کراچی کے صدر میں واقع تاریخی ایمپریس مارکیٹ آج بھی پرانے ہنر کی مثال پیش کرتی ہے۔ ہجوم اور جدید دکانوں کے درمیان ایک ہاتھ سے چلنے والا کولہو اب بھی موجود ہے۔ یہ کولہو 54 سالہ عبدالطیف چلاتے ہیں۔
عبدالطیف گزشتہ چار دہائیوں سے تیل کشی کے اسی کام سے وابستہ ہیں۔ وہ روزانہ اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت سے کولہو گھماتے ہیں۔ اس کولہو میں نہ بیل استعمال ہوتا ہے اور نہ بجلی۔
عبدالطیف کے کولہو میں سرسوں، تل، مونگ پھلی اور ناریل کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ آہستہ دباؤ کے ذریعے کولڈ پریسڈ تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ قدیم ہے اور اب بہت کم رہ گیا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالطیف نے کہا: ‘یہ کام میں نے اپنے بڑوں سے سیکھا۔ یہی میری پہچان ہے۔ پہلے ہر محلے میں کولہو ہوتا تھا۔ اب سب کچھ مشینوں نے سنبھال لیا ہے۔’
ان کا کہنا ہے کہ جدید مشینوں سے تیل تیزی سے اور کم خرچ میں نکل جاتا ہے۔ مگر ہاتھ سے نکلا کولڈ پریسڈ تیل غذائیت میں بہتر ہوتا ہے۔ اس میں قدرتی اجزا محفوظ رہتے ہیں۔
عبدالطیف کے مطابق یہ کام مشکل ضرور ہے۔ مگر صحت اور معیار کے معاملے میں اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ایمپریس مارکیٹ میں ان کا کولہو صرف روزگار نہیں۔ یہ کراچی کی ایک نایاب اور زندہ روایت بھی ہے۔
