Tag: گل پلازہ

  • سانحہ گل پلازہ : کراچی کے مقابلے میں لاہور فائر سیفٹی میں زیادہ محفوظ ہے؟

    سانحہ گل پلازہ : کراچی کے مقابلے میں لاہور فائر سیفٹی میں زیادہ محفوظ ہے؟

    حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد فائر سیفٹی کے حوالے سے لاہور کا موازنہ سامنے آ رہا ہے۔ عمومی تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ لاہور اس معاملے میں زیادہ محفوظ ہے، مگر زمینی حقائق اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔

    اگر گزشتہ برسوں کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو لاہور میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران کئی بڑے حادثات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ محض اتفاق نہیں بلکہ مسلسل غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ ہے۔

    جنوری 2026 میں گلبرگ کے انڈیگو ہوٹل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں تین افراد جان سے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں گیس لیکج یا الیکٹریکل خرابی کا امکان ظاہر کیا گیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق لاہور میں روزانہ اوسطاً 14 سے زائد آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جن کی بڑی وجہ بجلی کے نظام میں خرابی ہے۔

    اس سے قبل جولائی 2025 میں لاہور کے حفیظ سینٹر  میں لگنے والی آگ نے ثابت کیا کہ ماضی کے صدمے کے باوجود حفیظ سینٹر میں بنیادی حفاظتی اقدامات پوری طرح نافذ نہیں ہوئے، اور دوبارہ آگ بھڑکنے پر عوامی غم و غصہ سامنے آیا۔ اس بار فوری جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، مگر پس منظر میں حفاظتی عمل ناکافی پایا گیا۔

    اس سے پہلے حفیظ سینٹر میں اکتوبر 2020 میں لگنے والی آگ نے سینکڑوں دکانوں کو تباہ کر دیا اور ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اندرونی ہائیڈرنٹس اور فائر کنٹرول نظام ناکارہ تھے، جس کی وجہ سے آگ پھیل گئی اور نقصان بڑھا۔ ریسکیو حکام نے کہا کہ عمارت کے اندر کچھ مقامات تک رسائی مشکل تھی، جس نے بروقت نکالنے کے عمل کو مشکل بنایا۔

    جنوری 2021 میں ایک رہائشی مکان میں لگی آگ میں تین بچوں کی موت نے سوال اٹھائے کہ ابتدائی اطلاع ملنے کے باوجود متاثرین کو جلدی نہیں نکالا جا سکا۔ مقامی ذرائع نے کہا کہ قریبی پانی کے وسائل پر فوراً رسائی ممکن نہ ہونے اور حفاظتی انتظامات کے فقدان نے ریسکیو آپریشن کو متاثر کیا۔

    اپریل 2021 میں انارکلی بازار میں ایک بڑی آگ نے متعدد دکانیں ویران کر دیں اور رسپانس میں تاخیر کی شکایات سامنے آئیں۔ تاجروں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ راستوں پر تجاوزات اور تنگ گزرگاہوں نے فائر بریگیڈ کی رسائی میں رکاوٹ بنیں، جو بچاؤ میں رکاوٹ ثابت ہوا۔

    آگ پھیلنے کی بڑی وجوہات

    تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے زیادہ تر واقعات چار بنیادی عوامل سے جڑے ہیں۔ سب سے اہم وجہ ناقص الیکٹریکل نظام ہے، جس میں غیر معیاری وائرنگ، بجلی کا حد سے زیادہ استعمال، پرانے آلات اور غیر قانونی کنکشن شامل ہیں۔ اندرون شہر میں بجلی کی تاروں کا الجھا ہوا جال معمولی سرج پر بھی آگ بھڑکا دیتا ہے۔

    دوسری بڑی وجہ عمارتوں کا ناقص ڈیزائن ہے۔ کئی تجارتی علاقوں میں تنگ سیڑھیاں، بند راستے اور تجاوزات فائر بریگیڈ کی رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ شاہ عالم اور انارکلی جیسی مارکیٹس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

    تیسری وجہ وہ عمارتیں ہیں جنہیں کیٹیگری ڈی میں رکھا گیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ہونے والے آڈٹس میں سامنے آیا کہ سینکڑوں کمرشل عمارتوں میں فائر الارم، ایمرجنسی لائٹس اور دیگر حفاظتی آلات موجود ہی نہیں۔

    قوانین موجود، عمل درآمد غائب

    اگرچہ بلڈنگ کوڈز میں فائر الارم، پانی کی دستیابی اور باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے، مگر عملی طور پر ان قوانین پر عمل درآمد کمزور ہے۔ مقامی حکومت، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، ترقیاتی اداروں اور فائر سروسز کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ غیر قانونی تعمیرات اور رہائشی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطرات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے لاہور اور کراچی میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ دونوں شہروں میں بدانتظامی اور قوانین پر عمل نہ ہونے کا مسئلہ یکساں ہے۔

    متعدد تحقیقات بتاتی ہیں کہ اندرونی فائر ہائیڈرنٹس، ایمرجنسی لائٹنگ اور باقاعدہ معائنے اکثر فعال یا موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی لمحوں میں ہی آگ پر قابو پانے یا لوگوں کا محفوظ نکالنا ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ واقعات بتاتے ہیں کہ لاہور میں بار بار پیش آنے والے بڑے حادثات کا ایک بڑا سبب انتظامی ناکامی، تجاوزات، اور عمارتوں میں بنیادی فائر سیفٹی کا فقدان ہے۔ بروقت ریسپانس اور اندرونی سیفٹی نیٹ ورک مضبوط کیے بغیر ایسی آفتیں دوبارہ رونما ہوں گی۔

  • سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف

    سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف

    کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے سانحے سے متعلق کمشنر کراچی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں عمارت کی تعمیر، فائر سیفٹی انتظامات، پانی کی فراہمی اور ادارہ جاتی ردِعمل پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ کا آغاز دکان نمبر 193، گراؤنڈ فلور میں اس وقت ہوا جب ایک کمسن بچے کے ہاتھ سے ماچس جلنے کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کے وقت دکان کا مالک موجود نہیں تھا، جبکہ دکان میں موجود انتہائی آتش گیر سامان کے باعث آگ نے چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کر لی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے۔ عمارت میں فائر الارم نصب تھا، نہ اسپرنکلر سسٹم اور نہ ہی فائر سپریشن کا کوئی خودکار نظام موجود تھا۔ اس کے علاوہ آگ لگنے کے بعد بجلی بند کرنے میں تاخیر کو بھی آگ کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ پر بروقت قابو نہ پانے کی ایک اہم وجہ پانی کی فراہمی میں تاخیر تھی۔ فائر فائٹنگ کے دوران پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث ابتدائی کوششیں ناکام رہیں اور آگ تیزی سے عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔

    عمارت کے ہنگامی اخراج کے نظام کو بھی رپورٹ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی اخراج کے راستے ناکافی تھے جبکہ کئی راستے بند ہونے کے باعث لوگ بروقت عمارت سے باہر نہیں نکل سکے۔ سیڑھیوں اور راہ داریوں میں دھواں بھر جانے کے باعث متعدد افراد پھنس گئے، جبکہ میزنائن فلور آگ اور دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

    کمشنر کراچی کی رپورٹ میں گل پلازہ کی تعمیر کو بھی خلافِ ضابطہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمارت کا ڈیزائن فائر سیفٹی اصولوں کے منافی تھا اور شاپس کی تعداد منظور شدہ نقشے سے کہیں زیادہ تھی، جس سے نہ صرف فائر سیفٹی متاثر ہوئی بلکہ ہنگامی صورتحال میں انخلا مزید مشکل ہو گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ فائر بریگیڈ کے پاس اس نوعیت کی شدید آگ سے نمٹنے کے لیے جدید آلات کی کمی تھی، جس کے باعث ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ اسی طرح پولیس کی جانب سے کراؤڈ کنٹرول اور ریسکیو کے عمل میں بھی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فائر سیفٹی آڈٹس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جبکہ عمارت انتظامیہ کی مجموعی غفلت کو اس سانحے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے نتیجے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ فائر سیفٹی نظام، عمارتوں کے ضابطوں اور ادارہ جاتی تیاری میں موجود سنگین خامیوں کا نتیجہ تھا، جس نے قیمتی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

  • سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں شاپنگ پلازہ کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی ملکیت، لیز اور بعد ازاں اضافی تعمیرات مختلف ادوار میں منظور کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔ لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین خرید لی، جبکہ لیز کے خاتمے کے باوجود تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

    اس وقت میئر کراچی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں لیز ختم ہونے سے قبل شروع ہونے والی تعمیرات کو
    روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ عبدالستار افغانی بطور میئر نومبر 1979 سے فروری 1987 تک عہدے پر فائز رہے، جبکہ نومبر 1983 سے فروری 1987 تک دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان ہی کے دور میں ٹرام سروس کے لیے دی گئی لیز 1983 میں ختم ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین پر تعمیرات شروع کیں، جو 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں جب فاروق ستار میئر کراچی منتخب ہوئے تو ان کے دور میں گل پلازہ کی زمین جنیکا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل کو موصول رپورٹ میں شامل دستاویز کے مطابق تین نومبر 1991 کو اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیہ عظمی کی زمین گل پلازہ کے لیے لیز پر دینے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ زمین گل پلازہ شاپنگ مال کو تین روپے فی گز کے حساب سے کرائے پر دی گئی۔


    فاروق ستار 1988 سے 1992 تک بطور میئر کراچی خدمات انجام دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ان ہی کے دور میں ان کے دستخط سے جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کے متنازعہ اضافی فلور کو 2003 میں ریگولرائز کیا گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر کراچی تھے، جن کے دور میں اضافی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ واقعے میں جان سے جانے والوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور یہ رقم ریلیز ہو چکی ہے۔ کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ لواحقین کی شناخت مکمل کر کے فوری طور پر رقم حوالے کی جائے، اگرچہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکاندار کو فوری گذر بسر کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے، جبکہ کے سی سی آئی کے ذریعے دکانداروں کے سامان کے نقصان کا بھی معاوضہ دیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق دو ماہ کے اندر تمام متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دو عمارتیں دیکھی گئی ہیں، ایک میں پانچ سو اور دوسری میں تین سو پچاس دکانیں موجود ہیں۔

    سندھ اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا عمارتوں کے مالکان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا اور کوشش ہو گی کہ دو سال تک یہ دکانیں مفت فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پارکنگ پلازہ سمیت مزید عمارتیں بھی موجود ہیں جہاں اگلے دو ماہ میں دکانیں دی جا سکیں گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا، اس قرضے کی ضمانت حکومت سندھ دے گی اور سود بھی حکومت ادا کرے گی۔ اس حوالے سے سندھ انٹرپرائز لیمیٹڈ سے بات کی جا چکی ہے۔ سانحے کے نقصانات کے ازالے کے لیے تاجروں کی ایک کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے اور اس واقعے پر مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کو اسی حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور دو سال میں تعمیر مکمل کی جائے گی۔ نئی تعمیر میں اتنی ہی دکانیں بنیں گی جتنی پہلے تھیں، ایک بھی دکان زائد نہیں ہو گی۔ انہوں نے گل پلازہ کو گرانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک تین سو سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات نہیں ہوں گے، انہیں مختصر وقت دیا جائے گا اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے والی عمارتوں کو سیل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ تمام عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس کا قانون بھی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آگ لگنے کے واقعے پر امدادی ادارے الگ الگ انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے، تاہم اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان کے تحت چلایا جائے گا تاکہ ردعمل مزید مؤثر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں پر تنقید ضرور کریں لیکن اس سانحے کو خفیہ ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ابتدا میں اٹھاسی افراد لاپتہ تھے، جن میں ایک زندہ نکل آیا اور پانچ نام دہرائے گئے تھے، یوں کل بیاسی تصدیق شدہ لاپتہ افراد تھے۔ اب تک اکسٹھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ پندرہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اکسٹھ لاشوں میں سے نو کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر پندرہ افراد کی شناخت مکمل ہو گئی ہے۔ پینتالیس لاشوں کے ڈی این اے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ نو کی شناخت باقی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے حوالے سے کے بی سی اے کو سنہ 1979 میں اس جگہ پر عمارت بنانے کی درخواست ملی تھی۔ سیل ڈیڈ سنہ 1983 میں منظور ہوئی اور اسی دہائی میں عمارت مکمل ہوئی۔ یہ جگہ سنہ 1884 میں ننانوے سالہ لیز پر دی گئی تھی جو سنہ 1983 میں مکمل ہو گئی، بعد ازاں آٹھ سال بعد سنہ 1991 میں لیز کی تجدید کی گئی اور یہ منظوری اس وقت کے میئر نے دی۔ اصل منصوبے میں بیسمنٹ اور دو فلور شامل تھے، سنہ 1998 میں تیسرا فلور ڈالنے کی درخواست دی گئی، سنہ 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کیا گیا اور سنہ 2003 میں گل پلازہ کی تمام بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کر دیا گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ تمام بے ضابطگیاں اٹھارھویں ترمیم سے پہلے کی ہیں۔ اس وقت اگر کوئی شخص اس سانحے کو اٹھارھویں ترمیم سے جوڑتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس ترمیم سے پہلے یہ سب منظوری کون دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جرم ہے اور لوگوں کی لاشوں پر خفیہ ایجنڈا مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے، کئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے۔ انہوں نے شہدا کے بلند درجات، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ غفلتوں اور کوتاہیوں کا سدباب کیا جائے گا اور تمام ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے سزا یقینی بنائی جائے گی۔

  • گل پلازہ کی تازہ صورتحال نہایت دل خراش ہے۔

    گل پلازہ کی تازہ صورتحال نہایت دل خراش ہے۔

    ایک ماں اپنے بیٹے کی تلاش میں عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی رہی۔

    گھر سے نکلتے وقت نوجوان بیٹے نے ماں سے کہا تھا کہ رمضان میں ہم اپنا گھر لیں گے، مگر وہ اسی سانحے میں شہید ہو گیا۔

    یہ انتہائی تکلیف دہ منظر ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں پوری رات سڑک پر بیٹھی رہی

  • کراچی: گل پلازہ آتشزدگی، ذمہ دار کون؟

    کراچی: گل پلازہ آتشزدگی، ذمہ دار کون؟

    کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ ایک بار پھر شہری تحفظ، عمارتوں کی نگرانی اور قانون کے نفاذ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ واقعہ کسی ایک لمحے کی کوتاہی نہیں بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجوہات میں ناقص الیکٹرک وائرنگ، اوورلوڈنگ، آگ سے بچاؤ کے ناکارہ انتظامات اور عمارت میں ایمرجنسی اخراج کے محدود راستے شامل ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی نشاندہی متعدد بار کی جا چکی ہے مگر عملی اصلاحات کم ہی نظر آتی ہیں۔

    ذمہ داری کا دائرہ صرف ایک فریق تک محدود نہیں۔ عمارت کے مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فائر سیفٹی قوانین پر مکمل عمل درآمد کرائیں۔ دکانداروں پر لازم ہے کہ غیر محفوظ برقی آلات اور غیر قانونی توسیعات سے گریز کریں۔ متعلقہ سرکاری اداروں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ وقت پر معائنہ کریں اور خلاف ورزی پر کارروائی کریں۔ جب یہ تمام فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو نتیجہ ایسے ہی سانحات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

    کراچی میں اس نوعیت کے واقعات نئی بات نہیں۔ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات، کمیٹیاں اور وعدے سامنے آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ فائلوں میں دب جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آتشزدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر نگرانی کا نظام مضبوط نہ ہوا اور قوانین محض کاغذوں تک محدود رہے تو شہری جان و مال اسی طرح خطرے میں رہیں گے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ اصلاح کب ہوگی۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی فائر سیفٹی، عمارتوں کے معائنے اور احتساب کا مؤثر نظام قائم نہ ہوا تو ذمہ داری اجتماعی غفلت پر ہی عائد ہوگی، اور اس کی قیمت ہمیشہ عام شہری ادا کرتا رہے گا۔

  • کراچی کے شاپنگ سینٹرز میں آگ: حادثہ یا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؟ | خصوصی رپورٹ

    کراچی کے شاپنگ سینٹرز میں آگ: حادثہ یا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت؟ | خصوصی رپورٹ

    کہیں پانی کم تو کہیں بے حسی کا سمندر لاپرواہی کا نتیجہ اور آنسووں کا دریا لوگ زندہ جل جاتے ہیں وقت ہلکا سا مرہم لگاکر آگے بڑھ جاتا ہے لیکن سانحہ — یوں کہہ لیجئے جن پر گزری ہوتی ہے قیامت انھیں زندگی بھر کا روگ لگ جاتا ہے چھہ سوختہ لاشیں بدقسمت گل پلازہ سے نکال لی گئی ہیں ۔۔۔ مظلوم مائوں کے درجنوں لعل اب بھی لاپتا ہیں ۔۔۔۔ سانحہ بلدیہ توشائد ماضی بعید کا قصہ ہے مگر آپ کو عائشہ منزل پر عرشی شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ یاد ہے ۔۔ جی ہاں دو سال ہی گزرے ہین تین افردا جان سے گئے ، تحیقیات، رپورٹ طلب فلاں نے نوٹس لےلیا فلاں نے دورہ کیا زخمیوں کی عیادت کی یہ خبریں آئیں اور پھر ان تین لاشوں کے ساتھ یہ کہانی بھی دفن ہوگئی ۔۔۔اورآپ تو آرجے مال کو بھی بھول گئے ہوں گے عرشی شاپنگ سینٹر کے حادثے سے صرف چند روز پہلے آر جے مال میں خوفناک آگ بھڑکی پوری عمارت کو لپیٹ میں لیا اور گیارہ معصوم اپنی زندگی کی بازی ہارگئے ——– پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کیا اور پھر یہ مقدمہ بھی فائلوں کے نیچے کہیں دب گیا ۔۔۔ عمارت کا نقشہ پاس ہوجاتا ہے عمارت بن جاتی ہے اور انسان جل جل کر مرتےرہتے ہیں ۔۔ عمارت کی غیر قانونی تعمیر کی منظوری سے لےکر کمرشل عمارتوں کی انسپیکشن کرنے والے محکمے تک کوئی اپنی ذمہ داری ادا کرتا تو آج شائد یہ نوبت نا آتی ۔۔۔آپ کو معلوم ہے سندھ حکومت کے پاس ایک سول ڈیفنس کا ادارہ بھی موجود ہے جس کا سالانہ بجت تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔۔۔ اس محکمہ کا کام ہی حادثات اور آفات سے نمٹنا ہے ۔۔ یہ ادارہ آپ کو کئیں نظر آئے تو ضرور بتائیے گا ۔۔۔ دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں شمار ہونیوالا کراچی نوحہ کناں اور کیوں نہ ہو غلطی ایک بار ہوتی ہے لیکن بار بار وہی غلطی —- غلطی نہیں مجرمانہ غفلت ہوتی ہے اور اس جرم میں صرف حکومت اور شہری انتظامیہ ہی نہیں خود کراچی کے شہری بھی برابر کے شریک ہیں عمارت رہائشی ہو یا کمرشل کہیں فائڑ سیفٹی کے الارم ہیں نہ ایمرجنسی میں نکلنے والے محفوظ راستے اتنے حادثات کے باوجود انتظامیہ نے سبق سیکھا نہ لوگوں نے ہوش کے ناخن لیے حد تو یہ ہے کہ کراچی کا فائر عملہ جدید تربیت اور آلات سے عاری ہے یہ تک نہیں سمجھ آتی کہ تیسرے درجے یعنی خوفناک آتشزدگی میں پانی نہیں فوم مارا جاتا ہے کہیں سے کوئی جگہ نہ ملے تو دیواریں توڑ دینی چاہیئں لیکن ہائے اور بس ہائے-

  • کراچی: گل پلازہ میں آگ سے چھ اموات: فائر سیفٹی آڈٹ نے متعدد عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے

    کراچی: گل پلازہ میں آگ سے چھ اموات: فائر سیفٹی آڈٹ نے متعدد عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے

    کراچی میں گذشتہ شب گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے نے ایک بار پھر شہر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے، جبکہ عمارت میں موجود سامان اور ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد شہری سطح پر فائر سیفٹی انتظامات پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

    اسی پس منظر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر کی اہم ترین شاہراہوں پر واقع عمارتیں بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین پر واقع 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا۔ ان میں سے صرف چھ عمارتوں میں فائر سیفٹی کی بنیادی سہولیات مکمل طور پر موجود پائی گئیں۔ یہ تینوں شاہراہیں کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے۔

    آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 200 سے زائد عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں۔ ان عمارتوں میں دفاتر، بینک، شاپنگ سینٹرز اور گودام شامل ہیں، جہاں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل ممکن نہیں رہتا۔

    رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ باسٹھ فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی آگ کے دوران انسانی جانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی ہے، خاص طور پر بلند عمارتوں میں۔

    آڈٹ کے مطابق ستر فیصد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات موجود ہیں، جو ماضی میں متعدد واقعات کی وجہ بھی بن چکے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 266 میں سے 90 عمارتوں میں فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر نصب تھے، جبکہ باقی اکثریتی عمارتیں کسی بھی ابتدائی وارننگ سسٹم سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بروقت اطلاع کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

    فائر سیفٹی آڈٹ مکمل ہونے کے بعد تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو سفارش کی گئی تھی کہ وہ فائر بریگیڈ حکام کو سہولیات اور معاونت فراہم کریں تاکہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان سفارشات پر عمل نہیں ہو سکا۔

    اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو بھی ضروری اصلاحی اقدامات کی ہدایات دی گئی تھیں، مگر سرکاری رپورٹ کے مطابق دو سال گزرنے کے باوجود کسی ایک عمارت میں بھی آگ کے واقعات روکنے کے لیے مؤثر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

    گل پلازہ میں گذشتہ شب پیش آنے والا واقعہ اس رپورٹ میں درج خدشات کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ سرکاری آڈٹ بھی محض ایک دستاویز بن کر رہ جائے گا یا شہر کی عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لیے واقعی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔