[rank_math_breadcrumb]

کراچی: 1920 میں تعمیر ہونے والی قدیم عمارت ‘ہندو دھرم شالہ’ اب کس حال میں ہے؟

کراچی کے مرکزی تجارتی شاہراہ آئی آئی چندریگر اور پیپر مارکیٹ کے درمیان واقع حقانی چوک کے قریب واقع ’پارسرام پی دریانانی والا‘ عمارت برطانوی دور کے دوران 1920 میں تعمیر کی گئی۔

اس دور میں کراچی برصغیر کا ایک اہم بندرگاہی اور تجارتی مرکز بن چکا تھا، جہاں سے غلہ، کپاس اور دیگر اشیاء بڑے پیمانے پر برآمد کی جاتی تھیں۔ شہر میں ہندو، مسلمان، پارسی اور دیگر برادریاں تجارت میں سرگرم تھیں، جن میں ہندو تاجر طبقہ خاص طور پر معاشی طور پر مضبوط اور بااثر سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں کئی مخیر ہندو خاندانوں نے عوامی فلاح کے لیے دھرم شالائیں، مسافر خانے اور دیگر عمارتیں تعمیر کروائیں تاکہ دور دراز سے آنے والے لوگوں کو رہائش اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

’ہندو میس ایسوسی ایشن‘کے زیر انتظام رہنے والی یہ تاریخی عمارت ایک اجتماعی قیام و طعام کی جگہ تھی۔ اس وقت کراچی سے غلہ برآمد کرنے والے تاجر اس دھرم شالہ (مسافر خانہ) میں قیام کیا کرتے تھے۔

یہ چار منزلہ عمارت ہے جس کی نچلی منزل پر دکانیں اور اوپر کی منزلوں پر گھر بنے ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے رہائشی عبدالستار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس عمارت میں تقریباً 50 گھر اور 14 دکانیں بنی ہوئی ہیں۔

عبدالستار کے مطابق: ‘ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے تعمیر کے باوجود یہ عمارت آج بھی ایک مضبوط عمارت ہے۔’

اس پر درج عبارت ’پارسرام پی دریانانی والا‘ اس کے مالک یا سرپرست کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہاں مسافر، تاجر یا ملازمت پیشہ افراد عارضی رہائش اختیار کرتے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے کراچی میں اس نوعیت کی کمیونٹی عمارتیں عام تھیں اور یہ شہر کے سماجی و معاشی نظام کا اہم حصہ تھیں۔

1947 کے بعد اس عمارت کی اصل حیثیت اور استعمال میں تبدیلی آ گئی۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں بہت سے ہندو خاندان ہجرت کر گئے، جس کے بعد ایسی عمارتوں کی ملکیت اور استعمال میں بھی تبدیلیاں آئیں۔

آج یہ عمارت کراچی کے کثیرالثقافتی ماضی کی ایک اہم نشانی ہے، جو نہ صرف شہر کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس دور کی سماجی ہم آہنگی اور فلاحی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

اسی بارے میں: