Tag: کراچی

  • کراچی کے تجارتی مرکز صدر کے شور میں سکون کا جزیرہ: شہر کے قدیم جہانگیر پارک کی کہانی

    کراچی کے تجارتی مرکز صدر کے شور میں سکون کا جزیرہ: شہر کے قدیم جہانگیر پارک کی کہانی

    کراچی کے سب سے مصروف اور شور شرابے والے علاقے صدر میں چھ ایکڑ پر پھیلا جہانگیر پارک سکون کا ایک جزیرہ ہے۔ آج جدید سہولتوں سے مالا مال اس پارک کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ کراچی کی سماجی اور شہری زندگی کے کئی اہم ادوار کا گواہ رہ چکا ہے۔

    1838 میں ایک مخیر پارسی تاجر خان بہادر بہرام جی جہانگیر جی راجکوٹ والا نے یہ قیمتی زمین عطیہ کی تھی۔ ابتدا میں اسے جہانگیر پارک اور بہرام پارک دونوں ناموں سے پکارا جاتا تھا، تاہم بعد میں جہانگیر پارک ہی اس کا سرکاری نام بن گیا۔

    شروع میں یہاں کرکٹ گراؤنڈ اور پویلین بنایا گیا تھا، جہاں کراچی کے مختلف کلب کرکٹ میچ کھیلا کرتے تھے۔ پارک ماضی میں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا۔ لیاقت علی خان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے یہاں تقریریں کیں۔ یہاں ایک مطالعہ گاہ بھی موجود تھی جہاں روزانہ اخبارات آتے تھے اور شہری مطالعے کے لیے یہاں آتے تھے۔

    اس شاندار ماضی کے بعد جہانگیر پارک طویل عرصے تک عدم توجہی کا شکار رہا۔ انتظامی غفلت کے باعث پارک کی حالت خراب ہوتی گئی، غیر قانونی قبضوں نے جگہ گھیرنا شروع کردی اور ایک وقت میں یہ مقام کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ماضی میں یہاں منشیات کے عادی افراد بھی بڑی تعداد میں موجود رہتے تھے۔ یوں کراچی کے اس تاریخی پارک کی سماجی اور شہری حیثیت تقریباً ختم ہوگئی۔

    2017 میں سندھ حکومت نے جہانگیر پارک کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا۔ ابتدا میں اس منصوبے کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ بحالی کے دوران غیر قانونی قبضوں اور دیگر مسائل کو ختم کیا گیا اور پارک کو دوبارہ شہریوں کے لیے ایک تفریحی مقام بنانے کی کوشش کی گئی۔ آج یہ پارک ایک جدید فیملی پارک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

    جہانگیر پارک کا سب سے منفرد حصہ ڈائناسور پارک ہے، جہاں مختلف اقسام اور سائز کے ڈائناسور کے ماڈل نصب کیے گئے ہیں۔ یہ صرف ساکت مجسمے نہیں بلکہ بعض ماڈلز حرکت کرتے ہیں، سر ہلاتے ہیں، آنکھیں جھپکاتے ہیں اور دھاڑنے کی آوازیں بھی نکالتے ہیں۔ یہاں ٹی ریکس سمیت گوشت خور اور سبزی خور ڈائناسور کے ماڈل موجود ہیں اور ہر ماڈل کے ساتھ معلوماتی تختی بھی نصب کی گئی ہے۔ ڈائناسور کے علاوہ گوریلا، زرافے اور ہاتھی کے ماڈل بھی پارک میں موجود ہیں۔

    پارک میں ایک بڑا اور بلند لوہے کا پنجرہ بھی موجود ہے، جس میں مختلف اقسام کے پرندے رکھے گئے ہیں۔ پنجرے کے اندر درخت اور پودے لگائے گئے ہیں، جبکہ طوطے، چڑیاں، کبوتر، فاختائیں اور مور بھی یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک چھوٹے تالاب میں بطخیں اور راج ہنس تیرتے نظر آتے ہیں۔

    پورے پارک میں واک ویز، پودے اور درخت موجود ہیں۔ نگرانی اور سکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ پارک کی روشنی کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ متبادل کے طور پر بجلی کی لائن بھی موجود ہے۔

    پارک میں شمسی توانائی سے چلنے والے دو آر او پلانٹ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان میں سے ایک پلانٹ روزانہ 50 ہزار گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پارک کے علاوہ اطراف کے رہائشی بھی مستفید ہوتے ہیں۔

    جہانگیر پارک کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں داخلہ فیس نہیں ہے۔ پارک خاندانوں کے لیے مخصوص ہے اور اکیلے مردوں کو داخلے کی اجازت نہیں، جبکہ خواتین اکیلے بھی پارک آسکتی ہیں۔ صدر کے مرکزی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں پہنچنا نسبتاً آسان ہے، تاہم پارکنگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    کے ایم سی کے مطابق روزانہ تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار افراد جہانگیر پارک کا رخ کرتے ہیں، جبکہ اتوار اور دیگر تعطیلات کے دوران یہ تعداد 10 ہزار سے 15 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔

    جہانگیر پارک صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ کراچی کی بدلتی ہوئی شہری تاریخ کی ایک جھلک بھی ہے۔ ایک ایسی جگہ جو کبھی کرکٹ، سیاست، مطالعے اور شہری میل جول کا مرکز تھی، طویل زوال کے بعد دوبارہ خاندانوں کے لیے تفریحی مقام بن چکی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل

    جہاں شہر، تاریخ اور ورثے کی کہانیاں ایک نئے انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔

  • کراچی کے درمیان جنگلی حیات کا مسکن، سفاری پارک کو کئی دہائیوں سے کیسے محفوظ رکھا گیا؟

    کراچی کے درمیان جنگلی حیات کا مسکن، سفاری پارک کو کئی دہائیوں سے کیسے محفوظ رکھا گیا؟

    کراچی جیسے گنجان اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں جہاں بلند عمارتیں، مصروف شاہراہیں اور مسلسل بڑھتی شہری آبادی منظرنامے کا حصہ ہیں، وہیں شہر کے گلشنِ اقبال میں ایک ایسا وسیع علاقہ بھی موجود ہے جہاں درخت، کھلے میدان، جھیلیں اور جنگلی حیات شہری زندگی سے ایک مختلف منظر پیش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر واقع کراچی کا سفاری پارک کئی دہائیوں سے شہر کے شہریوں کے لیے تفریح، قدرتی ماحول اور جنگلی حیات سے قربت کا ایک اہم مقام ہے۔

    سفاری پارک کا افتتاح 1970 میں ہوا۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق یہ اُس وقت کے کراچی میونسپل کارپوریشن کا منصوبہ تھا اور اس کا مقصد شہر میں ایک ایسے بڑے عوامی مقام کا قیام تھا جہاں شہریوں کو کھلے ماحول میں تفریح کے ساتھ جانوروں اور پرندوں کو دیکھنے کا موقع مل سکے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق سفاری پارک کے لیے ابتدا میں 400 ایکڑ سے زیادہ رقبہ مختص کیا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کے رقبے میں کمی واقع ہوئی۔

    سفاری پارک کو شروع ہی سے عام شہری پارکوں سے مختلف انداز میں ترتیب دیا گیا۔ یہاں وسیع کھلے علاقے، جانوروں کے لیے مخصوص حصے اور سفاری ٹریکس بنائے گئے تاکہ جنگلی حیات کو نسبتاً بڑے ماحول میں رکھا جاسکے اور شہری انہیں قریب سے دیکھ سکیں۔ بعد کے برسوں میں یہاں مختلف اقسام کے ممالیہ جانور، پرندے اور رینگنے والے جانور بھی رکھے گئے، جبکہ جانوروں کی افزائش اور نگہداشت کے حوالے سے بھی مختلف منصوبے جاری رہے۔

    پارک کی خاص بات اس کا قدرتی اور نیم قدرتی ماحول ہے۔ یہاں موجود سبزہ، درخت، کھلے میدان اور آبی علاقے اسے کراچی کے عام شہری پارکوں سے الگ بناتے ہیں۔ سفاری پارک میں دو جھیلوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جن میں سے ایک سوان جھیل کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ آبی علاقے نہ صرف پارک کے منظر کو منفرد بناتے ہیں بلکہ شہری ماحول میں موجود اہم آبی اور سبز مقامات میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    سفاری پارک کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہاں موجود جنگلی حیات ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں ہرن، نیل گائے، بلیک بک، چیتل، فالو ڈئیر، لاما اور دیگر جانور رکھے گئے۔ مختلف تحقیقی مطالعات میں سفاری پارک میں موجود ممالیہ، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض مقامی انواع، جن میں سندھ آئی بیکس اور اڑیال شامل ہیں، کی افزائش اور نگہداشت بھی پارک کی جنگلی حیات سے متعلق سرگرمیوں کا حصہ رہی ہے۔

    ہاتھی بھی سفاری پارک کی شناخت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں یہاں ہاتھی شہریوں کی خاص توجہ کا مرکز رہے اور ان کے لیے الگ جگہ اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے منصوبے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس طرح سفاری پارک محض ایک تفریحی مقام نہیں رہا بلکہ شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے جنگلی جانوروں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے بارے میں جاننے کا ایک ذریعہ بھی بنتا رہا ہے۔

    وقت کے ساتھ سفاری پارک میں تفریح کے دیگر ذرائع بھی شامل ہوتے گئے۔ سفاری ٹریکس کے علاوہ یہاں چیئر لفٹ بھی قائم کی گئی، جس سے شہریوں کو پارک کے وسیع علاقے اور سبز ماحول کو بلندی سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ چیئر لفٹ کا افتتاح 2006 میں کیا گیا تھا۔

    سفاری پارک صرف جانوروں کی وجہ سے ہی اہم نہیں بلکہ کراچی کے شہری ماحول میں ایک بڑے سبز اور کھلے مقام کے طور پر بھی اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے شہر میں جہاں آبادی، تعمیرات اور ٹریفک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، درختوں، کھلے میدانوں اور آبی علاقوں پر مشتمل مقامات شہریوں کو نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔ سفاری پارک کا یہی پہلو اسے محض تفریحی مقام کے بجائے شہری ماحول کا ایک اہم حصہ بناتا ہے۔

    کئی نسلوں کے کراچی کے شہری سفاری پارک سے جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہاں جانا صرف جانور دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ پکنک، چہل قدمی، بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور شہر کے شور سے کچھ دیر دور رہنے کا موقع بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سفاری پارک کراچی کے نمایاں عوامی مقامات میں شامل ہے۔

    سفاری پارک کی تاریخ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کراچی کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے کے ساتھ اس جگہ نے بھی کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ 1970 میں ایک بڑے کھلے علاقے کے طور پر شروع ہونے والا یہ منصوبہ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور انتظامی ڈھانچے کی مختلف صورتوں سے گزرا۔ تاہم اس کی بنیادی شناخت آج بھی برقرار ہے کہ یہ کراچی کے درمیان ایک ایسا مقام ہے جہاں شہری ماحول کے اندر درخت، کھلی جگہ، آبی علاقے اور جنگلی حیات ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    کراچی میں سبز اور کھلی جگہوں کی ضرورت بڑھنے کے ساتھ سفاری پارک کی اہمیت بھی مزید نمایاں ہوتی ہے۔ یہ مقام شہر کے شہریوں کو فطرت اور جنگلی حیات سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں قدرتی اور سبز مقامات کا تحفظ کیوں ضروری ہے۔

    1970 سے آج تک سفاری پارک نے کراچی کی کئی نسلوں کو اپنے درختوں، کھلے میدانوں، جھیلوں اور جنگلی حیات کے درمیان وقت گزارنے کا موقع دیا ہے۔ شہر بدلتا رہا، اس کا پھیلاؤ بڑھتا رہا، لیکن سفاری پارک آج بھی کراچی کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں شہری کچھ دیر کے لیے عمارتوں اور ٹریفک کے ہجوم سے نکل کر قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے قریب آ سکتے ہیں۔

    یہ ہے ساگا ڈیجیٹل، جہاں کراچی کی بدلتی ہوئی تصویر، اس کے قدرتی مقامات، جنگلی حیات اور شہری زندگی سے جڑی اہم کہانیاں حقائق کے ساتھ آپ تک پہنچائی جاتی ہیں۔

  • پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    پتھر، پرکار اور بند دروازے: قدیم کراچی میں فری میسنری کی تاریخ اور معاشرتی اثرات

    کراچی کے ایم آر کیانی روڈ پر واقع، کراچی پریس کلب کے نزدیک، پیلے جیزری پتھر سے تعمیر شدہ ایڈورڈین طرز کی شاہکار عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے آج شاذ و نادر ہی کوئی یہ اندازہ لگا سکے کہ ان خاموش راہداریوں، لکڑی کی سیڑھیوں اور بلند و بالا ستونوں کے پیچھے استعماری کراچی کی ایک طویل، پراسرار اور اثر انگیز تاریخ پوشیدہ ہے۔

    عام شہریوں کے لیے برسوں تک ‘جادو گھر’ کے نام سے معروف رہنے والی یہ عمارت دراصل ‘فری میسن لاج’ یا ‘لاج آف ہوپ’ تھی، ایک ایسا مرکز جس کے بند دروازوں کے پیچھے نوآبادیاتی طاقت، مقامی ایلیٹ اور عالمی بھائی چارے کا ایک اچھوتا تانا بانا بنا گیا۔

    برطانوی راج کے تحت بننے والے کراچی میں جہاں ریل، بندرگاہ اور تجارتی منڈیاں قائم ہو رہی تھیں، وہاں اس خفیہ سوسائٹی نے شہر کی سیاسی، معاشی اور بلدیاتی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سندھ میں ورثہ اور لاج آف ہوپ کا قیام

    سندھ پر برطانوی قبضے 1843 سے ذرا قبل، 1842 میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ڈاکٹر، سائنسدان اور پروونشل گرینڈ ماسٹر ڈاکٹر جیمز برنز نے کراچی میں فری میسنری کی بنیاد رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ اس کا مقصد سندھ میں تعینات برطانوی فوجی و سول حکام کے لیے ایک ایسا اتحاد اور نگار خانہ قائم کرنا تھا جہاں وہ اپنے عالمی فلسفے، یعنی ‘اخلاقی ارتقا اور بھائی چارے’ کے تحت اکٹھے ہو سکیں۔

    شروع میں اس لاج کے اجتماعات صدر اور کنٹونمنٹ کے عارضی مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ تاہم، 20ویں صدی کے اوائل میں جب کراچی بمبئی پریسیڈنسی کے تحت ایک شاندار اور جدید میٹروپولیٹن شہر کی شکل اختیار کر رہا تھا، تو فری میسنز کے لیے ایک باقاعدہ اور مستقل مرکز کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    بالآخر 18 دسمبر 1914 کو موجودہ ایم آر کیانی روڈ پر ‘لاج آف ہوپ نمبر 360’ کی شاندار عمارت کا افتتاح ہوا۔ اس عمارت کی معماری میں یونانی کلاسیکی ستون، سنہری پالش والی لکڑی کی سیڑھیاں، وسیع ڈائننگ ہال اور ایک پرسکون لائبریری شامل کی گئی، جو اس دور کی برطانوی اشرافیہ کے پُرتکلف ذوق کی عکاسی کرتی تھی۔

    قدیم کراچی کی ایک کثیر المذاہب ایلیٹ نیٹ ورک کمیونٹی

    یہ تاثر عام ہے کہ فری میسن لاج صرف انگریز حکمرانوں کا اڈہ تھا، لیکن تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں یہ لاج قدیم کراچی کے سب سے طاقتور، بااثر اور کثیر المذاہب طبقے کا مرکوزہ اجتماعی مرکز بن چکی تھی۔

    برطانوی سول و ملٹری بیوروکریسی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ تھی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جج، کلیکٹرز اور فوج کے اعلیٰ افسران اس لاج کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

    امیر پارسی تجارتی طبقات بھی اس نیٹ ورک میں شامل تھے۔ قدیم کراچی کے ارتقا اور ترقی میں پارسی برادری کا کردار محتاج بیان نہیں۔ پارسی تاجر انگریز انتظامیہ کے فکری اور معاشی طور پر بہت قریب تھے۔ جہانگیر کوٹھاری، ایڈلجی دنشاہ اور میتھا خاندانوں جیسی بااثر پارسی شخصیات کے کئی افراد انگریز افسران کے ساتھ ایک ہی لاج میں برابری کی سطح پر بیٹھتے تھے۔

    20ویں صدی میں انگریزی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ، نامور ہندو سیٹھوں اور ولایت سے پڑھے ہوئے مسلم بیرسٹرز و ججز نے بھی اس لاج کی رکنیت اختیار کی۔

    اگرچہ فری میسن لاج کے اندر سیاست اور مذہب پر بحث کرنے پر رسمی پابندی تھی، لیکن شہر کے تمام بااثر معاشی اور انتظامی مہروں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس بات کی ضمانت تھا کہ کراچی کی بندرگاہ، بلدیاتی منصوبوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے اہم غیر رسمی فیصلے اسی عمارت کی راہداریوں میں طے پاتے تھے۔

    جادو گھر’ کا مفروضہ اور عوامی نفسیات

    نوآبادیاتی دور میں عام شہریوں، مزدوروں اور مقامی غریب آبادی کے لیے اس عمارت کے اندر قدم رکھنا تو درکنار، اس کے قریب پھٹکنا بھی ناممکن تھا۔ شام کے وقت جب بگیوں اور قیمتی گاڑیوں میں سوار ہو کر بااثر شخصیات یہاں پہنچتیں اور عمارت کے وزنی لکڑی کے دروازے بند کر دیے جاتے، تو باہر کی دنیا میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

    عمارت کے اندرونی ہالز میں فرش پر چک دار سیاہ و سفید ٹائلیں، پرکار اور گونیا، مربع اور پرکار کی پراسرار علامات اور ارکان کے مخصوص اشاروں و ہاتھ ملانے کے خفیہ طریقوں نے عوام کے ذہنوں میں دہشت اور حیرت کا امتزاج پیدا کر دیا۔

    مقامی آبادی نے اس پراسرار اور الگ تھلگ عمارت کو ‘جادو گھر’ کا نام دے دیا۔ عوام کا ماننا تھا کہ انگریز اور سیٹھ رات کی تاریکی میں اندر جمع ہو کر کالا جادو کرتے ہیں، سحر انگیز عمل کے ذریعے غیب کا علم حاصل کرتے ہیں یا کسی نادیدہ طاقت کو تسخیر کرتے ہیں۔ یہ دیو مالائی کہانیاں زبان زد عام رہیں اور نسلاً بعد نسل کراچی کے لوک داستانوی حافظے کا حصہ بن گئیں۔

    مذہبی ابہام، صیہونیت اور عالمی تناظر

    فری میسنری کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ محض ایک غیر مذہبی اخلاقی بھائی چارہ ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو کسی ایک ‘اعلیٰ طاقت’ پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن اس کے اندرونی فلسفے اور رسومات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور قبالہ کے یہودی تصوف کی علامات کا گہرا دخل تھا۔

    20ویں صدی کے نصف میں، خاص طور پر 1948 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد، عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ فری میسنری اور صیہونیت کے درمیان پس پردہ گہرے روابط موجود ہیں۔ عالم اسلام اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس تنظیم پر سخت تنقید کی اور اسے اسلامی و ملکی مفادات کے خلاف ایک بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک قرار دیا۔

    پابندی، تحویل اور موجودہ حالت

    قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کا یہ فری میسن لاج چند دہائیوں تک عارضی اور محدود پیمانے پر کام کرتا رہا۔ لیکن بالآخر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ایک تاریخی اور سٹریٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان بھر میں فری میسنری اور اس سے وابستہ تمام لاجز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

    پابندی کے بعد کراچی کے اس ‘جادو گھر’ کے تمام ریکارڈز، علامات اور چابیاں ریاست نے اپنی تحویل میں لے لیں۔

    1990 کی دہائی میں یہ عمارت محکمہ تحفظ جنگلی حیات کو سونپ دی گئی۔

    سندھ کلچرل ہیریٹیج ایکٹ 1994 کے تحت اس شاندار تاریخی عمارت کو محفوظ قومی و صوبائی ورثہ قرار دیا گیا۔

    آج اس عمارت کے مرکزی ہالوں اور کمروں میں سندھ وائلڈ لائف کے دفاتر، نایاب حنوط شدہ جانوروں اور پرندوں کا ایک چھوٹا نیچرل ہسٹری میوزیم اور پبلک لائبریری قائم ہے۔

    ایک علمی و تاریخی جائزہ

    کراچی کا فری میسن لاج محض ایک پرانی عمارت نہیں، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کی اس سماجی اور معاشی بساط کا زندہ ثبوت ہے جس نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں۔ یہ عمارت اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک غیر ملکی استعماری طاقت نے مقامی ایلیٹ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک خفیہ اور بااثر نیٹ ورک قائم کیا۔

    آج اگرچہ اس عمارت کے اندر کا ‘جادو’ ختم ہو چکا ہے اور فری میسنز کا راز تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے، لیکن اس کی خوبصورت لکڑی کی سیڑھیاں، سنہری پالش والے دروازے اور خاموش راہداریاں آج بھی خاموشی سے اس دور کی داستان سناتی ہیں جب کراچی پر انگریز بیوروکریٹ، پارسی تاجر، ہندو سیٹھ اور مسلم بیرسٹرز مل کر ایک بند کمرے سے حکومت کیا کرتے تھے۔

  • کراچی: گلستانِ جوہر کے منور چورنگی انڈر پاس کی تعمیر کا کام مکمل

    کراچی: گلستانِ جوہر کے منور چورنگی انڈر پاس کی تعمیر کا کام مکمل

    کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے میگا سٹی میں ٹریفک کا مسئلہ صرف سڑکوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ایک ہی چوراہے پر کتنی گاڑیاں، کتنے راستے اور کتنی سمتیں ایک دوسرے کی روانی کو متاثر کر رہی ہیں۔

    دنیا کے بڑے شہروں میں مصروف چوراہوں پر انڈر پاس یا فلائی اوور بنانے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ ایک سمت میں جانے والی ٹریفک کو دوسری سمت کی ٹریفک سے الگ کیا جا سکے۔ اس طرح گاڑیوں کو بار بار سگنل پر رکنے کی ضرورت کم ہوتی ہے، چوراہے پر دباؤ گھٹتا ہے اور ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کی امید پیدا ہوتی ہے۔

    کراچی میں اسی سوچ کے تحت گلستانِ جوہر کے منور چورنگی پر ایک نیا انڈر پاس تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تقریباً دو ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا ہے۔

    تقریباً 500 میٹر طویل اس انڈر پاس کی چوڑائی 24 فٹ ہے اور اس میں دوطرفہ ٹریفک کے لیے راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ 16 ماہ میں مکمل ہوا، جبکہ اس کی اصل تکمیل کی مدت 24 ماہ مقرر کی گئی تھی۔ یوں تعمیراتی کام مقررہ مدت سے آٹھ ماہ پہلے مکمل کیا گیا۔

    انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر حکام نے توقع ظاہر کی کہ منصوبے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کے سفری وقت میں کمی آئے گی۔ تاہم چونکہ اسے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے، اس لیے اس کے حقیقی اثرات کا فیصلہ طویل مدتی ٹریفک اعداد و شمار کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

    یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔

    کسی ایک چوراہے پر رکاوٹ کم کرنا پورے شہری ٹریفک نظام کا حل نہیں ہوتا۔ اگر انڈر پاس کے بعد آنے والے چوراہوں، سڑکوں یا رابطہ سڑکوں کی گنجائش کم ہو تو ٹریفک کا دباؤ اگلے مقام پر منتقل ہوسکتا ہے۔

    اسی لیے منور چورنگی انڈر پاس کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ انڈر پاس کے اندر گاڑیاں کتنی تیزی سے گزر رہی ہیں، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس منصوبے نے پورے گلستانِ جوہر کے ٹریفک نیٹ ورک پر کیا اثر ڈالا ہے۔

    یہ منصوبہ ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب گلستانِ جوہر میں ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال طویل عرصے سے شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ انڈر پاس کی تعمیر کے دوران بھی راستوں کی بندش، ٹریفک جام، گرد و غبار اور سفر میں اضافی وقت جیسے مسائل کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

    اب ضرورت صرف انڈر پاس تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اس سے منسلک سڑکوں، نکاسی آب، اسٹریٹ لائٹس، ٹریفک سگنلز اور پیدل چلنے والوں کی سہولتوں کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔

    کیونکہ جدید شہر صرف تیز گاڑیوں سے نہیں بنتا۔

    جدید شہر وہ ہوتا ہے جہاں سفر محفوظ ہو، وقت کم لگے، سڑکیں قابلِ استعمال ہوں، پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب راستے موجود ہوں اور شہریوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    منور چورنگی انڈر پاس گلستانِ جوہر کے لیے ایک نئی سہولت ضرور ہے، مگر اس کی اصل کامیابی کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

    جب یہ معلوم ہوگا کہ تقریباً دو ارب روپے کی یہ سرمایہ کاری کراچی کے شہریوں کا کتنا وقت بچاتی ہے، منور چورنگی کے گرد ٹریفک کا دباؤ کتنا کم کرتی ہے اور شہر کی مجموعی ٹریفک کو کتنی حقیقی روانی فراہم کرتی ہے۔

  • جہاں تھان کھلتے تھے، وہاں اب دھواں اڑتا ہے: کراچی کی شکارپوری مارکیٹ اور سندھی ہندوؤں کی گم گشتہ معاشی سلطنت

    جہاں تھان کھلتے تھے، وہاں اب دھواں اڑتا ہے: کراچی کی شکارپوری مارکیٹ اور سندھی ہندوؤں کی گم گشتہ معاشی سلطنت

    انگریزوں کی آمد سے قبل کے کراچی واسی خاندان کے ایک فرد کی پرانے شہر کی گلیوں سے لکھی داستان

    سندھ کا تاریخی شہر شکارپور کسی دور میں اپنی بے مثال معاشی خوشحالی، عطر میں بسے باغوں اور سرپوشیدہ بازاروں کی بدولت ‘سندھ کا پیرس’ کہلاتا تھا۔

    انیسویں اور بیسویں صدی کی دہلیز پر جب وہاں کے دور اندیش، ہنرمند اور معاشی بصیرت سے مالامال سندھی ہندو تاجروں نے نوآبادیاتی دور میں ابھرتے ہوئے بندرگاہی شہر کراچی کا رخ کیا تو انہوں نے نیپئر روڈ سے لے کر اسٹریچن روڈ اور بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، کے اطراف کو پورے برصغیر کا ایک مایہ ناز اور مرکزی تجارتی محور بنا دیا۔

    انہی تاجروں کی عظمت رفتہ کی ایک زنگ آلود یادگار ‘شکارپوری کلاتھ مارکیٹ’ ہے، جس کی بوسیدہ فصیل پر لگی دھندلی تختی آج بھی ماضی کے اس عظیم تجارتی جاہ و جلال کا نوحہ پڑھتی نظر آتی ہے۔ مگر افسوس، وقت کی بے رحم لہروں، شہری منصوبہ بندی کی عدم توجہی اور ہماری اجتماعی بے حسی نے اس تاریخی ورثے کو ایک ایسے تاریک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں تاریخ کی جگہ دھول اور یادوں کی جگہ گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں نے لے لی ہے۔

    دیوناگری حروف اور ماضی کا عالمی تجارتی جاہ و جلال

    میری ویدر کلاک ٹاور کے بالکل عقب میں، تاریخی پرانے شہر کے اہم شاہراہوں بندر روڈ اور میکلوڈ روڈ کے سنگم پر واقع اس تاریخی عمارت کے صدر دروازے کو دیکھیں تو پتھریلی تختی پر انگریزی کے ساتھ ساتھ دیوناگری رسم الخط میں ‘شکارپوری کپڑا مارکیٹ’ اور پرانا سروے نمبر 121/2619 آج بھی کندہ ہے۔

    تقسیم ہند سے قبل، شکارپور کے سیٹھوں کا مالیاتی جال صرف سندھ یا ہندوستان تک محدود نہیں تھا۔ ان کا ہنڈی اور رقم کی منتقلی کا عالمی نیٹ ورک وسطی ایشیا، کابل، قندھار، سمرقند اور بخارا تک پھیلا ہوا تھا۔ کراچی کی یہ شکارپوری مارکیٹ ان کی اسی بین الاقوامی تجارتی سلطنت کا ایک مضبوط اور اہم ترین گڑھ تھی، جہاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا لین دین اور برآمدات کے سودے طے پاتے تھے۔

    رونقوں کی جگہ اب گاڑیوں کا راج، ایک الم ناک زوال

    آج کی تلخ اور الم ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ شاندار تاریخی بازار، بلڈروں کے ہاتھوں بڑے کمپلیکس میں تبدیل ہونے سے قبل، ایک بے ترتیب اور زبوں حال پارکنگ لاٹ کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    زوال کی تصویر

    وہ وسیع دالان اور گلیاں جہاں کبھی ململ، زربفت، ریشم اور لٹھے کے تھان کھلا کرتے تھے اور جہاں ہندوستان بھر کے خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں اب آس پاس کے بینکوں اور تجارتی دفاتر کے ملازمین کی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔

    فن تعمیر کی تباہی

    لکڑی کی روایتی اور خوبصورت چھتیں، برآمدے اور بالکونیاں عدم توجہی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وقت کے ساتھ گر چکی ہیں۔

    ماحولیاتی اثرات

    اب صرف سامنے کی تاریخی فصیل اور دیوار ہی باقی بچی ہے، جو ایم اے جناح روڈ سے روزانہ گزرنے والی لاکھوں گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں اور شور کا خاموشی سے مقابلہ کر رہی ہے۔

    سندھی ہندو تاجروں کی دیگر یادگار مارکیٹیں

    کراچی کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی معاشی بنیادوں کو استوار کرنے میں سندھی ہندو برادری کا کردار بنیادی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے بندر روڈ کے اطراف میں کپڑے اور تھوک تجارت کے کئی ایسے مراکز قائم کیے جو آج بھی بدلتے ناموں کے ساتھ شہر کی معاشی شریان بنے ہوئے ہیں۔

    1۔ موجودہ جامع کلاتھ مارکیٹ: ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ مارکیٹ قیام پاکستان سے قبل ہندو تاجروں کی ایمانداری اور معیاری کپڑے کی فراہمی کے لیے پورے خطے میں مشہور تھی۔ آج یہ کپڑے، خصوصاً خواتین کے ملبوسات اور روایتی کڑھائی کا ایک عظیم الشان مرکز ہے۔

    2۔ بولٹن مارکیٹ: اگرچہ اس مارکیٹ کا نام برطانوی میونسپل کمشنر کے نام پر رکھا گیا، لیکن اس کے اطراف کی گلیوں میں کپڑا بازار اور تھوک تجارت کی گلیوں کو آباد کرنے اور اسے برصغیر کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار کروانے میں سندھی ہندو سیٹھوں اور خوجہ تاجر برادری کا عظیم سرمایہ اور محنت شامل تھی۔

    3۔ لائٹ ہاؤس، میٹھادر اور کھارادر کے بازار: پرانے شہر کے ان تاریخی علاقوں میں موجود متعدد ٹیکسٹائل مراکز اور دکانیں آزادی سے قبل ہندو اور پارسی تاجروں کی ملکیت تھیں۔ یہاں تیار اور سمیٹا جانے والا کپڑا نہ صرف ہندوستان کے دیگر شہروں بلکہ خلیجی ممالک تک بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کیا جاتا تھا۔

    بحالی کی آخری امید، اڈاپٹیو ری یوز کا ماڈل

    اس زبوں حالی کے باوجود امید کا دامن یکسر ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ اگر سندھ ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ، ثقافتی ادارے اور نجی مالکان مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اس عمارت کو اس کے اصل طرز تعمیر کے مطابق بحال کیا جا سکتا ہے۔

    دنیا بھر کی تاریخی اور نوآبادیاتی بندرگاہی بستیوں میں ایسی پرانی مارکیٹوں کو اڈاپٹیو ری یوز کی معاشی پالیسی کے تحت بحال کیا جاتا ہے۔ ان عمارتوں کو محض مسمار کرنے کے بجائے ثقافتی مراکز، روایتی دستکاری کے بازاروں، آرٹ گیلریوں یا سیاحتی کیفے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس قدم سے نہ صرف شہر کی معماری کی تاریخ محفوظ ہوتی ہے بلکہ مقامی معیشت اور ثقافتی سیاحت کو بھی نیا جلا ملتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم اور کراچی واسیوں کی ہجرت نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، وہاں ان تاریخی عمارتوں کو بھی ان کے اصل ساخت کاروں اور مالکان سے محروم کر دیا۔ شکارپوری کلاتھ مارکیٹ کے پتھر پر لگی وہ دھندلی تختی دراصل کراچی کا وہ گمشدہ، کثیرالثقافتی اور شاندار چہرہ ہے جسے ہم نے جدیدیت کی بے ہنگم دوڑ میں پس پشت ڈال دیا ہے۔

    اگر آج ہم نے پرانے شہر کے ان خاموش پتھروں کی زبان نہ سنی اور ان کے تحفظ کا فوری طور پر بیڑا نہ اٹھایا تو کل کو یہ عظیم معاشی تاریخ صرف پرانی کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گی اور کراچی اپنے شاندار ماضی کے ایک انتہائی اہم اور درخشندہ باب سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا۔

  • لیاری ندی کے پرانے راستے پر دفن ماضی: کراچی کے پرانے حاجی کیمپ کے عروج و زوال کی داستان

    لیاری ندی کے پرانے راستے پر دفن ماضی: کراچی کے پرانے حاجی کیمپ کے عروج و زوال کی داستان

    کراچی کی تجارتی، شہری اور ثقافتی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس عظیم ساحلی شہر کا کونہ کونہ کسی نہ کسی تاریخی موڑ کا گواہ نظر آتا ہے۔

    اسی تاریخ کا ایک روشن، معتبر اور مذہبی ہم آہنگی سے درخشاں باب لیاری ندی کے پرانے راستے سے متصل، نیپیئر کوارٹرز اور لی مارکیٹ کے قریب پٹی پر واقع ہے۔ یہ پرانا حاجی کیمپ محض ایک جغرافیائی خطہ یا عمارت نہیں تھا، بلکہ سندھ کے بندرگاہی شہر کراچی میں برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذباتی لگاؤ، آنسوؤں، دعاؤں اور حج بیت اللہ کے لیے مقدس سفر کی تڑپ کا ایک بڑا مرکزی نقطہ تھا۔

    اس مقام نے نہ صرف برطانوی راج کے دوران بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی ایک درخشندہ باب رقم کیا، لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی ورثہ آج تجارتی شور شرابے، لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے گوداموں تلے کہیں گم ہو چکا ہے۔

    حاجی کیمپ کا قیام اور برطانوی عہد کا پس منظر

    انیسویں صدی کے آخری عشروں اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب ہوائی سفر کا کوئی وجود نہ تھا، برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً سندھ، پنجاب، بلوچستان اور سرحد پار افغانستان و وسطی ایشیا کے زائرین کے لیے حج بیت اللہ کی ادائیگی کا سب سے محفوظ، سستا اور بڑا ذریعہ بحری راستے کا سفر تھا۔

    برطانوی سرکار نے اس دور میں کراچی کو ایک اہم اور باقاعدہ بحری حج بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے لی مارکیٹ اور گھاس منڈی روڈ کے سنگم کے قریب ایک وسیع و عریض اراضی پر باقاعدہ حاجی کیمپ قائم کیا گیا۔

    ملک بھر اور بیرون ملک سے قافلوں کی صورت میں آنے والے عازمین حج، کیماڑی بندرگاہ سے بحری جہازوں پر سوار ہونے سے پہلے کئی کئی دن بلکہ ہفتوں اسی کیمپ میں قیام کرتے تھے۔

    یہ کیمپ محض ایک سرائے یا مسافر خانہ نہ تھا، بلکہ ایک پورا عارضی شہر بن جاتا تھا۔ یہاں زائرین کے پاسپورٹ کی چھان بین، ویزا کے اندراج اور طبی معائنے کے تمام مراحل انگریز انتظامیہ کے تحت انجام دیے جاتے تھے۔

    چوں کہ اس دور میں حج کا سفر مہینوں پر محیط ہوتا تھا، اس لیے زائرین اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان، بستر اور ضروری اشیا لاتے تھے، جس سے اس کیمپ میں ہر زبان، پشتو، پنجابی، بلوچی، سندھی وغیرہ، اور ہر نسل کے لوگ ایک ہی مقدس جذبے کے تحت اکٹھے نظر آتے تھے۔

    نصروانجی خاندان، پارسی بصیرت اور لال اینٹوں کی تعمیر

    پرانے حاجی کیمپ کی تاریخ اس خطے کی مشہور پارسی برادری کی فلاحی روایات اور ان کی تجارتی جائیدادوں سے بھی گہرے طریقے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ کیمپ جس علاقے میں واقع تھا، وہاں کراچی کے معزز پارسی خاندان نصروانجی کے بڑے تجارتی اور صنعتی اثاثے موجود تھے۔

    کیمپ سے کچھ آگے نصروانجی خاندان کی اینٹوں اور مٹی کی ٹائلوں کی بڑی فیکٹری اور گودام واقع تھے۔ یہ جائیدادیں نارتھ ویسٹرن ریلوے لائن کے نزدیک واقع تھیں تاکہ اینٹوں اور دیگر تعمیری مواد کو ملک کے مختلف حصوں میں آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔

    تجارتی اور تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب حاجی کیمپ میں زائرین کے لیے باقاعدہ بیرکیں، رہائشی کمرے اور دفاتر تعمیر کیے جا رہے تھے تو ان کی پائیدار بنیادوں اور دیواروں میں نصروانجی فیکٹری کی تیار کردہ مشہور پائیدار لال اینٹیں اور مٹی کے بلاکس بکثرت استعمال کیے گئے تھے۔

    جدید کراچی کے معمار اور کراچی میونسپلٹی کے پہلے میئر جمشید نصروانجی مہتا تمام انسانیت، مذاہب اور عقائد کے بے لوث احترام کی ایک مجسم تصویر تھے۔ انہوں نے بطور میئر اور ایک مخیر شخصیت کے، حاجی کیمپ میں آنے والے مسلمانوں کی خدمت کو اپنا انسانی فریضہ سمجھا اور کئی انقلابی اقدامات کیے۔

    پینے کے میٹھے پانی کا انتظام

    حج کے ایام میں جب ہزاروں عازمین ایک ساتھ جمع ہوتے تو پورے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو جاتا تھا۔ جمشید نصروانجی نے کراچی میونسپلٹی کے واٹر ٹینکرز، عارضی کھلے نلوں اور نئی پائپ لائنوں کے ذریعے حاجی کیمپ میں 24 گھنٹے میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

    طبی کیمپس اور صفائی کے اقدامات

    اس دور میں ہیضہ، ملیریا اور چیچک جیسی وبائی بیماریاں سفر حج کے لیے بڑا خطرہ ہوتی تھیں۔ نصروانجی نے میونسپلٹی کے عملے کو پابند کیا کہ حاجی کیمپ میں روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور صفائی کے اعلیٰ ترین معائنے ہوں۔

    انہوں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے موبائل ڈسپنسریاں اور طبی کیمپس قائم کروائے، جہاں زائرین کا مکمل طبی معائنہ اور مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی تھی۔

    تقسیم کے بعد کا دور
    سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد

    1947  میں تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے بعد اس پرانے حاجی کیمپ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ اب یہ اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد مرکزی حج بندرگاہ بن چکا تھا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جب حج پر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی تو یہی پرانا حاجی کیمپ رونق کا مرکز بنا رہتا تھا۔

    اس دور میں کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد جیسے تاریخی بحری جہازوں کے نام ہر پاکستانی کے دل پر نقش تھے۔

    زائرین اپنے پیاروں کے ساتھ حاجی کیمپ پہنچتے، جہاں سے بسوں اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے انہیں کیماڑی کی گوپال داس گودی تک لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے طویل اور مبارک بحری سفر کا آغاز کر سکیں۔

    علاقے کی گنجائش، منتقلی اور نیا حاجی کیمپ

    وقت گزرنے کے ساتھ جہاں کراچی کی آبادی اور ٹریفک میں بے تحاشا اضافہ ہوا، وہیں عازمین حج کی تعداد بھی لاکھوں تک جا پہنچی۔ لی مارکیٹ، گھاس منڈی روڈ اور نیپیئر کوارٹرز کی تنگ گلیاں اور سڑکیں اس قدر لاجسٹکس اور انسانی اژدہام کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہونے لگیں۔

    کیمپ کے اطراف میں مال بردار گاڑیوں اور مسافروں کے بے پناہ رش کے باعث شہر کا تجارتی نظام متاثر ہونے لگا۔

    حکومت نے ان مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے حاجی کیمپ کو اس پرانے اور گنجان علاقے سے منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ چنانچہ موجودہ امریکی سفارت خانے، سلطان آباد، موجودہ ایم ٹی خان روڈ کے قریب سمندر کے وسیع اور کشادہ ساحلی منظرنامے پر ایک بڑا اور جدید نیا حاجی کیمپ قائم کیا گیا، جہاں عازمین حج کو ہوائی اور بحری دونوں قسم کی جدید ترین سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔

    پرانا حاجی کیمپ، لکڑی بازار کے شور میں گم ایک خاموش گواہ

    آج اگر کوئی شخص نیپیئر کوارٹرز کے اس پرانے حصے یا لی مارکیٹ سے گھاس منڈی کی طرف جائے تو اسے پرانے حاجی کیمپ کی وہ روحانی رونقیں، لال اینٹوں کی بیرکیں اور عازمین کی رقت آمیز دعائیں نظر نہیں آئیں گی۔

    حاجی کیمپ کی منتقلی کے بعد یہ پورا علاقہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کے بڑے لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے بھاری بھاری گوداموں میں تبدیل ہو گیا۔

    آج وہاں لکڑی کٹنے کی مشینیں، لکڑی کے تختوں اور لنڈا بازار کے سامان سے لدے ہوئے ٹرک اور مزدوروں کا شور تو سنائی دیتا ہے، لیکن تاریخ کا طالب علم جب وہاں سے گزرتا ہے تو اسے اس مٹی میں سے عقیدت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کی مہک آتی ہے۔

    کراچی کے نقشوں اور معمر شہریوں کے ذہنوں میں یہ علاقہ آج بھی پرانا حاجی کیمپ کے نام سے ہی زندہ ہے، ایک ایسا نام جو کراچی کے عظیم الشان ماضی، اس کی مذہبی ہم آہنگی اور نصروانجی خاندان کی لازوال خدمات کا ایک خاموش لیکن زندہ گواہ ہے۔

  • سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کی ایمرجنسی اور کیژولٹی شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرنو تعمیر اور توسیع دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ محض عمارت کی مرمت یا تزئین تک محدود نہیں، بلکہ ایمرجنسی میں مریضوں کی گنجائش بڑھانے، ان کی فوری درجہ بندی، بروقت علاج، انتہائی نگہداشت اور تشخیصی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مکمل کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے تحت سول ہسپتال کراچی کے کیژولٹی اور ایمرجنسی یونٹ کی تعمیر نو کا منصوبہ مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے ابتدا میں 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم بعد میں اس کی لاگت بڑھا کر 30 کروڑ روپے کردی گئی۔

    منصوبے کے نتیجے میں ایمرجنسی شعبے میں بستروں کی گنجائش 45 سے بڑھا کر 85 کردی گئی ہے، یعنی اب یہاں پہلے کے مقابلے میں 40 اضافی بستروں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ اضافہ ایسے ہسپتال میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض ایمرجنسی علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے میں 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس وارڈ کا مقصد ایسے مریضوں کو دوسرے مریضوں سے الگ رکھنا ہے جنہیں متعدی یا ایسی بیماریوں کے باعث علیحدہ طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔

    ایمرجنسی کے اندر چار بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ بھی بنایا گیا ہے۔ یہاں ایسے شدید بیمار مریضوں کو فوری اور مسلسل طبی نگرانی فراہم کی جاسکتی ہے جن کی حالت نازک ہو اور جنہیں فوری طبی مداخلت کی ضرورت ہو۔

    نئے شعبے کی ایک اہم سہولت فاسٹ ٹریک زون ہے۔ اس حصے میں نسبتاً مستحکم حالت والے مریضوں کو تیزی سے طبی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے مریضوں کو، جنہیں فوری مگر پیچیدہ علاج یا داخلے کی ضرورت نہیں، انتہائی تشویش ناک حالت میں آنے والے مریضوں سے الگ رکھنا ہے تاکہ ایمرجنسی کا نظام زیادہ منظم انداز میں کام کرسکے۔

    اس کے ساتھ ٹرائی ایج ایریا بھی قائم کیا گیا ہے۔ ٹرائی ایج ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی فوری طبی جانچ اور ترجیح طے کرنے کا نظام ہے۔ اس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس مریض کو فوری علاج درکار ہے، کون کچھ دیر انتظار کرسکتا ہے اور کس مریض کو کس نوعیت کی طبی سہولت کی ضرورت ہے۔

    ایمرجنسی میں مکمل ریسسی ٹیشن روم بھی بنایا گیا ہے۔ یہ وہ خصوصی جگہ ہوتی ہے جہاں انتہائی نازک حالت میں پہنچنے والے مریضوں کو فوری طور پر زندگی بچانے والی طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ دل کا دورہ، سانس رکنے، شدید صدمے یا دیگر جان لیوا صورتحال میں یہ سہولت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

    نئے شعبے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے الگ کمرے اور معاون سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ طبی تربیت، اجلاسوں اور عملے کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے سیمینار روم بھی بنایا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کی ایک اہم خصوصیت ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی سہولت ہے۔ اس سے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو بنیادی تشخیصی عمل کے لیے ہسپتال کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے اور ڈاکٹر زیادہ تیزی سے تشخیص اور علاج کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے کو مختلف حصوں میں منظم کرنے کا مقصد مریض کے ہسپتال پہنچنے سے لے کر ابتدائی جانچ، ٹرائی ایج، تشخیص، فوری علاج اور ضرورت پڑنے پر انتہائی نگہداشت تک کے مراحل کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔

    ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کراچی سندھ کے بڑے سرکاری تدریسی اور ثالثی سطح کے ہسپتالوں میں شامل ہے، جہاں ایمرجنسی شعبے پر مسلسل مریضوں کا دباؤ رہتا ہے۔ یہ شعبہ چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایمرجنسی کی کارکردگی کا تعلق صرف بستروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ مریض کو کتنی جلدی دیکھا جاتا ہے، اس کی حالت کی ترجیح کیسے طے ہوتی ہے، ضروری تشخیص کتنی تیزی سے ہوتی ہے اور علاج کب شروع کیا جاتا ہے۔

    فاسٹ ٹریک زون، ٹرائی ایج ایریا، ریسسی ٹیشن روم، انتہائی نگہداشت یونٹ، آئسولیشن وارڈ اور ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی سہولیات اسی عمل کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

    اس منصوبے کی اہمیت صرف روزمرہ کے مریضوں تک محدود نہیں۔ کراچی میں شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک کے مریضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں بھی ہسپتالوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ ایسے حالات میں مریضوں کو علیحدہ رکھنے اور ایمرجنسی کے مجموعی انتظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی کی یہ توسیع دراصل ایک ایسے شعبے کو جدید بنانے کی کوشش ہے جہاں چند منٹ بھی اہم ہوتے ہیں۔ 45 سے 85 بستروں تک توسیع، ٹرائی ایج سے ریسسی ٹیشن تک الگ سہولیات، انتہائی نگہداشت، آئسولیشن اور تشخیصی خدمات کا ایمرجنسی کے اندر موجود ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توجہ صرف زیادہ مریض رکھنے پر نہیں بلکہ انہیں زیادہ منظم اور بروقت طبی نگہداشت فراہم کرنے پر بھی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل

    جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

  • کراچی کی گرمی میں 36 سالہ کسووری، پاکستان کے نایاب پرندوں میں سے ایک ک چڑیاگھر انتظامیہ کیسے خیال رکھتی ہے؟

    کراچی کی گرمی میں 36 سالہ کسووری، پاکستان کے نایاب پرندوں میں سے ایک ک چڑیاگھر انتظامیہ کیسے خیال رکھتی ہے؟

    پاکستان میں موجود کسووریوں کی تعداد صرف دو بتائی جاتی ہے، ایک کراچی چڑیا گھر میں اور دوسری لاہور چڑیا گھر میں۔ لیکن کراچی میں موجود یہ کسووری محض ایک نایاب پرندہ نہیں، بلکہ شہر کی کئی نسلوں کے سامنے پلنے والی ایک زندہ تاریخ ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہاں موجود کسووری کی عمر 36 سال ہے اور اسے چڑیا گھر کا قدیم ترین مقیم جانور قرار دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ پرندہ تقریباً 32 سال قبل کراچی چڑیا گھر لایا گیا تھا، جبکہ اس کی قید میں عمر 40 سال تک پہنچ سکتی ہے۔

    کسووری دنیا کے بڑے اڑ نہ سکنے والے پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے سر پر ہیلمٹ نما سخت ساخت ہوتی ہے جسے کیسک کہا جاتا ہے، جبکہ اس کی نیلی اور سرخ گردن، سیاہ پروں اور طاقتور ٹانگیں اسے دنیا کے منفرد ترین پرندوں میں شامل کرتی ہیں۔

    یہ پرندہ اڑ نہیں سکتا، لیکن اس کی طاقتور ٹانگوں پر موجود تیز پنجے اسے انتہائی خطرناک بنا سکتے ہیں۔ کسووری بنیادی طور پر پھل خور پرندہ ہے اور جنگلات میں پورا پھل نگلنے کے بعد بیجوں کو دور تک پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے جنگلات کے اہم ترین بیج پھیلانے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    کسووری کا قدرتی مسکن نیو گنی کے گھنے بارانی جنگلات اور شمال مشرقی آسٹریلیا کے علاقے ہیں۔ ایسے ماحول سے تعلق رکھنے والے پرندے کا کراچی جیسے گرم، خشک اور گنجان آباد شہر میں 36 سال تک زندہ رہنا یقیناً حیران کن ہے۔

    اس سوال کا جواب مسلسل دیکھ بھال میں پوشیدہ ہے۔ کراچی چڑیا گھر کی سرکاری معلومات کے مطابق جانوروں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر، زولوجسٹ، پیرا ویٹ اور تربیت یافتہ زو کیپرز سمیت فنی عملہ خدمات انجام دیتا ہے۔ کسووری کی خوراک میں چقندر، کھیرہ، سیب، کیلا اور دیگر غذائیں شامل ہیں۔

    کسووری جیسے نایاب اور حساس پرندے کے لیے صرف خوراک کافی نہیں ہوتی۔ محفوظ ماحول، مناسب جگہ، متوازن غذا، صحت کی مسلسل نگرانی اور تربیت یافتہ عملہ اس کی طویل بقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    کسووری کراچی چڑیا گھر میں پہلی بار کب آیا، اس حوالے سے دستیاب ریکارڈز میں معمولی فرق ملتا ہے، تاہم چڑیا گھر کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ اسے تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہاں موجود بتاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کی کئی نسلیں اس منفرد پرندے کو ایک ہی جگہ دیکھتی چلی آرہی ہیں۔

    کراچی کی تپتی گرمی، لاکھوں کی آبادی اور مسلسل شور کے درمیان یہ 36 سالہ کسووری ایک زندہ یادگار کی طرح موجود ہے۔ یہ پرندہ صرف ایک نایاب جانور کی موجودگی کی علامت نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ تحفظ، ماہر نگہداشت اور مناسب انتظام کے ذریعے غیر معمولی جنگلی حیات کو قدرتی مسکن سے دور بھی طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

    اور شاید یہی اس کسووری کی سب سے بڑی کہانی ہے، ایک ایسا پرندہ جو اڑ نہیں سکتا، مگر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کراچی کے آسمان تلے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

  • کراچی سندھ کا تاریخی شہر اور اس کے معمار

    کراچی سندھ کا تاریخی شہر اور اس کے معمار

    نام نہاد بانیانِ پاکستان کا نعرہ لگانے والے کچھ متعصب افراد اور تنظیمیں کراچی کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کراچی، جو آج پاکستان کی معاشی شہ رگ اور دنیا کے بڑے میگا شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس کی تاریخ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کی آمد سے سینکڑوں سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔

    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کراچی کو جدید طرز پر تعمیر کرنے، اس کی بنیادیں مضبوط کرنے اور اسے ایک ترقی یافتہ تجارتی مرکز بنانے میں سندھیوں، سندھ کی سرکردہ شخصیات اور ہندو سندھی تاجروں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔

    جب اردو بولنے والی مہاجر برادری کے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے مختلف علاقوں، جیسے اتر پردیش، سینٹرل پردیش، بہار اور لکھنؤ میں اپنی زندگی گزار رہے تھے، اس وقت سندھ کے سرگرم رہنما کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے عملی میدان میں موجود تھے۔

    کراچی اصل میں سندھ کے ماہی گیروں اور مقامی لوگوں، یعنی کولاچی کے ملاحوں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ برطانوی راج کے دوران، خاص طور پر 1843ء میں سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد، کراچی کی جغرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ایک بندرگاہ اور انتظامی مرکز کے طور پر ترقی دی گئی۔ اس پورے عمل میں سندھ کی زمین، سندھ کے پیسے اور سندھ کے مقامی لوگوں کا براہِ راست کردار تھا۔

    کراچی کے اصل معمار: چند اہم تاریخی شخصیات

    کراچی کو جدید شہر بنانے میں جن عظیم شخصیات کے نام سب سے نمایاں ہیں، ان میں جمشید مہتا، سائیں جی۔ ایم۔ سید اور رائے ہری چند رائے کے نام تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔

    جمشید این۔ آر۔ مہتا (جمشید مہتا):

    جمشید مہتا کو ’کراچی کا فادر‘ (کراچی کا باپ) کہا جاتا ہے۔ وہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے پہلے صدر اور بعد میں میئر رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کراچی کی بہتری کے لیے وقف کیا۔ شہر میں پینے کے پانی کا نظام، صفائی کا بہترین انتظام، عوامی پارک، اسکول اور اسپتال قائم کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے کراچی کو ایک صاف ستھرا، سرسبز اور جدید بین الاقوامی شہر بنانے کی بنیاد رکھی۔

    1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو یو۔ پی، سی۔ پی، بہار اور لکھنؤ سے آئے تھے۔ جب وہ کراچی منتقل ہوئے تو کراچی پہلے ہی ایک تیار شدہ، ترقی یافتہ اور منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

    ہجرت کرکے آنے والوں نے شہر کی بنیادیں نہیں رکھیں، لیکن پہلے سے موجود ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے پر اپنا سماجی اور سیاسی اثر ضرور قائم کیا۔ تاہم، سندھیوں کی قربانیوں، زمینوں اور پہلے سے کیے گئے تعمیراتی کاموں کو نظر انداز کرکے کراچی کی ترقی کا تمام کریڈٹ صرف مہاجر برادری کو دینا تاریخ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔

    اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی شہر راتوں رات ترقی نہیں کرتا۔ کراچی کی ترقی میں سندھیوں کی جغرافیائی، معاشی اور سیاسی قربانیاں شامل ہیں۔ جمشید مہتا جیسی شخصیات کی انتظامی صلاحیت اور سندھ کے وسائل نے اس شہر کو ایشیا کے ایک مثالی شہر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

    تاریخ کسی بھی قوم کے حقوق اور کردار کو چھپا نہیں سکتی۔ کراچی سندھ کا حصہ ہے، سندھ کا دل ہے، اور اس دل کو دھڑکانے والے اصل ہاتھ سندھیوں کے ہی تھے اور ہیں۔

    مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کی ترقی میں مختلف برادریوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے، لیکن سندھیوں، سندھ کے خیرخواہوں، مقامی رہنماؤں اور ہندو سندھی معماروں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اردو بولنے والے مہاجروں کی آمد سے بہت پہلے کراچی اپنی ترقی کے بلند مراحل طے کر چکا تھا۔

    اس لیے تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو جدید اور ترقی یافتہ شہر بنانے کا اصل فخر سندھیوں کے حصے میں آتا ہے۔ جدید کراچی کی تعمیر میں سندھ ان تین سپوتوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید

    برطانوی ہندوستان کے دور میں مقامی لوکل بورڈ کا نظام زیادہ تر نوآبادیاتی مفادات تک محدود تھا، لیکن سندھ کے کچھ روشن ضمیر رہنماؤں نے اس پلیٹ فارم کو عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید نے اپنی جوانی کی ابتدائی دہائیوں ہی میں مقامی اداروں کے ذریعے عوامی خدمت کا آغاز کیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کراچی اور دیگر علاقوں کی ترقی کے لیے کوشش کی اور اہم انتظامی و سماجی اصلاحات متعارف کرائیں، جنہوں نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کا مقامی حکومتوں میں سفر، مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک، ترقی کا سفر تھا۔ کراچی لوکل بورڈ کے نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں تعلیم، صحت اور آمدورفت کے حوالے سے کئی عملی اقدامات کیے گئے۔

    لوکل بورڈ میں حاصل ہونے والے اس انتظامی تجربے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کے مجموعی سیاسی فکر اور عوام دوست حکمت عملی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کا تعلق سن کے سنائی سادات کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ بچپن میں والد کی وفات کے بعد خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کے فلاحی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔

    باقاعدہ اسکولی تعلیم کے بغیر انہوں نے عربی، فارسی، سندھی اور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا، جس نے انہیں فکری طور پر اپنے ہم عصر لوگوں سے آگے کھڑا کر دیا۔

    انہوں نے مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک کا سفر طے کیا۔ 1925ء میں سائیں جی۔ ایم۔ سید پہلے مانجھند تعلقہ لوکل بورڈ کے رکن اور پھر صدر منتخب ہوئے۔

    یہیں انہوں نے پہلی بار اپنی شاندار انتظامی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سن اور مانجھند میں نائٹ اسکول، انگریزی اسکول اور بورڈنگ ہاؤس کی بنیاد رکھی۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے 1928ء سے 1929ء تک اس وقت کے کراچی کلکٹریٹ کے وسیع ضلعی لوکل بورڈ میں، جس میں سندھ کے بڑے دیہی علاقے شامل تھے، نائب صدر اور پھر صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے رائے بہادر شیو رام دیون مل جیسی نامور شخصیات کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنی غیر معمولی کارکردگی منوائی۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کی لوکل بورڈ کی قیادت کا دور، بنیادی طور پر 1925ء سے 1929ء کے آخر تک نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے، فلاحی کاموں کے حوالے سے سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دور میں کراچی ضلعی لوکل بورڈ کے زیر انتظام علاقوں میں نئے پرائمری اور ہائی اسکول کھولے گئے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیم عام کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔

    غریب اور قابل طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا انتظام کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

    اس وقت کراچی ضلع کے دور دراز اور مشکل علاقوں میں آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ جی۔ ایم۔ سید کی کوششوں سے سن اسٹیشن تک پکی سڑک تعمیر کرائی گئی۔

    کراچی سے کوٹری اور کوٹری سے منگھوپیر تک سڑکوں اور راستوں کا جال بچھانے کے منصوبے شروع کیے گئے تاکہ مقامی آبادی کو آمدورفت میں آسانی ہو۔ لوکل بورڈ کے فنڈز شفاف طریقے سے استعمال کرتے ہوئے دیہی سطح پر صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے شفاخانے اور اسپتال قائم کیے گئے۔

    مقامی سطح پر عوام کے پانی اور صفائی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔ کراچی لوکل بورڈ کی تاریخی عمارت کی تعمیر اور اس کی انتظامی بہتری میں بھی ان کی فلاحی سوچ کا بڑا کردار تھا۔ بعد میں یہ عمارت شہر کی انتظامی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم مرکز ثابت ہوئی۔

    ایک مقامی انتظامی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کی مجموعی شخصیت اور سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    لوکل بورڈ کے صدر کی حیثیت سے انہیں سندھ کے کسانوں، مزدوروں اور عام لوگوں کی مشکلات، غربت اور پسماندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر انہوں نے بعد میں 1930ء میں ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

    برطانوی انتظامی نظام کی سمجھ:
    انگریز حکومت کے مقامی حکومتوں کے قوانین اور نظام کو سمجھنے کے دوران انہیں پارلیمانی سیاست اور قانون سازی، خصوصاً سندھ اسمبلی، کا تجربہ حاصل ہوا۔ اس تجربے نے آگے چل کر انہیں سندھ کا سینئر سیاست دان اور وزیر تعلیم بننے میں مدد دی۔

    خودمختار اور بے لوث قیادت:
    جی۔ ایم۔ سید کی پوری سیاسی زندگی بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے وابستہ تھی۔ لوکل بورڈ کے دور میں ان کی ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے کی وجہ سے سندھ کے عوام نے انہیں عزت سے ’’سائیں‘‘ کا لقب دیا۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید کی کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کارکردگی صرف چند سڑکوں یا اسکولوں کی تعمیر تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ سندھ میں ’’مقامی خود اختیاری اور فلاحی ریاست‘‘ کے تصور کا پہلا عملی اظہار تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر کسی رہنما میں اخلاق، دردِ دل اور انتظامی صلاحیت ہو تو محدود وسائل کے باوجود عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    سائیں جی۔ ایم۔ سید نے سندھ کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے سندھ یونیورسٹی، کراچی میں پرائمری اسکولوں سے لے کر نئے کالجوں کے قیام اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی شاندار کام کیا۔

    جمشید نسروانجی مہتا

    کراچی، جو آج پاکستان کے سب سے بڑے معاشی اور میگا سٹی کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کی جدید بنیادوں اور شہری ترقی میں جمشید نسروانجی مہتا کا نام سب سے نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ انہیں ’کراچی کا باپ‘ (Father of Karachi) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

    جمشید نسروانجی صرف ایک سیاست دان یا بلدیاتی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ درویش صفت انسان، سماجی مصلح اور بین الاقوامی سطح کے شہری مفکر بھی تھے۔ ان کا انتظامی ماڈل آج بھی شہری منصوبہ بندی اور بہتر حکمرانی کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔

    جمشید نسروانجی 1886ء میں کراچی کے ایک معزز پارسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد انسانی خدمت اور سماجی اصلاح بنایا۔ ان کا نظریہ اس اصول پر مبنی تھا کہ حکومت کا اصل مقصد شہریوں کی فلاح، برابری اور اخلاقی بلندی ہے، نہ کہ طاقت کا مرکز بننا۔

    جمشید نسروانجی 1922ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے پہلے منتخب صدر، یعنی میئر، بنے اور تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک شہر کی ترقی کے لیے بے مثال کام کیا۔ ان کے دور میں کراچی میں کئی اہم ترقیاتی کام ہوئے۔

    جدید شہری منصوبہ بندی

    جمشید نسروانجی نے کراچی کو گندگی اور بے ترتیب پھیلاؤ سے نکال کر ایک خوبصورت شہر بنانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کراچی کی توسیع، صفائی ستھرائی اور جدید سیوریج نظام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کو ملانے والی سڑکوں اور پارکوں کا ایک مربوط نظام ترتیب دیا۔

    شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فلٹریشن پلانٹ لگائے اور پانی کی نئی لائنیں بچھائیں۔ غریب لوگوں کے لیے سستے گھر اور اسپتال بنائے گئے، جن میں جمشید میڈیکل سینٹر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

    جمشید نسروانجی کا یقین تھا کہ ترقی کا راستہ تعلیم سے گزرتا ہے۔ ان کے دور میں کئی اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ بچوں اور خواتین کی صحت کے لیے خصوصی فلاحی پروگرام بھی شروع کیے گئے۔

    کراچی کی ترقی میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ شہر کی مختلف برادریوں، یعنی ہندوؤں، مسلمانوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ساتھ رکھنا تھا۔ انہوں نے کبھی مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا۔ اسی وجہ سے پورے برصغیر میں کراچی کو امن اور رواداری کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔

    جمشید نسروانجی نے اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی سادگی اختیار کی اور میونسپل فنڈز کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا۔ وہ سرکاری کاموں کے لیے اپنی ذاتی رقم بھی خرچ کرتے تھے۔ وہ شہر کے غریب اور پسماندہ طبقات کو شہری ترقی کا مرکزی حصہ سمجھتے تھے، جو آج کے پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی اصول بھی ہے۔

    انہوں نے اقتدار کو اعزاز نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ جب انہوں نے عہدہ چھوڑا تو ان کے پاس کوئی بڑی ذاتی جائیداد یا بینک بیلنس نہیں تھا، بلکہ وہ عوام کے دلوں پر حکومت کر رہے تھے۔

    جمشید نسروانجی مہتا کا نام کراچی کی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑا رہے گا۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی شہر کی حقیقی ترقی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی خوشحالی، انسانی اقدار اور ایماندار قیادت سے ہوتی ہے۔

    عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق میں انہیں ایک ایسے مثالی منتظم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس نے جنوبی ایشیا کی شہری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

    رائے بہادر ہری چند رائے

    کراچی، جو آج پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور معاشی مرکز، یعنی میگا سٹی، ہے، اسے اس مقام تک پہنچانے میں برطانوی دور حکومت اور اس وقت کی نامور مقامی شخصیات کا اہم کردار رہا ہے۔ ان رہنماؤں میں رائے بہادر ہری چند رائے، یعنی سیٹھ ہری چند وشنداس، کا نام تاریخ میں ’جدید کراچی کا بانی‘ (Father of Modern Karachi) کے طور پر لیا جاتا ہے۔

    یکم مئی 1862ء کو پیدا ہونے والے ہری چند رائے نے بمبئی کے ایلفنسٹن کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور قانون کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی کراچی کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔

    ہری چند رائے 1911ء سے 1921ء تک کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر رہے۔ صفائی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ان کے کردار کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لیاری ندی کا رخ تبدیل کرکے نئی آبادیوں کے لیے زمین فراہم کرنے کے منصوبے کی فنی بنیاد رکھی۔

    کراچی کو ایک عام بندرگاہ سے جدید شہر بنانے کے لیے ہری چند رائے نے کئی اہم اقدامات کیے۔

    جب برصغیر کے کئی اچھے خاصے شہروں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی، اس وقت ہری چند رائے نے کراچی شہر میں بجلی لانے اور اسے ’روشنیوں کا شہر‘(City of Lights) بنانے کی حکمت عملی تیار کی۔ ان کی کوششوں سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیے گئے۔

    ان کے دور میں شہر میں پینے کے پانی، گندے پانی کی نکاسی اور سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گیس لیمپوں کا استعمال بھی شروع ہوا۔ 1912ء میں کراچی میں بجلی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد اسے ’روشنیوں کا شہر‘ کہا جانے لگا۔

    ان کے دور میں انجینئرنگ اور شہری منصوبہ بندی کے کئی شاندار منصوبے مکمل ہوئے۔ لیاری ندی اور زمین کی توسیع کے منصوبوں کے ذریعے شہر کو سیلاب سے بچانے اور مزید ترقی دینے کے لیے لیاری ندی کا رخ تبدیل کیا گیا۔ نئے علاقوں، کوارٹروں اور رہائشی اسکیموں کی تعمیر کے منصوبے بنائے گئے۔ پارکوں، تفریح گاہوں اور شہر کی خوبصورتی کے لیے بھی مختلف منصوبے تیار کیے گئے۔

    کراچی جم خانہ اور سندھ کلب سمیت کراچی کو ایک شاندار شہر بنانے میں رائے بہادر ہری چند رائے کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • کھارادر سے خیرآباد تک: کراچی کے ایرانی کیفے، بہائی ہجرت اور ایک مٹتے ہوئے کلچر کی داستان

    کھارادر سے خیرآباد تک: کراچی کے ایرانی کیفے، بہائی ہجرت اور ایک مٹتے ہوئے کلچر کی داستان

    بین الاقوامی تعلقات اور جیو پولیٹکس کے طالب علم جب بھی ہجرت کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ان کی نظریں اکثر بڑی جنگوں اور سیاسی نقشوں کی تبدیلی پر ٹک جاتی ہیں۔

    لیکن تاریخ کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ نظریاتی، مذہبی اور نسلی تعصبات نے ہمیشہ امن پسند برادریوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے نتیجے میں ایسے ثقافتی گلدستے جنم لے جو صدیوں تک نئے شہروں کی پہچان بنے رہے۔ برصغیر پاک و ہند، اور خاص طور پر روشنیوں کا شہر کراچی، ایسی ہی کئی ہجرتوں کا امین رہا ہے۔

    پارسیوں، گوا کے عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرح، کراچی کی تاریخ کا ایک انتہائی خوبصورت اور اب مٹتا ہوا باب ‘ایرانی اور بہائی برادری’ کی داستان ہے، جن کے چائے خانوں، بیکریوں اور ہوٹلوں نے ایک دور میں کراچی کے قلب صدر کو رونق بخشی تھی۔



    آج جب ہم شاہین کمپلیکس، کینٹ اسٹیشن یا صدر کی سڑکوں سے گزرتے ہیں، تو چند آخری بچ جانے والے ایرانی ہوٹل جیسے ‘خیرآباد’ یا ‘کیفے جارج’ ہمیں اس شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں جو رفتہ رفتہ وقت کی دھول میں گم ہو رہا ہے۔

    قاجار سلطنت کا جبر اور بمبئی و کراچی کی طرف ہجرت

    اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ایران فارس سے ہوتا ہے۔ قاجار سلطنت کے دور میں جب بابیت اور بعد ازاں بہائی تحریک نے جنم لیا، تو ایرانی مقتدرہ اور روایتی حلقوں کی طرف سے ان کے خلاف ایک خونی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ اس جبر کا عروج 1852 میں ایران کی مشہور شاعرہ، عالمہ اور بہائی رہنما قرت العین طاہرہ کا بہیمانہ قتل تھا۔

    طاہرہ کے قتل کے بعد قاجاریوں نے بابیوں اور بہائیوں کا بڑے پیمانے پر قتال شروع کر دیا۔ جان بچانے کے لیے ان مظلوم ایرانیوں نے سمندر کا رخ کیا اور برصغیر ہند کے ساحلی شہروں بمبئی، کلکتہ اور کراچی میں پناہ لی۔

    یہ لوگ اپنے ساتھ کوئی دولت یا اسلحہ لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ ان کے پاس صرف ان کی محنت، نفاست اور ایرانی ثقافت تھی۔ بمبئی اور بعد ازاں کراچی پہنچ کر ان لوگوں نے برصغیر کے چائے پینے کے کلچر کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

    انہوں نے شہر کے اہم ترین چوراہوں پر گراؤنڈ فلور کی دکانیں خریدیں اور ‘ایرانی کیفے، ہوٹل اور بیکریوں’ کا دھندہ شروع کیا۔ ان کے دیکھا دیکھی، ایران کے دوسرے شہروں جیسے یزد، اصفہان اور شیراز سے بھی کئی مسلمان شیعہ خاندان تجارت کی غرض سے کراچی منتقل ہونا شروع ہوئے۔ بیگم نصرت بھٹو بھی ایک شیعہ اصفہانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

    کراچی میں آمد اور صدر کا ‘بہائی کلچر’

    کراچی میں ان ایرانیوں کی اولین رہائش گاہ کھارادر اور میٹھادر کے قدیم علاقے بنے، لیکن جیسے جیسے انگریزوں کے دور میں ‘صدر’ اور ‘کینٹ’ کا علاقہ جدید کاروباری مرکز کے طور پر ابھرا، یہ برادری صدر منتقل ہو گئی۔

    صدر کی وسیع سڑکیں، اونچی چھتوں والی عمارتیں اور روشن ماحول ان کے کیفے کلچر کے لیے بہترین تھا۔ مزار قائد سے ملحقہ ایک سڑک پر قائم ان کا ‘بہائی ہال’ اس دور میں شہر کی ایک بڑی مشہور اور فعال جگہ تھی، جہاں علمی، ادبی اور مذہبی گفتگو ہوا کرتی تھی۔



    یہ ایرانی ہوٹل صرف چائے پینے کی جگہ نہیں تھے، بلکہ یہ کراچی کے فکری اور سماجی ملاپ کے مراکز تھے۔ یہاں کی مشہور کڑک ایرانی چائے، مکھن مسکا، بن کباب، ابلے ہوئے انڈے اور کیک اسکول کے بچوں سے لے کر صحافیوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی پسندیدہ خوراک تھے۔ ان ہوٹلوں کی خاص بات ان کے بڑے آئینے، لکڑی کی گول میزیں، جھکنے والی کرسیاں اور دیواروں پر لگے وہ بورڈ تھے جن پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا: ‘سیاسی گفتگو کرنا منع ہے’ یا ‘ادھار بند ہے’۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر شاعر، ادیب اور سیاست دان یہاں آکر بیٹھا کرتے اور گفتگو کرتے تھے۔

    تقسیم ہند اور یورپ و امریکہ کی طرف پہلا سفر

    1947 میں پاکستان بننے کے بعد، کراچی ملکی سیاست اور معیشت کا مرکز بن گیا۔ ایرانی ہوٹلوں کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تاہم، ایک اقلیتی برادری ہونے کے ناطے، بہائیوں کے اندر ایک تزویراتی عدم تحفظ موجود تھا۔ 50 اور 60 کی دہائی میں، جب پاکستان نے مغرب کی طرف جھکاؤ اختیار کیا اور ملک میں آہستہ آہستہ مذہبی شدت پسندی کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے، تو اس برادری کے کئی کھاتے پیتے اور تعلیم یافتہ خاندانوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے یورپ، کینیڈا اور امریکہ منتقل ہونا شروع کر دیا۔

    یہ اس برادری کے کراچی سے انخلا کا پہلا مرحلہ تھا، لیکن اصل دھچکا ابھی آنا باقی تھا۔

    1979 کا خمینی انقلاب اور ‘خوف کا سایہ’

    ایران میں 1979 کا اسلامی انقلاب نہ صرف تہران کے لیے بلکہ کراچی کے صدر میں بیٹھے ان ایرانیوں کے لیے بھی ایک زلزلہ ثابت ہوا۔ امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران میں بہائیوں کے خلاف دوبارہ سختیاں شروع ہوئیں۔ کراچی میں موجود بہائی ہوٹل مالکان میں ایک شدید خوف کی لہر دوڑ گئی کہ کہیں پاکستان میں موجود سخت گیر مذہبی عناصر یا ایرانی اثر و رسوخ رکھنے والے گروہ انہیں نشانہ نہ بنائیں۔


    اس خوف کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں نے اپنے ہوٹلوں کی دیواروں اور کاؤنٹرز سے تمام روایتی بہائی نشانات اور مذہبی علامات کو مٹا دیا۔ اپنی جان اور مال کے تحفظ کے لیے، انہوں نے مجبوراً اپنے ہوٹلوں کے مرکزی کاؤنٹرز پر امام خمینی اور ایرانی انقلاب کے رہنماؤں کی بڑی تصاویر لگا دیں، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ موجودہ ایرانی حکومت کے وفادار یا ہمدرد ہیں۔

    اس دوران، کراچی میں پہلے سے موجود شیعہ ایرانیوں، یا ایران سے آنے والے نئے تاجروں نے ان بہائیوں سے ان کے چلتے ہوئے ہوٹل اور جائیدادیں سستے داموں خریدنا شروع کر دیں، کیونکہ بہائی یہاں سے ہر قیمت پر نکلنا چاہتے تھے۔

    70 کا عشرہ اور زوال کی داستان

    سن 70 کی دہائی کے بعد، پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات تیزی سے بدلے۔ بھٹو دور کی نیشنلائزیشن، کراچی کے لسانی فسادات، اور بعد ازاں ضیاء الحق کے دور کی اسلامائزیشن نے کراچی کے اس پرامن، لبرل اور کثیر الثقافتی چہرے کو بری طرح مسخ کر دیا جس کے تحت یہ اقلیتیں یہاں پھل پھول رہی تھیں۔

    رفتہ رفتہ، ان بچے کچھے ایرانیوں نے بھی اپنا کاروبار بیچنا اور خاندانوں کو ملک سے باہر منتقل کرنا شروع کر دیا۔

    آج کراچی کا وہ روایتی ایرانی کیفے کلچر تقریباً دم توڑ چکا ہے۔ صدر کے کثیر منزلہ کمرشل پلازوں، فاسٹ فوڈ چینز اور چائے کے پٹھان ہوٹلوں، ڈھابوں، جن میں صفائی نام کی کوئی چیز نہیں ملتی، نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

    لیکن اس مٹتی ہوئی تاریخ کے بیچ، شاہین کمپلیکس اور کینٹ اسٹیشن کے پاس واقع ‘خیرآباد ہوٹل’ آج بھی اپنی پرانی لکڑی کی میزوں، ایرانی چائے کی خوشبو اور مخصوص طرز تعمیر کے ساتھ اس عظیم برادری کی آخری نشانی کے طور پر کھڑا ہے۔


    خلاصہ کلام یہ کہ کراچی کے ایرانی اور بہائی کیفے کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ریاستیں اپنے اندرونی گھر کو نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہونے دیتی ہیں، تو سب سے پہلا نقصان ان پرامن اقلیتوں کا ہوتا ہے جو اس شہر کا حسن ہوتی ہیں۔ پارسیوں کی طرح، ایرانی بہائیوں کا کراچی سے جانا اس شہر کے ثقافتی اور معاشی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ خیرآباد ہوٹل کی دیواریں آج بھی ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اگر ہم نے اپنے داخلی محاذ پر رواداری، امن اور آئینی تحفظ کو یقینی نہ بنایا، تو تاریخ کے یہ خوبصورت رنگ ہمیشہ کے لیے ہجرت کر جائیں گے اور شہر صرف کنکریٹ کا بے جان جنگل بن کر رہ جائے گا۔