Tag: کراچی

  • کراچی کا مارواڑی سلاوٹ قبرستان: شہر کے معماروں کی قبروں میں محفوظ ایک زندہ تاریخ

    کراچی کا مارواڑی سلاوٹ قبرستان: شہر کے معماروں کی قبروں میں محفوظ ایک زندہ تاریخ

    کراچی کو اگر اس کی تاریخی عمارتوں سے پہچانا جائے تو میری ویدر ٹاور، فریئر ہال، سندھ ہائی کورٹ، ایمپریس مارکیٹ، کے ایم سی بلڈنگ، ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج اور دیگر کئی عمارتیں فوراً ذہن میں آتی ہیں۔

    ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے عموماً ان کے نقشہ سازوں، انجینئروں اور تعمیراتی منصوبہ سازوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن ان عمارتوں کے پتھروں کو شکل دینے والے ان کاریگروں کا ذکر بہت کم ملتا ہے جنہوں نے چھینی اور ہتھوڑی سے بے جان پتھروں میں فن اور زندگی پیدا کی۔

    کراچی میں ایک ایسا قبرستان موجود ہے جہاں انہی گمنام یا کم معروف معماروں اور سنگ تراشوں کی کہانی پتھروں پر کندہ ہے۔ میوہ شاہ قبرستان کے اندر واقع سلاوٹ جماعت کا قبرستان محض ایک تدفین گاہ نہیں بلکہ کراچی کی تعمیراتی تاریخ کا ایک منفرد اور غیر معمولی ورثہ ہے۔ ی

    ہاں موجود کئی قبروں کے کتبے عام کتبوں سے مختلف ہیں۔ کہیں کسی تاریخی عمارت کا نقش تراشا گیا ہے، کہیں محل کی محرابیں اور جھروکے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں کسی عمارت کی ایسی شبیہ بنائی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قبر میں آسودہ خاک شخص کا تعلق اس تعمیر سے تھا۔

    میوہ شاہ کراچی کے قدیم ترین اور بڑے قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ایک حصے میں مارواڑی سلاوٹ برادری کے لیے مخصوص قبرستان قائم ہے۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق مسلم مارواڑی سلاوٹ جماعت کو 1840 میں تقریباً آٹھ ایکڑ رقبے پر قبرستان دیا گیا تھا۔

    قبرستان میں موجود بعض قبریں اس دور سے بھی قدیم ہونے کا دعویٰ رکھتی ہیں، تاہم 1840 کا سال یہاں موجود ایک قدیم کتبے پر بھی کندہ ہے۔ اس لیے اس مقام کی تاریخ انیسویں صدی کے کراچی کے شہری پھیلاؤ اور تعمیراتی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔

    سلاوٹ برادری کا تعلق بنیادی طور پر راجستھان کے جیسلمیر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے سنگ تراشی اور تعمیرات کے ہنر سے وابستہ رہے۔ روزگار کے مواقع کم ہونے اور نئے شہری مراکز میں تعمیراتی سرگرمیوں کے بڑھنے کے ساتھ اس برادری کے افراد سندھ کے مختلف علاقوں میں پہنچے اور بالآخر کراچی بھی ان کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔

    برطانوی دور میں کراچی ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا بندرگاہی شہر بن رہا تھا۔ نئی سڑکیں، سرکاری عمارتیں، بازار، رہائشی عمارتیں اور دیگر تعمیرات بن رہی تھیں اور اس پورے عمل میں ماہر سنگ تراشوں کی ضرورت بڑھ رہی تھی۔

    سلاوٹ کاریگروں نے اسی دور میں اپنی مہارت کا وہ نقش چھوڑا جو آج بھی کراچی کی تاریخی عمارتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کام صرف پتھر کاٹنے تک محدود نہیں تھا۔ وہ پتھر کو تراشتے، اس پر نقش بناتے، محرابیں اور آرائشی ڈیزائن تیار کرتے اور عمارتوں کے بیرونی حصوں کو وہ جمالیاتی شکل دیتے تھے جو آج کراچی کے تاریخی طرز تعمیر کی پہچان بن چکی ہے۔

    سلاوٹ قبرستان کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کے کتبے ہیں۔ یہاں قبرستان میں قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شہر کی تعمیراتی تاریخ کو چھوٹے چھوٹے پتھریلے نمونوں میں محفوظ کردیا گیا ہو۔ بعض قبروں پر تاریخی عمارتوں کی شبیہیں تراشی گئی ہیں۔ ان میں میری ویدر ٹاور، سندھ ہائی کورٹ، تاج محل، جیسلمیر کے محلات اور دیگر عمارتوں کے نقوش شامل ہیں۔

    یہ کتبے دراصل صرف آرائش نہیں بلکہ ایک طرح کا خاندانی اور پیشہ ورانہ تعارف بھی معلوم ہوتے ہیں۔ سلاوٹ برادری سے وابستہ افراد کے مطابق تاریخی عمارتوں کے نقش قبروں پر اس لیے تراشے گئے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کے کام اور ان کی مہارت کو یاد رکھیں۔ یوں قبر کے کتبے نے ایک طرف مرحوم کی یاد محفوظ کی اور دوسری طرف اس کے پیشے اور تعمیراتی کارنامے کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

    اس قبرستان میں میری ویدر ٹاور سے منسوب ایک قبر خاص طور پر توجہ کھینچتی ہے۔ اس قبر کے کتبے پر مشہور گھڑیال ٹاور کی شبیہ تراشی گئی ہے۔ دستیاب تاریخی روایات کے مطابق یہ قبر ابراہیم ولد نبی بخش کوتوال نامی سنگ تراش سے منسوب کی جاتی ہے، جو میری ویدر ٹاور کی تعمیر میں شامل کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں۔ قبر پر موجود عمارت کا نقش اس بات کی علامت ہے کہ کاریگر نے جس عمارت پر اپنے ہنر کے نقوش چھوڑے، اسی عمارت کو بعد میں اپنی قبر کے کتبے کا حصہ بھی بنا دیا۔

    میری ویدر ٹاور 1886 میں مکمل ہوا تھا اور کراچی کی نمایاں تاریخی شناختوں میں شامل ہے۔ اس کی تعمیر سے وابستہ کاریگروں کے کردار کو عموماً عمارت کے رسمی تعارف میں وہ اہمیت نہیں ملتی جو انجینئر اور منصوبہ ساز حاصل کرتے ہیں۔ سلاوٹ قبرستان کا کتبہ اس بھولی ہوئی تعمیراتی تاریخ کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ کسی عظیم عمارت کی تکمیل صرف نقشے اور منصوبے سے نہیں ہوتی، بلکہ اسے حقیقت میں بدلنے والے ہنرمند ہاتھ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔

    قبرستان میں سندھ ہائی کورٹ کی عمارت سے منسوب ایک اور کتبہ بھی موجود ہے، جس پر عمارت کے حصے تراشے گئے ہیں۔ بعض دیگر قبروں پر جیسلمیر کے محلات کے جھروکوں اور محرابوں کے نقش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کچھ کتبوں پر تاج محل کی شبیہ تراشی گئی ہے۔ ان نقش و نگار میں راجستھانی اور برصغیر کی روایتی سنگ تراشی کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

    یہاں موجود پرانے کتبوں میں پیلے یا زرد پتھر کا استعمال بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود کئی کتبوں پر نقش و نگار واضح دکھائی دیتے ہیں۔ پتھر کی سختی اور کاریگروں کی مہارت نے ان قبروں کو محض تدفین کی جگہ نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں ایک ایسے تاریخی دستاویز میں بدل دیا ہے جسے پڑھنے کے لیے الفاظ سے زیادہ پتھروں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

    قبرستان کی بعض قبروں پر چاند تارے، پھول، برتنوں اور دیگر اشکال کے نقش بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ قبریں سادہ ہیں جبکہ بعض پر زیادہ نفیس اور پیچیدہ سنگ تراشی کی گئی ہے۔ یوں پورا قبرستان مختلف ادوار کی تعمیراتی پسند، دستیاب مواد اور سلاوٹ برادری کے بدلتے ہوئے ہنر کا ایک خاموش ریکارڈ بن جاتا ہے۔

    اس قبرستان کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ یہاں قدیم قبریں موجود ہیں۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہاں کراچی کے تعمیراتی ماضی کا ایک ایسا پہلو محفوظ ہے جو عام تاریخی بیانیے میں اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ برطانوی دور کی عمارتوں کا ذکر کرتے وقت انجینئروں، معماروں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے نام سامنے آتے ہیں، لیکن ان عمارتوں کے پتھروں پر ہاتھ چلانے والے مقامی کاریگر اکثر تاریخ کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔

    سلاوٹ قبرستان اس خاموش خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہاں کی قبریں گویا کہتی ہیں کہ کراچی کی تعمیر صرف ان لوگوں کی کہانی نہیں جنہوں نے عمارتوں کے نقشے بنائے بلکہ ان ہاتھوں کی بھی کہانی ہے جنہوں نے ان نقشوں کو پتھر میں ڈھالا۔

    سلاوٹ برادری کے کاریگروں نے کراچی کی متعدد تاریخی عمارتوں کی تعمیر اور سنگ تراشی میں کردار ادا کیا۔ مختلف تاریخی حوالوں میں فریئر ہال، سندھ ہائی کورٹ، میری ویدر کلاک ٹاور، ایمپریس مارکیٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، ڈی جے کالج، این جے وی اسکول، ریڈیو پاکستان اور کے ایم سی بلڈنگ سمیت متعدد عمارتوں کے حوالے سے اس برادری کی کاریگری کا ذکر ملتا ہے۔

    بعض حوالوں میں دیگر تاریخی عمارتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح سلاوٹ برادری کی تاریخ کراچی کی شہری اور تعمیراتی تاریخ سے الگ نہیں کی جاسکتی۔

    لیکن اس کہانی کا ایک افسوس ناک پہلو بھی ہے۔ سنگ تراشی کا وہ روایتی ہنر جس نے کبھی کراچی کی عمارتوں کو شناخت دی تھی، نئی نسل میں تیزی سے کم ہوتا گیا۔ روزگار کے بدلتے مواقع، تعمیراتی طریقوں میں تبدیلی اور پتھر پر ہاتھ سے نقش تراشنے کی جگہ جدید مشینی طریقوں کے استعمال نے اس فن کو محدود کردیا۔ دستیاب رپورٹس میں سلاوٹ برادری کے بزرگوں کی جانب سے اس تشویش کا اظہار بھی سامنے آیا ہے کہ نئی نسل کے بہت سے افراد دوسرے پیشوں سے وابستہ ہوگئے اور روایتی سنگ تراشی کا ہنر کم ہوتا گیا۔

    یہی وجہ ہے کہ سلاوٹ قبرستان کو صرف ایک قبرستان سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو محدود کردینا ہے۔ یہ کراچی کے ان کاریگروں کا اجتماعی یادگار مقام ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے عمارتیں تراشیں اور مرنے کے بعد اپنے کتبوں پر بھی فن کے وہ نمونے چھوڑ گئے جو آج شہر کی تاریخ سناتے ہیں۔

    قبرستان کی بعض قبریں وقت کے اثرات کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ کہیں کتبے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ہیں اور کہیں پرانی سنگ تراشی کے آثار ماند پڑ رہے ہیں۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی طرح ایسے مقامات کے تحفظ کے لیے بھی ماہرین آثار قدیمہ، ماہرین تعمیرات، سنگ تراشی کے ماہرین اور متعلقہ برادری کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔ کیونکہ اگر یہ کتبے ٹوٹ گئے تو صرف چند پتھر نہیں ٹوٹیں گے، کراچی کی تعمیراتی تاریخ کے ایسے صفحات بھی ضائع ہوجائیں گے جنہیں دوبارہ لکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

    سلاوٹ قبرستان کراچی کے ماضی کا ایک خاموش مگر طاقتور بیانیہ ہے۔ یہاں قبروں کے درمیان کھڑے ہوکر شہر کی پرانی عمارتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ میری ویدر ٹاور صرف ایک گھڑیال ٹاور نہیں رہتا، سندھ ہائی کورٹ صرف ایک تاریخی عمارت نہیں رہتی اور جیسلمیر کے محلات صرف دور راجستھان کی یاد نہیں رہتے۔ ان سب کے پیچھے وہ ہاتھ بھی دکھائی دینے لگتے ہیں جنہوں نے پتھر کو تراش کر شہر کو شکل دی۔

    کراچی کے تاریخی ورثے کی حفاظت اگر واقعی مطلوب ہے تو ان عمارتوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی یاد بھی محفوظ کرنا ہوگی جنہوں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا۔ سلاوٹ جماعت کا قبرستان اسی بھولی ہوئی تاریخ کا ایک نایاب خزانہ ہے، جہاں خاموش قبریں بولتی نہیں، مگر ان کے پتھریلے کتبے کراچی کی ایک پوری صدی کی تعمیراتی داستان سناتے ہیں۔

  • ایمانداری کی روشن مثال، کراچی میں ایمبولینس عملے نے قیمتی موبائل مالک کو واپس کر دیا

    ایمانداری کی روشن مثال، کراچی میں ایمبولینس عملے نے قیمتی موبائل مالک کو واپس کر دیا

    کراچی میں ایمرجنسی کے دوران ایمبولینس میں رہ جانے والا قیمتی موبائل فون تلاش کر کے اس کے مالک کو واپس کر دیا گیا۔ واقعے میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کے ایمبولینس عملے نے امانت داری کی مثال قائم کی۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مریض کو شدید نوعیت کی ہنگامی طبی حالت میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مریض کے تیماردار کی تمام توجہ اپنے عزیز کی طبی حالت اور بروقت علاج پر مرکوز تھی، جس دوران وہ اپنا قیمتی موبائل فون غلطی سے ایمبولینس میں ہی بھول گئے۔

    مریض کو ہسپتال پہنچانے کے بعد ایمبولینس معمول کے مطابق اپنے مرکز واپس پہنچی۔ اگلی ہنگامی کال کے لیے ایمبولینس کی تیاری کے دوران طبی عملے کے ایک رکن کو گاڑی کے اندر ایک قیمتی موبائل فون ملا۔

    عملے نے موبائل فون کو محفوظ تحویل میں لینے کے بعد مریض کے تیماردار سے رابطہ کیا۔ موبائل فون واپس کرنے سے قبل متعلقہ شخص کی شناخت اور فون کی ملکیت کی تصدیق کی گئی۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد آئی فون 16 اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔

    موبائل فون واپس ملنے پر مریض کے بیٹے جاسم نے کہا کہ جب اسے ایمبولینس سروس کے دفتر سے فون موصول ہوا اور بتایا گیا کہ اس کا موبائل فون عملے کے پاس موجود ہے تو وہ حیران رہ گیا۔

    جاسم کے مطابق موبائل فون گم ہونے کے باعث وہ شدید پریشان تھا، تاہم جب اسے فون واپس ملا تو اس نے عملے کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں بھی ایسی ایمانداری کا مظاہرہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی اور وہ سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کے عملے کی دیانت داری سے بے حد متاثر ہوا۔

    بظاہر یہ ایک گمشدہ موبائل فون کی واپسی کا معمولی واقعہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود انسانی رویہ اسے ایک قابل ذکر مثال بناتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایمانداری کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو، کوئی نگرانی نہ کر رہا ہو اور کسی فوری تعریف یا پذیرائی کی توقع بھی نہ ہو۔

    ایمرجنسی طبی خدمات میں کام کرنے والا عملہ روزانہ مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی قیمتی چیز کا ملنا اور اسے ذاتی فائدے کے بجائے دوسرے شخص کی امانت سمجھ کر محفوظ کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اخلاقی اقدار کا تعلق صرف مالی حیثیت سے نہیں بلکہ انسان کے کردار سے ہوتا ہے۔

    یہ واقعہ صرف ایک موبائل فون کی واپسی تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں اعتماد اور مثبت رویوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں بے شمار اچھے کام شاید اس لیے خبروں کا حصہ نہیں بنتے کہ ان میں سنسنی، تنازع یا اسکینڈل نہیں ہوتا۔

    معاشرہ صرف بڑے واقعات سے نہیں بنتا۔ بعض اوقات ایک شخص کا خاموشی سے درست فیصلہ کرنا بھی لوگوں کے درمیان اعتماد اور امید کو مضبوط کرتا ہے۔ ایسے واقعات کو سامنے لانے کا مقصد کسی ایک فرد یا ادارے کو غیر معمولی حیثیت دینا نہیں بلکہ یہ یاد دلانا ہے کہ ایمانداری اور دیانت داری آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔

    ایک موبائل فون اپنے مالک کو واپس مل گیا، لیکن اس چھوٹے سے واقعے نے ایک بڑی حقیقت ضرور اجاگر کر دی کہ منفی خبروں کے درمیان بھی اچھائی موجود ہے اور شاید یہی امید ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

  • گِزری فٹبال اسٹیڈیم: ایک میدان، 17 کروڑ روپے کی تعمیر نو اور کراچی کے نوجوانوں کے خواب

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم: ایک میدان، 17 کروڑ روپے کی تعمیر نو اور کراچی کے نوجوانوں کے خواب

    کراچی میں فٹبال کا نام آتے ہی سب سے پہلے لیاری کا خیال آتا ہے، لیکن کراچی کی فٹبال کہانی صرف لیاری تک محدود نہیں۔ شہر کے ایک اور اہم علاقے گِزری میں بھی ایک ایسا میدان موجود ہے جو اب محض مقامی کھیل کا میدان نہیں رہا بلکہ شہری ترقی، عوامی جگہوں اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سہولیات کی ایک بڑی کہانی بن چکا ہے۔

    یہ ہے گِزری فٹبال اسٹیڈیم۔

    گِزری کے علاقے میں موجود اس میدان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسے کراچی نیبرہُڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت ازسرنو تعمیر اور جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت نے عالمی بینک کی معاونت سے شروع کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد کراچی کے منتخب علاقوں میں عوامی جگہوں، شہری سہولیات، سڑکوں اور کھیل کے میدانوں کو بہتر بنانا تھا۔

    عالمی بینک کی دستاویزات میں گِزری فٹبال گراؤنڈ کی بہتری کو اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے ذیلی منصوبوں میں شامل کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے ذریعے صرف میدان کی مرمت نہیں کی گئی بلکہ اسے ایک بہتر عوامی اور کھیلوں کی سہولت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    منصوبے میں فٹبال گراؤنڈ کی بحالی، تماشائیوں کے لیے نشستیں، موجودہ پویلین کی تزئین و بحالی، لینڈ اسکیپنگ اور شہریوں کے بیٹھنے کے لیے جگہوں کو بہتر بنانا شامل تھا۔ منصوبے کی دستاویزات میں مصنوعی گھاس والے فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر بھی شامل تھی۔

    جنوری 2022 میں گِزری فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر نو کے کام کا افتتاح کیا گیا۔ اس وقت منصوبے کی لاگت تقریباً 17 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ تعمیر نو کے بعد اس میدان سے علاقے کے نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

    اگست 2023 میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے گِزری فٹبال اسٹیڈیم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر بھی منصوبے کی لاگت 17 کروڑ روپے بتائی گئی۔

    گِزری اسٹیڈیم کی کہانی صرف تعمیر نو اور لاگت تک محدود نہیں۔ اس منصوبے کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں کھیلوں کے لیے عوامی جگہوں کو کس طرح شہری ترقی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

    کراچی میں فٹبال صرف کھیل نہیں بلکہ کئی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے شناخت، مقابلے، دوستی اور مستقبل بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک معیاری فٹبال میدان کسی بھی شہر میں ٹیلنٹ کی پہلی نرسری بن سکتا ہے۔

    یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں ایک بچہ پہلی بار گیند کو کک لگاتا ہے، نوجوان پہلی بار کسی کوچ کی نظر میں آتا ہے، مقامی ٹیمیں مقابلہ کرتی ہیں اور کھلاڑی بڑے مقابلوں تک پہنچنے کا خواب دیکھتے ہیں۔

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم اب مسابقتی فٹبال کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ 2025 میں یہاں مختلف مسابقتی میچز کھیلے گئے، جن میں کراچی یونائیٹڈ کے میچز بھی شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیر نو کے بعد یہ میدان صرف افتتاحی تقریب تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی طور پر فٹبال سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔

    گِزری کی ایک اور خاص بات اس کا محل وقوع ہے۔ یہ کراچی کے ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں مختلف سماجی اور معاشی پس منظر رکھنے والی آبادیاں ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں کھیل کا میدان صرف فٹبال کھیلنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ مختلف علاقوں اور طبقوں کے نوجوانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

    ایک ہی میدان میں مختلف علاقوں کے نوجوان ایک ہی گیند کے پیچھے دوڑتے ہیں، اور یہاں کھلاڑی کی شناخت اس کے علاقے یا معاشی حیثیت سے زیادہ اس کی صلاحیت بن سکتی ہے۔ یہی عوامی کھیل کے میدان کی اصل طاقت ہے۔

    تاہم گِزری کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اسٹیڈیم بن جانا پہلا مرحلہ ہے، اسے مسلسل آباد رکھنا اصل امتحان ہے۔

    اگر یہاں نوجوانوں کے تربیتی پروگرام، مقامی لیگیں، اسکولوں کے مقابلے اور باقاعدہ کوچنگ جاری رہیں، مقامی کلبوں کو مناسب مواقع ملیں اور میدان کی مسلسل دیکھ بھال ہوتی رہے تو گِزری کراچی کے اہم گراس روٹ فٹبال مراکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ دستیاب سرکاری اور عالمی بینک کی دستاویزات میں گِزری فٹبال اسٹیڈیم کی تماشائی گنجائش کا کوئی واضح اور مستند عدد سامنے نہیں آتا۔ اس لیے اسٹیڈیم میں کتنے ہزار افراد کے بیٹھنے کی صلاحیت ہے، اس بارے میں غیر مصدقہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا۔

    البتہ منصوبے کی دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ تماشائیوں کے بیٹھنے کی سہولت اور موجودہ پویلین کی بہتری منصوبے کا حصہ تھی۔

    کراچی کو صرف بڑے اسٹیڈیمز کی ضرورت نہیں۔ اس شہر کو ایسے درجنوں میدانوں کی ضرورت ہے جہاں بچے روز کھیل سکیں، نوجوان تربیت حاصل کر سکیں، کوچز ٹیلنٹ تلاش کر سکیں اور مقامی کلب مضبوط ہو سکیں۔

    فٹبال کا مستقبل صرف بڑے مقابلوں میں نہیں بنتا۔ وہ محلے کے میدان میں بنتا ہے۔

    وہاں جہاں ایک بچہ پہلی بار جوتے پہن کر میدان میں اترتا ہے، جہاں ایک کوچ اسے بتاتا ہے کہ اس میں صلاحیت ہے، اور جہاں ایک عام سا گراؤنڈ کسی نوجوان کے بڑے خواب کا پہلا قدم بن جاتا ہے۔

    گِزری فٹبال اسٹیڈیم بھی ایسا ہی ایک موقع ہے۔ 17 کروڑ روپے کی یہ سہولت تب ہی حقیقی کامیابی بنے گی جب اس میں مسلسل کھیل ہوگا، نوجوان یہاں تربیت حاصل کریں گے، مقامی کلب مضبوط ہوں گے اور یہاں سے نئے کھلاڑی آگے بڑھیں گے۔

    شہر کی ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی۔ ایک شہر اس وقت بھی ترقی کرتا ہے جب وہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کے لیے کھیلنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی جگہ پیدا کرتا ہے۔

  • سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    سول ہاسپیٹل کراچی کا آرتھوپیڈک شعبہ جدید سہولیات سے آراستہ، پیچیدہ ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کی نئی سہولتیں

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ کے ایم پفاؤ سول ہاسپیٹل میں آرتھوپیڈک شعبے کے آپریشن تھیٹر کمپلیکس کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کا مقصد ہڈیوں اور جوڑوں کے مریضوں کو بہتر اور جدید جراحی سہولیات فراہم کرنا اور آرتھوپیڈک سرجری کے لیے دستیاب طبی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی اپ گریڈیشن کے تحت دو نئے آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ان آپریشن تھیٹرز میں جدید آپریشن ٹیبلز، سی آرم فلورواسکوپی مشین، آرتھروسکوپی سسٹم، جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز اور ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس نصب کی گئی ہیں۔ اس اپ گریڈیشن کا افتتاح اکتوبر 2025 میں کیا گیا تھا۔

    نئے آپریشن تھیٹرز میں نصب سی آرم فلورواسکوپی مشین آرتھوپیڈک سرجری کے دوران ایک اہم سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ ایکس رے پر مبنی نظام ہے جو آپریشن کے دوران ہڈیوں اور جسم کے اندر موجود ساخت کی براہ راست تصویری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے سرجن مختلف مراحل میں ہڈی کی پوزیشن، فریکچر کی درستگی اور بعض جراحی آلات یا امپلانٹس کی جگہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

    اسی طرح آرتھروسکوپی سسٹم جوڑوں کے اندرونی حصے کے معائنے اور بعض پیچیدہ جراحی طریقہ کار میں استعمال ہوتا ہے۔ آرتھروسکوپی میں ایک باریک کیمرہ جوڑ کے اندر داخل کرکے اندرونی ساخت کو براہ راست دیکھا جاتا ہے، جس سے بعض صورتوں میں نسبتاً کم چیرا لگا کر تشخیص اور علاج ممکن ہوتا ہے۔ گھٹنے، کندھے اور دیگر جوڑوں کے مختلف مسائل کے علاج میں یہ طریقہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    آپریشن تھیٹرز میں جدید اینستھیزیا ورک اسٹیشنز کی تنصیب بھی اہم پیش رفت ہے۔ سرجری کے دوران مریض کو بے ہوشی دینے کے عمل میں اینستھیزیا کا نظام سانس، آکسیجن اور دیگر اہم طبی پیمانوں کی نگرانی اور انتظام میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جدید ایل ای ڈی سرجیکل لائٹس سرجنوں کو آپریشن کے دوران بہتر روشنی فراہم کرتی ہیں۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی اپ گریڈیشن صرف آپریشن تھیٹرز تک محدود نہیں۔ آرتھوپیڈک وارڈ کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ سرجری سے پہلے اور بعد میں مریضوں کو زیادہ مناسب ماحول اور طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔ ہڈیوں کے فریکچر، جوڑوں کے مسائل، حادثات کے نتیجے میں ہونے والی چوٹوں اور دیگر آرتھوپیڈک بیماریوں کے مریضوں کے لیے وارڈ اور آپریشن تھیٹر کی سہولیات ایک ہی علاجی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی میں آرتھوپیڈک سہولیات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کراچی کا ایک بڑا سرکاری تدریسی اور علاجی مرکز ہے جہاں مختلف علاقوں سے مریض علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں ایسے مریضوں کی بڑی تعداد بھی آتی ہے جو نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    آرتھوپیڈک شعبے کی جدید کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری کے لیے بھی ایک بڑے منصوبے پر کام جاری ہے۔ مارچ 2026 میں سندھ حکومت نے ہسپتال کی جامع جدید کاری کے لیے 100 ارب روپے کے مجموعی ماسٹر پلان کی اصولی منظوری دی، جس میں سندھ حکومت کی جانب سے 50 ارب روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ منصوبے کے تحت ہسپتال میں موجود تقریباً 2,142 بستروں میں مزید 500 بستروں کا اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

    ماسٹر پلان کے تحت ہسپتال میں نئے طبی اور جراحی ٹاورز، نئی بیرونی مریضوں کی عمارت، برنس وارڈ، جیل وارڈ، جدید مردہ خانہ، طبی فضلے کے انتظام کا نظام اور ڈاکٹرز و نرسز کے لیے رہائشی سہولیات بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں ہسپتال کے تاریخی

    ورثے کو محفوظ رکھنے اور اطراف کی سڑکوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ مریضوں اور ایمبولینسوں کی آمدورفت آسان ہو۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی تاریخ بھی ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ ہسپتال کی موجودہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ برطانوی دور سے تعلق رکھتا ہے اور ماسٹر پلان میں جدید طبی انفراسٹرکچر کے ساتھ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ یوں مستقبل کی توسیع میں ایک طرف جدید طبی ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ہسپتال کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

    آرتھوپیڈک آپریشن تھیٹرز کی اپ گریڈیشن اسی بڑے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ جدید مشینری، بہتر آپریشن تھیٹرز اور وارڈ کی سہولیات سے سرجری کے لیے طبی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ جدید تشخیصی اور جراحی آلات آرتھوپیڈک ماہرین کو پیچیدہ کیسز کے علاج میں زیادہ مؤثر سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ٹریفک حادثات، کام کے دوران چوٹیں، کھیلوں کی انجریز اور عمر کے ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کے مریض سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، آرتھوپیڈک خدمات کی مضبوطی براہ راست عوامی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر ایسے مریض جنہیں فریکچر یا کسی سنگین چوٹ کے بعد فوری جراحی مداخلت کی ضرورت ہو، ان کے لیے جدید آپریشن تھیٹر اور مناسب طبی آلات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    سول ہاسپیٹل کراچی کی مجموعی جدید کاری اور آرتھوپیڈک شعبے کی نئی سہولیات اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف عمارتوں کی تعمیر ہی نہیں بلکہ علاج کے بنیادی ڈھانچے، جراحی ٹیکنالوجی اور مریضوں کی سہولیات کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    آرتھوپیڈک شعبے میں دو نئے آپریشن تھیٹرز اور جدید آلات کی تنصیب ایک مخصوص شعبے کی اپ گریڈیشن ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات ان مریضوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کے لیے بروقت اور معیاری سرجری زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

  • قیام پاکستان سے اب تک کراچی کو سندھ سے علحیدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سندھ اسمبلی کی پاس کردہ پانچ قراردادیں

    قیام پاکستان سے اب تک کراچی کو سندھ سے علحیدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سندھ اسمبلی کی پاس کردہ پانچ قراردادیں

    کچھ دن پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بزنس کمیونٹی کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کا راگ الاپ رہے تھے۔

    جس سے گویا جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ اب نئے صوبے بن رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز نے تو اس بارے میں فرضی آن لائن ووٹنگ بھی کرائی، جن میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کے مطابق 95 فیصد شہری نئے صوبوں کے حامی نکلے۔

    کل یعنی 08 اگست 2026 بروز ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزارہ اور دیگر علاقوں کو خیبرپختونخوا سے چھین کر الگ صوبہ بنانے یا وفاق کے حوالے کرنے کے عمل کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔

    اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہاں سندھ میں بھی یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد پاس کرے۔ مگر ان دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے ہی پانچ دفعہ قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ اگر چھٹی دفعہ بھی پاس کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دوستوں کے لیے ان پانچ قراردادوں کی روداد یہاں رکھی جاتی ہے۔

    اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی طرف سے جمع کرائی گئی جبکہ محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، لیکن اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔

    دوسری قرارداد 06 مارچ 1954 کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سائیں جی ایم سید نے ایک قرارداد پیش کی، جس کا متن تھا:

    ’یہ اسمبلی سندھ حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو یہ درخواست بھیجی جائے کہ کراچی شہر اور اس سے متعلق ان علاقوں کو، جو اس وقت کراچی وفاقی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سندھ میں بحال کیا جائے۔‘

    اس قرارداد پیش ہونے کے بعد ہالا سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سید محمد زمان شاہ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی تمہید کے طور پر ذیل کے الفاظ بھی شامل کیے جائیں۔

    چونکہ کراچی کو سندھ سے اس مقصد کے تحت الگ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے بارے میں انتظامی اور انتظام کاری کے اختیارات پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاس ہوں؛

    چونکہ پاکستان کی حکومت اب وفاقی علاقے میں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اسباب بالکل ناکافی اور ناقابل جواز تھے؛

    چونکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرتے وقت کیے گئے وعدوں کے برخلاف، پاکستان کی حکومت نے کراچی کی انتظامیہ میں سندھیوں کی ملازمتوں اور کراچی کی مقامی آبادی کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا ہے؛

    اور چونکہ پاکستان کی حکومت اب تک کراچی کی علیحدگی کے سبب سندھ حکومت کو ہونے والے دارالحکومت اور آمدنی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

    سندھ اسمبلی کے ایوان نے یہ ترمیم شدہ قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد کے حق میں وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، قائد حزب اختلاف سائیں جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، پیر الٰہی بخش، شاہنواز پیرزادہ، عبدالفتاح میمن، جعفر خان جمالی، ریونیو کے وزیر پیر علی محمد شاہ راشدی، سیرو مل کرپل داس، علی گوہر کھوڑو، سید غلام حیدر شاہ، سید مبارک علی شاہ اور علی حسن منگی نے تقاریر کیں۔ یہ قرارداد بھی پاس ہوگئی۔

    تیسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اس وقت کے قائد حزب اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھڻ، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔

    چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جو مشترکہ طور پر ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبدالکریم سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمیں، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے پیش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے بارے میں ہر تجویز کو رد کردیا۔

    سندھ اسمبلی نے اس سال 21 فروری 2026 کو پانچویں بار دوبارہ کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر الگ کرنے کے بارے میں کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے، اور اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔

    ان پانچ تاریخی قراردادوں کی کاپیاں قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام خود پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں۔

  • ہل پارک: کراچی کی پہاڑی چوٹیوں پر بسا شہر کا سبز اور یادوں بھرا تفریحی مقام

    ہل پارک: کراچی کی پہاڑی چوٹیوں پر بسا شہر کا سبز اور یادوں بھرا تفریحی مقام

    کراچی کا ہل پارک شہر کے ان منفرد تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے جو کسی ہموار میدان میں نہیں بلکہ قدرتی پہاڑی سلسلے کی مختلف چوٹیوں پر قائم ہے۔

    پی ای سی ایچ ایس میں واقع یہ پارک کراچی کے شہری منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں سبزہ، درخت، پہاڑ، کھلے آسمان اور شہر کی مصروف زندگی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ جگہ کراچی کے شہریوں کو نہ صرف تفریح کا موقع فراہم کر رہی ہے بلکہ شہر کی کئی نسلوں کی یادوں کا حصہ بھی بن چکی ہے۔

    ہل پارک کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے اسے عوام کی تفریح کے لیے ایک باقاعدہ پارک کی شکل دینے کے لیے مختلف ترقیاتی کام کرائے۔ پہاڑی علاقے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ شہری یہاں چہل قدمی، تفریح اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پارک میں واکنگ ٹریکس، سبزہ زار اور مختلف مقامات پر بیٹھنے اور تفریح کی سہولیات شامل ہوتی گئیں، جس سے یہ کراچی کے اہم عوامی پارکوں میں شمار ہونے لگا۔

    ہل پارک کی خوبصورتی کا ایک بڑا راز یہاں موجود درخت اور پودے ہیں۔ پارک کے مختلف حصوں میں نیم، پیپل، برگد، جامن، امرود، چیکو، کھجور، سہانجنا، کچنار، املتاس اور دیگر درخت موجود ہیں۔ ان درختوں نے نہ صرف پارک کے ماحول کو سرسبز بنایا بلکہ پہاڑی علاقے میں ایک ایسا قدرتی منظر بھی پیدا کیا ہے جو کراچی کی عمومی شہری فضا سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔

    گرم اور مصروف شہر میں یہ درخت اور کھلے سبزہ زار شہریوں کو کچھ دیر کے لیے شور، ٹریفک اور عمارتوں سے دور ایک نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ہل پارک نے کراچی کی کئی نسلوں کو اپنے درمیان پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ کبھی والدین اپنے بچوں کو یہاں سیر کے لیے لاتے تھے اور آج انہی بچوں میں سے کئی اپنے بچوں کو اس پارک کی سیر کرانے آتے ہیں۔ خوشگوار ہواؤں میں سانس لیتے لوگ، سبزہ زاروں میں دوڑتے بچے، پکڑم پکڑائی اور پہل دوج کھیلتے ہوئے ننھے شہری اور پہاڑی راستوں پر چہل قدمی کرتے خاندان، یہ سب ہل پارک کی روزمرہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ یہاں محبت میں مبتلا جوڑوں نے بھی ایک دوسرے سے پیار بھری سرگوشیاں کیں اور شہر کے بلند مقام سے دور تک پھیلے کراچی کا نظارہ کیا۔

    ہل پارک کی تاریخ صرف درختوں، پہاڑی راستوں اور بچوں کے کھیل تک محدود نہیں۔ ایک وقت میں یہاں شیزان ریسٹورانٹ بھی ہوا کرتا تھا، جو کراچی کے ادبی اور سماجی حلقوں کی اہم بیٹھک سمجھا جاتا تھا۔ شیزان میں چائے یا کافی کی بھاپ اڑاتی پیالیوں کے ساتھ شعر و ادب، سماج اور شہر کے حالات پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔ یوں ہل پارک صرف تفریح کا مقام نہیں رہا بلکہ کراچی کی شہری، ادبی اور سماجی زندگی کا بھی ایک خاموش گواہ بنتا گیا۔

    آج بھی ہل پارک میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ طویل چہل قدمی کے خواہش مند افراد کے لیے اونچے نیچے راستے اور سبزہ زار ہیں، جہاں چلتے ہوئے پارک کی قدرتی ساخت کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ خوبصورت فوارے آنکھوں کو تراوٹ دیتے ہیں، جبکہ سنگی اور چوبی جھولے بچوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ مختلف مقامات پر کھانے پینے کے اسٹال بھی موجود ہیں، جہاں خاندان اور دوست تفریح کے دوران کچھ وقت گزار سکتے ہیں۔

    حالیہ عرصے میں ہل پارک کے ایک حصے کو ایک نجی کمپنی کو بھی دیا گیا، جہاں امیوزمنٹ پارک قائم کیا گیا ہے۔ یہاں نصب مختلف برقی جھولے بچوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ دن کے وقت یہ جھولے بچوں کی تفریح کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ رات کے وقت ان پر روشن رنگ برنگی اور چمکیلی روشنیاں ہل پارک کے منظر کو ایک مختلف روپ دے دیتی ہیں۔ یوں پارک کے قدیم قدرتی ماحول کے ساتھ جدید تفریحی سہولیات بھی اس جگہ کا حصہ بن گئی ہیں۔

    تاہم کراچی کے دوسرے اہم عوامی اور کھلے مقامات کی طرح ہل پارک بھی طویل عرصے تک تجاوزات اور قبضے کے خطرات سے محفوظ نہیں رہا۔ اس قیمتی اور خوبصورت جگہ پر قبضہ مافیا کی نظریں بھی لگی رہیں۔ مختلف ادوار میں اس کے رقبے اور حیثیت کے حوالے سے خدشات سامنے آتے رہے، تاہم حکومت اور شہری حلقوں کی کوششوں سے اسے کسی نہ کسی طرح محفوظ اور برقرار رکھا گیا۔
    2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں شہر کے متعدد مقامات کی طرح ہل پارک کو بھی تجاوزات کے خطرے سے بچانے کی کوششیں کی گئیں۔

    ہل پارک دراصل کراچی کی اس نایاب شہری میراث کی علامت ہے جہاں قدرتی پہاڑ، درخت، کھلے سبزہ زار اور انسانی یادیں ایک ہی جگہ جمع ہو جاتی ہیں۔ بلند عمارتوں، ٹریفک کے شور اور تیزی سے پھیلتے شہری ڈھانچے کے درمیان یہ پارک کراچی والوں کو آج بھی کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کسی کے لیے یہ بچپن کی یاد ہے، کسی کے لیے شام کی چہل قدمی، کسی کے لیے بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور کسی کے لیے شہر کی بلندی سے کراچی کو دیکھنے کا خوبصورت مقام۔

    شہر مسلسل بدل رہا ہے، نئی عمارتیں بن رہی ہیں، سڑکیں پھیل رہی ہیں اور کراچی کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ہل پارک آج بھی اپنی پہاڑی ساخت، درختوں اور سبزہ زاروں کے ساتھ شہری زندگی کے درمیان ایک اہم سبز پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

    شاید اسی لیے ہل پارک صرف ایک پارک نہیں بلکہ کراچی کی کئی نسلوں کی مشترکہ یادداشت ہے، ایسی یادداشت جس میں بچپن کی شرارتیں، خاندان کے ساتھ گزاری شامیں، ادبی محفلیں، محبت بھری سرگوشیاں اور شہر کو بلندی سے دیکھنے کے بے شمار منظر آج بھی محفوظ ہیں۔

  • لہروں پر لکھی تاریخ: کراچی کے قدیم ترین جزائر اور کچھی واگھیر و بڈالہ برادریاں

    لہروں پر لکھی تاریخ: کراچی کے قدیم ترین جزائر اور کچھی واگھیر و بڈالہ برادریاں

    کراچی کو اگر صرف انگریز راج کی تیار کردہ بندرگاہ یا قیام پاکستان کے بعد آباد ہونے والا ایک جدید صنعتی شہر سمجھا جائے تو یہ اس خطے کی ہزاروں سالہ ساحلی تاریخ کے ساتھ شدید ناانصافی ہوگی۔

     کراچی کا جدید بندرگاہی شہر بننے کا سفر اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کلاچی کے بھنوروں اور بحیرہ عرب کے دریائے سندھ کے ڈیلٹائی ساحلوں پر بادبانی جہازوں کا راج تھا۔ اس کٹھن اور بے رحم سمندری دنیا میں جنہوں نے سندھ کے ساحلوں کو خلیج، عرب اور افریقہ کے ساحلوں سے جوڑے رکھا، وہ سندھ اور کچھ کی دو قدیم ترین ملاحی و بحری برادریاں، کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ جماعتیں تھیں۔

    یہ دونوں برادریاں محض مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر یا عام کشتی بان نہیں بلکہ بحیرہ عرب کی شاہراہ پر سفر کرنے والی ایک غیر رسمی ‘بحری قوت’ اور سندھ و گجرات کے ساحلی خطے کا زندہ و جاوید استعارہ ہیں۔

    نسبی ذاتیں نہیں، فن و حرفت کی انجمن

    سندھ کی بشریاتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سماٹ قبیلوں کی متعدد ذاتیں، مثلاً ہنگورا، سومرو، مندھرا، بھٹی، جونیجا اور تھیبا، اپنی شجرہ نسبی بنیادوں پر الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن کچھی واگھیر اور بڈالہ برادریاں اس سے مختلف ایک بالکل جداگانہ تاریخ پیش کرتی ہیں۔

    یہ محض ایک واحد نسبی قبیلہ نہیں بلکہ مختلف نسبی گروہوں، مثلاً جاڑیجا، راجپوت، بلوچ اور ڈیلٹائی سندھ کے ساحلی ملاحوں، پر مشتمل ایک تاریخی پیشہ ورانہ اور بحری اتحاد ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص فن، جرات اور سمندری مہارت کی بنیاد پر ان کی شناخت قائم ہوئی۔

    واگھیر اپنی بے باکی، لکڑی کے کام، تیز رفتار بادبانی سفر اور سمندری مہارت کے باعث ‘واگھیر’ کہلائے۔

    بڈالہ اپنے ناخدانہ علوم، قطب نما کے بغیر سمت شناسی اور لکڑی کے جہاز بنانے کے کمال کی وجہ سے ‘بڈالہ’ کی شناخت اختیار کر گئے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ یہی فن اور حرفت ان کا سب سے بڑا قبیلہ اور شناختی لقب بن گئی۔

    کراچی کے قدیم ترین جزائر اور ملاحی مسکن

    اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب رن کچھ اور گجرات کی اوکھا، دوارکا اور ماندوی بندرگاہوں سے تجارتی نقل و حمل کے مراکز بدل رہے تھے تو کچھی واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بڑی تعداد نے کراچی کے قدرتی جزائر، بابا جزیرہ، بھٹ جزیرہ، منوڑا، کیماڑی اور صالح آباد کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔

    یہ جزائر صرف ان کی رہائش گاہیں نہیں تھے بلکہ بحیرہ عرب پر کنٹرول کے لیے ان کے فطری مراکز تھے۔ بابا جزیرہ اور بھٹ کے پرانے محلے، جنہیں ‘پاڑے’ کہا جاتا ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے بحری علوم، سمندری محاوروں اور لکڑی کے بحری جہازوں کی مرمت کے اہم مراکز بن کر ابھرے۔

    افریقہ سے ممبئی تک بحری راجدھانی اور دبئی کی تعمیر

    بادبانی کشتیوں کے زمانے میں جب سمندر کی خطرناک لہروں پر صرف تجربہ اور جرات ہی نجات کا ذریعہ ہوتی تھی، واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بادبانی کشتیاں ممبئی سے لے کر مسقط، عدن، ممباسا، زنجبار اور مڈغاسکر کے ساحلوں تک بلا خوف و خطر سفر کرتی تھیں۔

    اس زمانے میں دبئی اور خلیجی ریاستوں کی ابتدائی آباد کاری اور معیشت میں ان ملاحوں کا کردار سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

    موتیوں کی غواصی

    خلیج میں تیل کی دریافت سے قبل موتیوں کی تجارت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، جس میں یہ کچھی ملاح گہرے سمندر میں غواصی کے ماہر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔

    خوراک اور ضروری سامان کی ترسیل

    بیسویں صدی کے اوائل میں جب دبئی ایک چھوٹی بندرگاہی خور تک محدود قصبہ تھا تو کراچی اور کچھ کی بندرگاہوں سے غلہ، کپڑا، لکڑی اور روزمرہ کی ضروریات یہی ملاح اپنی کشتیوں میں لاد کر دبئی اور شارجہ پہنچایا کرتے تھے۔ البتہ یہ سلسلہ وادی سندھ کے زمانے سے یہاں کے باشندے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    شیخ راشد کے دور میں بابا اور بھٹ کے کئی کچھی واگھیر برادری کے افراد، جو اسمگلنگ سے وابستہ تھے، دبئی منتقل ہوگئے اور انہوں نے دبئی کو اپنا مرکز بنا لیا۔ اس دور میں دبئی کے بڑے شیوخ ان کی بھرپور پذیرائی کرتے تھے۔ دبئی کو کاروباری مرکز بنانے میں بھی ان کے کردار کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہی لوگ پاکستان سے تعمیراتی مزدور اپنی لانچوں کے ذریعے دبئی لے جاتے تھے۔

    انسانی ہمدردی اور ریاست جونا گڑھ کا تاریخی ریسکیو

    تاریخ کے وہ گوشے جو عام نصابی کتب میں نظر نہیں آتے، ان ملاحوں کی انسانیت اور غیر معمولی جرات کی گواہی دیتے ہیں۔

    حاجی سر عبداللہ ہارون کی مدد

    تحریک پاکستان کے رہنما حاجی سر عبداللہ ہارون کی ابتدائی یتیمی کے زمانے میں، جب ان کی والدہ حنیفہ بائی شدید غربت اور عسرت کا شکار تھیں، تو ساحلی ملاحوں نے انہیں ان کے شیر خوار بچے سمیت بلا کرایہ اپنی بادبانی کشتی کے ذریعے کچھ کے بھوج سے کراچی کے چاکیواڑہ پہنچایا، جس کے بعد انہوں نے اسی شہر میں ترقی کی منازل طے کیں۔

    جونا گڑھ کے نواب کی محفوظ منتقلی

    قیام پاکستان کے وقت جب ریاست جونا گڑھ کے نواب، نواب مہابت خانجی سوم، نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو بھارتی افواج نے ریاست کی ناکہ بندی کر دی۔ اس نازک موقع پر واگھیر اور بڈالہ ناخداؤں نے بھارتی بحریہ کو چکمہ دیتے ہوئے اپنی بادبانی کشتیوں پر نواب کے شاہی خاندان، قیمتی اثاثوں، سرکاری دستاویزات اور شاہی خزانے کو سمندر کی تاریک راتوں میں محفوظ طریقے سے کراچی بندرگاہ پہنچایا۔

    سمگلنگ، سونے کی ترسیل اور غیر رسمی معیشت

    بیسویں صدی کے وسط، خصوصاً 1950 سے 1980 کی دہائی تک، جب برصغیر میں سخت کسٹمز قوانین اور کنٹرولڈ معیشت نافذ تھی، یہ ملاح سمندری راہداری کے غیر رسمی بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔

    دبئی اور مسقط سے سونا اور دیگر نایاب اشیا لانے میں واگھیر ملاحوں کی تیز رفتار بادبانی اور انجن والی کشتیوں کا نیٹ ورک سب سے مضبوط تھا۔ وہ سمندری گشت کرنے والے بحری جہازوں اور ریڈار کی نگرانی سے بچتے ہوئے سامان کراچی کے جزائر میں اتارتے اور پھر وہاں سے متوازی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ دبئی سے آنے والا یہی اسمگل شدہ سامان کھارادر اور بولٹن مارکیٹ میں فروخت ہوتا تھا، جس سے کئی میمن خاندان ارب پتی اور کھرب پتی بن گئے۔

    اس عمل نے بھی کراچی کو اس دور میں ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت دلانے میں غیر رسمی کردار ادا کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں قاسم بھٹی اور جنرل ضیا کے دور میں عبداللہ یعقوب بھٹی نے اسمگلنگ کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ عبداللہ یعقوب بھٹی کی جزیرہ بھٹ کے علاوہ کراچی، دبئی اور یورپ کے کئی ممالک میں بھی وسیع جائیدادیں بتائی جاتی ہیں۔

    دفاع پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے خاموش سپاہی

    پاک بحریہ اور ملک کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ ان کچھی ملاحوں کے ذکر کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔

    1965 اور 1971 کی جنگیں

    1965 کے تاریخی ‘آپریشن دوارکا’ میں پاک بحریہ کو بھارتی ساحل دوارکا اور اوکھا کے اتھلے پانیوں اور راستوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے والے یہی مقامی واگھیر ناخدا تھے، کیونکہ دوارکا ان کی ایک قدیم گزرگاہ تھی۔ 1971 کی جنگ میں بھی ان ملاحوں نے اپنی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر میں گشت کیا، پاک بحریہ کو معلومات فراہم کیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ایٹمی ٹیکنالوجی کی خفیہ ترسیل

    1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر مغربی ممالک کی جانب سے سخت پابندیاں عائد تھیں، تو بیرون ملک سے لائی جانے والی حساس ٹیکنالوجی، ری ایکٹروں کے آلات اور خام مال کو کھلے سمندر میں بڑے بحری جہازوں سے ان ملاحوں کی لکڑی کی کشتیوں پر منتقل کیا جاتا تھا۔

    واگھیر اور بڈالہ ناخدا ان آلات کو عالمی نگرانی سے بچا کر کراچی کے جزائر، بابا، بھٹ اور منوڑا، پر اپنی خفیہ پناہ گاہوں تک لاتے، جہاں سے انتہائی رازداری کے ساتھ انہیں ایٹمی تنصیبات تک پہنچایا جاتا تھا۔

    سمت شناسی کا علم اور بغیر نقشے کے کشتی سازی

    ان برادریوں کا سب سے حیران کن سائنسی اور فنی کارنامہ ان کا روایتی بحری علم اور کشتی سازی ہے۔

    غیر نقشہ جاتی کشتی سازی

    بڈالہ برادری کے استاد، جنہیں ‘واڈھا’ کہا جاتا تھا، کسی کاغذ، نقشے یا جدید آلے کے بغیر صرف اپنے ذہنی حساب اور روایتی پیمانوں کی مدد سے 200 سے 500 ٹن تک کے لکڑی کے بحری جہاز، یعنی لانچیں، تیار کر لیتے تھے، جن کا توازن اور ساخت انتہائی معیاری ہوتی تھی۔

    سمندری لغت

    وہ ہواؤں کے رخ اور سمتوں کو اپنے کچھی ناموں سے پکارتے تھے، جیسے شمال کو ‘اوتر’، جنوب کو ‘دکھن’، مشرق کو ‘اوگم’ اور مغرب کو ‘آتھم’۔ ستاروں کو دیکھ کر سمت متعین کرنے والے استاد کو ‘معلم’ اور کشتی کے کپتان کو ‘ناخدا’ کہا جاتا تھا۔

    کانجی مالم، جس نے واسکو ڈے گاما کو برصغیر کا بحری راستہ دکھایا، ناخدا قاسم واگھیر اور ناخدا ابراہیم کچھی جیسی شخصیات اسی بحری روایت کی پیداوار تھیں۔

    غرض یہ کہ کراچی کے ان قدیم ترین جزائر پر آباد کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ برادریاں محض ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ کراچی کی بحری روح ہیں۔ چاہے یتیم عبداللہ ہارون کی دست گیری ہو، نواب جونا گڑھ کی سمندری نجات، جنگوں میں پاک بحریہ کی معاونت یا ایٹمی پروگرام کا کٹھن سفر، ان ملاحوں نے بغیر کسی تمغے اور سرکاری اعتراف کے سمندر کے سینے پر اپنی جرات کی تاریخ رقم کی۔

    آج جب فائبر گلاس کی کشتیاں اور جدید ٹیکنالوجی ان کے روایتی ہنر کو ختم کر رہی ہیں اور کراچی کے جزائر بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کی اس اصل بحری شناخت اور ان گمنام ہیروز کی تاریخی خدمات کو محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ کلاچی کی بستی کو شہر قائد بنانے میں کن ملاحوں کا لہو اور پسینہ شامل تھا۔

  • الیکٹرک بسیں کراچی میں ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا نیا دور

    الیکٹرک بسیں کراچی میں ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا نیا دور

    سندھ حکومت نے شہریوں کو جدید، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے جنوری 2023 میں سرکاری الیکٹرک بس سروس کا آغاز کیا، جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی پہلی سرکاری الیکٹرک پبلک بس سروس تھی۔

    اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں کمی لانا بھی ہے۔

    الیکٹرک بسیں بیٹری سے چلتی ہیں، اس لیے ان سے دھواں خارج نہیں ہوتا اور یہ روایتی ڈیزل بسوں کے مقابلے میں بہت کم شور پیدا کرتی ہیں۔ پہلی بار ان بسوں میں سفر کرنے والے مسافر سب سے پہلے ان کی خاموشی اور ہموار سفر کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ انجن کی گڑگڑاہٹ تقریباً سنائی نہیں دیتی۔

    اس وقت کراچی میں الیکٹرک بسوں کے پانچ اہم روٹس فعال ہیں۔ ای وی ون ملیر کینٹ کو کلفٹن کے ڈولمین مال سے ملاتی ہے، ای وی ٹو بحریہ ٹاؤن سے ملیر ہالٹ تک چلتی ہے، ای وی تھری ملیر کینٹ سے نمائش تک سفر کرتی ہے، ای وی فور بحریہ ٹاؤن کو عائشہ منزل سے جوڑتی ہے، جبکہ ای وی فائیو ڈی ایچ اے سٹی سے سہراب گوٹھ تک چلتی ہے۔ سندھ حکومت شہریوں کی سہولت کے لیے مرحلہ وار نئے روٹس بھی متعارف کرا رہی ہے تاکہ مزید علاقے اس سروس سے مستفید ہو سکیں۔

    الیکٹرک بسوں میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں مکمل ایئر کنڈیشننگ، آرام دہ نشستیں، سی سی ٹی وی کیمرے، جی پی ایس ٹریکنگ، خودکار اسٹاپ اعلان، کم فرش والا ڈیزائن اور معذور افراد کے لیے ریمپ شامل ہیں، تاکہ ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد آسانی سے سفر کر سکیں۔

    ان بسوں کی بیٹری ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے کے بعد تقریباً 240 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے بعد اسے دوبارہ چارج کیا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر کراچی میں مستقبل میں مزید الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں تو شہر میں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، ایندھن پر ہونے والے اخراجات کم ہوں گے اور شہریوں کو زیادہ آرام دہ، جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ میسر آئے گی۔ اسی مقصد کے تحت سندھ حکومت مرحلہ وار مزید الیکٹرک بسیں اور نئے روٹس متعارف کرا رہی ہے۔

  • کراچی کا سرکاری ہسپتال جہاں روبوٹ سرجری کر رہے ہیں

    کراچی کا سرکاری ہسپتال جہاں روبوٹ سرجری کر رہے ہیں

    جدید طبی ٹیکنالوجی اب صرف نجی ہسپتالوں تک محدود نہیں رہی۔ کراچی کے تاریخی ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول ہسپتال میں روبوٹک سرجری پروگرام پاکستان کے جدید ترین سرجیکل مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مریضوں کو عالمی معیار کی جراحی سہولیات سرکاری شعبے میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پاکستان میں روبوٹک سرجری کا آغاز 2013 میں سول ہسپتال کراچی سے منسلک سرجیکل یونٹس میں مرحلہ وار ہوا۔ بعد ازاں جنوری 2019 میں اسی ہسپتال میں پہلی مرتبہ روبوٹ کی مدد سے خواتین کے رحم کی کامیاب سرجری کی گئی، جسے اس وقت ملک کی پہلی روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری قرار دیا گیا۔

    روبوٹک سرجری میں آپریشن خود روبوٹ نہیں کرتا بلکہ سرجن ایک جدید کنسول پر بیٹھ کر روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نظام انسانی ہاتھ کی معمولی لرزش کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ تھری ڈی ہائی ڈیفینیشن منظر اور کئی گنا بڑا نظارہ سرجن کو جسم کے انتہائی حساس حصوں میں زیادہ درستگی کے ساتھ کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث مریض کو نسبتاً کم خون بہتا ہے، زخم چھوٹے ہوتے ہیں، درد کم محسوس ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔

    سول ہسپتال کراچی میں روبوٹک سرجری کے ذریعے یورولوجی، جنرل سرجری، گائناکولوجی اور دیگر پیچیدہ کم سے کم چیرا لگا کر کیے جانے والے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ گردے، مثانے، پروسٹیٹ، خواتین کے بعض امراض اور دیگر پیچیدہ کیسز میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی علاج کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کو صرف علاج ہی نہیں بلکہ تدریسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ سول ہسپتال کراچی میں نوجوان سرجنوں کو روبوٹک سرجری کی عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ پاکستان میں مستقبل کے ماہرین تیار کیے جا سکیں۔

    اگرچہ پاکستان کے چند بڑے نجی ہسپتالوں میں بھی روبوٹک سرجری کی سہولت موجود ہے، تاہم سول ہسپتال کراچی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک سرکاری تدریسی ہسپتال ہے جہاں عوام کو جدید روبوٹک سرجری کی سہولت دستیاب ہے۔

    جہاں تک آپریشنز کی تعداد کا تعلق ہے، سول ہسپتال کراچی یا محکمہ صحت سندھ نے 2026 تک روبوٹک سرجریوں کے روزانہ، سالانہ یا مجموعی اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری نہیں کیے۔ تاہم شائع شدہ سائنسی جائزوں کے مطابق اس پروگرام کے ابتدائی برسوں میں 500 سے زائد روبوٹک سرجریاں کی جا چکی تھیں، جبکہ بعد کے برسوں کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

    طبی دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، تھری ڈی امیجنگ اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور کراچی کا سول ہسپتال بھی اس تبدیلی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں جدید مشینیں نہ صرف پیچیدہ آپریشن زیادہ محفوظ اور مؤثر بنا رہی ہیں بلکہ پاکستان میں جدید جراحی کے مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کر رہی ہیں۔

  • چاکیواڑی سے شبیر آباد تک: کراچی کی تعمیر اور داؤدی بوہرہ برادری کا معاشی سفر

    چاکیواڑی سے شبیر آباد تک: کراچی کی تعمیر اور داؤدی بوہرہ برادری کا معاشی سفر

    کراچی کی تاریخ محض سیمنٹ اور اینٹوں کی عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ ان تاجروں کے خون اور پسینے کی داستان ہے جنہوں نے اسے ‘باب سندھ’ بنایا۔

    1840 کے عشرے میں جب برطانوی راج نے کراچی پورٹ کو بین الاقوامی تجارت کے لیے تیار کرنا شروع کیا، تو کچھ، گجرات، بمبئی، سورت اور کھمبات سے آنے والے داؤدی بوہرہ تاجر بھی اس شہر کے ابتدائی معماروں میں شامل تھے۔ انہوں نے مصر، یمن اور مشرقی افریقہ میں پھیلے اپنے قدیم تجارتی نیٹ ورک کو کراچی کی بندرگاہ سے جوڑ دیا۔

    کپاس، گندم اور چمڑے کی برآمدات سے لے کر برطانوی ہارڈ ویئر اور مشینری کی درآمدات تک کیماڑی اور اولڈ سٹی کے گودام بوہری کمپنیوں کی بصیرت کے شاہد بنے۔ جوڑیا بازار، جونا مارکیٹ، لائٹ ہاؤس اور کاغذ مارکیٹ جیسی ہول سیل منڈیاں، جو آج بھی پورے پاکستان کو سامان سپلائی کرتی ہیں، ان کی بنیاد اور ابتدائی سرمایہ کاری میں بوہری تاجروں کا کلیدی ہاتھ تھا۔

    کراچی جیسے جیو پولیٹیکل اور پرشور مرکز میں، جہاں اقتدار کی جنگ اکثر سڑکوں اور نعرے بازی کے ذریعے لڑی جاتی ہے، داؤدی بوہرہ برادری نے اپنے وجود اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منفرد حکمت عملی اپنائی۔ یہ برادری انتخابی سیاست کے شور و غل کے بجائے پس پردہ رہ کر معاشی استحکام، کارپوریٹ طاقت اور ایک غیر معمولی اندرونی فلاحی نیٹ ورک کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔

    ان کا بنیادی اصول ‘سیاسی غیر جانب داری’ یعنی کسی سیاسی یا لسانی جماعت سے علانیہ وابستگی کے بجائے ‘وقت کی حکومت کا احترام اور قانون کی پاسداری’ کو اپنا ہتھیار بنانا ہے۔

    یہ سفر لیاری کی پرانی چاول گلی اور چاکیواڑی کی ہارڈ ویئر مارکیٹوں سے شروع ہو کر شبیر آباد کے جدید بنگلوں، سائٹ کے صنعتی زونز اور سینیٹ آف پاکستان کے ایوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔

    پس پردہ سفارت کاری اور مقتدر حلقوں سے روابط

    بوہرہ برادری کی قیادت اور تاجر اشرافیہ نے وقت کی حکومت، بیوروکریسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ہمیشہ مضبوط اور پرامن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ اس ‘بیک ڈور ڈپلومیسی’ کا مقصد کاروباری مفادات کا تحفظ اور کمیونٹی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان کے عالم روحانی پیشوا، 53ویں داعی المطلق سیدنا مفضل سیف الدین کراچی تشریف لاتے ہیں تو ان کا استقبال سرکاری مہمان کے طور پر کیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی عالمی فلاحی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز ‘نشان پاکستان’ سے بھی نوازا ہے۔

    اگرچہ یہ برادری مجموعی طور پر انتخابی سیاست سے دور رہتی ہے، لیکن پاکستان کی مقتدر سیاسی اشرافیہ میں ان کے نمائندے انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اس کی بڑی مثال پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا ہیں، جو وفاقی وزیر خزانہ اور وزیر سرمایہ کاری بھی رہے۔

    تقسیم کے وقت اپنے آبائی وطن بھارت کے صوبہ گجرات کے علاقے کچھ، مڈئی مانڈوی سے ہجرت کر کے کراچی آنے والے اس خاندان کا یہ چشم و چراغ آج پاکستان کے ایوانوں میں بوہرہ برادری کا ایک معتبر سفارتی چہرہ ہے۔

    پاکستان کی معاشی اور آئینی تاریخ بوہرہ برادری کی نمایاں شخصیات کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جب نئی ریاست شدید مالی بحران کا شکار تھی تو قائد اعظم محمد علی جناح کی اپیل پر بوہرہ تاجروں اور ان کے روحانی پیشوا نے اسٹیٹ بینک اور سرکاری نظام کو چلانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز اور قرض فراہم کیے۔

    اس کے بعد سیف الدین نور الدین جھومکا والا جیسی نامور شخصیات نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا، جنہوں نے ایک طویل عرصے تک ای ایف یو انشورنس کے سربراہ کے طور پر ملکی کارپوریٹ شعبے پر انمٹ نقوش چھوڑے۔

    عدالتی محاذ پر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کا نام دیانت اور قانون کی بالادستی کا استعارہ بنا، جو چیف الیکشن کمشنر، سپریم کورٹ کے جج اور گورنر سندھ رہے۔ تعمیری شعبے میں عباس ساجد اور بوہرہ ڈویلپرز کا کردار کلیدی رہا، جنہوں نے نارتھ ناظم آباد، صدر اور کلفٹن کے رئیل اسٹیٹ شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا۔

    بوہرہ پیر کا پس منظر

    قدیم کراچی کی معاشی تاریخ کو سمجھنے کے لیے رنچھوڑ لائن اور عیدگاہ کے قریب واقع تاریخی سڑک ‘بوہرہ پیر’ کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ اس علاقے کا نام وہاں مدفون بوہرہ برادری کے ایک معتبر اور قدیم ولی کے مزار مبارک کی نسبت سے پڑا۔ ماضی کا یہ رہائشی گڑھ آج پورے کراچی میں پینٹ، ہارڈ ویئر، کاغذ، کیمیکلز اور گلاس مارکیٹ کی سب سے بڑی ہول سیل منڈی بن چکا ہے۔

    اگرچہ بوہری خاندان اب ڈی ایچ اے، کلفٹن یا نارتھ ناظم آباد منتقل ہو چکے ہیں، لیکن ان کی دکانیں اور بزرگوں کی یادیں آج بھی ان گلیوں میں محفوظ ہیں۔

    مساجد، جامعات اور سماجی خود کفالت کا ماڈل

    بوہرہ برادری کی یہ تمدنی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے رہائشی مراکز کو اپنی مساجد اور جامعات کے گرد آباد کرتے ہیں۔ صدر بوہری بازار میں واقع ان کا مرکزی تمدنی مرکز ‘طاہری مسجد’ ہے، جبکہ سٹی کورٹ کے قریب 1931 میں سرخ پتھر سے تعمیر شدہ تاریخی ‘آدم مسجد’ ان کے کلاسیکی طرز تعمیر کا نمونہ ہے۔

    حیدری میں واقع ‘برہانی مسجد’ ان کے جدید مرکز کی پہچان ہے، جبکہ نارتھ ناظم آباد میں ان کی عالمی عربی اکیڈمی ‘الجامعۃ السیفیہ’ کا کیمپس اپنے فاطمی اور اسلامی فن تعمیر کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ گارڈن کے قریب واقع انتہائی منظم اور صاف ستھرا قبرستان ‘نور باغ’ ان کے اعلیٰ شہری نظم و ضبط کا عکاس ہے۔

    اس برادری کی سب سے بڑی طاقت ان کا اندرونی، خود کفیل سماجی نظام ہے۔ ان کے ہاں قائم ‘قرض حسنہ’ کا نظام سود سے پاک کاروباری قرض فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت برادری کا کوئی بھی فرد خط غربت سے نیچے نہیں رہتا۔ اس معاشی ماڈل کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھی بے مثال ادارے قائم کیے ہیں۔

    پاکستان چوک کا ‘برہانی ہسپتال’ اور نارتھ ناظم آباد کا ‘سیفی ہسپتال’ جدید ترین سہولیات کے حامل ادارے ہیں۔ تعلیم میں ان کا نیٹ ورک ‘ایم ایس بی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ’ اور سیفیہ اسکولز پر مشتمل ہے، جو شہر میں سو فیصد خواندگی کی شرح برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔

    تھال کے آداب

    میٹھے اور کھارے کی تمدنی سفارت کاری

    بوہرہ برادری کا طرز زندگی جتنا منظم ہے، ان کا روایتی کھانا دنیا بھر میں اتنا ہی منفرد اور ذائقوں کا حسین امتزاج مانا جاتا ہے۔ ان کے کھانوں پر یمن، گجرات اور بمبئی کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کے طعام کا عروج ان کا ‘تھال نظام’ ہے، جہاں پورا خاندان یا مہمان ایک بڑے گول تھال کے گرد زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، جو مساوات، عاجزی اور باہمی محبت کی علامت ہے۔

    تھال کے خاص آداب

    ایک چٹکی نمک سے شروعات

    تھال پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے ہر فرد ایک چٹکی نمک چکھتا ہے، جسے ہاضمے اور منہ کا ذائقہ صاف کرنے کے لیے لازمی مانا جاتا ہے۔ کھانے کا اختتام بھی اسی نمک پر ہوتا ہے۔

    مٹھاس سے شروعات اور کھارے کا توازن

    بوہری ضیافت کی شروعات ہمیشہ آئس کریم یا مٹھائی ‘مٹھانس’ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد نمکین ابتدائی پکوان یعنی ‘کھارانس’ پیش کیا جاتا ہے، جیسے قیمہ سموسہ یا ‘لگن نی سیکھ’۔ اس کے بعد دوبارہ ایک اور میٹھا اور آخر میں مرکزی کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

    دال چاول پلیڈو سے کلامرا تک، شاہی ذائقے

    بوہری دسترخوان کے چند خاص اور روایتی پکوان ان کی تمدنی شناخت ہیں، جیسے: دال چاول پلیڈو

    یہ ان کی ایک انتہائی روایتی اور پسندیدہ ڈش ہے، جو تہواروں اور خاص دعوتوں پر بڑے شوق سے بنائی اور تھال میں کھائی جاتی ہے۔

    بوہری بریانی اور کھرڈی

    عام سندھی بریانی کے برعکس ان کی بریانی کم مسالے دار، ہلکی میٹھی اور خوشبودار ہوتی ہے، جس میں کشمش اور آلو بخارے کا استعمال ہوتا ہے، جبکہ مٹن اور دودھ سے بنا سفید سوپ ‘کھرڈی’ ان کا روایتی ابتدائی پکوان ہے۔

    کلامرا

    عید میلاد النبی ﷺ پر بننے والی یہ ان کی متبرک مٹھائی ہے۔ یہ چاول، گاڑھے دہی، چینی، ملائی اور عرق گلاب کا ایک ٹھنڈا امتزاج ہے، جسے انار کے دانوں اور پستے سے سجایا جاتا ہے۔

    لچھکا اور بیڈا میسو

    نئے سال کے پہلے دن ناشتے میں گڑ اور دیسی گھی سے بنا حلوہ ‘لچھکا’ کھایا جاتا ہے، جبکہ انڈوں اور ماوے سے تیار شدہ نفیس برفی ‘بیڈا میسو’ ان کی شاہی مٹھائی ہے۔ صدر میں واقع ‘ایف ٹی سویٹس’ کا ‘ملائی کھاجا’ اور پاکستان چوک کا ‘مالپورا ربڑی’ اور ‘سانچہ آئس کریم’ پورے کراچی میں مقبول ہیں۔

    مجموعی طور پر داؤدی بوہرہ برادری کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ بقا اور ترقی کے لیے شور و غل نہیں بلکہ خاموش جدوجہد، معاشی نظم و ضبط اور سماجی خود کفالت ناگزیر ہے۔ یہ برادری آج بھی کراچی کی ماحولیات اور بنیادی ڈھانچے میں اپنا خاموش حصہ ڈال رہی ہے۔

    ‘الندیل البرہانی’ کے تحت کھیلوں کے میدانوں اور پارکوں کا قیام ہو یا ‘کلین کراچی’ اور شجرکاری کی مہمات میں برہانی گارڈز کے رضاکاروں کی صفائی ستھرائی، یہ برادری ثابت کرتی ہے کہ شہر سے محبت صرف نعروں سے نہیں بلکہ اس کے ماحول اور معیشت کو سنوارنے سے ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت کے لیے بوہرہ برادری کا بلا سود کاروباری ماڈل اور سیاسی غیر جانب داری کی حکمت عملی ایک بہترین کیس اسٹڈی ہے، جو یہ سکھاتی ہے کہ تصادم کے بجائے سماجی و اقتصادی خدمات کو ڈھال بنا کر کیسے ایک چھوٹی کمیونٹی خود کو محترم اور محفوظ بنا سکتی ہے۔

    لیاری کے چاکیواڑی کی تنگ گلیوں سے لے کر شبیر آباد کے پوش فلیٹوں تک، اور کراچی پورٹ کے گوداموں سے لے کر تھال کے آداب تک، داؤدی بوہرہ برادری کراچی کے ماضی، حال اور مستقبل کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے بغیر اس شہر کی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی۔ ابراہیم صالح محمد