سانحہ کراچی: 12 مئی 2007 کو کیا ہوا؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

کراچی

12 مئی 2007 پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے جب کراچی کئی گھنٹوں تک عملی طور پر میدانِ جنگ بنا رہا۔ شہر کی سڑکوں پر مسلح جتھے آزادانہ انداز میں گھومتے رہے، فائرنگ ہوتی رہی، لاشیں گرتی رہیں اور ریاستی ادارے تقریباً مفلوج دکھائی دیے۔

یہ وہ دن تھا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی پہنچے تھے، جہاں وکلا اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استقبال کی تیاری کر رکھی تھی۔ لیکن شہر میں ایسا خونریز تصادم ہوا جس نے پاکستان کی سیاست، عدلیہ اور میڈیا پر گہرے اثرات چھوڑے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے اپنی سالانہ رپورٹ برائے 2007 میں 12 مئی کے واقعات کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی۔ اس کے علاوہ اگست 2007 میں کمیشن نے “Carnage in Karachi – A City Under Siege” کے عنوان سے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری کی، جس میں 12 مئی کو کراچی میں پیش آنے والے واقعات کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ رپورٹ اخباری اطلاعات، چشم دید گواہوں کے بیانات، حلف ناموں اور متاثرین کی شہادتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔ ایچ آر سی پی نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی عدالتی عمل پر اثر انداز ہونا یا کسی فریق کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا نہیں، بلکہ ایک ایسا تاریخی ریکارڈ مرتب کرنا تھا جو مستقبل میں حقائق تک رسائی میں مدد دے سکے۔

مشرف حکومت اور تحقیقات سے انکار

ایچ آر سی پی کی 2007 سالانہ رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر صدر جنرل پرویز مشرف نے 12 مئی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبات مسترد کر دیے تھے۔ اس روز ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 40 افراد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف ذرائع میں تعداد اس سے زیادہ بھی بتائی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان ہلاکتوں کا الزام وسیع پیمانے پر اُس سیاسی جماعت پر عائد کیا گیا جو اُس وقت سندھ میں حکومت کا حصہ تھی اور جنرل مشرف کی حامی سمجھی جاتی تھی، یعنی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)۔ تاہم ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے کارکن بھی تشدد کا نشانہ بنے۔

عدالتوں میں کارروائیاں اور توہینِ عدالت کی درخواستیں

12 مئی کے واقعات کے بعد قانونی محاذ پر بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ ایچ آر سی پی رپورٹ میں سندھ ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواستوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف جسٹس کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ عدالت پہلے ہی اس حوالے سے احکامات جاری کر چکی تھی۔

عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، سندھ کے ہوم سیکریٹری، چیف سیکریٹری، صوبائی پولیس چیف اور سٹی پولیس چیف کو طلب کیا تاکہ وہ الزامات کا جواب دیں۔ متعلقہ حکام نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، لیکن عدالت نے انہیں صرف ایک ہفتے کا وقت دیا۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس کو ایک تفصیلی ریفرنس بھیجا جس میں بتایا گیا کہ 12 مئی کو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں، ماتحت عدلیہ کے ججوں اور وکلا کے ساتھ کیا کچھ پیش آیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک سات رکنی بینچ تشکیل دیا اور متعدد حکام کو نوٹس جاری کیے۔ تاہم یہ مقدمہ فروری 2008 میں خارج کر دیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ پر دھاوا

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں 2007 کے دوران عدالتی عمل میں مداخلت کے ایک اور سنگین واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ستمبر 2007 میں، جب 12 مئی کیس کی سماعت جاری تھی، تقریباً دو ہزار افراد کے ایک ہجوم نے سندھ ہائی کورٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

رپورٹ کے مطابق ہجوم نے عدالت کے ڈویژن بینچ کو 12 مئی کے قتل عام کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے میں تقریباً 43 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔ ایم کیو ایم، جس پر اس ہجوم کو منظم کرنے کا الزام لگایا گیا، نے مؤقف اختیار کیا کہ لوگ صرف حلف نامے جمع کرانے اور عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے عدالت پہنچے تھے۔

کراچی بند، سڑکیں سیل، کنٹینرز کی رکاوٹیں

رپورٹ کے مطابق 12 مئی کے روز سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا روٹ اور شیڈول تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی تھی جبکہ آرٹس کونسل، سندھ اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل، صدر اور برنس روڈ سے سندھ ہائی کورٹ جانے والی شاہراہوں کو شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

کراچی عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں تھیں، دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی اور سڑکوں کی بندش نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی تھی۔

میڈیا پر حملے اور آج ٹی وی کا محاصرہ

12 مئی کے واقعات کا ایک اہم پہلو میڈیا پر حملے بھی تھے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق کئی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کر دی گئی تھیں کیونکہ وہ چیف جسٹس کی ریلی اور شہر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی براہِ راست کوریج نشر کر رہے تھے۔

کیبل آپریٹرز نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکام کی جانب سے نشریات بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

اسی دوران کراچی میں آج ٹی وی کے دفتر پر مسلح حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے دفتر کی پارکنگ میں کھڑی ایک درجن سے زائد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق آج ٹی وی اس وقت اپنے دفتر کے باہر بزنس ریکارڈر روڈ پر موجود مسلح نوجوانوں اور پٹیل پاڑہ میں ہونے والی فائرنگ کی براہِ راست تصاویر نشر کر رہا تھا۔

جب نشریات جاری رہیں تو حملہ آوروں نے آج ٹی وی کی عمارت پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔ اسی عمارت میں روزنامہ بزنس ریکارڈر کے دفاتر بھی قائم تھے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے مدد کی اپیلوں پر کارروائی کرنے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگا دیے، جبکہ اس دوران چینل کے تقریباً 350 صحافی، سب ایڈیٹرز اور کیمرہ مین شدید خطرے میں محصور رہے۔

ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز اور صحافی یونینز نے آج ٹی وی پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو الیکٹرانک میڈیا کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

12 مئی کے روز ایدھی فاؤنڈیشن کے دو ایمبولینس ڈرائیور بھی ڈیوٹی کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔ اس واقعے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا، کیونکہ امدادی کارکن بھی محفوظ نہیں رہے تھے۔

ایچ آر سی پی کا مؤقف

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ کراچی میں بے گناہ شہریوں کے قتل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

کمیشن کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سیاسی تشدد کے کلچر سے جڑا ایک اہم معاملہ تھا۔

ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ اگر ایسے واقعات میں ملوث عناصر کا احتساب نہ کیا گیا تو سیاسی جماعتیں مستقبل میں بھی طاقت اور تشدد کا راستہ اختیار کرتی رہیں گی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مسلح اور پرتشدد سیاست کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی شعور اور جمہوری عمل صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ شہریوں کو بھی فعال اور باخبر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کا راستہ روکا جا سکے۔

اسی بارے میں: