انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں کراچی صرف بمبئی پریزیڈنسی کے ایک ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت نہیں بنا رہا تھا، بلکہ یہاں کی شہری زندگی میں کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کو ایک بنیادی سماجی حیثیت حاصل تھی۔
اس دور کی سب سے بڑی خاصیت یہ تھی کہ یہاں کی متنوع برادریاں الگ تھلگ رہنے کے بجائے اپنے اپنے جم خانوں (کھیلوں کے کلب) کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتی اور مکالمہ کرتی تھیں۔ یہ میدان برصغیر کے مشہور ‘پینٹینگولر (پنج روزہ) کرکٹ ٹورنامنٹس’ کے ذریعے آپسی رواداری، یکجہتی اور شدید مگر صحت مند مقابلوں کا سب سے بڑا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔
ان مقابلوں میں برادریوں کی بنیاد پر ٹیمیں (یورپین، پارسی، ہندو اور مسلم الیون) بنتی تھیں، جنہیں پورا کراچی دیکھنے امنڈ آتا تھا۔
کراچی جم خانہ (1886): کرکٹ کا سنہری دور
کلب روڈ پر کمشنر ہاؤس کے سامنے واقع ‘کراچی جم خانہ’ کی بنیاد 1886 میں رکھی گئی اور اس کی مرکزی عمارت و پویلین کی تعمیر 1890 میں مکمل ہوئی۔ یہ برصغیر میں کرکٹ، ہاکی، پولو اور بیڈمنٹن کا تاریخی مرکز رہا ہے۔ اس گراؤنڈ کو برصغیر کی کرکٹ کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہے جو راولپنڈی کے پنڈی کلب یا لاہور کے باغ جناح (سابقہ لاورنس گارڈنز) کو حاصل ہے۔
1926 سے 1986 تک اس میدان نے متعدد فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا اور یہ شہر میں کھیلوں کی اشرافیہ کا سب سے بڑا گڑھ رہا۔
کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ:
کراچی کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پارسی تاجروں نے 1893 میں ‘پارسی جم خانہ’ (موجودہ کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ) کے نام سے شہر کے مرکز میں اس شاندار گراؤنڈ کی بنیاد رکھی۔ یہ میدان کراچی میں رواداری اور سیکولر کھیلوں کی زندگی کی سب سے بڑی علامت تھا، جہاں پارسی، ہندو، مسلمان اور انگریز ٹیمیں باقاعدگی سے میچ کھیلتی تھیں اور نوجوانوں کو اتھلیٹکس اور تیراکی کی جدید سہولیات میسر تھیں۔

آغا خان جم خانہ:
1902 میں سلطان محمد شاہ (آغا خان سوم) کی کراچی آمد کے ساتھ اسماعیلی برادری نے اس جم خانہ گارڈن کو آباد کیا۔ اس کلب نے کراچی کے گنجان علاقوں کے مسلم نوجوانوں میں فٹ بال، کرکٹ اور ٹینس کو مقبول بنانے میں تاریخی اور انقلابی کردار ادا کیا۔
حاجی عبداللہ ہارون مسلم جم خانہ
مسلم کمیونٹی کی کھیلوں اور سماجی زندگی کا اصل مرکز ثقل ‘مسلم جم خانہ’ تھا، جس کا باقاعدہ قیام 1927 میں کراچی کی مایہ ناز فلاحی، تجارتی اور سیاسی شخصیت ‘سر حاجی عبداللہ ہارون’ کی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ اس جم خانہ کا مقصد مسلم نوجوانوں میں ‘مہارت، صحت اور تنظیم’ کے فروغ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔
مسلم جم خانہ اور اس کے پینٹینگولر میچز محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ایسے نامور کھلاڑی پیدا کیے جنہوں نے آگے چل کر پاکستان کی نوزائیدہ کرکٹ کی بنیاد رکھی۔
میاں محمد سعید، مسلم جم خانہ کے کلچر کی پیداوار، جنہوں نے 1948 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی پہلی (غیر سرکاری) ٹیم کی تاریخی کپتانی کا اعزاز حاصل کیا۔
نذر محمد، مسلم الیون کے مایہ ناز اوپنر، جنہوں نے 1952 میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی سرکاری ٹیسٹ سنچری (124 رنز ناٹ آؤٹ، بھارت کے خلاف) اسکور کی اور پچ پر ‘کیریئنگ دی بیٹ’ کا اعزاز پایا۔
انوار حسین، پینٹینگولر میچز کے دور کے بہترین آل راؤنڈر، جو 1952 میں پاکستان کے پہلے باقاعدہ ٹیسٹ میچ میں عبدالحفیظ کاردار کے نائب کپتان تھے۔
ہندو جم خانہ
ہندو جم خانہ کراچی کی تاریخ کا ایک عظیم الشان معمارانہ شاہکار ہے، لیکن تقسیم کے بعد اس کی داستان انتہائی تلخ رہی ہے۔
سرور شہید روڈ پر واقع یہ عمارت کراچی کی پہلی عوامی تعمیر تھی جس میں ‘راجپوت۔مغل احیائی طرز تعمیر’ اپنایا گیا۔ اس کے کلاک ٹاور اور چھتریوں کا ڈیزائن آگرہ میں واقع ‘اعتماد الدولہ کے مقبرے’ سے لیا گیا تھا۔ اسے سیٹھ رام گوپال گوردھن داس موہاٹا اور ہندو برادری نے 47 ہزار مربع گز کے وسیع رقبے پر قائم کیا تھا۔
اراضی کا المیہ اور قانونی جنگ:
1947 کے بعد یہ عمارت متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس آئی۔ افسوسناک طور پر، 1978 میں اس کی 60 فیصد زمین پولیس ڈیپارٹمنٹ کو، چھ ہزار گز وفاقی پبلک سروس کمیشن کو اور 3500 گز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو الاٹ کر دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 47 ہزار مربع گز کا یہ تاریخی جم خانہ سکڑ کر صرف 4 ہزار 500 مربع گز رہ گیا۔

موجودہ حالت:
2005 میں یہ عمارت ‘ناپا’ کو 30 سالہ لیز پر دی گئی، جس کے خلاف ہندو برادری 2007 سے سپریم کورٹ تک قانونی جنگ لڑ رہی ہے تاکہ اس عمارت کا اصل مائیکرو ثقافتی اور کمیونٹی مقصد بحال کیا جا سکے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قدیم کراچی کے یہ جم خانے اس بات کی زندہ گواہی ہیں کہ یہ شہر ہمیشہ سے صحت مند، متحرک اور روادار لوگوں کا مسکن رہا ہے۔ یہ کلب صرف کھیلوں کے میدان نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے ادارے تھے۔
آج جہاں مسلم اور ہندو جم خانہ کا اصل ریکارڈ اور اراضی بکھر چکی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی جم خانہ اور کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ جیسے فعال اداروں کے تاریخی کھیلوں کے ریکارڈ کو سرکاری سطح پر دستاویزی شکل دی جائے اور ہندو جم خانہ جیسے شاہکاروں کی اراضی کو مزید پامال ہونے سے بچایا جائے، تاکہ پرانے کراچی کا یہ روشن اور صحت مند چہرہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔

