[rank_math_breadcrumb]

کراچی کے شاپنگ سینٹرز میں آگ: حادثہ یا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؟ | خصوصی رپورٹ

کہیں پانی کم تو کہیں بے حسی کا سمندر لاپرواہی کا نتیجہ اور آنسووں کا دریا لوگ زندہ جل جاتے ہیں وقت ہلکا سا مرہم لگاکر آگے بڑھ جاتا ہے لیکن سانحہ — یوں کہہ لیجئے جن پر گزری ہوتی ہے قیامت انھیں زندگی بھر کا روگ لگ جاتا ہے چھہ سوختہ لاشیں بدقسمت گل پلازہ سے نکال لی گئی ہیں ۔۔۔ مظلوم مائوں کے درجنوں لعل اب بھی لاپتا ہیں ۔۔۔۔ سانحہ بلدیہ توشائد ماضی بعید کا قصہ ہے مگر آپ کو عائشہ منزل پر عرشی شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ یاد ہے ۔۔ جی ہاں دو سال ہی گزرے ہین تین افردا جان سے گئے ، تحیقیات، رپورٹ طلب فلاں نے نوٹس لےلیا فلاں نے دورہ کیا زخمیوں کی عیادت کی یہ خبریں آئیں اور پھر ان تین لاشوں کے ساتھ یہ کہانی بھی دفن ہوگئی ۔۔۔اورآپ تو آرجے مال کو بھی بھول گئے ہوں گے عرشی شاپنگ سینٹر کے حادثے سے صرف چند روز پہلے آر جے مال میں خوفناک آگ بھڑکی پوری عمارت کو لپیٹ میں لیا اور گیارہ معصوم اپنی زندگی کی بازی ہارگئے ——– پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کیا اور پھر یہ مقدمہ بھی فائلوں کے نیچے کہیں دب گیا ۔۔۔ عمارت کا نقشہ پاس ہوجاتا ہے عمارت بن جاتی ہے اور انسان جل جل کر مرتےرہتے ہیں ۔۔ عمارت کی غیر قانونی تعمیر کی منظوری سے لےکر کمرشل عمارتوں کی انسپیکشن کرنے والے محکمے تک کوئی اپنی ذمہ داری ادا کرتا تو آج شائد یہ نوبت نا آتی ۔۔۔آپ کو معلوم ہے سندھ حکومت کے پاس ایک سول ڈیفنس کا ادارہ بھی موجود ہے جس کا سالانہ بجت تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔۔۔ اس محکمہ کا کام ہی حادثات اور آفات سے نمٹنا ہے ۔۔ یہ ادارہ آپ کو کئیں نظر آئے تو ضرور بتائیے گا ۔۔۔ دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں شمار ہونیوالا کراچی نوحہ کناں اور کیوں نہ ہو غلطی ایک بار ہوتی ہے لیکن بار بار وہی غلطی —- غلطی نہیں مجرمانہ غفلت ہوتی ہے اور اس جرم میں صرف حکومت اور شہری انتظامیہ ہی نہیں خود کراچی کے شہری بھی برابر کے شریک ہیں عمارت رہائشی ہو یا کمرشل کہیں فائڑ سیفٹی کے الارم ہیں نہ ایمرجنسی میں نکلنے والے محفوظ راستے اتنے حادثات کے باوجود انتظامیہ نے سبق سیکھا نہ لوگوں نے ہوش کے ناخن لیے حد تو یہ ہے کہ کراچی کا فائر عملہ جدید تربیت اور آلات سے عاری ہے یہ تک نہیں سمجھ آتی کہ تیسرے درجے یعنی خوفناک آتشزدگی میں پانی نہیں فوم مارا جاتا ہے کہیں سے کوئی جگہ نہ ملے تو دیواریں توڑ دینی چاہیئں لیکن ہائے اور بس ہائے-

اسی بارے میں: