Tag: کراچی

  • کراچی: 1920 میں تعمیر ہونے والی قدیم عمارت ‘ہندو دھرم شالہ’ اب کس حال میں ہے؟

    کراچی: 1920 میں تعمیر ہونے والی قدیم عمارت ‘ہندو دھرم شالہ’ اب کس حال میں ہے؟

    کراچی کے مرکزی تجارتی شاہراہ آئی آئی چندریگر اور پیپر مارکیٹ کے درمیان واقع حقانی چوک کے قریب واقع ’پارسرام پی دریانانی والا‘ عمارت برطانوی دور کے دوران 1920 میں تعمیر کی گئی۔

    اس دور میں کراچی برصغیر کا ایک اہم بندرگاہی اور تجارتی مرکز بن چکا تھا، جہاں سے غلہ، کپاس اور دیگر اشیاء بڑے پیمانے پر برآمد کی جاتی تھیں۔ شہر میں ہندو، مسلمان، پارسی اور دیگر برادریاں تجارت میں سرگرم تھیں، جن میں ہندو تاجر طبقہ خاص طور پر معاشی طور پر مضبوط اور بااثر سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں کئی مخیر ہندو خاندانوں نے عوامی فلاح کے لیے دھرم شالائیں، مسافر خانے اور دیگر عمارتیں تعمیر کروائیں تاکہ دور دراز سے آنے والے لوگوں کو رہائش اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    ’ہندو میس ایسوسی ایشن‘کے زیر انتظام رہنے والی یہ تاریخی عمارت ایک اجتماعی قیام و طعام کی جگہ تھی۔ اس وقت کراچی سے غلہ برآمد کرنے والے تاجر اس دھرم شالہ (مسافر خانہ) میں قیام کیا کرتے تھے۔

    یہ چار منزلہ عمارت ہے جس کی نچلی منزل پر دکانیں اور اوپر کی منزلوں پر گھر بنے ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے رہائشی عبدالستار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس عمارت میں تقریباً 50 گھر اور 14 دکانیں بنی ہوئی ہیں۔

    عبدالستار کے مطابق: ‘ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے تعمیر کے باوجود یہ عمارت آج بھی ایک مضبوط عمارت ہے۔’

    اس پر درج عبارت ’پارسرام پی دریانانی والا‘ اس کے مالک یا سرپرست کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہاں مسافر، تاجر یا ملازمت پیشہ افراد عارضی رہائش اختیار کرتے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے کراچی میں اس نوعیت کی کمیونٹی عمارتیں عام تھیں اور یہ شہر کے سماجی و معاشی نظام کا اہم حصہ تھیں۔

    1947 کے بعد اس عمارت کی اصل حیثیت اور استعمال میں تبدیلی آ گئی۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں بہت سے ہندو خاندان ہجرت کر گئے، جس کے بعد ایسی عمارتوں کی ملکیت اور استعمال میں بھی تبدیلیاں آئیں۔

    آج یہ عمارت کراچی کے کثیرالثقافتی ماضی کی ایک اہم نشانی ہے، جو نہ صرف شہر کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس دور کی سماجی ہم آہنگی اور فلاحی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

  • 6 اپریل 1990: جب کراچی میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی

    6 اپریل 1990: جب کراچی میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی

    بینظیر بھٹو کی حکومت کا پہلا دور تھا۔ ابتدائی دنوں میں مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی تھی، لیکن بعد میں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے الگ ہو کر مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شامل ہو گئی۔ اس کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں فسادات اور قتل و غارت کے واقعات شروع ہو گئے۔

    1989 میں ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او (APMSO) نے تعلیمی اداروں پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے پرتشدد طریقہ اختیار کیا، جسے پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف (PSF) کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں کراچی میں تشدد کی ایک نئی لہر جنم لینے لگی۔

    کراچی کے تعلیمی اداروں میں روزانہ طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جو بعد میں مسلح حملوں میں تبدیل ہو گئیں، جن میں کئی نوجوان طلبہ جان سے گئے۔ جولائی 1989 میں کراچی یونیورسٹی میں ایم کیو ایم کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں تین طلبہ اور ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق جبکہ 13 طلبہ زخمی ہوئے۔

    اس کے جواب میں پی ایس ایف کے صدر نجیب احمد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ نائن زیرو، عزیزآباد گئے اور وہاں فائرنگ کی۔ اس واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں کے درمیان قتل و غارت اور لسانی فسادات میں اضافہ ہو گیا۔

    نتیجتاً فروری 1990 میں کراچی شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اپریل کا مہینہ نہایت دردناک ثابت ہوا۔ چھ اپریل 1990 کو ایم کیو ایم کے مسلح افراد نے ایک ہی دن میں اندھا دھند فائرنگ کے ایک واقعے میں 16 افراد کو موقع پر قتل کر دیا جبکہ 45 افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں پی ایس ایف کراچی کے صدر سید نجیب احمد بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے کراچی کو ہلا کر رکھ دیا۔

    پولیس نے فائرنگ کے الزام میں اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے کچھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جن میں ایم کیو ایم کے کونسلر خالد بن ولید بھی شامل تھے۔

    اس موقع پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا اور ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن بھی اپنے قائد کی حمایت میں بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ الطاف حسین کی حمایت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کراچی آئے۔

    صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب شہر میں مسلح جھڑپوں اور فسادات کے خدشے کے پیش نظر فوج طلب کی گئی اور فوجی دستوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

  • طائر بینوں کی جنت کہلانے والی ہالیجی جھیل کے راستے پر آر بی او ڈی پر 2009 سے ٹوٹا پل دوباری تعمیر نہ ہوسکا

    طائر بینوں کی جنت کہلانے والی ہالیجی جھیل کے راستے پر آر بی او ڈی پر 2009 سے ٹوٹا پل دوباری تعمیر نہ ہوسکا

    کراچی سے چند ہی فاصلے پر واقع ہالیجی جھیل نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ایک اہم میٹھے پانی کی جھیل ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر رامسر سائٹ کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یہ جھیل ہزاروں مہاجر پرندوں کی پناہ گاہ ہے اور ماحولیاتی توازن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر ہفتے، خاص طور پر تعطیلات کے دنوں میں، کراچی سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت مقام تک پہنچنے والا راستہ خود ایک کہانی سناتا ہے، بے حسی، بدانتظامی اور ٹوٹے وعدوں کی کہانی۔

    یہ مسئلہ ہالیجی جھیل کے قریب آر بی او ڈی سے جڑا ہوا ہے، جو اصل میں سندھ کے دائیں کنارے سے زہریلا اور کھارا پانی نکالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر اس منصوبے کی تعمیر نے کئی نئی مشکلات کو جنم دیا، جن میں سب سے نمایاں ہالیجی جھیل کے قریب گزرنے والا راستہ ہے۔

    2006 میں، نیشنل ہائی وے سے ہالیجی جھیل کی طرف جانے والے راستے پر آر بی او ڈی کے اوپر ایک پل تعمیر کیا گیا۔ یہ پل مقامی آبادی اور سیاحوں دونوں کے لیے ایک اہم گزرگاہ تھا۔ لیکن حیران کن طور پر یہ پل چند ہی سالوں میں زبوں حالی کا شکار ہوگیا، جو تعمیراتی معیار اور نگرانی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔

    2009 میں اس پل کی دوبارہ تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے۔ ایک ٹھیکیدار نے کام بھی سنبھالا اور ابتدائی مہینوں میں پل کا اسٹرکچر بھی کھڑا کردیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا، وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ایک عام مگر افسوسناک کہانی ہے۔ ٹھیکیدار اچانک غائب ہوگیا، کام رک گیا، اور منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ نہ کوئی احتساب ہوا، نہ کسی نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    اس کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے کا عارضی حل نکالا۔ انہوں نے پانی کے بہاؤ کے لیے پائپ ڈالے اور اوپر مٹی ڈال کر ایک کچا پل بنا لیا۔ یہی کچا راستہ آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔ مگر یہ حل نہ محفوظ ہے، نہ پائیدار۔

    بارشوں کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ یہ عارضی راستہ مکمل طور پر ڈوب جاتا ہے، جس کے باعث متعدد گاؤں کا زمینی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ مریضوں کو اسپتال پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ سیاح بھی اس خستہ حال راستے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ہالیجی جھیل کی سیاحتی اہمیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر 16 سال گزرنے کے باوجود یہ پل دوبارہ کیوں تعمیر نہیں ہوسکا؟ کیا ایک اہم ماحولیاتی مقام اور اس سے جڑے درجنوں دیہات اس قابل نہیں کہ انہیں ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جائے؟ آر بی او ڈی جیسے بڑے منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اگر ایک بنیادی پل کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکتی، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    یہ معاملہ صرف ایک پل کا نہیں، بلکہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، نگرانی، اور جوابدہی کا امتحان ہے۔ جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں دیے جاتے، ہالیجی جھیل کا یہ راستہ اسی طرح ٹوٹا رہے گا، اور اس کے ساتھ جڑی امیدیں بھی۔

  • کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی میں بھی آبشار ہے؟ مصروف ترین شہر میں خاموش دنیا، پاچران آبشار کی کہانی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی میں بھی آبشار ہے؟ مصروف ترین شہر میں خاموش دنیا، پاچران آبشار کی کہانی

    کبھی کبھی ایک شہر اپنے اندر ایسے راز چھپا لیتا ہے جن پر یقین کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔
    کراچی، جسے ہم ٹریفک، ہجوم اور پھیلے ہوئے کنکریٹ کے منظر کے طور پر جانتے ہیں، اسی کے کنارے ایک ایسی دنیا بھی موجود ہے جہاں خاموشی بولتی ہے۔ گڈاپ کے پہاڑوں میں چھپی پاچران آبشار اسی خاموش دنیا کا ایک ایسا منظر ہے جو ہر کسی کو نظر نہیں آتا، اور شاید اسی لیے خاص ہے۔

    یہ کوئی مستقل آبشار نہیں۔ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔
    پاچران آبشار صرف بارش کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ جب مون سون کے بادل ان خشک پہاڑوں پر برستے ہیں، تو پانی صدیوں سے موجود قدرتی راستوں کو تلاش کرتا ہوا نیچے کی طرف بہتا ہے۔ وہی راستے جو سال کے بیشتر حصے میں خاموش اور بے جان نظر آتے ہیں، اچانک زندگی سے بھر جاتے ہیں۔ پانی جب چٹانوں سے ٹکراتا ہے تو ایک نرم مگر گہری گونج پیدا ہوتی ہے، ایسی گونج جو شہر کے شور سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔

    یہ جگہ دراصل ایک قدرتی آبی نظام کا حصہ ہے۔ گڈاپ کے یہ پہاڑی علاقے برساتی پانی کے قدیم بہاؤ کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں ہر سال پانی اپنی نئی راہ بناتا ہے۔ اسی لیے پاچران آبشار کی کوئی ایک شکل نہیں۔ کبھی یہ تیز اور بھرپور بہاؤ کے ساتھ گرتی ہے، اور کبھی صرف ایک ہلکی سی دھار کی صورت میں خاموشی سے بہتی رہتی ہے۔

    مگر اس منظر تک پہنچنا آسان نہیں۔
    پکی سڑکیں ایک مقام پر ختم ہو جاتی ہیں، اور آگے پتھریلی زمین، کچے راستے اور سنسان پہاڑی پگڈنڈیاں رہ جاتی ہیں۔ یہی دشواری اس جگہ کو اب تک ہجوم سے بچائے ہوئے ہے۔ یہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر پیچھے رہ گیا ہو، اور سامنے صرف قدرت کا ایک خاموش چہرہ باقی رہ گیا ہو۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ کراچی کے مضافاتی پہاڑوں میں اس طرح کی کئی عارضی آبشاریں بنتی ہیں، مگر ان کی موجودگی بہت مختصر ہوتی ہے۔ چند دن یا چند ہفتے، اور پھر یہ پانی واپس زمین میں جذب ہو جاتا ہے، جیسے اس کا وجود صرف ایک لمحے کے لیے تھا۔

    پاچران آبشار ہمیں ایک سادہ مگر گہری حقیقت یاد دلاتی ہے۔
    قدرت ہمیشہ بڑے اور مستقل مظاہر میں نہیں، بلکہ ان لمحاتی مناظر میں بھی اپنی اصل خوبصورتی دکھاتی ہے جو آتے ہیں، ٹھہرتے ہیں، اور پھر خاموشی سے غائب ہو جاتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل کے ساتھ
    ہم ان کہانیوں کو تلاش کرتے ہیں جو نظر سے زیادہ احساس میں زندہ رہتی ہیں
    جہاں ایک عارضی منظر بھی وقت سے بڑی داستان بن جاتا ہے

  • کراچی میں آتشزدگی کے بڑے واقعات، خفیہ کیمیکلز اور تیزی سے پھیلتی آگ کی حقیقت

    کراچی میں آتشزدگی کے بڑے واقعات، خفیہ کیمیکلز اور تیزی سے پھیلتی آگ کی حقیقت

    کیا آپ جانتے ہیں کراچی ان چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں سال بھر کے دوران آگ لگنے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ آگ لگتی بھی ہے اور لگائی بھی جاتی ہے۔ کراچی میں ایسے کئی سانحات ہو چکے ہیں جہاں منٹوں میں عمارتیں جل کر خاکستر ہو گئیں، کچھ واقعات میں دہشت گردی کا عنصر بھی ثابت ہو چکا ہے۔

    مگر دہشت گردوں کی لگائی گئی آگ کوئی عام آگ نہیں ہوتی بلکہ خاص قسم کا آتش گیر مادہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے آگ فوری بھڑک اٹھتی ہے اور تیزی سے پھیلتی ہے۔

    سوال یہ بھی ہے کہ کسی کی بھی املاک کو کیمیکل پھینک کر جلا دینا اتنا آسان کیوں ہے؟ یہ کون سا کیمیکل ہے اور اس سے اتنی جلدی آگ کیوں بھڑک جاتی ہے؟

    کراچی میں سال 2025 کے دوران مختلف فیکٹریوں، دفاتر، دیگر کمرشل اور رہائشی عمارتوں میں آگ لگنے کے 2400 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سال 2026 میں ابھی تک 500 کے قریب واقعات سامنے آئے ہیں۔

    کراچی میں آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات میں ایک خاص پیٹرن بھی دیکھا گیا ہے اور یہ شواہد مل چکے ہیں کہ آگ بھڑکانے کے لیے خاص قسم کے کیمیکل کا استعمال کیا گیا ہے۔

    بلدیہ فیکٹری کیس میں فرانزک رپورٹ میں ثابت ہوا کہ آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گارمنٹس فیکٹری میں موجود مواد نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    نو اپریل 2008 کو سٹی کورٹ کے قریب طاہر پلازہ میں بھی ایک آتش گیر مادہ یا کیمیکل پھینک کر آگ لگائی گئی جس سے جانی نقصان کے علاوہ کئی دفاتر آگ کی نذر ہو گئے۔

    2009 میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ ہوا اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق جلوس کے شرکا مشتعل ہو گئے اور شدید احتجاج کیا۔ اسی دوران لائٹ ہاؤس سے بولٹن مارکیٹ تک ہزاروں دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ کچھ شرپسند بھی مظاہرین میں شامل ہوئے اور انہوں نے باقاعدہ بازاروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ ایسا مواد پھینکا گیا کہ خوفناک آگ بھڑکی اور ہزاروں خاندانوں کے چولہے کچھ ہی منٹوں میں ٹھنڈے ہو گئے۔

    اور گل پلازہ تو ابھی کل کی ہی بات ہے، آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت درجنوں انسانوں سمیت خاکستر ہو گئی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق آگ ایک بچے کی غلطی کی وجہ سے لگی، مگر دکانوں میں ایسا مواد یا کیمیکل ضرور موجود تھا جس نے آگ کو بھڑکا دیا، جس سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا۔

    اس واقعے پر کئی ماہرین نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ شرپسندی کا ہو سکتا ہے، جبکہ معروف سماجی کارکن فیصل ایدھی نے نہ صرف دہشت گردی کا شبہ ظاہر کیا بلکہ اس کے ممکنہ محرکات بھی بیان کیے۔

    ماہرین کہتے ہیں آگ لگانے کا شبہ غلط بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

    خوفناک آگ بھڑکانے کے لیے سب سے خطرناک آتش گیر مادہ نیپام Napalm ہے۔ یہ دراصل ایک آتش گیر مکسچر ہوتا ہے جو عام طور پر ایندھن، جیسے پٹرول، کو گاڑھا بنا دیتا ہے، جو جلنے پر چپک جاتا ہے اور دیر تک جلتا رہتا ہے۔

    یہ مواد جسم، دیوار یا گاڑی پر بہت تیزی سے آگ پکڑتا ہے۔ یعنی کسی عمارت یا گاڑی کو بھی آگ لگائی جائے تو یہ بہت تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے۔

    عمومی طور پر یہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ‘نیپام’ کا استعمال دوسری جنگ عظیم میں کیا گیا تھا، پھر ویتنام جنگ میں بھی استعمال ہوا۔ اس مواد پر قانونی پابندیاں بھی ہیں، یہ نہ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی اسے فروخت کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔

  • کراچی میں کئی اموات کا سبب بننے والی اندھی گولی کیا ہے؟

    کراچی میں کئی اموات کا سبب بننے والی اندھی گولی کیا ہے؟

    آپ نے خبروں میں بارہا سنا ہوگا کہ کراچی کے کسی علاقے میں ‘اندھی گولی’ لگنے سے کوئی شخص جان کی بازی ہار گیا۔ یہ اصطلاح عام ہو چکی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ہوا میں چلائی گئی گولی ہے جو بے ضرر ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اندھی گولی دراصل وہ ہوتی ہے جس کا کوئی مخصوص نشانہ نہیں ہوتا، مگر وہ کسی بھی انسان کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں ہوائی فائرنگ ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ عید ہو، شادی کی تقریب، نیو ایئر نائٹ یا کسی تنازع کا لمحہ، فضا میں گولی چلانا بعض لوگوں کے لیے اظہارِ خوشی یا طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ہر گولی جو اوپر چلائی جاتی ہے، وہ زمین پر واپس آتی ہے، اور یہی واپسی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

    جب گولی سیدھی اوپر فائر کی جاتی ہے تو وہ ابتدائی رفتار کے ساتھ آسمان کی طرف جاتی ہے۔ ایک مقام پر جا کر اس کی رفتار صفر ہو جاتی ہے، لیکن یہ ٹھہراؤ صرف ایک لمحے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد کششِ ثقل اسے دوبارہ زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ نیچے آتے وقت گولی ایک خاص رفتار تک پہنچتی ہے جسے ٹرمینل ویلاسٹی کہا جاتا ہے، اور یہی رفتار اسے خطرناک بنا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اتنی ہو سکتی ہے کہ انسانی جسم کو شدید نقصان پہنچا سکے، خاص طور پر اگر گولی سر یا کندھے پر لگے۔

    مزید خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گولی سیدھی اوپر نہیں بلکہ زاویے سے فائر کی جائے۔ ایسی صورت میں گولی اپنی رفتار کا بڑا حصہ برقرار رکھتی ہے اور زیادہ فاصلے تک سفر کرتے ہوئے مزید مہلک ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں اس طرح کی فائرنگ غیر متوقع مقامات پر جانی نقصان کا سبب بنتی ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس عمل پر سخت پابندیاں اسی لیے عائد کی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی قانون موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد اکثر کمزور رہتا ہے۔ کراچی میں ہر سال عید یا نئے سال کے موقع پر متعدد افراد زخمی یا ہلاک ہوتے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

    یہ حقیقت ہمیں ایک سادہ مگر اہم سبق دیتی ہے۔ گولی اندھی نہیں ہوتی، بلکہ ہماری لاپرواہی اسے اندھا بناتی ہے۔ ایک لمحے کی خوشی، ایک فائر، کسی کے لیے زندگی بھر کا نقصان بن سکتا ہے۔ شہر صرف عمارتوں اور روشنیوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بسنے والی ہر جان کی قدر ہوتی ہے۔

    کراچی صرف روشنیوں کا شہر نہیں، یہ لوگوں کا شہر ہے۔ اور ہر جان قیمتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف بتائی نہیں جاتیں، محسوس بھی کی جاتی ہیں

     

  • عید کے جوڑے لینے نکلے دو سگے بھائی کفن میں لپٹے گھر لوٹے، کراچی کے خاندان کی عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل

    عید کے جوڑے لینے نکلے دو سگے بھائی کفن میں لپٹے گھر لوٹے، کراچی کے خاندان کی عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل

    وہ دن عام دنوں جیسا ہی تھا، مگر اس دن نے ایک گھر کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دینی تھی۔

    گھر کے صحن میں ہلکی سی چہل پہل تھی۔ عید قریب تھی اور ہر طرف خوشیوں کی باتیں ہو رہی تھیں۔ تابش اور عاطف، دو سگے بھائی، موٹرسائیکل کے پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔ دونوں کی آنکھوں میں عید کے نئے کپڑوں کی چمک تھی۔ بابا نے پیسے ہاتھ میں دیتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا،
    ’جلدی آ جانا بیٹا، شام تک امی کو کپڑے بھی دکھانے ہیں۔‘

    ماں نے پیچھے سے آواز دی تھی،
    ’سننا! تابش تم نیلا جوڑا لینا اور عاطف تم سبز… مجھے یہی رنگ اچھے لگتے ہیں تم پر۔‘

    دونوں ہنس پڑے تھے۔
    ’ٹھیک ہے امی، بالکل ویسے ہی لائیں گے جیسے آپ نے کہا ہے۔‘

    موٹرسائیکل اسٹارٹ ہوئی اور دونوں خوشی خوشی گھر سے نکل گئے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ ہنسی، یہ آوازیں، یہ لمحہ اس گھر میں آخری بار سنائی دے رہا ہے۔

    کراچی کی سڑکیں ہمیشہ کی طرح مصروف تھیں۔ فرنیچر مارکیٹ کے قریب پہنچتے ہی اچانک ایک تیز رفتار ٹرالر نے موٹرسائیکل کو ایسی ٹکر ماری کہ سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔

    لوگ جمع ہوئے، شور مچا، ایمبولینس آئی، مگر دو معصوم زندگیاں وہیں سڑک پر دم توڑ چکی تھیں۔

    وہ دونوں بھائی جو گھر سے عید کے نئے جوڑے لینے نکلے تھے، اب خون میں لت پت خاموش پڑے تھے۔

    شام ڈھلنے لگی تھی۔ گھر میں ماں بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
    ’ابھی تک آئے نہیں… شاید بازار میں رش ہوگا۔‘

    مگر کچھ ہی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا اور گھر میں خوشیوں کے بجائے قیامت داخل ہو گئی۔

    وہ دونوں بھائی جن کے ہاتھوں میں نئے کپڑے ہونے تھے، اب سفید کفن میں لپٹے گھر لوٹے تھے۔

    ماں کی چیخ پورے محلے میں گونج گئی۔
    ’میرے بچوں کو کیا ہوا…؟ یہ تو کپڑے لینے گئے تھے…!‘

    باپ خاموش کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شاید اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ جن بیٹوں کو اس نے عید کی خوشی دینے کے لیے پیسے دیے تھے، وہ اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے ہیں۔

    تابش اور عاطف دونوں ابھی میٹرک کے طالب علم تھے۔ عمر بھی کیا تھی؟ خواب بھی ابھی پورے کہاں ہوئے تھے؟

    پولیس نے ہمیشہ کی طرح ایک روایتی بیان جاری کر دیا،
    ’حادثے کی تحقیقات جاری ہیں…‘

    مگر سچ یہ ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر ٹینکر اور ٹرالر مافیا آج بھی بے لگام ہے۔ ہر چند دن بعد کوئی نہ کوئی گھر ایسے ہی اجڑ جاتا ہے۔ مائیں روتی رہ جاتی ہیں، باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور شہر کی سڑکیں ایک اور کہانی اپنے اندر دفن کر لیتی ہیں۔

    تابش اور عاطف کی عید تو کبھی نہیں آئے گی۔

    مگر ان کی ماں آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔ شاید دل کے کسی کونے میں یہ امید ابھی زندہ ہے کہ اس کے بیٹے ہنستے ہوئے اندر آئیں گے اور کہیں گے،

    ’امی دیکھیں… ہم وہی رنگ کے کپڑے لے آئے ہیں جو آپ نے کہا تھا۔‘

     

  • کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں کراچی اور لاہور کے قونصل خانوں میں تعینات عملے کو اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    اس فیصلے کا اطلاق اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے پر نہیں ہوگا اور وہاں سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ یہ فیصلہ خطے کی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    تین مارچ 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں تعینات ایسے امریکی سرکاری ملازمین جو ہنگامی یا ضروری خدمات انجام نہیں دے رہے اور امریکی سرکاری اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو کراچی اور لاہور میں قائم امریکی قونصل خانوں سے فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

    ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اتوار کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کیا اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور معتدد زخمی ہوئے۔

    لاہور اور اسلام آباد میں بھی امریکی تنصیبات کے قریب احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ گلگت بلتستان میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بعض مقامات پر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کی وجہ سے گلگت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

    امریکی انتظامیہ نے پیر کے روز کراچی اور لاہور میں قائم اپنے قونصل خانوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں قونصل خانے رواں ہفتے کے اختتام تک، یعنی جمع تک بند رہیں گے۔
    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد خطے میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات اور تجارتی پروازوں میں خلل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔

    امریکی حکام نے پاکستان میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مختلف شدت پسند تنظیمیں ماضی میں حملے کرتی رہی ہیں اور دہشت گردی کے واقعات خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ سابق قبائلی اضلاع بھی ان خطرات سے متاثر رہے ہیں۔

    تاہم بعض مواقع پر بڑے شہروں جیسے کراچی اور اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشت گرد حملے کسی بھی وقت اور بغیر پیشگی اطلاع کے ہو سکتے ہیں۔ شدت پسند عناصر عام طور پر ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹلوں، بازاروں، شاپنگ مالز، سیکیورٹی اداروں کے دفاتر، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسکولوں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مظاہروں اور بڑے اجتماعات سے دور رہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق بغیر اجازت احتجاج یا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض مواقع پر احتجاج کے قریب موجود افراد کو بھی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی شہریوں کو احتجاج میں شرکت یا سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کرنے پر حراست میں بھی لیا گیا ہے جو پاکستانی حکومت یا اداروں پر تنقید سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کی نقل و حرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی حکام کو ملک کے بعض علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سیکیورٹی اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں میں سفر کے لیے میزبان حکومت سے خصوصی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

    امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان علاقوں میں دہشت گردی اور اغوا کے واقعات کا خطرہ زیادہ ہے جبکہ عسکریت پسند گروہ سیکیورٹی فورسز، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    ایڈوائزری کے مطابق امریکی حکومت کے پاس خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کرنے یا انہیں قونصلر خدمات فراہم کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔

    اسی طرح لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھی سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ وہاں دہشت گردی اور ممکنہ مسلح تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران مقامی میڈیا پر نظر رکھیں، ہجوم اور حساس مقامات سے دور رہیں، سفری دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور ہنگامی صورتحال میں ملک چھوڑنے کا متبادل منصوبہ بھی تیار رکھیں۔

    امریکی حکام کے مطابق سیکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو ہر وقت محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  • ماضی کا کراچی کیا یہ واقعی ایک چھوٹا قصبہ تھا یا ایک ابھرتا ہوا بندرگاہی شہر؟ 1913  میں ایک عثمانی صحافی کی چشم دید شہادت

    ماضی کا کراچی کیا یہ واقعی ایک چھوٹا قصبہ تھا یا ایک ابھرتا ہوا بندرگاہی شہر؟ 1913  میں ایک عثمانی صحافی کی چشم دید شہادت

    سندھ میں آج کل ایک گرما گرم بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کراچی کب بنا؟ کس نے بنایا؟ لیکن 112 سال پہلے ایک ترک صحافی نے جو کچھ لکھا، وہ اس پوری بحث کا جواب ہے

    ایک عرصے سے سندھ کی سیاست میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے وہ یہ کہ کراچی کا اصل بانی کون ہے؟

    ایک فریق کہتا ہے کہ 1947 میں ہندوستان سے آنے والے مہاجرین نے اس ویرانے کو شہر بنایا۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ کراچی صدیوں پرانا شہر ہے۔

    لیکن اس بحث میں ایک ایسی گواہی موجود ہے جسے نہ تو کوئی رد کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ‘متعصب’ کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ گواہی ایک ایسے شخص کی ہے جو نہ سندھی تھا، نہ اُردو بولنے والا، نہ انگریز۔ یہ ایک ترک صحافی تھا جو 1913 میں استنبول سے کراچی آیا اور اس نے جو دیکھا، وہ اس دور کے ایک مشہور رسالے صراط مستقیم میں سمندر کا پہلا کنارہ اور بھارت کی سرحد کے عنوان کے ساتھ لکھ دیا۔

    ترک صحافی کون تھے؟

    ایس ایم توفیق یعنی سید محمد توفیق ایک ایرانی النسل ترک صحافی تھے جو استنبول سے شائع ہونے والے مشہور رسالے ‘صراط مستقیم’ کے ساتھ وابستہ تھے۔ یہ رسالہ اپنے دور کا ایک بڑا علمی اور ادبی پلیٹ فارم تھا جس میں نامور ترک دانشور، شاعر اور صحافی لکھتے تھے۔

    جولائی 1913 میں انہوں نے پونا سے کراچی کا سفر کیا اور واپس جا کر اپنے مشاہدات رسالے میں شائع کیے۔ ان کا مضمون آج 112 سال بعد ایک تاریخی دستاویز بن چکا ہے۔

    جب جہاز کراچی بندرگاہ پر لگا

    توفیق لکھتے ہیں کہ جب ان کا بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر پہنچا تو بندرگاہ کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔

    ‘ہم کراچی کی بندرگاہ پر رات کو پہنچے جہاں ایک فاصلے پر اونچے مینار کی روشنی نے ہمیں راہ دکھائی۔ ہمارا بحری جہاز آہستہ آہستہ بندرگاہ پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔’

    وہ بتاتے ہیں کہ بندرگاہ پر تقریباً 30 جہاز لنگر انداز تھے اور بندرگاہ اتنی بڑی اور منظم تھی کہ جہازوں کے لنگر کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ ایک برطانوی کمپنی کا مستقل عملہ وہاں خدمات دے رہا تھا اور بندرگاہ پر باقاعدہ پولیس افسر تعینات تھے۔

     شہر کے اندر: وہ کراچی جو ‘چھوٹا قصبہ’ نہیں تھا

    بندرگاہ سے شہر میں داخل ہوتے ہی توفیق نے جو دیکھا وہ انہیں متاثر کر گیا۔

    شہر میں بجلی کا مکمل نظام تھا۔سڑکوں پر بجلی کے کھمبے، گھروں میں روشنی، اور شہر کے مرکز میں بجلی سے چلنے والی ٹرام چلتی تھی۔ انہوں نے صاف لکھا کہ ٹرام میں 32 مسافر بیٹھ سکتے تھے وہاں انگریزی میں لکھا تھا کہ تمام گاڑیاں یہاں پارک ہوتی ہیں۔

    شہر کے وسط میں وکٹوریہ گارڈن تھا۔ایک بڑا، خوبصورت باغ جس میں بھالو، شیر، ایک خوش باش ہاتھی، سانپ، اور نہ جانے کتنے اقسام کے جانور تھے۔ باغ میں سفیدرنگ کے پنجروں میں رنگ برنگے پرندے بھی تھے۔

    انہوں نے لکھا کہ شہر میں علیحدہ مارکیٹیں تھیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں لیموں، کھجوروں اور دیگر پھلوں سے لے کر گوشت، مچھلی اور مشروبات تک ہر چیز ملتی تھی۔

    کراچی کی آبادی: مسلمان، ہندو، اور دیگرمذاہب کے لوگ

    توفیق کو سب سے زیادہ حیرت کراچی کی تنوع پذیر آبادی دیکھ کر ہوئی۔

    وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور مختلف ممالک سے لوگ یہاں آ کر بسے ہیں۔ ہندوستان، ایران، افغانستان اور یہاں تک کہ دور دراز ممالک کے لوگ کراچی میں کاروبار اور تجارت کرتے تھے۔ مقامی ہندوستانی ہندو اور غیر مسلم بھی بڑے پیمانے پر کاروبار چلاتے تھے۔

    انہوں نے لکھا: ‘یہ ایسا علاقہ ہے جہاں فارس، ہندوستان اور عراق کی سرحدیں ملتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کراچی مستقبل میں بہت پھیلے گا کیونکہ بلوچستان، ایران، افغانستان اور ہندوستان میں ہر جگہ سے سمندری راستوں پر یہاں بندرگاہوں کا تمام تر انحصار ممکن ہے۔’

    تعلیم اور دینی زندگی

    توفیق کو کراچی کے مسلم تعلیمی اداروں نے بھی متاثر کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ کراچی کے مسلمانوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دار الاسلام نامی ایک بڑا ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کی مرکزی عمارت ایک بڑے باغ کے وسط میں تھی جہاں شریعت کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔زبانیں، سائنس، ریاضی، کھیل، اور سماجی سرگرمیاں سب شامل تھیں۔

    اسکول میں عثمانی سلطان، خلیفہ محمود پنجم، غازی عثمان پاشا اور دیگر کی تصویریں آویزاں تھیں۔ ایک مقامی معززشخص نے توفیق کو اسکول میں خطاب کرنے کی دعوت دی جہاں سلطان اور مسلم اتحاد کے حوالے سے گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

     ترک جنگ اور کراچی کا جذبہ

    توفیق نے ایک دلچسپ بات بھی لکھی کہ ترک جنگ کے لیے سندھ سے 20,000 روپے سے زائد رقم جمع کی گئی تھی اور اس وقت کے مقامی اعزازی قونصل کی کوششیں (بدستور) جاری تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1913 کا کراچی دنیا کے حالات سے کتنا باخبر اور جذباتی طور پر منسلک تھا۔

     112 سال بعد کیا جواب ملتا ہے؟

    توفیق 1913 میں جب کراچی آئے تو یہاں بجلی تھی، ٹرام تھی، چڑیا گھر تھا، بڑی بندرگاہ تھی، منظم بازار تھے، تعلیمی ادارے تھے، اور مختلف مذاہب و قوموں کے لوگ ملکر آباد تھے۔

    یہ سب 1947 سے 34 سال پہلے کا منظرنامہ ہے۔

    جب یہ بحث چھڑتی ہے کہ کراچی پہلے ایک ‘چھوٹا جزیرہ نما قصبہ’ تھا اور مہاجرین نے اسے شہر بنایا تو ایک ترک صحافی کی یہ گواہی خاموشی سے جواب دیتی ہے: جو شہر 1913 میں ایسا تھا، وہ 1947 سے پہلے ہی شہر تھا۔

    نوٹ: یہ مضمون ترک صحافی ایس ایم توفیق کی ایک تحریر پر مبنی ہے جو 16 جولائی 1913 کو استنبول سے شائع ہونے والے جریدے صراطِ مستقیم میں شائع ہوئی تھی جو برطانوی ہندوستان کے سفر کے دوران کراچی سے متعلق اُن کے ذاتی مشاہدات پر مشتمل تھی۔ کوئی چار برس قبل اس تحریر کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا، جسے معروف محقق اور بلاگر اختر حسین بلوچ مرحوم کے اصرار پر راقم نے اردو قالب میں منتقل کیا تاکہ برصغیر اور بالخصوص سندھ کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قارئین تک یہ اہم ماخذ اپنی اصل معنویت کے ساتھ پہنچ سکے۔

  •  کراچی کی مسجد طوبیٰ: فن تعمیرکا عظیم شاہکار

     کراچی کی مسجد طوبیٰ: فن تعمیرکا عظیم شاہکار

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی  میں ڈیفنس میں واقع یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ جدید اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ بھی ہے۔

    اس مسجد کا منفرد طرز تعمیر اسے دنیا کی خوبصورت مساجد میں شامل کرتا ہے

    مسجد میں داخل ہوں تو آںکھوں کوخیرہ کرنے والے فوارے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔۔

    مسجد طوبیٰ جسے گول مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔

    یہ دنیا کی واحد مسجد ہے جس کا مرکزی گنبد کسی اندرونی ستون کے بغیر قائم ہے۔

    جو انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ اس عظیم الشان سنگل گنبد کا قطر 72 میٹر ہے جو صرف دیواروں کے سہارے کھڑا ہے۔۔

    اس گنبد کے نیچے وسیع و عریض ہال موجود ہے، جہاں ہزاروں افراد بیک وقت عبادت کر سکتے ہیں۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کئی قدیم اور جدید دور میں تعمیر کردہ مساجد فنِ معماری اور خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان میں سے اکثر مساجد تاریخی اہمیت کی حامل اور اسلامی ثقافت کا عمدہ نمونہ ہیں۔

    پاکستان میں عروس البلاد کا درجہ رکھنے والے شہرِ قائد کراچی کی طوبٰی مسجد کو لوگ گول مسجد بھی کہتے ہیں۔

    یہ کراچی کی منفرد طرزِ تعمیر کی حامل مشہور عبادت گاہ ہے جو ڈیفنس میں کورنگی روڈ سے قریب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجدِ طوبیٰ واحد گنبد کی حامل دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

    مسجدِ طوبیٰ کی تعمیر میں خالص سفید سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے گنبد کا قطر 72 میٹر (236 فٹ) ہے اور یہ اس لحاظ سے منفرد اور فنِ تعمیر کی ایک مثال ہے کہ

    اس گنبد کو بغیر کسی ستون کے صرف مسجد کے ہال کی دیواروں پر کھڑا کیا گیا ہے۔

    اسلامی عبادت گاہوں کے روایتی طرزِ تعمیر میں گنبد کے ساتھ میناروں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

    مسجدِ طوبیٰ میں بھی طویل گنبد کے ساتھ واحد مینار 70 میٹر بلند ہے۔ اس عبادت گاہ کے مرکزی وسیع و عریض ہال میں 5 ہزار نمازی اکٹھے ہوسکتے ہیں۔

    اس مسجد کی تعمیر کا کام 1966ء میں شروع کیا گیا تھا جو تین سال جاری رہا اور 1969ء میں مکمل ہوا۔

    مسجد طوبیٰ کے پاکستانی ماہر معمار بابر حامد چوہان تھے اور اس کے انجینئر کا نام ظہیر حیدر تھا۔ مسجد کے صحن میں‌ فوّارے موجود ہیں جو بہت خوش نما منظر پیش کرتے ہیں۔

    عربی زبان میں طوبیٰ کا معنیٰ خوش گوار، نفیس، نہایت خوش بو دار، پاکیزہ ہیں اور بہشت کے ایک درخت کو بھی طوبیٰ پکارا جاتا ہے۔

    روایت کے مطابق جنّت کا یہ درخت مہکتا ہوا اور پھل دار ہوگا۔ اس نہایت خوب صورت نسبت کے علاوہ یہ عبادت گاہ گول مسجد کے نام بھی معروف ہے۔

    مسجد طوبیٰ سادہ نظر آتی ہے لیکن اس کی سادگی میں بڑی انجینئرنگ چھپی ہے۔ایک ایسا گنبد جو خود سہارا ہے،اور خود ہی چھت۔

    عام طور پر بڑی چھت کو سہارا دینے کے لیے کئی ستون ہوتے ہیں لیکن یہاں پورا گنبد

    ایک ہی خول کی طرح بنایا گیا ہے۔ یعنی وزن درمیان میں نہیں بیرونی دیواروں پر منتقل ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر بابر حامد چوہان کا یہ حیران کن ڈیزائن روایتی اور جدید فن کا حسین امتزاج ہے۔ خاص بات یہ ہے

    کہ اس کے 212 فٹ قطر کے گنبد کی اندرونی چھت پرسترہ ہزار سے زائد چھوٹے شیشے لگائے گئے ہیں۔

    جب مسجد کی روشنی ان شیشوں سے ٹکرا کر چمکتی ہےتو یوں محسوس ہوتا ہےجیسے ستارے جھلملا اٹھے  ہوں۔

    جس طرح گنبد کے اندر شیشوں کی جھلک ہےاسی طرح دیواروں پر بھی سنگِ مرمر کی سات لاکھ اڑسٹھ ہزار سے زائد ٹکڑیاں اس گول ساخت کے حسن کو مکمل کرتی ہیں۔

    اس ڈیزائن کا ایک اور کمال یہ ہے کہ یہاں آواز پورے ہال میں برابر پھیلتی ہے۔آپ ہال کے کسی بھی کونے میں کھڑے ہوں آواز ایک جیسی اور صاف سنائی دیتی ہے۔

    تصور کریں 56 برس قبل تعمیر کی گئی یہ مسجد آج بھی دور جدید کی تعمیرات کی عمدہ نمونہ کے طور پر موجود ہے۔