Tag: برصغیر

  • زاویہ: چار دیواری سے شاہراہوں تک:  برصغیر میں مذہبی رسومات کا عوامی سفر

    زاویہ: چار دیواری سے شاہراہوں تک:  برصغیر میں مذہبی رسومات کا عوامی سفر

    تاریخ صرف جنگوں، بادشاہوں کی تبدیلیوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معاشروں کے اندر رینگنے والی ان خاموش سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کا عکس بھی ہوتی ہے جو انسانی طرزِ زندگی کو یکسر بدل دیتی ہیں۔

    برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی مذہبی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کا دور ایک ایسے ہی فکری اور سماجی انقلاب کا پتا دیتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی مذہبی رسومات اور عقیدت کا اظہار گھروں، خانقاہوں، مساجد اور امام بارگاہوں کی ’چار دیواری‘ سے نکل کر شہروں کی ’شاہراہوں اور چوراہوں‘ پر جلوہ گر ہونے لگا۔

    بارہ وفات‘ سے ’میلاد کے جلوس‘ تک کا سفر

    آج ہم جب 12 ربیع الاول کو ملک بھر کی سڑکوں پر عید میلاد النبی ﷺ کے بڑے بڑے اور متحرک جلوس دیکھتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ یہ روایت شاید صدیوں پرانی ہے۔ لیکن تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل تک، کراچی سمیت پورے برصغیر میں اس دن کو ’عید میلاد النبی‘ کے بجائے عام طور پر ’بارہ وفات‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

    اس دور میں عقیدت کا رنگ جشن کا نہیں بلکہ ملال، سنجیدگی اور احترامِ نبوی کا امتزاج تھا۔ دن کا آغاز مساجد یا گھروں میں صبح کے وقت ہونے والی خاموش ’سیرت النبی ﷺ‘ اور ’وفات نامہ‘ کی مجالس سے ہوتا تھا۔

    لوگ خاموشی سے بیٹھ کر خطبہ کو سنتے، درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے، تبرک بانٹتے اور اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اس دور کے برصغیر کی گلیوں اور سڑکوں پر کسی قسم کے عوامی میلاد کے جلوسوں کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔

    لکھنؤ سے راولپنڈی تک: عوامی بیداری کے دو اہم سال

    اس روایتی اور خاموش طرزِ عبادت میں تبدیلی برطانوی راج کے آخری چند عشروں میں آئی، جب برصغیر کے مسلمان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنی ’عوامی مذہبی شناخت‘ نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ اس ضمن میں 1926 اور 1927 کے سال تاریخ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    سال 1926 میں لکھنؤ میں ہندوستان کی پہلی ’مجلسِ شامِ غریباں‘ منعقد ہوئی۔ اگرچہ شیعہ مسلمانوں میں عزاداری کی یہ سوگوار روایت پہلے سے موجود تھی، لیکن وہ امام بارگاہوں اور نجی حلقوں تک محدود تھی۔ لکھنؤ کی اس مجلس نے اسے ایک نمایاں عوامی اور اجتماعی صورت عطا کی، جہاں ہزاروں لوگ سڑکوں اور میدانوں میں جمع ہو کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔

    اس کے ٹھیک ایک سال بعد، ستمبر 1927 میں راولپنڈی میں ہندوستان کا پہلا باقاعدہ عوامی عید میلاد النبی جلوس نکالا گیا۔ دستیاب روایات کے مطابق، اس جلوس کی تجویز اس وقت کے ایک برطانوی ڈپٹی کمشنر کی طرف سے دی گئی تھی، جو نوآبادیاتی انتظامیہ کی طرف سے مقامی آبادی کو اپنے تہوار کھلے عام منانے کی اجازت دینے کی پالیسی کا حصہ تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر 12 ربیع الاول کا دن ایک بڑے عوامی اجتماع اور برآمدی جلوس کی شکل میں نمودار ہوا۔

    کراچی کا منفرد کیس: 1872 کا استثنائی نقش

    اگرچہ پورے برصغیر میں عوامی جلوسوں کا یہ رواج 1920 کی دہائی کے بعد ہی جڑ پکڑ سکا، لیکن اگر ہم قدیم کراچی کی تاریخ کا پتا لگائیں تو یہاں ہمیں ایک منفرد اور بہت قدیم استثنائی نقش ملتا ہے۔ کراچی کی تاجر اور مذہبی برادری ملک کے دیگر حصوں سے کہیں پہلے اپنی مذہبی موجودگی کا اظہار سڑکوں پر کر چکی تھی۔

    معروف محقق ڈاکٹر سہیل انصاری کی تحقیق کے مطابق، کراچی میں عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس روایتی طور پر تقسیم سے قبل بھی پوری عقیدت سے نکالا جاتا تھا۔ سال 1872 میں اس جلوس کے لیے کھارادر سے موجودہ عیدگاہ میدان تک کی باقاعدہ سرکاری اجازت حاصل کی گئی تھی، جس کی قیادت علامہ حافظ محمد عبداللہ درس نے کی تھی۔

    بعد ازاں، جب انگریزوں نے کراچی کو جدید شہر میں بدلا اور یہاں کلاک ٹاورز اور چوراہے بنے تو یہ روایت بھی پھیلتی گئی۔ 1914 سے 1925 تک شیخ عبدالکریم درس کی قیادت میں یہ جلوس منظم ہوا، جبکہ 1925 کے بعد مولانا ظہور الحسن درس نے اس کی کمان سنبھالی۔ یہ مرکزی جلوس میری ویدر ٹاور سے شروع ہو کر رام باغ، موجودہ آرام باغ، گراؤنڈ پر جا کر ختم ہوتا تھا اور شہر کی اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔

    تقسیمِ ہند اور قائدِ اعظم کا تاریخی خطاب (25 جنوری 1948)

    مذہبی رسومات کا یہ عوامی سفر قیامِ پاکستان کے بعد ایک نئے تشخص کے ساتھ ابھرا۔ ڈاکٹر سہیل انصاری کے ریکارڈز اور محفوظ کردہ نایاب تصویر کے مطابق، تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں پہلی عید میلاد النبی ﷺ 25 جنوری 1948 کو منائی گئی۔

    یہ دن پاکستان کی تاریخ میں اس لیے بھی امر ہو گیا کیونکہ اس بابرکت موقع پر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ایک استقبالیہ تقریب میں خصوصی شرکت کی اور وہاں موجود وکلا اور عمائدینِ شہر سے ایک تاریخی خطاب فرمایا۔ یہ تصویر اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ نئے وطن میں مذہبی آزادی، روایات کا احترام اور عوامی تشخص کس طرح مملکت کے رہنماؤں کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہا تھا۔

    رسومات کے سڑکوں پر آنے کی سیاسی و سماجی وجہ

    انگریزوں کے دور میں مسلمانوں نے یہ نئے عوامی طریقے کیوں اختیار کیے؟ تاریخ دان اس کی دو بڑی وجوہات بتاتے ہیں:

    شہری جگہوں کا استعمال: برطانوی حکومت نے جب برصغیر میں سڑکوں کا جال بچھایا، بڑے چوراہے، پارک اور عوامی ہال بنائے تو مقامی آبادی نے ان شہری جگہوں کو اپنے اجتماعی تشخص کے اظہار کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    سیاسی اور عددی طاقت کا مظاہرہ: یہ وہ دور تھا جب ہندو برادری نے ’آریہ سماج‘ اور دیگر تحریکوں کے تحت ’شوبھا یاترا‘، یعنی مذہبی جلوسوں، اور گنیش چترتھی جیسے تہواروں کو سڑکوں پر لا کر اپنی عوامی اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی عددی موجودگی، تشخص اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے میلاد کے بڑے جلوسوں اور کھلی عوامی مجالس کا سہارا لیا تاکہ نوآبادیاتی حکومت پر ان کا سیاسی دباؤ برقرار رہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ برصغیر میں مذہبی رسومات کا یہ سفر محض عبادات کے طریقوں کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ مسلمانوں کی سیاسی و سماجی بیداری کا پیش خیمہ تھا۔ ’بارہ وفات‘ کا مسجد کے اندر ہونے والا خاموش ذکر جب سڑکوں پر آیا تو اس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے ’اجتماعی طاقت‘ کا احساس دلایا۔ 25 جنوری 1948 کو قائد اعظم کا کراچی بار میں خطاب اسی سفر کا ایک خوبصورت تسلسل تھا، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ کراچی کی سڑکیں اور میدان ہمارے مذہبی، سیاسی اور تہذیبی ارتقا کے کتنے بڑے شاہد ہیں۔

  • زاویہ: راکھ تلے بھڑکتی چنگاریاں: برصغیر کی اشرافیہ، نوجوانوں کا استحصال اور عالمی بیداری کا افق

    زاویہ: راکھ تلے بھڑکتی چنگاریاں: برصغیر کی اشرافیہ، نوجوانوں کا استحصال اور عالمی بیداری کا افق

    سنہ 1947 میں جب برطانوی راج نے ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کر کے چھوڑا، تو دنیا نے یہ سمجھا کہ اب یہ دو مختلف نظریات، مختلف ثقافتوں اور متضاد سمتوں میں سفر کرنے والی ریاستیں بن چکی ہیں۔ تزویراتی اور آئینی طور پر دونوں نے الگ راستے چنے۔

    پاکستان کے مقتدرہ اور سیاست دانوں نے ‘قرارداد مقاصد’ کے تحت ملک کو ایک نظریاتی، اسلامی ریاست کے سانچے میں ڈھال دیا، جس نے آگے چل کر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو عوامی رائے عامہ پر گرفت مضبوط رکھنے اور اپنے جغرافیائی بیانیے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مستقل ہتھیار فراہم کر دیا۔

    دوسری طرف، جواہر لال نہرو نے بھارت کو ایک ‘سیکولر آئین’ دیا، جس کا مقصد ایک کثیر الثقافتی جمہوری نظام کا قیام تھا۔

    لیکن تاریخ کے پردے کے پیچھے ایک تلخ حقیقت پوشیدہ رہی۔ نظریات، آئین، سرحدوں اور مقتدرہ کے بیانیوں کی تمام تر ظاہری تبدیلیوں کے باوجود، پاکستان اور بھارت نسلی، سماجی اور نفسیاتی طور پر ایک ہی جڑیں رکھتے ہیں۔

    تقسیم کے تقریباً اسی سال بعد بھی دونوں ملکوں کے عوام کا سب سے بڑا المیہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ایک ایسا طاقتور ‘ایلیٹ کلچر’ اور جڑ پکڑ چکی بدعنوانی، جس نے نظام کے تمام فوائد کو چند مخصوص خاندانوں، مقتدرہ اور کارپوریٹ مافیاز تک محدود کر دیا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج سرحد کے دونوں پار تعلیمی اداروں کی بربادی، پیپر لیک کے اسکینڈلز اور نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر پھیلی بے روزگاری کی صورت میں یہ مشترکہ سماجی بیماری پوری آب و تاب کے ساتھ کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

    ہندوتوا کا عروج اور کانگریس کی غلطیاں

    بھارت کا سیکولر ماڈل طویل عرصے تک اندرونی تضادات کا شکار رہا۔ کانگریس کے طویل دور اقتدار میں ہونے والی اقربا پروری، کرپشن اور عام ووٹر کی معاشی محرومیوں نے ایک گہرا خلا پیدا کیا۔ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اسی عوامی مایوسی اور اشرافیہ کے خلاف غصے کو اپنے حق میں استعمال کیا۔

    انہوں نے کانگریس کی حکومتی غلطیوں کو بنیاد بنا کر ‘ہندوتوا’ کا جارحانہ ایجنڈا متعارف کرایا اور بھارت کو عملاً ایک ہندو مذہبی ریاست میں تبدیل کر دیا۔

    آج وزیر اعظم نریندر مودی کی شکل میں یہ نظریہ اپنے عروج پر برسر اقتدار ہے۔ مودی حکومت نے قوم پرستی اور مذہبی درجہ بندی کو اپنی سیاست کا محور بنایا، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں مقتدرہ نے دہائیوں تک سیکیورٹی اور نظریاتی نعروں کے ذریعے داخلی بحرانوں کو دبائے رکھا۔

    دونوں ممالک کی اشرافیہ نے یہ سیکھ لیا کہ جب بھی عوام روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار کا تقاضا کرے، تو انہیں مذہبی یا نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جائے۔

    کاکروچ احتجاج اور تعلیمی نظام کا زوال

    لیکن سنہ 2026 کا سال برصغیر کی تاریخ میں ایک نئے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بھارت میں ‘نیٹ’ جیسے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ امتحانات سے قبل ہی ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر لاکھوں روپے میں فروخت ہو گیا۔

    اس ایک اسکینڈل نے بیس لاکھ سے زائد محنتی اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیا، اور صدمے کے باعث درجنوں طلبہ نے خودکشیاں کر لیں۔ یہ صرف ایک امتحان کی ناکامی نہیں تھی بلکہ اس نے یہ ثابت کیا کہ پورا تعلیمی اور امتحانی نظام مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔

    اس ناانصافی کے خلاف جب نوجوانوں نے آواز اٹھائی، تو سپریم کورٹ کے ایک جج نے مبینہ طور پر انہیں ‘کاکروچ اور پیرا سائیٹ’ قرار دے دیا۔ مقتدرہ اور اشرافیہ کی اس بدترین توہین کو نوجوانوں نے اپنا ہتھیار بنا لیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے ایک ایسی ڈیجیٹل اور زمینی تحریک کا آغاز کیا جس نے مودی حکومت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    نئی دہلی کے جنتر منتر سے لے کر ملک کے طول و عرض تک، تمام مذاہب کے ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں، چہروں پر کاکروچ کے ماسک پہنے، سر منڈوائے، برتن بجاتے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے مودی حکومت کے مذہبی کارڈ کو ناکام بنا دیا، کیونکہ جب نوکری چھنتی ہے یا میرٹ کا قتل ہوتا ہے تو اس کا درد سب کو برابر ہوتا ہے۔

    مودی حکومت کو فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا ہنگامی اعلان کرنا پڑا، لیکن نوجوان اب وزیر تعلیم کے استعفے سے کم پر راضی نہیں ہیں۔

    پاکستان اور جنوبی ایشیا کا مشترکہ بحران

    یہ بحران صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال ‘ایم ڈی کیٹ’ اور دیگر مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک ہونے، بلوٹوتھ آلات کے ذریعے نقل اور عدالتوں میں مقدمات کا تماشہ لگتا ہے۔

    پاکستان کی مقتدرہ اور ایلیٹ کلاس اس تعلیمی کرپشن کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، کیونکہ ان مافیاز کے تار بھی کسی نہ کسی صورت اقتدار کے ایوانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

    بنگلہ دیش میں بھی آزادی کے نام پر اشرافیہ کے حامیوں کو نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دینے کے خلاف نوجوانوں نے تاریخ کا سب سے خونی ‘کوٹہ مخالف احتجاج’ کیا، جس نے ثابت کیا کہ وہاں بھی میرٹ کو کچل کر ایک مخصوص طبقے کو نوازا جا رہا تھا۔

    نیپال میں بادشاہت کے خاتمے اور کمیونسٹ نظام کے دعووں کے باوجود اشرافیہ کا رویہ تبدیل نہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہاں کی نوجوان نسل بڑے پیمانے پر خلیجی ممالک اور یورپ ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ یہ پورا منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا ‘ایلیٹ سنڈروم’ ہے۔

    مقتدرہ کا مخمصہ اور تزویراتی عیاری کا کھیل

    پاکستانی مقتدرہ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عسکری اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اس کا پورا انحصار چین پر ہے، لیکن اس کے معاشی مفادات، آئی ایم ایف کے قرضے، برآمدات اور خود مقتدرہ کے اشرافیہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے اثاثے، جائیدادیں اور بچوں کا مستقبل امریکہ اور یورپ سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک ایسا مخمصہ ہے جس سے باہر نکلنا مقتدرہ کے بس کی بات نہیں ہے۔

    حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکج کی درخواست یہ واضح اشارہ کرتی ہے کہ مقتدرہ کا جھکاؤ ایک بار پھر امریکہ کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ مقتدرہ نے ایران، امریکہ جنگ میں پاکستان کے جغرافیائی مقام اور رابطہ کار کے کردار کو کیش کرانے کی کوشش کی ہے۔

    وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ‘انڈیا کارڈ’ کے ذریعے چین کو بھی اپنی سیکیورٹی مجبوریوں کی وجہ سے ساتھ جوڑے رکھیں گے کیونکہ چین بھارت کے خلاف ‘ٹو فرنٹ وار’ کے خوف سے پاکستان کو مکمل طور پر نہیں چھوڑ سکتا اور دوسری طرف امریکہ سے ڈالر بھی اینٹھتے رہیں گے۔

    لیکن معاملات اب ملکی مفاد سے نکل کر ذاتی نوعیت کے اختلافات، انا اور بقا کی جنگ بن چکے ہیں۔ مقتدرہ اس زعم میں ہے کہ ان کا یہ ‘جغرافیائی اثاثہ’ انہیں ہمیشہ بچاتا رہے گا، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس عارضی معاشی آکسیجن کا سارا خمیازہ ملک کے غریب عوام مہنگائی اور ٹیکسوں کے عذاب کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

    ڈیجیٹل بیداری اور راکھ تلے بھڑکتی چنگاریاں

    گو کہ پاکستان میں بڑی حد تک اور بھارت میں کسی حد تک ریاست نے اب تک مذہبی، نسلی اور لسانی بنیادوں پر عوامی رائے عامہ کو تقسیم کر کے ایسے تمام بڑے احتجاجوں کو طاقت کے زور پر دبا لیا ہے، لیکن مقتدرہ یہ بھول رہی ہے کہ ‘جنریشن زی’ کا ذہنی رجحان اب تبدیل ہو چکا ہے۔ اب چنگاریاں راکھ تلے مسلسل بھڑک رہی ہیں۔

    سوشل میڈیا اور ‘ڈیجیٹل سولیڈیرٹی’ نے سرحدوں کی بندشوں کو ختم کر دیا ہے۔ جب دلی کی سڑک پر کاکروچ احتجاج کی پل پل کی خبریں، انسٹاگرام ریلز اور ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے پورے برصغیر اور دنیا بھر کے نوجوانوں تک پہنچتی ہیں، تو وہ ان میں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان کا پسا ہوا نوجوان لاشعوری طور پر خود کو بھارتی طلبہ کے درد سے جوڑتا ہے، کیونکہ ان کا دشمن ایک ہی ہے، بدعنوان اور منافق اشرافیہ۔

    بین الاقوامی سطح پر جاری جنگیں اور بلاکوں میں تقسیم، جیسے امریکہ، ایران تنازع یا چین، امریکہ سرد جنگ، روایتی ریاستوں اور ان کی مقتدرہ کو عارضی طور پر تقویت دیتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ خوف کا ماحول پیدا کر کے عوام کو قابو میں رکھتے ہیں۔

    لیکن دنیا بھر کے نوجوان آہستہ آہستہ انہیں تقسیم کرنے اور ان کے حقوق غصب کرنے والی ان کالی طاقتوں کے خلاف جب بھی موقع ملتا ہے، اپنے ہونے کا بھرپور احساس دلا دیتے ہیں۔ امریکہ کی جامعات میں غزہ کے حق میں اٹھنے والی تحریک ہو یا برصغیر کی سڑکوں پر ابلتا ہوا غصہ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوان اب روایتی ریاستی پراپیگنڈے کو مسترد کر چکے ہیں۔

    اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

    روایتی طاقتوں کے پاس اب وقت ختم ہو رہا ہے۔ ایران، امریکہ جنگ یہ فیصلہ کرے گی کہ مقتدرہ کا اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھتا ہے، کیونکہ اب ‘درمیان میں رہنے’ کا تزویراتی کھیل ممکن نہیں رہے گا۔

    طاقت، لاٹھی اور گولی کے زور پر ان تحریکوں کو وقتی طور پر تو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کے اندر موجود فکری سچائی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ معاشی مایوسی، میرٹ کا قتل اور اشرافیہ کی شاندار زندگیاں ایک دن برصغیر اور دنیا بھر کے تمام پسماندہ نوجوانوں کو ایک ہی مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کھڑا کریں گی۔ راکھ تلے دبی یہ چنگاریاں جس دن ایک بڑا لاوا بن کر پھٹیں گی، اس دن نہ تو مودی کا ہندوتوا بیانیہ کام آئے گا اور نہ ہی پاکستان کی مقتدرہ کا روایتی سیکیورٹی ماڈل۔

     مستقبل اب جغرافیائی عیاری کا نہیں بلکہ حقوق کی بحالی اور نوجوانوں کی حقیقی بیداری کا ہے۔