Tag: رپورٹ

  • علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    علاج کے نام پر قید؟ این سی ایچ آر رپورٹ میں بحالی مراکز کے ہولناک راز بے نقاب

    قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کئی نجی بحالی مراکز اور بحالی کلینکس ذہنی مریضوں، خواتین، بچوں اور منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج گاہوں کے بجائے ’قید خانوں‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن گئی ہیں۔

    ’کیجڈ اِن کیئر: انویسٹیگیٹنگ ہیومن رائٹس وائیولیشنز اِن ری ہیبلی ٹیشن سینٹرز‘کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں این سی ایچ آر نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں قائم نجی بحالی مراکز کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر زبردستی مراکز میں داخل کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک بند رکھا گیا، طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ بعض خواتین کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    ایمان یاسین ملک کی تحریر کردہ اس رپورٹ کے مطابق کئی خاندانوں نے ذاتی تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، گھریلو اختلافات یا ’نافرمانی‘ کے الزامات کی بنیاد پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بحالی مراکز بھجوا دیا۔ کمیشن نے کہا کہ کئی مریضوں کو کسی عدالتی حکم یا طبی بورڈ کی منظوری کے بغیر قید رکھا گیا، جو بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    رپورٹ کے دیباچے میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے حکومتِ پاکستان سے فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ریگولیٹری اداروں کو دیانت داری سے کام کرنا ہوگا۔ قانون سازوں کو ایسے قوانین بنانا اور نافذ کرنا ہوں گے جو لوگوں کو تحفظ دیں، نہ کہ انہیں قید میں ڈالیں۔ علاج سے وابستہ افراد کو اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ سول سوسائٹی کو شفافیت اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرتے رہنا ہوگا۔ حکومت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ذہنی صحت کا حق، عزت اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    این سی ایچ آر کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ بعض مراکز میں مریضوں کے کمروں میں کیمرے نصب تھے، خواتین کی نگرانی کی جاتی تھی، فون استعمال کرنے یا خاندان سے رابطے کی اجازت نہیں تھی، جبکہ شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مریضوں کو طاقتور ادویات اور انجیکشن دیے گئے، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ کون سی دوا دی جا رہی ہے۔

    تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات میں ایک وکیل خاتون ’سمان‘ کا کیس خاص طور پر نمایاں ہے، جنہیں ان کے بھائیوں نے زبردستی ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو کئی ماہ تک بند رکھا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا اور رہائی کے لیے خاندان کی اجازت ضروری قرار دی گئی۔ اسی طرح ایک اور خاتون ’شازیہ‘ کو مبینہ طور پر ’نافرمانی‘ اور خاندان کے خلاف آواز اٹھانے پر بحالی مرکز بھیجا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کم عمر بچوں کو بھی بالغ افراد کے ساتھ رکھا گیا، جہاں وہ جسمانی اور جنسی استحصال کے خطرات سے دوچار رہے۔ بعض بچوں کو صرف ’بدتمیزی‘، گھر سے بھاگنے یا رویے کے مسائل کی بنیاد پر مراکز میں داخل کیا گیا۔ این سی ایچ آر نے اس عمل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

    کمیشن کے مطابق کئی مراکز میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ مریضوں کو گندے کمروں، بدبودار غسل خانوں اور غیر معیاری خوراک کا سامنا تھا۔ بعض مراکز میں مریضوں کو دن بھر کمروں میں بند رکھا جاتا تھا، دھوپ تک میسر نہیں تھی اور علاج کے نام پر صرف مذہبی لیکچر یا دعائیں کروائی جاتی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ کئی مراکز بغیر مناسب نگرانی، تربیت یافتہ عملے یا لائسنس کے کام کر رہے ہیں۔

    این سی ایچ آر نے سفارش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ذہنی صحت کے نظام میں فوری اصلاحات کریں، بحالی مراکز کی سخت نگرانی کی جائے، جبری داخلوں کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں، جبکہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد شکایتی نظام قائم کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے لیے بجٹ بڑھایا جائے اور کمیونٹی سطح پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ خواتین میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بے روزگاری، گھریلو تشدد، سماجی دباؤ اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے ذہنی بیماریوں میں اضافہ کیا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ماہرِ نفسیات کی تعداد ایک سے بھی کم ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈ محدود ہیں اور نجی علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری کو اب بھی معاشرے میں ’شرمندگی‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث کئی خاندان مریضوں کو علاج دلانے کے بجائے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق یہی سماجی رویے بعض بحالی مراکز کو طاقت دیتے ہیں کہ وہ علاج کے نام پر لوگوں کو قید رکھیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال کریں۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ سمجھا جائے۔ کمیشن کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو بحالی مراکز کمزور، بے سہارا اور ذہنی مسائل کا شکار افراد کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ’دنیا کو 2026 میں تاریخ کے سب سے بڑے توانائی جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جس نے عالمی معیشت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

    یہ دعویٰ انرجی ٹرانزیشن کمیشن (Energy Transitions Commission یا ETC) کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کی ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    ’Lessons on Energy Security after the Hormuz Crisis‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 18.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی متاثر ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران نے 1973 کے عرب آئل ایمبارگو سے بھی بڑا سپلائی جھٹکا پیدا کیا ہے۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن ایک عالمی اتحاد ہے جس میں توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ یہ ادارہ دنیا کو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کی طرف منتقل کرنے سے متعلق پالیسی اور تحقیقاتی سفارشات تیار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمیشن کے شریک چیئرمین لارڈ ایڈیر ٹرنر اور جولس کورٹن ہورسٹ ہیں جبکہ یہ ادارہ SYSTEMIQ کے تحت کام کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً 84 فیصد اور ایل این جی کا 80 فیصد ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، اسی لیے بحران کا سب سے زیادہ اثر ایشیا پر پڑ رہا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت اور فلپائن کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں ایندھن کی حقیقی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل پی جی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ریستورانوں اور کینٹینز نے اوقات کار محدود یا بندش اختیار کرلی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صنعتی ادارے مخصوص ایندھن کی دستیابی کے مطابق اپنی پیداوار محدود کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بعض کسان کھاد کے بغیر کاشتکاری پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے توانائی بحرانوں کی طرح ایک بار پھر دکانوں اور ریستورانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ توانائی بچانے کے لیے ریموٹ ورک اور کم اوقات کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کیے گئے جبکہ بنگلہ دیش میں جامعات بند کی گئیں اور گھروں و کاروباری مراکز کو غیر ضروری روشنیاں کم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 سے 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں جبکہ ایشیائی ایل این جی قیمتیں 10 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 25 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران سے 2026 کے دوران عالمی معیشت پر اضافی ایک سے دو ٹریلین ڈالر تک کے ایندھن اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور یورپی یونین کو روزانہ تقریباً 500 ملین یورو کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ کئی برس متاثر رہ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کردیا ہے کہ فوسل فیول نظام مسلسل درآمد، ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے جنگ، جغرافیائی تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹ فوری طور پر پوری دنیا میں قیمتوں کے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ منتشر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور بجلی کے گرڈ۔

    رپورٹ کے مطابق صاف توانائی کے منصوبوں میں 70 سے 90 فیصد لاگت ابتدائی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کے اچانک جھٹکوں کا اثر نسبتاً کم پڑتا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کو فوسل فیول قیمتوں کے بدترین اثرات سے جزوی تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر 2022 کے بحران کے بعد۔

    رپورٹ میں حکومتوں کو پانچ بڑے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قابل تجدید بجلی کی تیز رفتار توسیع، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، بجلی پر مبنی ہیٹنگ اور کوکنگ، گرین فیول اور گرین فرٹیلائزر کی تیاری، اور توانائی بچت شامل ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومتیں بحران کے ردعمل میں نئی فوسل فیول انفراسٹرکچر، نئی کوئلہ صلاحیت یا طویل المدتی ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے مستقبل میں مزید معاشی اور توانائی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن کے شریک چیئرمین ایڈیر ٹرنر کے مطابق موجودہ بحران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی کمزوری بھی ہے، جبکہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

  • سانحہ کراچی: 12 مئی 2007 کو کیا ہوا؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

    سانحہ کراچی: 12 مئی 2007 کو کیا ہوا؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

    12 مئی 2007 پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے جب کراچی کئی گھنٹوں تک عملی طور پر میدانِ جنگ بنا رہا۔ شہر کی سڑکوں پر مسلح جتھے آزادانہ انداز میں گھومتے رہے، فائرنگ ہوتی رہی، لاشیں گرتی رہیں اور ریاستی ادارے تقریباً مفلوج دکھائی دیے۔

    یہ وہ دن تھا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کراچی پہنچے تھے، جہاں وکلا اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استقبال کی تیاری کر رکھی تھی۔ لیکن شہر میں ایسا خونریز تصادم ہوا جس نے پاکستان کی سیاست، عدلیہ اور میڈیا پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے اپنی سالانہ رپورٹ برائے 2007 میں 12 مئی کے واقعات کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی۔ اس کے علاوہ اگست 2007 میں کمیشن نے “Carnage in Karachi – A City Under Siege” کے عنوان سے ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری کی، جس میں 12 مئی کو کراچی میں پیش آنے والے واقعات کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی۔

    یہ رپورٹ اخباری اطلاعات، چشم دید گواہوں کے بیانات، حلف ناموں اور متاثرین کی شہادتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔ ایچ آر سی پی نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی عدالتی عمل پر اثر انداز ہونا یا کسی فریق کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینا نہیں، بلکہ ایک ایسا تاریخی ریکارڈ مرتب کرنا تھا جو مستقبل میں حقائق تک رسائی میں مدد دے سکے۔

    مشرف حکومت اور تحقیقات سے انکار

    ایچ آر سی پی کی 2007 سالانہ رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر صدر جنرل پرویز مشرف نے 12 مئی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبات مسترد کر دیے تھے۔ اس روز ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 40 افراد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف ذرائع میں تعداد اس سے زیادہ بھی بتائی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ان ہلاکتوں کا الزام وسیع پیمانے پر اُس سیاسی جماعت پر عائد کیا گیا جو اُس وقت سندھ میں حکومت کا حصہ تھی اور جنرل مشرف کی حامی سمجھی جاتی تھی، یعنی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)۔ تاہم ایم کیو ایم نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے کارکن بھی تشدد کا نشانہ بنے۔

    عدالتوں میں کارروائیاں اور توہینِ عدالت کی درخواستیں

    12 مئی کے واقعات کے بعد قانونی محاذ پر بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ ایچ آر سی پی رپورٹ میں سندھ ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواستوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف جسٹس کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ عدالت پہلے ہی اس حوالے سے احکامات جاری کر چکی تھی۔

    عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، سندھ کے ہوم سیکریٹری، چیف سیکریٹری، صوبائی پولیس چیف اور سٹی پولیس چیف کو طلب کیا تاکہ وہ الزامات کا جواب دیں۔ متعلقہ حکام نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، لیکن عدالت نے انہیں صرف ایک ہفتے کا وقت دیا۔

    بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس کو ایک تفصیلی ریفرنس بھیجا جس میں بتایا گیا کہ 12 مئی کو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں، ماتحت عدلیہ کے ججوں اور وکلا کے ساتھ کیا کچھ پیش آیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک سات رکنی بینچ تشکیل دیا اور متعدد حکام کو نوٹس جاری کیے۔ تاہم یہ مقدمہ فروری 2008 میں خارج کر دیا گیا۔

    سندھ ہائی کورٹ پر دھاوا

    ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں 2007 کے دوران عدالتی عمل میں مداخلت کے ایک اور سنگین واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ستمبر 2007 میں، جب 12 مئی کیس کی سماعت جاری تھی، تقریباً دو ہزار افراد کے ایک ہجوم نے سندھ ہائی کورٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

    رپورٹ کے مطابق ہجوم نے عدالت کے ڈویژن بینچ کو 12 مئی کے قتل عام کی سماعت ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے میں تقریباً 43 افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔ ایم کیو ایم، جس پر اس ہجوم کو منظم کرنے کا الزام لگایا گیا، نے مؤقف اختیار کیا کہ لوگ صرف حلف نامے جمع کرانے اور عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے عدالت پہنچے تھے۔

    کراچی بند، سڑکیں سیل، کنٹینرز کی رکاوٹیں

    رپورٹ کے مطابق 12 مئی کے روز سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا روٹ اور شیڈول تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

    شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی تھی جبکہ آرٹس کونسل، سندھ اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل، صدر اور برنس روڈ سے سندھ ہائی کورٹ جانے والی شاہراہوں کو شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

    کراچی عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں تھیں، دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی اور سڑکوں کی بندش نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی تھی۔

    میڈیا پر حملے اور آج ٹی وی کا محاصرہ

    12 مئی کے واقعات کا ایک اہم پہلو میڈیا پر حملے بھی تھے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق کئی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کر دی گئی تھیں کیونکہ وہ چیف جسٹس کی ریلی اور شہر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی براہِ راست کوریج نشر کر رہے تھے۔

    کیبل آپریٹرز نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکام کی جانب سے نشریات بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

    اسی دوران کراچی میں آج ٹی وی کے دفتر پر مسلح حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے دفتر کی پارکنگ میں کھڑی ایک درجن سے زائد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق آج ٹی وی اس وقت اپنے دفتر کے باہر بزنس ریکارڈر روڈ پر موجود مسلح نوجوانوں اور پٹیل پاڑہ میں ہونے والی فائرنگ کی براہِ راست تصاویر نشر کر رہا تھا۔

    جب نشریات جاری رہیں تو حملہ آوروں نے آج ٹی وی کی عمارت پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔ اسی عمارت میں روزنامہ بزنس ریکارڈر کے دفاتر بھی قائم تھے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے مدد کی اپیلوں پر کارروائی کرنے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگا دیے، جبکہ اس دوران چینل کے تقریباً 350 صحافی، سب ایڈیٹرز اور کیمرہ مین شدید خطرے میں محصور رہے۔

    ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز اور صحافی یونینز نے آج ٹی وی پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو الیکٹرانک میڈیا کو تحفظ فراہم نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

    12 مئی کے روز ایدھی فاؤنڈیشن کے دو ایمبولینس ڈرائیور بھی ڈیوٹی کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔ اس واقعے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا، کیونکہ امدادی کارکن بھی محفوظ نہیں رہے تھے۔

    ایچ آر سی پی کا مؤقف

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ کراچی میں بے گناہ شہریوں کے قتل کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

    کمیشن کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سیاسی تشدد کے کلچر سے جڑا ایک اہم معاملہ تھا۔

    ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ اگر ایسے واقعات میں ملوث عناصر کا احتساب نہ کیا گیا تو سیاسی جماعتیں مستقبل میں بھی طاقت اور تشدد کا راستہ اختیار کرتی رہیں گی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مسلح اور پرتشدد سیاست کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

    ایچ آر سی پی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی شعور اور جمہوری عمل صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ شہریوں کو بھی فعال اور باخبر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کا راستہ روکا جا سکے۔

  • ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ: دنیا بھر میں صحافت خطرے میں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں آزادی محدود

    ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ: دنیا بھر میں صحافت خطرے میں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں آزادی محدود

    عالمی سطح پر صحافت کو درپیش خطرات اور دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم Reporters Without Borders کی تازہ رپورٹ 2026 نے اس صورتحال کو مزید تشویشناک قرار دیا ہے۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان میں حالات خاص طور پر پریشان کن ہیں، جہاں ملک کو آزادیٔ صحافت میں 153ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کو مسلسل پابندیوں اور دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر ایسے سیاسی ماحول میں جہاں ریاستی ادارے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز پر غیر اعلانیہ دباؤ، صحافیوں کے خلاف مقدمات، اور میڈیا کے اندر خود سنسرشپ کا بڑھتا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار عملی طور پر محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ کئی صحافیوں کو دھمکیوں، گرفتاریوں اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس سے پیشہ ورانہ ماحول مزید غیر محفوظ ہو جاتا ہے اور آزادانہ رپورٹنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

    یہ سال گزشتہ 25 برسوں میں صحافتی آزادی کے لیے بدترین ثابت ہوا ہے۔ دنیا کے نصف سے زائد ممالک اب ‘مشکل’ یا ‘انتہائی سنگین’ کی درجہ بندی میں آ چکے ہیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ آزاد صحافت کا دائرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے اور میڈیا کے لیے کام کرنے کی جگہ مسلسل محدود ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2026 سے اب تک دنیا بھر میں 13 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 471 صحافی جیلوں میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم 21 صحافی یرغمال ہیں اور 135 لاپتہ ہیں۔

    یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ صحافت اب محض ایک پیشہ نہیں رہا بلکہ کئی ممالک میں جان جوکھوں کا کام بن چکا ہے، جہاں سچ کی تلاش اور اس کی اشاعت خود ایک خطرہ بن چکی ہے۔

    آر ایس ایف کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں انڈیکس میں شامل 180 ممالک اور خطوں کا اوسط اسکور کبھی بھی اتنا کم نہیں رہا جتنا اب ہے۔ 2001 سے اب تک سخت اور پابندیوں والے قوانین میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر وہ قوانین جو قومی سلامتی کی پالیسیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان قوانین کے باعث معلومات تک رسائی کا حق بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جہاں جمہوری نظام موجود ہے اور جہاں آزادیٔ اظہار کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران انڈیکس کے قانونی اشاریے میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کو بڑھتے ہوئے پیمانے پر جرم بنایا جا رہا ہے۔ حکومتیں نہ صرف سخت قوانین متعارف کرا رہی ہیں بلکہ موجودہ قوانین کا استعمال بھی اس انداز میں کیا جا رہا ہے جس سے صحافیوں اور میڈیا اداروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    نارتھ امریکہ کے خطے میں بھی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جہاں خود امریکہ سات درجے نیچے آ گیا ہے۔ یہ تنزلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحافتی آزادی کے چیلنجز صرف ترقی پذیر یا آمرانہ ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ ترقی یافتہ جمہوریتیں بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں ہیں۔

    اسی طرح لاطینی امریکہ کے کئی ممالک تشدد اور جبر کے بڑھتے ہوئے چکر میں مزید گہرائی تک جا چکے ہیں، جہاں صحافیوں کے لیے کام کرنا مسلسل خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

    جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی خاصی تشویشناک ہے۔ بھارت، جو انڈیکس میں پاکستان سے بھی نیچے 157ویں نمبر پر ہے، وہاں صحافت کو قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہنگامی قوانین اور دیگر قانونی دفعات کا استعمال صحافیوں کے خلاف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث تنقیدی رپورٹنگ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور میڈیا پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    حکومت اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صحافتی آزادی کو مزید متاثر کیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں ڈیجیٹل سکیورٹی قوانین کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف کارروائیاں عام ہو چکی ہیں۔ ان قوانین کا استعمال اکثر تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے آزادیٔ اظہار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    نیپال میں اگرچہ جمہوری نظام موجود ہے، لیکن سیاسی عدم استحکام اور میڈیا پر دباؤ کے واقعات وہاں بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جو صحافتی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔

    سری لنکا میں معاشی بحران کے بعد میڈیا کو درپیش مشکلات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اور میڈیا کے تعلقات میں تناؤ، اور بعض اوقات صحافیوں کے خلاف کارروائیاں، آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ افغانستان میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے، جہاں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد میڈیا تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ خواتین صحافیوں پر پابندیاں، میڈیا اداروں کی بندش اور سخت سنسرشپ نے اطلاعات کے آزاد بہاؤ کو شدید حد تک محدود کر دیا ہے۔

    عالمی سطح پر بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ امریکہ، جو خود کو آزادیٔ اظہار کا علمبردار سمجھتا ہے، 64ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ Donald Trump کے دور میں میڈیا پر تنقید اور پالیسی سطح پر دباؤ نے صحافتی ماحول کو متاثر کیا، جبکہ بعد ازاں بھی میڈیا اور حکومت کے تعلقات میں کشیدگی کے اثرات برقرار رہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صحافت کو جرم بنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 180 میں سے 110 ممالک میں قانونی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، جہاں حکومتیں ہنگامی قوانین اور دیگر قانونی حربوں کو استعمال کر کے صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    روس جیسے ممالک میں انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے قوانین کو میڈیا پر پابندیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے آزاد رپورٹنگ مزید محدود ہو رہی ہے۔

    یہ صورتحال صرف آمرانہ حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ جمہوری ممالک میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جاپان میں ریاستی راز کے قوانین اور جنوبی کوریا میں ‘جھوٹی معلومات’ کے خلاف اقدامات نے صحافیوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

    ان اقدامات کو اکثر آزادیٔ اظہار کے خلاف سمجھا جاتا ہے، جس سے عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    آر ایس ایف کے مطابق صحافت کو درپیش خطرات صرف جسمانی نہیں بلکہ معاشی بھی ہیں۔ میڈیا اداروں کی مالی حالت کمزور ہونے سے آزاد رپورٹنگ متاثر ہو رہی ہے۔ اشتہارات میں کمی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا دباؤ، اور بعض اوقات حکومتی کنٹرول کے باعث کئی ادارے اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر صحافتی معیار اور آزادی پر پڑ رہا ہے۔

    ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جاری ہونے والی اس رپورٹ نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اگر صحافت کو بچانا ہے تو عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    آزاد میڈیا کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس کے بغیر شفافیت، احتساب اور عوامی آگاہی ممکن نہیں۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومتیں، ادارے اور معاشرے مل کر ایسے اقدامات کریں جو صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ اظہار کے فروغ کو یقینی بنا سکیں، تاکہ صحافت اپنا بنیادی کردار مؤثر انداز میں ادا کرتی رہے۔

  • پاکستان میں غربت میں اضافہ، دیہی غربت کی شرح 36.2 فیصد تک پہنچ گئی: رپورٹ

    پاکستان میں غربت میں اضافہ، دیہی غربت کی شرح 36.2 فیصد تک پہنچ گئی: رپورٹ

    حکومتِ پاکستان کے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ 2018-19 میں یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔ اسی دوران دیہی علاقوں میں غربت کی شرح بڑھ کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    غربت کے تخمینے سے متعلق ابتدائی رپورٹ 2024-25 کے مطابق سال 2024-25 کے لیے مہنگائی کے حساب سے غربت کی حد 8,484 روپے ماہانہ فی بالغ فرد مقرر کی گئی۔ اس بنیاد پر ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں سب سے زیادہ اضافہ دیہی علاقوں میں ہوا۔ دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری علاقوں میں بھی غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

    رپورٹ کے مطابق صوبائی سطح پر بھی غربت اور آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آمدنی کی ناہمواری ناپنے کے پیمانے، گنی کوایفیشنٹ، میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیر اور غریب طبقوں کے درمیان آمدنی کا فرق مزید بڑھ رہا ہے۔

    اس سے قبل ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2024 کے دوران پاکستان میں غربت میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد غربت کی شرح 25.3 فیصد تک پہنچ گئی اور مزید ایک کروڑ 30 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے۔

    ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق انسانی وسائل کے شعبے میں بھی سنگین مسائل موجود ہیں۔ تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، پرائمری اسکول جانے کی عمر کے ایک چوتھائی بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے باوجود 75 فیصد بچے ایک سادہ کہانی پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا  کہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں بھی کمی پائی جاتی ہے۔ 2018 میں صرف نصف گھرانوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل تھی، جبکہ 31 فیصد آبادی محفوظ صفائی کی سہولت سے محروم تھی۔

    شہری اور دیہی عدم مساوات

    حکومتی رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر عدم مساوات کا اشاریہ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہوگیا۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 31.0 سے بڑھ کر 34.4 اور دیہی علاقوں میں 23.4 سے بڑھ کر 29.2 تک پہنچ گئی۔

    صوبوں کے لحاظ سے پنجاب میں عدم مساوات 28.4 سے بڑھ کر 32.0، سندھ میں 29.7 سے بڑھ کر 35.9، خیبر پختونخوا میں 24.8 سے بڑھ کر 29.4 اور بلوچستان میں 21.0 سے بڑھ کر 26.5 ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کے بعد پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز، جن میں داخلی اور بیرونی عوامل شامل ہیں، غربت میں اضافے کی اہم وجوہات رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی، معاشی سست روی اور آمدنی کے مواقع میں کمی نے عام شہریوں کی معاشی صورتحال کو متاثر کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019 سے مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کو عالمی اور ملکی سطح پر مشکل معاشی حالات کا سامنا رہا۔ کووڈ-19 وبا کے باعث معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جبکہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا، جس سے حقیقی آمدنی متاثر ہوئی۔

    اس کے علاوہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے سپلائی چینز کو متاثر کیا، جبکہ شدید موسمیاتی اثرات نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ خصوصاً 2022 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 30.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ 2025 میں 2.9 ارب ڈالر کے نقصانات نے روزگار، زرعی پیداوار اور اہم بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں غربت کے خطرات مزید بڑھ گئے۔

    حکومتِ پاکستان نے بڑھتی ہوئی غربت کے رجحانات کو تبدیل کرنے اور جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے ذریعے سب کے لیے مساوی اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس کے مرکز میں غربت میں کمی اور معاشی نمو کو بڑھانے والے اقدامات شامل ہیں۔

    اس سلسلے میں حکومت کا دعویٰ ہےکہ ’اُڑان پاکستان‘ فریم ورک پر عملدرآمد کیا جارہاہے، جو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی پر زور دیتا ہے، جس میں مساوات اور بااختیاری کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے تاکہ معاشی ترقی کے فوائد وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچیں اور معاشرے کا کوئی بھی طبقہ پیچھے نہ رہ جائے۔

  • عالمی سطح پر سیاست دانوں کو تشدد، دھمکیوں اور آن لائین ہراسانی کی بڑھتی لہر کا سامنا: آئی پی یو کی رپورٹ میں انکشاف

    عالمی سطح پر سیاست دانوں کو تشدد، دھمکیوں اور آن لائین ہراسانی کی بڑھتی لہر کا سامنا: آئی پی یو کی رپورٹ میں انکشاف

    بین الاقوامی پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی جاری کردہ رپورٹ میں امکشاف کیا گیاہے کہ عالمی سطح پر سیاست دانوں کو تشدد، دھمکیوں اور آن لائین ہراسانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے باعث پھیلنے والا یہ رجحان جمہوریت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

    خبررساں ادارے روئٹرکے مطابق آئی پی یو کی یہ سروے کا بڑا حصہ 2025 میں کیا گیا تھا۔ جس میں 80 سے زائد ممالک کے پارلیمینٹیرینز سے سوالات کیے گئے۔

    ارجنٹائن، بینن، اٹلی، ملائیشیا اور نیدرلینڈز کے 519 منتخب نمائندوں سے تفصیلی سوالنامے پُر کروائے گئے تاکہ عالمی سطح پریکساں صورت حال سامنے لائی جائے۔

    دنیا بھر کی 183 قومی پارلیمان کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انٹرپارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کے 71 فیصد ارکان نے عوام کی جانب سے تشدد یا ہراسانی خاص طور پر آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسے واقعات کی تصدیق کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین سیاست دان زیادہ نشانہ بن رہی ہیں، بالخصوص جنسی نوعیت کی ہراسانی کے معاملات میں ان کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چونگونگ نے کہا: ‘دنیا بھر میں قانون ساز اور پارلیمانی نمائندے بڑھتی ہوئی دھونس اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر اس رجحان کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ عالمی سطح پر جمہوریت کے لیے سنگین نتائج پیدا کرے گا۔’

    کیمرون سے تعلق رکھنے والے چونگونگ نے کہا کہ امریکا میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ انہوں نے پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو، سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے شوہر پر حملے، اور کانگریس وومن الہان عمر کے خلاف واقعات کا حوالہ دیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا میں اب صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں گولی ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔

    چونگونگ کا کہنا تھا کہ بہت سے قانون ساز آن لائن ہراسانی اور جان کے خطرات کے باعث اب یہ سوچ کر بات کرتے یا لکھتے ہیں کہ کہیں ان کی ذاتی سلامتی کو نقصان نہ پہنچے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے رویے سیاست دانوں کی عوامی سرگرمیوں کو محدود کر رہے ہیں۔’وقت کے ساتھ ساتھ یہ دھمکیاں نمائندگی کو محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔’

    آئی پی یو کے مطابق سیاست دانوں پر حملوں کو نئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت مزید ہوا دے رہی ہیں، جبکہ زیادہ تر آن لائن نفرت اور اشتعال انگیزی گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی ہے اور بعض اوقات اس میں ریاستی عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔