کراچی کے علاقے ڈیفنس کی رہائشی خاتون کو اس وقت ایک تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرناپڑا جب وہ گاڑی میں بچے کو فیڈ کروارہی تھیں، گاڑی ایک ٹریفک سگنل پر رکی تودوسری گاڑی میں بیٹھے کچھ اوباش لڑکوں نے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ ہراسگی کا شکار خاتون نے ڈی ایچ اے کے مکینوں کے ایک سوشل میڈیا گروپ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ غیر اخلاقی عمل نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت تھا بلکہ ان کی تذلیل کے مترادف بھی تھا۔ متاثرہ خاتون نےیہ بھی لکھاکہ بچے کو فیڈ کرانا کوئی تماشہ نہیں ہےجس پرکسی خاتون کی پرائیویسی میں مداخلت کی جائے اورحرمت کو پامال کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ رویہ ناقابل قبول اور عورت، ماں اور انسانوں کی تحقیر کے مترادف ہے۔ ہم ایسے رویوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہر وہ عورت جو عوامی مقامات پر خود کو محفوظ تصور نہیں کرتی وہ تنہا نہیں ہے ۔ اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا عمل بے ضرر ہے وہ غلط ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس واقعہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے، گروپ کے ایک رکن نے لکھا کہ یہ حرکت ایک بیمار ذہنیت کی عکاس اور ناقابلِ قبول ہے،انہوں نےمحتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ معاشرہ ہر دن ایک نئی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ اپنی گاڑیوں پر سیاہ شیشے لگوائیں کیونکہ چھوٹے بچے کو کسی بھی وقت بھوک لگ سکتی ہے ۔ ایک اور رکن نے لکھا کہ یہ واقعی افسوسناک ہے،ایک بہتر معاشرہ بننے کے بجائے ہم دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈی ایچ ے کے ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے — ایک ایسا ملک جو صرف نام کا اسلامی ہے،دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنے والے بہت لوگ ہیں،اگر آپ کو بچے کو فیڈ کرانا تھا تو کم از کم پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر خود کو ڈھانپ لینا چاہئے تھا ورنہ لوگ گھوریں گے اور ویڈیو بنائیں گے، جو کہ بالکل بھی ناجائز اور ناقابل قبول ہے۔ لیکن پاکستان میں آپ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے؛ ایسے لوگ ہر جگہ مل جائیں گے۔ خواتین کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے،ایک ممبر نےاپنے کمنٹ میں لکھا کہ ایسے لوگوں اور ان کے والدین پر لعنت ہے جنہوں نے ان گھٹیا مسخروں کی پرورش کی۔ ممبر نے متاثرہ خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جانتی ہیں کہ دنیا کیسی ہے؟ ہر وقت اپنی حفاظت اور پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ جب برائی موجود ہو تو کچھ چیزیں عوامی مقامات پر نہیں کی جا سکتیں۔ ایک ممبرنے سیاسی قائدین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کیونکہ ہمارے جاہل لیڈروں کو کیا پتا عام لوگوں کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے شیشے یا پردے استعمال کریں۔ ایک مکین نے اپنا ذاتی تجربہ شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ رات میں اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ سی ویو برانچ میکڈونلڈز کے ڈرائیو تھرو میں تھے کہ لڑکوں کا ایک گروپ آیا اوراشارے کرنے لگا اور بلا وجہ قہقہے لگا کر تنگ کرنے لگا جو کہ انہیں بہت برا لگا۔ ایک اور کمنٹ میں کہا گیا کہ جو کچھ ہوا وہ صرف غلط نہیں بلکہ نہایت شرمناک اور اخلاقی طور پر مجرمانہ ہےاس طرح کی حرکت ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اسلام میں پردہ کوئی مشورہ نہیں بلکہ ایک حکم ہے، جس کا مقصد بے حیائی سے بھرے معاشرے میں انسانی وقار کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ معاشرہ خواہش، تماشے اور تذلیل کے گرد گھومتا ہے۔ جب لوگ اسلامی حدود کو چھوڑ دیتے ہیں اور بے پردگی کو معمول بنا لیتے ہیں تو وہ درندوں کا کام آسان کر دیتے ہیں۔

