کیا آپ کو یقین آ رہا ہے کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال واقعی اتنے غریب ہیں کہ ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ہے؟ کیا واقعی سابق ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال اتنے کم وسائل کے مالک ہیں جتنا کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا گیا ہے، یا پھر یہ اعداد و شمار کسی اور کہانی کی نشاندہی کرتے ہیں؟
کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 247 سے ان کے جمع کرائی گئی دستاویزات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق سید مصطفیٰ کمال نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات میں یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پاس کسی قسم کی غیر منقولہ جائیداد موجود نہیں۔ یعنی نہ تو ان کے نام پر کوئی گھر ہے، نہ پلاٹ اور نہ ہی کوئی کمرشل پراپرٹی، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بیرون ملک۔
یہ انکشاف خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیوں کہ مصطفیٰ کمال سابق فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں ایم کیو ایم کے کراچی کے سابق ناظم رہ چکے ہیں، جو شہر کا ایک اہم انتظامی عہدہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم دستاویزات کے مطابق انہوں نے ایک نجی کمپنی ’ٹرانس گلوبل کنسلٹنسی (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ میں اپنی ملکیت ظاہر کی ہے، جہاں وہ بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کمپنی کا سرمایہ تقریباً 40 لاکھ روپے بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر مالی اثاثے بھی زیادہ بڑے نہیں دکھائے گئے۔
تفصیلات کے مطابق سید مصطفیٰ کمال کے پاس تقریباً ایک لاکھ 94 ہزار روپے کی سرمایہ کاری موجود ہے، جبکہ بینک اکاؤنٹس میں ان کی رقم تقریباً ایک لاکھ 93 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ گھریلو استعمال کی اشیا، جیسے فرنیچر وغیرہ، کی مالیت ایک لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے نام پر نہ کوئی گاڑی ہے، نہ زیورات اور نہ ہی کوئی بیرون ملک اثاثہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اگر ان کے واجبات کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے 12 لاکھ روپے کے غیر محفوظ قرضے ظاہر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کسی قسم کے بینک قرضے، اوور ڈرافٹ یا جائیداد پر رہن ہونے کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ حلف نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف نامزدگی جمع کرانے سے قبل کسی قسم کا فوجداری مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا۔
ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ معلومات کے مطابق وہ ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور خود کو بزنس مین اور کنسلٹنٹ ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے گذشتہ تین سال کے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تصدیق بھی کی ہے، تاہم ان گوشواروں میں قابلِ ادا ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا ہے، جو ایک اور اہم نکتہ ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے اثاثے، جو ماضی میں کراچی جیسے بڑے شہر کا ناظم رہ چکا ہو، اتنے محدود ہونا حیران کن ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سادگی اور شفافیت کی مثال ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کے مطابق اس میں مزید چھان بین کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
دوسری جانب مصطفیٰ کمال یا ان کی جماعت کی جانب سے ان تفصیلات پر کوئی غیر معمولی وضاحت سامنے نہیں آئی، اور یہ تمام معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے جون 2018 میں ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور بھی کر لیے گئے تھے، جس کے بعد وہ این اے 247 سے باقاعدہ انتخاب لڑنے کے اہل قرار پائے۔
یہ معاملہ اب عوامی بحث کا موضوع بن چکا ہے کہ آیا یہ اعداد و شمار مکمل حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سوالات اور وضاحتیں سامنے آنے کا امکان ہے، کیوں کہ شفافیت اور احتساب کا مطالبہ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔
