Tag: کراچی

  • کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    کراچی شہر، بندرگاہ اور پارسی خاندان: تاریخ، تجارت، قانون اور عقائد کا مطالعہ

    سندھ کے ساحلی شہر کراچی اور اس کی قدیم بندرگاہ کی تاریخ کا ذکر برصغیر کی صدیوں پرانی ایرانی النسل برادری کے بغیر ادھورا رہے گا۔ یہ برادری گجراتی زبان بولنے والے پارسیوں پر مشتمل ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم اس برادری کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

    ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں جب ایران میں ساسانی سلطنت کا زوال ہوا اور اس کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، تو قدیم زرتشتی مذہب کے پیروکاروں کے لیے اپنے عقیدے اور بقا کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا۔ وہ نسلیں جو صدیوں تک ایران کے تخت و تاج اور ثقافت کی امین رہی تھیں، اب اپنے دین کو بچانے کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔

    زرتشتیوں کے ایک بڑے گروہ نے ایران کے صوبے ‘خراسان’ اور پھر ساحلی شہر ‘ہرمز’ کا رخ کیا، جہاں سے انہوں نے گجرات کے بحری جہازوں کے ذریعے ہندوستان کے مغربی ساحلوں کی طرف ہجرت کا آغاز کیا۔

    پارسیوں کے یہ بحری جہاز 716 یا بعض روایات کے مطابق 785 میں ہندوستان کے صوبہ گجرات کے ساحلی علاقے ‘سنجان’ پر لنگرانداز ہوئے۔ اس وقت وہاں مقامی راجپوت راجہ یادیو رانا حکومت کرتا تھا۔ پارسیوں کی تاریخی دستاویز ‘قصہ سنجان’ فارسی زبان کی ایک رزمیہ نظم ہے جو 1599 میں بہمن کیکوباد سنجانا نامی ایک پارسی مذہبی پیشوا نے لکھی تھی۔

    ان کے مطابق، راجپوت راجہ نے ایرانی پناہ گزینوں کی آمد پر ابتدا میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا اور اپنی سلطنت میں گنجائش کی کمی ظاہر کرنے کے لیے پارسی پیشواؤں کو کناروں تک دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ بھیجا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پاس مزید لوگوں کی جگہ نہیں ہے۔

    پارسی مذہبی رہنما نے اس کا جواب انتہائی دانشمندی سے دیا۔ انہوں نے اس دودھ کے پیالے میں ایک چٹکی شکر ڈال دی، جو دودھ سے باہر گرے بغیر اس میں پوری طرح حل ہو گئی اور دودھ کو میٹھا کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پارسی گجرات اور برصغیر کی سرزمین پر مقامی آبادی کے لیے بوجھ نہیں بنیں گے بلکہ ان کی ثقافت اور زندگی میں گھل مل کر اسے مزید شیریں اور خوشحال بنا دیں گے۔ راجہ یادیو رانا اس جواب سے حد درجہ متاثر ہوا اور اس نے پارسیوں کو چار بنیادی شرطوں پر پناہ دی۔

    • وہ مقامی زبان گجراتی اختیار کریں گے۔
    • ان کی خواتین مقامی لباس ساڑھی پہنیں گی۔
    • وہ اپنی شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات رات کے وقت کریں گے تاکہ مقامی آبادی کے آرام میں خلل نہ پڑے۔
    • وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور مقامی راجہ کے وفادار رہیں گے۔

    پارسیوں نے ان شرائط کو تہہ دل سے قبول کیا اور صدیوں تک گجرات کے مختلف علاقوں جیسے سنجان، نوساری، سورت اور بھروچ میں پرامن زندگی گزاری۔ انہوں نے نہ صرف گجراتی زبان کو اپنی مادری زبان کے طور پر اپنایا بلکہ اپنے ناموں کے ساتھ گجراتی لہجے کا لاحقہ ‘جی’ جیسے دنشا جی، کاؤس جی اور جساوالا بھی جوڑ لیا، جو آج بھی ان کی شناخت کا حصہ ہے۔

    برصغیر کی تجارتی سلطنتوں کا عروج

    انیسویں صدی میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے ساحلی شہروں بمبئی اور کلکتہ کو بین الاقوامی تجارت کے مراکز کے طور پر ترقی دینا شروع کی، تو گجرات کے ساحلوں سے پارسیوں نے ان شہروں کا رخ کیا۔ پارسیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی غیر معمولی تجارتی بصیرت، ایمانداری اور زبانیں سیکھنے کی قدرتی صلاحیت تھی۔ وہ جلد ہی انگریزوں، پرتگالیوں اور دیگر یورپی تاجروں کے معتبر ترین تجارتی شراکت دار بن گئے۔

    بمبئی میں ‘واڈیا خاندان’ نے بحری جہاز سازی کی صنعت کی بنیاد رکھی اور برطانوی بحریہ کے لیے ایسے شاندار اور مضبوط لکڑی کے جہاز تیار کیے جنہوں نے دنیا بھر کے سمندروں کا سفر کیا۔ اسی طرح ‘ٹاٹا خاندان’ نے ٹیکسٹائل اور لوہے کی صنعت میں قدم رکھا، اور سر جمشید جی نے چین کے ساتھ کپاس اور افیون کی تجارت کے ذریعے برصغیر کی سب سے بڑی تجارتی سلطنتوں میں سے ایک قائم کی۔

    پارسیوں نے دولت کمانے کے بعد روایتی تاجروں کی طرح اسے صرف تجوریوں میں بند نہیں رکھا بلکہ جدید مغربی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ وہ برصغیر کے پہلے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے انگریزی زبان سیکھی اور وکالت، عدلیہ، طب، صحافت اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ پیشوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوا کر برصغیر کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور بااثر اشرافیہ میں صف اول کا مقام حاصل کر لیا۔

    کراچی بندرگاہ کی جدید کاری میں پارسیوں کا حصہ

    1839 میں جب برطانوی فوج نے منوڑہ کے قلعے پر قبضہ کیا اور 1843 میں سر چارلس نیپیئر نے سندھ کو برطانوی سلطنت کا حصہ بنایا، تو کراچی کی جغرافیائی اہمیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ انگریزوں کو وسطی ایشیا، پنجاب اور شمال مغربی سرحد تک تجارتی اور فوجی رسائی کے لیے ایک بہترین بندرگاہ کی ضرورت تھی۔ اس وقت کراچی محض چند ہزار ساحلی باشندوں، ماہی گیروں اور مقامی تاجروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔

    بمبئی پریزیڈنسی کے تحت جب کراچی کے انتظامی معاملات چلانے کا آغاز ہوا، تو انگریزوں کے ساتھ جو سب سے پہلا متحرک، تعلیم یافتہ اور کاروباری طبقہ کراچی منتقل ہوا، وہ پارسی تاجر تھے۔ 1840 اور 1850 کے عشروں میں بمبئی سے بحری جہازوں کے ذریعے پارسی خاندان کراچی پہنچنا شروع ہوئے اور انہوں نے کیماڑی، صدر اور منوڑہ کے علاقوں میں اپنے ڈیرے جمائے۔

    ابتدائی دور میں کراچی بندرگاہ پر بڑے بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت موجود نہیں تھی کیونکہ سمندر کی لہریں اور ریت کے ڈھیر جہازوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ سر چارلس نیپیئر اور بعد میں آنے والے برطانوی انجینئروں نے کراچی بندرگاہ کو جدید نمونے پر ترقی دینے کے لیے کئی منصوبے بنائے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے لیے مالی و انتظامی تعاون پارسیوں نے فراہم کیا۔

    1887 میں جب کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ منظور ہوا اور بندرگاہ کا تمام انتظام ایک باقاعدہ بورڈ کے حوالے کیا گیا، تو اس کے بانی ارکان اور طویل عرصے تک بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن رہنے والوں میں پارسی نام سب سے نمایاں تھے۔ ان تاجروں نے بندرگاہ کی درج ذیل بڑی تکنیکی ترقیوں میں حصہ لیا۔

    نیپیئر مول روڈ:

    1854 میں کیماڑی جزیرے کو کراچی کے مرکزی شہر سے جوڑنے کے لیے بنائے گئے پل اور سڑک کی تعمیر کے لیے پارسی تاجروں نے گودام فراہم کیے اور رسد کا انتظام سنبھالا۔

    منوڑہ بریک واٹر:

    سمندر کی لہروں کے دباؤ کو کم کرنے اور جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے منوڑہ کے ساحل پر پتھروں کی ایک بہت بڑی دیوار تعمیر کی گئی، جس کی وجہ سے برطانوی اور یورپی بحری جہازوں کے لیے کراچی کا راستہ کھل گیا۔ اس منصوبے کے لیے پارسیوں نے بندرگاہی فنڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔

    برتھنگ اور کارگو ہینڈلنگ:

    پارسیوں نے بندرگاہ پر پہلی بار جدید جیٹیاں بنائیں اور جہازوں سے مال اتارنے کے لیے کرینیں اور جدید حسابی نظام متعارف کرایا۔

    کراچی بندرگاہ کے انیسویں صدی کے تجارتی دستاویزات اور ‘بمبئی پریزیڈنسی تجارتی گزٹ’ کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی پورٹ کس طرح دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شامل ہوئی۔ 1850 کے عشرے کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ لگ بھگ ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جہاز یہاں آتے تھے۔

    بیسویں صدی کے آغاز تک کراچی پورٹ سلطنت برطانیہ کو گندم، کپاس اور اون فراہم کرنے والی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ بن چکی تھی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پرانے حسابی ریکارڈ میں روزانہ کی بنیاد پر پارسی کمپنیوں کے نام درج ہیں، جنہوں نے کوئلے، نمک، کپڑے اور مشینری کی درآمد اور کلیئرنس کے معاملات سنبھالے۔

    کراچی کے افق پر چمکتے پارسی خاندان

    کراچی کے نامور پارسی خاندانوں نے نہ صرف بندرگاہ کے کاروبار پر حکمرانی کی بلکہ شہر کی صنعت، جائیداد، ہوٹلوں اور عوامی بہبود کی بنیاد بھی رکھی۔ ذیل میں ان بڑے خاندانوں کا تفصیلی خاکہ پیش ہے۔

    1۔ کاؤس جی خاندان

    کاؤس جی خاندان کا شمار پاکستان اور برصغیر کی قدیم ترین جہاز رانی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خاندان 1883 میں ہندوستان کے مغربی ساحل سے تجارتی مواقع کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ انہوں نے کوئلے اور نمک کی تجارت سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس دور میں بحری جہاز کوئلے سے چلتے تھے، اس لیے جہازوں کو کوئلہ فراہم کرنا ایک انتہائی منافع بخش اور اہم کاروبار تھا۔

    جلد ہی انہوں نے ‘کاؤس جی گروپ’ کے نام سے پاکستان کی سب سے بڑی جہاز رانی اور کارگو ہینڈلنگ کمپنی قائم کی۔ کراچی بندرگاہ پر آنے والے برطانوی اور دیگر بین الاقوامی جہازوں کو سنبھالنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس خاندان کی کاروباری دیانت داری اور سمندری قوانین پر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ عالمی جہاز رانی کمپنیاں ان پر مکمل اعتماد کرتی تھیں۔ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد اردشیر کاؤس جی تھے، جو پاکستان کے ایک بے باک کالم نگار، ماہر تعمیرات اور سماجی رہنما کے طور پر معروف ہوئے۔ انہوں نے کراچی کے ماحول اور تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے عمر بھر جدوجہد کی۔

    2۔ ایڈلجی دنشا خاندان

    سیٹھ ایڈلجی دنشا کو کراچی کی تاریخ کا امیر ترین تاجر، زمیندار اور مخیر شخصیت مانا جاتا ہے۔ ان کا خاندان جائیداد اور تجارت کا بے تاج بادشاہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کے مرکزی علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ اور سول لائنز میں ان کی سینکڑوں ایکڑ قیمتی زمین اور شاندار عمارتیں موجود تھیں۔

    ایڈلجی دنشا اور ان کے خاندان کے افراد کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بانی اراکین اور طویل عرصے تک ٹرسٹی رہے۔ بندرگاہ کے آس پاس کارگو کے گوداموں اور کسٹمز کلیئرنس کے معاملات میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا حصہ کراچی کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے بیٹے نادرشا ایڈلجی دنشا کی مالی معاونت اور عطیات کی بدولت کراچی کا پہلا انجینئرنگ کالج قائم ہوا، جسے آج ہم این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کے لیے تاریخی لیڈی ڈفرن ہسپتال کی تعمیر کے لیے اس دور میں لاکھوں روپے کے فنڈز بھی فراہم کیے۔

    3۔ ڈوباش خاندان

    لفظ ڈوباش اصل میں سنسکرت اور گجراتی لفظ ‘دو بھاشا’ یعنی دو زبانیں جاننے والا سے نکلا ہے۔ قدیم دور میں جب غیر ملکی جہاز برصغیر کے ساحلوں پر آتے تھے، تو انگریزی یا دیگر یورپی زبانیں بولنے والے کپتانوں اور مقامی گجراتی و سندھی تاجروں کے درمیان براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس دور میں پارسیوں نے مترجم کا کردار ادا کیا اور جہازوں کو مقامی راشن، پانی اور دیگر سامان فراہم کرنے کا کاروبار شروع کیا۔

    کراچی میں ڈوباش خاندان کا تعلق 1855 سے ہے۔ جہانگیر فیروز شاہ ڈوباش اور ان کے بعد ان کی نسلوں نے کراچی بندرگاہ پر مال برداری کی خدمات اور جہاز رانی کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، جب کراچی پورٹ اتحادی افواج کا ایک بڑا مرکز تھا، تو ڈوباش خاندان کی کمپنیوں نے امریکی اور برطانوی فوج کے لیے مال برداری کی خدمات انجام دیں اور یونانی و دیگر عالمی جہاز رانی کمپنیوں کی نمائندگی بھی کی۔

    4۔ آواری خاندان

    ہوٹل انڈسٹری میں آواری خاندان کا نام پاکستان کے کونے کونے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس خاندان کے بانی دنشا آواری تھے، جنہوں نے 1944 میں آواری گروپ کی بنیاد رکھی۔ دنشا آواری نے اگرچہ ہوٹل کی صنعت میں نام کمایا، لیکن ان کے کاروبار کا آغاز بھی کراچی بندرگاہ سے جڑا ہوا تھا۔

    انہوں نے 1948 میں کراچی کے ساحل کے قریب مائی کولاچی اور نیٹی جیٹی کے پاس تاریخی ‘بیچ لگژری ہوٹل’ کی بنیاد رکھی۔ اس ہوٹل کا مقام اس لیے منتخب کیا گیا تھا تاکہ سمندر کے راستے آنے والے غیر ملکی جہاز رانوں، کپتانوں اور بین الاقوامی کاروباری شخصیات کو بندرگاہ کے قریب بین الاقوامی معیار کی رہائش، طعام اور تفریح فراہم کی جا سکے۔ بعد میں اس خاندان نے شاہراہ فیصل پر ‘آواری ٹاورز’ ہوٹل تعمیر کیا، جو آج بھی کراچی کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔

    5۔ مینوالا خاندان

    مینوالا خاندان نے بھی کراچی کی ہوٹل انڈسٹری، رسدی خدمات اور جائیداد کے شعبے میں تاریخی خدمات انجام دیں۔ اس خاندان کے سربراہ سائرس ایف مینوالا نے 1951 میں صدر کے علاقے میں پاکستان کا پہلا فائیو اسٹار لگژری ہوٹل ‘ہوٹل میٹروپول’ قائم کیا۔ اس ہوٹل کا افتتاح شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے کیا تھا۔ ہوٹل میٹروپول طویل عرصے تک کراچی کی سیاسی و سماجی اشرافیہ، غیر ملکی سفارت کاروں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے عملے کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ اس کے علاوہ کیماڑی کے علاقے میں ان کا ‘گرینڈ ہوٹل’ بھی بحری مسافروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ تھا۔

    6۔ کیٹرک اور رستم جی خاندان

    سر سہراب کیٹرک کا خاندان درآمد و برآمد اور شراب کی درآمد کے کاروبار کا بڑا نام تھا۔ ٹاور پر موجود ‘کیٹرک مینشن’ اور صدر کی ‘سہراب کیٹرک پارسی کالونی’ اسی خاندان کی یادگار ہیں۔ دوسری طرف سیٹھ ہرمز جی جمشید جی رستم جی نے کراچی میں ایک مضبوط تجارتی اور تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا، جس نے شہر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    وکالت، عدلیہ اور طب کے شعبوں میں پارسیوں کی اہمیت

    کراچی کے پارسیوں نے نہ صرف تجارت اور معیشت میں نام کمایا بلکہ طب اور قانون کے شعبوں میں بھی صف اول کے ماہرین پیدا کیے۔ ان کی ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے ملک میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔

    نامور پارسی ڈاکٹر

    پرانے کراچی کے رہائشیوں کے لیے پارسی ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کی ڈسپنسریاں اور ہسپتال سستے اور بہترین علاج کے لیے مشہور تھے۔

    ڈاکٹر فریدون سیٹھنا:

    انہیں پاکستان کے نامور اور معزز ماہر امراض نسواں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ طویل عرصے تک لیڈی ڈفرن ہسپتال کے طبی سربراہ رہے اور کراچی کی ہزاروں خواتین کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کیں۔

    ڈاکٹر برجور انکلیسریہ:

    وہ گارڈن روڈ پر مشہور ‘انکلیسریہ ہسپتال’ کے بانی تھے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان نے کراچی میں نرسنگ ہومز اور جدید ہنگامی طبی سہولیات متعارف کرائیں۔

    ڈاکٹر کے این اسپینسر:

    وہ کراچی کے معروف ماہر چشم تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں لی مارکیٹ کے قریب تاریخی ‘اسپینسر آئی ہسپتال’ قائم کیا گیا، جس نے دہائیوں تک غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج اور آپریشن کیے۔

    ڈاکٹر بیجن جی رستم جی:

    تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ کراچی کے پہلے پارسی ڈاکٹر تھے، جو 1858 میں بمبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم مکمل کر کے کراچی آئے اور سول ڈسپنسری کا چارج سنبھالا۔

    نامور پارسی وکیل اور جج

    کراچی بار اور سندھ ہائی کورٹ کی تاریخ پارسی قانون دانوں کی دلیری اور قانون پسندی کی گواہ ہے۔

    جسٹس دوراب پٹیل:

    یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی معتبر اور اصول پسند نام ہے۔ انہوں نے 1955 کے عشرے میں کراچی سے وکالت کا آغاز کیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بنے۔ 1981 میں جب جنرل ضیا الحق نے عبوری آئینی حکم نافذ کیا اور ججوں سے وفاداری کا نیا حلف مانگا، تو جسٹس دوراب پٹیل نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔

    بیرسٹر فرامروز رستم جی اور بیرسٹر ہوشنگ رستم جی:

    کیٹرک اور رستم جی خاندانوں کے ان پڑھے لکھے نوجوانوں نے لندن کے مشہور ‘انز آف کورٹ’ سے بیرسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کی عدالتوں میں جرح کے کمالات دکھائے۔ بیرسٹر ہوشنگ رستم جی خاص طور پر بین الاقوامی کمپنیوں، جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز سے متعلق پیچیدہ تجارتی مقدمات کے ماہر تھے اور ان کی قانونی مسودہ نویسی کو عدالتوں میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اور پارسی خاندانوں کے روابط

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، سیاست اور ذاتی معاملات کا مطالعہ پارسی برادری کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ان کے پارسیوں سے تعلقات پیشہ ورانہ احترام سے لے کر انتہائی گہرے ذاتی رشتوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں پارسی خاندان کے ‘دادا بھائی نوروجی’ کی شخصیت اور ان کے لبرل خیالات سے شدید متاثر تھے۔ دادا بھائی نوروجی، جنہیں احتراماً ‘گرینڈ اولڈ مین آف انڈیا’ کہا جاتا ہے، انڈین نیشنل کانگریس کے بانی اراکین میں شامل تھے اور ایک ممتاز ماہر معاشیات تھے۔ جب دادا بھائی نوروجی 1892 میں برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے ایشیائی رکن منتخب ہوئے، تو لندن میں موجود نوجوان محمد علی جناح نے ان کی انتخابی مہم میں دن رات کام کیا۔

    جب دادا بھائی نوروجی 1906 میں کلکتہ کے کانگریس اجلاس کے صدر بنے، تو قائد اعظم نے ان کے نجی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قائد اعظم کی ملکی سیاست میں ابتدائی شناخت قائم کرنے اور ان کے لبرل آئینی نقطہ نظر کو واضح کرنے میں دادا بھائی نوروجی کا بڑا کردار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں ایک اہم سڑک کا نام ‘دادا بھائی نوروجی روڈ’ رکھا گیا۔

    قائد اعظم کی ذاتی زندگی کا سب سے اہم اور رومانوی واقعہ ایک پارسی خاتون سے ان کی شادی ہے۔ قائد اعظم کے قریبی دوست سر دنشا پیٹٹ، جو بمبئی کے ایک انتہائی امیر اور نامور پارسی ٹیکسٹائل مل کے مالک تھے، ان کی صاحبزادی رتن بائی، جنہیں رتی بھی کہا جاتا تھا، جناح صاحب کی ذہانت اور شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئیں۔ رتی اپنی خوبصورتی، فیشن کے ذوق اور تیز ذہن کی وجہ سے بمبئی کے حلقوں میں ‘بمبئی کا گلاب’ کہلاتی تھیں۔

    جب جناح صاحب نے سر دنشا سے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو سر دنشا سخت ناراض ہوئے کیونکہ پارسی مذہب میں برادری سے باہر شادی کی سخت ممانعت ہے۔ انہوں نے اس شادی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔

     رتی جب 18 سال کی ہوئیں تو انہوں نے اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیا اور 18 اپریل 1918 کو جامع مسجد بمبئی میں مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جہاں ان کا اسلامی نام ‘مریم’ رکھا گیا۔ 19 اپریل 1918 کو قائد اعظم، جن کی عمر 42 سال تھی، اور رتی، جن کی عمر 18 سال تھی، کی شادی بمبئی میں جناح صاحب کے گھر پر منعقد ہوئی۔

    اس شادی کی وجہ سے پارسی برادری نے رتی کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور ان کے والد نے مرتے دم تک رتی اور جناح سے بات نہیں کی۔ ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا رکھا گیا، جنہوں نے بعد میں ایک پارسی صنعت کار نیول واڈیا سے شادی کی۔

    ایک تاریخی نکتہ:

    قائد اعظم پیدائشی طور پر کچھی خوجہ اسماعیلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالتی ریکارڈ اور مؤرخین کے مطابق، 1901 کے قریب جب ان کی بہنوں کی شادیاں خوجہ اسماعیلی برادری سے باہر ہوئیں اور برادری نے اس پر اعتراض اٹھایا، تو جناح خاندان نے اسماعیلی طریقہ ترک کر کے خوجہ اثنا عشری مسلک اختیار کر لیا۔ رتی کے ساتھ ان کے نکاح نامے میں بھی ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔

    زرتشتی مذہبی عقائد اور ان کے بارے میں غلط فہمیاں

    پارسیوں کا مذہب ‘زرتشت واد’ دنیا کے قدیم ترین توحیدی مذاہب میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد ایران میں پیغمبر اشو زرتشت نے رکھی تھی۔ برصغیر کے عوام میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ان کے عقائد کے بارے میں کئی سنگین غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جن کا علمی اور تحریری ازالہ کرنا ضروری ہے۔

    بت پرستی کی نفی

    اکثر لوگ جب پارسیوں کے کمیونٹی ہال یا ان کی تاریخی عمارتوں کا دورہ کرتے ہیں، تو وہاں موجود تصویروں اور مجسموں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ پارسی بت پرست ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زرتشتی مذہب میں بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک خالص توحیدی مذہب ہے جو صرف ایک خدا ‘اہورامزدا’ یعنی عقل کل یا دانشمند آقا کی عبادت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے آتش کدوں کے اندر کوئی بت یا مجسمہ نہیں ہوتا۔

    ہالوں میں جو تصویریں لگی ہوتی ہیں، وہ ان کے پیغمبر ‘اشو زرتشت’ کی ایک علامتی اور فرضی شبیہ ہوتی ہے، جس کا مقصد صرف احترام ہے، پوجا نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عمارتوں پر ‘فروہر’ کا نشان ہوتا ہے، جو پروں والے ایک بزرگ کا خاکہ ہے۔ یہ انسان کی روح، ضمیر اور اچھے خیالات کی پرواز کی ایک علامتی تصویر ہے۔

    آتش پرستی کا ابہام

    برصغیر میں پارسیوں کو عام طور پر ‘آتش پرست’ کہا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وہ آگ کو اپنا معبود مانتے ہیں، جبکہ حقیقت میں پارسی آگ کو خدا نہیں مانتے اور نہ ہی اس کی پوجا کرتے ہیں۔ زرتشتی فلسفے میں آگ، سورج اور روشنی کو خدا کی پاکیزگی، نور اور کائنات کی سچائی کا مظہر اور علامتی قبلہ مانا جاتا ہے۔ جس طرح مسلمان نماز پڑھتے وقت کعبہ شریف کی طرف رخ کرتے ہیں، لیکن کعبہ کے پتھروں کی پوجا نہیں کرتے، اسی طرح پارسی اپنی عبادت کے دوران آگ یا روشنی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آگ دنیا کا سب سے پاک عنصر ہے، جو ہر چیز کو پاک کر دیتا ہے مگر خود کبھی ناپاک نہیں ہوتا، اس لیے یہ خدا کی صفات کی بہترین علامت ہے۔ ان کے آتش کدوں میں صدیوں سے روشن مقدس آگ کی دیکھ بھال مذہبی پیشوا انتہائی احترام سے کرتے ہیں۔

    زرتشتی اخلاقیات کے تین ستون

    زرتشتی اخلاقیات کا پورا نظام تین سادہ لیکن انتہائی گہرے اصولوں پر قائم ہے، جنہیں ہر پارسی کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوتا ہے۔

    1۔ ہمت، اچھے خیالات:

    انسان کو اپنے ذہن کو حسد، نفرت اور جھوٹ سے پاک رکھ کر ہمیشہ مثبت اور تعمیری سوچ رکھنی چاہیے۔

    2۔ ہوخت، اچھے الفاظ:

    زبان سے ہمیشہ سچ، نرمی اور محبت پر مبنی الفاظ ادا کرنے چاہییں کیونکہ الفاظ انسان کے کردار کا آئینہ ہوتے ہیں۔

    3۔ ہورشت، اچھے اعمال:

    دوسروں کی مدد کرنا، درخت لگانا، پانی کو صاف رکھنا، کاروبار میں ایمانداری اختیار کرنا اور دنیا کو بہتر جگہ بنانا ہی اصل عبادت ہے۔

    ان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں دو متضاد طاقتیں کارفرما ہیں، ایک یزداں ‘سپینتا مینییو’ یعنی خیر کی طاقت اور دوسری ‘انگر مینییو’ یا اہریمن یعنی شر کی طاقت۔ انسان کو اپنے آزاد ارادے کے ذریعے ان تین اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خیر کی طاقت کو غالب کرنا ہے۔

    جنازے کا طریقہ، دخمہ

    ان کا ایک منفرد عقیدہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کے بجائے ‘دخمے’ یا ‘ٹاور آف سائلنس’ میں رکھنے کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جسم وفات کے بعد ناپاک ہو جاتا ہے۔ اگر اسے دفنایا جائے تو زمین، جلایا جائے تو آگ اور پانی میں بہایا جائے تو پانی ناپاک ہو گا۔ کائنات کے ان عناصر کی پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے وہ میت کو ایک بلند ٹاور پر رکھ دیتے ہیں، جہاں شکاری پرندے گوشت کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں دھوپ میں سوکھ کر پاؤڈر بن جاتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ دور میں شکاری پرندوں کی کمی کی وجہ سے کئی پارسی اب تدفین یا شمشان گھاٹ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔

    اہم عدالتی مقدمات اور تاریخی تنازعات

    کراچی کی عدالتی تاریخ میں پارسی خاندانوں کی جائیدادوں، ٹرسٹ فنڈز اور مذہبی حقوق سے متعلق کئی ایسے مقدمات چلے، جنہوں نے پاکستان کے کارپوریٹ اور سول قوانین کی تشریح میں اہم کردار ادا کیا۔

    قائد اعظم کی وراثت کا مقدمہ

    قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات 1948 کے بعد کراچی ہائی کورٹ میں ان کی جائیداد اور مسلک کے تعین سے متعلق ایک طویل عدالتی مقدمہ شروع ہوا، جو دو دہائیوں تک چلتا رہا۔ یہ مقدمہ قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور ان کے دیگر رشتہ داروں، جیسے احمد علی، کے درمیان تھا۔ اس مقدمے میں پارسی برادری سے تعلقات اور قائد اعظم کی شادی کے سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیے گئے۔

    عدالتی کارروائی کے دوران یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جناح نے اپنی زندگی میں روایتی خوجہ اسماعیلی طریقہ ترک کر دیا تھا، رتی سے شادی کا 1918 کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر ان کا مسلک اثنا عشری درج تھا۔ نامور قانون دان سید شریف الدین پیرزادہ نے بھی اس مقدمے میں اہم گواہی دی۔

    یہ مقدمہ پاکستان کی قانونی تاریخ میں ‘قانون وراثت’ اور مسلم پرسنل لا کی تشریح کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

    ایڈلجی دنشا رفاہی ٹرسٹ کا مقدمہ

    تقسیم ہند کے بعد جب ایڈلجی دنشا خاندان کے کئی افراد انگلینڈ اور امریکہ ہجرت کر گئے، تو کراچی میں موجود ان کی اربوں روپے مالیت کی جائیداد اور سینکڑوں ایکڑ اراضی کو سنبھالنے کے لیے قائم ٹرسٹ کے معاملات عدالتوں میں پہنچے۔ ان مقدمات میں یہ قانونی نکتہ زیر بحث آیا کہ آیا ایک غیر مسلم رفاہی ٹرسٹ کی زمین کو حکومت پاکستان متروکہ وقف املاک کے طور پر ضبط کر سکتی ہے یا نہیں۔

    کراچی ہائی کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلوں میں پارسی ٹرسٹیوں کے حقوق کو تحفظ دیا اور یہ طے کیا کہ پارسی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے رفاہی اداروں کی جائیدادیں کسی بھی صورت میں ضبط نہیں کی جا سکتیں۔ انہی فیصلوں کی بدولت آج بھی این ای ڈی یونیورسٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال جیسے ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

    سمندری قانون کے مقدمات

    1950 اور 1960 کے عشروں میں جب پاکستان کی بحری تجارت عروج پر تھی، تو کاؤس جی گروپ اور ڈوباش کمپنیوں کے خلاف بین الاقوامی جہاز رانی کمپنیوں اور کسٹمز حکام کے درمیان کارگو نقصان اور کراچی ہاربر کے برتھنگ چارجز سے متعلق پیچیدہ مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں دائر ہوئے۔

    ان مقدمات کی پیروی بیرسٹر ہوشنگ رستم جی اور جسٹس دوراب پٹیل، جج بننے سے پہلے، کرتے تھے۔ ان مقدمات کی وجہ سے پاکستان میں سمندری قانون کے اصول وضع ہوئے اور بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔

    ماضی اور حال کا موازنہ

    انیسویں صدی کا کراچی ایک ایسا شہر تھا جس کی صفائی، امن اور ترقی کی مثالیں پورے ایشیا میں دی جاتی تھیں۔ اس دور میں پارسیوں کی آبادی اگرچہ چند ہزار تھی، لیکن شہر کے میئر، ڈاکٹر، وکیل اور تاجر اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ جمشید نسروانجی نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر اور میئر کی حیثیت سے شہر کو جو نقشہ دیا، اس کی بدولت کراچی کی سڑکیں روزانہ رات کو سمندر کے پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔

    کراچی شہر کی جدید تعمیر و ترقی میں پارسی خاندانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ کراچی بندرگاہ سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں وہ متحرک اور سرگرم رہے۔ آج اور ماضی کے کراچی کا موازنہ کیا جائے تو شدید افسوس اور دکھ کا احساس ہوتا ہے۔ جب 1970 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملکی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا، تو پارسی خاندانوں کا دل ٹوٹ گیا۔ ان کے بحری جہاز، فلور ملیں اور کاروباری ادارے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔

    اس معاشی دھچکے اور بعد کے ادوار میں شہر کی امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پارسیوں کی نئی نسل نے تیزی سے کینیڈا، انگلینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا ہجرت کرنا شروع کر دی۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں پارسیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی، لیکن آج 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر محض چند سو افراد تک رہ گئی ہے، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے۔

    شہر کے قلب میں جمشید کوارٹرز میں واقع ‘بائی ویربائی جی کاؤس باغ’ پارسی کالونی آج بھی پرانے کراچی کے امن اور صفائی کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے، جہاں اب بھی چند خاندان آباد ہیں۔

    ان کا ورثہ آج بھی کراچی کی روح میں زندہ ہے۔ ‘ماما پارسی گرلز ہائی اسکول’ اور ‘بائی ویربائی سوپاری والا، بی وی ایس پارسی بوائز اسکول’ آج بھی شہر کے ہزاروں مسلم، ہندو اور عیسائی بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارسیوں نے شہر سے صرف لیا نہیں بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے سنوارا ہے۔

    کراچی جب تک قائم ہے، وہ اپنے اس معمار، دیانت دار اور امن پسند طبقے کا قرض دار رہے گا، کیونکہ پارسی صرف ایک برادری کا نام نہیں تھے بلکہ وہ کراچی کی تہذیب، اس کے اخلاق اور اس کے سنہری دور کی علامت تھے۔

  • کراچی کی قدیم مارکیٹس اور ان کے بانی

    کراچی کی قدیم مارکیٹس اور ان کے بانی

    تاریخ کے صفحات جب بھی کراچی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہزاروں سال پرانا یہ بندرگاہی شہر کسی بادشاہ کے فرمان یا کسی فاتح کی تلوار کے سائے میں آباد نہیں ہوا بلکہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون سمندری تجارت، میرٹ اور انتھک محنت کا مرہون منت ہے۔

    اٹھارویں صدی میں لس بیلہ کی قدیم اور مصروف بندرگاہ ‘کھارک بندر’ جب سمندری مٹی کی وجہ سے بتدریج تباہی کا شکار ہوئی اور بحری جہازوں کے لیے ناقابل استعمال ہو گئی تو وہاں کے میانی ماہی گیروں، ہنرمندوں اور تاجروں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ یہ قافلے موجودہ ٹاور، کھارادر اور مٹھادر کی ایک اونچی ٹیکری پر آ کر آباد ہوئے۔

    یہیں سے ‘اولڈ ٹاؤن فصیل’ کی بنیاد پڑی۔ یہ فصیل بند شہر انگریزوں کی آمد سے قبل اپنی دفاعی اور تجارتی حدود کے اندر محدود تھا، لیکن اس کے اندر ایک ایسا معاشی لاوا پک رہا تھا جس نے آگے چل کر برصغیر کی سب سے بڑی غلہ منڈی اور پاکستان کے معاشی انجن کا روپ دھارنا تھا۔

    انگریزوں کی آمد سے قبل بھی اس فصیل بند شہر اور اس کے مضافات میں تجارت کا ایک مربوط نظام قائم تھا۔ یہاں جونا مارکیٹ، مچھی میانی اور جوڑیا بازار جیسی منڈیاں موجود تھیں جہاں اونٹوں کے قافلے شاہراہ ریشم اور دیہی سندھ سے مال لاتے تھے۔

    جب 1839 میں برطانوی راج نے اس شہر کا کنٹرول سنبھالا تو انہوں نے دیکھا کہ یہ شہر ایک سونے کی چڑیا ہے بشرطیکہ اس کے تجارتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ جہاں انگریزوں نے اپنے گورے افسران اور چھاؤنی کے اشرافیہ طبقے کے لیے ایمپریس مارکیٹ جیسی وسیع اور برطانوی طرز تعمیر کی حامل منڈی قائم کی، وہیں انہوں نے مقامی آبادی کے اندر موجود قدیم مارکیٹوں کو نہ صرف جدید کیا بلکہ نئی مارکیٹوں کی بنیاد بھی رکھی۔

    یہ تجارتی دائرہ صرف صدر یا ٹاور تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا پھیلاؤ لیاری، بندر روڈ اور اولڈ ٹاؤن کے چپے چپے تک پھیلا ہوا تھا۔

    کراچی کی تجارتی تاریخ کا پہلا سنگ میل وہ منڈیاں تھیں جو کھارادر، یعنی کھارا دروازہ جو سمندر کی نمکین لہروں کی طرف کھلتا تھا، اور مٹھادر، یعنی مٹھا دروازہ جو لیاری ندی کے میٹھے پانی کے کنوؤں کی طرف کھلتا تھا، کی فصیل کے بالکل سائے میں آباد تھیں۔

    مچھی میانی

    یہ کراچی کی تاریخ کی قدیم ترین مچھلی منڈی تھی جہاں میانی کے ماہی گیر صبح صادق اپنی کشتیاں سمندر میں اتارتے اور تازہ مچھلی کا کاروبار کرتے تھے۔ انگریزوں سے قبل یہ منڈی ایک کچے میدان کی شکل میں تھی، لیکن بعد میں بلدیہ نے اس کے فرش کو پکا کیا اور اسے ایک باقاعدہ تجارتی شناخت دی۔

    جونا مارکیٹ

    جونا کا مطلب ہی ‘پرانی’ ہے۔ یہ اولڈ ٹاؤن کا وہ دل تھا جہاں گجرات، کاٹھیاواڑ اور راجپوتانہ کے تاجر دیسی گھی، اناج، کپاس اور گرم مصالحوں کی آڑھت لگاتے تھے۔ یہ مارکیٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ کراچی انگریزوں کے آنے سے پہلے بھی ایک خود کفیل معاشی اکائی تھا۔

    کھجور بازار

    لیاری کے کناروں اور اولڈ ٹاؤن کے سنگم پر واقع یہ بازار مکران، ایران اور بصرہ سے بحری راستوں اور اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے آنے والی کھجوروں کی سب سے بڑی منڈی تھی۔ اس بازار کو کچھی میمن اور بلوچی تاجروں نے رونق بخشی اور یہ کھجور کی تجارت کا ایسا بین الاقوامی مرکز بنا جہاں سے مال پورے ہندوستان کو سپلائی ہوتا تھا۔

    تھوک تجارت کے مرکز، جوڑیا بازار اور بولٹن مارکیٹ

    جب فصیل کی دیواریں شہر کے بڑھتے ہوئے تجارتی دباؤ کو برداشت نہ کر سکیں اور انہیں مسمار کر دیا گیا تو جوڑیا بازار اور اس کے اطراف کا علاقہ تھوک تجارت کا مرکز بن گیا۔

    یہ مارکیٹ اپنے نام کی طرح ‘جڑی ہوئی’ یا جوڑواں منڈیوں کا مجموعہ تھی۔ یہاں ہندو بیوپاریوں کے علاوہ میمن، خوجہ اور بوہری برادری کے تاجروں نے پنسار، جڑی بوٹیوں، خشک میوہ جات اور کیمیکل کا وہ کاروبار شروع کیا جو آج بھی پورے پاکستان کی تھوک قیمتیں طے کرتا ہے۔

    بولٹن مارکیٹ 1883: انگریزوں نے اولڈ ٹاؤن کے مقامی تاجروں کو ایک چھت تلے لانے کے لیے کراچی بلدیہ کے پہلے کلکٹر اور صدر سی ایف بولٹن کے نام پر اس عظیم الشان مارکیٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ مقامی آبادی کے لیے بنائی گئی پہلی باقاعدہ بلدیاتی مارکیٹ تھی جہاں گوشت، سبزیاں اور پھل تھوک نرخوں پر فروخت ہوتے تھے، جس نے کراچی کے تاجروں کو بین الاقوامی خریداروں سے جوڑ دیا۔

    ٹاور کے قریب کپڑے کی تاریخی منڈیاں اور جیکسن مارکیٹ

    شہر کا پھیلاؤ جیسے ہی بڑھا تو ٹاور اور کیماڑی کے مضافات نئے تجارتی افق بن کر ابھرے۔

    لکشمی داس مارکیٹ اور چاگلہ اسٹریٹ، ٹاور اور نیو چالی کے قریب واقع یہ علاقہ برصغیر میں کپڑے کی تجارت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ بمبئی اور مانچسٹر سے آنے والا کپڑا سب سے پہلے یہیں اترتا تھا۔ یہاں ہندو بھاٹیہ، لوہانا سیٹھوں اور متمول میمن خاندانوں، جیسے چاگلہ برادری، نے عالی شان کپڑا مارکیٹیں قائم کیں۔ یہ مارکیٹیں اتنی بااثر تھیں کہ برصغیر کے دیگر شہروں کے تاجر کپڑے کے دام معلوم کرنے کے لیے کراچی کے ان صرافوں اور سیٹھوں کے خطوط کا انتظار کرتے تھے۔

    جیکسن مارکیٹ

    کیماڑی جیٹی کے بالکل قریب قائم ہونے والی یہ مارکیٹ برطانوی دور کے بندرگاہی انجینئروں اور بحری افسران کی ضروریات کے لیے شروع ہوئی۔ اس کا نام پورٹ ٹرسٹ کے برطانوی عہدیدار جے ای جیکسن کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ مارکیٹ بحری جہازوں کے عملے، غیر ملکی مصنوعات، برقی آلات اور کسٹم کے اسکریپ کی خرید و فروخت کا ایک منفرد مرکز بنی جس نے ساحلی معیشت کو نئی زندگی دی۔

    حسن علی ہوتی مارکیٹ اور ہندو، پارسی مخیر حضرات کا کردار

    کراچی کو ‘عروس البلاد’ بنانے میں یہاں کی مقامی ہندو، پارسی اور مسلم شخصیات نے اپنی جیبوں سے فنڈز دیے اور زمینیں وقف کیں۔

    حسن علی ہوتی مارکیٹ، رنچھوڑ لائن، تاریخی مارکیٹ 1926 میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رنچھوڑ لائن، گزدر آباد، میں برنس اسٹریٹ اور نبی بخش روڈ کے کونے پر واقع ہے۔ حسن علی ہوتی نے اس مارکیٹ کی تعمیر کے لیے اپنی ذاتی زمین وقف کی تھی۔ گوتھک طرز تعمیر پر مبنی یہ مارکیٹ وی کی شکل میں دو بلاکس پر مشتمل ہے اور اپنے دور میں ایمپریس مارکیٹ جتنی ہی شاندار سمجھی جاتی تھی۔ یہ مارکیٹ رنچھوڑ لائن کے لوہاروں، سنگ تراشوں اور ہنرمندوں کا معاشی مرکز بنی جہاں روزمرہ کا راشن اور ہارڈ ویئر کا سامان تھوک نرخوں پر ملتا تھا۔

    سیٹھ ناؤمل ہوتچند

    انگریزوں کی آمد سے قبل اور بعد میں اس ہندو تجارتی شخصیت نے شاہی بازار اور جوڑیا بازار کے ابتدائی ڈھانچے میں ہندو بنیا اور مارواڑی تاجروں کو متحرک کیا اور بندرگاہ کے ذریعے تجارت کو فروغ دیا۔

    بائی جیونی بائی اور پارسی اشرافیہ

    سولجر بازار اور اس کے گرد و نواح میں مارکیٹیں قائم کرنے میں پارسی برادری کا بڑا ہاتھ تھا۔ بائی جیونی بائی نے مقامی لوگوں کے لیے راشن اور سبزی مارکیٹ کے لیے زمین اور فنڈز وقف کیے۔ اسی طرح ایڈلجی ڈنشا نے اولڈ ٹاؤن کے اطراف میں تجارتی گوداموں کے لیے اراضی فراہم کی۔

    جمشید نسروانجی

    کراچی کے پہلے میئر جنہوں نے پارسی برادری سے تعلق ہونے کے باوجود اولڈ ٹاؤن کی ان تمام قدیم مارکیٹوں کو سڑکوں، پینے کے پانی اور نکاسی آب کے جدید نظام سے جوڑا تاکہ مقامی تاجروں کو بمبئی جیسی سہولیات مل سکیں۔

    صدر سے باہر کا پھیلاؤ، لی مارکیٹ اور کھوڑی گارڈن

    برطانوی راج کے دوران یہ تاثر عام تھا کہ انگریز صرف چھاؤنی اور صدر کو ترقی دے رہے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مقامی آبادی کے لیے صدر سے باہر بھی بڑے معاشی مراکز قائم کیے گئے۔

    لی مارکیٹ 1927، لیاری اور اولڈ ٹاؤن کے سنگم پر واقع یہ مارکیٹ کراچی بلدیہ کے انجینئر ہیرالڈ فلپ لی کے نام پر بنائی گئی تھی۔ اس کا شاندار کلاک ٹاور اور اہرام نما چھتیں آج بھی گواہ ہیں کہ یہ ان غریب لاسی ماہی گیروں، مزدور پیشہ کچھیوں اور بلوچوں کے لیے بنائی گئی تھی جو صدر کی مہنگی ایمپریس مارکیٹ کا رخ نہیں کر سکتے تھے۔

    کھوڑی گارڈن اور پنسار مارکیٹ، صرف ایک باغ نہیں تھا بلکہ اس کے اطراف دیسی ادویات، مصالحوں اور شاہراہ ریشم سے آنے والے مال کا ایک بڑا تجارتی مرکز تھا جہاں روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا۔

    لیمبرٹ مارکیٹ، نیو چالی اور لائٹ ہاؤس کے تجارتی افق

    بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، کے دونوں اطراف قائم ہونے والی مارکیٹوں نے کراچی کو ایک بین الاقوامی بندرگاہی شہر میں تبدیل کر دیا۔

    لائٹ ہاؤس اور کباڑی بازار، جہازوں سے اترنے والے اسکریپ، لوہے کے کباڑ اور پرانے کپڑوں کی منڈی بن گیا جس نے مقامی غریب اور متوسط طبقے کو سستا خام مال فراہم کیا۔

    نیو چالی اور دال بازار، جو غلہ منڈی اور اناج کے کاروبار کا وہ نیا مرکز تھا جو بندرگاہ کے قریب ہونے کی وجہ سے ہندو لوہانا، بھاٹیہ اور مسلم تاجروں نے قائم کیا تاکہ درآمد و برآمد کی دستاویزات جلد مکمل ہو سکیں۔

    لیمبرٹ مارکیٹ کا نام 1867 میں کراچی کے ضلعی مجسٹریٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برطانوی افسر ڈبلیو آر لیمبرٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 1919 کے صوبہ سندھ کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق کبوتر خانے کی طرز پر تعمیر کی گئی یہ مارکیٹ شہریوں کو اشیائے خوردونوش فراہم کرتی تھی، مگر بدقسمتی سے دہائیوں قبل اس تاریخی مارکیٹ کو مسمار کر دیا گیا۔ اگرچہ اس کے اطراف آج بھی کئی تاریخی عمارتیں موجود ہیں، لیکن خود یہ مارکیٹ ختم ہو چکی ہے۔ 1950 تک یہ مارکیٹ کراچی کی نمایاں تجارتی شناخت میں شامل تھی۔ اس کے اطراف دواؤں اور جراحی کے سامان کی دکانیں قائم ہوئیں جن کے قیام میں ہندو تاجروں کی سرمایہ کاری شامل تھی۔

    مصلحت کی دھوپ اور اجڑی ہوئی تاریخ کا مزار

    آج جب ہم کراچی کی ان قدیم مارکیٹوں، ان کے بانیوں اور ان کے شاندار ماضی کو دیکھتے ہیں تو موجودہ کراچی کا منظر دل کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔ وہ شہر جسے پارسیوں، ہندوؤں اور میمنوں نے اپنے خون پسینے سے سینچا، جہاں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر میرٹ کی بنیاد پر مارکیٹیں قائم کی گئیں، وہ آج بدترین طرز حکمرانی اور سیاسی کشمکش کے باعث زوال کا شکار نظر آتا ہے۔

    انگریز دور کے ٹھیکیداری نظام میں اگر کوئی بدعنوانی کرتا تھا تو اسے بلیک لسٹ کر دیا جاتا تھا، مگر آج یونیورسٹی روڈ ہو یا اولڈ ٹاؤن کی گلیاں، ہر ترقیاتی فنڈ کا ایک بڑا حصہ بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے اور ہر مون سون میں یہ تاریخی بازار زیر آب آ جاتے ہیں۔ کراچی کی ان مارکیٹوں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شہر سرکاری کوٹوں یا لسانی بیانیوں سے نہیں بلکہ میرٹ، قانون کی حکمرانی اور خلوص نیت سے بنتے ہیں۔ جب تک ہم ان بانیوں کے نقش قدم پر چل کر اس شہر کو اس کا حق نہیں دیں گے، تب تک معاشی انصاف کا یہ خواب ادھورا ہی رہے گا۔

    پامال کر دیا ہے جنہیں مصلحت کی دھوپ نے

    وہ ڈھونڈ رہے ہیں شجر سایہ دار اب

  • قدیم کراچی کا جم خانہ کلچر: صحت مند زندگی، بین المذاہب مقابلے اور اراضی کے المیے

    قدیم کراچی کا جم خانہ کلچر: صحت مند زندگی، بین المذاہب مقابلے اور اراضی کے المیے

    انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں کراچی صرف بمبئی پریزیڈنسی کے ایک ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت نہیں بنا رہا تھا، بلکہ یہاں کی شہری زندگی میں کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کو ایک بنیادی سماجی حیثیت حاصل تھی۔
    اس دور کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ یہاں کی متنوع برادریاں الگ تھلگ رہنے کے بجائے اپنے اپنے جم خانوں (کھیلوں کے کلب) کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتی اور مکالمہ کرتی تھیں۔ یہ میدان برصغیر کے مشہور ‘پینٹینگولر (پنج روزہ) کرکٹ ٹورنامنٹس’ کے ذریعے آپسی رواداری، یکجہتی اور شدید مگر صحت مند مقابلوں کا سب سے بڑا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    ان مقابلوں میں برادریوں کی بنیاد پر ٹیمیں (یورپین، پارسی، ہندو اور مسلم الیون) بنتی تھیں، جنہیں پورا کراچی دیکھنے امنڈ آتا تھا۔

    کراچی جم خانہ (1886): کرکٹ کا سنہری دور

    کلب روڈ پر کمشنر ہاؤس کے سامنے واقع ‘کراچی جم خانہ’ کی بنیاد 1886 میں رکھی گئی اور اس کی مرکزی عمارت و پویلین کی تعمیر 1890 میں مکمل ہوئی۔ یہ برصغیر میں کرکٹ، ہاکی، پولو اور بیڈمنٹن کا تاریخی مرکز رہا ہے۔ اس گراؤنڈ کو برصغیر کی کرکٹ کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہے جو راولپنڈی کے پنڈی کلب یا لاہور کے باغ جناح (سابقہ لاورنس گارڈنز) کو حاصل ہے۔

    1926 سے 1986 تک اس میدان نے متعدد فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا اور یہ شہر میں کھیلوں کی اشرافیہ کا سب سے بڑا گڑھ رہا۔

    کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ:

    کراچی کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پارسی تاجروں نے 1893 میں ‘پارسی جم خانہ’ (موجودہ کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ) کے نام سے شہر کے مرکز میں اس شاندار گراؤنڈ کی بنیاد رکھی۔ یہ میدان کراچی میں رواداری اور سیکولر کھیلوں کی زندگی کی سب سے بڑی علامت تھا، جہاں پارسی، ہندو، مسلمان اور انگریز ٹیمیں باقاعدگی سے میچ کھیلتی تھیں اور نوجوانوں کو اتھلیٹکس اور تیراکی کی جدید سہولیات میسر تھیں۔

    آغا خان جم خانہ:

    1902 میں سلطان محمد شاہ (آغا خان سوم) کی کراچی آمد کے ساتھ اسماعیلی برادری نے اس جم خانہ گارڈن کو آباد کیا۔ اس کلب نے کراچی کے گنجان علاقوں کے مسلم نوجوانوں میں فٹ بال، کرکٹ اور ٹینس کو مقبول بنانے میں تاریخی اور انقلابی کردار ادا کیا۔

    حاجی عبداللہ ہارون مسلم جم خانہ

    مسلم کمیونٹی کی کھیلوں اور سماجی زندگی کا اصل مرکز ثقل ‘مسلم جم خانہ’ تھا، جس کا باقاعدہ قیام 1927 میں کراچی کی مایہ ناز فلاحی، تجارتی اور سیاسی شخصیت ‘سر حاجی عبداللہ ہارون’ کی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ اس جم خانہ کا مقصد مسلم نوجوانوں میں ‘مہارت، صحت اور تنظیم’ کے فروغ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔

    مسلم جم خانہ اور اس کے پینٹینگولر میچز محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ایسے نامور کھلاڑی پیدا کیے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کی نوزائیدہ کرکٹ کی بنیاد رکھی۔

    میاں محمد سعید، مسلم جم خانہ کے کلچر کی پیداوار، جنہوں نے 1948 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی پہلی (غیر سرکاری) ٹیم کی تاریخی کپتانی کا اعزاز حاصل کیا۔

    نذر محمد، مسلم الیون کے مایہ ناز اوپنر، جنہوں نے 1952 میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی سرکاری ٹیسٹ سنچری (124 رنز ناٹ آؤٹ، بھارت کے خلاف) اسکور کی اور پچ پر ‘کیریئنگ دی بیٹ’ کا اعزاز پایا۔

    انوار حسین، پینٹینگولر میچز کے دور کے بہترین آل راؤنڈر، جو 1952 میں پاکستان کے پہلے باقاعدہ ٹیسٹ میچ میں عبدالحفیظ کاردار کے نائب کپتان تھے۔

     ہندو جم خانہ

    ہندو جم خانہ کراچی کی تاریخ کا ایک عظیم الشان معمارانہ شاہکار ہے، لیکن تقسیم کے بعد اس کی داستان انتہائی تلخ رہی ہے۔

    سرور شہید روڈ پر واقع یہ عمارت کراچی کی پہلی عوامی تعمیر تھی جس میں ‘راجپوت۔مغل احیائی طرز تعمیر’ اپنایا گیا۔ اس کے کلاک ٹاور اور چھتریوں کا ڈیزائن آگرہ میں واقع ‘اعتماد الدولہ کے مقبرے’ سے لیا گیا تھا۔ اسے سیٹھ رام گوپال گوردھن داس موہاٹا اور ہندو برادری نے 47 ہزار مربع گز کے وسیع رقبے پر قائم کیا تھا۔

    اراضی کا المیہ اور قانونی جنگ:

    1947 کے بعد یہ عمارت متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس آئی۔ افسوسناک طور پر، 1978 میں اس کی 60 فیصد زمین پولیس ڈیپارٹمنٹ کو، چھ ہزار گز وفاقی پبلک سروس کمیشن کو اور 3500 گز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو الاٹ کر دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 47 ہزار مربع گز کا یہ تاریخی جم خانہ سکڑ کر صرف 4 ہزار 500 مربع گز رہ گیا۔

    موجودہ حالت:

    2005 میں یہ عمارت ‘ناپا’ کو 30 سالہ لیز پر دی گئی، جس کے خلاف ہندو برادری 2007 سے سپریم کورٹ تک قانونی جنگ لڑ رہی ہے تاکہ اس عمارت کا اصل مائیکرو ثقافتی اور کمیونٹی مقصد بحال کیا جا سکے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ قدیم کراچی کے یہ جم خانے اس بات کی زندہ گواہی ہیں کہ یہ شہر ہمیشہ سے صحت مند، متحرک اور روادار لوگوں کا مسکن رہا ہے۔ یہ کلب صرف کھیلوں کے میدان نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے ادارے تھے۔

    آج جہاں مسلم اور ہندو جم خانہ کا اصل ریکارڈ اور اراضی بکھر چکی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی جم خانہ اور کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ جیسے فعال اداروں کے تاریخی کھیلوں کے ریکارڈ کو سرکاری سطح پر دستاویزی شکل دی جائے اور ہندو جم خانہ جیسے شاہکاروں کی اراضی کو مزید پامال ہونے سے بچایا جائے، تاکہ پرانے کراچی کا یہ روشن اور صحت مند چہرہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔

  • شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    شری سوامی نرائن مندر اور کراچی کا لازوال کثیر الثقافتی ورثہ

    انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب کراچی بمبئی پریزیڈنسی کے تحت برصغیر کا ایک جدید تجارتی مرکز بن رہا تھا تو اس کی شناخت ایک کثیر الثقافتی سماج کے طور پر ابھری۔ پرانے کراچی کا مزاج مغل یا شاہی اثرات سے آزاد تھا۔ یہاں کی تعمیرات اور سماجی انفراسٹرکچر پر کلاسک گجراتی، اینگلو ورناکولر اور تاجر برادریوں کی فلاحی جمالیات کا گہرا اثر تھا۔

    جہاں اس شہر کے تجارتی قلب اور بحری حدود میں مختلف مسلم مکاتب فکر کی مساجد، جیسے منوڑہ کی کوکنی شافعی مسجد، صدر کی کچھی میمن مسجد اور اولڈ ٹاؤن کی ملاباری مسجد، مسیحیوں کے گرجا گھر اور یہودی سینیگاگ تعمیر ہو رہے تھے، وہیں ہندو تاجر برادری نے بھی شہر کے مرکزی ہائی وے، ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر اپنی عظمت اور رواداری کے لازوال نشان قائم کیے۔

    انہی میں سب سے نمایاں اور تاریخی شاہکار کراچی میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر کے عین سامنے واقع شری سوامی نرائن مندر ہے۔ کراچی کے قلب میں واقع یہ ایک ایسا انسانی جزیرہ ہے جہاں پچھلے پونے دو سو سالوں سے ہندو، سکھ، مسلم اور مسیحی ایک جگہ بیٹھ کر کھانا کھاتے آئے ہیں اور جس کو 1947 کے بعد چاروں جانب سے کمرشل دکانوں نے گھیر کر اس کے اصل حسن کو گہنا دیا ہے۔

    مندر کی زمین کا حصول اور ابتدائی نقشہ سن 1849 کا ہے (جو چارلس نیپئر کے ہاتھوں سندھ کی فتح کے محض چھ سال بعد کا دور ہے)، جبکہ اس کے موجودہ شاندار ڈھانچے اور ‘شکھر’ (مخروطی پیرامڈ نما چھت) کی توسیع 1882 میں کی گئی۔ یہ پاکستان کا واحد مستقل فعال ہندو مت کے دیوتا سوامی نرائن کا مندر ہے۔

    معمارانہ لحاظ سے یہ فن تعمیر کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر کے لیے ٹھٹہ کے تاریخی مقام جنگ شاہی سے خصوصی پیلا پتھر لایا گیا تھا، کیونکہ یہ پتھر آریہ اسٹائل کے گنبدوں پر دیوی دیوتاؤں کے باریک مجسموں اور جالیوں کی نقش تراشی کے لیے موزوں ترین پتھر سمجھا جاتا ہے۔ مندر کے مرکزی ستون پر ہاتھ سے تراشی گئی ہندو مت کے دیوتا کرشن کی داستانی پینٹنگ اس دور کے مٹی کے فنکاروں کی جمالیاتی حس کا ثبوت ہے۔

    سوامی نرائن مندر صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ 32306 مربع گز پر پھیلا ہوا ایک مکمل مائیکرو کاسم (چھوٹا جہاں) اور ڈیڑھ صدی سے زائد پرانی برادری کا مسکن ہے۔ اس احاطے کی سماجی جغرافیہ کے چند منفرد رخ یہ ہیں۔

    ہندو سکھ بقائے باہمی

    اس احاطے میں ڈیڑھ صدی پرانے گھروں میں سناتن دھرمی ہندو برادری آباد ہے، اسی رہائشی کامپلیکس کے اندر ہندو مندر کے ساتھ ہی سکھ گردوارہ بھی قائم ہے، جو تقسیم ہند کے وقت سے پنتھ وادی سکھ اور سناتنی ہندو بھائی چارے کی خاموش علامت ہے۔

    شہری گوشالہ

    ایم اے جناح روڈ کی پرشور ٹریفک کے عین وسط میں اس مندر کی اپنی ایک قدیم گوشالہ ہے، جہاں گائے رکھی جاتی ہیں اور ان کی روایتی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔اس رہائشی کالونی اور مختلف علاقوں سے لوگ آکر گائے کو کھانا کھلاتے ہیں۔

    روحانی پورٹ

    یہ مندر بلوچستان کی ہزاروں سالہ قدیم اور دریائے ہنگول کی پہاڑیوں میں واقع مقدس ہنگلاج نانی مندر کی ‘ہنگلاج یاترا’ کا روایتی نقطۂ آغاز ہے، جہاں پورے ملک سے یاتری آ کر دھرم شالہ میں قیام کرتے ہیں۔ بھر یہاں سے ہنگلاج کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

    1947 کی دکانیں اور گمشدہ حسن

    1849 کا یہ پیلا شاہکار آج بیرونی دنیا سے تقریباً کٹ چکا ہے۔ 1947 میں آزادی کے فوراً بعد مہاجرین کی آباد کاری کے لیے لائٹ ہاؤس سے سٹی کورٹ کے فرنٹ اور عقب میں فریئر روڈ پر جو عارضی دکانیں قائم کی گئی تھیں، انہوں نے وقت کے ساتھ مستقل بازاروں کی شکل اختیار کر لی۔ ان دکانوں کے ہجوم نے مندر کے بیرونی حسن اور اس کے شاندار اگواڑےکو عام نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔

    اس مندر کے وسیع میدان اور دھرم شالہ نے تاریخ کے ہر کٹھن دور میں انسانوں کو پناہ دی۔

    تقسیم ہند 1947 کے دوران ریفوجی کیمپ

    آزادی کے خونی دنوں میں یہ احاطہ ہجرت کرنے والے لاکھوں ہندو اور سکھ خاندانوں کے لیے ریفیوجی کیمپ بنا، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود دورہ کر کے اقلیتوں کو تحفظ اور مساوی حقوق کا دلاسہ دیا۔

    1980 کی دہائی میں احترام رمضان آرڈیننس اور ڈاؤ یونیورسٹی کے طلبہ کا میس

    سابق فوجی آمر ضیا کے دور میں جب احترام رمضان آرڈیننس کے تحت پورے شہر میں کھانے پینے پر سخت پابندیاں تھیں اور سامنے واقع ڈاؤ میڈیکل کالج کا ہاسٹل میس بند ہو جاتا تھا، تو اس مندر کے لنگر نے مسلم اور غیر مسلم طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ وہاں ملنے والا سستا اور لذیذ سبزیاں اس دور کی گھٹن میں کراچی کی خاموش رواداری کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

    بین المذاہب لچک اور سماجی خدمت

    جہاں یہ مندر اپنے روایتی لنگر کے لیے مشہور ہے، وہیں اس احاطے کا سب سے منفرد ریسٹورنٹ ہے، جہاں صرف سبزیاں ملتی ہیں۔ کھانے پینے کی ہندو مذہبی ممانعتوں اور صحت و صفائی کے اصولوں کے عین مطابق یہاں گوشت کے بغیر انتہائی لذیذ، صاف ستھرا اور سادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ریسٹورنٹ کراچی کے غریب اور محنت کش مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو سستے ترین نرخوں پر کھانا فراہم کرتا ہے۔

    مندر کے احاطے میں اس ریسٹورنٹ کا ہونا اور وہاں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں کا بلا جھجک آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مندر صرف ایک سخت گیر مذہبی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ کراچی کا ایک متحرک سماجی مرکز ہے، جہاں سستا اور معیاری کھانا فراہم کرنا ایک ایسی فلاحی خدمت ہے جو شہر کے محنت کش طبقے کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے ایک میز پر اکٹھا کرتی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ آج یہ احاطہ تقریباً پانچ ہزار ہندو اور سکھ آبادی کا مسکن ہے، جہاں دیوالی اور ہولی جیسے تہوار پورے کراچی کے لیے روشنیوں کا پیغام لاتے ہیں۔ اگرچہ پچھلی چند دہائیوں میں تجاوزات کی وجہ سے اس کا رقبہ متاثر ہوا ہے، لیکن یہ احاطہ آج بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور غریب پروری کا ایک گراں قدر ہیریٹیج ہے۔

    اس 32 ہزار مربع گز کے تاریخی مائیکرو کاسم کو آثار قدیمہ کا باقاعدہ درجہ دے کر اس کی دکانوں کے پیچھے دبی بیرونی دیواروں کی تاریخی اور سائنسی بحالی کی جائے، تاکہ پرانے کراچی کا یہ شفیق اور روادار چہرہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔

  • سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    سن 1893 میں بنی صدر کی تاریخی کچھی میمن مسجد: کراچی کے قلب میں اسلامی فنِ تعمیر اور مسلم شناخت کا مینار

    نوآبادیاتی دور میں کراچی کا نقشہ اگر دیکھا جائے، تو یہ شہر مختلف برادریوں کا گلدستہ تھا۔ موجودہ دور کا مصروف ترین تجارتی مرکز ‘صدر’ برطانوی راج کے دوران بنیادی طور پر مسلمان، مسیحی، پارسی، یہودی اور ہندو برادریوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، جہاں سینٹ پیٹرک کیتھڈرل، کٹراک ہال اور جودھا مل جیسے نامور مندر اور عبادت گاہیں تعمیر ہو رہی تھیں۔

    ایسے میں صدر کے قلب میں واقع راجہ غضنفر علی روڈ پر ایک ایسی عمارت کی بنیاد رکھی گئی جس نے نہ صرف خطے میں اسلامی فنِ تعمیر کی لاجواب چھاپ چھوڑی، بلکہ صدر میں کچھی مسلم کمیونٹی کی مذہبی اور سماجی شناخت کو بھی مستحکم کیا۔ یہ عمارت ‘تاریخی کچھی میمن مسجد’ ہے۔

    اس تاریخی مسجد کی بنیاد 1893 میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران رکھی گئی، جو اسے کراچی شہر کی قدیم ترین اور فعال ترین مساجد میں سے ایک بناتی ہے۔ اس کی تعمیر کا سہرا کراچی میں آباد ‘کچھی میمن’ برادری کے سر ہے۔

    یہ وہ دور اندیش کاروباری برادری تھی جو قیامِ پاکستان سے کئی عشروں قبل ہی گجرات کے ساحلی علاقے ‘کچھ’ (Kutch) سے ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئی تھی اور شہر کے تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی تھی۔

    اس دور میں صدر کے تجارتی علاقے میں مسلم ملازمین اور تاجروں کے لیے باجماعت نماز اور اذان کا کوئی مستقل گڑھ موجود نہ تھا، جس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس برادری نے زمین حاصل کر کے اس پختہ مسجد کی بنیاد رکھی۔

    ثقافتی اور تعمیراتی لحاظ سے یہ مسجد گزری کے پیلے پتھر سے تیار کردہ کلاسیکی نوآبادیاتی طرز اور روایتی اسلامی فنِ تعمیر کا ایک حسین سنگم ہے۔

    جبکہ مسجد کے بیرونی حصے اور محرابوں پر جودھپوری اور مقامی راجگیروں کے ہاتھ کی خوبصورت نقش و نگار اور خطاطی دیکھی جا سکتی ہے۔

    مسجد کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا پستہ ہرا رنگ کا اندرونی دالان ہے۔

    رنگین شیشے: مسجد کی کھڑکیوں میں نوآبادیاتی دور کا خاصہ سمجھے جانے والے روایتی رنگ برنگے شیشے نصب ہیں، جن سے چھن کر آنے والی روشنی مسجد کے ماحول کو ایک روحانی اور صدی پرانا تاریخی لمس بخشتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اندرونِ مسجد نصب قدیم کلاک اور نوادرات آج بھی جوں کے توں محفوظ ہیں۔

    جدت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اگرچہ اب اس کے مرکزی دروازے پر نماز کے اوقات بتانے والا ایک جدید ڈیجیٹل بورڈ نصب کر دیا گیا ہے، مگر اس کا اصل تاریخی ڈھانچہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔

    یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں رہی، بلکہ اس نے کراچی کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کو بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مایہ ناز مذہبی و سیاسی شخصیت، مفسرِ قرآن اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اسی مسجد کے جوار (قرب و جوار) میں گزارا۔

    انہوں نے ایک طویل عرصے تک اس منبر و محراب سے امامت، خطابت اور درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے، جس کی وجہ سے یہ مسجد تحریکِ ختمِ نبوت اور ملک کی سیاسی بیداری کا ایک اہم مرکز بنی رہی۔

    اگرچہ کچھی میمن برادری کا پاکستان سے قبل کا ایک اور بڑا مرکز آرام باغ (پرانا گاڑی کھاتا) میں بھی واقع ہے، لیکن صدر کی یہ کچھی میمن مسجد اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، بازار کے بیچوں بیچ قائم ہونے اور اپنے پرسکون نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی وجہ سے کراچی کا ایک انمول تاریخی ورثہ ہے۔

    صدر کی بھیڑ بھاڑ میں یہ مسجد آج بھی 1893 کے کراچی کی امن پسندی اور خوبصورتی کی گواہی دیتی کھڑی ہے۔

  • گل حسن کلمتی: کراچی کی تاریخ، تہذیب اور عوامی جدوجہد کا امین

    گل حسن کلمتی: کراچی کی تاریخ، تہذیب اور عوامی جدوجہد کا امین

    سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مقامی آبادیوں اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کراچی بحریہ ٹاؤن کے خلاف چھ جون 2021 کو  ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں صوبے بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

    مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مقامی لوگوں کی زمینیں غیر قانونی طور پر ہتھیائی جا رہی ہیں اور انہیں اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

    پرامن دھرنا جاری تھا اور سندھی میڈیا اور کچھ نیشنل ٹی وی چینلز اس کو کور کر رہا تھا۔ پھر اچانک ہزاروں کے دھرنے میں بھگدڑ مچ گئی۔ بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے پر کچھ شرپسندوں نے آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔

    پولیس کو کارروائی کرنی پڑی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ آگ نے پورے گیٹ کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بڑی تعداد میں احتجاجی کارکن واپس جانا شروع ہوگئے۔ مگر پھر پولیس نے احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔

    احتجاجی دھرنے کے رہنماؤں کا الزام تھا کہ پرامن احتجاج کو بدنام اور ناکام بنانے کے لیے یہ کارروائیاں بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور بعض ریاستی اداروں کے ایجنٹوں نے کیں۔

    واقعے کے بعد متعدد قوم پرست کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ان گرفتار افراد میں دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے مرکزی رہنما گل حسن کلمتی بھی شامل تھے، جنہیں پولیس نے مقامی آبادیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں نشانہ بناکر دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔

    یہ واقعہ گل حسن کلمتی کی عوامی جدوجہد اور سندھ کے مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے ان کی عملی وابستگی کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

    2019 میں مشہور آرکیٹیکٹ اور محقق عارف حسن کی تحقیق کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے زیرِ استعمال زیادہ تر زمین صدیوں سے مقامی دیہاتیوں اور مال مویشی پالنے والی برادریوں کی ملکیت تھی۔

    تاہم بااثر سیاسی شخصیات اور طاقتور حلقوں نے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر اور ان کے گھروں کو مسمار کرکے یہ زمینیں زبردستی حاصل کیں۔

    اس عمل کے نتیجے میں 40 سے زائد دیہات متاثر ہوئے اور ہزاروں افراد کو اپنی زمینوں اور گھروں سے محروم ہونا پڑا۔

    ان کی تحقیق کے مطابق مقامی آبادیوں کی اس بے دخلی میں پولیس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بحریہ ٹاؤن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کئی تاریخی مزارات، مندروں اور ثقافتی ورثے کے دیگر مقامات کو بھی بلڈوز کر دیا گیا۔

    یہ تمام عمل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی معاونت سے انجام دیا گیا، جس کے دوران ملیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کے تحت 2006 میں منظور کردہ پلاٹوں کی تقسیم کے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس کے علاوہ 1912 کے کالونائزیشن ایکٹ کی دفعہ 17 کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

    گل حسن کلمتی کے قریبی ساتھی اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ کے مطابق، گل حسن کلمتی 2013 سے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مقامی آبادیوں پر ہونے والے مظالم اور زمینوں پر قبضوں کے خلاف سرگرم تھے۔ کراچی انڈیجینس رائٹس الائنس جو بعد میں سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس بنا، کے قیام میں بھی وہ بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔

    کلمتی اپنی وفات تک الائنس کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے فرائض انجام دیتے رہے اور ملیر، گڈاپ اور دیگر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے زمین، وسائل اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

    حفیظ بلوچ، جو کہ کلمتی کے انتقال کے بعد، آج کل الائنس کے سیکریٹری جنرل ہیں، بتاتے ہیں کہ گل حسن کلمتی کراچی بحریہ ٹاؤن کو ’بھیڑیا ٹاؤن‘ کہا کرتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف بحریہ ٹاؤن، مگر ڈی ایچ اے سٹی ملیر و گڈاپ ٹاؤن کی کئی اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں اور منصوبوں کے خلاف بھی تحریک چلائی۔ 

    کلمتی کے بحریہ ٹاؤن مخالفت کی ایک اور بڑی وجہ اس کی انتظامیہ کی جانب سے سندھ کے تاریخی آثاروں کی تباہی بھی تھا۔ گل حسن کلمتی کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں بدھ مت کے آثار اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے قیام گاہ (تکیہ) کے نشانات موجود تھے۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ بدھ مت کے یہ تاریخی آثار اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تکیہ اب بحریہ ٹاؤن کی تعمیرات کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ جہاں آج بحریہ ٹاؤن کی عظیم الشان مسجد (گرینڈ مسجد) تعمیر کی گئی ہے، وہی مقام دراصل شاہ عبداللطیف بھٹائی کے تکیے کی جگہ تھی۔ گل حسن کلمتی کا کہنا تھا کہ گرینڈ مسجد کی تعمیر کے دوران اس تاریخی مقام کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور اس کے تمام آثار ختم ہو گئے۔

    گل حسن کلمتی کے مطابق اگر آپ بحریہ ٹاؤن کے پہلے مرحلے میں جاتے تو وہاں جبلِ پیارو نامی تاریخی پہاڑی موجود تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنے کلام میں پیارو پہاڑی کا ذکر کیا ہے کیوں کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی کی شاعری میں ذکر کیے جانے والے محبوب کی داستان سسی، پُنہوں داستان کی کردار سسی اپنے محبوب پنہوں کی تلاش میں ہوت قبیلے کے نشانات کا پیچھا کرتی ہوئی اسی راستے سے گزری تھی۔

    ایک محقق اور ادیب

    ‘کراچی کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا’ کے نام سے جانے جانے والے گل حسن کلمتی صرف مزاہمتی تحریک کے رہنما نہیں تھے، وہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب، محقق، دانشور بھی تھے۔ ان کی کئی کتابیں کراچی کی تاریخ، سندھ کے تاریخی مقامات اور سندھ کے ساحلی علاقوں اور جزیروں پر چھپ چکی ہیں۔

    گل حسن کلمتی صرف ایک مصنف یا مورخ نہیں تھے بلکہ کراچی کی تاریخ، ثقافت، آثارِ قدیمہ، مقامی آبادیوں، ساحلی علاقوں اور سندھ کی تہذیبی وراثت کے محافظ سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اکثر ‘کراچی کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا’ کہا جاتا تھا کیونکہ شہر کی تاریخ، قدیم بستیوں، آثارِ قدیمہ، جزائر اور مقامی برادریوں کے بارے میں ان کے علم کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

    گل حسن کلمتی پانچ جولائی 1957 کو کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن کے گاؤں اراضی بلوچ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک عام متوسط گھرانے سے تھا، مگر بچپن ہی سے انہیں تاریخ، ثقافت اور عوامی مسائل سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے سندھ مسلم آرٹس اینڈ کامرس کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جامعہ کراچی سے 1983 میں صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے سندھی ادب میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے میں کام کیا اور لیاری کے ایک اسکول میں استاد رہے۔ بعد میں وہ سندھ کے بلدیاتی نظام سے وابستہ ہوئے، لیکن سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کی اصل شناخت تحقیق، تحریر اور سماجی جدوجہد بنی۔

    گل حسن کلمتی کی سیاسی زندگی نوجوانی میں ہی شروع ہوگئی تھی۔ طالب علمی کے دور میں وہ ترقی پسند طلبہ سیاست سے وابستہ رہے۔ انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف ترقی پسند تحریکوں میں کردار ادا کیا۔ وہ سندھ کے قومی اور جمہوری حقوق کی تحریکوں سے بھی جڑے رہے۔ ان کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عوامی حقوق، ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے تھی۔

    کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف اخباروں اور آن لائن ویب سائٹس کے لیے کالم اور بلاگ لکھتے رہے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی کراچی کے چپے چپے کے بارے میں معلومات تھی جن پر انہوں نے تفصیل سے کتابیں لکھیں۔

    کراچی میں زمینوں پر قبضوں، مقامی آبادیوں کی بے دخلی اور ساحلی علاقوں کی تباہی کے خلاف انہوں نے بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ کراچی صرف عمارتوں اور سڑکوں کا نام نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیب، ثقافت اور انسانی تاریخ کا شہر ہے۔ اسی لیے انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مقامی آبادیوں کی بے دخلی کے خلاف بھی جدوجہد کی۔

    گل حسن کلمتی کی سب سے بڑی پہچان ان کی تحقیقی اور ادبی خدمات ہیں۔ انہوں نے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی بیشتر تصانیف کراچی، سندھ کے ساحلی علاقوں، جزائر، آثارِ قدیمہ اور تاریخی شخصیات پر مبنی ہیں۔ ان کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف کتابی معلومات پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ خود میدان میں جا کر تحقیق کرتے، لوگوں سے ملتے، قدیم مقامات کا دورہ کرتے اور پھر اپنی مشاہداتی تحقیق کو قلم بند کرتے تھے۔

    کراچی: سندھ جی مارئی

    گل حسن کلمتی کی سب سے مشہور کتاب ‘ کراچی: سندھ جی مارئی‘ ہے، جس کا انگریزی میں ترجمہ Karachi: Glory of the East کے نام سے ہوچکا ہے۔اس کتاب کو کراچی کی تاریخ پر ایک مستند دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کراچی کی قدیم تاریخ، بندرگاہی حیثیت، مختلف ادوار کی تہذیبی تبدیلیوں، آبادیوں کی نقل و حرکت، نوآبادیاتی دور اور جدید شہری ترقی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کراچی کو صرف ایک جدید میگا سٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی اور تہذیبی مرکز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

    یہ کتاب صرف کراچی کی تاریخ نہیں بلکہ اس کی تہذیبی شناخت اور اجتماعی یادداشت کو محفوظ کرنے کی ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اس کتاب کی تیاری کے لیے گل حسن کلمتی نے کئی برس تحقیق کی۔ انہوں نے قدیم دستاویزات، سرکاری ریکارڈ، تاریخی حوالوں اور مقامی روایات کو یکجا کرکے کراچی کی ایسی تاریخ مرتب کی جو عام طور پر دستیاب نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہ کتاب محققین، طلبہ اور کراچی کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم حوالہ بن گئی۔

    انہوں نے کتاب کا مقدمہ ‘وطن سے ہمارے پیمانِ وفا کو زیرِ مت کریں’ کے عنوان سے تحریر کیا، مگر کتاب کے تقریباً چار سو صفحات دراصل اسی عہدِ وفا کی عملی تفسیر معلوم ہوتے ہیں۔ سیکڑوں تصاویر اور تحریروں پر مشتمل یہ کتاب محض ایک جدید شہر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا آئینہ دار ہے۔

    اس کے صفحات میں وہ تمام لوگ زندہ نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، جدوجہد اور خوابوں سے کراچی کی شناخت تشکیل دی۔ یوں یہ کتاب نہ صرف شہر کی تاریخ بیان کرتی ہے بلکہ ان کرداروں کی یاد کو بھی محفوظ کرتی ہے جن کے بغیر کراچی کی کہانی ادھوری ہے۔

    کراچی کی شخصیات پر ان کی ایک اور کتاب "کراچی جا لافانی کردار” بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والی تقریباً پچیس نمایاں شخصیات کی زندگیوں اور خدمات کو قلم بند کیا۔

    یہ صرف شخصیات کے حالاتِ زندگی کا مجموعہ نہیں بلکہ کراچی کی سماجی اور تاریخی ارتقا کی داستان بھی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے شہر کی فکری، سماجی اور ثقافتی تاریخ سامنے آتی ہے۔

    گل حسن کلمتی نے کراچی کی رہائشی اسکیموں اور شہری توسیع کے اثرات پر بھی تحقیق کی۔ ان کی ایک اہم تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا کہ شہری تعمیرات اور رہائشی منصوبوں نے مقامی آبادیوں خصوصاً خواتین کی معاشی زندگی کو کس طرح متاثر کیا۔ اس تحقیق نے ترقی کے نام پر ہونے والی بے دخلیوں اور معاشی تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔

    کراچی ساحل بچاؤ تحریک

    ساحلی سندھ اور جزائر پر ان کا کام منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتاب ‘کوسٹل آئی لینڈز آف سندھ: چرنا سے جاکھی’ سندھ کے ساحلی جزائر پر ایک جامع تحقیق ہے۔ اس کتاب کے لیے انہوں نے 2013 سے 2018 تک مختلف ساحلی علاقوں اور جزیروں کا سفر کیا۔ وہ چرنا جزیرے سے لے کر جاکھی بندر تک گئے، جہاں انہوں نے قدرتی ماحول، مقامی آبادیوں، ماہی گیروں کی زندگی، سمندری حیاتیات اور تاریخی آثار کا مشاہدہ کیا۔

    اس کتاب میں سندھ کے ساحلی جزیروں کی جغرافیائی، تاریخی، ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گل حسن کلمتی کا مؤقف تھا کہ یہ جزائر صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ سندھ کی تہذیبی اور معاشی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منصوبہ بند ترقیاتی منصوبے اور ماحولیاتی تبدیلیاں ان جزیروں کے وجود کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے کراچی اور اس کے گردونواح میں واقع قدیم بستیوں، تاریخی مقامات، قبرستانوں، مندروں، درگاہوں اور قدیم تجارتی راستوں پر وسیع تحقیق کی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ کراچی کی تاریخ صرف ڈیڑھ دو سو سال پرانی نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ انہوں نے مختلف تحریروں اور لیکچرز میں بھنبھور، ملیر، گڈاپ اور ساحلی علاقوں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    ان کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ تاریخ کو صرف حکمرانوں اور جنگوں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ عام لوگوں، ماہی گیروں، کسانوں، مزدوروں اور مقامی برادریوں کی تاریخ بھی سامنے لاتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ‘عوامی مورخ’ بھی کہا جاتا تھا۔

    انہوں نے سفرنامے بھی لکھے جن میں ‘برف جو دوزخ’ خاص طور پر مشہور ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے شمالی علاقوں کے سفر کے دوران برفانی حالات میں پیش آنے والے تجربات کو بیان کیا ہے۔

    گل حسن کلمتی نے معروف براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی مشہور بی بی سی ریڈیو سیریز اور کتاب "شیر دریا” (دریائے سندھ) کا سندھی میں ترجمہ ‘سندھو جی سفر کہانی’ کیا۔ اس کتاب میں دریائے سندھ کے منبع سے لے کر سمندر میں اس کے اختتام تک کے سفر، راستے میں آنے والے شہروں، تاریخی مقامات، تہذیبوں، ثقافتوں اور وہاں بسنے والے لوگوں کی زندگی کا دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دریائے سندھ کی تاریخ، اہمیت اور اس سے جڑی تہذیبی وراثت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ادبی اور تحقیقی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔

    اس کے علاوہ ان کی درجنوں کتابیں سندھی اور اردو زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں، جن میں برف جو دوزخ، ملیر: تاریخ، ثقافت اور سماج،  گڈاپ جی تاریخ، کراچی جا قدیم آثار، سندھ جا سامونڈی بندر، منگھو پیر، مورڑو میر بحر، کراچی جا قبرستان، لیاری: تاریخ اور ثقافت، کراچی جا قدیم گوٹھ، ساحلی سندھ اور اس کے جزائر پر مختلف تحقیقی کتابچے اور مطالعات۔

    گل حسن کلمتی صرف کتابیں لکھنے تک محدود نہیں رہے۔ وہ اخبارات اور رسائل میں باقاعدگی سے مضامین اور کالم بھی لکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں کراچی کی تاریخ، شہری منصوبہ بندی، ثقافتی ورثہ، ماحولیات، انسانی حقوق اور سماجی مسائل نمایاں موضوعات تھے۔ ان کی تحریریں علمی ہونے کے باوجود عام قاری کے لیے آسان اور دلچسپ ہوتی تھیں۔

    سندھی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ مختلف ادبی، ثقافتی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ رہے اور نوجوان محققین کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے لیکچرز اور عوامی گفتگوؤں میں ہمیشہ تحقیق، تنقیدی سوچ اور اپنی تاریخ کو جاننے کی تلقین ہوتی تھی۔

    17 مئی 2023 کو گل حسن کلمتی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر سندھ بھر کے ادیبوں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں، سماجی رہنماؤں اور عام شہریوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کے جنازے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ سندھ صوبائی اسمبلی نے ان کی وفات پر قرارداد کے ذریعے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

    گل حسن کلمتی کی وفات کے بعد بھی ان کا کام زندہ ہے۔ کراچی کی تاریخ پر تحقیق کرنے والا شاید ہی کوئی طالب علم یا محقق ہو جو ان کی کتابوں سے استفادہ نہ کرتا ہو۔ انہوں نے شہر کی گلیوں، ساحلوں، جزیروں، قدیم بستیوں اور مقامی آبادیوں کی تاریخ کو محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ چھوڑا ہے۔

    آج جب کراچی تیزی سے بدل رہا ہے اور اس کی تاریخی شناخت مختلف چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے، گل حسن کلمتی کی تحریریں اور تحقیق پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک فرد اپنی محنت، تحقیق اور عوامی وابستگی کے ذریعے پورے شہر کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

    گل حسن کلمتی بلاشبہ سندھ کے ان نادر دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کو کتابوں سے نکال کر عوام تک پہنچایا اور اپنے شہر کی روح کو قلم بند کر دیا۔

  • کراچی کے فوڈ باسکٹ، ملیر میں ریت نکالنے، صنعتی آلودگی اور پانی کی قلت نے زراعت کو مکمل طور تباہ کردیا

    کراچی کے فوڈ باسکٹ، ملیر میں ریت نکالنے، صنعتی آلودگی اور پانی کی قلت نے زراعت کو مکمل طور تباہ کردیا

    کراچی کا ضلع ملیر ایک وقت میں شہر کا ‘فوڈ باسکٹ’ سمجھا جاتا تھا، جہاں سے سبزیاں، پھل، اناج اور دیگر زرعی اجناس بڑی مقدار میں شہر کی منڈیوں تک پہنچتی تھیں۔ ملیر کے سرسبز باغات، کھیت اور زرعی زمینیں نہ صرف مقامی معیشت کا اہم حصہ تھیں بلکہ کراچی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ تاہم مقامی کاشت کاروں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مختلف عوامل کے باعث ملیر کی زراعت شدید زوال کا شکار ہو گئی ہے۔

    ملیر کے کاشت کار سعید بلوچ نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ملیر میں وسیع پیمانے پر سبزیاں، آم، امرود، چیکو، کھجور اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ زراعت آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ان کے مطابق زرعی زمینوں کے بڑے حصے پر ہاؤسنگ اسکیمیں، صنعتی یونٹس اور دیگر تعمیرات قائم ہو چکی ہیں جس سے کاشت کے لیے دستیاب رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق ملیر میں زرعی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں پانی کی قلت، زرعی زمینوں کی غیر زرعی استعمال میں تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔ ماضی میں ملیر کے بیشتر علاقوں کو دریائے سندھ کے نظام اور مقامی آبی گزرگاہوں سے پانی ملتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے دستیاب پانی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پانی کی قلت کے باعث بہت سے کاشت کار زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملیر اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر ریت نکالنے کی سرگرمیوں نے بھی ماحول اور زراعت کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق بے ہنگم ریت نکالنے سے زمین کی ساخت، زیر زمین پانی کے ذخائر اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اثرات کی شدت اور دائرۂ کار کے تعین کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔

    کاشت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والا دھواں اور آلودگی فصلوں اور باغات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگرچہ مختلف صنعتوں کے اثرات ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتے، لیکن ماحولیاتی آلودگی کو زرعی پیداوار میں کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

    زرعی ماہرین کے مطابق کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں زرعی زمینوں کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ملیر میں آبادی اور تعمیرات کے پھیلاؤ نے زرعی رقبے کو مسلسل محدود کیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی زرعی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    مقامی کاشت کاروں کا مطالبہ ہے کہ زرعی زمینوں کے تحفظ، آبپاشی کے پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملیر کی باقی ماندہ زراعت کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کا یہ تاریخی زرعی علاقہ مستقبل میں اپنی زرعی شناخت مکمل طور پر کھو سکتا ہے۔

  • کراچی میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل انٹرایکٹو ہسٹری میوزیم میں کیا دیکھنے کو ملے گا؟

    کراچی میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل انٹرایکٹو ہسٹری میوزیم میں کیا دیکھنے کو ملے گا؟

    حکومت سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دی سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کے اشتراک سے کراچی میں ایک منفرد ثقافتی اور تاریخی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے، جسے ‘کراچی میوزیم آف ہسٹری’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ میوزیم بیچ ویو پارک میں قائم کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اس کا سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں۔

    سندھ حکومت کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل انٹرایکٹو ہسٹری میوزیم ہوگا، جہاں روایتی انداز میں صرف تاریخی نوادرات کی نمائش نہیں کی جائے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل آرکائیوز، ویڈیوز، صوتی ریکارڈنگز، زبانی تاریخ اور انٹرایکٹو تجربات کے ذریعے کراچی کی صدیوں پر محیط داستان کو پیش کیا جائے گا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ کراچی کی تاریخ صرف قیام پاکستان یا 1947 سے وابستہ نہیں۔ یہ شہر صدیوں سے بحیرہ عرب کے اہم تجارتی راستوں کا حصہ رہا ہے اور مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور آبادیوں کے میل جول کا مرکز رہا ہے۔ کراچی میوزیم آف ہسٹری کا مقصد اسی طویل اور متنوع تاریخ کو ایک جامع انداز میں محفوظ کرنا اور عوام کے سامنے لانا ہے۔

    میوزیم میں صرف حکمرانوں، سیاسی شخصیات یا سرکاری واقعات کی تاریخ پیش نہیں کی جائے گی بلکہ ان عام لوگوں کی کہانیاں بھی محفوظ کی جائیں گی جنہوں نے مختلف ادوار میں کراچی کی تعمیر، ترقی اور شناخت میں کردار ادا کیا۔ منصوبے میں انٹرایکٹو اسکرینز، تاریخی ویڈیوز، آرکائیول تصاویر، زبانی تاریخ کے ریکارڈ اور جدید ڈیجیٹل نمائشوں کو شامل کیا جائے گا تاکہ زائرین ماضی کو ایک نئے انداز سے محسوس کر سکیں۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ایسے ادارے صرف تاریخی مواد کو محفوظ نہیں کرتے بلکہ شہری شناخت، ثقافتی ہم آہنگی، برداشت اور مکالمے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میوزیم آف ہسٹری کو شہر کے ثقافتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ میوزیم طلبہ، محققین، سیاحوں اور عام شہریوں کے لیے ایک اہم علمی مرکز ثابت ہوسکتا ہے۔ یہاں لوگ اپنے خاندانوں کی ہجرت اور شہر سے وابستہ یادوں کو ریکارڈ کرا سکیں گے، جبکہ نئی نسل کراچی کی اصل تاریخی شناخت اور ارتقا کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی۔

    کراچی میوزیم آف ہسٹری نہ صرف شہر کے ماضی کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے جہاں کراچی پہلی بار اپنی مکمل اور متنوع کہانی خود دنیا کو سنا سکے۔

  • سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ کے اجتماعی سماجی اور سیاسی شعور کا بحران

    سندھ، جو تاریخی طور پر صوفی روایتوں، رواداری اور مضبوط سیاسی شعور کی سرزمین رہی ہے، اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی معاشرے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے ‘اجتماعی غیرت’ اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سندھ میں پریا کماری، فضیلا سرکی جیسی بیٹیاں برسوں سے لاپتہ ہیں اور سعید میمن جیسے بے گناہ شہری اغوا ہو چکے ہیں، مگر سندھ کا معاشرہ کسی بڑی اجتماعی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔

    سندھی سماج اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکامی کا شکار ہے۔ قبائلی جھگڑے، کاروکاری، سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کی خوشامد، اور سوشل میڈیا کا غیر اخلاقی استعمال، فحش ویڈیوز، نازیبا پوسٹس، غیبت اور کردار کشی اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ شریف لوگ اور خواتین فیس بک استعمال کرنے سے نفرت محسوس کرنے لگے ہیں۔

    قومی وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشوں کے خلاف مؤثر مزاحمت کا نہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے۔

    اہم سوالات

    سندھی معاشرہ اپنی بیٹیوں اور شہریوں کے اغوا پر ویسا ردعمل کیوں نہیں دیتا جیسا پشتون یا بلوچ معاشرہ دیتا ہے؟

    سندھی نوجوانوں کے شعور کو مضبوط بنانے کے بجائے سوشل میڈیا اخلاقی زوال کا سبب کیوں بن رہا ہے؟

    سرداری نظام اور ‘بھوتار کلچر’ نے سندھیوں کی اجتماعی جدوجہد کو کیسے مفلوج کر دیا ہے؟

    قبائلی معاشرہ بمقابلہ زرعی اور جاگیردارانہ معاشرہ

    پشتون اور بلوچ معاشرے آج بھی اپنے خالص قبائلی ڈھانچے پر قائم ہیں، جہاں ‘قبیلے کی عزت و ناموس’ کے لیے سب متحد ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سندھ کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سردار یا وڈیرا قبیلے کا محافظ نہیں بلکہ اکثر اس کا استحصال کرنے والا بن چکا ہے۔ سندھی عوام کو معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ میں پوری قوم کے درد کو بھول بیٹھے ہیں۔

    جب بلوچستان سے سعید میمن اغوا ہوتا ہے تو سندھ کی کسی بڑی سیاسی یا سماجی قوت کی طرف سے بلوچستان جا کر احتجاج کرنے کا اعلان سامنے نہیں آتا۔ یہ سندھ کی قیادت اور سماجی تنظیموں کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے۔

    پریا کماری، جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور فضیلا سرکی، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، کا برسوں تک لاپتہ رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ریاستی اور سماجی ڈھانچہ صرف طاقتور اور امیر کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔

    سوشل میڈیا اور فکری زوال

    فیس بک پر سندھی سماج کا ایک بڑا حصہ قومی حقوق کی بات کرنے کے بجائے ان امور میں مصروف ہے:

    وڈیروں کی خوشامد

    بھوتاروں کی بے جا تعریف

    ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا

    حالانکہ سوشل میڈیا معلومات، شعور اور سیکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہو سکتا تھا، مگر وہاں فحش مواد اور غیر اخلاقی پوسٹس کا عام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں فکری خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم کے پاس کوئی بڑا مقصد یا نظریہ نہ ہو تو نوجوان اسی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    کراچی اور سندھ کی وحدت

    اس وقت سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے مختلف منصوبے زیر بحث رہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی معاشی اور سیاسی روح ہے، مگر اس کے باوجود سندھی عوام کی مزاحمت زیادہ تر صرف انتخابات تک محدود ہو چکی ہے۔

    تاریخ میں سندھ نے ون یونٹ کے خلاف اور ایم آر ڈی جیسی عظیم تحریکیں چلائیں، مگر آج وہ اجتماعی قومی شعور کمزور پڑ چکا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے وڈیرے میرٹ کا قتل کر کے نوجوانوں کو محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اجتماعی قومی شعور کا سودا کر چکی ہیں۔

    یہ بے حسی کیوں؟

    سندھی قوم کی یہ بے حسی کوئی فطری یا پیدائشی چیز نہیں بلکہ ایک گہری ‘سماجی بیماری’ ہے۔ جاگیردارانہ نظام، تباہ حال تعلیم، ریاستی بے حسی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے مل کر سندھی معاشرے کو مفلوج کر دیا ہے۔

    جہاں پشتون اور بلوچ اپنی روایات سے طاقت لیتے ہیں، وہاں سندھی سماج اپنے ہی سرداروں کے پیدا کردہ قبائلی جھگڑوں اور کاروکاری جیسے ناسور میں الجھا ہوا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    ایسی صورتحال میں سندھی دانشوروں، ادیبوں اور باشعور نوجوانوں کو فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر منظم انداز میں موجودہ بھوتار کلچر، سندھ کی تقسیم کی سازشوں اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک فکری جدوجہد شروع کرنا ہوگی۔

    قبائلی جھگڑے کرانے والے سرداروں اور بیٹیوں کے اغوا پر خاموش رہنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا۔

    سندھ کو وڈیرا شاہی کی خوشامد سے نکالنے کے لیے متوسط طبقے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آ کر مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔

    سوشل میڈیا کی گندگی سے نکل کر عملی میدان میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔

    سندھ ابھی مکمل طور پر سویا نہیں ہے۔ جہاں ایسے سوال اٹھتے ہیں، وہاں کل تبدیلی کی لہر بھی ضرور جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے لیے سندھ سے محبت رکھنے والی تمام قوتوں کو متحد ہو کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔

  • 12 مئی 2007 جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی

    12 مئی 2007 جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی

    12 مئی 2007 پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کا ایک نہایت سیاہ اور دردناک دن ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف قانون کی حکمرانی کی پامالی تھا بلکہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کی بدترین مثال بھی تھا۔ مارچ 2007 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی جانب سے افتخار محمد چوہدری کو غیر آئینی طور پر معطل کیے جانے کے بعد پورے ملک میں عدلیہ کی آزادی کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر چیف جسٹس کو 12 مئی 2007 کو کراچی میں خطاب کرنا تھا۔

    11 مئی کی رات ہی سے کراچی کی اہم شاہراہوں خصوصاً شاہراہ فیصل کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا تاکہ وکلا اور عوام ایئرپورٹ تک نہ پہنچ سکیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مسلح کارکنوں نے جنرل مشرف کی حمایت میں کراچی کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    جب چیف جسٹس کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں وہیں روک دیا گیا اور شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم کے مسلح جتھوں کی جانب سے وکلا، سیاسی کارکنوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی اور عام شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔ اے آر وائی نیوز اور آج نیوز کے دفاتر پر کئی گھنٹوں تک مسلسل فائرنگ ہوتی رہی، جسے دنیا بھر میں براہ راست دیکھا گیا۔

    اس دن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 50 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہیں دیا جا رہا تھا اور وکلا کو ان کے دفاتر میں زندہ جلانے کی کوششیں کی گئیں۔

    جب کراچی میں خون کی یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی، اس وقت جنرل مشرف اسلام آباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:

    دیکھو، آج کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ ہوا ہے۔

    اس بیان کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس سے یہ تاثر ملا کہ کراچی کا قتل عام حکومت کی مرضی اور سرپرستی میں ہوا تاکہ عدالتی تحریک کو دبایا جا سکے۔

    اس واقعے نے عدالتی تحریک کو مزید شدت دی، جس کے نتیجے میں بعد ازاں چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوئے۔ 12 مئی 2007 کراچی واقعات جنرل مشرف کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا اور اس کے بعد ان کی حکمرانی کا اخلاقی جواز ختم ہوتا چلا گیا۔ اس سانحے نے کراچی میں لسانی اور سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، جس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    12 مئی 2007 کا قتل عام صرف ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ پاکستانی عوام کی جمہوریت اور انصاف کی خواہشات کو بندوق کے زور پر دبانے کی ناکام کوشش تھی۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے مسلح جتھوں کو کھلی چھوٹ دے تو اس کے نتائج قومی سانحے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ آج بھی اس واقعے کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔