سندھ میں آج کل ایک گرما گرم بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کراچی کب بنا؟ کس نے بنایا؟ لیکن 112 سال پہلے ایک ترک صحافی نے جو کچھ لکھا، وہ اس پوری بحث کا جواب ہے
ایک عرصے سے سندھ کی سیاست میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے وہ یہ کہ کراچی کا اصل بانی کون ہے؟
ایک فریق کہتا ہے کہ 1947 میں ہندوستان سے آنے والے مہاجرین نے اس ویرانے کو شہر بنایا۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ کراچی صدیوں پرانا شہر ہے۔
لیکن اس بحث میں ایک ایسی گواہی موجود ہے جسے نہ تو کوئی رد کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ‘متعصب’ کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ گواہی ایک ایسے شخص کی ہے جو نہ سندھی تھا، نہ اُردو بولنے والا، نہ انگریز۔ یہ ایک ترک صحافی تھا جو 1913 میں استنبول سے کراچی آیا اور اس نے جو دیکھا، وہ اس دور کے ایک مشہور رسالے صراط مستقیم میں سمندر کا پہلا کنارہ اور بھارت کی سرحد کے عنوان کے ساتھ لکھ دیا۔
ترک صحافی کون تھے؟
ایس ایم توفیق یعنی سید محمد توفیق ایک ایرانی النسل ترک صحافی تھے جو استنبول سے شائع ہونے والے مشہور رسالے ‘صراط مستقیم’ کے ساتھ وابستہ تھے۔ یہ رسالہ اپنے دور کا ایک بڑا علمی اور ادبی پلیٹ فارم تھا جس میں نامور ترک دانشور، شاعر اور صحافی لکھتے تھے۔
جولائی 1913 میں انہوں نے پونا سے کراچی کا سفر کیا اور واپس جا کر اپنے مشاہدات رسالے میں شائع کیے۔ ان کا مضمون آج 112 سال بعد ایک تاریخی دستاویز بن چکا ہے۔
جب جہاز کراچی بندرگاہ پر لگا
توفیق لکھتے ہیں کہ جب ان کا بحری جہاز کراچی بندرگاہ پر پہنچا تو بندرگاہ کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔
‘ہم کراچی کی بندرگاہ پر رات کو پہنچے جہاں ایک فاصلے پر اونچے مینار کی روشنی نے ہمیں راہ دکھائی۔ ہمارا بحری جہاز آہستہ آہستہ بندرگاہ پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔’
وہ بتاتے ہیں کہ بندرگاہ پر تقریباً 30 جہاز لنگر انداز تھے اور بندرگاہ اتنی بڑی اور منظم تھی کہ جہازوں کے لنگر کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ ایک برطانوی کمپنی کا مستقل عملہ وہاں خدمات دے رہا تھا اور بندرگاہ پر باقاعدہ پولیس افسر تعینات تھے۔
شہر کے اندر: وہ کراچی جو ‘چھوٹا قصبہ’ نہیں تھا
بندرگاہ سے شہر میں داخل ہوتے ہی توفیق نے جو دیکھا وہ انہیں متاثر کر گیا۔
شہر میں بجلی کا مکمل نظام تھا۔سڑکوں پر بجلی کے کھمبے، گھروں میں روشنی، اور شہر کے مرکز میں بجلی سے چلنے والی ٹرام چلتی تھی۔ انہوں نے صاف لکھا کہ ٹرام میں 32 مسافر بیٹھ سکتے تھے وہاں انگریزی میں لکھا تھا کہ تمام گاڑیاں یہاں پارک ہوتی ہیں۔
شہر کے وسط میں وکٹوریہ گارڈن تھا۔ایک بڑا، خوبصورت باغ جس میں بھالو، شیر، ایک خوش باش ہاتھی، سانپ، اور نہ جانے کتنے اقسام کے جانور تھے۔ باغ میں سفیدرنگ کے پنجروں میں رنگ برنگے پرندے بھی تھے۔
انہوں نے لکھا کہ شہر میں علیحدہ مارکیٹیں تھیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں لیموں، کھجوروں اور دیگر پھلوں سے لے کر گوشت، مچھلی اور مشروبات تک ہر چیز ملتی تھی۔
کراچی کی آبادی: مسلمان، ہندو، اور دیگرمذاہب کے لوگ
توفیق کو سب سے زیادہ حیرت کراچی کی تنوع پذیر آبادی دیکھ کر ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور مختلف ممالک سے لوگ یہاں آ کر بسے ہیں۔ ہندوستان، ایران، افغانستان اور یہاں تک کہ دور دراز ممالک کے لوگ کراچی میں کاروبار اور تجارت کرتے تھے۔ مقامی ہندوستانی ہندو اور غیر مسلم بھی بڑے پیمانے پر کاروبار چلاتے تھے۔
انہوں نے لکھا: ‘یہ ایسا علاقہ ہے جہاں فارس، ہندوستان اور عراق کی سرحدیں ملتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کراچی مستقبل میں بہت پھیلے گا کیونکہ بلوچستان، ایران، افغانستان اور ہندوستان میں ہر جگہ سے سمندری راستوں پر یہاں بندرگاہوں کا تمام تر انحصار ممکن ہے۔’
تعلیم اور دینی زندگی
توفیق کو کراچی کے مسلم تعلیمی اداروں نے بھی متاثر کیا۔
انہوں نے لکھا کہ کراچی کے مسلمانوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دار الاسلام نامی ایک بڑا ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کی مرکزی عمارت ایک بڑے باغ کے وسط میں تھی جہاں شریعت کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔زبانیں، سائنس، ریاضی، کھیل، اور سماجی سرگرمیاں سب شامل تھیں۔
اسکول میں عثمانی سلطان، خلیفہ محمود پنجم، غازی عثمان پاشا اور دیگر کی تصویریں آویزاں تھیں۔ ایک مقامی معززشخص نے توفیق کو اسکول میں خطاب کرنے کی دعوت دی جہاں سلطان اور مسلم اتحاد کے حوالے سے گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔
ترک جنگ اور کراچی کا جذبہ
توفیق نے ایک دلچسپ بات بھی لکھی کہ ترک جنگ کے لیے سندھ سے 20,000 روپے سے زائد رقم جمع کی گئی تھی اور اس وقت کے مقامی اعزازی قونصل کی کوششیں (بدستور) جاری تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1913 کا کراچی دنیا کے حالات سے کتنا باخبر اور جذباتی طور پر منسلک تھا۔
112 سال بعد کیا جواب ملتا ہے؟
توفیق 1913 میں جب کراچی آئے تو یہاں بجلی تھی، ٹرام تھی، چڑیا گھر تھا، بڑی بندرگاہ تھی، منظم بازار تھے، تعلیمی ادارے تھے، اور مختلف مذاہب و قوموں کے لوگ ملکر آباد تھے۔
یہ سب 1947 سے 34 سال پہلے کا منظرنامہ ہے۔
جب یہ بحث چھڑتی ہے کہ کراچی پہلے ایک ‘چھوٹا جزیرہ نما قصبہ’ تھا اور مہاجرین نے اسے شہر بنایا تو ایک ترک صحافی کی یہ گواہی خاموشی سے جواب دیتی ہے: جو شہر 1913 میں ایسا تھا، وہ 1947 سے پہلے ہی شہر تھا۔
نوٹ: یہ مضمون ترک صحافی ایس ایم توفیق کی ایک تحریر پر مبنی ہے جو 16 جولائی 1913 کو استنبول سے شائع ہونے والے جریدے صراطِ مستقیم میں شائع ہوئی تھی جو برطانوی ہندوستان کے سفر کے دوران کراچی سے متعلق اُن کے ذاتی مشاہدات پر مشتمل تھی۔ کوئی چار برس قبل اس تحریر کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا، جسے معروف محقق اور بلاگر اختر حسین بلوچ مرحوم کے اصرار پر راقم نے اردو قالب میں منتقل کیا تاکہ برصغیر اور بالخصوص سندھ کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قارئین تک یہ اہم ماخذ اپنی اصل معنویت کے ساتھ پہنچ سکے۔