وہ دن عام دنوں جیسا ہی تھا، مگر اس دن نے ایک گھر کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دینی تھی۔
گھر کے صحن میں ہلکی سی چہل پہل تھی۔ عید قریب تھی اور ہر طرف خوشیوں کی باتیں ہو رہی تھیں۔ تابش اور عاطف، دو سگے بھائی، موٹرسائیکل کے پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔ دونوں کی آنکھوں میں عید کے نئے کپڑوں کی چمک تھی۔ بابا نے پیسے ہاتھ میں دیتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا،
’جلدی آ جانا بیٹا، شام تک امی کو کپڑے بھی دکھانے ہیں۔‘
ماں نے پیچھے سے آواز دی تھی،
’سننا! تابش تم نیلا جوڑا لینا اور عاطف تم سبز… مجھے یہی رنگ اچھے لگتے ہیں تم پر۔‘
دونوں ہنس پڑے تھے۔
’ٹھیک ہے امی، بالکل ویسے ہی لائیں گے جیسے آپ نے کہا ہے۔‘
موٹرسائیکل اسٹارٹ ہوئی اور دونوں خوشی خوشی گھر سے نکل گئے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ ہنسی، یہ آوازیں، یہ لمحہ اس گھر میں آخری بار سنائی دے رہا ہے۔
کراچی کی سڑکیں ہمیشہ کی طرح مصروف تھیں۔ فرنیچر مارکیٹ کے قریب پہنچتے ہی اچانک ایک تیز رفتار ٹرالر نے موٹرسائیکل کو ایسی ٹکر ماری کہ سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو گیا۔
لوگ جمع ہوئے، شور مچا، ایمبولینس آئی، مگر دو معصوم زندگیاں وہیں سڑک پر دم توڑ چکی تھیں۔
وہ دونوں بھائی جو گھر سے عید کے نئے جوڑے لینے نکلے تھے، اب خون میں لت پت خاموش پڑے تھے۔
شام ڈھلنے لگی تھی۔ گھر میں ماں بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’ابھی تک آئے نہیں… شاید بازار میں رش ہوگا۔‘
مگر کچھ ہی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا اور گھر میں خوشیوں کے بجائے قیامت داخل ہو گئی۔
وہ دونوں بھائی جن کے ہاتھوں میں نئے کپڑے ہونے تھے، اب سفید کفن میں لپٹے گھر لوٹے تھے۔
ماں کی چیخ پورے محلے میں گونج گئی۔
’میرے بچوں کو کیا ہوا…؟ یہ تو کپڑے لینے گئے تھے…!‘
باپ خاموش کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شاید اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ جن بیٹوں کو اس نے عید کی خوشی دینے کے لیے پیسے دیے تھے، وہ اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے ہیں۔
تابش اور عاطف دونوں ابھی میٹرک کے طالب علم تھے۔ عمر بھی کیا تھی؟ خواب بھی ابھی پورے کہاں ہوئے تھے؟
پولیس نے ہمیشہ کی طرح ایک روایتی بیان جاری کر دیا،
’حادثے کی تحقیقات جاری ہیں…‘
مگر سچ یہ ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر ٹینکر اور ٹرالر مافیا آج بھی بے لگام ہے۔ ہر چند دن بعد کوئی نہ کوئی گھر ایسے ہی اجڑ جاتا ہے۔ مائیں روتی رہ جاتی ہیں، باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور شہر کی سڑکیں ایک اور کہانی اپنے اندر دفن کر لیتی ہیں۔
تابش اور عاطف کی عید تو کبھی نہیں آئے گی۔
مگر ان کی ماں آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔ شاید دل کے کسی کونے میں یہ امید ابھی زندہ ہے کہ اس کے بیٹے ہنستے ہوئے اندر آئیں گے اور کہیں گے،
’امی دیکھیں… ہم وہی رنگ کے کپڑے لے آئے ہیں جو آپ نے کہا تھا۔‘

