آج کے دور میں جب ہم کراچی کی شاہراہوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ہجوم دیکھتے ہیں تو یہ تصور کرنا مشکل لگتا ہے کہ کبھی اسی شہر میں سائیکل کو ایک باقاعدہ ’گاڑی‘ کا درجہ حاصل تھا۔
وہ ایک ایسا دور تھا جب سڑک پر سائیکل لانے کے لیے آپ کی جیب میں لائسنس اور سائیکل کے مڈگارڈ پر کراچی پولیس کا جاری کردہ ٹوکن ہونا لازمی تھا۔
سائیکل پر لائٹ اور ڈائنامو ہونا بھی لازمی شرط تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پولیس اہلکار آپ کو بیچ سڑک روک کر نہ صرف جرمانہ کر سکتے تھے بلکہ آپ کی سواری ضبط کر کے تھانے بھی منتقل کی جا سکتی تھی۔ ’اگر کسی سائیکل پر ڈائنامو والی لائٹ نہیں ہوتی تھی تو وہ رات کو سیل والی ٹارچ لگا دیتا تھا،‘ لیاری سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ابراہیم صالح محمد نے بتایا۔
سائیکل کے ساتھ ساتھ ان دنوں کراچی میں سائیکل رکشہ بھی چلتے تھے، جو اس وقت کی کمرشل گاڑی تھی، مگر موٹر رکشا آنے کے بعد سائیکل رکشا ختم ہو گئے۔ سائیکل آج تک موجود ہے۔
ایک وائرل تصویر اور ماضی کی یادیں
برٹش راج کے دوران سائیکل لائسنس انڈیا کے بڑے بڑے شہروں، جیسا کہ بمبئی، کلکتہ، مدراس اور کراچی میں رائج تھا۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر 1956 کے ایک پرانے سائیکل لائسنس کی تصویر نے نئی اور پرانی نسل کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ یہ لائسنس اروند وی دیش پانڈے نامی شہری کے نام پر ممبئی پولیس نے جاری کیا تھا۔ چونکہ قیام پاکستان سے قبل 1936 تک سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھا، اس لیے کراچی کا بلدیاتی اور پولیس کا نظام بھی بالکل دیگر بڑے شہروں کی طرز پر کام کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تصویر نے کراچی کے بزرگوں کو بھی وہ وقت یاد دلا دیا ہوگا جب یہاں ’وہیل ٹیکس‘ وصول کیا جاتا تھا۔
سینیئر صحافی ابراہیم صالح محمد کے مطابق کراچی میں سائیکل کا لائسنس ہوتا تھا جو کہ علاقے کے تھانے سے جاری ہوتا تھا۔ ان کے مطابق پولیس والے باقاعدگی سے لائسنس چیک کرتے رہتے تھے۔
ایک اور سینیئر صحافی اور مشہور کرکٹر اور اسپورٹس رائٹر قمر احمد کے مطابق کراچی میں سائیکل لائسنس یا سائیکل ٹیکس مارشل لا ڈکٹیٹر ایوب خان کی جانب سے دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے تک رائج تھا، مگر بعد میں فوجی حکومتوں نے اس طرف کم توجہ دی اور پھر موٹر گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔
کراچی میں سائیکل لائسنس کا نظام
اپنے قیام کے بعد سے لے کر آزادی کے کئی برسوں بعد بھی کراچی میں سائیکلوں کی رجسٹریشن ہوتی تھی۔ اس وقت ہر سائیکل سوار کو سالانہ بنیادوں پر ایک معمولی فیس ادا کرنی پڑتی تھی، جس کے بدلے اسے پیتل یا ایلومینیم کا ایک چھوٹا سا ٹوکن دیا جاتا تھا۔
کراچی کے پرانے باسی مجید موٹانی، جو ابراہیم حیدری میں رہتے ہیں، بتاتے ہیں کہ یہ ٹوکن سائیکل کے پچھلے مڈگارڈ پر نمایاں جگہ پر لگایا جاتا تھا۔ مجید موٹانی، جو ماہی گیر ہیں اور لانچوں کے انجن مرمت کرنے کے ماہر ہیں، نے بتایا کہ ہر سال اس سائیکل ٹوکن کا رنگ یا ڈیزائن تبدیل کر دیا جاتا تھا تاکہ دور سے ہی یہ پہچانا جا سکے کہ مالک نے اس سال کا ٹیکس ادا کیا ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق ان کے ایک رشتہ دار نے سائیکل کا ٹوکن سنبھال کر رکھا ہوا تھا، مگر ان کی وفات کے بعد وہ ٹوکن کہاں گیا، ان کے گھر والوں کو بھی نہیں پتا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کباڑی والے کو بیچ دیا گیا ہو۔
کراچی کے پرانے دور میں پولیس کانسٹیبل بندر روڈ، میکلوڈ روڈ اور صدر ایمپریس مارکیٹ جیسے مصروف علاقوں میں باقاعدہ ناکہ بندی کرتے تھے اور سائیکلوں کو چیک کرتے رہتے تھے۔
مجید موٹانی نے بتایا کہ ’اگر کسی کی سائیکل پر ٹوکن نہیں ہوتا تھا تو پولیس اہلکار سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے یا اسے ضبط کر کے قریبی چوکی پر لے جاتے تھے۔ پھر مالک کو بلدیہ کے دفتر جا کر جرمانہ بھرنا پڑتا تھا اور رسید دکھا کر اپنی سائیکل چھڑانی پڑتی تھی۔‘ یہ نظم و ضبط اس بات کی علامت تھا کہ مقامی حکومت ہر چھوٹی بڑی سرگرمی پر نظر رکھتی تھی۔
سائیکل: ایک معزز سواری
اس وقت سائیکل محض غریب کی سواری نہیں تھی بلکہ اسکول کے اساتذہ، کلرک، صحافی اور یہاں تک کہ چھوٹے افسران بھی فخر سے سائیکل استعمال کرتے تھے۔ لائسنس کا ہونا اس بات کا ثبوت ہوتا تھا کہ شہری قانون پسند ہے اور اس کی سواری باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ پولیس کی سختی بھی ہوتی تھی، اس لیے ہر کوئی سائیکل ٹیکس بھرتا تھا۔
بمبئی کے اس وائرل لائسنس پر درج دو روپے کی فیس اس زمانے میں ایک معقول رقم سمجھی جاتی تھی۔ مجید موٹانی نے بتایا کہ کراچی میں سائیکل فیس ایک روپیہ ہوتی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں بھی ریکارڈ برقرار رکھنے کے لیے ٹائپ رائٹر کا استعمال اور باقاعدہ فائلنگ کا نظام موجود تھا۔ جس طرح بمبئی کی اس وائرل تصویر میں پولیس تھانے کی مہر اور سائیکل کا میک بھی نظر آتا ہے، ویسے ہی کراچی کے بلدیاتی دفاتر میں ہر رجسٹرڈ سائیکل کا ڈیٹا موجود ہوتا تھا۔
یہ نظام موجودہ وقت کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم جتنا جدید تو نہیں تھا، لیکن اپنے وقت کے لحاظ سے انتظامی طور پر انتہائی مضبوط تھا۔
نظام کا خاتمہ کیوں ہوا؟
صحافی قمر احمد کے مطابق وہ 1964 میں بیرون ملک چلے گئے، مگر ان کو معلوم ہے کہ کراچی میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تھا اور کراچی کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس تناسب سے سائیکلوں کی تعداد بھی بڑھ گئی، اس لیے ہر ایک سائیکل کا ریکارڈ رکھنا اور ایک ایک روپیہ ٹیکس جمع کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بوجھ بن گیا۔ ٹیکس وصولی پر آنے والے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہونے لگے۔ چنانچہ آہستہ آہستہ اس قانون کو نرم کر دیا گیا اور بالآخر یہ نظام ہی ختم ہو گیا۔
آج جب ہم پرانے لائسنس یا پیتل کے ٹوکنز کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ہمیں کراچی کے اس سنہرے دور کی یاد آتی ہے جب سڑکوں پر شور کم اور نظم و ضبط زیادہ تھا۔ یہ لائسنس محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ اس عہد کی یادگار ہے جب کراچی کی سڑکیں سائیکلوں کے پہیوں سے آباد تھیں اور ہر پہیہ قانون کے دائرے میں گھومتا تھا۔

