Tag: کراچی

  • پانچ دہائیوں بعد کراچی میں ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی

    پانچ دہائیوں بعد کراچی میں ڈبل ڈیکر بسوں کی واپسی

    کراچی میں کئی دہائیون کے بعد ڈبل ڈیکرز بسوں کی واپسی ہوگئی ہے۔

    سفر کے دوران شہر کراچی کی خوبصورت اور اونچی عمارتوں کا بھی نظارہ ہوگا ۔

    بدھ کو سندھ کے سینئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح کیا۔

    اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام کو محفوظ، آرام دہ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبل ڈیکر بسیں نہ صرف زیادہ مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ یہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک دباؤ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

    شرجیل انعام میں نے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے دسمبر 2025 میں ڈبل ڈیکر بسیں لانے کا وعدہ کیا تھا،کراچی میں سوا لاکھ سے زائد افراد پیپلز بس سروس کے ذریعے سفر کرتے ہیں،اورنج لائن اور گرین لائن کے ذریعے ایک لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں،

  • سال 2025 کے دوران کراچی میں نومولود بچوں کی 168 لاشیں ملیں: ایدھی

    سال 2025 کے دوران کراچی میں نومولود بچوں کی 168 لاشیں ملیں: ایدھی

    کراچی میں نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات تشویشناک حد تک سامنے آئے ہیں۔ایدھی  فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق جنوری 2025 سے دسمبر 2025 تک شہر کے مختلف علاقوں سے نومولود بچوں کی 168 لاشیں ملیں، جن میں 28 لاشیں کوڑے دانوں، کچرا کنڈیوں، سیوریج نالوں، خالی پلاٹس، ریلوے ٹریک کے قریب اور آبادیوں کے اطراف سے ملی ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ایدھی نے کہا: ‘کراچی میں نومولد بچوں کی لاشیں بلدیہ ٹاؤن، لیاری، کورنگی، نیو کراچی، سرجانی ٹاؤن، گلشن اقبال، ناظم آباد، لانڈھی اور دیگر علاقوں سے ملیں۔

    ‘کئی مقامات پر لاشیں کوڑے کے ڈھیروں یا نالوں میں پھینکی ہوئی پائی گئیں، جبکہ بعض کیسز میں ہسپتالوں کے اطراف بھی نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کی نشاندہی کی گئی۔’

    ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ان واقعات کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس سروس نے لاشیں تحویل میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی۔

     

  • کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات، ڈیموکریٹس کے ساتھ تین گروپ میدان میں، سخت مقابلے کا امکان

    کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات ایک بار پھر صحافتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہفتے کے روز کلب کے اراکین اپنے ووٹ کے ذریعے سال 2026 کے لیے نئی گورننگ باڈی کا انتخاب کریں گے۔ یہ انتخابات نہ صرف ایک تنظیمی عمل ہیں بلکہ صحافتی آزادی اور جمہوری روایات کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔

    کراچی پریس کلب خود کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیتا ہے۔ یہ دعویٰ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ یہاں باقاعدگی سے ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ماضی میں ملک میں مارشل لا بھی رہے۔ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں بھی لگیں۔ اس کے باوجود کراچی پریس کلب کے انتخابات کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ یہ روایت کلب کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

    ابتدا میں کلب کے انتخابات مارچ یا اپریل میں ہوا کرتے تھے۔ بعد میں کراچی کے شدید گرم موسم کے باعث اس میں تبدیلی کی گئی۔ اب یہ انتخابات ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دن منعقد ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کو اراکین کی سہولت کے لیے ایک بہتر قدم سمجھا گیا۔

    گذشتہ کئی برسوں سے ڈیموکریٹس گروپ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتا آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2023 میں یہ گروپ بلا مقابلہ منتخب ہوا تھا۔ اس سال کی انتخابی فضا کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار ڈیموکریٹس کے ساتھ کم از کم تین مزید گروپ میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی کے اہم عہدے دار بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ سابق صدر امتیاز خان فاران اور سابق سیکریٹری اے ایچ خزادہ بھی موجودہ قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے انتخابات کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

    عموماً ہر پینل مختلف عہدوں کے لیے ایک یا دو خواتین کو نامزد کرتا رہا ہے، مگر کراچی پریس کلب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پینل نے ایک خاتون رکن کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کر کے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

    انتخابات کی شفافیت کے لیے ایک خود مختار الیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان کر رہے ہیں۔ کمیٹی پولنگ کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی۔ ووٹنگ سے لے کر نتائج کے اعلان تک تمام عمل اس کی نگرانی میں مکمل ہوگا۔

    کراچی پریس کلب پاکستان کا پہلا پریس کلب ہے۔ اس کا قیام دسمبر 1958میں عمل میں آیا۔ اس وقت پاکستان میں صحافت ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی۔ کلب کا پہلا انتخاب بھی اسی سال ہوا۔ آئی ایچ برنی پہلے صدر منتخب ہوئے۔ تب سے یہ ادارہ صحافیوں کی اجتماعی آواز بن چکا ہے۔

    کراچی پریس کلب نہ صرف صحافیوں کا مرکز ہے بلکہ شہری اور جمہوری سرگرمیوں کا بھی اہم مقام ہے۔ یہاں اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ مختلف تنظیمیں اپنے مطالبات کے لیے یہاں جمع ہوتی ہیں۔ شہری حقوق اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے۔ یہ مقام عوام اور صحافت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔

    کلب نے جنوبی ایشیا میں امن اور عوامی رابطوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ مختلف مواقع پر مکالمے اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد خطے میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔

    کراچی پریس کلب کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ بعض مواقع پر یہاں ہنگامے ہوئے۔ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ باوردی اہلکار کلب میں گھسے اور ایک سابق عہدیدار کو گرفتار بھی کیا گیا، مگر اس کے باوجود کلب نے اپنی پروفیشنل سرگرمیاں جاری رکھیں۔ صحافی برادری نے ہر مشکل وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

    یہ ادارہ ایک قدیم اور خوبصورت عمارت میں قائم ہے۔ یہ عمارت ایک تاریخی ورثہ قرار پائی ہے۔ کلب کی اوپر کی منزل پر لائبریری اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ کلب اپنے اراکین اور ان کے خاندانوں کو مختلف سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

    کراچی پریس کلب کی رکنیت صحافیوں کے لیے ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں ہر سال ہونے والے انتخابات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اختلاف رائے کے باوجود جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے۔ نئے انتخابات بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ صحافتی برادری کی نظریں اس انتخاب پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ انتخاب کلب کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔

  • کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسوں کی تاریخ

    کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسوں کی تاریخ

    یہ کوئی کہانی نہیں، یہ کراچی کی حقیقی تاریخ ہے انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں، کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں چلتی تھیں۔ یہ بسیں صدر، ایمپریس مارکیٹ اور میری ویدر ٹاور جیسے علاقوں میں دیکھی جا سکتی تھیں۔

    اوپر بیٹھ کر شہر دیکھنا لوگوں کے لیے ایک الگ ہی تجربہ تھا۔ہوا، منظر اور کراچی کی رونق سب ایک ساتھ نظر آتا تھا۔

    لیکن وقت بدلا، ٹرانسپورٹ سسٹم کمزور ہوا اور یہ ڈبل ڈیکر بسیں آہستہ آہستہ سڑکوں سے غائب ہو گئیں۔

    حالیہ دنوں میں سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں دوبارہ متعارف کروائی جائیں گی۔

    موجودہ اطلاعات کے مطابق،یہ بسیں 2025 کے دوران مرحلہ وار کراچی کی سڑکوں پر چلنا شروع کریں گی،اور انہیں جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔

  • کراچی: خوشبودار چاولوں پر کباب، مکھن کے تڑکے اور مخصوص مصالحوں والی ایرانی ڈش’چُلو کباب’

    کراچی: خوشبودار چاولوں پر کباب، مکھن کے تڑکے اور مخصوص مصالحوں والی ایرانی ڈش’چُلو کباب’

    کراچی میں واقع کیفے چُلو کباب سیستانی آج بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں دن کے مختلف اوقات میں لوگوں کا خاصا رش دیکھنے کو ملتا ہے۔

    اس ایرانی کیفے میں شہری نہ صرف روایتی ایرانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ایک تاریخی ذائقے کا تجربہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ایرانی زبان میں چاول کو ‘چُلو’ کہا جاتا ہے اور چُلو کباب کا مطلب چاول اور کباب ہے۔

    ایرانی کھانوں میں چاول بنیادی جزو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ چُلو کباب میں خوشبودار چاولوں کے ساتھ سیخ کباب، مکھن کا تڑکا اور مخصوص مصالحے شامل کیے جاتے ہیں جو اس ڈش کو ایک منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔

    ماضی میں کراچی کے مختلف علاقوں اور چوراہوں پر ایرانی کیفے عام نظر آتے تھے، جو اکثر گلی کے کونوں پر قائم ہوتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

    آج جو چند قدیم ایرانی کیفے باقی ہیں، ان میں سے بیشتر اصل مالکان کی تیسری یا چوتھی نسل کے زیرِ انتظام ہیں، جو اس روایت کو اب تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
    چُلو کباب سیستانی کو ایرانی کھانوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں چلو کباب کے ساتھ ساتھ ملائی بوٹی، تکہ، اور دیگر مختلف کھانے بھی دستیاب ہیں۔

    یہاں نہ صرف شہر بھر سے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے افراد بھی ایرانی کھانوں کا ذائقہ چکھنے پہنچتے ہیں۔ یہ کیفے ایک قدیم عمارت میں قائم ہے، جہاں آج بھی پرانا فرنیچر اور روایتی ماحول ماضی کی یاد دلاتا ہے، جو اسے جدید کیفیز سے منفرد بناتا ہے۔

    شہریوں کے مطابق کراچی میں پرانے ایرانی کیفے اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے وہ چلو کباب سیستانی آکر مستند ایرانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہاں مختلف اقسام کے کھانے دستیاب ہیں، تاہم چلو کباب کا ذائقہ آج بھی سب سے منفرد اور یادگار سمجھا جاتا ہے۔

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود بڑی سائیز کے افریقی کچھوے: ‘جن کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں’

    کراچی چڑیا گھر میں موجود بڑی سائیز کے افریقی کچھوے: ‘جن کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں’

    کراچی چڑیا گھر میں داخل ہوں تو ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں وقت کی رفتار جیسے خود ہی سست پڑ جاتی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں موجود آفریکن اسپرڈ کچھوے اپنی خاموش موجودگی سے ہر آنے والے کو چونکا دیتے ہیں۔ یہ کچھوے دیکھنے میں جتنے بھاری بھرکم ہیں، اتنے ہی پُرسکون بھی ہیں۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ ریئس کے مطابق کراچی چڑیا گھر میں موجود یہ آفریکن اسپرڈ کچھوے تقریباً 35 سال سے 40 سال کی عمر کے ہیں اور اب اپنی زندگی کے مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عابدہ ریئس نے کہا: ‘بچے ان بڑے کچھوؤں کو دیکھ کر چڑیا گھر میں آنے والے بچے خوش ہوجاتے ہیں۔’
    دنیا بھر میں آفریکن اسپرڈ کچھوا اپنی طویل عمر کے لیے جانا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول میں اس کچھوے کی اوسط عمر 70 سے 100 سال تک سمجھی جاتی ہے، جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق بہتر ماحول اور مناسب خوراک ملنے پر یہ اس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر کے یہ کچھوے اس بات کی مثال ہیں کہ اگر ماحول نسبتاً موزوں ہو تو جانور شہروں میں بھی لمبی زندگی گزار سکتے ہیں۔

    اکثر لوگ کچھوے اور کچھی میں فرق نہیں کر پاتے، حالانکہ دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔ کچھوا زمین پر رہنے والا جانور ہوتا ہے، اس کے پاؤں موٹے اور مضبوط ہوتے ہیں اور خول زیادہ ابھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کچھی پانی میں رہتی ہے، اس کے پاؤں چپٹے اور تیرنے کے لیے موزوں ہوتے ہیں، جبکہ اس کا خول ہموار اور ہلکا ہوتا ہے۔ آفریکن اسپرڈ کچھوا مکمل طور پر زمینی جانور ہے اور پانی میں تیر نہیں سکتا۔

    خوراک کے معاملے میں یہ کچھوے سادہ پسند ہوتے ہیں۔ یہ گھاس، پتے، سبز سبزیاں، کدو، گاجر اور قدرتی فائبر پر مشتمل غذا کھاتے ہیں۔ جنگلی ماحول میں یہ خشک گھاس اور جھاڑیوں پر گزارا کرتے ہیں، اسی لیے ان کے لیے فائبر والی خوراک نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ میٹھی یا رسیلی چیزیں ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
    بریڈنگ کے حوالے سے آفریکن اسپرڈ کچھوا آہستہ مگر مستقل رویہ رکھتا ہے۔ مادہ کچھوا زمین میں گڑھا کھود کر انڈے دیتی ہے اور قدرتی ماحول میں انڈوں سے بچے نکلنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ ان کی افزائش نسل کا عمل سست ضرور ہے مگر نسل کے تسلسل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کے یہ آفریکن اسپرڈ کچھوے نہ صرف ایک جانور ہیں بلکہ صبر، برداشت اور فطرت کے خاموش توازن کی ایک جیتی جاگتی مثال بھی ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی رفتار میں نہیں بلکہ ٹھہراؤ میں ہے۔

  • کراچی: 2023 میں شاہراہ فیصل پر گھومنے والا شیر اب کس حالت میں ہے؟

    کراچی: 2023 میں شاہراہ فیصل پر گھومنے والا شیر اب کس حالت میں ہے؟

    کراچی مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر اگست 2023 میں روڈ پر ملنے والا پالتو شیر اس وقت کراچی چڑیا گھر میں موجود ہے۔ اس کی خوراک، رہائش اور دیکھ بھال پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور منظم ماحول میں ہو رہی ہے۔ چڑیا گھر کے نگران روزانہ اس کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں، اسے ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اسے ایک ایسے ماحول میں رکھتے ہیں جہاں وہ پرسکون رہ سکے۔

    مگر اس شیر کی کہانی صرف یہیں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کراچی کی ایک سنسنی خیز یاد بھی چھپی ہوئی ہے۔

    اگست 2023 کا مہینہ کراچی والوں کے ذہنوں میں اس لیے بھی محفوظ ہے کہ اسی ماہ شہر کی مصروف ترین شاہراہِ فیصل پر ایک پالتو شیر ٹہلتا ہوا دکھائی دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے چند ہی منٹوں میں پورے شہر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ گاڑیوں کی قطاریں آہستہ پڑ گئیں، لوگ موبائل فون نکال کر ویڈیوز بنانے لگے، اور سوشل میڈیا پر چند ہی لمحوں میں یہ منظر پھیل گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایسی اہم اور مصروف سڑک پر ایک شیر آخر کیسے پہنچ گیا۔

    بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شیر شہر کے ایک شہری کے گھر میں بطورِ پالتو جانور رکھا گیا تھا۔ اس روز وہ نہ جانے کیسے باہر نکل آیا اور سیدھا شاہراہِ فیصل تک پہنچ گیا۔ چوں کہ یہ جگہ شہر کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے اس منظر نے لوگوں کو خوف میں بھی مبتلا کیا اور حیرت میں بھی۔ ٹریفک پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور متعلقہ محکمے فوراً حرکت میں آئے۔ ماہرین نے اسے قابو کیا اور مکمل احتیاط سے ایک گاڑی میں منتقل کرکے کراچی چڑیا گھر پہنچایا۔

    اس واقعے نے کراچی میں ایک اور بحث کو جنم دیا تھا کہ ایسے جنگلی جانور شہری علاقوں میں کیسے پہنچتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیر کے مالک کے خلاف کارروائی کی، کیونکہ شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کو بطور پالتو رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ کئی دنوں تک یہ موضوع شہر کی گفتگو کا حصہ رہا، اور لوگ اس غیر معمولی واقعے کو حیرت، خوف اور دلچسپی کے ساتھ یاد کرتے رہے۔
    جب یہ شیر 2023 میں کراچی چڑیا گھر لایا گیا، تب اس کی عمر تقریباً تین سال تھی۔ آج یہ شیر چھ سال کے قریب ہو چکا ہے اور ایک مکمل، توانا اور صحت مند ہے۔ یہ ایشیاٹک لائن یا اشیائی نسل کا شیر ہے۔ چڑیا گھر کے نگرانوں کے مطابق یہ شیر اپنی عمر کے لحاظ سے طاقتور، فعال اور مستحکم رویّے کا حامل ہے۔ چونکہ اس نے زندگی کے شروع کے سال انسانوں کے درمیان گزارے تھے، اس لیے یہ چڑیا گھر کے عملے سے مانوس ہو گیا ہے۔

    نگہبان روزانہ اس شیر کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اسے باقاعدہ ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اس کے پنجروں کی صفائی اور ماحول پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ شیر کے لیے روزانہ گوشت کے بڑے ٹکڑے، ہڈیاں اور مخصوص غذائیں رکھی جاتی ہیں، تاکہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط رہے بلکہ اس کے جبڑے، پنجے اور مسلز بھی قدرتی انداز میں متحرک رہیں۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ شیر کھانا بڑے آرام سے قبول کرتا ہے اور جارحانہ رویہ کم دکھاتا ہے۔

    چڑیا گھر آنے والے لوگوں کے لیے یہ شیر آج بھی دلچسپی کا مرکز ہے۔ خاص طور پر جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی شیر ہے جو کبھی شاہراہِ فیصل پر ٹہلتا ہوا ملا تھا، تو وہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین سے سوال کرتے ہیں، لوگ اس کی ویڈیوز یاد کرتے ہیں، اور کئی لوگ اُس دن کی کہانی ایک بار پھر تازہ کرتے ہیں جب کراچی کی مصروف سڑک پر ایک شیر نے سب کو چونکا دیا تھا۔

    آج اس شیر کی زندگی محفوظ ہے۔ اس کے لیے مناسب سایہ، آرام کی جگہ، تازہ پانی اور باقاعدہ طبی معائنے کا انتظام موجود ہے۔ چڑیا گھر کے عملے کے مطابق یہ شیر اپنے ماحول سے مطمئن ہے اور اس کا رویہ دن بہ دن بہتر ہو رہا ہے۔ اس کی موجودگی کراچی والوں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں رکھنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ ان جانوروں کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ ایسے جانور قدرتی یا محفوظ ماحول میں ہی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل کی اس ویڈیو میں ہم اس ہی مشہور شیر کی زندگی کے دو پہلو دکھا رہے ہیں: ایک وہ لمحہ جب وہ 2023 میں شہر کی سب سے مصروف شاہراہ پر آزادانہ گھومتا ہوا ملا تھا، اور دوسرا آج کا وقت جب وہ کراچی چڑیا گھر میں محفوظ، پرسکون اور بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کہانی شہر کی ایک حیران کن یاد بھی ہے اور ایک اہم سبق بھی۔

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ ہے۔ یہ وہ پرندہ ہے جو دنیا کے سب سے قدیم خطے آسٹریلیا کے شمالی جنگلات اور نمی والے میدانوں میں پایا جاتا ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ ریئس کے مطابق یہ پرندہ تقریباً پینتیس سال پہلے یہاں لایا گیا تھا اور اب یہ اپنی فطری عمر پوری کر چکا ہے۔ اس کی موجودگی چڑیا گھر کے لیے ایک انمول ورثہ سمجھتی جاتی ہے۔

    کساوری اپنی جسامت، رنگت اور شکل کے باعث دیکھنے والوں کے لیے بہت دلکش اور غیر معمولی تجربہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پرندہ ہے جو بظاہر بےضرر دکھائی دیتا ہے مگر اپنی فطرت کے اعتبار سے نہایت محتاط، تنہا رہنے والا اور ضرورت پڑنے پر اپنے پنجوں سے بھرپور دفاع کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ٹانگیں مضبوط اور بلند ہوتی ہیں اور یہی ٹانگیں اس کا اصل سہارا اور دفاع بھی ہیں۔

    اس پرندے کی سب سے خاص پہچان اس کے سر پر موجود سخت، سینگ نما ابھار ہے جو قدرتی طور پر وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ابھار گھنے جنگلات میں جھاڑیوں سے بچاؤ اور آواز پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے اور دیگر پرندے اسی آواز کے ذریعے اس کی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں۔

    کساوری کی خوراک بھی منفرد ہے۔ یہ جنگلات میں گرے ہوئے پھل، بیج، چھوٹے کیڑے، نرم پودے اور بعض اوقات بےجان جانوروں کے چھوٹے حصے بھی کھاتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر میں اسے خاص طور پر نرم پھل، سبزیاں اور قدرتی خوراک دی جاتی ہے تاکہ اس کی صحت برقرار رہ سکے۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ پرندہ خوراک احتیاط سے چنتا ہے اور جلدی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔

    کساوری کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے انڈوں کی حفاظت نر کرتا ہے۔ مادہ انڈے دیتی ہے، مگر ان کی نگرانی، سینا اور بچوں کی ابتدائی پرورش نر کی ذمے داری ہوتی ہے۔ یہ فطرت میں بہت کم پرندوں میں دیکھا جاتا ہے، اور یہی اس کی ایک بڑی خصوصیت بھی ہے۔ ایک سال میں یہ کم تعداد میں انڈے دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ پرندہ نایاب سمجھا جاتا ہے۔
    کراچی چڑیا گھر میں رکھا گیا یہ کساوری اپنی عمر کے آخری حصے میں ہے، مگر اب بھی پرسکون انداز میں اپنے درختوں والے باڑے میں گھومتا ہے۔ نگران کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ اب کم چلتا ہے مگر اپنی جگہ پر مطمئن رہتا ہے۔ اس کا جسمانی خول، گردن کی رنگت اور آنکھوں کی چمک اب بھی اس کی نایاب فطرت کی گواہی دیتی ہے۔

    یہ پرندہ کراچی چڑیا گھر کے لیے نہ صرف ایک نادر ذخیرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سمجھنے کا ذریعہ بھی کہ دنیا میں کس قدر حیرت انگیز اور مختلف النوع مخلوقات موجود ہیں۔ کراچی کے لوگ جب اسے دیکھتے ہیں تو اکثر حیرت سے کہتے ہیں کہ ایک ایسا پرندہ جو دنیا کے دور ترین خطے میں پایا جاتا ہے، وہ آج ان کے شہر میں زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ یہ منظر خود ایک مکمل کہانی ہے۔

  • کراچی: چار پُشتوں سے گھڑی ساز خاندان کے آخری کاریگر شاہد جمیل

    کراچی: چار پُشتوں سے گھڑی ساز خاندان کے آخری کاریگر شاہد جمیل

    گذشتہ 40 سالوں سے گھڑی سازی کا کام کرنے والے شاہد جمیل انصاری اپنی چار پُشتوں سے گھڑی سازی کا کام کرنے والے آخری کاریگر ہیں، جو اب اپنے بچوں کا گھڑسازی کا کام ‘اچھا روزگار’ نہ ہونے کے باعث سکھا نہیں رہے اور ان کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کا یہ خاندانی کام بھی ختم ہوجائے گا۔

    شاہد کے پردادا بھارتی دارالحکومت دہلی کے قریب کازگنج شہر میں گھڑی ساز تھے۔

    پردادا کے بعد ان کے دادا نے اپنے والد کے پیشے کو جاری رکھا اور اپنے بیٹے اور شاہد کے دادا کو گھڑی سازی سکھائی۔

    شاہد کے والد نے بھی گھڑی سازی کا کام جاری رکھا۔ اس دوران تقسیم ہند ہوا اور ان کا خاندان کازگنج سے کراچی آگئے۔

    کراچی کی اہم شاہراہ عبداللہ ہارون روڈ پر زینب مارکیٹ کے قریب رفیق سینٹر کے نزدیک ‘جمیل اینڈ سنزواچ میکر’ نامی دکان اس علاقے کی واحد گھڑی سازی کی دکان ہے۔

    شاہد جمیل انصاری کے مطابق کچھ دہائیوں پہلے تک شہر میں گھڑی سازی کا کام عروج پر تھا اور اس وقت سینکڑوں گھڑی ساز شہر کے گلی کوچوں میں کام کرتے تھے، جن کے پاس مہنگی ترین گھڑیاں مرمت اور صفائی کے لیے لائی جاتی تھیں۔

    ‘مگر اب صرف چند گھڑی ساز بچے ہیں، جو اپنی آنے والی نسل کو گھڑی سازی کا کام نہیں سکھا رہے کیوں اب گھڑی سازی کا اب کوئی مستقبل نہیں رہا۔’

    ساگا ڈیجیتل سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد جمیل انصاری نے کہا: ’سمارٹ فون کے باعث نہ صرف گھڑی بلکہ کیمرہ، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر سمیت مختلف کاریگر مکمل طور پر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’

    ماضی کی مشہور اور مہنگی گھڑیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دور میں رولیکس، اومیگا، پیٹک فلپ کمپنی کی انتہائی مہنگی گھڑیاں ہوا کرتی تھیں۔

    ‘پیٹک فلپ کی گھڑیاں سب سے مہنگی گھڑیاں تھیں، اس وقت پیٹک فلپ کی گھڑی کی قیمت ڈھائی سے تین کروڑ روپے ہے۔

    ‘اس کے علاوہ مون فیز، واشرون، بیجیٹ کی گھڑیاں بھی قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ قیمت اور اہمیت کے حساب سے رولیکس کا تقریباً چھٹا نمبر ہے، جس کے

    بعد اومیگا اور دیگر گھڑیوں کا نمبر آتا ہے۔‘

  • کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیا گھر، جسے پرانے وقتوں میں گاندھی گارڈن کہا جاتا تھا، شہر کا وہ گوشہ ہے جہاں اب بھی برطانوی دور کی کئی یادیں زندہ ہیں۔ انہی نشانیوں میں ایک ایسا شجر بھی ہے جو دو سو برس سے زیادہ عمر گزار چکا ہے۔ یہ برصغیر کے قدیم بنیاں کے درختوں میں سے ایک ہے، جس کی شاخیں وقت کے ساتھ زمین میں اترتی گئیں اور آج اس ایک درخت نے درجنوں الگ الگ تنوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عام دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بہت سے درختوں کا جھنڈ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی درخت کی اولاد ہیں، جو اب بھی پوری شادابی سے اپنی جگہ کھڑا ہے۔

    برطانوی دور میں اس درخت کو یہاں اس لئے لگایا گیا تھا کہ یہ گھنے سائے کی وجہ سے علاقے کی فضا کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ کراچی شہر کی آبادی بڑھی، درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، اور شہر کے باسیوں نے محسوس کیا کہ یہ قدیم درخت صرف ایک پودا نہیں بلکہ قدرت کی قدرتی چھتری ہے جو تیز دھوپ کو روک کر زمین پر ٹھنڈک بچھا دیتی ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ رئیس نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کی چھتری آج اتنی وسیع ہے کہ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کیفے بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ کیفے اس طرح بنایا گیا ہے کہ درخت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اور لوگ سکون سے بیٹھ کر اس کے سایے سے لطف اٹھا سکیں۔

    بقول عابدہ رئیس: ‘اس جگہ ایک پھوار چھوڑنے والا فوارہ بھی بنایا گیا ہے جو ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے احساس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ فوارے کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، اور ہوا کی ہلکی سی لَے مل کر ایک ایسا ماحول بناتی ہیں جو کراچی جیسے مصروف شہر کے بیچوں بیچ کسی خاموش پناہ گاہ کا احساس دلاتی ہے۔’

    گرمیوں میں جب کراچی کا درجہ حرارت سڑکیں پگھلا دیتا ہے، لوگ اس درخت کے سائے میں آ کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں کچھ دیر بیٹھنا بھی جسم اور ذہن دونوں کو تازہ محسوس کراتا ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب کے لئے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں شہر کا شور کچھ لمحوں کے لئے پیچھے رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آ کر کتاب پڑھتے ہیں، کچھ چائے پیتے ہیں، اور کئی تو صرف اس لئے بیٹھتے ہیں کہ درخت کے پھیلتے ہوئے سائے کو محسوس کر سکیں۔

    اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ دو صدیوں بعد بھی یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر سال نئی جڑیں زمین میں اترتی ہیں، نئی شاخیں اوپر اٹھتی ہیں، اور نئی چھتریاں سایہ بڑھاتی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے محفوظ رکھا جائے تو یہ آنے والی کئی نسلوں تک کراچی والوں کے لئے رحمت بنا رہ سکتا ہے۔

    کراچی جیسے بڑے اور گرم شہر میں یہ درخت صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ فضا کا درجہ حرارت کم کرتا ہے، پرندوں کے لئے گھر بناتا ہے، اور انسانوں کے لئے سانس لینے کو صاف ہوا مہیا کرتا ہے۔ ایسے میں یہ درخت نہ صرف کراچی کی تاریخ کا حصہ ہے بلکہ اس شہر کے مستقبل کے لئے بھی قیمتی اثاثہ ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کا دو سو سالہ بنیاں کا یہ درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر کتنے ہی بدل جائیں، مگر کچھ جڑیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ درخت انہیں جڑوں میں سے ایک ہے—خاموش، مضبوط، سایہ دار اور ہمیشہ زندہ۔