دلوں کی ملکہ اور قلوپطرہ ہند: عطیہ فیضی، فیضی سمیول رحمین اور ایک عہد کا زوال

ہند

کسی بھی معاشرے کی تہذیبی بیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے معماروں، فنکاروں اور اہل علم کے ورثے کو کس طرح سنبھالتا ہے۔ جب کوئی شہر اپنے تمدنی مراکز کو کھو دیتا ہے تو تاریخ اس کا متبادل نہیں دیتی۔

جمشید نسروانجی کے جدید کراچی اور آثار قدیمہ کے پس منظر کے بعد کراچی کی تاریخ کا ایک اور سحر انگیز مگر انتہائی بدقسمت باب طیب جی خاندان، عطیہ فیضی اور ان کے شوہر سمیول رحمین کی صورت میں سامنے آتا ہے، جن کا عروج و زوال اس شہر کے مجموعی تمدنی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز پر جب برصغیر کا مسلم معاشرہ قدامت پسندی اور فکری جمود کا شکار تھا، ایک ایسی خاتون ابھری جس نے نہ صرف روایات کے بندھن توڑے بلکہ اپنے عہد کے عظیم ترین ذہنوں کی فکری رہنمائی بھی کی۔

وہ ریاستوں کی حاکم تو نہیں تھیں، مگر دلوں کی ملکہ ضرور تھیں۔ قلوپطرہ کی محبت میں اگر سیزر اور انٹونی گرفتار ہوئے تو عطیہ فیضی کی زلف گرہ گیر کے اسیر برصغیر کے عظیم ترین دانشور، شاعر اور فلسفی بھی تھے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر عطیہ فیضی نہ ہوتیں تو شاید علامہ اقبال وہ ‘اقبال’ نہ بن پاتے جنہیں آج ہم شاعر مشرق کہتے ہیں، بلکہ وہ حیدرآباد دکن کے حکمرانوں کی ملازمت میں ہی کہیں گم ہو کر رہ جاتے۔

طیب جی خاندان، بمبئی کی روشن خیالی سے کراچی کی اساس تک

عطیہ فیضی 1877 تا 1967 کا تعلق بمبئی کے نامور اور انتہائی بااثر طیب جی خاندان سے تھا، جو سلیمانی بوہرہ برادری کا ایک ایسا علمی مرکز تھا جس نے برصغیر کی مسلم تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کے والد حسن علی فیض حیدر عثمانی دربار سے منسلک کپڑے اور مصالحوں کے بڑے تاجر تھے۔

عطیہ فیضی کی پرورش بمبئی کی اعلیٰ تہذیب میں ہوئی، جہاں انہوں نے گھر پر اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے کیتھولک انگریزی اسکول اور پھر لندن کے ‘ماریا گرے ٹیچرز ٹریننگ کالج’ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

وہ برصغیر کی ان اولین مسلم خواتین میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اس دور میں پردے کی سخت روایات کو توڑ کر نہ صرف عوامی اجتماعات میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی بلکہ پہلی آل انڈیا مسلم لیڈیز کانفرنس میں اپنی بہنوں زہرا بیگم اور نازلی بیگم ملکہ جنجیرہ کے ہمراہ شرکت بھی کی۔

اگرچہ اس خاندان کا اصل مرکز بمبئی تھا، لیکن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بدرالدین طیب جی کو، جو اس خاندان کی روح رواں شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور انڈین نیشنل کانگریس کے اولین صدور میں شامل تھے، اپنا سیاسی استاد اور آئیڈیل مانتے تھے۔ قائد اعظم کے اس خاندان سے گہرے مراسم تھے۔

اسی دیرینہ تعلق کی بنا پر قائد اعظم نے تقسیم ہند کے بعد عطیہ فیضی اور ان کی بہن نازلی رفیعہ کو خصوصی طور پر کراچی آ کر آباد ہونے کی دعوت دی۔ اس خاندان نے نو زائیدہ پاکستان کو صرف فنون لطیفہ ہی نہیں دیے بلکہ عدالتی اور آئینی نظام کی بنیادوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

عطیہ فیضی کے قریبی رشتہ دار جسٹس حاتم بدرالدین طیب جی قیام پاکستان کے بعد سندھ چیف کورٹ، موجودہ سندھ ہائی کورٹ، کے پہلے مسلم چیف جسٹس بنے، جنہوں نے کراچی کے ابتدائی دور میں قانون کی بالادستی اور عدالتی ڈھانچے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

گاندھی کا خون اور لندن کے شب و روز

عطیہ فیضی نے ایک ایسے دور میں برطانیہ کا سفر کیا جب مسلم لڑکیوں میں اعلیٰ تعلیم کا تصور بھی عام نہیں تھا۔ اپنی ذہانت اور خاندانی اثر و رسوخ کی بدولت انہوں نے جلد ہی انگلستان کی ہندوستانی برادری میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ٹاٹا کمپنی کے بانی جمشید جی ٹاٹا، سروجنی نائیڈو اور مختلف ریاستوں کے راجے مہاراجے ان کی محفلوں کا حصہ بنتے تھے۔

ان کے منفرد مزاج کا ایک واقعہ ماہر القادری نے اپنی کتاب ‘یاد رفتگاں’ میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق جب مہاتما گاندھی پہلی گول میز کانفرنس کے بعد بحری جہاز کے ذریعے واپس آ رہے تھے تو عطیہ فیضی بھی اسی جہاز میں موجود تھیں۔ انہوں نے اصرار کر کے گاندھی کی انگلی میں سوئی چبھوئی، خون کا نشان اپنی آٹوگراف بک پر لیا اور اس کے ساتھ ان کے دستخط بھی کروائے۔

لندن کے ان شب و روز کا احوال وہ لاہور کے رسالے ‘تہذیب نسواں’ میں لکھتی رہیں، جو بعد میں ‘زمانہ تحصیل’ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اسی کتاب نے برصغیر کے اہل علم کو ان کی طرف متوجہ کیا اور یہی علامہ اقبال سے ان کے تعارف کا سبب بھی بنی۔

حیدرآباد کا ملامت نامہ اور اقبال کو ‘اقبال’ بنانے والی ہستی

جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب علامہ اقبال برصغیر واپس آئے تو انہیں علی گڑھ یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فلسفے کے پروفیسر کی ملازمت کی پیشکش ہوئی، تاہم انہوں نے وکالت کو ترجیح دی۔

ابتدائی دو برس میں جب وکالت سے معاشی استحکام حاصل نہ ہو سکا تو انہوں نے ریاست حیدرآباد دکن سے وابستہ ہونے کا ارادہ کیا۔ 1907 میں وہ ریاست کے وزیر خزانہ سر اکبر حیدری کے مہمان کی حیثیت سے کئی روز وہاں مقیم رہے۔

لاہور واپسی پر انہیں یکے بعد دیگرے دو خطوط موصول ہوئے، جن میں اس مجوزہ فیصلے پر سخت سرزنش کی گئی تھی۔ خود اقبال نے اس دوستانہ تنبیہ کو ‘میٹھی جھڑکیاں’ اور ‘ملامت نامہ’ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ خدا جانے خطوط میں کی گئی سرزنش کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ، اقبال اپنے ارادے سے باز رہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اگر وہ حیدرآباد کی سرکاری ملازمت اختیار کر لیتے تو شاید اقبال وہ ‘اقبال’ نہ ہوتے جنہیں آج ہم جانتے ہیں۔ شاعر مشرق کے ارادے کے راستے میں مزاحم بننے والی شخصیت عطیہ فیضی تھیں۔ انہیں اندیشہ تھا کہ حیدرآباد جا کر اقبال اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو سرکاری ملازمت کی نذر نہ کر دیں۔

اقبال پر ایک وقت ایسا بھی گزرا جب وہ شدید یاس و قنوطیت کا شکار تھے۔ انہوں نے اپنی کیفیات اور ذاتی احساسات عطیہ فیضی کے نام خطوط میں بیان کیے۔ بقول جسٹس ایس اے رحمان، اقبال کے پرستاروں کو عطیہ بیگم کا احسان مند ہونا چاہیے، جن کے تشفی آمیز طنز اور فکری سہارے کے زیر اثر وہ اپنی زندگی کے نازک موڑ پر دوبارہ رجائیت کی طرف لوٹے۔ عطیہ فیضی کی روز افزوں مقبولیت کا اثر تھا کہ ہندوستان کی بڑی علمی اور ادبی شخصیات ان کی جانب کھنچی چلی آتی تھیں۔

شبلی کا رومان اور ‘حیات معاشقہ’ کا تہلکہ

اس دور کے برصغیر میں عطیہ فیضی کی شادی سے قبل علامہ شبلی نعمانی اور سر محمد اقبال سمیت کئی نامور شخصیات ان سے شادی کی خواہش مند تھیں۔ علامہ شبلی نعمانی بھی انہی میں شامل تھے، جو ان کے والد سے استنبول میں مل چکے تھے۔ عطیہ سے تعارف اور تعلق شبلی کی زندگی کا ایک رومانوی باب تھا، جس کی جھلک ان کے مجموعہ کلام میں بھی ملتی ہے۔

بقول شیخ اکرام، مولانا کو اس قابل اور باکمال خاتون نے جس طرح مسحور کر دیا تھا، اس کا اندازہ خطوط شبلی کے ورق ورق سے ہوتا ہے۔ شبلی انہیں لکھتے ہیں: ‘ان باتوں کے ساتھ اگر تم موسیقی سے بھی واقف ہو تو اجازت دو کہ لوگ تمہیں پوجیں۔’

شبلی کے ان رنگین تذکروں اور والہانہ انداز بیان نے بہت سے اہل قلم کو اس حد تک غلط فہمی میں مبتلا کر دیا کہ ‘شبلی کی حیات معاشقہ’ جیسی کتاب منظر عام پر آ گئی۔ 1950 میں ڈاکٹر وحید قریشی کی اس تصنیف نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ بعد میں شدید تنقید کے باعث ڈاکٹر وحید قریشی نے اس کتاب کے مندرجات سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

خود عطیہ فیضی نے اس بحث کا جواب ان الفاظ میں دیا: ‘ہم نے مولانا کے خطوط کو معصومانہ روشنی میں دیکھا، کیونکہ ان میں بظاہر ایسی کوئی بات نہ تھی کہ ہم سے کوئی کسی قسم کی بدگمانی کرتا۔ البتہ ان میں شاعرانہ شوخی ضرور تھی، جو شاعر طبقے کا خاصہ ہے۔’

سمیول رحمین: یہودیت سے اسلام تک اور فنی کایا پلٹ

1912 میں عطیہ فیضی کی زندگی میں پونا کے ایک معزز اور مہذب بنی اسرائیل یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے نامور مصور سمیول رحمین داخل ہوئے۔ سمیول نے ممبئی کے مشہور ‘سر جے جے اسکول آف آرٹ’ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن کی ‘رائل اکیڈمی’ میں چار سال تک جان سنگر سارجنٹ اور سولومن جے سولومن جیسے عالمی شہرت یافتہ برطانوی اساتذہ سے آئل پینٹنگ اور یورپی اکیڈمک آرٹ کی تربیت حاصل کی۔

1908 میں جب وہ ہندوستان واپس لوٹے تو انہیں بڑودہ کے مہاراجہ کا باقاعدہ آرٹ اور ثقافتی مشیر مقرر کیا گیا۔ لندن کے شاندار آرٹ حلقے کو چھوڑ کر واپس آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘لندن میں رہنا ایسا ہی تھا جیسے بنگال کا شیر قطب شمالی میں سیل کا شکار کرنے نکلے۔’

بڑودہ کی درباری زندگی نے انہیں ہندوستان کی اشرافیہ کے قریب کر دیا۔ 1912 میں جب انہوں نے عطیہ فیضی سے شادی کی تو روایات سے ہٹ کر دونوں نے اپنے خاندانی ناموں کو یکجا کر کے ‘فیضی رحمین’ اختیار کیا، جبکہ سمیول رحمین نے یہودیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اس تبدیلی مذہب پر علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شوخی کا اظہار اس مشہور شعر میں کیا:

‘بتان ہند کافر کر لیا کرتے ہیں مسلم کو
عطیہ کی بدولت آج ایک کافر مسلمان ہو گیا’

شادی کے بعد سمیول کی فنی زندگی میں ایک زبردست انقلاب آیا۔ انہوں نے یورپی کینوس اور آئل پینٹنگ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا اور ہندوستانی مغل منی ایچر اور راجپوت مصوری کی روایات کو دوبارہ زندہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یہ ان کی یورپی اثرات سے آزادی اور ہندوستانی جدید مصوری کی بنیاد تھی۔ انہوں نے راگوں اور راگنیوں کو رنگوں کا روپ دیا۔

1913 میں ممبئی کے ایک ماہی گیر گاؤں میں عطیہ راگ گاتی تھیں اور رحمین انہیں کینوس پر امر کرتے تھے۔ بعد میں عطیہ فیضی نے اسی تجربے کی بنیاد پر لندن سے اپنی مشہور کتاب ‘دی میوزک آف انڈیا’ شائع کی۔

رحمین کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ برصغیر کے پہلے غیر یورپی اور مسلم مصور بنے جن کی پینٹنگز، جن میں ‘راگنی ٹوڑی’ اور ‘اے راجپوت سردار’ شامل ہیں، لندن کی مشہور ٹیٹ گیلری کے ذخیرے میں شامل ہوئیں۔

انہوں نے پیرس کی ‘گالری جارج پیٹی’ اور لندن کی ‘گوپل گیلری’ میں انفرادی نمائشیں کیں، جبکہ 1926 سے 1929 کے درمیان نئی دہلی کے امپیریل سیکریٹریٹ کی عمارت میں یادگار دیواری تصویریں تخلیق کیں۔ برطانوی آرکائیوز کے مطابق انہوں نے لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم اور نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم کے مشرقی شعبوں کی ازسر نو ترتیب اور تنظیم میں بھی بطور ماہر فن خدمات انجام دیں۔

کراچی کے ڈینسو ہال سے ایوان رفعت تک، فن لطیفہ کا سفر

1948 میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ذاتی دعوت پر، جو طیب جی خاندان کو اپنا سیاسی استاد مانتے تھے، یہ جوڑا بمبئی چھوڑ کر نو زائیدہ پاکستان کے دارالحکومت کراچی منتقل ہو گیا۔

کراچی آنے کے بعد انہوں نے ابتدائی طور پر بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، پر واقع تاریخی وکٹورین عمارت ڈینسو ہال کی بالائی منزل پر اپنا اسٹوڈیو قائم کیا۔

یہ اسٹوڈیو کراچی کا پہلا بڑا آرٹ مرکز بن گیا، جہاں فیضی رحمین پینٹنگز تخلیق کرتے اور عطیہ فیضی ادب، موسیقی اور ثقافت پر علمی و ادبی محفلیں سجایا کرتیں۔

بعد ازاں حکومت پاکستان نے انہیں کلفٹن کے قریب ایک پلاٹ الاٹ کیا، جہاں انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے ایک شاندار عمارت تعمیر کی اور اس کا نام اپنی والدہ کے نام پر ‘ایوان رفعت’ رکھا۔

یہ عمارت صرف ان کی رہائش گاہ نہیں تھی بلکہ ایک منفرد عجائب گھر اور ادبی مرکز تھی، جسے انہوں نے اپنی بمبئی کی رہائش گاہ کی طرز پر تخلیق کیا تھا۔ یہاں دنیا بھر سے جمع کیے گئے نایاب فن پارے، پینٹنگز، قدیم نوادرات اور علامہ اقبال، شبلی نعمانی اور مہاتما گاندھی کے نایاب خطوط محفوظ تھے۔ یہ گھر پاکستان کے ابتدائی دور میں ادیبوں، مصوروں اور دانشوروں کا ایک اہم ثقافتی مرکز بن گیا۔

برطانوی نوآبادیاتی تعصب اور بے دخلی کا المیہ

ایک طرف سمیول فیضی رحمین کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جاتے تھے، لیکن دوسری طرف برطانوی آرٹ کے بعض ذمہ داران نے ان کے ساتھ شدید تعصب کا مظاہرہ کیا۔ 1952 میں جب ٹیٹ گیلری نے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ہندوستانی شعبے سے فیضی رحمین کے بارے میں معلومات طلب کیں تو وہاں کے کنزرویٹر نے ایک خط میں انہیں ‘معمولی’ فنکار قرار دیتے ہوئے ان کی پینٹنگز کو ‘کچرا’ لکھا۔

یہ نوآبادیاتی ذہنیت کی ایک نمایاں مثال تھی، جبکہ اسی سال حکومت پاکستان نے اپنے سرکاری مینوئل ‘پاکستان مسلینی’ میں فیضی رحمین پر ایک مکمل باب شامل کیا تھا۔

افسوس کہ غیر ملکی تعصب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کا رویہ زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد 1950 کی دہائی کے آخری برسوں میں ایوب خان کے دور حکومت میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے چند بیوروکریٹس کے ساتھ تنازعے کے بعد اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی اور ‘ایوان رفعت’ پر سرکاری قبضہ کر لیا گیا۔

اس عظیم ادبی اور فنی جوڑے کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کیے گئے گھر اور عجائب گھر سے بے دخل کر کے کلفٹن کے ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل کر دیا گیا۔

یہ صدمہ اس حساس جوڑے کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا۔ زندگی کے آخری ایام انہوں نے شدید مالی مشکلات، کسمپرسی اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی محدود مالی مدد پر گزارے۔ فیضی رحمین کا انتقال 1964 میں ہوا، جبکہ دلوں پر راج کرنے والی عطیہ فیضی 4 جنوری 1967 کو شدید غربت اور گمنامی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

آج ایوان رفعت کی جگہ آرٹس کونسل آف پاکستان کے سامنے ‘فیضی رحمین آڈیٹوریم اور آرٹ گیلری’ کے نام سے ایک عمارت موجود ہے، لیکن ارباب اختیار کی غفلت کے باعث اس جوڑے کا جمع کیا ہوا نایاب ادبی اور فنی سرمایہ، اقبال اور شبلی کے اصل خطوط اور متعدد نوادرات یا تو چوری ہو گئے، ضائع ہو گئے یا وقت کی گرد میں کھو گئے۔

طیب جی خاندان کی ایک منفرد روایت ‘اخبار کی کتاب’ مرتب کرنے کی تھی، جس میں وہ 1940 اور 1950 کی دہائی کے کراچی، اس کی گلیوں اور مہاجرین کی آمد کا تفصیلی احوال قلم بند کرتے تھے۔

آج جب اس تاریخ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ المیہ واضح ہوتا ہے کہ جس شہر نے اپنے معمار جمشید نسروانجی کو فراموش کر دیا، اسی شہر نے قائد اعظم کے معزز مہمانوں، اقبال کے مخلص ساتھیوں اور فن و ادب کے سرپرستوں کو بھی ایک سرکاری تنازعے کی نذر کر دیا۔

اسی بارے میں: