زاویہ: چھوٹے صوبے بنانے کی تجویز: کیا پاکستان نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

تجویز

ہماری یہ مسافت کسی گول دائرے میں گھومنے والی مسافت نہیں، بلکہ حماقت کے اس دائرے کا سفر ہے جس میں یہ قوم بار بار گھومتی رہی ہے۔ اگر تاریخ سے ہم نے کوئی ایک سبق سیکھا ہے تو شاید وہ یہی ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک بار پھر وہی پرانا راگ شروع ہو گیا ہے کہ صوبوں کو چھوٹی اور ’قابلِ انتظام‘ اکائیوں میں تقسیم کیا جائے۔ گویا گلگت بلتستان اور کشمیر، جو پہلے ہی رقبے اور آبادی کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹے ہیں، اس وقت جنت کے مثالی نمونے بن چکے ہیں۔ یا گویا بلوچستان، جو ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے، بہترین انداز میں چل رہا ہے؛ جہاں ہر شخص خوشحال ہے، ہر گھر میں روزگار موجود ہے، کسی کو کوئی معاشی پریشانی نہیں اور ہر شہری کو بجلی، پانی اور گیس وافر مقدار میں میسر ہے۔ لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال خود اس سوال کا جواب ہے۔

اصل مسئلہ صوبوں کے حجم کا نہیں، بلکہ ملک کو چلانے کے طریقۂ کار کا ہے۔ گزشتہ 79 برسوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے جس انداز میں ملک کو چلایا ہے، خرابی کی بنیادی وجہ بھی وہی ہے۔ مسئلہ صوبے نہیں، بلکہ ملک کے نگہبان اور حکمران ذہن ہیں۔

پھر آتے ہیں ’سیالکوٹ کے سقراط‘ خواجہ آصف، جو اپنے غیر سنجیدہ اور بغیر سوچے سمجھے بیانات کے ذریعے ملک کے لیے عزت کے بجائے شرمندگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ کراچی اور گوادر کو صوبوں کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو پھر، خواجہ صاحب، یہ کس کا حصہ ہوں؟ وفاقی حکومت کا؟

وفاقی حکومت تو کئی دہائیوں سے ان اہم ساحلی گزرگاہوں پر اپنا کنٹرول رکھتی آئی ہے۔ کیا خواجہ صاحب یہ بتانا پسند کریں گے کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی آخر کس صوبے کو مل رہی ہے؟ یا پھر یہ آمدنی پنجاب کے حکمرانوں یا اسٹیبلشمنٹ کے حصے میں جا رہی ہے؟

جو وفاقی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنے کا نظام بھی نہیں چلا سکتی، کیا وہ کراچی جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر کو چلانے کی اہل ہو سکتی ہے؟ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور ریلوے جیسے تباہ حال وفاقی ادارے وفاقی کارکردگی کی کون سی کہانی بیان کرتے ہیں؟

زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب طالبان جیسے مسلح گروہ اسلام آباد کے دروازوں تک پہنچ گئے تھے۔ آخر یہ ناکامی کس کی تھی؟ آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، افغانستان اور انہی طالبان کے تناظر میں، کشیدگی اور لڑائی جاری ہے۔ وہاں بھی کوئی بنیادی بہتری نہیں لائی جا سکی، لیکن اس کے باوجود نئے صوبوں کا راگ چھیڑ دیا گیا ہے۔

1948 میں کراچی کے ساتھ ناانصافی

1948 میں ایک ایسی وفاقی حکومت نے کراچی کو زبردستی سندھ سے الگ کر لیا جو سندھ کے مقامی لوگوں، ان کی ثقافت اور تاریخ سے بیگانہ تھی۔ سندھ اسمبلی کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا گیا جس میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔

کراچی کو پہلے وفاقی دارالحکومت بنایا گیا اور بعد ازاں اسے مغربی پاکستان کی ایک ڈویژن کی حیثیت سے وفاقی کنٹرول میں رکھا گیا، یہاں تک کہ 1970 میں ون یونٹ کا خاتمہ ہوا۔

سوال یہ ہے کہ اس زبردستی کے وفاقی کنٹرول کے طویل عرصے کے دوران کراچی کے لیے وفاق کی جانب سے ایسا کون سا بڑا اور تاریخی منصوبہ دیا گیا جس نے شہر کی زندگی بدل دی ہو؟

1947 تک ایشیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہونے والا کراچی، دارالحکومت بننے کے بعد رفتہ رفتہ ایسے بے ہنگم شہری پھیلاؤ کا شکار ہوتا گیا جہاں بدانتظامی، جرائم، کرپشن اور گندگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

مسئلہ صوبوں کا نہیں، حکمرانی کا ہے

پاکستان کبھی مستقل سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ صوبے یا سیاست دان نہیں، بلکہ حکمرانی کا وہ اسٹیبلشمنٹی طریقہ ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مختلف شکلوں میں جاری رہا ہے۔

ملک کی بنیاد کا پہلا پتھر ہی ایسے انداز میں رکھا گیا جس نے آگے چل کر متعدد مسائل کو جنم دیا۔ ابتدائی اسٹیبلشمنٹ میں مہاجر بیوروکریسی، پنجابی فوج اور ایسے سیاست دان شامل تھے جن کے سیاسی و سماجی پس منظر کے حوالے سے بھی متعدد سوالات موجود تھے۔

جب ملک کی پہلی کابینہ تشکیل دی گئی تو اس میں ایک بھی بلوچ یا سندھی شامل نہیں تھا، حالانکہ قانون ساز اسمبلی سندھ کی سرزمین پر اجلاس کر رہی تھی۔

ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی بنیادی ذمہ داری آئین بنانا تھی، لیکن وہ اپنی اس پہلی اور بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہی۔

کراچی کو سندھ سے الگ کرنا، اردو کو مسلط کرنا، 1948 کے منظم نسلی فسادات اور سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے منتقل کرنے جیسے اقدامات مقامی آبادی کو سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کے ایک وسیع عمل کا حصہ بنے۔

اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی آواز کو دبانے اور لوگوں کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھنے کی روش نے ملک کو سیاسی انتشار اور افراتفری کی طرف دھکیل دیا۔

لیکن مسائل حل کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ نے ایک اور ’عظیم‘ تجویز پیش کی: ون یونٹ۔

ون یونٹ سے چھوٹے صوبوں تک

مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ملا کر ایک یونٹ تشکیل دینے کو اس وقت ملک کے تمام مسائل کا علاج قرار دیا گیا تھا۔ آج چھوٹے صوبوں کا تصور بھی تقریباً اسی انداز میں ایک حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

لیکن ون یونٹ بالآخر ملک کو کس سمت لے گیا، یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ موجودہ نئی تجرباتی مہم بھی اگر اسی طریقۂ کار کے ساتھ آگے بڑھائی گئی تو اس کے نتائج مختلف نہیں بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کبھی سیدھی راہ پر نہیں چل سکا۔ اقتدار کی چوٹی پر بیٹھے لوگوں کے بدلنے کے ساتھ ملک کا سیاسی اور نظریاتی رخ بھی بدلتا رہا۔ کبھی ہم جمہوریہ بنتے ہیں، پھر اسلامی جمہوریہ، پھر مذہبی جذبات کے راستے پر چلتے ہیں اور اچانک ’روشن خیال‘ بن جاتے ہیں۔

ملک کا تصور ہر نئے حکمران کی سیاسی سوچ، نظریے اور خواہش کے مطابق تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اور اب ’سپر وزیر اعظم‘ چھوٹے صوبوں کا تصور لے کر آئے ہیں!

سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے سے بھی چھوٹی اکائیوں کے قیام سے آخر ایسا کیا حاصل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ صوبائی نظام میں حاصل نہیں کیا جا سکتا؟

یا پھر اصل مقصد یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے اختیارات دوبارہ واپس لیے جائیں؟

گوادر اور سندھ کی تقسیم؟

آئیے ایک بار پھر ’سیالکوٹ کے سقراط‘ کی تجویز کی طرف آتے ہیں۔

گوادر کو الگ کرنا شاید اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ مشکل نہ ہو، کیونکہ بلوچستان پہلے ہی طاقت کے دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن کیا سندھ کے لوگ اپنی مادری دھرتی کی تقسیم اتنی آسانی سے قبول کر لیں گے؟

صرف انتہائی نادان شخص ہی یہ سمجھ سکتا ہے کہ سندھ کے عوام ایسے کسی اقدام کو خاموشی سے قبول کر لیں گے۔

سندھ پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر نہیں آیا۔ پہلا بڑا دھچکا 1948 میں لگا، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنا دیا گیا۔ سندھ کے لوگ اس واقعے کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی اسے معاف کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے لوگ ایک مرتبہ پھر اسی تاریخ کو دہرانے کی اجازت دیں گے؟

ایک اور محاذ کیوں؟

اسٹیبلشمنٹ صرف محدود سوچ کا شکار نہیں، بلکہ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے بہت جلد بھول جاتی ہے۔

اگر ایم آر ڈی کی تحریک بھی فراموش ہو چکی ہے تو کم از کم گزشتہ سال ڈبلرو بائی پاس پر پانی کے مسئلے کے خلاف ہونے والا دھرنا تو یاد ہونا چاہیے۔

ملک پہلے ہی اندرونی بحرانوں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بلوچستان میں بدامنی جاری ہے، خیبر پختونخوا بے چینی کا شکار ہے اور کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کی صورتِ حال موجود ہے۔

کیا یہ مسائل کافی نہیں ہیں؟

آخر کس نادان شخص نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ سندھ میں ایک اور محاذ کھولا جائے؟

چھوٹے صوبے بنانے کے بجائے عوام کو اختیار دیا جائے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے آپ کو کس نے روکا ہے؟ میونسپل کمیٹیوں کو آپ اہمیت ہی نہیں دیتے، حالانکہ یہی ادارے تقسیمِ ہند سے بھی پہلے کے دور میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے رہے ہیں۔

اس لیے چھوٹے صوبوں کی تجویز کو ترک کر دینا چاہیے۔ یہ مسائل حل کرنے کے بجائے شاید مزید مسائل پیدا کرے۔

اصل ضرورت ملک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی نہیں، بلکہ ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے آزاد کرنے کی ہے۔

عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔ لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے، اپنے وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے اور اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا اختیار دیا جائے۔

ملک کے مسائل کا حقیقی حل نئے صوبوں کے نقشے میں نہیں، بلکہ اختیار عوام کو دینے میں پوشیدہ ہے۔

اسی بارے میں: