کراچی کے ایک پرانے سرکاری اسپتال کی تیسری منزل پر دیواروں کا مدھم رنگ جیسے اداسی کی چادر بن کر پھیلا ہوا تھا۔ ایک نرس اپنی بارہ گھنٹے کی شفٹ کے آخری لمحات گن رہی تھی۔ پاؤں تھک چکے تھے، مگر ہاتھ اب بھی کام میں مصروف تھے۔ اس نے ایک استعمال شدہ سرنج اٹھائی اور بنا سوچے سمجھے ایک تھیلے میں ڈال دی۔ وہی تھیلا جس میں کچھ دیر پہلے باہر سے لایا گیا گرم کھانا رکھا تھا۔
اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ صرف لاپروائی نہیں، لاعلمی بھی ہے۔
اسپتال کا کچرا گھروں اور دفتروں کے کچرے جیسا نہیں ہوتا۔ یہاں ہر تھیلے میں ایک پوشیدہ خطرہ ہوتا ہے۔ کبھی انفیکشن، کبھی حادثہ، کبھی کسی بیماری کے خاموش پھیلاؤ کا خدشہ۔ مگر جب عام اور طبی فضلہ ایک ساتھ جمع ہو جائے تو فرق مٹ جاتا ہے، اور خطرہ معمول بن جاتا ہے۔
اسی اسپتال کے باہر ایک صفائی ملازم روز کی طرح ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اس کے ہاتھوں میں دستانے نہیں تھے۔ پرانے پھٹ چکے تھے اور نئے ابھی فراہم نہیں ہوئے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ تھیلوں میں کیا کچھ ہو سکتا ہے، مگر اس کے پاس انتخاب نہیں تھا۔ عام کچرا، متعدی فضلہ، تیز دھار سوئیاں اور کانچ کے ٹکڑے، سب ایک جگہ، بے ترتیبی سے رکھ دیے جاتے تھے۔
طبی فضلے کا سب سے بڑا خطرہ اسی جیسے لوگوں کو ہوتا ہے۔ وہ نظام کے سب سے قریب مگر فیصلوں سے سب سے دور ہوتے ہیں۔ وسائل محدود، نگرانی کم، اور ذمہ داری زیادہ۔
ایک دن اس کی انگلی کٹ گئی۔ خون بہا۔ اس نے کپڑے سے باندھا اور کام جاری رکھا۔ کیونکہ چھٹی کا مطلب تھا اس دن کی اجرت کا نہ ملنا۔ اور اجرت نہ ملنے کا مطلب تھا بچوں کے لیے خالی دسترخوان۔
ایمرجنسی وارڈ میں ایک بچہ بخار کے ساتھ داخل تھا۔ ماں اسے سینے سے لگائے بیٹھی تھی، جیسے محبت سے بیماری کو روک لے گی۔ ڈاکٹر نے معائنہ کیا، دوا لکھی، مگر فضا میں ایک انجانی بے چینی تھی۔ کہیں نہ کہیں ایسا فضلہ موجود تھا جو اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ ماں کو معلوم نہ تھا کہ خطرہ صرف بخار میں نہیں، کبھی کبھی اسپتال کی فضا میں بھی چھپا ہوتا ہے۔
طبی فضلے کے قواعد واضح ہیں۔ رنگین کوڑے دان، علیحدہ تھیلے، محفوظ تلفی کا نظام۔ مگر مسئلہ اکثر آگاہی اور عملدرآمد کا ہوتا ہے۔ جب سمجھ نہ ہو تو ضابطہ بوجھ لگتا ہے۔ جب شعور آئے تو وہی ضابطہ حفاظت بن جاتا ہے۔
پھر ایک دن چند لوگ آئے۔ نہ کوئی نمایاں قافلہ، نہ رسمی تقاریر۔ انہوں نے دستانے پہنے، وارڈز کا دورہ کیا، عملے سے بات کی۔ ماحول کے تحفظ کے ادارے نے فیصلہ کیا کہ صرف نوٹس کافی نہیں، عملی رہنمائی ضروری ہے۔
انہوں نے سمجھایا کہ سرخ ڈبہ متعدی فضلے کے لیے کیوں ہے، پیلا مخصوص مواد کے لیے کیوں، اور نیلا عام کچرے کے لیے کیوں رکھا جاتا ہے۔ بات سادہ تھی، مگر اس کے پیچھے برسوں کی غفلت کھڑی تھی۔
آہستہ آہستہ فرق آنے لگا۔ نرس اب سرنج ڈالنے سے پہلے سوچتی ہے۔ صفائی ملازم اب جانتا ہے کہ اس کی حفاظت صرف اس کی اپنی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظام کی ذمہ داری ہے۔
کراچی کے اٹھارہ اسپتالوں میں آٹھ دن کی مہم کے دوران چار سو افراد نے تربیت حاصل کی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے افراد نے سیکھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنی زندگیاں محفوظ ہوں گی۔
وہ مریض جو ابھی گھر میں ہے، وہ بچہ جو کل اسکول جائے گا، وہ صفائی ملازم جو صبح پھر ڈیوٹی پر آئے گا۔ انہیں شاید معلوم نہ ہو کہ کسی نے ان کے لیے کیا قدم اٹھایا۔
شاید یہی ذمہ داری کا سب سے خاموش اور خوبصورت رنگ ہے۔

