17 اپریل 1977: جب ‘مشرق کے پیرس’ کے طور پر مشہور کراچی کی رنگین راتوں پر پابندی لگا دی گئی

پابندی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 17 اپریل 1977 ایک اہم دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں مذہبی جماعتوں کی احتجاجی تحریک (پاکستان قومی اتحاد) کا سامنا کرنے اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کچھ اہم پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس تاریخ پر ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے کیے گئے اہم فیصلے یہ تھے:

شراب خانوں پر پابندی: پورے ملک میں شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگا دی گئی (سوائے غیر مسلموں کے)۔

نائٹ کلبوں پر پابندی: ملک کے تمام بڑے شہروں میں نائٹ کلبوں کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

جوا پر پابندی: ہر قسم کے جوا اور جوئے کے اڈوں اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

جمعہ کی چھٹی: اتوار کے بجائے جمعہ کے دن کو ہفتہ وار چھٹی کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان بھی اسی دور کی اصلاحات کا حصہ تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے یہ اقدامات اُس وقت کیے جب 1977 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ’تحریکِ نظامِ مصطفیٰ‘ زور پکڑ چکی تھی۔ ان اصلاحات کا مقصد مذہبی طبقوں کے مطالبات کو پورا کر کے سیاسی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ تاہم ان فیصلوں کے چند ماہ بعد ہی ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔

کراچی، خاص طور پر 1950 سے لے کر 1977 کی دہائی کے آخر تک، اپنی آزاد خیال ثقافت، متحرک اور رنگین راتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا۔ اس دور میں کراچی کی نائٹ لائف عالمی سطح پر معروف تھی اور اس شہر کو اکثر ’روشنیوں کا شہر‘ اور ’مشرق کا پیرس‘ کہا جاتا تھا۔

اس زمانے میں صدر، ایم اے جناح روڈ اور کلفٹن کے علاقے رات کو روشنیوں سے جگمگاتے تھے۔ یہاں میٹروپول، پیلس اور تاج جیسے ہوٹلوں میں مشہور نائٹ کلب شامل تھے۔ یہ مقامات، جو صدر کے علاقے کے آس پاس تھے، وہاں لائیو بینڈ، کیبری ڈانسرز اور ایک زندہ دل سماجی ماحول ہوتا تھا۔

ناموں سے ہی نفاست سے لے کر عیاشی تک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے وہاں آنے والے گاہک ہوتے تھے۔ ہوٹل میٹروپول، پیلس ہوٹل، بیچ لگژری ہوٹل اور بعد میں انٹرکانٹینینٹل ہوٹل اس شہر کے چمکتے ہوئے ہیرے تھے، جبکہ امپیریل، ایکسیلسیئر، تاج اور سینٹرل ہوٹلیں نسبتاً زیادہ آزاد خیال تفریح فراہم کرتی تھیں۔ فنکاروں کو پورے خطے سے ہوائی جہاز کے ذریعے بلایا جاتا تھا، جن میں ترک، لبنانی، آسٹریلوی، مصری اور دیگر قومیتوں کے فنکار باقاعدگی سے اپنا فن پیش کرتے تھے۔

ماضی کے کراچی کے مشہور نائٹ کلب اور ڈانس کلب

یہ مقامات اکثر بڑی ہوٹلوں کے اندر واقع ہوتے تھے، جہاں بین الاقوامی معیار کے پروگرام منعقد ہوتے تھے:

سمر نائٹ کلب (ہوٹل میٹروپول):

یہ اُس دور کا سب سے شاندار اور معتبر کلب تھا۔ یہ اپنی پرتعیش فضا، فانوسوں اور بین الاقوامی بینڈز کی لائیو پرفارمنس کی وجہ سے پورے ایشیا میں مشہور تھا۔

ایکسیلسیئر (ہوٹل ایکسیلسیئر): صدر کے علاقے میں واقع یہ کلب اپنے ’پینٹ ہاؤس‘ کی وجہ سے مشہور تھا جہاں بین الاقوامی فنکار آتے تھے۔

لی گورمیٹ (پیلس ہوٹل): یہ جگہ اپنے نفیس ماحول اور جاز موسیقی کی وجہ سے معروف تھی جہاں شہر کی اشرافیہ اور سفارتکار آتے تھے۔

پلے بوائے: یہ 1960 اور 1970 کی دہائی کا ایک مہنگا اور مشہور ہائی اینڈ کلب تھا۔

اویسس (تاج ہوٹل): یہ کلب اپنی لائیو موسیقی اور ڈانس فلور کی وجہ سے مشہور تھا۔

کلب 007: یہ اُس دور کا ایک مقبول نائٹ کلب تھا۔

روما شبانہ: یہ فریئر روڈ (موجودہ شاہراہ لیاقت) پر واقع تھا اور نوجوانوں میں مقبول تھا۔

لیڈو (امپیریل ہوٹل): یہ نسبتاً کم خرچ میں تفریح فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔

نسرین اور چاندنی (انٹرکانٹینینٹل ہوٹل): یہ لاؤنجز اپنی شاندار فضا اور مہنگی شراب کے لیے مشہور تھے۔

کراچی کے مشہور بار اور پب: ٹوئنکل بار، شیزان کیسینو، ویسٹ اینڈ بار، 007 بار۔ یہ تمام مقامات کراچی کی سماجی زندگی کا اہم حصہ تھے۔

فنکار اور رقاصائیں: پرنسس امینہ (لبنان سے تعلق رکھنے والی مشہور بیلی ڈانسر)، ایمی منوالا (کلاسیکل بیلے رقاصہ)، مرزی کانگا (گلیمرس اور مغربی انداز کی رقاصہ)، نیلو (فلمی دنیا کی معروف رقاصہ)۔ بین الاقوامی فنکار بھی باقاعدگی سے یہاں پرفارم کرتے تھے، جن میں لبنان، اٹلی اور فلپائن کے گروپس شامل تھے۔

اہم خصوصیات: ثقافتی سنگم، بین الاقوامی پروازوں کی موجودگی، شراب کی آزاد دستیابی، لائیو موسیقی اور منظم پروگرام۔

رنگین دور کا خاتمہ

کراچی کی نائٹ لائف کا یہ دور 17 اپریل 1977 کو ختم ہو گیا جب ذوالفقار علی بھٹو نے شراب اور نائٹ کلبوں پر پابندی لگا دی۔

اس پابندی نے فنکاروں کے کیریئر کو شدید متاثر کیا۔ کئی غیر ملکی فنکار واپس چلے گئے جبکہ مقامی فنکار یا تو ریٹائر ہو گئے یا بیرون ملک منتقل ہو گئے۔ ہوٹل تو باقی رہے لیکن ان کی محفلیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔

آج کراچی کی وہ رنگین راتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں اور ان کی جگہ ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور سنیما گھروں نے لے لی ہے۔

اسی بارے میں: