Tag: کراچی

  • کراچی: ہاتھ سے چلنے والے کولہو میں خود کو جوت کر سرسوں، تل، مونگ پھلی، ناریل کا  ’کولڈ پریسڈ‘ تیل نکالنے والے عبدالطیف

    کراچی: ہاتھ سے چلنے والے کولہو میں خود کو جوت کر سرسوں، تل، مونگ پھلی، ناریل کا  ’کولڈ پریسڈ‘ تیل نکالنے والے عبدالطیف

    کراچی کے صدر میں واقع تاریخی ایمپریس مارکیٹ آج بھی پرانے ہنر کی مثال پیش کرتی ہے۔ ہجوم اور جدید دکانوں کے درمیان ایک ہاتھ سے چلنے والا کولہو اب بھی موجود ہے۔ یہ کولہو 54 سالہ عبدالطیف چلاتے ہیں۔

    عبدالطیف گزشتہ چار دہائیوں سے تیل کشی کے اسی کام سے وابستہ ہیں۔ وہ روزانہ اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت سے کولہو گھماتے ہیں۔ اس کولہو میں نہ بیل استعمال ہوتا ہے اور نہ بجلی۔

    عبدالطیف کے کولہو میں سرسوں، تل، مونگ پھلی اور ناریل کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ آہستہ دباؤ کے ذریعے کولڈ پریسڈ تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ قدیم ہے اور اب بہت کم رہ گیا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالطیف نے کہا: ‘یہ کام میں نے اپنے بڑوں سے سیکھا۔ یہی میری پہچان ہے۔ پہلے ہر محلے میں کولہو ہوتا تھا۔ اب سب کچھ مشینوں نے سنبھال لیا ہے۔’

    ان کا کہنا ہے کہ جدید مشینوں سے تیل تیزی سے اور کم خرچ میں نکل جاتا ہے۔ مگر ہاتھ سے نکلا کولڈ پریسڈ تیل غذائیت میں بہتر ہوتا ہے۔ اس میں قدرتی اجزا محفوظ رہتے ہیں۔

    عبدالطیف کے مطابق یہ کام مشکل ضرور ہے۔ مگر صحت اور معیار کے معاملے میں اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ایمپریس مارکیٹ میں ان کا کولہو صرف روزگار نہیں۔ یہ کراچی کی ایک نایاب اور زندہ روایت بھی ہے۔

     

  • کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین میں میڈیکل کٹ اور اوزار کے بغیر صحت مند بچی کی پیدائش

    کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین میں میڈیکل کٹ اور اوزار کے بغیر صحت مند بچی کی پیدائش

    کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین رحمان بابا ایکسپریس دھابیجی کے مقام پر فنی خرابی کی وجہ سے رکی ہوئی تھی کہ اچانک ایک بوگی سے شور کی آواز سنائی دی، یہ ایک خاتون کی تکلیف میں کراہنے اور کچھ لوگوں کی مدد کے لئے پکارنے کی آوازیں تھیں۔

     

    چار فروری کو پشاور جاتے ہوئے اس بوگی میں ایک خاتون مسافر کو اچانک زچگی کا درد شروع ہوگیا ۔ فنی خرابی کی وجہ سے ٹرین رکی تو مسافروں کی بڑی تعداد پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی تھی۔

    ۔ ان مسافروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن بھی شامل تھے جو سالانہ کنونشن میں شرکت کے لیے نوشہرہ جا رہے تھے۔

    زچگی کی تکلیف میں مبتلا خاتون کو فوری طبی امداد درکار تھی۔ ٹرین کے ٹکٹ چیکر علی اصغر خان اور دیگر عملے نے فوراً ڈاکٹر تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم عبدالرحمان نے اپنے ساتھی ڈاکٹر اسامہ امین احمد کو مدد کے لیے اطلاع دی۔

    ڈاکٹر اسامہ امین احمد، جنہوں نے حال ہی میں ایم بی بی ایس مکمل کر کے ہاؤس جاب شروع کی تھی، نرسنگ تربیت حاصل کرنے والے عبدالحلیم کے ہمراہ بوگی نمبر آٹھ پہنچے۔ معائنے پر معلوم ہوا کہ خاتون کو شدید زچگی کا درد ہے اور فوری ڈیلیوری درکار ہے۔

    ڈاکٹر اسامہ کے مطابق بوگی میں کوئی میڈیکل کٹ، شیٹ یا ادویات موجود نہیں تھیں۔ انتہائی نامناسب حالات میں انہوں نے خاتون مریضہ کو سانس لینے کی ہدایات دیں اور پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔

    خوش قسمتی سے ڈیلیوری نارمل طریقے سے مکمل ہوگئی، تاہم بچے کو ماں سے الگ کرنے کے لیے نال کاٹنے کا کوئی آلہ موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ریسکیو ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی جس کی میڈیکل کٹ سے نال کاٹ کر نومولود بچی کو محفوظ بنایا گیا۔

    پیدائش کے فوراً بعد بچی نے رونا بند کردیا جس سے صورتحال خطرناک ہوگئی۔ ڈاکٹر اسامہ اور عبدالحلیم نے فوری طور پر بچے کا منہ صاف کیا اور ہلکے جھٹکوں کے ذریعے سانس بحال کروائی۔ چند لمحوں بعد بچی کے دوبارہ رونے پر سب نے سکون کا سانس لیا۔

    جس کے بعد ماں اور بچی کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کی حالت تسلی بخش قرار دی ۔

    خاندان کے مطابق میاں بیوی کراچی سے ٹنڈو آدم خان جا رہے تھے اور روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں بروقت مدد نے ان کی اور بچے کی جان بچا لی۔

  • ڈی ایچ اے کراچی میں گاڑی میں بچے کو فیڈ کرانے کے دوران خاتون کی ویڈیو بنالی گئی

    ڈی ایچ اے کراچی میں گاڑی میں بچے کو فیڈ کرانے کے دوران خاتون کی ویڈیو بنالی گئی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس کی رہائشی خاتون کو اس وقت ایک تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرناپڑا جب وہ گاڑی میں بچے کو فیڈ کروارہی تھیں، گاڑی ایک ٹریفک سگنل پر رکی تودوسری گاڑی میں بیٹھے کچھ اوباش لڑکوں نے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ ہراسگی کا شکار خاتون نے ڈی ایچ اے کے مکینوں کے ایک سوشل میڈیا گروپ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ غیر اخلاقی عمل نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت تھا بلکہ ان کی تذلیل کے مترادف بھی تھا۔ متاثرہ خاتون نےیہ بھی لکھاکہ بچے کو فیڈ کرانا کوئی تماشہ نہیں ہےجس پرکسی خاتون کی پرائیویسی میں مداخلت کی جائے اورحرمت کو پامال کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ رویہ ناقابل قبول اور عورت، ماں اور انسانوں کی تحقیر کے مترادف ہے۔ ہم ایسے رویوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہر وہ عورت جو عوامی مقامات پر خود کو محفوظ تصور نہیں کرتی وہ تنہا نہیں ہے ۔ اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا عمل بے ضرر ہے وہ غلط ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس واقعہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے، گروپ کے ایک رکن نے لکھا کہ یہ حرکت ایک بیمار ذہنیت کی عکاس اور ناقابلِ قبول ہے،انہوں نےمحتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ معاشرہ ہر دن ایک نئی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ اپنی گاڑیوں پر سیاہ شیشے لگوائیں کیونکہ چھوٹے بچے کو کسی بھی وقت بھوک لگ سکتی ہے ۔ ایک اور رکن نے لکھا کہ یہ واقعی افسوسناک ہے،ایک بہتر معاشرہ بننے کے بجائے ہم دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈی ایچ ے کے ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے — ایک ایسا ملک جو صرف نام کا اسلامی ہے،دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے والے بہت لوگ ہیں،اگر آپ کو بچے کو فیڈ کرانا تھا تو کم از کم پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر خود کو ڈھانپ لینا چاہئے تھا ورنہ لوگ گھوریں گے اور ویڈیو بنائیں گے، جو کہ بالکل بھی ناجائز اور ناقابل قبول ہے۔ لیکن پاکستان میں آپ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے؛ ایسے لوگ ہر جگہ مل جائیں گے۔ خواتین کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے،ایک ممبر نےاپنے کمنٹ میں لکھا کہ ایسے لوگوں اور ان کے والدین پر لعنت ہے جنہوں نے ان گھٹیا مسخروں کی پرورش کی۔ ممبر نے متاثرہ خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جانتی ہیں کہ دنیا کیسی ہے؟ ہر وقت اپنی حفاظت اور پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ جب برائی موجود ہو تو کچھ چیزیں عوامی مقامات پر نہیں کی جا سکتیں۔ ایک ممبرنے سیاسی قائدین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کیونکہ ہمارے جاہل لیڈروں کو کیا پتا عام لوگوں کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے شیشے یا پردے استعمال کریں۔ ایک مکین نے اپنا ذاتی تجربہ شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ رات میں اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ سی ویو برانچ میکڈونلڈز کے ڈرائیو تھرو میں تھے کہ لڑکوں کا ایک گروپ آیا اوراشارے کرنے لگا اور بلا وجہ قہقہے لگا کر تنگ کرنے لگا جو کہ انہیں بہت برا لگا۔ ایک اور کمنٹ میں کہا گیا کہ جو کچھ ہوا وہ صرف غلط نہیں بلکہ نہایت شرمناک اور اخلاقی طور پر مجرمانہ ہےاس طرح کی حرکت ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ اسلام میں پردہ کوئی مشورہ نہیں بلکہ ایک حکم ہے، جس کا مقصد بے حیائی سے بھرے معاشرے میں انسانی وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ معاشرہ خواہش، تماشے اور تذلیل کے گرد گھومتا ہے۔ جب لوگ اسلامی حدود کو چھوڑ دیتے ہیں اور بے پردگی کو معمول بنا لیتے ہیں تو وہ درندوں کا کام آسان کر دیتے ہیں۔

  • ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں کی بے ضابطگیاں، نیب نے سندھ حکومت کو خط لکھ دیا

    ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں کی بے ضابطگیاں، نیب نے سندھ حکومت کو خط لکھ دیا

    کراچی میں محکمہ محنت سندھ کے ادارے ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس حوالے سے حکومت سندھ کو خط لکھ دیا ہے، جس میں سنگین الزامات کی تفصیلات شامل ہیں۔

    نیب کے خط کے مطابق ادارے کو سابق وزیر محنت شاہد تھہیم، سابق سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر افراد کے خلاف دو شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں روپے کے ٹھیکے ضابطے کے خلاف من پسند افراد کو جاری کیے گئے۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ مزدوروں کے گھروں اور اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ساڑھے پانچ ارب روپے کا جعلی ٹینڈر جاری کیا گیا۔ یہ ٹینڈر سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا گیا، جو قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    نیب کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں 20 مارچ 2025 کو ایک مقامی روزنامے میں اشتہار شائع ہونے کا ذکر ہے، تاہم متعلقہ اخبار میں ایسی کوئی اشاعت نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ ایک ڈمی اخبار میں اشتہار لگایا گیا، جبکہ قانون کے مطابق بیس لاکھ روپے سے زائد کے اشتہار کم از کم چھ معروف اخبارات میں شائع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں ایک فرم سابق سیکریٹری محنت رفیق قریشی کے رشتہ داروں کی ملکیت یا کنٹرول میں ہے۔ اسی طرح
    صوبائی سیکریٹری کے ایک رشتہ دار کی مبینہ فرم نے کسی قابل تصدیق کام کے بغیر 50 کروڑ روپے وصول کیے۔

    نیب کے مطابق بغیر کام مکمل کیے اور فزیکل تصدیق کے ٹھیکیداروں کو سوا ارب روپے کی رقم جاری کی گئی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ معاملے پر مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی متوقع ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں شاپنگ پلازہ کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی ملکیت، لیز اور بعد ازاں اضافی تعمیرات مختلف ادوار میں منظور کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔ لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین خرید لی، جبکہ لیز کے خاتمے کے باوجود تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

    اس وقت میئر کراچی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں لیز ختم ہونے سے قبل شروع ہونے والی تعمیرات کو
    روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ عبدالستار افغانی بطور میئر نومبر 1979 سے فروری 1987 تک عہدے پر فائز رہے، جبکہ نومبر 1983 سے فروری 1987 تک دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان ہی کے دور میں ٹرام سروس کے لیے دی گئی لیز 1983 میں ختم ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین پر تعمیرات شروع کیں، جو 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں جب فاروق ستار میئر کراچی منتخب ہوئے تو ان کے دور میں گل پلازہ کی زمین جنیکا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل کو موصول رپورٹ میں شامل دستاویز کے مطابق تین نومبر 1991 کو اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیہ عظمی کی زمین گل پلازہ کے لیے لیز پر دینے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ زمین گل پلازہ شاپنگ مال کو تین روپے فی گز کے حساب سے کرائے پر دی گئی۔


    فاروق ستار 1988 سے 1992 تک بطور میئر کراچی خدمات انجام دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ان ہی کے دور میں ان کے دستخط سے جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کے متنازعہ اضافی فلور کو 2003 میں ریگولرائز کیا گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر کراچی تھے، جن کے دور میں اضافی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔

  • کراچی: شاہ حسن جزیرہ، مطالعاتی دورے کے بعد تنازع مزید گہرا

    کراچی: شاہ حسن جزیرہ، مطالعاتی دورے کے بعد تنازع مزید گہرا

    کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع تاریخی شاہ حسن جزیرے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں، صحافیوں اور گرد و نواح کے دیہات کے مکینوں نے مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد وفاقی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ سیاحتی منصوبے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا تھا۔

    مطالعاتی دورے کے دوران جزیرے کی موجودہ صورتحال، درگاہ کے تقدس، ماہی گیروں کے روزگار اور ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے خدشات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے منصوبے کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    دورے میں سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے صدر سید خداڈنو شاہ، جنرل سیکریٹری حفیظ بلوچ، ملیر کے سماجی رہنما سلیم سالار، معروف ماہی گیر رہنما یونس خاصخیلی، صحافیوں اور مقامی آبادی کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شاہ حسن جزیرہ محض ایک غیر آباد علاقہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، مذہبی عقیدت اور مقامی شناخت کا مرکز ہے۔ ان کے مطابق جزیرے کو صرف تفریحی منصوبے کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہے۔

    مطالعاتی دورے کے اختتام پر شرکا نے جزیرے پر ریلی بھی نکالی۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ اگر مجوزہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پورٹ قاسم کے قریب واقع شاہ حسن جزیرے کو ماحولیاتی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور لائف اسٹائل ریٹریٹس کے لیے ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔

    وفاقی مؤقف کے مطابق اس منصوبے پر ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے لاگت آئے گی اور اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیاحت کو فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

    تاہم مقامی سطح پر اس اعلان کے بعد تشویش اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ساحلی علاقوں میں آباد ماہی گیر برادری اس منصوبے کو اپنے روزگار کے لیے براہ راست خطرہ قرار دے رہی ہے۔

    سید خداڈنو شاہ نے بتایا کہ شاہ حسن جزیرے کا کل رقبہ تقریباً 530 ایکڑ ہے اور یہاں واقع حضرت سید شاہ حسن کی درگاہ تقریباً 800 سال قدیم ہے۔ ان کے مطابق درگاہ پر ہر سال عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جہاں دور دراز علاقوں سے زائرین آتے ہیں، جبکہ اطراف میں مقامی خاندانوں اور ماہی گیروں کے قبرستان بھی موجود ہیں۔

    شرکا کو بتایا گیا کہ مختلف ادوار میں زائرین کی سہولت کے لیے مسافر خانے، مسجد اور پانی کی ٹینکیاں تعمیر کی گئیں، جو تقریباً 50 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

    مطالعاتی دورے کے دوران ماحولیاتی خدشات بھی سامنے آئے۔ حفیظ بلوچ اور یونس خاصخیلی نے کہا کہ جزیرے اور اس کے اطراف کا سمندر صدیوں سے ماہی گیروں کا ذریعہ معاش رہا ہے اور یہاں کا ماحولیاتی نظام نہایت نازک ہے۔

    ماہی گیر رہنماؤں کے مطابق بڑے پیمانے پر تعمیرات کی صورت میں سمندری حیات اور ماہی گیروں کے روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

    مقامی رہنماؤں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں بُنڈل اور بڈو جزیروں کو ترقی دینے کا منصوبہ بھی سامنے آیا تھا، جسے سندھ حکومت اور مقامی آبادی کی مخالفت کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔

    اس وقت سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ جزیرے صوبے کی ملکیت ہیں اور وفاق کو یکطرفہ فیصلوں کا اختیار نہیں۔ اسی پس منظر کے باعث شاہ حسن جزیرے سے متعلق حالیہ اعلان پر بھی عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    سید خداڈنو شاہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شاہ حسن جزیرے کی زمین قانونی طور پر پورٹ قاسم کی ملکیت نہیں بلکہ سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں پورٹ قاسم نے سندھ حکومت سے 1500 ایکڑ زمین حاصل کی جہاں سینکڑوں کھاتے دار اور درجنوں قدیم دیہات آباد تھے، مگر متاثرین کو نہ مکمل معاوضہ ملا اور نہ متبادل روزگار فراہم کیا گیا۔

    مطالعاتی دورے میں شریک صحافیوں اور دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے قبل مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، شفاف مشاورت کرنی ہوگی اور شاہ حسن درگاہ کے تقدس، تاریخی حیثیت اور ماحولیاتی نظام کو ہر صورت محفوظ بنانا ہوگا۔

    مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ وہ ترقی کے خلاف نہیں، مگر ایسی ترقی جو ان کی تاریخ، شناخت اور روزگار کو خطرے میں ڈال دے، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

  • کراچی: گل پلازہ آتشزدگی، ذمہ دار کون؟

    کراچی: گل پلازہ آتشزدگی، ذمہ دار کون؟

    کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ ایک بار پھر شہری تحفظ، عمارتوں کی نگرانی اور قانون کے نفاذ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ واقعہ کسی ایک لمحے کی کوتاہی نہیں بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجوہات میں ناقص الیکٹرک وائرنگ، اوورلوڈنگ، آگ سے بچاؤ کے ناکارہ انتظامات اور عمارت میں ایمرجنسی اخراج کے محدود راستے شامل ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی نشاندہی متعدد بار کی جا چکی ہے مگر عملی اصلاحات کم ہی نظر آتی ہیں۔

    ذمہ داری کا دائرہ صرف ایک فریق تک محدود نہیں۔ عمارت کے مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فائر سیفٹی قوانین پر مکمل عمل درآمد کرائیں۔ دکانداروں پر لازم ہے کہ غیر محفوظ برقی آلات اور غیر قانونی توسیعات سے گریز کریں۔ متعلقہ سرکاری اداروں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ وقت پر معائنہ کریں اور خلاف ورزی پر کارروائی کریں۔ جب یہ تمام فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو نتیجہ ایسے ہی سانحات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

    کراچی میں اس نوعیت کے واقعات نئی بات نہیں۔ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات، کمیٹیاں اور وعدے سامنے آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ فائلوں میں دب جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آتشزدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر نگرانی کا نظام مضبوط نہ ہوا اور قوانین محض کاغذوں تک محدود رہے تو شہری جان و مال اسی طرح خطرے میں رہیں گے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ اصلاح کب ہوگی۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی فائر سیفٹی، عمارتوں کے معائنے اور احتساب کا مؤثر نظام قائم نہ ہوا تو ذمہ داری اجتماعی غفلت پر ہی عائد ہوگی، اور اس کی قیمت ہمیشہ عام شہری ادا کرتا رہے گا۔

  • کراچی کے شاپنگ سینٹرز میں آگ: حادثہ یا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؟ | خصوصی رپورٹ

    کراچی کے شاپنگ سینٹرز میں آگ: حادثہ یا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؟ | خصوصی رپورٹ

    کہیں پانی کم تو کہیں بے حسی کا سمندر لاپرواہی کا نتیجہ اور آنسووں کا دریا لوگ زندہ جل جاتے ہیں وقت ہلکا سا مرہم لگاکر آگے بڑھ جاتا ہے لیکن سانحہ — یوں کہہ لیجئے جن پر گزری ہوتی ہے قیامت انھیں زندگی بھر کا روگ لگ جاتا ہے چھہ سوختہ لاشیں بدقسمت گل پلازہ سے نکال لی گئی ہیں ۔۔۔ مظلوم مائوں کے درجنوں لعل اب بھی لاپتا ہیں ۔۔۔۔ سانحہ بلدیہ توشائد ماضی بعید کا قصہ ہے مگر آپ کو عائشہ منزل پر عرشی شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ یاد ہے ۔۔ جی ہاں دو سال ہی گزرے ہین تین افردا جان سے گئے ، تحیقیات، رپورٹ طلب فلاں نے نوٹس لےلیا فلاں نے دورہ کیا زخمیوں کی عیادت کی یہ خبریں آئیں اور پھر ان تین لاشوں کے ساتھ یہ کہانی بھی دفن ہوگئی ۔۔۔اورآپ تو آرجے مال کو بھی بھول گئے ہوں گے عرشی شاپنگ سینٹر کے حادثے سے صرف چند روز پہلے آر جے مال میں خوفناک آگ بھڑکی پوری عمارت کو لپیٹ میں لیا اور گیارہ معصوم اپنی زندگی کی بازی ہارگئے ——– پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کیا اور پھر یہ مقدمہ بھی فائلوں کے نیچے کہیں دب گیا ۔۔۔ عمارت کا نقشہ پاس ہوجاتا ہے عمارت بن جاتی ہے اور انسان جل جل کر مرتےرہتے ہیں ۔۔ عمارت کی غیر قانونی تعمیر کی منظوری سے لےکر کمرشل عمارتوں کی انسپیکشن کرنے والے محکمے تک کوئی اپنی ذمہ داری ادا کرتا تو آج شائد یہ نوبت نا آتی ۔۔۔آپ کو معلوم ہے سندھ حکومت کے پاس ایک سول ڈیفنس کا ادارہ بھی موجود ہے جس کا سالانہ بجت تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔۔۔ اس محکمہ کا کام ہی حادثات اور آفات سے نمٹنا ہے ۔۔ یہ ادارہ آپ کو کئیں نظر آئے تو ضرور بتائیے گا ۔۔۔ دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں شمار ہونیوالا کراچی نوحہ کناں اور کیوں نہ ہو غلطی ایک بار ہوتی ہے لیکن بار بار وہی غلطی —- غلطی نہیں مجرمانہ غفلت ہوتی ہے اور اس جرم میں صرف حکومت اور شہری انتظامیہ ہی نہیں خود کراچی کے شہری بھی برابر کے شریک ہیں عمارت رہائشی ہو یا کمرشل کہیں فائڑ سیفٹی کے الارم ہیں نہ ایمرجنسی میں نکلنے والے محفوظ راستے اتنے حادثات کے باوجود انتظامیہ نے سبق سیکھا نہ لوگوں نے ہوش کے ناخن لیے حد تو یہ ہے کہ کراچی کا فائر عملہ جدید تربیت اور آلات سے عاری ہے یہ تک نہیں سمجھ آتی کہ تیسرے درجے یعنی خوفناک آتشزدگی میں پانی نہیں فوم مارا جاتا ہے کہیں سے کوئی جگہ نہ ملے تو دیواریں توڑ دینی چاہیئں لیکن ہائے اور بس ہائے-

  • جلیبی، فافڑا، ڈھوکلا اور کھچڑی جیسے گجراتی ذائقوں کا مرکز کراچی کا ‘راج دھانی ڈلائیٹس’

    جلیبی، فافڑا، ڈھوکلا اور کھچڑی جیسے گجراتی ذائقوں کا مرکز کراچی کا ‘راج دھانی ڈلائیٹس’

    نہاری، بریانی یا بار بی کیو سے دل بھر جائے اور پیزا یا چائنیز کھانے کا موڈ بھی نہ بنے تو ذائقے کی تلاش ایک نئے رخ پر مڑ جاتی ہے۔ ایسے میں شہر میں موجود مختلف ثقافتوں کے کھانے متبادل بن کر سامنے آتے ہیں۔

    کراچی میں جہاں خالص پاکستانی پکوانوں کی روایت موجود ہے، وہیں دیگر ثقافتوں کے ذائقے بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ انڈیا کے طرز کے کھانوں میں راجستھانی اور گجراتی پکوان خاص طور پر نمایاں ہیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنے شوقین پیدا کیے ہیں۔

    راج دھانی ڈلائیٹس ایک ایسا ریستوران ہے جو اپنی گجراتی شناخت کے باعث جانا جاتا ہے۔ یہاں کا ماحول، سجاوٹ اور کھانے گجراتی طرز کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ جگہ ایک مخصوص ذائقے کی پہچان بن چکی ہے۔

    اس ریستوران میں صرف گجراتی کمیونٹی ہی نہیں بلکہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو سبزیوں سے تیار کیے گئے روایتی اور سادہ پکوان پسند کرتے ہیں، اس جگہ کو ترجیح دیتے ہیں۔

    جلیبی، فافڑا، ڈھوکلا اور کھچڑی جیسے پکوان راج دھانی ڈلائیٹس کی شناخت کا حصہ ہیں۔ یہ ریستوران ان افراد کے لیے ایک جگہ فراہم کرتا ہے جو گجراتی کھانوں کے روایتی ذائقوں سے واقف ہونا چاہتے ہیں اور انہیں ایک ہی جگہ پر آزمانا چاہتے ہیں۔

  • کراچی: گل پلازہ میں آگ سے چھ اموات: فائر سیفٹی آڈٹ نے متعدد عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے

    کراچی: گل پلازہ میں آگ سے چھ اموات: فائر سیفٹی آڈٹ نے متعدد عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے

    کراچی میں گذشتہ شب گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے نے ایک بار پھر شہر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے، جبکہ عمارت میں موجود سامان اور ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد شہری سطح پر فائر سیفٹی انتظامات پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

    اسی پس منظر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر کی اہم ترین شاہراہوں پر واقع عمارتیں بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین پر واقع 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا۔ ان میں سے صرف چھ عمارتوں میں فائر سیفٹی کی بنیادی سہولیات مکمل طور پر موجود پائی گئیں۔ یہ تینوں شاہراہیں کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے۔

    آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 200 سے زائد عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں۔ ان عمارتوں میں دفاتر، بینک، شاپنگ سینٹرز اور گودام شامل ہیں، جہاں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل ممکن نہیں رہتا۔

    رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ باسٹھ فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی آگ کے دوران انسانی جانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی ہے، خاص طور پر بلند عمارتوں میں۔

    آڈٹ کے مطابق ستر فیصد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات موجود ہیں، جو ماضی میں متعدد واقعات کی وجہ بھی بن چکے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 266 میں سے 90 عمارتوں میں فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر نصب تھے، جبکہ باقی اکثریتی عمارتیں کسی بھی ابتدائی وارننگ سسٹم سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بروقت اطلاع کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

    فائر سیفٹی آڈٹ مکمل ہونے کے بعد تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو سفارش کی گئی تھی کہ وہ فائر بریگیڈ حکام کو سہولیات اور معاونت فراہم کریں تاکہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان سفارشات پر عمل نہیں ہو سکا۔

    اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو بھی ضروری اصلاحی اقدامات کی ہدایات دی گئی تھیں، مگر سرکاری رپورٹ کے مطابق دو سال گزرنے کے باوجود کسی ایک عمارت میں بھی آگ کے واقعات روکنے کے لیے مؤثر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

    گل پلازہ میں گذشتہ شب پیش آنے والا واقعہ اس رپورٹ میں درج خدشات کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ سرکاری آڈٹ بھی محض ایک دستاویز بن کر رہ جائے گا یا شہر کی عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لیے واقعی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔