پاکستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف دھمکیوں، قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے جاری کی گئی سہ ماہی جائزہ رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے 22 تصدیق شدہ واقعات سامنے آئے، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ایسے 18 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک صوبہ ثابت ہوا، جہاں مجموعی 22 میں سے 15 واقعات یعنی 68 فیصد پیش آئے۔ خیبر پختونخوا میں تین، جبکہ سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر سے اس عرصے میں کوئی تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔
فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں شامل واقعات میں قانونی مقدمات، قانونی کارروائی کی دھمکیاں، گرفتاریاں، جسمانی حملے، قتل کی دھمکیاں، نقصان پہنچانے کی دھمکیاں، اغوا اور قتل کی کوشش جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چھ صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئیں، چار کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں ملیں، تین صحافی گرفتار ہوئے، دو صحافی زخمی ہوئے، دو پر حملے ہوئے جن میں وہ زخمی نہیں ہوئے، تین کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں، دو کو قتل کی دھمکیاں ملیں، جبکہ ایک ایک واقعہ اغوا اور قتل کی کوشش کا بھی ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران سب سے نمایاں رجحان یہ رہا کہ صحافیوں کے خلاف قانونی نظام اور ریاستی اداروں کا استعمال بڑھا، خاص طور پر ان صحافیوں کے خلاف جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رپورٹنگ کرتے ہیں یا حکمرانی، بدعنوانی اور عوامی مفاد کے معاملات پر خبریں شائع کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی 22 واقعات میں سے 15 یعنی 68 فیصد میں ریاستی اداروں یا سرکاری اہلکاروں کو بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کے بعد غیر ریاستی عناصر کے چار، جرائم پیشہ گروہوں کے دو اور ایک واقعہ سیاسی جماعت سے منسلک عناصر سے متعلق تھا۔ ایک واقعے میں حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا)، انسداد دہشت گردی قوانین اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے یا تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ یا سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے بعد قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسمانی تشدد بھی صحافیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا رہا۔ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں صحافی عبدالغفار قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، جبکہ بہاولپور میں صحافی میاں زاہد اویسی پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ دیگر کئی صحافیوں کو بھی بدعنوانی، جرائم اور انتظامی معاملات پر رپورٹنگ کے دوران تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات پر مبنی صحافت کرنے والے صحافیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ کئی صحافیوں کو سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ اور بااثر شخصیات کے خلاف خبریں شائع کرنے پر قتل کی دھمکیاں یا دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے احتسابی صحافت کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل صحافی، یوٹیوبرز، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر کام کرنے والے افراد پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے خلاف قانونی کارروائیوں اور ضابطہ جاتی اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے آن لائن صحافت مزید غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران رپورٹ ہونے والے تقریباً تمام متاثرین مرد صحافی تھے، جبکہ کسی خاتون صحافی کے خلاف تصدیق شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک نے کہا ہے کہ خواتین صحافیوں کو درپیش آن لائن ہراسانی اور دیگر صنفی خطرات کی نگرانی جاری رکھی جا رہی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
رپورٹ میں گلگت بلتستان کے صحافی اور وی لاگر عدنان راوت کے مقدمے اور اسلام آباد میں صحافی رازی طاہر کی گرفتاری کو بھی اہم مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق ان واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا سائبر قوانین اور دیگر قانونی اختیارات کو صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائیں۔
تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قوانین پر نظرثانی کی جائے جنہیں صحافیوں کے خلاف بار بار استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر سائبر کرائم سے متعلق قوانین، تاکہ پاکستان کے آئین میں دی گئی آزادی اظہار کی ضمانت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ رپورٹ پاکستان جرنلسٹس سیفٹی کولیشن کے تحت جاری کی گئی ہے اور اس کی تیاری پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک 2016 سے مختلف پریس کلبوں کے تعاون سے صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور دستاویز بندی کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، جھوٹی خبروں اور بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا نے صحافت کو ایک نئے اور مشکل دور میں داخل کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ روایتی میڈیا شدید مالی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہے، لیکن درست، غیر جانبدار اور قابل اعتماد صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
یونیسکو کوریئر کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ ’کیا صحافت پرانی خبر بن چکی ہے؟‘ میں کہا گیا ہے کہ آج دنیا بھر میں لوگ خبروں کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز، پیغام رسانی کی ایپس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث روایتی اخبارات، ٹیلی ویژن اور نیوز ویب سائٹس کے ناظرین اور قارئین کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا خبروں کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے اور دنیا بھر میں 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تقریباً نصف تعداد خبروں کے لیے بنیادی طور پر سوشل میڈیا پر انحصار کرتی ہے۔ یہ رجحان افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں زیادہ نمایاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے سرچ اور چیٹ ٹولز بھی لوگوں کے معلومات حاصل کرنے کے طریقے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ نظام مختلف ذرائع سے معلومات جمع کر کے مختصر جواب فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین اصل ویب سائٹس پر کم جا رہے ہیں۔ اس سے میڈیا اداروں کی ویب ٹریفک اور اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک اور تشویش ناک رجحان خبروں سے لوگوں کی دوری ہے۔ 2025 کی تحقیق کے مطابق ہر دس میں سے چار افراد جان بوجھ کر خبروں سے گریز کرتے ہیں، جبکہ 2017 میں یہ شرح 29 فیصد تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل منفی خبریں انہیں پریشان، بے بس اور ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتی ہیں، جبکہ کئی افراد کے نزدیک خبریں بار بار ایک ہی موضوع کو دہراتی ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی سے زیادہ تعلق نہیں رکھتیں۔
یونیسکو کے مطابق خبروں سے اس دوری کا نقصان صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ جمہوری نظام بھی اس سے متاثر ہوتا ہے، کیونکہ جب شہری مستند معلومات سے دور ہو جاتے ہیں تو وہ افواہوں، سازشی نظریات اور گمراہ کن مہمات کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کا روایتی میڈیا اداروں پر اعتماد بھی کئی ممالک میں کم ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اب اداروں کے بجائے انفرادی شخصیات، یوٹیوبرز، پوڈ کاسٹرز، انفلوئنسرز اور آن لائن مواد تیار کرنے والوں پر زیادہ اعتماد کرنے لگی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض افراد معیاری معلومات فراہم کرتے ہیں، لیکن ان پر صحافتی ضابطہ اخلاق، حقائق کی تصدیق اور غیر جانبداری کی وہ ذمہ داریاں عائد نہیں ہوتیں جو روایتی صحافیوں پر ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آوازوں اور ڈیپ فیک مواد کی تیاری کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آن لائن جھوٹی معلومات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سروے کے مطابق 58 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ان کے لیے انٹرنیٹ پر سچی اور جھوٹی خبر میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق اگر عوام مستند ذرائع پر اعتماد کھو دیں تو پیشہ ورانہ صحافت کی اہمیت مزید کمزور ہو سکتی ہے، اسی لیے حقائق کی تصدیق اور قابل اعتماد رپورٹنگ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں صحافیوں کو درپیش خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یونیسکو کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران جنگی علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 186 صحافی مارے گئے، جو گزشتہ عرصے کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی طرح خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراسانی کا سامنا بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2025 میں 75 فیصد خواتین صحافی کسی نہ کسی شکل کی آن لائن تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صحافیوں پر حملے صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر جسمانی تشدد، آن لائن ہراسانی، قانونی مقدمات، دھمکیوں اور دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی صحافی اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر اور ملک چھوڑنے پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2009 سے 2023 کے دوران ایسے صحافیوں پر 749 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ مجرموں کو سزا دینے کی شرح میں معمولی بہتری آئی ہے، تاہم اب بھی صحافیوں کے خلاف جرائم کے زیادہ تر ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے مختلف معاہدے اور وعدے کیے گئے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد اب بھی ناکافی ہے۔ 2012 میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا نہ ملنے کی شرح 95 فیصد تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 85 فیصد رہ گئی ہے، تاہم اس معمولی بہتری کے باوجود زیادہ تر حملہ آور آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو درپیش بڑھتے خطرات کے باوجود کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 کے درمیان مزید ڈیڑھ ارب افراد کو سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی، جس سے معلومات تک رسائی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یونیسکو کے مطابق متعدد میڈیا اداروں نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حقائق کی جانچ کرنے والی خصوصی ٹیمیں بھی قائم کی ہیں، جو جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد کی نشاندہی کر کے درست معلومات عوام تک پہنچا رہی ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود صحافت ختم نہیں ہو رہی بلکہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے کئی میڈیا ادارے ویڈیو صحافت، پوڈ کاسٹس، نیوز لیٹرز، وضاحتی صحافت اور کمیونٹی پر مبنی رپورٹنگ جیسے نئے طریقے اپنا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل سے بہتر رابطہ قائم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی معروف ادارے کم مگر معیاری خبریں شائع کرنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مشترکہ تحقیقی صحافت بھی فروغ پا رہی ہے، جہاں مختلف ممالک کے صحافی مل کر کرپشن، منظم جرائم، ماحولیاتی مسائل اور غلط معلومات کے خلاف تحقیق کر رہے ہیں۔
نیویارک کے معروف جریدے ’دی نیو یارکر‘ کے فیکٹ چیکنگ شعبے کے سربراہ فرگس میک انٹوش نے رپورٹ میں کہا ہے کہ حقائق کی جانچ ایک گاڑی کو ورکشاپ میں کھول کر ہر پرزے کی جانچ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اگر چھوٹے حقائق غلط ہوں تو پوری خبر پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی انسانی فیکٹ چیکنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صحافت کے مستقبل کا انحصار صرف نئی ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے پر ہے۔ اس مقصد کے لیے شفافیت، غیر جانبداری، درست معلومات، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور عوامی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھنا ضروری ہے۔
یونیسکو نے حکومتوں، میڈیا اداروں اور تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ صحافت کے تحفظ، آزادی اظہار، میڈیا کی مالی مضبوطی، صحافیوں کی سلامتی، ڈیجیٹل شفافیت اور میڈیا خواندگی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ معاشرے کو مستند اور قابل اعتماد معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ادارے کے مطابق تیزی سے بدلتی دنیا میں صحافت کی شکل ضرور بدل رہی ہے، لیکن سچائی کی تلاش، حقائق کی جانچ اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری آج بھی پہلے کی طرح اہم ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومین رائیٹس (ایف آئی ڈی ایچ) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کے عدالتی نظام پر جاری اپنی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں عدالتی نظام کے تقریباً ہر درجے پر بدعنوانی جڑیں پکڑ چکی ہے۔ جس کے باعث عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عدالتی بدعنوانی اب انفرادی یا محدود نوعیت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے منظم اور وسیع پیمانے پر پھیل جانے کے شواہد موجود ہیں، جو ’بڑی سطح کی بدعنوانی‘ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
32 صفحات پر مشتمل رپورٹ Under the Bench: Mapping corruption risks in Pakistan’s justice system ’بینچ کے اندر: پاکستان کے نظام انصاف میں بدعنوانی کے خطرات کی نقشہ سازی‘ کے لیے وکلا، حاضر و سابق ججوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت 30 افراد سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔
ان میں سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹس، سابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھی شامل تھے۔ انٹرویوز فروری اور مارچ 2026 کے دوران اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور میں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے جمہوری ادارے، خصوصاً عدلیہ، مسلسل کمزور ہوئے ہیں جبکہ بنیادی آزادیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس ماحول میں عدلیہ بعض مواقع پر اختلاف رائے رکھنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ریاستی اقدامات کا ذریعہ بنتی دکھائی دی، جس سے انصاف کی فراہمی پر عوامی اعتماد مزید متاثر ہوا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالتی بدعنوانی کو فروغ دینے والے تین بنیادی عوامل ہیں۔ ان میں کمزور نظام انصاف، سفارش اور اقربا پروری پر مبنی سماجی رویے، اور عدلیہ کی آزادی میں مسلسل کمی شامل ہیں۔ ان عوامل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں رشوت، اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت کو روکنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایف آئی ڈی ایچ کی سیکریٹری جنرل شاہندہ اسماعیل نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ عدالتی نظام کے تقریباً ہر شعبے میں بدعنوانی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے اور اس کے اثرات براہ راست انسانی حقوق پر پڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق عدالتی بدعنوانی کوئی ایسا جرم نہیں جس کا کوئی متاثرہ فریق نہ ہو، بلکہ اس کی وجہ سے منصفانہ ٹرائل کا حق محدود ہو جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے ہی بدعنوانی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ متعدد انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ اکثر مقدمات میں ایف آئی آر درج کرانے، تحقیقات آگے بڑھانے یا بعض اوقات شواہد میں ردوبدل کرنے کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے۔
بعض وکلا نے مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں روپے مالیت کے مالیاتی تنازعات میں صرف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی بھاری رشوت مانگی گئی کیونکہ متاثرہ فریق کو خدشہ ہوتا ہے کہ پولیس سے تعلقات خراب ہونے پر پورا مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدعنوانی صرف پولیس تک محدود نہیں رہتی بلکہ مقدمہ عدالت پہنچنے کے بعد بھی مختلف مراحل پر رشوت اور غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بعض وکلا عدالتی عملے کو رشوت دے کر مقدمات مخصوص ججوں کے سامنے لگوانے، جلد سماعت حاصل کرنے، فیصلوں کی نقول جلد حاصل کرنے یا مقدمات کے ریکارڈ میں ردوبدل جیسے غیر قانونی کام کرواتے ہیں۔
کئی انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت کے شیڈول میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے رشوت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہونے کی وجہ سے فریقین جلد سماعت کے لیے رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکانے کے لیے بھی غیر قانونی ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک ملک بھر کی عدالتوں میں تقریباً 24 لاکھ مقدمات زیر سماعت تھے، جن میں بڑی تعداد ضلعی عدالتوں کی تھی جبکہ سپریم کورٹ میں بھی دسیوں ہزار مقدمات زیر التوا تھے۔
تحقیق میں عدالتی نظام میں سفارش، ذاتی تعلقات اور اقربا پروری کو بھی ایک بڑی بدعنوانی قرار دیا گیا ہے۔ متعدد وکلا نے بتایا کہ بعض بااثر وکلا، حاضر یا سابق ججوں کے قریبی رشتہ داروں یا بااثر شخصیات کے مقدمات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض وکلا ججوں کے ساتھ سماجی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مختلف غیر رسمی طریقے اختیار کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں عدالتی کارروائی میں فائدہ حاصل ہو سکے۔
کئی انٹرویو دینے والوں نے اعلیٰ عدلیہ پر ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض جج دباؤ یا ممکنہ نتائج کے خوف سے ایسے فیصلے دیتے ہیں جو قانون کے مطابق نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں کے خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے 2024 میں خفیہ اداروں کی جانب سے مبینہ دباؤ اور نگرانی کے الزامات سامنے رکھے تھے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے بھی عدلیہ کی محدود خودمختاری کو مزید کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے ججوں کی تقرری، تبادلوں اور برطرفی کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے عدلیہ پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلیاں بین الاقوامی معیار کے مطابق عدالتی آزادی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف موجود ادارے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احتسابی نظام اکثر مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر قانون سازی موجود نہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے 2025 کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کے نزدیک پولیس سب سے زیادہ بدعنوان ادارہ ہے جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق عدالتی نظام میں رشوت کی اوسط رقم دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ رپورٹ میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے اشاریے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بدعنوانی سے پاک نظام کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی انتہائی کم بتائی گئی ہے۔
عدالتی بدعنوانی کا سب سے زیادہ نقصان غریب، کم آمدنی والے اور مذہبی و سماجی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہنچتا ہے کیونکہ وہ مہنگے قانونی عمل یا غیر قانونی ادائیگیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کا تعلق تشدد، جبری اعترافات، سزائے موت کے مقدمات اور خواتین کے لیے قانونی شعبے میں مساوی مواقع کی کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ عدالتی بدعنوانی ختم کرنے کے لیے صرف ججوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانا یا عدالتوں میں کیمرے نصب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے لیے عدلیہ کی آزادی بحال کرنا، نظام انصاف کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا، شفافیت بڑھانا اور ایسے عوامل کا خاتمہ ضروری ہے جو غیر مناسب عدالتی طرز عمل اور متنازع فیصلوں کو جنم دیتے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر ایف آئی ڈی ایچ اور ایچ آر سی پی نے حکومت اور عدلیہ کو متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں عدالتی نظام کی انتظامی اصلاحات، مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار میں شفافیت، بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر احتساب، عدالتی فیصلوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، اور بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف علامتی اقدامات کافی نہیں بلکہ وسیع، مؤثر اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
دنیا کے 173 بڑے شہروں پر مشتمل اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے EIU’s Global Livability Index میں پاکستان کے صرف ایک شہر کراچی کو شامل کیا گیا ہے، جہاں اسے مجموعی طور پر 170واں نمبر ملا ہے۔ تاہم رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ نے کراچی کو ’دنیا کا سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دیا، جبکہ اصل رپورٹ اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی آخری دس شہروں میں ضرور شامل ہے، لیکن یہ فہرست میں آخری نمبر پر نہیں۔ اس کے بعد بھی تین شہر موجود ہیں، جن میں بنگلہ دیش کا ڈھاکا، لیبیا کا طرابلس اور شام کا دمشق شامل ہیں۔
ای آئی یو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے رہنے کے قابل 173 شہروں میں کراچی 170ویں نمبر پر ہے، جبکہ ڈھاکا 171ویں، طرابلس 172ویں اور دمشق 173ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح ایران کا دارالحکومت تہران 164ویں، زمبابوے کا ہرارے 165ویں اور یوکرین کا کیف 166ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس درجہ بندی میں پاکستان کا صرف ایک شہر، کراچی، شامل کیا گیا ہے۔ غور سے مطالعہ کرنے کے بنعد معلوم ہو کہ پاکستان کے بہترین اور ترقی یافتہ شہروں جیسا کہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ یا کسی دوسرے کسی بھی شہر کا اس رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس وجہ سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کوئی دوسرا شہر کراچی سے زیادہ یا کم قابلِ رہائش ہے، کیونکہ ان شہروں کا سرے سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔
ای آئی یو کے مطابق گلوبل لویبلٹی انڈیکس کا مقصد دنیا کے مختلف شہروں میں رہنے کے معیار کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔ اس کے لیے 173 شہروں کو 30 مختلف اشاریوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جنہیں پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں استحکام، صحت کی سہولتیں، ثقافت اور ماحول، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ انہی شعبوں کے مجموعی نمبروں کی بنیاد پر ہر شہر کو سو میں سے اسکور اور عالمی درجہ بندی دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کراچی کا مجموعی اسکور 43 رہا۔ استحکام کے شعبے میں اسے صرف 20 نمبر ملے، جبکہ صحت کی سہولتوں میں 54، ثقافت اور ماحول میں 36، تعلیم میں 75 اور بنیادی ڈھانچے میں 52 نمبر دیے گئے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کی کمزور درجہ بندی کی سب سے بڑی وجہ استحکام کا شعبہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اوسط لائیویبلٹی اسکور 76.1 رہا، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔ تاہم استحکام کے شعبے میں عالمی سطح پر اوسط اسکور میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صحت کی سہولتوں میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی۔ تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی معمولی بہتری آئی، لیکن ثقافت اور ماحول کے شعبے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس سال مشرق وسطیٰ کے کئی شہروں کی درجہ بندی ایران میں جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے کئی شہروں کے استحکام کے نمبروں کو متاثر کیا۔ اسی وجہ سے تہران پہلی مرتبہ آخری دس شہروں میں شامل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق آخری دس شہروں میں شامل زیادہ تر شہر جنگ، سیاسی عدم استحکام یا شدید غربت سے متاثر ہیں۔ دمشق مسلسل آخری نمبر پر موجود ہے، اگرچہ وہاں صحت کی سہولتوں میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اسی طرح طرابلس میں بھی صحت کے شعبے میں معمولی پیش رفت ہوئی، لیکن مجموعی درجہ بندی بہتر نہ ہو سکی۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہروں میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال پہلے نمبر پر رہا۔ آسٹریا کا ویانا دوسرے، آسٹریلیا کا میلبورن تیسرے، سڈنی چوتھے، سوئٹزر لینڈ کا زیورخ پانچویں اور جنیوا چھٹے نمبر پر رہا۔ جاپان کا اوساکا ساتویں، آسٹریلیا کا ایڈیلیڈ آٹھویں، کینیڈا کا وینکوور نویں اور جاپان کا ٹوکیو دسویں نمبر پر شامل ہیں۔ ان شہروں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تقریباً مکمل نمبر حاصل کیے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مغربی یورپ مجموعی طور پر دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش خطہ برقرار رہا، جبکہ ایشیا کی اوسط درجہ بندی میں بہتری آئی۔ چین کے کئی شہروں نے صحت کی سہولتوں میں سرمایہ کاری کے باعث اپنی پوزیشن بہتر بنائی، جبکہ جاپان کے بعض شہروں نے بھی ثقافت اور ماحول کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
ای آئی یو کے مطابق درجہ بندی تیار کرتے وقت صرف جرائم یا امن و امان کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ 30 مختلف معیارات کو یکجا کرکے مجموعی اسکور بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی شہر کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے صرف عالمی رینک نہیں بلکہ اس کے مختلف شعبوں میں حاصل کردہ نمبروں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ کا جائزہ لینے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس میں صرف کراچی کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے دوسرے شہر کراچی سے بہتر یا بدتر ہیں، کیونکہ ان کا جائزہ اس انڈیکس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 173 شہروں میں کراچی کی 170ویں پوزیشن کا مطلب یہ ہے کہ تین شہر اس سے بھی نیچے موجود ہیں۔ اس لیے رپورٹ کی اصل درجہ بندی کے مطابق کراچی کو دنیا کا ’سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دینا درست تعبیر نہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کراچی دنیا کے آخری چار رہنے کے قابل شہروں میں شامل ہے اور مجموعی درجہ بندی میں 170ویں نمبر پر ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی سینٹینل ون SentinelOne)) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اور بھارت سے منسلک ہیکنگ گروہوں نے گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کے متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور حساس سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملے فروری 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان مختلف مراحل میں کیے گئے۔ ان کا ہدف بلوچستان پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سمیت کئی اہم ادارے تھے۔
ان اداروں کے پاس دہشت گردی، جرائم، سرحدی سلامتی اور حساس انٹیلی جنس سے متعلق اہم معلومات موجود ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں سائبر جاسوسی کے لیے اہم ہدف سمجھا جاتا ہے۔
سینٹینل ون کے محققین کا کہنا ہے کہ مختلف ہیکنگ گروہوں نے الگ الگ طریقوں سے پاکستانی اداروں کے کمپیوٹر نظام میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعض حملوں میں نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض میں اداروں کے اندر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور شکایات کے انتظام کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے ایسے کمزور مقامات تلاش کیے جہاں سے وہ خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ان معلومات میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں، افغانستان سے متعلق سلامتی کی صورتحال، اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی منصوبوں اور شہریوں کی حفاظت سے متعلق ریکارڈ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک گروہوں کی دلچسپی ممکنہ طور پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور منصوبوں کی سلامتی سے جڑی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں چینی شہریوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں، اس لیے بیجنگ ان معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت سے منسلک ہیکنگ سرگرمیوں کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات سے ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہا گیا کہ ان حملوں کا براہ راست حکم کسی حکومت نے دیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان کے بعض اداروں نے ان حملوں کی اہمیت کو کم قرار دیا، جبکہ کچھ اداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران سائبر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم ادارے نے کہا کہ اس نے اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر حملوں میں بعض اوقات شکایات کے اندراج کے نظام اور دیگر سرکاری ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہوئے اندرونی نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کے حملے دنیا بھر میں سرکاری اداروں کے خلاف سائبر جاسوسی کے لیے عام ہوتے جا رہے ہیں۔
چین کے سفارت خانے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین ہر قسم کی سائبر ہیکنگ اور آن لائن حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے سفارت خانے نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک، سرکاری ڈیٹا بیس اور مواصلاتی نظام بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اپنی سائبر دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس رپورٹ میں حساس معلومات کے چوری ہونے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرکاری اداروں کو اپنے سائبر تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود معلومات نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سائبر جاسوسی کی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے حساس سرکاری نظام، ڈیٹا اور نیٹ ورک کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔
ایک نئی پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور طرز حکمرانی، ناکافی مالی وسائل، ناقص انتظامی ڈھانچہ، درست اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔
یہ جامع تقابلی جائزہ رپورٹ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے تیار کی ہے، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے، جبکہ وفاق اور تمام صوبوں نے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان 2026 کے تحت مختلف منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔
اس کے باوجود عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اگر حکمرانی، احتساب اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی تعلیمی ایمرجنسی صرف ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گی۔
رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بحران کئی دہائیوں سے جاری غفلت کا نتیجہ ہے۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور سرکاری ادارے اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاستی تعلیمی نظام آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کا دائرہ تو وسیع ہوا، مگر غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیمی محرومی برقرار رہی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں ایسے بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ چار لاکھ کے درمیان ہے۔
پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے داخلہ لینے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف داخلہ دلانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
پنجاب میں اگرچہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، انتظامی اصلاحات اور سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق اب بھی نمایاں ہے۔
دیہی پنجاب میں 24 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 14 فیصد ہے۔
جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے، جہاں راجن پور میں 48 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 46 فیصد اور مظفر گڑھ میں 45 فیصد بچے اسکول نہیں جا رہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے کو مڈل اور سیکنڈری سطح پر کم از کم 35 ہزار نئے کلاس رومز کی ضرورت ہے، جبکہ غربت، گھریلو مالی مشکلات اور چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔
رپورٹ میں سندھ کی صورتحال کو دیگر صوبوں سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سندھ میں بنیادی مسئلہ بچوں کا ابتدائی داخلہ نہیں بلکہ پرائمری تعلیم کے بعد ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔
صوبے میں تقریباً 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 41 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی اسکول جانے کی عمر کی آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ میں 36 ہزار سے زائد پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 2 ہزار 634 اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد ایک ہزار 674 ہے۔ اسی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً 54 فیصد بچے مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب نے بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس سے پہلے سے موجود تعلیمی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ اس کے علاوہ غربت، چائلڈ لیبر، جاگیردارانہ نظام اور صنفی امتیاز بھی خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ملک بھر کے ایسے بچوں کا تقریباً 19 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے، سکیورٹی مسائل، انتظامی پیچیدگیاں اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بالائی کوہستان، تورغر اور باجوڑ جیسے اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سماجی روایات بھی لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
بلوچستان کو رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ 2023 میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 69 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی، تاہم صوبے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی اب بھی برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے کئی علاقوں میں بچوں کو پرائمری اسکول تک پہنچنے کے لیے اوسطاً 30 کلومیٹر جبکہ سیکنڈری اسکول تک جانے کے لیے 360 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 15 ہزار 270 اسکولوں میں سے 3 ہزار 617 غیر فعال یا گھوسٹ اسکول ہیں۔ فعال اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔
تقریباً 79 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں، 56 فیصد میں بیت الخلا موجود نہیں اور 49 فیصد میں چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جو صنفی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری علاقوں میں داخلے کی شرح 85 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ کم ہو کر 62 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ دارالحکومت کی 60 سے زیادہ غیر رسمی آبادیوں کو سرکاری تعلیمی منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں تقریباً نصف بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ماؤں کی ناخواندگی اور دور افتادہ جغرافیائی حالات اہم رکاوٹیں ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں ایک مشترکہ مسئلہ تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ سندھ اپنے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 81 فیصد ہے۔
دوسری جانب پنجاب نے اسکولوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی منصوبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔
تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات عالمی معیار سے کہیں کم ہیں، جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ تشخیص کا نہیں بلکہ ان حل پر عمل درآمد کا ہے جن کی نشاندہی برسوں پہلے ہو چکی ہے۔
اس مقصد کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ نادرا کے ب فارم سے منسلک ایک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک بھر میں داخلوں، حاضری اور تعلیم چھوڑنے والے بچوں کا حقیقی وقت میں ریکارڈ رکھا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد قومی ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے سرکاری نظام کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور صوبے پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار یا نامکمل ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو آپس میں مربوط کیا جائے، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ تعلیم سے محروم بچے دوبارہ اسکولوں میں داخل ہو سکیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں دو شفٹوں میں اسکول چلانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کا نیا سروے کرانے، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کم از کم پانچ بچوں کو دوبارہ اسکول لانے کی قومی مہم میں شریک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ان سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، منظوری، ٹھیکوں کی تقسیم اور عمل درآمد کے مراحل مختلف انتظامی کمزوریوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں قوانین اور ضابطے تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوامی سرمایہ کاری کے نتائج متاثر ہو رہے ہیں۔
’انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ‘کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کو انفراسٹرکچر گورننس کے حوالے سے 10 میں سے 6.34 کا رسک اسکور دیا گیا ہے، جسے ’زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، منظوری، خریداری اور ٹھیکوں کے مراحل میں انتظامی کمزوریاں موجود ہیں جو بدعنوانی یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔
مطالعے کے مطابق پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کمزور مالی گنجائش ہے۔ بار بار پیش آنے والے مالیاتی بحران، قرضوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) جو ماضی میں حکومتی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ تھا، اب مالی دباؤ کی وجہ سے سکڑ چکا ہے۔
مجموعی عوامی سرمایہ کاری جو مالی سال 2018-17 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4.9 فیصد کے برابر تھی، حالیہ برسوں میں کم ہو کر تقریباً 2.6 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا تقریباً نصف حصہ کھا جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی مالیاتی انتظام کے لیے آئینی اور قانونی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم عملی صورت حال مختلف ہے۔ مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد سے متعلق قانون کے تحت عوامی قرضوں کی ایک حد مقرر کی گئی تھی، لیکن ملک کا قرضہ کئی برسوں سے اس قانونی حد سے تجاوز کر رہا ہے۔
اسی طرح آڈٹ ادارے بے ضابطگیوں کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر اور کمزور احتساب کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔
رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور جانچ پڑتال کے نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ اصولی طور پر ہر منصوبے کو ابتدائی تصوراتی نوٹ، فنی و مالیاتی جانچ اور مختلف منظوری کے مراحل سے گزرنا چاہیے، مگر عملی طور پر کئی وزارتیں اور محکمے ابتدائی مراحل کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست منصوبے منظوری کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔
اس عمل سے منصوبوں کی معروضی جانچ کمزور پڑ جاتی ہے اور غیر ضروری یا کم ترجیحی منصوبوں کے شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خریداری اور ٹھیکوں کی تقسیم کے قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق شفافیت اور مسابقت کے اصولوں پر مبنی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ بعض قانونی تبدیلیوں نے ان اصولوں کو کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش موجود ہے، جس سے کھلے مقابلے کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس نظام کا نفاذ تمام اداروں میں یکساں نہیں ہے اور بعض سرکاری ادارے اب بھی اپنے الگ نظام استعمال کر رہے ہیں، جس سے معلومات کے یکجا ہونے اور مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق انفراسٹرکچر گورننس کا بنیادی مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں موجود خلا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین، وسائل کی تقسیم، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے): ایک کیس اسٹڈی
رپورٹ میں خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بطور نمونہ ادارہ منتخب کرکے ہائی ویز پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کا تجزیہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں سڑکوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے باوجود یہ سرمایہ کاری عوام کی زندگیوں میں مطلوبہ معاشی اور سماجی بہتری لانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال نے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، کارکردگی اور مؤثریت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔
ادارہ جاتی سطح پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں 2024 کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں۔
ایک خودمختار نیشنل ہائی وے کونسل کے قیام، پیشہ ور بورڈ کو جوابدہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کی تقرری اور اصلاحاتی عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹرانسفارمیشن یونٹ کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے میں اصلاحات لانے کی کوشش ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو انفراسٹرکچر کے شعبے میں حکمرانی کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان اصلاحات پر عمل درآمد ابھی مکمل نہیں ہو سکا اور یہ عمل سیاسی مداخلت اور اختلافات سے بھی متاثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے کونسل میں ابتدائی تقرریاں سرکاری اداروں کے قانون (ایس او ای ایکٹ) میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ اسی طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز اب بھی زیادہ تر رسمی منظوری دینے والے ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ منصوبوں کی لاگت میں مسلسل اضافے کے حوالے سے جوابدہی کا نظام بھی واضح نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر این ایچ اے میں فیصلے اب بھی قواعد و ضوابط اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اثر و رسوخ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف مفاداتی گروہوں کا اثر بہت زیادہ ہے، عوامی مشاورت زیادہ تر رسمی کارروائی تک محدود ہے، جبکہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین اور ٹھیکوں کی تقسیم کے عمل پر بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جائزے کا مقصد کسی مخصوص منصوبے میں بدعنوانی ثابت کرنا نہیں بلکہ ایسے انتظامی اور پالیسی عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جو بدعنوانی یا ناقص حکمرانی کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ مطالعے کے لیے دستاویزی تحقیق کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر گورننس سے وابستہ 14 ماہرین اور متعلقہ افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔
سرکاری اداروں کے لیے تجاویز
رپورٹ کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمانی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب، جانچ، خریداری اور نگرانی کے مراحل میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ عوامی سرمایہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبے واقعی عوامی فلاح اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل پانچ سالہ سرمایہ کاری حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں ترجیحات، مالی وسائل اور متوقع نتائج واضح طور پر بیان کیے جائیں۔ جاری منصوبوں کے لیے کئی سالہ مالی وعدوں کو تحفظ دیا جائے تاکہ فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ہر منصوبہ مرحلہ وار جانچ کے عمل سے گزرے۔ منصوبے کے ابتدائی تصور، فنی و مالیاتی جانچ اور حتمی منظوری کے تمام مراحل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بڑے منصوبوں کی آزادانہ جانچ پڑتال کی جائے اور ان کی فزیبلٹی رپورٹس عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد مکمل رپورٹ شائع کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب کے لیے واضح اور عوامی معیار مقرر کیے جائیں تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے قومی ضرورت، معاشی فائدے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔ اسی طرح سرکاری خریداری کے نظام میں مسابقت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے عمل کو محدود کیا جائے اور تمام اداروں کو یکساں خریداری قوانین کا پابند بنایا جائے۔
رپورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت دیگر سرکاری اداروں کی مالی اور انتظامی معلومات عوام کے سامنے لانے، منصوبوں کے اخراجات اور معاہدوں کی تفصیلات شائع کرنے اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے وسل بلوئر قانون نافذ کرنے اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کو سخت بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کے مرحلے میں مقامی آبادی، خواتین اور کمزور طبقات کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے عوامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان پر اعتماد میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بدعنوانی کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں بچوں سے مشقت ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 86 لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان میں سے 66 لاکھ سے زائد خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔
‘پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل’ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں ملک کے مختلف حصوں میں بچوں سے مشقت کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 97 لاکھ سے زائد بچے کسی نہ کسی قسم کی مشقت کرتے ہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں بچوں کی زندگیوں، ان کے بنیادی حقوق اور مستقبل سے جڑا ایک اہم انسانی مسئلہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے بارے میں آخری جامع قومی سروے 1996 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پالیسی ساز ادارے اور ترقیاتی شراکت دار پرانے یا محدود اعداد و شمار پر انحصار کرتے رہے۔ نئی رپورٹ پہلی مرتبہ ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے حاصل شدہ نسبتاً جامع معلومات کو یکجا کرتی ہے جس سے مسئلے کی حقیقی شدت سامنے آئی ہے۔
صوبوں میں بچوں سے مشقت کی صورتحال
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بچوں سے مشقت کے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں 60 لاکھ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں۔
سندھ دوسرے نمبر پر ہے جہاں تقریباً 16 لاکھ بچے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سات لاکھ 45 ہزار سے زائد، بلوچستان میں دو لاکھ ایک ہزار سے زیادہ جبکہ اسلام آباد میں تقریباً 15 ہزار بچے مشقت میں مصروف پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کی ایک بڑی تعداد زراعت، مویشی بانی، ورکشاپس، اینٹوں کے بھٹوں، دکانوں، گھریلو ملازمت اور دیگر غیر رسمی شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ ان میں سے لاکھوں بچے ایسے کام انجام دیتے ہیں جو ان کی عمر کے لحاظ سے نہ صرف نامناسب ہیں بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ خطرناک مشقت میں کام کرنے والے بچوں کو طویل اوقات کار، شدید گرمی، دھول، کیمیکل، بھاری مشینری اور دیگر خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں سے مشقت کے حوالے سے موجود قوانین میں ہر صوبے نے ان صنعتوں، پیشوں اور آلات کی نشاندہی کی ہے جن میں بچوں سے کام لینا خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ ان فہرستوں کو اعداد و شمار کی شکل میں جانچنے کے لیے پاکستان اسٹینڈرڈ انڈسٹریل کلاسیفیکیشن (پی ایس آئی سی) 2010 اور پاکستان اسٹینڈرڈ کلاسیفیکیشن آف آکوپیشنز (پی ایس سی او) 2015 کا استعمال کیا گیا۔ ان درجہ بندیوں کی مدد سے یہ معلوم کیا گیا کہ بچے کس صنعت یا پیشے میں کام کر رہے ہیں اور آیا وہ کام قانون کے مطابق خطرناک زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر صوبوں میں خطرناک صنعتوں اور پیشوں کی فہرست تقریباً یکساں ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے کچھ اضافی شعبوں کو بھی شامل کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے کنوؤں اور رگز پر کام کو بچوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں چار اضافی شعبے شامل کیے گئے ہیں جن میں ماربل کاٹنے کا کام، بیکریوں اور تندوروں میں کام، پلاسٹک مولڈنگ اور گھریلو چائلڈ لیبر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو مزدوری کو اعداد و شمار میں شامل کرنا نسبتاً مشکل ہے کیونکہ ہر قسم کا گھریلو کام قانونی طور پر چائلڈ لیبر نہیں سمجھا جاتا، البتہ اگر یہ کام خطرناک نوعیت کا ہو تو اسے بچوں سے مشقت کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے گھریلو ملازمت کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ تاہم آئی سی ٹی میں خطرناک صنعتوں اور پیشوں کی سرکاری فہرست دیگر صوبوں کے مقابلے میں مختصر ہے، حالانکہ اس میں 2020 میں ترامیم بھی کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بچوں کے روزگار سے متعلق ایک جامع بل 2022 میں پیش کیا گیا تھا، لیکن تاحال اسے قانون کی شکل نہیں دی جا سکی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں 2016 کے ‘پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ورک ایٹ برک کلنز ایکٹ’ کے بعد اینٹوں کے بھٹوں کو بھی خطرناک صنعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ تاہم سروے کے دوران بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کی تعداد بہت کم سامنے آئی۔ سروے میں شامل گھروں میں صرف 260 بچوں کی نشاندہی ہوئی جو اینٹوں کے بھٹوں پر کام کر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس کم تعداد کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بھَٹوں پر کام کرنے والے بہت سے بچے اپنے خاندانوں کے ساتھ مستقل رہائشی گھروں میں نہیں رہتے بلکہ عارضی بستیوں یا کام کی جگہوں کے قریب رہائش اختیار کرتے ہیں، جبکہ سروے کا دائرہ کار صرف باقاعدہ گھریلو یونٹس تک محدود تھا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بچوں کو خطرناک صنعتوں اور پیشوں سے دور رکھنے کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں سے مشقت کا براہ راست تعلق غربت، تعلیم کی کمی، کم آمدنی، بے روزگاری اور سماجی عدم مساوات سے ہے۔ ایسے خاندان جہاں آمدنی محدود ہو، وہاں بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ گھر کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکول سے باہر رہ جاتی ہے اور غربت کا یہ سلسلہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جاویری آغا نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ بچوں سے مشقت صرف مزدوری کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ بچوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ سے متعلق ایک قومی چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کو اپنے بچوں کا بہتر مستقبل یقینی بنانا ہے تو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
بین الاقوامی وعدے
پاکستان بچوں کے حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمے سے متعلق کئی اہم بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق اطفال، عالمی ادارہ محنت کے کم از کم عمر اور بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر سے متعلق کنونشنز، اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ شامل ہیں۔
ان تمام معاہدوں کے تحت پاکستان نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے وعدے کر رکھے ہیں، تاہم 1996 کے بعد اس مسئلے کی پیمائش کے لیے کوئی جامع قومی سروے نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 1996 میں ہونے والے پہلے قومی چائلڈ لیبر سروے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک میں 33 لاکھ بچے معاشی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس وقت پانچ سے 14 سال عمر کے تقریباً چار کروڑ بچوں میں سے آٹھ فیصد کسی نہ کسی شکل میں کام کر رہے تھے۔ اس سروے میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو شامل کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے قومی سروے کا باقاعدہ آغاز مارچ 2019 میں اس وقت کے صدر پاکستان نے کیا تھا۔ اگرچہ اس کی منصوبہ بندی اور ابتدائی تیاری کا عمل 2016 میں شروع ہو چکا تھا، تاہم مختلف صوبوں میں سروے مرحلہ وار مکمل کیے گئے۔
پنجاب میں سروے 2019-20، خیبر پختونخوا میں 2022 جبکہ سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 2023-24 کے دوران کیا گیا۔ سروے کا مجموعی عمل 2025 میں مکمل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ان سرویز کے نتائج پاکستان کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، خصوصاً ہدف 8.7 کے حصول میں مدد فراہم کریں گے، جس کے تحت دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام صوبائی سرویز عالمی ادارہ محنت کے شماریاتی پروگرام ‘سمپوک’ کے فریم ورک کے مطابق کیے گئے ہیں۔ اس طریقہ کار میں بچوں سے مشقت کی تعریف بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جاتی ہے، تاہم صوبائی قوانین کے مطابق عمر اور کام کے اوقات سے متعلق کچھ فرق بھی موجود ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مختلف صوبوں میں چائلڈ لیبر کی قانونی تعریفوں میں فرق ہونے کے باعث صوبوں کے درمیان براہ راست موازنہ احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔ بعض صوبوں میں بچوں کے لیے کام کے اوقات اور ممنوعہ شعبوں کی فہرستیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کے نتیجے میں اعداد و شمار کی تشریح میں فرق آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سرویز مختلف اوقات میں کیے گئے، اس لیے بعض بیرونی عوامل بھی نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کورونا وبا کے معاشی اثرات اور 2022 میں سندھ اور بلوچستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں بچوں کے کام پر جانے کے رجحان میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
یونیسیف کے مطابق بچوں سے مشقت نہ صرف بچوں کو تعلیم سے محروم کرتی ہے بلکہ انہیں غربت، استحصال اور عدم تحفظ کے دائرے میں بھی قید کر دیتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ جب بچے کم عمری میں محنت مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں تو ان کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور معاشرتی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو بچوں کو مزدوری سے نکال کر اسکولوں تک پہنچا سکیں۔ اس مقصد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط بنانے، غریب خاندانوں کی مالی مدد، معیاری تعلیم تک رسائی اور بچوں سے مشقت کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ ملک میں مختلف قوانین موجود ہونے کے باوجود لاکھوں بچے اب بھی ایسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جہاں ان کی موجودگی قانونی طور پر ممنوع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دیہی علاقوں میں بچوں سے مشقت کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ خاص طور پر زرعی علاقوں میں بچوں کو کم عمری سے ہی کھیتوں اور مویشیوں کے کام میں لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی ورکشاپس، ہوٹلوں، دکانوں اور گھریلو ملازمتوں میں بچوں کی بڑی تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی بچوں سے مشقت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یونیسیف اور عالمی ادارہ محنت کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں بچے مختلف اقسام کی مزدوری میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان میں سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
رپورٹ کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ تازہ سرویز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار حکومت اور متعلقہ اداروں کو مؤثر پالیسیاں بنانے میں مدد دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر غربت میں کمی، تعلیم کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنایا جائے تو لاکھوں بچوں کو مزدوری کے چکر سے نکال کر تعلیم اور بہتر مستقبل کی طرف لایا جا سکتا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہدف 4.2 فیصد تھا۔
اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی کارکردگی کچھ بہتر رہی کہ۔ گزشتہ سال شرحِ نمو 3.18 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق معاشی بہتری کی بڑی وجوہات بہتر معاشی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، 2025 کے سیلاب کے باوجود زرعی شعبے کی مضبوطی، روپے کی قدر میں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات ہیں۔
دریں اثنا، بدھ کے روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو 4 فیصد ہونے کا ٹارگیٹ مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2023 میں شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابتدا میں امید تھی کہ رواں سال میں شرحِ نمو 4 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخی سطح پر پہنچ کر 126.9 کھرب روپے ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے جو پہلے 1,751 ڈالر تھی۔
مہنگائی
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.7 فیصد تھی۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.8 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی۔ تاہم تیسرے سہ ماہی کے اختتام پر عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بیرونی اثرات نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور بروقت حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے 28 فیصد مہنگائی سے آغاز کیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد تک آ چکی ہے۔”
زراعت
وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.53 فیصد تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہتری 2025 کے سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق فصلوں کے شعبے نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی اور پہلے کمی کا شکار رہنے کے بعد اب اس میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو رہی ہے۔
بڑے پیمانے کی صنعتیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ LSM کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ 6.1 فیصد ترقی کسی ایک صنعت کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف شعبوں کی مجموعی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس شعبے میں نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔
خدمات کا شعبہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی معیشت (GDP) کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی شرحِ نمو 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے خاص طور پر مواصلات اور انفارمیشن سروسز کے شعبے کا ذکر کیا، جس میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرحِ نمو ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
مالی خسارہ
اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد (2,970 ارب روپے) سے کم ہو کر 0.7 فیصد (856.4 ارب روپے) رہ گیا۔
اسی طرح پرائمری سرپلس (بجٹ کا اضافی توازن) بھی 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد ہو گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی، جس سے حکومت کو مالی معاملات میں مزید گنجائش حاصل ہوئی۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کئی نجی بحالی مراکز اور بحالی کلینکس ذہنی مریضوں، خواتین، بچوں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج گاہوں کے بجائے ’قید خانوں‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن گئی ہیں۔
’کیجڈ اِن کیئر: انویسٹیگیٹنگ ہیومن رائٹس وائیولیشنز اِن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز‘کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں این سی ایچ آر نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں قائم نجی بحالی مراکز کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی مراکز میں داخل کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک بند رکھا گیا، طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ بعض خواتین کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ایمان یاسین ملک کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق کئی خاندانوں نے ذاتی تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، گھریلو اختلافات یا ’نافرمانی‘ کے الزامات کی بنیاد پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بحالی مراکز بھجوا دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کئی مریضوں کو کسی عدالتی حکم یا طبی بورڈ کی منظوری کے بغیر قید رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے دیباچے میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے حکومتِ پاکستان سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری سے کام کرنا ہوگا۔ قانون سازوں کو ایسے قوانین بنانا اور نافذ کرنا ہوں گے جو لوگوں کو تحفظ دیں، نہ کہ انہیں قید میں ڈالیں۔ علاج سے وابستہ افراد کو اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ سول سوسائٹی کو شفافیت اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرتے رہنا ہوگا۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ذہنی صحت کا حق، عزت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
این سی ایچ آر کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ بعض مراکز میں مریضوں کے کمروں میں کیمرے نصب تھے، خواتین کی نگرانی کی جاتی تھی، فون استعمال کرنے یا خاندان سے رابطے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مریضوں کو طاقتور ادویات اور انجیکشن دیے گئے، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ کون سی دوا دی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں ایک وکیل خاتون ’سمان‘ کا کیس خاص طور پر نمایاں ہے، جنہیں ان کے بھائیوں نے زبردستی ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو کئی ماہ تک بند رکھا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور رہائی کے لیے خاندان کی اجازت ضروری قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک اور خاتون ’شازیہ‘ کو مبینہ طور پر ’نافرمانی‘ اور خاندان کے خلاف آواز اٹھانے پر بحالی مرکز بھیجا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کم عمر بچوں کو بھی بالغ افراد کے ساتھ رکھا گیا، جہاں وہ جسمانی اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار رہے۔ بعض بچوں کو صرف ’بدتمیزی‘، گھر سے بھاگنے یا رویے کے مسائل کی بنیاد پر مراکز میں داخل کیا گیا۔ این سی ایچ آر نے اس عمل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
کمیشن کے مطابق کئی مراکز میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ مریضوں کو گندے کمروں، بدبودار غسل خانوں اور غیر معیاری خوراک کا سامنا تھا۔ بعض مراکز میں مریضوں کو دن بھر کمروں میں بند رکھا جاتا تھا، دھوپ تک میسر نہیں تھی اور علاج کے نام پر صرف مذہبی لیکچر یا دعائیں کروائی جاتی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کئی مراکز بغیر مناسب نگرانی، تربیت یافتہ عملے یا لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔
این سی ایچ آر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذہنی صحت کے نظام میں فوری اصلاحات کریں، بحالی مراکز کی سخت نگرانی کی جائے، جبری داخلوں کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، جبکہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے اور کمیونٹی سطح پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو تشدد، سماجی دباؤ اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے ذہنی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرِ نفسیات کی تعداد ایک سے بھی کم ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ محدود ہیں اور نجی علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری کو اب بھی معاشرے میں ’شرمندگی‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مریضوں کو علاج دلانے کے بجائے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق یہی سماجی رویے بعض بحالی مراکز کو طاقت دیتے ہیں کہ وہ علاج کے نام پر لوگوں کو قید رکھیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال کریں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ سمجھا جائے۔ کمیشن کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بحالی مراکز کمزور، بے سہارا اور ذہنی مسائل کا شکار افراد کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔