حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد فائر سیفٹی کے حوالے سے لاہور کا موازنہ سامنے آ رہا ہے۔ عمومی تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ لاہور اس معاملے میں زیادہ محفوظ ہے، مگر زمینی حقائق اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔
اگر گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو لاہور میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران کئی بڑے حادثات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ محض اتفاق نہیں بلکہ مسلسل غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ ہے۔
جنوری 2026 میں گلبرگ کے انڈیگو ہوٹل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں تین افراد جان سے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں گیس لیکج یا الیکٹریکل خرابی کا امکان ظاہر کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق لاہور میں روزانہ اوسطاً 14 سے زائد آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جن کی بڑی وجہ بجلی کے نظام میں خرابی ہے۔
اس سے قبل جولائی 2025 میں لاہور کے حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ نے ثابت کیا کہ ماضی کے صدمے کے باوجود حفیظ سینٹر میں بنیادی حفاظتی اقدامات پوری طرح نافذ نہیں ہوئے، اور دوبارہ آگ بھڑکنے پر عوامی غم و غصہ سامنے آیا۔ اس بار فوری جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، مگر پس منظر میں حفاظتی عمل ناکافی پایا گیا۔
اس سے پہلے حفیظ سینٹر میں اکتوبر 2020 میں لگنے والی آگ نے سینکڑوں دکانوں کو تباہ کر دیا اور ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اندرونی ہائیڈرنٹس اور فائر کنٹرول نظام ناکارہ تھے، جس کی وجہ سے آگ پھیل گئی اور نقصان بڑھا۔ ریسکیو حکام نے کہا کہ عمارت کے اندر کچھ مقامات تک رسائی مشکل تھی، جس نے بروقت نکالنے کے عمل کو مشکل بنایا۔
جنوری 2021 میں ایک رہائشی مکان میں لگی آگ میں تین بچوں کی موت نے سوال اٹھائے کہ ابتدائی اطلاع ملنے کے باوجود متاثرین کو جلدی نہیں نکالا جا سکا۔ مقامی ذرائع نے کہا کہ قریبی پانی کے وسائل پر فوراً رسائی ممکن نہ ہونے اور حفاظتی انتظامات کے فقدان نے ریسکیو آپریشن کو متاثر کیا۔
اپریل 2021 میں انارکلی بازار میں ایک بڑی آگ نے متعدد دکانیں ویران کر دیں اور رسپانس میں تاخیر کی شکایات سامنے آئیں۔ تاجروں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ راستوں پر تجاوزات اور تنگ گزرگاہوں نے فائر بریگیڈ کی رسائی میں رکاوٹ بنیں، جو بچاؤ میں رکاوٹ ثابت ہوا۔
آگ پھیلنے کی بڑی وجوہات
تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے زیادہ تر واقعات چار بنیادی عوامل سے جڑے ہیں۔ سب سے اہم وجہ ناقص الیکٹریکل نظام ہے، جس میں غیر معیاری وائرنگ، بجلی کا حد سے زیادہ استعمال، پرانے آلات اور غیر قانونی کنکشن شامل ہیں۔ اندرون شہر میں بجلی کی تاروں کا الجھا ہوا جال معمولی سرج پر بھی آگ بھڑکا دیتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ عمارتوں کا ناقص ڈیزائن ہے۔ کئی تجارتی علاقوں میں تنگ سیڑھیاں، بند راستے اور تجاوزات فائر بریگیڈ کی رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ شاہ عالم اور انارکلی جیسی مارکیٹس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
تیسری وجہ وہ عمارتیں ہیں جنہیں کیٹیگری ڈی میں رکھا گیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ہونے والے آڈٹس میں سامنے آیا کہ سینکڑوں کمرشل عمارتوں میں فائر الارم، ایمرجنسی لائٹس اور دیگر حفاظتی آلات موجود ہی نہیں۔
قوانین موجود، عمل درآمد غائب
اگرچہ بلڈنگ کوڈز میں فائر الارم، پانی کی دستیابی اور باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے، مگر عملی طور پر ان قوانین پر عمل درآمد کمزور ہے۔ مقامی حکومت، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، ترقیاتی اداروں اور فائر سروسز کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور رہائشی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطرات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے لاہور اور کراچی میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ دونوں شہروں میں بدانتظامی اور قوانین پر عمل نہ ہونے کا مسئلہ یکساں ہے۔
متعدد تحقیقات بتاتی ہیں کہ اندرونی فائر ہائیڈرنٹس، ایمرجنسی لائٹنگ اور باقاعدہ معائنے اکثر فعال یا موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی لمحوں میں ہی آگ پر قابو پانے یا لوگوں کا محفوظ نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ لاہور میں بار بار پیش آنے والے بڑے حادثات کا ایک بڑا سبب انتظامی ناکامی، تجاوزات، اور عمارتوں میں بنیادی فائر سیفٹی کا فقدان ہے۔ بروقت ریسپانس اور اندرونی سیفٹی نیٹ ورک مضبوط کیے بغیر ایسی آفتیں دوبارہ رونما ہوں گی۔











