کیا آپ جانتے ہیں کراچی ان چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں سال بھر کے دوران آگ لگنے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ آگ لگتی بھی ہے اور لگائی بھی جاتی ہے۔ کراچی میں ایسے کئی سانحات ہو چکے ہیں جہاں منٹوں میں عمارتیں جل کر خاکستر ہو گئیں، کچھ واقعات میں دہشت گردی کا عنصر بھی ثابت ہو چکا ہے۔
مگر دہشت گردوں کی لگائی گئی آگ کوئی عام آگ نہیں ہوتی بلکہ خاص قسم کا آتش گیر مادہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے آگ فوری بھڑک اٹھتی ہے اور تیزی سے پھیلتی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کسی کی بھی املاک کو کیمیکل پھینک کر جلا دینا اتنا آسان کیوں ہے؟ یہ کون سا کیمیکل ہے اور اس سے اتنی جلدی آگ کیوں بھڑک جاتی ہے؟
کراچی میں سال 2025 کے دوران مختلف فیکٹریوں، دفاتر، دیگر کمرشل اور رہائشی عمارتوں میں آگ لگنے کے 2400 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سال 2026 میں ابھی تک 500 کے قریب واقعات سامنے آئے ہیں۔
کراچی میں آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات میں ایک خاص پیٹرن بھی دیکھا گیا ہے اور یہ شواہد مل چکے ہیں کہ آگ بھڑکانے کے لیے خاص قسم کے کیمیکل کا استعمال کیا گیا ہے۔
بلدیہ فیکٹری کیس میں فرانزک رپورٹ میں ثابت ہوا کہ آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گارمنٹس فیکٹری میں موجود مواد نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نو اپریل 2008 کو سٹی کورٹ کے قریب طاہر پلازہ میں بھی ایک آتش گیر مادہ یا کیمیکل پھینک کر آگ لگائی گئی جس سے جانی نقصان کے علاوہ کئی دفاتر آگ کی نذر ہو گئے۔
2009 میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ ہوا اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق جلوس کے شرکا مشتعل ہو گئے اور شدید احتجاج کیا۔ اسی دوران لائٹ ہاؤس سے بولٹن مارکیٹ تک ہزاروں دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ کچھ شرپسند بھی مظاہرین میں شامل ہوئے اور انہوں نے باقاعدہ بازاروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ ایسا مواد پھینکا گیا کہ خوفناک آگ بھڑکی اور ہزاروں خاندانوں کے چولہے کچھ ہی منٹوں میں ٹھنڈے ہو گئے۔
اور گل پلازہ تو ابھی کل کی ہی بات ہے، آگ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت درجنوں انسانوں سمیت خاکستر ہو گئی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق آگ ایک بچے کی غلطی کی وجہ سے لگی، مگر دکانوں میں ایسا مواد یا کیمیکل ضرور موجود تھا جس نے آگ کو بھڑکا دیا، جس سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا۔
اس واقعے پر کئی ماہرین نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ شرپسندی کا ہو سکتا ہے، جبکہ معروف سماجی کارکن فیصل ایدھی نے نہ صرف دہشت گردی کا شبہ ظاہر کیا بلکہ اس کے ممکنہ محرکات بھی بیان کیے۔
ماہرین کہتے ہیں آگ لگانے کا شبہ غلط بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔
خوفناک آگ بھڑکانے کے لیے سب سے خطرناک آتش گیر مادہ نیپام Napalm ہے۔ یہ دراصل ایک آتش گیر مکسچر ہوتا ہے جو عام طور پر ایندھن، جیسے پٹرول، کو گاڑھا بنا دیتا ہے، جو جلنے پر چپک جاتا ہے اور دیر تک جلتا رہتا ہے۔
یہ مواد جسم، دیوار یا گاڑی پر بہت تیزی سے آگ پکڑتا ہے۔ یعنی کسی عمارت یا گاڑی کو بھی آگ لگائی جائے تو یہ بہت تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے۔
عمومی طور پر یہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ‘نیپام’ کا استعمال دوسری جنگ عظیم میں کیا گیا تھا، پھر ویتنام جنگ میں بھی استعمال ہوا۔ اس مواد پر قانونی پابندیاں بھی ہیں، یہ نہ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی اسے فروخت کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔
