کراچی: گل پلازہ میں آگ سے چھ اموات: فائر سیفٹی آڈٹ نے متعدد عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے

فائر سیفٹی

کراچی میں گذشتہ شب گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے نے ایک بار پھر شہر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے، جبکہ عمارت میں موجود سامان اور ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد شہری سطح پر فائر سیفٹی انتظامات پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی پس منظر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر کی اہم ترین شاہراہوں پر واقع عمارتیں بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین پر واقع 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا۔ ان میں سے صرف چھ عمارتوں میں فائر سیفٹی کی بنیادی سہولیات مکمل طور پر موجود پائی گئیں۔ یہ تینوں شاہراہیں کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا ہوتا ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 200 سے زائد عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں۔ ان عمارتوں میں دفاتر، بینک، شاپنگ سینٹرز اور گودام شامل ہیں، جہاں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردعمل ممکن نہیں رہتا۔

رپورٹ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ باسٹھ فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی آگ کے دوران انسانی جانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی ہے، خاص طور پر بلند عمارتوں میں۔

آڈٹ کے مطابق ستر فیصد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ان عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات موجود ہیں، جو ماضی میں متعدد واقعات کی وجہ بھی بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 266 میں سے 90 عمارتوں میں فائر الارم اور اسموک ڈٹیکٹر نصب تھے، جبکہ باقی اکثریتی عمارتیں کسی بھی ابتدائی وارننگ سسٹم سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بروقت اطلاع کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

فائر سیفٹی آڈٹ مکمل ہونے کے بعد تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو سفارش کی گئی تھی کہ وہ فائر بریگیڈ حکام کو سہولیات اور معاونت فراہم کریں تاکہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان سفارشات پر عمل نہیں ہو سکا۔

اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو بھی ضروری اصلاحی اقدامات کی ہدایات دی گئی تھیں، مگر سرکاری رپورٹ کے مطابق دو سال گزرنے کے باوجود کسی ایک عمارت میں بھی آگ کے واقعات روکنے کے لیے مؤثر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

گل پلازہ میں گذشتہ شب پیش آنے والا واقعہ اس رپورٹ میں درج خدشات کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ سرکاری آڈٹ بھی محض ایک دستاویز بن کر رہ جائے گا یا شہر کی عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لیے واقعی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔