پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ڈیفنس میں واقع یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ جدید اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ بھی ہے۔
اس مسجد کا منفرد طرز تعمیر اسے دنیا کی خوبصورت مساجد میں شامل کرتا ہے
مسجد میں داخل ہوں تو آںکھوں کوخیرہ کرنے والے فوارے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔۔
مسجد طوبیٰ جسے گول مسجد بھی کہا جاتا ہے ۔
یہ دنیا کی واحد مسجد ہے جس کا مرکزی گنبد کسی اندرونی ستون کے بغیر قائم ہے۔
جو انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ اس عظیم الشان سنگل گنبد کا قطر 72 میٹر ہے جو صرف دیواروں کے سہارے کھڑا ہے۔۔
اس گنبد کے نیچے وسیع و عریض ہال موجود ہے، جہاں ہزاروں افراد بیک وقت عبادت کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کئی قدیم اور جدید دور میں تعمیر کردہ مساجد فنِ معماری اور خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان میں سے اکثر مساجد تاریخی اہمیت کی حامل اور اسلامی ثقافت کا عمدہ نمونہ ہیں۔
پاکستان میں عروس البلاد کا درجہ رکھنے والے شہرِ قائد کراچی کی طوبٰی مسجد کو لوگ گول مسجد بھی کہتے ہیں۔
یہ کراچی کی منفرد طرزِ تعمیر کی حامل مشہور عبادت گاہ ہے جو ڈیفنس میں کورنگی روڈ سے قریب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجدِ طوبیٰ واحد گنبد کی حامل دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔
مسجدِ طوبیٰ کی تعمیر میں خالص سفید سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے گنبد کا قطر 72 میٹر (236 فٹ) ہے اور یہ اس لحاظ سے منفرد اور فنِ تعمیر کی ایک مثال ہے کہ
اس گنبد کو بغیر کسی ستون کے صرف مسجد کے ہال کی دیواروں پر کھڑا کیا گیا ہے۔
اسلامی عبادت گاہوں کے روایتی طرزِ تعمیر میں گنبد کے ساتھ میناروں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
مسجدِ طوبیٰ میں بھی طویل گنبد کے ساتھ واحد مینار 70 میٹر بلند ہے۔ اس عبادت گاہ کے مرکزی وسیع و عریض ہال میں 5 ہزار نمازی اکٹھے ہوسکتے ہیں۔
اس مسجد کی تعمیر کا کام 1966ء میں شروع کیا گیا تھا جو تین سال جاری رہا اور 1969ء میں مکمل ہوا۔
مسجد طوبیٰ کے پاکستانی ماہر معمار بابر حامد چوہان تھے اور اس کے انجینئر کا نام ظہیر حیدر تھا۔ مسجد کے صحن میں فوّارے موجود ہیں جو بہت خوش نما منظر پیش کرتے ہیں۔
عربی زبان میں طوبیٰ کا معنیٰ خوش گوار، نفیس، نہایت خوش بو دار، پاکیزہ ہیں اور بہشت کے ایک درخت کو بھی طوبیٰ پکارا جاتا ہے۔
روایت کے مطابق جنّت کا یہ درخت مہکتا ہوا اور پھل دار ہوگا۔ اس نہایت خوب صورت نسبت کے علاوہ یہ عبادت گاہ گول مسجد کے نام بھی معروف ہے۔
مسجد طوبیٰ سادہ نظر آتی ہے لیکن اس کی سادگی میں بڑی انجینئرنگ چھپی ہے۔ایک ایسا گنبد جو خود سہارا ہے،اور خود ہی چھت۔
عام طور پر بڑی چھت کو سہارا دینے کے لیے کئی ستون ہوتے ہیں لیکن یہاں پورا گنبد
ایک ہی خول کی طرح بنایا گیا ہے۔ یعنی وزن درمیان میں نہیں بیرونی دیواروں پر منتقل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بابر حامد چوہان کا یہ حیران کن ڈیزائن روایتی اور جدید فن کا حسین امتزاج ہے۔ خاص بات یہ ہے
کہ اس کے 212 فٹ قطر کے گنبد کی اندرونی چھت پرسترہ ہزار سے زائد چھوٹے شیشے لگائے گئے ہیں۔
جب مسجد کی روشنی ان شیشوں سے ٹکرا کر چمکتی ہےتو یوں محسوس ہوتا ہےجیسے ستارے جھلملا اٹھے ہوں۔
جس طرح گنبد کے اندر شیشوں کی جھلک ہےاسی طرح دیواروں پر بھی سنگِ مرمر کی سات لاکھ اڑسٹھ ہزار سے زائد ٹکڑیاں اس گول ساخت کے حسن کو مکمل کرتی ہیں۔
اس ڈیزائن کا ایک اور کمال یہ ہے کہ یہاں آواز پورے ہال میں برابر پھیلتی ہے۔آپ ہال کے کسی بھی کونے میں کھڑے ہوں آواز ایک جیسی اور صاف سنائی دیتی ہے۔
تصور کریں 56 برس قبل تعمیر کی گئی یہ مسجد آج بھی دور جدید کی تعمیرات کی عمدہ نمونہ کے طور پر موجود ہے۔
