش خیمہ تھا۔ ’بارہ وفات‘ کا مسجد کے اندر ہونے والا خاموش ذکر جب سڑکوں پر آیا تو اس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ’اجتماعی طاقت‘ کا احساس دلایا۔ 25 جنوری 1948 کو قائد اعظم کا کراچی بار میں خطاب اسی سفر کا ایک خوبصورت تسلسل تھا، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ کراچی کی سڑکیں اور میدان ہمارے مذہبی، سیاسی اور تہذیبی ارتقا کے کتنے بڑے شاہد ہیں۔

