Tag: کراچی

  • سمندر کی لہریں، عزم کے مینار: کراچی کی بندرگاہ، اسماعیلی خوجہ برادری اور تعمیرِ شہر کی داستان

    سمندر کی لہریں، عزم کے مینار: کراچی کی بندرگاہ، اسماعیلی خوجہ برادری اور تعمیرِ شہر کی داستان

    سندھ کے ساحل پر واقع کراچی شہر کی تاریخ محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ سمندر کی لہروں کے ساتھ آنے والے ہنرمند، دور اندیش اور جفاکش طبقات کی داستانِ عزیمت ہے۔

    جب اٹھارویں صدی کے آخری سالوں اور انیسویں صدی کے وسط میں کراچی کے اولڈ ٹاؤن اور بندرگاہی بستی کو بین الاقوامی تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی تھی، تو اس وقت جن برادریوں نے اپنے سرمائے، عزم اور سماجی بصیرت سے اس نوخیز شہر کی بنیادوں کو استوار کیا، ان میں ‘اسماعیلی خوجہ’ برادری کا کردار سب سے نمایاں، منظم اور تاریخی افق پر ثبت ہے۔

    انیسویں صدی سے لے کر موجودہ دور تک کراچی کی معیشت، صنعت، تعلیم، بلدیاتی نظم اور صحتِ عامہ کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو، جہاں اس برادری کے فلاحی اور تجارتی اقدامات کے ان مٹ نقوش موجود نہ ہوں۔ یہ ایک ایسے مخلص اور جفاکش طبقے کی کہانی ہے، جس نے شہر سے صرف منافع نہیں کمایا بلکہ اسی منافع کو اسکولوں، ہسپتالوں اور سماجی اداروں کی صورت میں شہر کو واپس لوٹا کر اسے ایک جدید شہری مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جغرافیائی ہجرت کا پس منظر: کَچھ اور گجرات سے کراچی آمد

    کراچی میں اسماعیلی خوجہ برادری کی آمد کا سلسلہ برطانوی فتح سے بھی قبل، اٹھارویں صدی کے آخری برسوں اور انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں شروع ہو چکا تھا۔ اس ہجرت کے پیچھے بنیادی طور پر دو بڑے عوامل کارفرما تھے۔

    شدید قحط اور متبادل کی تلاش: سنہ 1799 میں گجرات، کاٹھیاواڑ اور کَچھ کے سرحدی علاقوں میں ایک ہولناک قحط پڑا، جس نے وہاں کی زراعت اور مقامی معیشت کو تباہ کر دیا۔ اس بحران کے نتیجے میں وہاں کی روایتی تاجر برادریوں نے متبادل اور محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔

    کراچی بندرگاہ کا فطری عروج: تالپور دور کے آخری برسوں میں کراچی کی بندرگاہ غلے، چمڑے اور سمندری تجارت کے لیے ایک پرامن اور ابھرتا ہوا مرکز بن رہی تھی۔ برطانوی راج کے آغاز کے بعد جب کراچی کی بندرگاہ کو ایک جدید تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا تھا، تو اس برادری کے تاجر بڑے پیمانے پر یہاں منتقل ہوئے۔

    کَچھ، بھج، پنیلی اور گجرات کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے یہ خاندان سب سے پہلے کراچی کے قدیم ترین حصوں، یعنی کھارادر اور میٹھادر کے اولڈ سٹی ایریا میں آباد ہوئے۔ ان کی ابتدائی رہائش گاہیں تنگ گلیوں میں تھیں، لیکن ان کے حوصلے اور تجارتی روابط بحرِ ہند کی وسعتوں جتنے پھیلے ہوئے تھے۔

    اسی تاریخی ہجرت اور کَچھ سے کراچی منتقلی کی اسی لہر میں قائداعظم محمد علی جناح کے والد جناح بھائی پونجا بھی انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں گجرات سے کراچی منتقل ہوئے اور کھارادر کے وزیر مینشن کو اپنا مسکن بنایا، جہاں انہوں نے کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کے کاروبار میں نام کمایا اور برادری کے مقتدر حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔

    لیاری سے مکران بلوچستان تک خشک مچھلی کی بین الاقوامی صنعت

    اسماعیلی خوجہ تاجروں نے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ مکران کے ساحل، اورماڑہ، پسنی اور گوادر تک ایک انتہائی مربوط اور وسیع تجارتی نیٹ ورک قائم کیا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں جب گوادر عمان کی سلطنت کا حصہ بنا، تو کَچھ اور حیدرآباد سندھ سے بڑی تعداد میں خوجہ تاجر گوادر منتقل ہوئے اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔

    مچھلی کو نمک لگا کر سکھانے کا عمل: انیسویں صدی کے اس دور میں، جب دنیا ٹھنڈا ذخیرہ کرنے کی جدید سہولتوں سے ناواقف تھی، اسماعیلی تاجروں نے مچھلی کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے اور بحری جہازوں کے ذریعے دوسرے ملکوں تک پہنچانے کے لیے نمک لگا کر سکھانے کی صنعت کو فروغ دیا۔

    گوادر، پسنی اور اورماڑہ کے ساحلوں پر یہ تاجر مقامی ماہی گیروں کو کشتیاں اور جدید جال فراہم کرتے تھے اور بدلے میں ان سے مچھلی خریدتے تھے۔ مچھلی پکڑنے کے بعد اسے صاف کیا جاتا، پھر سمندری نمک کی تہوں میں دبا دیا جاتا تاکہ اس کا پانی نکل جائے، جس کے بعد اسے کھلے میدانوں میں تیز دھوپ میں سکھایا جاتا تھا۔ اس طریقے سے مچھلی کئی مہینوں تک خراب نہیں ہوتی تھی۔

    لیاری کے گودام اور برآمدی منڈی: بلوچستان کے ساحلوں پر تیار ہونے والی یہ خشک مچھلی روایتی لکڑی کے بحری جہازوں کے ذریعے کراچی لائی جاتی تھی۔ کراچی کی بندرگاہ کے فروغ کے بعد لیاری مچھلی کی پراسیسنگ اور بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ لیاری کا علاقہ، موجودہ میمن سوسائٹی کھڈہ سے کلری نالے تک، خشک مچھلی کے بڑے بڑے گوداموں، جنہیں مقامی زبان میں ‘ستھر’ کہا جاتا تھا، سے بھر گیا۔

    یہ گودام اونچی چار دیواریوں پر مشتمل ہوتے تھے، جہاں ماری پور اور ہاکس بے کے نمک کے کارخانوں سے لایا گیا کچا نمک استعمال ہوتا تھا۔ اس صنعت نے لیاری کے ہزاروں مقامی بلوچ مردوں اور خواتین کو روزگار فراہم کیا۔

    اسماعیلی خوجہ تاجروں کے بین الاقوامی روابط اتنے مضبوط تھے کہ وہ اس زمانے میں بھی یہ مصنوعات عالمی منڈیوں تک برآمد کرتے تھے۔ اس خشک مچھلی کی سب سے بڑی منڈی سلون، موجودہ سری لنکا، تھی، جہاں کولمبو میں اس کی بہت زیادہ طلب تھی۔

    اس کے علاوہ برما، موجودہ میانمار، ملایا، موجودہ ملائیشیا، اور چین تک شارک مچھلی کے پر اور مخصوص خشک مچھلیاں برآمد کی جاتی تھیں، جنہیں چینی روایتی ادویات اور سوپ میں استعمال کیا جاتا تھا۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کارپوریٹ سیکٹر میں خدمات

    کراچی کی بندرگاہ کو ایک چھوٹے تجارتی مرکز سے برصغیر اور بعد ازاں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بنانے میں اسماعیلی خوجہ تاجروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے بندرگاہ کی نقل و حمل، بحری تجارت اور درآمد و برآمد کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا سرمایہ وقف کیا۔

    بندرگاہ پر آنے والے درآمدی سامان، جیسے چائے، مصالحے اور کپڑا، کو سنبھالنے اور ملکی پیداوار، جیسے کپاس، اون، چمڑا اور غلہ، کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے انہوں نے جوڑیا بازار اور کھارادر کو تھوک تجارت کا مرکز بنایا، جس سے بندرگاہ کی آمدنی اور محصولات میں تاریخی اضافہ ہوا۔

    پہلی جنگِ عظیم کے دوران، جب کراچی کی بندرگاہ کو برطانوی فوج کی رسد اور نقل و حمل کے لیے ایک اہم فوجی مرکز بنایا گیا، تو اسماعیلی رہنماؤں نے بندرگاہ کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے برطانوی ہند کی حکومت کو بھاری فنڈز اور جنگی قرضے فراہم کیے۔

    تاریخ ساز خاندان اور ان کا کاروباری اثر و رسوخ

    کراچی اور گوادر کی معاشی تاریخ اسماعیلی برادری کے چند مقتدر اور نامور کاروباری خاندانوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ان خاندانوں کو آغا خان کی طرف سے ‘اسٹیٹ ایجنٹ’، ‘مُکھی’ اور ‘وارث’ جیسے معزز خطابات سے نوازا گیا، اور انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ شہر کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا۔

    فدو، بساریہ خاندان:  کَچھ، بھج، سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان کراچی کے اولین بااثر اسماعیلی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ‘وارث بساریہ فدو’ کو آغا خان اول نے 1881 میں کراچی، لسبیلہ اور سندھ کا ‘اسٹیٹ ایجنٹ’ مقرر کیا تھا۔

    انہوں نے سر آغا خان سوم کی پیدائش کے مقام کی دیکھ بھال کی اور کھارادر میں تاریخی مسافر خانہ تعمیر کروایا۔ ان کے بیٹے ‘وزیر رحیم بساریہ’ بیسویں صدی کے اوائل میں کراچی کونسل کے صفِ اول کے رہنما رہے اور برطانوی ہند کی کونسل میں برادری کی نمائندگی کی۔

    علی دینا، شالوانی خاندان: اس خاندان کی جڑیں بلوچستان اور کراچی کے پرانے تجارتی راستوں سے ملتی ہیں۔ ‘مکھی علی محمد علی دینا’ اس خاندان کے سب سے مشہور فرد تھے، جنہوں نے ملیر کے علاقے میں وسیع زرعی زمینیں خریدیں اور کھارادر میں اپنا تجارتی دفتر قائم کر کے کپڑے اور غلے کی تجارت کو فروغ دیا۔

    انہوں نے ہی کھارادر کے تاریخی اسکول کی بنیاد رکھی۔ اسی خاندان کے مکھی ہود بھائی شالوانی بھی کراچی کونسل کے سرگرم رکن رہے۔

    قاسم ولی، کولمبو والا خاندان: یہ خاندان چمڑے کی بین الاقوامی تجارت میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ ‘سیٹھ بندے علی قاسم’ اس خاندان کے سربراہ تھے، جن کا تجارتی نیٹ ورک یورپ کی سوئس کمپنیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے لیاری میں چمڑا رنگنے کی فیکٹریاں قائم کیں اور سنہ 1917 میں 50 لاکھ روپے کے سرمائے سے ‘خوجہ اسماعیلیہ ٹریڈنگ کمپنی’ قائم کی۔

    سری لنکا کے شہر کولمبو کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کی وجہ سے ان کا خاندان ‘کولمبو والا’ کے نام سے مشہور ہوا اور انہوں نے جان بائی میٹرنٹی ہوم کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے۔

    گابا خاندان: مچھلی کی برآمد، پراسیسنگ اور بحری تجارت میں گابا خاندان کا نام کراچی اور گوادر دونوں جگہوں پر ایک صدی سے نمایاں رہا ہے۔ ان کی قائم کردہ سمندری خوراک اور پراسیسنگ کی فیکٹریاں آج بھی کام کر رہی ہیں اور خاندانی کاروبار کی پائیداری کی بہترین مثال ہیں۔

    کریم امپیکس اور پادامسی خاندان: جوڑیا بازار اور کھارادر میں کپڑے اور غلے کی تھوک تجارت میں اس خاندان کا نام انتہائی معتبر مانا جاتا ہے۔ بعد میں انہوں نے گارڈن اور فیڈرل بی ایریا میں اسماعیلی رہائشی سوسائٹیوں، کمیونٹی فلیٹس اور رہائشی بلاکس، کی تعمیر میں کلیدی مالی خدمات انجام دیں۔

    تاریخی عمارات اور سماجی مراکز

    کراچی کے اولڈ سٹی ایریا کی گلیاں اسماعیلی خوجہ برادری کے تعمیراتی ذوق اور سماجی تنظیم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے قائم کردہ مراکز میں درج ذیل عمارات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔

    کھارادر جماعت خانہ، کراچی کا پہلا مرکز: یہ صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ کراچی میں اسماعیلی تاریخ کا سنگِ میل بھی ہے۔ کراچی کا پہلا جماعت خانہ 1820 کی دہائی میں کاغذی بازار، کھارادر، کے قریب مٹی سے بنے ایک سادہ ڈھانچے کی صورت میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد میں مکھی رمضان اسماعیل کی قیادت میں برادری نے موجودہ آغا خان روڈ پر، بندرگاہ کے فٹ بال اسٹیڈیم کے متصل، 3000 مربع گز کا ایک بڑا پلاٹ حاصل کیا۔

    اس عظیم الشان پکی عمارت کا پہلا مرحلہ نومبر 1882 میں مکمل ہوا۔ اس عمارت پر خوبصورت پیاز نما گنبد بنائے گئے تھے، جو روایتی اسلامی اور گجراتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے تھے۔ روایات کے مطابق، اپنے وقت میں اسے ایشیا کا سب سے بڑا چھت والا مسلم ہال سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں اسی مقام پر دو فروری 1970 میں ایک اور جدید عمارت کا افتتاح کیا گیا، جسے پاکستان کے ‘درک خانہ’، یعنی مرکزی جماعت خانہ، کا درجہ حاصل ہے۔

    گارڈن جماعت خانہ: بیسویں صدی کے اوائل میں جب برادری معاشی طور پر مستحکم ہوئی، تو اولڈ سٹی کی بھیڑ سے نکل کر انہوں نے گارڈن ایسٹ کا رخ کیا، جہاں امراء نے خوبصورت نوآبادیاتی طرز کے بنگلے تعمیر کروائے۔ برٹو روڈ پر واقع گارڈن جماعت خانہ اپنی شاندار، وسیع اور گنبد دار طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے اور کراچی کی سرکاری تاریخی عمارات میں شمار ہوتا ہے۔

    ہنی مون لاج: یہ تاریخی عمارت کراچی کے علاقے قاسم آباد، کورنگی روڈ، کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ وہ یادگار مقام ہے جہاں اسماعیلیوں کے اڑتالیسویں امام، ‘سر سلطان محمد شاہ، آغا خان سوم’، کی دو نومبر 1877 کو ولادت ہوئی تھی۔ اس مقام کی دیکھ بھال وارث بساریہ فدو کے خاندان نے کی۔

    سر آغا خان سوم نے بعد ازاں برصغیر کی مسلم سیاست میں تاریخی کردار ادا کیا، آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے مستقل صدر منتخب ہوئے اور لندن کی گول میز کانفرنسوں میں قائداعظم محمد علی جناح کے ہمراہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا۔

    آغا خان جمنازیم: گارڈن کے علاقے میں واقع یہ عمارت بیسویں صدی کے وسط میں برادری کے نوجوانوں کی کھیلوں، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے تعمیر کی گئی تھی، جو اس دور کے جدید طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔

    تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک اور سو سالہ سنگِ میل

    اسماعیلی برادری نے اس دور میں جدید تعلیم، خصوصاً خواتین کی تعلیم، پر اس وقت توجہ دی جب برصغیر کا مسلم معاشرہ اس سے نسبتاً دور تھا۔ آغا خان ایجوکیشن سروسز، پاکستان، کے تحت کراچی میں اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔

    آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ اس خطے میں جدید تعلیم کی تاریخ کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کی بنیاد اسماعیلی برادری کے مایہ ناز مخیر ‘مکھی علی محمد علی دینا’ نے سر آغا خان سوم کی ہدایت اور سرپرستی میں رکھی تھی۔

    اس کا سنگِ بنیاد 1920 میں رکھا گیا، عمارت کی تعمیر میں چھ سال لگے اور باقاعدہ کلاسوں کا آغاز 1926 میں ‘علی محمد مکھی علی دینا خوجہ اسماعیلی گرلز اسکول’ کے نام سے ہوا، تاکہ پرانے کراچی کی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے۔ جون 2026 میں اس اسکول نے اپنی شاندار خدمات کے ایک سو سال مکمل ہونے کا جشن منایا۔ یہ اسکول آج بھی کھارادر میں تین مختلف تاریخی بلاکس پر مشتمل ہے۔

    الیکزینڈریا بلاک: جسے چرچ آف انگلینڈ نے 1914 میں تعمیر کیا تھا اور بعد میں یہ اسکول کا حصہ بنا۔

    علی دینا بلاک: یہ وہ مرکزی تاریخی حصہ ہے جو مکھی علی محمد نے خود تعمیر کروایا تھا۔

    اے کے ایس بلاک: یہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق تعمیر کی گئی نئی عمارت ہے۔ اس اسکول نے ایک صدی میں بارہ ہزار سے زائد گریجویٹس تیار کیے ہیں۔

    سلطان محمد شاہ آغا خان اسکول، کریم آباد: کریم آباد میں واقع یہ اسکول پچاس سال سے زائد عرصے سے قائم ہے اور اس کا شمار کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہوتا ہے، جہاں تین ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

    زچہ و بچہ کی صحت اور طبی مراکز کا جال

    صحتِ عامہ، بالخصوص زچہ و بچہ کی صحت، کے شعبے میں اسماعیلی خوجہ برادری کی خدمات کراچی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔

    جان بائی میٹرنٹی ہوم، کھارادر، سو سالہ تاریخ: یہ کراچی میں ماں اور بچے کی صحت کا سب سے قدیم اور تاریخی ادارہ ہے۔ اس کا اصل نام ‘جان بائی قاسم ولی خوجہ اسماعیلیہ میٹرنٹی ہوم’ ہے۔ اس کی بنیاد معروف مخیر وزیر بندے علی قاسم نے اپنی والدہ ‘جان بائی’ کی یاد میں رکھی تھی۔

    اس کا سنگِ بنیاد سر آغا خان سوم نے 1920 میں رکھا۔ یہ شاندار عمارت 1924 میں مکمل ہوئی اور اس وقت کے کمشنر سندھ جے ایل ریو نے پندرہ اپریل 1924 کو اس کا افتتاح کیا۔ اس دور میں، جب دائیوں اور روایتی طریقوں سے زچگیاں ہوتی تھیں، یہ کراچی کا جدید ترین زچہ و بچہ مرکز تھا، جہاں صرف ایک روپیہ روزانہ کے عوض غریب مچھیروں اور بندرگاہ کے مزدوروں کو علاج اور ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔

    آج اس کا نام ‘آغا خان ہسپتال برائے خواتین و اطفال، کھارادر’ ہے، جو اب آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا حصہ بن کر ایک مکمل ثانوی نگہداشت کا ہسپتال بن چکا ہے اور یہاں اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد بچوں کی ولادت ہو چکی ہے۔

    آشا بائی اور کریم آباد میٹرنٹی ہومز: آغا خان ہیلتھ سروسز نے کراچی کے پرانے علاقے آگرہ تاج کالونی اور لیاری کے سنگم پر ‘آشا بائی میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا، جس نے دہائیوں تک مقامی بلوچ برادری کی زچہ و بچہ کی ضروریات پوری کیں۔ جب اسماعیلی برادری نے فیڈرل بی ایریا کا رخ کیا تو وہاں ‘کریم آباد میٹرنٹی ہوم’ قائم کیا گیا، جو اب ایک جدید ہسپتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی اور جدید طبی نظام

    بیسویں صدی کے آخر میں اسماعیلی برادری کے فلاحی نیٹ ورک نے کراچی کو دنیا کے طبی اور تعلیمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا۔

    آغا خان یونیورسٹی: یہ پاکستان کی پہلی نجی یونیورسٹی ہے، جو 1983 میں قائم کی گئی۔ یہ طب، نرسنگ اور اساتذہ کی تعلیم کے شعبوں میں عالمی سطح پر ایک معتبر ادارہ ہے۔ اسی کے تحت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ قائم کیا گیا، جو پاکستان کا پہلا نجی تعلیمی بورڈ ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی ہسپتال: اسٹیڈیم روڈ پر واقع یہ عظیم الشان ہسپتال گیارہ نومبر 1985 کو قائم ہوا۔ یہ پاکستان کا پہلا بین الاقوامی معیار کا طبی مرکز ہے۔ اس کی منفرد گلابی سنگِ مرمر سے مزین عمارت اسلامی اور جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔

    یہ ادارہ معاشی اور سماجی حیثیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے اصول پر کام کرتا ہے، جہاں زکوٰۃ اور فلاحی فنڈز کے ذریعے ہر سال اربوں روپے کی لاگت سے لاکھوں مستحق مریضوں کا مفت یا رعایتی علاج کیا جاتا ہے۔

    شہر کا تاریخی ورثہ

    کراچی کا اولڈ سٹی ایریا، کھارادر کی گلیاں، گارڈن کے نوآبادیاتی بنگلے، لیاری کے پرانے کھڈے اور کیماڑی کی لہریں اسماعیلی خوجہ برادری کی دو صدیوں پر محیط محنت، دیانت اور فلاحی وژن کی گواہ ہیں۔ مٹی کے پہلے جماعت خانے سے لے کر آغا خان یونیورسٹی کے عظیم الشان ایوانوں تک، اور مکران سے لے کر کولمبو تک پھیلی خشک مچھلی کی صنعت سے جدید کارپوریٹ شعبے تک، اس برادری نے کراچی کو اپنا تن، من اور دھن پیش کیا۔ کراچی کی معاشی اور سماجی تاریخ کا یہ دستاویزی کالم اس سچی اور بے غرض فلاحی و تجارتی روایت کا اعتراف ہے، جس کے بغیر عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا کوئی بھی تذکرہ ہمیشہ ادھورا، بے رنگ اور نامکمل رہے گا۔

  • جناح ہسپتال کراچی میں اے آئی ڈاکٹر متعارف، مریضوں کی ابتدائی رہنمائی کے لیے جدید نظام فعال

    جناح ہسپتال کراچی میں اے آئی ڈاکٹر متعارف، مریضوں کی ابتدائی رہنمائی کے لیے جدید نظام فعال

    کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں مریضوں کی سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید ‘اے آئی ڈاکٹر’ متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد مریضوں کو معلومات فراہم کرنا، ہسپتال کے نظام سے آگاہ کرنا اور علاج سے متعلق عام سوالات کے جوابات دینا ہے۔

    یہ نظام سندھ حکومت اور پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے تیار کیا گیا اور 2025 میں متعارف کرایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد انسانی ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ مریضوں اور معالجین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر اور آسان بنانا ہے۔

    اے آئی ڈاکٹر مریضوں کو آسان زبان میں علاج کے مختلف مراحل سے آگاہ کرتا ہے، ہسپتال کے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے، عام طبی سوالات کے جواب دیتا ہے اور معالج سے ملاقات سے قبل ابتدائی رہنمائی فراہم کرتا ہے، تاکہ مریض اپنی بیماری اور علاج کے عمل کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

    اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیماری کی تشخیص نہیں کرتا، کسی قسم کی دوا تجویز نہیں کرتا اور نہ ہی علاج سے متعلق کوئی طبی فیصلہ کرتا ہے۔ تشخیص، ادویات کا انتخاب اور علاج کے تمام فیصلے بدستور مستند اور ماہر ڈاکٹر ہی کرتے ہیں۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت کو صحت کے شعبے میں تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں اسے مریضوں کی رہنمائی، انتظامی امور اور طبی خدمات کو مؤثر بنانے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ جے پی ایم سی میں اس نظام کا آغاز بھی پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کو عوامی صحت کی سہولتوں میں شامل کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل صحت، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مستند معلومات آپ تک پہنچاتا رہے گا۔

    ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کا پہلا اے آئی پاورڈ ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم۔

  • جناح ہسپتال کراچی کا زیر تعمیر جدید سرجیکل کمپلیکس: عوامی صحت کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت

    جناح ہسپتال کراچی کا زیر تعمیر جدید سرجیکل کمپلیکس: عوامی صحت کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت

    کراچی کا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) المعروف جناح ہسپتال کراچی، پاکستان کے سب سے بڑے اور مصروف ترین سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں مریض نہ صرف شہر بلکہ سندھ کے دیگر اضلاع، بلوچستان، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور ملک کے مختلف حصوں سے علاج کی امید لے کر پہنچتے ہیں۔

    اسی تناظر میں اس ہسپتال کی توسیع کو ملک کے عوامی صحت کے شعبے کا ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    فروری 2022 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جے پی ایم سی کے جدید سرجیکل کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز پانچ سو بستروں کے ساتھ کیا گیا، تاہم اب اس کی گنجائش بڑھا کر تقریباً 650 بستروں تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی مریضوں کی تعداد کو بہتر انداز میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

    زیر تعمیر اس جدید کمپلیکس کی نمایاں خصوصیت اس کے اٹھارہ جدید آپریشن تھیٹر ہیں، جہاں پیچیدہ اور ہنگامی سرجریوں کے لیے عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ جدید سرجیکل وارڈز، ریکوری ایریاز، انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور دیگر طبی سہولتیں بھی اسی عمارت کا حصہ ہوں گی، تاکہ مریضوں کو ایک ہی جگہ پر جامع علاج میسر آ سکے۔

    اس وقت اس جدید سرجیکل کمپلیکس پر تعمیراتی کام جاری ہے اور اسے جلد مکمل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد جناح ہسپتال، ایک سرکاری ہسپتال ہونے کے باوجود عالمی معیار کی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

    یہ عمارت محض کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ان ہزاروں مریضوں کی امید ہے جو مہنگے نجی ہسپتالوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے مکمل ہونے سے آپریشنز کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، انتظار کا دورانیہ کم ہوگا اور پیچیدہ سرجریوں کے لیے جدید سہولتیں ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی۔

    پاکستان میں عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے منصوبے نہایت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ایک مستحکم سرکاری ہسپتال نہ صرف ایک شہر بلکہ پورے خطے کے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

  • سمندر پار روابط، فلاحی مینار: کراچی کی بندرگاہ، خوجہ اثنا عشریہ برادری، کراچی کے درخشاں دور کا ایک باب

    سمندر پار روابط، فلاحی مینار: کراچی کی بندرگاہ، خوجہ اثنا عشریہ برادری، کراچی کے درخشاں دور کا ایک باب

    کراچی کی دو سو سالہ تاریخ سمندر کے راستے آنے والے عزم و ہمت کے ان قافلوں کی داستان ہے، جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس شہر کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سینچا۔

    گزشتہ مقالے میں ہم نے کراچی بندرگاہ کی ترقی اور تعمیرِ شہر میں اسماعیلی خوجہ برادری کے کردار کا احاطہ کیا تھا۔ لیکن کراچی کی کہانی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک ہم اسی برادری کے اس دھڑے کا ذکر نہ کریں جو انیسویں صدی کے وسط میں ایک بڑے نظریاتی اور تنظیمی موڑ کے بعد ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ’ کے طور پر ابھرا۔

    یہ داستان ان لوہانہ تاجروں کے پس منظر سے شروع ہوتی ہے جنہیں سنہ 1400 میں پیر صدر الدین نے سندھ اور گجرات کے علاقوں میں اسلام کی روشنی سے منور کیا تھا اور فارسی لفظ ‘خواجہ’ سے ان کی پہچان ‘خوجہ تاجروں’ کے طور پر قائم ہوئی۔

    لیکن سنہ 1845 میں جب آغا خان نے سندھ کا دورہ کیا اور بعد ازاں بمبئی کو اپنا مرکز بنایا، تو برادری کے تجارتی اور مذہبی فنڈز، جو 20 فیصد تک جمع کیے جاتے تھے، اور نئے فرمودات پر برادری کے اندر ایک فکری و قانونی کشمکش کا آغاز ہوا۔

    اس تنازع اور طویل قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘خوجہ شیعہ اثنا عشریہ جماعتوں’ کا قیام عمل میں آیا۔ دنیا بھر میں محض ڈیڑھ لاکھ کی قلیل آبادی پر مشتمل اس برادری نے کراچی کی بندرگاہ، پاکستان کی معاشی بقا اور اولڈ سٹی ایریا، کھارادر و لیاری، کے سماجی، طبی اور مذہبی افق پر جو لازوال نقوش چھوڑے، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔

    دو براعظم، ایک خاندان: کراچی اور مشرقی افریقہ کا بحری نیٹ ورک

    انیسویں صدی کے وسط، 1840 کی دہائی، میں جب کَچھ، بھج، پنیلی اور کاٹھیاواڑ کے خوجہ تاجروں نے شدید قحط اور معاشی بحران کے سبب ہجرت کی، تو ان کا سفر دو متوازی راستوں پر گامزن ہوا۔

    ایک دھڑا سندھ کے ساحل پر اتر کر کراچی میں آباد ہوا، جبکہ دوسرا بڑا حصہ لکڑی کے روایتی بحری جہازوں کے ذریعے بحرِ ہند کو عبور کرتا ہوا مشرقی افریقہ کے ساحلوں، یعنی زنجبار، ممباسا اور دارالسلام پر اترا۔

    عقائد کی تبدیلی اور اسماعیلی شیعہ سے اثنا عشریہ شیعہ بننے کے بعد بھی، ان دونوں خطوں کے خوجہ تاجروں کے مابین خاندانی، کاروباری اور ثقافتی مراسم اتنے مضبوط رہے کہ انہوں نے کراچی بندرگاہ کو مشرقی افریقہ کی منڈیوں کے لیے ایک مستقل سپلائی بیس بنا دیا۔

    روایتی بحری جہازوں کے اس نیٹ ورک کے ذریعے کراچی سے چاول، شکر، گرم مصالحے اور سوتی کپڑا افریقہ بھیجا جاتا تھا، جبکہ افریقہ کے زرخیز ساحلوں سے ہاتھی دانت، قیمتی لونگ، ناریل اور سمندری پانی سے محفوظ رہنے والی عمارتی لکڑی کراچی لائی جاتی تھی، جس سے پرانے کراچی کے مکانات کی چھتیں اور بندرگاہ کی کشتیاں بنتی تھیں۔

    افریقہ فیڈریشن، ورلڈ فیڈریشن اور کراچی جماعت کا اشتراک

    مشرقی افریقہ کے مختلف شہروں میں جیسے جیسے برادری نے تجارتی عروج حاصل کیا، انہوں نے منظم ‘جماعتیں’ قائم کیں۔ سنہ 1946 میں دارالسلام، تنزانیہ، میں ‘افریقہ فیڈریشن’ کی بنیاد رکھی گئی تاکہ کینیا، یوگنڈا، زنجبار، موزمبیق اور مڈغاسکر کی جماعتوں کو یکجا کیا جا سکے۔

    اس افریقہ فیڈریشن اور کراچی کی خوجہ اثنا عشریہ جماعت کے مابین ایک مخلصانہ فلاحی اور مالیاتی رشتہ قائم ہوا۔ افریقہ کے متمول خوجہ تاجروں نے کراچی کو اپنے وطنِ ثانی کے طور پر دیکھا اور یہاں کے مذہبی، تعلیمی اور طبی اداروں کے لیے باقاعدگی سے بھاری فنڈز بھیجے۔

    بعد ازاں، 1976 میں لندن میں قائم ہونے والی ‘ورلڈ فیڈریشن آف خوجہ شیعہ اثنا عشری’ کا کراچی ایک مضبوط اور ناگزیر ستون بن گیا۔ آج بھی کراچی کے جوڑیا بازار اور کیمیکل مارکیٹ کے خوجہ تاجر تنزانیہ اور کینیا کے ساتھ چائے کی پتی، دالوں اور ادویات کی تجارت کا بڑا نیٹ ورک سنبھالتے ہیں۔

    یوگنڈا کا بحران اور کراچی ہجرت کا تاریخی موڑ

    برادری کی تاریخ میں ایک ہولناک موڑ سنہ 1972 میں آیا، جب یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے نسلی عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام ایشیائی باشندوں اور خوجہ تاجروں کو چوبیس گھنٹوں میں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ ان خوجہ خاندانوں کا سب کچھ وہیں چھوٹ گیا۔

    اگرچہ برادری کی بڑی تعداد برطانیہ، یورپ اور کینیڈا کی طرف نکل گئی، لیکن ایک کثیر تعداد نے اپنے آبائی روابط کی بنیاد پر کراچی، پاکستان، کا رخ کیا۔

    افریقہ سے بے دخل ہو کر آنے والے ان باہمت تاجروں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنے پرانے تجربے اور بچائے ہوئے سرمائے کو کراچی کی معیشت میں جھونک دیا۔ انہوں نے کلفٹن اور گارڈن کے علاقوں میں جدید رہائشی جائیدادیں تیار کیں، جوڑیا بازار کی ہول سیل مارکیٹ کو اپنی کاروباری مہارت سے وسعت دی، اور افریقہ میں اپنے پرانے روابط کو استعمال کرتے ہوئے کراچی سے کاٹن یارن، یعنی دھاگے، اور کپڑے کی برآمدات کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جس نے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کو قیمتی زرِ مبادلہ فراہم کیا۔

    حبیب خاندان: نوزائیدہ پاکستان کی معاشی ڈھال اور بلینک چیک کی داستان

    قیامِ پاکستان کی تاریخ میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مایہ ناز ‘حبیب خاندان’ کا کردار محض ایک کاروباری خاندان کا نہیں، بلکہ اس معاشی ڈھال کا تھا جس نے اگست 1947 میں نوزائیدہ ملک کو دیوالیہ ہونے اور معاشی بحران سے بچایا۔

    1941 قائد اعظم کی درخواست پر بمبئی میں حبیب بینک کا قیام۔

    1947، جون: قائد اعظم کی ہدایت پر پورا نیٹ ورک اور خزانہ کراچی منتقل۔

    1947، اگست: بھارتی حکومت نے 75 کروڑ روپے روکے، خزانہ خالی ہوا اور ملازمین کی تنخواہیں رک گئیں۔

    1947، ستمبر: سیٹھ محمد علی حبیب کا عبوری حکومت کو آٹھ کروڑ روپے کا تاریخی ‘بلینک چیک’۔

    1948، یکم جولائی: اسٹیٹ بینک کے قیام میں حبیب خاندان کی مالی و تکنیکی معاونت۔

    حبیب بینک کا قیام، 1941

    تقسیم سے قبل برصغیر کی بینکاری پر ہندو اور برطانوی سرمایہ کاروں کا راج تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی دور اندیش نظریں دیکھ رہی تھیں کہ آزاد مسلم ریاست کے لیے اپنے بینک کا ہونا ضروری ہے۔ ان کی خصوصی درخواست پر حبیب خاندان نے 25 اگست 1941 کو بمبئی میں مسلمانوں کے پہلے شیڈولڈ کمرشل بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، کی بنیاد رکھی۔

    کراچی منتقلی اور پرخطر آپریشن، 1947

    جون 1947 میں تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی، قائد اعظم کی ہدایت پر حبیب خاندان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا پورا ہیڈ کوارٹر اور نیٹ ورک بمبئی سے کراچی منتقل کر دیا۔ بمبئی سے سونا، نقدی اور اہم دستاویزات بحری جہازوں کے ذریعے پرخطر حالات میں کراچی بندرگاہ پہنچانا اس برادری کے وفادار ملازمین کا ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ کراچی کا ایم اے جناح روڈ اس مالیاتی نیٹ ورک کا گڑھ بن گیا۔

    تاریخی ‘بلینک چیک’ اور آٹھ کروڑ روپے کی امداد

    آزادی کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کے حصے کے 75 کروڑ روپے کے اثاثے روک لیے۔ پاکستان کا سرکاری خزانہ بالکل خالی تھا، مہاجرین کے کیمپ ابل رہے تھے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہ تھے۔ اس نازک وقت میں قائد اعظم نے سیٹھ محمد علی حبیب سے رابطہ کیا۔

    سیٹھ محمد علی حبیب نے حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے عبوری حکومت کو 80 ملین، یعنی آٹھ کروڑ روپے، کا قرضہ اور فنڈز جاری کیے۔ روایات کے مطابق، انہوں نے قائد اعظم کو ایک ‘بلینک چیک’ پیش کر دیا تھا کہ ملک کو بچانے کے لیے جتنی رقم درکار ہو، نکال لی جائے۔ اسی رقم سے پاکستان کے ابتدائی سرکاری امور کا پہیہ چلا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان (1948):

    جب یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، تو اس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، سونے کے ذخائر کی منتقلی اور ابتدائی ورکنگ کیپیٹل کی فراہمی میں حبیب بینک کے ماہرین اور حبیب خاندان نے کلیدی تکنیکی اور مالیاتی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر سے جمع ہونے والے چندے کا مرکزی اکاؤنٹ ‘قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان فنڈ’ بھی حبیب بینک ہی سنبھالتا تھا۔

    اگرچہ 1974 میں یہ بینک قومیایا گیا، لیکن اس خاندان نے معصومین ہسپتال (لیاری)، حبیب یونیورسٹی، حبیب پبلک اسکول، بینک الحبیب اور بینک الفلاح کے ذریعے کراچی کی معاشی و تعلیمی آبیاری جاری رکھی۔

    کھارادر اور لیاری، قدیم عزاداری اور مٹتی تہذیب کے آثار

    اولڈ سٹی ایریا کا یہ خطہ صرف تجارت کا مرکز نہیں تھا، بلکہ یہ خوجہ اثنا عشریہ برادری کے مذہبی عقیدے، عزاداریِ امام حسین علیہ السلام اور عوامی فلاح کا سب سے پرانا گڑھ ہے۔

    بڑا امام باڑہ، کھارادر (منزلِ عزا):

    کھارادر کی تنگ اور تاریخی گلیوں میں واقع یہ عظیم الشان امام بارگاہ 1878 (کچھ کتبوں کے مطابق 1868) میں خوجہ اثنا عشریہ برادری کے معزز اور مخیر رہنما سیٹھ حاجی تھاور تھریا اور ان کے بیٹوں نے اپنی ذاتی زمین اور سرمائے سے تعمیر کروائی تھی۔ شروع میں یہ دو منزلہ عمارت تھی، جس میں 1963 میں تیسری منزل کا اضافہ کیا گیا۔

    یہاں کی عزاداری میں سندھی، کَچھی اور ایرانی ثقافت کا رنگ جھلکتا ہے۔ محرم کے دوران یہاں روایتی ایرانی ماتمی ساز ‘سنج و دمام’ اور سندھی طرز کے ‘نقارے’ کی گونج میں ماتم کیا جاتا ہے۔ یہاں 27 ذوالحج کو سو سال پرانے تاریخی علم پاک کو اتارا جاتا ہے (جسے ‘علم نہار کرنا’ کہتے ہیں) اور 29 ذوالحج کی رات کو عقیدت کے ساتھ دوبارہ علم کشائی کی جاتی ہے۔

    حسینیہ ایرانیان، کھارادر:

    قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں قائم ہونے والا یہ مرکز خوجہ اثنا عشریہ برادری اور ایران (شیراز و بوشہر) سے آئے تاجروں کے باہمی اشتراک کا شاہکار ہے، جس کا انتظام ‘انجمنِ حسینیہ ایرانیان’ چلاتی ہے۔

    اس مقام کی سب سے بڑی انتظامی اہمیت یہ ہے کہ کراچی کے تمام مرکزی اور سرکاری جلوس (نو اور دس محرم کے یومِ عاشور کے جلوس) نشتر پارک سے برآمد ہو کر، ایم اے جناح روڈ سے گزرتے ہوئے اسی حسینیہ ایرانیان پر آ کر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

    یہ وہ منبر ہے جہاں علامہ رشید ترابی اور علامہ طالب جوہری جیسی صدی کے مایہ ناز خطبا دہائیوں تک مجلس پڑھتے رہے۔ یہاں دس محرم کی صبح زائرین میں روایتی ‘ایرانی پلاؤ اور چلو کباب’ بطورِ نیاز تقسیم کیا جاتا ہے، جو اس کی ایک الگ پہچان ہے۔

    بشوکی امام بارگاہ (نیا آباد، لیاری):

    برطانوی راج سے بھی پہلے 1806 میں قائم ہونے والی یہ امام بارگاہ کراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ مانی جاتی ہے، جب شہر کی آبادی محض 35 ہزار تھی۔ اس کی بنیاد خلیجِ فارس سے آئے ایک عراقی تاجر ‘بشو’ نے رکھی تھی، لیکن اس کا انتظام ہمیشہ لیاری کے مقامی معززین اور خاندانوں کے پاس رہا، جو سنی عقیدے سے تعلق رکھنے کے باوجود نسل در نسل اس کے خادم اور محافظ ہیں۔

    بلدیہ کراچی کے 1884 کے تاریخی بجٹ ریکارڈ کے مطابق، اس کی گلی (امام بارگاہ روڈ) کو پکا کرنے کے لیے اس زمانے میں 183 روپے مختص کیے گئے تھے۔

    روشنی کے سفیر: غلامانِ عباسؑ، حبیب پبلک اسکول، حبیب یونیورسٹی اور انقلابی تعلیمی نیٹ ورک

    کراچی میں خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری کی خدمات محض جوڑیا بازار کی تجارت، حبیب بینک کی مالیاتی ڈھال یا کھارادر کی عزاداری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس برادری نے کراچی کی تاریخ میں علم اور شعور کی جو شمعیں روشن کیں، وہ ان کا سب سے پائیدار اور لازوال اثاثہ ہیں۔

    بیسویں صدی کے وسط میں، جب تقسیمِ ہند کے بعد کراچی کی آبادی میں اچانک لاکھوں مہاجرین اور سفید پوش خاندانوں کا اضافہ ہوا، تو برادری کے مقتدر علما، مخلص دانشوروں اور مخیر تاجروں نے محسوس کیا کہ قوم کی بقا صرف تجارت میں نہیں بلکہ جدید سائنسی اور انگریزی تعلیم میں ہے۔ اسی سوچ کے تحت اولڈ سٹی ایریا سمیت کراچی میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے جو آج بھی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ جیسے:

    غلامانِ عباس اسکول اینڈ ہاسٹل: اس ادارے نے نہ صرف خوجہ برادری بلکہ کراچی کے دیگر عام مسلم اور متوسط طبقے کے بچوں کو انتہائی کم فیس (اور مستحق بچوں کو مکمل اسکالرشپ) کے ساتھ وہ معیارِ تعلیم دیا جو اس دور کے مہنگے ترین کلفٹن کے مشنری اسکولوں کا ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے پڑھے ہوئے ہزاروں طلبا آج دنیا بھر میں نامور پوزیشنوں پر فائز ہیں۔

    حبیب پبلک اسکول (1959)، جہاں قائدین اور اولمپئنز تیار ہوئے:

    جب ہم خوجہ اثنا عشریہ برادری کے تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہیں، تو مائی کولاچی اور مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقع ‘حبیب پبلک اسکول’ کا ذکر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ اسکول حبیب خاندان (سرمایہ کار: محمد علی حبیب) نے 1959 میں قائم کیا تھا اور یہ صرف ایک اسکول نہیں بلکہ پاکستان کی نرسری ہے۔

    حبیب پبلک اسکول نے پاکستان کو کئی ایسے نام دیے جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا پرچم بلند کیا۔ یہ اسکول اپنی بے پناہ سستی فیس، کڑے نظم و ضبط، شاندار کھیل کے میدانوں اور سوئمنگ پول کے باعث پورے کراچی میں اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ مانا جاتا رہا، جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا تھا۔

    حبیب یونیورسٹی۔ پاکستان کی پہلی لبرل آرٹس یونیورسٹی: تعلیم کے میدان میں برادری کے حبیب خاندان نے اکیسویں صدی میں جو سب سے بڑا تاریخی قدم اٹھایا، وہ ‘حبیب یونیورسٹی’ کا قیام ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی بھی نجی خاندان کی طرف سے دیا گیا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ یہ یونیورسٹی عالمی معیار کے لبرل آرٹس، کمیونیکیشن ڈیزائن، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے فراہم کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا ‘یو ہوپ’ اسکالرشپ پروگرام ہے، جس کے تحت کراچی کے سرکاری کالجوں اور غریب بستیوں کے ذہین بچوں کو سو فیصد مفت اسکالرشپ دی جاتی ہے، تاکہ پیسے کی کمی کسی کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

    سراج کالونی اور معصومین ہسپتال

    لیاری کے موسیٰ لین کے ساتھ واقع سراج کالونی خوجہ اثنا عشریہ اور پرانے کَچھی و شیرازی سادات خاندانوں کا مسکن رہی ہے۔ اسی موسیٰ لین اور کھارادر کے سنگم پر، آتمارام پریتم داس روڈ (حالیہ شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ) پر ‘معصومین ہسپتال’ واقع ہے، جو حبیب خاندان اور برادری کے مخیر حضرات کا قائم کردہ ایک فلاحی ادارہ ہے اور بارہ اماموں اور چودہ معصومینؑ کے نام سے منسوب ہے۔

    یہ ہسپتال دہائیوں سے لیاری کے غریب ماہی گیروں، جونا مارکیٹ اور اولڈ سٹی کے متوسط طبقے کے لیے سستی ترین زچہ و بچہ اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

    قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے نڈر سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ (1994-1997)، جن کا تعلق اسی لیاری (نیا آباد) سے تھا، وہ نسلی طور پر خوجہ نہیں بلکہ قدیم ‘سندھی سادات’ (شیرازی سید) خاندان سے تھے، تاہم عقیدے کے اعتبار سے شیعہ اثنا عشری ہونے کے ناطے وہ اولڈ سٹی ایریا کی ان تمام مذہبی و عزاداری کی روایات کے بچپن سے شاہد رہے تھے۔)

    آخری آرام گاہیں اور آخری رسومات کا نظام

    خوجہ اثنا عشریہ برادری کے سماجی نظم و ضبط اور اپنی کمیونٹی کے لیے خدمات کا اندازہ ان کے قائم کردہ تدفین اور آخری رسومات کے مربوط نظام سے لگایا جا سکتا ہے، جو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں ایک طویل عرصے سے قائم ہے۔

    علی باغ قبرستان (قدیم خوجہ اثنا عشریہ قبرستان):

    حالیہ بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے سامنے، لیاری اور پرانے کراچی کے مابین خوجہ اسماعیلی جماعت کے حسینی باغ قبرستان کے قریب واقع ‘علی باغ’ برادری کا قدیم ترین اور تاریخی قبرستان ہے۔ یہ صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ کراچی کی ہجرتی تاریخ کا ایک کتبہ ہے، جہاں کَچھ، کاٹھیاواڑ اور مشرقی افریقہ سے آ کر کراچی بندرگاہ کو آباد کرنے والے اولیا، مقتدر تاجروں، حبیب خاندان کے بزرگوں اور عام محنت کشوں کی صد سالہ پرانی قبریں موجود ہیں۔

    یہ باغ برادری کے پرانے بزرگوں نے وقف کیا تھا تاکہ کمیونٹی کے افراد کو ایک ہی جگہ باوقار تدفین میسر آ سکے۔ ہارون فیملی، ہدایت اللہ فیملی، اور بی سی سی آئی والے مشہور بین الاقوامی بینکر آغا حسن عابدی سمیت دیگر بڑے بڑے خاندان اور تاریخ ساز شخصیات یہاں دفن ہیں۔

    مٹی کا قرض

    لوہانہ برادری کے تجارتی ماضی سے لے کر بمبئی کی قانونی کشمکش تک، اور کَچھ کے قحط سے لے کر مشرقی افریقہ کی بے دخلی اور یوگنڈا کے بحران تک، خوجہ شیعہ اثنا عشریہ برادری نے تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا انتہائی پامردی اور نظم و ضبط سے کیا۔

    حبیب خاندان کا وہ تاریخی ‘بلینک چیک’ ہو، معصومین ہسپتال کی سستی شفا ہو، کھارادر کے بڑے امام باڑے اور حسینیہ ایرانیان سے اٹھنے والی سنج و دمام کی صدائیں ہوں یا علی باغ کی خاموش قبریں، یہ سب گواہ ہیں کہ اس قلیل ترین برادری نے کراچی کی مٹی کا قرض کس شان سے اتارا ہے۔

    معیشت کی بلند ترین پوزیشنوں سے لے کر لیاری کی پسماندہ گلیوں تک، ان کی خدمات عروس البلاد کراچی کی تاریخ کا وہ اَن مٹ نقش ہیں جنہیں وقت کی کوئی بھی لہر کبھی مٹا نہیں پائے گی۔

  • کراچی میں قائم ‘ڈاؤائٹس 78 فٹ اینڈ واؤنڈ کیئر سینٹر’: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید کی کرن

    کراچی میں قائم ‘ڈاؤائٹس 78 فٹ اینڈ واؤنڈ کیئر سینٹر’: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے امید کی کرن

    ذیابیطس کے باعث پاؤں میں ہونے والے پیچیدہ زخم اور انفیکشن بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کے لیے عضو کٹنے تک کی نوبت لا سکتے ہیں، تاہم کراچی کے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال میں قائم ‘ڈاؤائٹس 78 فٹ اینڈ واؤنڈ کیئر سینٹر’ پاکستان کے ان چند خصوصی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں ایسے مریضوں کو جدید اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    یہ مرکز ڈاؤ میڈیکل کالج کی 1978 کی کلاس کے سابق طلبہ، جنہیں ‘ڈاؤائٹس 78’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کی فلاحی کاوش کا نتیجہ ہے۔ سندھ حکومت اور مخیر حضرات کے تعاون سے قائم کیے گئے اس مرکز کا مقصد ایسے مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کرنا ہے جنہیں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث پاؤں یا ٹانگ کٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

    ڈاؤائٹس 78 کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی تعمیر 2007 میں مکمل ہوئی تھی، جس میں مخیر حضرات کے ساتھ سندھ حکومت نے بھی مالی تعاون کیا۔

    ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے باعث اعصاب متاثر ہونے سے بہت سے مریضوں کو پاؤں میں لگنے والی چوٹ یا زخم کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ خون کی روانی بھی متاثر ہو جاتی ہے، جس کے باعث معمولی زخم بھی جلد مندمل نہیں ہوتے، انفیکشن بڑھ جاتا ہے اور بعض اوقات مریض کی جان بچانے کے لیے عضو کاٹنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

    ایسے مریضوں کے لیے ‘ڈاؤائٹس 78 فٹ اینڈ واؤنڈ کیئر سینٹر’ اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں زخموں کی جدید ڈریسنگ، انفیکشن کا علاج، زخموں کی صفائی، مختلف شعبوں کے ماہرین کی مشترکہ مشاورت اور پاؤں کی نگہداشت سے متعلق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کے اعضا محفوظ رکھے جا سکیں۔

    مرکز میں روزانہ تقریباً 100 مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بروقت تشخیص اور علاج کی بدولت بڑی تعداد میں مریضوں کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچائی جا چکی ہیں۔ اس طرح یہ مرکز صرف علاج کی سہولت ہی نہیں بلکہ ذیابیطس کی سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے امید کی ایک کرن بھی بن چکا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض روزانہ اپنے پاؤں کا معائنہ کریں، معمولی زخم، چھالے یا سوجن کو بھی نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف عضو بلکہ مریض کی جان بھی بچا سکتا ہے۔

    قدرت، صحت، تاریخ اور پاکستان کے منفرد مقامات سے متعلق مستند اور دلچسپ معلومات جاننے کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

    ساگا ڈیجیٹل، پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم، جہاں تحقیق، حقائق اور مثبت کہانیوں کو جدید انداز میں آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔

  • کراچی: ریڈ بس میں خصوصی افراد کے لیے مفت سفر اور جدید سہولیات، کراچی میں جامع عوامی ٹرانسپورٹ کی جانب اہم قدم

    کراچی: ریڈ بس میں خصوصی افراد کے لیے مفت سفر اور جدید سہولیات، کراچی میں جامع عوامی ٹرانسپورٹ کی جانب اہم قدم

    کراچی جیسے بڑے شہر میں روزانہ لاکھوں افراد عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں، لیکن خصوصی افراد، وہیل چیئر استعمال کرنے والے شہری اور عمر رسیدہ مسافروں کے لیے سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بس میں چڑھنے سے لے کر منزل تک پہنچنے تک انہیں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    سندھ حکومت کی پیپلز بس سروس، جسے عام طور پر ریڈ بس کہا جاتا ہے، انہی مشکلات کو کم کرنے کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ ہر شہری باوقار، محفوظ اور آسان انداز میں سفر کر سکے۔

    سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق ریڈ بس اور برقی بسوں میں خصوصی افراد کے لیے سفر مکمل طور پر مفت ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف سفری اخراجات میں کمی لانا نہیں بلکہ انہیں تعلیم، روزگار، علاج اور دیگر سماجی سرگرمیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا بھی ہے۔

    ریڈ بسوں کو اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ وہیل چیئر استعمال کرنے والے مسافر بھی آسانی سے سفر کر سکیں۔ بسوں میں خصوصی ریمپ نصب کیے گئے ہیں جن کی مدد سے وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد نسبتاً آسانی سے بس میں داخل اور باہر آ سکتے ہیں۔ بس کے اندر ان کے لیے مخصوص جگہ بھی مختص کی گئی ہے تاکہ سفر کے دوران انہیں محفوظ اور آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔

    خصوصی افراد کے علاوہ عمر رسیدہ شہریوں اور حاملہ خواتین کے لیے بھی مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔ ان نشستوں پر واضح نشانات موجود ہیں تاکہ دیگر مسافر ان کا احترام کریں اور ضرورت مند افراد کو بیٹھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔

    ریڈ بس میں صرف جسمانی رسائی ہی بہتر نہیں بنائی گئی بلکہ معلومات کی فراہمی کو بھی زیادہ مؤثر بنایا گیا ہے۔ بسوں میں اگلے اسٹاپ کی معلومات صوتی اعلانات اور برقی ڈسپلے کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جس سے بصارت یا سماعت سے محروم بہت سے مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بسوں میں ایمرجنسی الارم بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد حاصل کی جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق قابل رسائی عوامی ٹرانسپورٹ خصوصی افراد کی زندگی میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ جب سفر آسان ہو تو ملازمت تک پہنچنا، تعلیم جاری رکھنا، ہسپتال جانا اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ٹرانسپورٹ ہی قابل رسائی نہ ہو تو معذوری سے زیادہ معاشرے میں موجود رکاوٹیں لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن میں بھی نقل و حمل سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی رسائی پر زور دیا گیا ہے، اور پاکستان بھی اس کنونشن کا فریق ہے۔ اسی تناظر میں عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ جامع اور قابل رسائی بنانے کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    کراچی میں ریڈ بس سروس میں فراہم کی جانے والی یہ سہولیات شہری نقل و حمل کو زیادہ جامع بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مزید بسوں، بس اسٹاپس اور ٹرمینلز کو بھی مکمل طور پر قابل رسائی بنایا جائے تو اس سے نہ صرف خصوصی افراد بلکہ بزرگ شہریوں، عارضی چوٹ کا شکار افراد اور بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے خاندانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

    ریڈ بس صرف ایک سفری ذریعہ نہیں بلکہ اس تصور کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ جدید شہر وہی ہوتا ہے جہاں ہر شہری کو برابری، وقار اور مساوی مواقع کے ساتھ سفر کرنے کا حق حاصل ہو۔ کراچی میں خصوصی افراد کے لیے مفت سفر اور جدید سہولیات اسی سمت میں ایک اہم قدم تصور کیے جا رہے ہیں۔

  • جب روشنیوں کا شہر تعمیر ہو رہا تھا: قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کی بلدیات اور اس کے درخشاں قائدین

    جب روشنیوں کا شہر تعمیر ہو رہا تھا: قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کی بلدیات اور اس کے درخشاں قائدین

    آج کا کراچی جتنا بے ہنگم، وسیع اور پیچیدہ نظر آتا ہے، سو سال قبل یہ برطانوی ہند کا سب سے بہترین منصوبہ بند، صاف ستھرا اور جدید ترین ساحلی شہر بننے کی شاہراہ پر گامزن تھا۔

    سندھی (لاسی اور کچھی) ملاحوں اور ماہی گیروں کے ایک چھوٹے سے بندرگاہی قصبے سے دنیا کی بہترین بین الاقوامی بندرگاہ اور جدید بلدیاتی ماڈل میں ڈھالنے کا سہرا اس کی تاریخی میونسپلٹی اور ان کثیرالمذاہب قائدین کے سر ہے جنہوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر صرف ‘شہر کی خدمت’ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔

    کراچی کی بلدیاتی تاریخ محض دفتری ریکارڈ کا نام نہیں، بلکہ یہ پارسی، ہندو، مسلم اور کرسچن قیادت کے اس اشتراکِ عمل کی داستان ہے جس نے ایک ریگستانی خطے کو ‘مشرق کا ملکہ’ بنا دیا۔

    میونسپل کمیٹی سے کارپوریشن تک کا تاریخی سفر

    کراچی میں بلدیاتی نظام کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا۔ جنوری 1885 میں کراچی میونسپل کمیٹی قائم کی گئی، جس کی بنیادی ذمہ داری شہر کے روزمرہ انتظامی امور، صفائی، سڑکوں کی دیکھ بھال، مالیاتی آمدنی جمع کرنا اور نجی املاک کے مالکان پر ہاؤس ٹیکس عائد کرنا تھی۔

    بلدیاتی ادارے کے ڈھانچے میں اہم موڑ سن 1910 میں آیا جب ممتاز برطانوی عہدیدار سر چارلس میولس سال 1910 تا 1911 کے لیے کراچی میونسپل کمیٹی کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ ان کے بعد مقامی ہندوستانی قیادت نے باگ ڈور سنبھالی اور غلام علی چھاگلہ میونسپلٹی کے صدر بنے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تاریخی شخصیت ہیں جن کے لائق فرزند احمد غلام علی چھاگلہ نے 1950 میں پاکستان کے قومی ترانے کی شہرہ آفاق دھن ترتیب دی تھی۔

    نومبر 1933 میں بمبئی پریذیڈنسی کے تحت ‘کراچی میونسپل ایکٹ’ منظور ہوا اور میونسپل کمیٹی کو باقاعدہ ‘کراچی میونسپل کارپوریشن’ کا درجہ دے دیا گیا۔ صدارت کا عہدہ ‘میئر’ میں تبدیل ہو گیا اور انتظام کی باگ ڈور 57 کونسلرز، ایک میئر اور ایک ڈپٹی میئر کے سپرد کر دی گئی۔

    • قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے میئرز (1933 تا 1947)
    • جمشید نسروانجی مہتا (1933 تا 1934) بانی میئر اور اسکاؤٹنگ کے بانی
    • ٹیکم داس ودھومل (1934 تا 1935) پہلی ہندو قیادت
    • قاضی خدا بخش (1935 تا 1936) پہلے مسلم میئر اور ماہرِ تعلیم
    • خان بہادر اردشیر ماما (1936 تا 1937) پارسی مخیر شخصیت
    • درگا داس اڈوانی (1937 تا 1938) ممتاز ہندو تاجر
    • حاتم علوی (1938 تا 1939) مسلم لیگی رہنما اور عوامی شخصیت
    • آر کے سدھوا (1939 تا 1940) پارسی قانون دان
    • لالجی ملہوترا (1940 تا 1941) تحریکِ عدم تعاون کے سرخیل
    • محمد ہاشم گزدر (1941 تا 1942) تحریکِ پاکستان کے قدآور رہنما
    • سہراب کے ایچ کٹرک (1942 تا 1943) پارسی مورخ اور مصنف
    • شمبوناتھ ملراج (1942 تا 1943) ہندو سماجی رہنما
    • یوسف عبداللہ ہارون (1943 تا 1944) نوجوان مسلم لیگی رہنما
    • مینوئل مسکیٹا (1945 تا 1946) واحد گوون کیتھولک میئر
    • وشرام داس دیوان داس (1946 تا 1947) قیامِ پاکستان سے قبل آخری میئر

    جمشید نسروانجی مہتا، ‘معمارِ کراچی’ اور صفائی کا ماڈل

    کراچی کی بلدیاتی تاریخ پر سب سے گہرا اور مثبت اثر ایک پارسی کاروباری شخصیت اور انسان دوست رہنما جمشید نسروانجی مہتا (1886 تا 1952) کا ہے۔ وہ 20 سال تک میونسپلٹی کے منتخب صدر رہے اور جب نومبر 1933 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا تو وہ کراچی کے پہلے منتخب میئر بنے (نومبر 1933 تا اگست 1934)۔

    سندھ میں بوائے اسکاؤٹنگ کے بانی جمشید نسروانجی کا نظریۂ بلدیات محض ٹیکس جمع کرنا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے کراچی کو ‘ہندوستان کا سب سے صاف ستھرا شہر’ بنا دیا۔

    انہوں نے حکم دیا کہ کراچی کی مرکزی سڑکوں کو روزانہ سمندری یا میٹھے پانی سے دھویا جائے۔

    انہوں نے منگھوپیر کے قریب جذام (کوڑھ) کے مریضوں کے لیے ہسپتال کی بنیاد رکھی اور جدید بس ٹرمینلز، وسیع سڑکیں اور پارکس قائم کیے۔

    کثیرالمذاہب قیادت اور جمہوریت کا گلدستہ

    جمشید نسروانجی کے بعد کراچی کے میئر کے عہدے پر رواداری، سماجی خدمت اور سیاسی و مذہبی تنوع کی ایک بے نظیر مثال قائم ہوئی۔ ہر سال مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شہریوں کو اس شہر کی خدمت کا موقع ملا۔

    ٹیکم داس ودھومل (اگست 1934 تا مئی 1935) جمشید نسروانجی کے بعد شہر کے دوسرے میئر بنے اور بلدیاتی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھا۔

    قاضی خدا بخش (مئی 1935 تا مئی 1936): کراچی کے پہلے مسلم میئر بنے۔ وہ کراچی چلڈرن سوسائٹی کے سرپرست اور سندھ مسلم کالج کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عظیم ماہرِ تعلیم تھے۔

    خان بہادر اردشیر ماما (مئی 1936 تا مئی 1937): ممتاز پارسی مخیر اور کاروباری شخصیت، جنہوں نے تعلیم اور صحت کے میدان میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔

    درگا داس اڈوانی (مئی 1937 تا مئی 1938): شہر کے ممتاز ہندو تاجر رہنما، جنہوں نے تجارتی حلقوں کو بلدیات سے جوڑا۔

    حاتم علوی (مئی 1938 تا مئی 1939): مقبول عوامی شخصیت، مسلم لیگ کے متحرک رکن اور معروف علوی خاندان کے چشم و چراغ۔

    آر کے سدھوا (مئی 1939 تا مئی 1940): نامور پارسی رہنما اور مشہور عالمی ناول نگار بپسی سدھوا کے والد نسبتی۔

    لالجی ملہوترا (مئی 1940 تا مئی 1941): قابلِ احترام انسان دوست، ماہرِ تعلیم اور مہاتما گاندھی کی تاریخی ‘تحریکِ عدم تعاون’ کے سندھ میں اہم کردار ادا کرنے والے۔

    محمد ہاشم گزدر (مئی 1941 تا مئی 1942): بمبئی قانون ساز کونسل کے رکن، سندھ اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور تحریکِ پاکستان کے قدآور رہنما، جنہوں نے انجینئرنگ اور سیاسی تدبر سے شہر کی خدمت کی۔

    سہراب کے ایچ کٹرک (مئی 1942 تا مئی 1943): پارسی مورخ، نامور مصنف اور کراچی کی گلیوں کی تاریخی دستاویز نگاری کے بانی۔

    شمبوناتھ ملراج (مئی 1942 تا مئی 1943): سماجی کارکن اور تاجر رہنما، جنہوں نے جنگِ عظیم دوم کے دشوار ایام میں شہری سپلائی کو بحال رکھا۔

    یوسف عبداللہ ہارون (مئی 1943 تا مئی 1944): حاجی سر عبداللہ ہارون کے فرزند، سندھ کے نامور سیاست دان اور سماجی کارکن، جنہوں نے نو عمری میں شہر کی باگ ڈور سنبھالی۔

    مینوئل مسکیٹا (مئی 1945 تا مئی 1946): کراچی کے واحد گوون کیتھولک میئر اور سماجی و کھیلوں کے کلب ‘دی گوا پرتگالی ایسوسی ایشن’ کے صدر، جنہوں نے کراچی کی گوون کرسچن برادری کی نمائندگی کی۔

    وشرام داس دیوان داس (مئی 1946 تا مئی 1947): قیامِ پاکستان سے قبل کراچی کے آخری میئر، جنہوں نے تقسیمِ ہند کے نازک اور تلاطم خیز دور میں شہر کے امن و امان اور بلدیاتی نظم و ضبط کو قائم رکھا۔

    قیامِ پاکستان سے قبل کی کراچی بلدیات کی یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک شہر صرف کنکریٹ اور سڑکوں سے نہیں بنتا، بلکہ اس کے پیچھے شہر کی ملکیت کا احساس، غیر متعصبانہ قیادت اور بصیرت کارفرما ہوتی ہے۔ مسلمان، پارسی، ہندو اور کرسچن میئرز کا یہ خوبصورت تسلسل کراچی کا وہ اصلی چہرہ ہے جس نے اسے ایک صحرائی ساحل سے برصغیر کا سب سے مہذب اور روشن شہر بنا دیا تھا۔

  • ملڑی کی ٹکریاں: کراچی کی بارہ ہزار سال پرانی بھولی ہوئی تاریخ

    ملڑی کی ٹکریاں: کراچی کی بارہ ہزار سال پرانی بھولی ہوئی تاریخ

    ہر شہر کی اپنی ایک شناخت، ایک تاریخ اور ایک کہانی ہوتی ہے۔ کچھ کہانیاں کتابوں کے صفحات میں محفوظ رہتی ہیں، کچھ عظیم یادگاروں کی صورت میں زندہ رہتی ہیں، جبکہ کچھ کہانیاں زمین کی تہوں کے نیچے ہزاروں سال تک خاموشی سے دبی رہتی ہیں۔ کراچی بھی ایسا ہی ایک شہر ہے۔

    عام خیال یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ماہی گیروں کے گاؤں ‘کولاچی’ سے شروع ہوئی، پھر برطانوی دور میں یہاں کی بندرگاہ نے ترقی کی اور پاکستان بننے کے بعد یہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی اور سمندری مرکز بن گیا۔ یقیناً یہ کراچی کی تاریخ کے اہم ابواب ہیں، لیکن یہ اس کی ابتدا نہیں ہے۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ آج کے کراچی کی سرزمین پر تقریباً بارہ ہزار سال پہلے بھی انسان آباد تھے۔ اس لحاظ سے کراچی صرف جدید پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں بلکہ انسانی آبادی کے اعتبار سے ملک کی قدیم ترین سرزمینوں میں سے بھی ایک ہے۔

    تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ ہزار سال پہلے، جب دنیا آخری برفانی دور سے نکل رہی تھی، اس وقت کراچی کا منظر آج سے بالکل مختلف تھا۔ لیاری اور ملیر ندیاں سرسبز میدانوں اور دلدلی علاقوں سے گزرتی ہوئی بحیرۂ عرب میں گرتی تھیں، جبکہ چونے کی پہاڑیوں سے میٹھا پانی پھوٹتا تھا۔

    آج کے ڈرگ روڈ، ہل پارک، گلستانِ جوہر اور گزری تک پھیلے ہوئے علاقوں کو ملڑی کی ٹکریاں کہا جاتا تھا۔ اس دور میں یہ ٹکریاں شکار کرنے والے انسانوں کے لیے قدرت کا ایک بہترین تحفہ تھیں۔ یہاں انہیں میٹھا پانی، جنگلی جانور، مچھلیاں، سمندری خوراک اور فلنٹ اور چرٹ جیسے اعلیٰ معیار کے پتھر آسانی سے مل جاتے تھے، جن سے وہ اپنے اوزار تیار کرتے تھے۔

    بیسویں صدی کے دوران اس علاقے کی اہمیت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ 1947ء میں برطانوی محققین ٹوڈ اور پیٹرسن نے لیاری ندی کے کنارے سے پتھر کے کچھ قدیم اوزار دریافت کیے، جس کے بعد اس علاقے کی طرف آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی توجہ مبذول ہوئی۔

    اس کے بعد 1968ء سے 1976ء تک کراچی یونیورسٹی کے نامور ماہر پروفیسر عبدالرؤف خان نے ملڑی کی ٹکریوں کا باقاعدہ سروے کیا۔ انہوں نے تقریباً بیس قدیم مقامات کی نشاندہی کی اور ہزاروں پتھریلے اوزار دریافت کیے، جن میں مائیکرولتھ، بلیڈ، اسکریپر، برین اور دیگر نفیس اوزار شامل تھے۔

    بعد میں عالمی شہرت یافتہ اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے محققین نے ان دریافتوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ یہ اشیا میزولتھک دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس طرح ملڑی کی ٹکریاں سندھ کے اہم ترین قبل از تاریخ مقامات میں شامل ہو گئیں۔

    کراچی کے پہلے باشندے

    ان ٹکریوں پر رہنے والے لوگ ہومو سیپینس تھے، یعنی جسمانی طور پر آج کے انسانوں جیسے۔ وہ چھوٹے خاندانی گروہوں میں رہتے تھے اور موسم، پانی اور خوراک کی دستیابی کے مطابق اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے رہتے تھے۔

    ان کی زندگی کا انحصار شکار، مچھلی پکڑنے اور جنگلی پودے، پھل، بیج اور جڑیں جمع کرنے پر تھا۔ زندگی کے ہنر لکھنے پڑھنے کے ذریعے نہیں بلکہ مشاہدے، تجربے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کے ذریعے آگے بڑھتے تھے۔

    پتھروں کے علم، ان کی شناخت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملڑی کی ٹکریوں کے بارے میں یہ ثبوت ملا کہ اس ٹیکنالوجی کی ابتدا جدید دور میں نہیں بلکہ ہزاروں سال پہلے ہو چکی تھی۔ یہاں سے ملنے والے مائیکرولتھ نہایت مہارت سے بنائے گئے چھوٹے پتھریلے اوزار ہیں، جنہیں لکڑی یا ہڈی کے دستوں میں لگا کر تیر، بھالے، چاقو اور دوسرے ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

    یہ اوزار بنانے کے لیے اعلیٰ مہارت، منصوبہ بندی اور پتھروں کی خصوصیات کے بارے میں گہری معلومات درکار تھیں، جو ان انسانوں کی ذہانت اور فنی صلاحیت کا زندہ ثبوت ہیں۔

    ملڑی کی ٹکریوں سے ایسا نامیاتی مواد نہیں ملا، جس کے ذریعے کاربن 14 کے طریقے سے درست تاریخ معلوم کی جا سکے۔

    اسی لیے ماہرین نے ان اوزاروں کی ساخت، شکل اور بنانے کے طریقے کا پاکستان اور پڑوسی علاقوں کے تاریخ متعین شدہ میزولتھک اوزاروں سے موازنہ کیا اور ان کی عمر کا اندازہ لگایا۔ ارضیاتی شواہد بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی عمر تقریباً بارہ ہزار سال تسلیم کی گئی ہے۔

    ملڑی کی ٹکریوں سے کسی باقاعدہ شہر کے آثار نہیں ملے۔ یہاں نہ اینٹوں کی عمارتیں ملی ہیں، نہ گلیاں اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا کوئی منظم نظام۔ یہ ٹکریاں انسانی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتی ہیں، جب انسان شکار اور خوراک جمع کرنے پر انحصار کرتا تھا۔

    بعد میں مہر گڑھ میں زراعت کا آغاز ہوا اور پھر موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسی عظیم شہری تہذیبیں وجود میں آئیں۔ ملڑی کی ٹکریاں اسی ارتقائی سفر کے پہلے مرحلے کی گواہی دیتی ہیں۔

    تقریباً بارہ ہزار سال پہلے میزولتھک دور کے انسان ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے۔ 1947ء میں ٹوڈ اور پیٹرسن نے قدیم پتھریلے اوزار دریافت کیے۔ 1968ء سے 1976ء تک پروفیسر عبدالرؤف خان نے ان آثار کا تفصیلی سروے کیا۔ 1980ء میں گلستانِ جوہر کی تعمیر کے ساتھ قدیم مقامات کا بڑا حصہ جدید آبادی کے نیچے آ گیا۔ 2000ء کے بعد پروفیسر پاؤلو بیاجی اور دوسرے ماہرین نے ان دریافتوں کی عالمی سطح پر تصدیق کی۔

    ‘ملڑی’ نام کا معمہ

    ‘ملڑی’ نام کی اصل اب تک تحقیق طلب ہے۔ یہ نام آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے بہت پہلے برطانوی نقشوں میں موجود تھا۔ بعض ماہرین اسے قدیم سندھی یا بلوچی زبانوں سے جوڑتے ہیں، لیکن اب تک اس بارے میں کوئی حتمی لسانی تحقیق سامنے نہیں آئی۔

    پروفیسر عبدالرؤف خان کے دریافت کردہ اوزار کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ پاکستان کا محکمۂ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر ملڑی کی ٹکریوں کو ایک اہم قبل از تاریخ مقام تسلیم کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ گراس روٹس، اینشینٹ سندھ اور دوسرے تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پروفیسر پاؤلو بیاجی کی تحقیقات اور نیشنل میوزیم آف پاکستان میں محفوظ آثار، کراچی کی اس قدیم تاریخ کے زندہ گواہ ہیں۔

    ملڑی کی ٹکریوں پر تحقیق کسی سرکاری پابندی کی وجہ سے نہیں رکنی چاہیے تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، گلستانِ جوہر کی تعمیر، چونے کی کانوں، محدود مالی وسائل اور موہنجو دڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے بڑے مقامات کو ترجیح ملنے کی وجہ سے یہ علاقہ آہستہ آہستہ نظر انداز ہوتا گیا۔

    جدید کراچی کے لیے سبق

    ملڑی کی ٹکریاں ترقی کی مخالفت نہیں کرتیں بلکہ یہ سکھاتی ہیں کہ ترقی اور تاریخی ورثے کا تحفظ ساتھ ساتھ ہونا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے جی آئی ایس، لائیڈار، سیٹلائٹ تصاویر اور گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار استعمال کر کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے قدیم آثار کی شناخت اور حفاظت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ملڑی کی ٹکریوں پر ایک تشریحی مرکز قائم کیا جائے، جہاں نئی نسل کو کراچی کی قدیم ترین تاریخ سے آگاہ کیا جا سکے۔

    کراچی کی تاریخ نہ کولاچی سے شروع ہوئی، نہ برطانوی دور سے، اور نہ ہی صرف وادیٔ سندھ کی تہذیب سے۔ اس کی ابتدا ہزاروں سال پہلے ہوئی، جب انسانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ ملڑی کی ٹکریوں پر آباد ہوئے اور اپنے پیچھے پتھر کے نفیس اوزار چھوڑ گئے۔

    آج ان ٹکریوں کا بڑا حصہ جدید گلستانِ جوہر کے نیچے چھپا ہوا ہے، لیکن جامعات، عجائب گھروں اور سائنسی تحقیق میں محفوظ شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی قدیم ترین انسانی تاریخوں میں سے ایک کا امین شہر ہے۔

    ملڑی کی ٹکریاں صرف آثارِ قدیمہ کا ایک مقام نہیں بلکہ وہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ ہر عظیم شہر کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہوتی ہیں، اور جو معاشرہ اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے، وہ اپنی شناخت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیتا ہے۔

  • ‘لیاری ندی کے بیچ اُگتا گھانا جنگل: پیپلز اربن فاریسٹ کراچی کو کیسے بدل رہا ہے؟

    ‘لیاری ندی کے بیچ اُگتا گھانا جنگل: پیپلز اربن فاریسٹ کراچی کو کیسے بدل رہا ہے؟

    پیپلز اربن فاریسٹ لیاری کراچی میں شہری جنگلات کے قیام کی ایک نمایاں کوشش ہے، جس کا آغاز چار فروری 2020 کو کیا گیا۔ اس منصوبے کا افتتاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ اس پر عمل درآمد سندھ حکومت کے محکمہ جنگلات نے کیا۔

    منصوبے کا بنیادی مقصد لیاری دریا کے ویران، کچرے سے بھرے اور بنجر حصوں کو ایک سرسبز شہری جنگل میں تبدیل کرنا، کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی اور فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کرنا، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنا اور دریا کے کناروں کو ماحولیاتی لحاظ سے بحال کرنا تھا۔

    یہ جنگل لیاری دریا کے اندرونی حصے اور دونوں کناروں پر ماری پور پل سے شیر شاہ پل تک قائم کیا گیا۔ یہ مقام اس لیے بھی اہم ہے کہ لیاری دریا کراچی کی دو بڑی قدرتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر منصوبہ بند شہری آبادی، صنعتی فضلے، سیوریج اور کچرے کے باعث اس کا قدرتی ماحول شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے دریا کے بستر میں شجرکاری کو صرف درخت لگانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔

    ابتدائی مرحلے میں تقریباً دس ہزار پودے لگانے کا اعلان کیا گیا، تاہم اگست 2021 تک منصوبہ تقریباً پچاس ایکڑ رقبے تک پھیل چکا تھا اور محکمہ جنگلات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً تہتر ہزار پانچ سو درخت اگائے جا چکے تھے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر مقامی اور کراچی کے موسم سے مطابقت رکھنے والی اقسام کا انتخاب کیا گیا تاکہ کم پانی میں بہتر نشوونما ہو اور طویل مدت تک ان کی بقا ممکن ہو۔

    منصوبے میں نیم، شیشم، کیکر، سکھ چین، جامن، امرود، چیکو، انار، جنگل جلیبی، گل موہر، گل نشتر، پارکنسونیا اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے گئے۔ ان درختوں کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہ کراچی کی شدید گرمی اور نسبتاً خشک موسم کو برداشت کر سکتے ہیں، کم پانی میں نشوونما پاتے ہیں، مقامی پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے بہتر مسکن فراہم کرتے ہیں اور شہری ماحول میں نسبتاً کم دیکھ بھال کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق اس منصوبے سے متعدد ماحولیاتی فوائد متوقع تھے، جن میں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا، درجہ حرارت میں کمی، گردوغبار اور فضائی آلودگی کو کم کرنا، مون سون کے دوران مٹی کے کٹاؤ میں کمی، سمندر سے کھارے پانی کی پیش قدمی کو محدود کرنے میں مدد اور پرندوں و دیگر جنگلی حیات کے لیے نئی پناہ گاہیں فراہم کرنا شامل ہیں۔

    چند برس بعد جب درخت بڑے ہوئے تو ان میں سے کئی اقسام نے پھل دینا بھی شروع کر دیا، جبکہ پہلے سے بنجر نظر آنے والا علاقہ ایک سرسبز پٹی میں تبدیل ہونے لگا۔

    محکمہ جنگلات نے اس منصوبے کو لیاری دریا تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل میں مزید وسعت دینے کا بھی اعلان کیا تھا، جبکہ سندھ حکومت نے بعد ازاں دیگر شہروں میں بھی اسی طرز کے شہری جنگلات قائم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ سکھر میں پیپلز اربن فاریسٹ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جسے کراچی کے بعد دوسرا بڑا شہری جنگلاتی منصوبہ قرار دیا گیا۔

    اگرچہ لیاری اربن فاریسٹ نے ایک ویران علاقے کو سبز پٹی میں تبدیل کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لیاری دریا کی مکمل بحالی صرف شجرکاری سے ممکن نہیں۔ دریا میں مسلسل سیوریج کے اخراج، صنعتی فضلے، ٹھوس کچرے اور تجاوزات جیسے مسائل حل کیے بغیر اس ماحولیاتی نظام کی طویل مدتی بحالی ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

  • زاویہ: روشنیوں کا اصل خون پسینہ، کراچی کا پنجابی مسیحی ورثہ اور گمنام معمار

    زاویہ: روشنیوں کا اصل خون پسینہ، کراچی کا پنجابی مسیحی ورثہ اور گمنام معمار

    دریائے سندھ کے کنارے پھیلا عروس البلاد، روشنیوں کا بندرگاہی شہر کراچی اپنے جغرافیائی و تزویراتی مقام، بلند و بالا فلک بوس عمارات اور معاشی و مالیاتی مرکز کے طور پر تو دنیا بھر کی نظروں میں رہتا ہے۔

    لیکن اس شہرِ بے مہر کے وجود کی تعمیر و تشکیل کا اصل تانا بانا ان گمنام، جفاکش اور محروم طبقات کے خون پسینے سے بنا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھندلکے میں خاموشی سے اس شہر کی صفائی، عمومی صحت اور بنیادی تحفظ کے سنگ بنیاد رکھے۔

    تقسیم ہند 1947 سے قبل کا کراچی ایک ایسا کثیر الثقافتی گلستان تھا جہاں پارسی، یہودی، ہندو، مسلمان، اینگلو انڈین اور گوانی کیتھولک مسیحی برادریاں شانہ بشانہ آباد تھیں۔ لیکن اس شہر کی عمرانی تاریخ کا سب سے اہم، متحرک اور نظرانداز کیا جانے والا باب وہ ‘پنجابی مسیحی برادری’ ہے، جس نے وسطی پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں کی مظلومیت سے نکل کر اس ساحلی شہر کو اپنا مسکن بنایا اور اس کے بلدیاتی، تعلیمی اور طبی ڈھانچے کو سنبھالنے میں تاریخی اور ناگزیر کردار ادا کیا۔

    پنجاب کی ‘ماس موومنٹ’ سے بندرگاہی شہر تک کی ہجرت

    پنجابی مسیحی برادری کا پس منظر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز، یعنی 1870 سے 1930 کے درمیانی برسوں میں پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور گورداسپور میں جنم لینے والی ایک بڑی سماجی و مذہبی تحریک سے جڑا ہے۔

    برطانوی راج اور معاصر جاگیردارانہ ڈھانچے کے زیر اثر، ہندو مت کے کڑے اور ظالمانہ ذات پات نظام نے اس دلت طبقے کو ‘اچھوت’ بنا کر رکھا تھا، جنہیں نہ زمین کی ملکیت کا حق حاصل تھا اور نہ ہی تعلیم کے ایوانوں میں قدم رکھنے کی اجازت۔

    اس ساختیاتی اور نسلی ذلت سے نجات اور انسانی وقار کی تلاش میں، جب برطانوی اور امریکی مشنریوں نے پنجاب کی دیہی پٹی میں اسکول اور ہسپتال قائم کیے، تو اس مظلوم طبقے نے اجتماعی سطح پر مسیحیت قبول کرنا شروع کی، جسے تاریخی اصطلاح میں ‘تبدیلی مذہب کی ماس موومنٹ’ کہا جاتا ہے۔

    مسیحیت کے دائرے میں آنے اور بنیادی تعلیم کے فروغ کے بعد، اس برادری نے نئی زندگی کی تلاش میں برطانوی حکومت کے زیر انتظام ابھرتے ہوئے صنعتی و تجارتی بندرگاہی شہر کراچی کا رخ کیا۔

    پیشوں کی تقسیم اور لیاری کے بلدیاتی کوارٹرز

    کراچی کی مٹی میں پاؤں جماتے ہی اس جفاکش برادری نے شہر قائد کی زندگی کو رواں دواں رکھنے کا کٹھن ذمہ اپنے سر لیا۔ مرد حضرات نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے تحت صفائی کے کارکنوں کے طور پر گلیوں، سڑکوں اور زیر زمین نکاسی آب کے نظام کو سنبھالا، تو دوسری طرف اس برادری کی خواتین نے تعلیم اور تربیت پر غیر معمولی توجہ مرکوز کی۔

    ان کی بیٹیوں اور بہنوں نے بڑے پیمانے پر نرسنگ اور تدریس کا پیشہ چنا، جس کے نتیجے میں کراچی کے تاریخی مشنری اسکولوں اور بڑے سرکاری ہسپتالوں، سول ہسپتال اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پنجابی مسیحی خواتین کا کردار صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔

    جغرافیائی تناظر میں، قیام پاکستان کے وقت اس برادری کا سب سے بڑا مرکز اور گڑھ لیاری کی ‘سلاٹر یارڈ روڈ’، ٹینری روڈ اور کمیلا سے ملحقہ علاقہ تھا۔ سنہ 1916 میں کراچی میونسپل کارپوریشن نے اپنے صفائی عملے کے لیے یہاں باقاعدہ پکے کوارٹرز قائم کیے تھے، جہاں نسل در نسل مقیم رہ کر اس برادری نے اپنے وجود سے اس شہر کو رونق اور صفائی بخشی۔

    1971 کا موڑ اور مہاراشٹرین دلت برادری کا داخلہ

    سنہ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے سانحے اور اس کے بعد کے برسوں میں کراچی کا آبادیاتی نقشہ تیزی سے بدلا۔ 1971 تک پنجابی مسیحی برادری کی چوتھی نسل پڑھ لکھ کر باقاعدہ متوسط طبقے کا حصہ بن چکی تھی اور وہ صفائی کے روایتی اور سخت کام کو چھوڑ کر دیگر سفید پوش پیشوں، دفتری محرر، بینکار اور اساتذہ کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔

    صفائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے اس معاشی خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف ادوار میں بھارت کے خطوں مہاراشٹر، گجرات اور کاٹھیاواڑ سے آنے والی دلت ہندو برادریوں، والمیکی اور چوہڑا برادری کی بڑی تعداد کراچی منتقل ہوئی۔ یہ لوگ زیادہ تر لیاری کے مضافاتی کوارٹرز اور کچی آبادیوں میں مقیم ہوئے اور صفائی کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے بلدیاتی اداروں میں مسیحی برادری کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ہندو صفائی کارکن بھی نظر آتے ہیں، جن کی تاریخ اسی معاشی ہجرت سے جڑی ہے۔

    تاریخی شخصیات اور جدوجہد کے باب

    پنجابی مقامی مسیحی برادری اور ان کے حقوق کی جدوجہد نے پاکستان کو ایسی نابغہ روزگار شخصیات دیں جنہوں نے قانون، مزدور تحریک، تعلیم اور انسانی حقوق میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

    جسٹس اے آر کارنیلیس

    اگرچہ ان کا تعلق براہ راست کراچی کے مزدور طبقے سے نہیں تھا، لیکن پنجاب کے اس عظیم مسیحی نژاد ماہر قانون نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کو وقار بخشا۔ وہ ملک کے چوتھے چیف جسٹس بنے اور اقلیتوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے تحفظ کے لیے ایسے فیصلہ کن نظائر قائم کیے جو آج بھی قانون کا فخر ہیں۔ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد ساتھیوں میں شامل تھے۔

    کرامت علی، مزدور رہنما

    کرامت علی بلاشبہ کراچی کی مزدور تاریخ میں صفائی کارکنوں اور اقلیتی مزدوروں کے حقوق کی سب سے توانا آواز بنے۔ اگرچہ وہ ملتان کے مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور مارکسی فکر سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد عیسیٰ نگری اور لیاری کے مسیحی اور دلت ملازمین کے معاشی تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے محنت کش طبقہ انہیں اپنا مسیحا مانتا تھا۔

    پروفیسر مائیکل جاوید

    کراچی کی مسیحی کچی آبادیوں اور بلدیاتی ملازمین کے حقوق کے عظیم علمبردار۔ انہوں نے عیسیٰ نگری اور لیاری کے کوارٹرز میں رہنے والے اقلیتی ملازمین کو پکی ملازمتیں اور کوارٹرز کے مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی معرکے لڑے اور سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

    جے چودھری

    کراچی کی مزدور تحریک کے گمنام ہیرو، جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے صفائی کارکنوں کو باقاعدہ مزدور تنظیموں کی شکل میں منظم کر کے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

    ڈاکٹر رتھ فاؤ کی صف اول کی ٹیم اور سسٹر برنارڈائن

    ڈاکٹر رتھ فاؤ کی قیادت میں ‘ماریہ ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر’ کے تحت لیاری اور ماتیلا کے گندے نالوں کے پاس جذام کے مریضوں کی خدمت کرنے والی نیم طبی عملے اور نرسوں کی ٹیم میں بڑی تعداد پنجابی مسیحی خواتین اور نوجوانوں کی تھی، جنہوں نے اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر پاکستان سے جذام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ثقافتی رنگ اور ‘دیسی مسیحیت’ کا روپ

    پنجاب سے جب یہ برادری ہجرت کر کے ساحل سمندر پر آئی، تو اپنے ساتھ پنجاب کی مٹی، زبان، لوک رنگ اور روایات بھی لے کر آئی۔ ان کی مذہبی تقریبات مغربی مسیحیت کی بجائے خالصتاً دیسی اور مقامی رنگ میں رنگی ہوتی ہیں۔

    کرسمس اور ‘تارے دا پھیرا’

    دسمبر کے آغاز سے ہی کراچی کی مسیحی بستیوں میں بانس اور چمکدار کاغذ سے ایک بہت بڑا ستارہ بنا کر گلیوں میں گھمایا جاتا ہے، جسے پنجابی میں ‘تارے دا پھیرا’ کہتے ہیں۔ نوجوان رات بھر ڈھولک کی تھاپ پر بائبل کی کتاب ‘زبور’ کے دیسی گیت گاتے ہیں۔

    ایسٹر اور روزوں کا مہینہ

    ایسٹر سے قبل چالیس روزوں کے دوران بستیوں میں سوگ اور پرہیز کا سماں ہوتا ہے۔ ‘گڈ فرائیڈے’ پر سیاہ لباس میں مرثیے نما گیت گائے جاتے ہیں، جبکہ ایسٹر کی صبح شمعیں روشن کر کے مسیح کی قیامت کا جشن منایا جاتا ہے۔

    میلاد مسیح

    مقامی مسلم آبادی کی روایات کی طرح یہ برادری بھی ‘میلاد مسیح’ کے پرشکوہ جلوس نکالتی ہے، جن میں اونٹ گاڑیاں، لاؤڈ اسپیکر اور بائبل کے مناظر سجائے جاتے ہیں۔

    آبادیاتی صورتحال اور موجودہ چیلنجز

    حالیہ مردم شماری کے مطابق کراچی میں مسیحی برادری کل آبادی کا تقریباً 2.14 سے 2.2 فیصد ہے، جو شہر کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ ان میں سے اکثریت افراد کا لسانی اور خاندانی تعلق پنجاب سے ہی ہے۔ لیاری کے پرانے کوارٹرز سے نکل کر یہ برادری اب گلشن اقبال کی ‘عیسیٰ نگری’، جو 1962 میں قائم ہوئی، اختر کالونی، محمود آباد اور کورنگی کی مسیح کالونی میں آباد ہے۔

    اگرچہ موجودہ نسل میں اعلیٰ تعلیم کا تناسب بڑھا ہے اور نوجوان معلوماتی ٹیکنالوجی، بینکاری اور کاروباری شعبے میں نام بنا رہے ہیں، لیکن یہ برادری اب بھی شدید سماجی اور سیاسی محرومیوں کا شکار ہے۔ توہین مذہب کے مبینہ الزامات کے دائم خوف اور تحفظ کے خدشات کی وجہ سے ان کی بستیوں میں ایک خاموش سہم پایا جاتا ہے۔

    مزید برآں، لیاری گینگ وار کے دور میں سلاٹر ہاؤس کے تاریخی کوارٹرز سے مسیحی خاندانوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل ہونا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس برادری کا پڑھا لکھا طبقہ اب تیزی سے کینیڈا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی طرف ہجرت کر رہا ہے۔

    کراچی کی تاریخ اس جفاکش پنجابی مسیحی برادری، ان کے معماروں اور رہنماؤں کے ذکر کے بغیر ادھوری اور بے رنگ ہے۔ انہوں نے اچھوت پن کا تاریخی داغ مٹانے کے لیے ایک نیا مذہبی راستہ چنا اور کراچی کی گلیوں کو اپنے خون پسینے سے دھونے سے لے کر ہسپتالوں میں بیمار انسانیت کی خدمت تک اس شہر کو جو تنوع اور وقار بخشا، وہ شہر قائد کا انمول اثاثہ ہے۔

    تاریخ صرف فاتحین اور بلند و بالا محل بنانے والوں کی نہیں ہوتی، بلکہ ان خاموش اور پسے ہوئے طبقوں کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے چھالوں سے تہذیبوں کی صفائی کی اور کراچی کو سچ مچ ‘روشنیوں کا شہر’ بنانے کے لیے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔