Tag: ہند

  • تقسیمِ ہند کے وقت جی ایم سید کا پارلیمانی کردار

    تقسیمِ ہند کے وقت جی ایم سید کا پارلیمانی کردار

    سندھ کی سیاست پر کئی دہائیوں تک اثر رکھنے والے معروف سیاست دان اور ادیب غلام مرتضیٰ سید المعروف جی ایم سید کی آج 17 جنوری کواُن کی 122 ویں سالگرہ ہے۔ وہ سندھ کی سیاست کی ایسی شخصیت تھے جنہیں محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ مدبر، پارلیمانی رہنما اور مصنف کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

    برطانوی دور کے آخری برسوں میں وہ مسلم لیگ کے اہم حلقوں میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصے تک قائداعظم محمد علی جناح کے قریب سمجھے جاتے رہے۔

    یہ قربت بعد میں اختلاف میں بدل گئی۔ یہ اختلاف ذاتی کم اور سیاسی زیادہ تھا۔ سندھ میں حکومت سازی، جماعتی نظم، ٹکٹوں کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات پر جی ایم سید کی رائے مرکزی قیادت سے مختلف ہوتی چلی گئی۔ اسی پس منظر میں انہوں نے مسلم لیگ اور جناح کی سیاسی سمت سے فاصلہ اختیار کیا اور سندھ کی سیاست میں ایک الگ راستہ منتخب کیا۔

    کراچی لوکل بورڈ کے صدر کی حیثیت سے سیاسی سفر شروع کرنے والے جی ایم سید 1930 کی دہائی میں قائم ہونے والی دو جماعتوں سندھ پیپلز پارٹی اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے بانی رہنما تھے۔ فروری 1937 کے انتخابات میں وہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کی ٹکٹ پر دادو سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

    سنہ 1937 سے 1942 تک سندھ میں بننے اور ٹوٹنے والی پانچ حکومتوں میں جی ایم سید مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ سنہ 1940 میں وہ مختصر مدت کے لیے میر بندہ علی تالپور کی حکومت میں وزیرِ تعلیم بھی رہے۔

    سنہ 1942 میں سر حاجی عبداللہ ہارون کے انتقال کے بعد خان بہادر ایوب کھوڑو کو مسلم لیگ سندھ کا وقتی صدر بنایا گیا۔ تاہم قائداعظم محمد علی جناح نے جی ایم سید کو مسلم لیگ سندھ کا کل وقتی صدر مقرر کر دیا۔ اسی سال سندھ کے گورنر نے اللہ بخش سومرو کی حکومت برطرف کر دی، جس سے صوبے میں نئی سیاسی صف بندیاں ہوئیں۔

    اسی سیاسی ماحول میں سر غلام حسین ہدایت اللہ وزیرِاعظم بنے۔ اس تبدیلی کے ساتھ مسلم لیگ کی صوبائی سیاست مزید پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔ سنہ 1943 میں اللہ بخش سومرو شکارپور میں قتل ہو گئے۔ اس مقدمے میں ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی محمد نواز کھوڑو گرفتار ہوئے، جو اس وقت ایک بڑا سیاسی واقعہ بن گیا۔

    جی ایم سید چاہتے تھے کہ ایوب کھوڑو کی جگہ سید محمد علی شاہ کو وزیر بنایا جائے، مگر اقتدار کے فیصلے مقامی سطح تک محدود نہیں تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت اور سیاسی ضرورتیں ان فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ یہی وہ موقع تھا جہاں جی ایم سید کا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے پہلا واضح اختلاف سامنے آیا۔

    سنہ 1945 میں سندھ میں وزارتِ اعلیٰ کے لیے کشمکش مزید گہری ہو گئی۔ ہاشم گزدر بھی اس دوڑ میں شامل تھے۔ 24 فروری 1945 کو سندھ اسمبلی میں شیخ عبدالمجید سندھی کی حکومت مخالف کٹوتی تحریک منظور ہوئی، جس سے حکومت کی پوزیشن کمزور پڑ گئی۔

    اس صورتحال میں جی ایم سید نے قائداعظم محمد علی جناح اور گورنر کو نئی وزارت کے قیام کی درخواست بھیجی۔ ان کی رائے تھی کہ مسلسل بحران کے باعث نیا سیاسی بندوبست ضروری ہے، مگر قائداعظم نے روز روز حکومتیں گرانے کے حق میں یہ رائے قبول نہ کی۔ یہاں سندھ کی پارلیمانی حقیقتوں اور مرکزی انتخابی حکمتِ عملی کے درمیان فرق کھل کر سامنے آ گیا۔

    یکم اکتوبر 1945 کو کراچی میں واقع جی ایم سید کی رہائش گاہ حیدر منزل میں ایک اہم اجلاس ہوا۔ مختلف دھڑوں نے امیدواروں کی فہرستیں پیش کیں۔ جی ایم سید نے اجلاس میں واضح کیا کہ مسلم لیگ کو اس کمیٹی پر اعتماد نہیں رہا۔ اسی موقع پر اختلاف کھل کر سامنے آ گیا اور مخالف ارکان اجلاس سے اٹھ گئے۔

    ٹکٹوں کی تقسیم کسی بھی جماعت میں سیاسی اختیار کی علامت ہوتی ہے۔ سندھ میں یہ معاملہ محض انتخابی نہ رہا بلکہ صوبائی قیادت اور مرکزی کنٹرول کے سوال سے جڑ گیا۔ مصالحت کے لیے پہلے لیاقت علی خان اور پھر قائداعظم خود پہنچے، مگر اختلاف ختم نہ ہو سکا۔

    اسی دوران دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کی سندھ مسلم نشست پر پیر علی محمد راشدی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا۔ جی ایم سید نے مسلم لیگ کی پارٹی لائن کے بجائے ان کی حمایت کی۔ اس صورتحال کی جانچ کے لیے لیاقت علی خان اور قاضی محمد عیسی کراچی پہنچے۔

    نتیجتاً پیر علی محمد راشدی کو مسلم لیگ سے خارج کر دیا گیا اور جی ایم سید کو شوکاز نوٹس جاری ہوا۔ سندھ اسمبلی کے انتخابات کے لیے جی ایم سید کے نامزد کردہ چار امیدواروں کی مسلم لیگ ٹکٹ بھی منسوخ کر دی گئی۔ دسمبر 1945 میں جی ایم سید نے لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا۔

    تین جنوری 1946 کو انہیں مسلم لیگ سندھ کی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا۔ یوں اختلاف ادارہ جاتی سطح پر آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد جی ایم سید نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کی اور پروگریسو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا۔

    سنہ 1946 کے انتخابات میں جی ایم سید اور ان کے چار ساتھی کامیاب ہوئے۔ یہ نتیجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سندھ کی سیاست میں مقامی قوتیں محض مرکزی فیصلوں سے ختم نہیں ہوتیں اور جی ایم سید کی تنظیمی اور انتخابی بنیاد برقرار تھی۔

    مسلم لیگ سے علیحدگی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ ایک طویل سیاسی عمل تھا جس میں سندھ کی حکومت سازی، اسمبلی کی عددی سیاست، ٹکٹوں کی تقسیم اور مرکز و صوبے کے اختیارات بنیادی عوامل رہے۔

    سنہ 1946 کے انتخابات کے بعد سندھ میں ایک بار پھر مسلم لیگ کی حکومت بنی اور جی ایم سید کانگریس کی حمایت سے سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہوئے۔ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تعداد تقریباً برابر تھی۔ ایک موقع پر عدم اعتماد کی قرارداد کے لیے اکثریتی دستخط جمع ہو گئے، مگر گورنر نے اجلاس طلب نہ کیا۔

    بعد میں جب دوبارہ عدم اعتماد کی کوشش ہوئی تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تعداد برابر نکلی۔ اسپیکر سید میران محمد شاہ اور ڈپٹی اسپیکر جیٹھی سپاہیملانی نے بیک وقت استعفیٰ دے دیا۔ چند ہی ماہ میں سندھ اسمبلی تحلیل کر دی گئی۔

    دسمبر 1946 کے انتخابات میں جی ایم سید قاضی اکبر کے مقابلے میں ہار گئے۔ بعد ازاں الیکشن ٹربیونل نے یہ انتخاب کالعدم قرار دیا، مگر اس وقت تک اسمبلی تحلیل ہو چکی تھی۔ یوں جی ایم سید کا پارلیمانی سفر ایک فیصلہ کن موڑ پر آ کر رک گیا، مگر سندھ کی سیاست پر ان کا اثر برقرار رہا۔

  • روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران انہوں نے انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔یہ دورہ مقامی سطح پر عدالتی رسائی اور مسائل کو سمجھنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے یہ فیلڈ وزٹ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا۔
    اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کو عدالتی نگرانی اور مشاورت کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔

    دورے کے دوران مقامی افراد نے چیف جسٹس پاکستان کو راجپوتی پگڑی پہنائی۔ اس پگڑی کو مقامی زبان میں پٹکا یا پھینٹو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل محض روایتی اعزاز نہیں بلکہ ایک گہری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

    روایتی پگڑی یا پٹکا یا پھینٹو کی تاریخ

    برصغیر کی سرزمین خصوصاً ہند و سندھ کا خطہ اپنی قدیم تہذیب اور علامتی روایات کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے۔
    ان روایات میں پٹکا ایک نمایاں اور باوقار علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سندھ کے تھرپارکر، نگرپارکر اور کارونجھر میں اسے پھینٹو کہا جاتا ہے۔ پھینٹو محض سر پر باندھنے والا کپڑا نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط تاریخ، راجپوت شناخت، غیرت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دھرتی سے وفاداری اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے بھی جڑا ہے۔

    پٹکے کا تعلق براہ راست ہند و سندھ تہذیبی خطے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خطہ آج کے پاکستان اور انڈیا کے وسیع علاقوں پر مشتمل ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع اور انڈیا کے راجستھان، گجرات خصوصاً کچھ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں یہ روایت زندہ ہے۔

    اگرچہ برصغیر میں مختلف اقوام پگڑی یا دستار باندھتی ہیں۔ مگر رنگین پھینٹو خاص طور پر راجپوت اقوام کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔اس کی ساخت اور رنگ اسے دوسری پگڑیوں سے منفرد بناتے ہیں۔

    تاریخی طور پر راجپوت محافظ اور جنگجو قوم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ قلعوں، سرحدوں اور پہاڑی علاقوں کے رکھوالے رہے۔اسی لیے ان کے لباس میں وقار اور جرات نمایاں نظر آتی ہے۔

    قدیم زمانے میں شوخ اور نمایاں رنگ پہننا ہر فرد کا حق نہیں تھا۔یہ اعزاز صرف سرداروں اور محافظ طبقے کو حاصل ہوتا تھا۔رنگین پھینٹو اسی امتیاز اور ذمہ داری کی علامت بن گیا۔

    پھینٹو کے رنگ محض خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ہر رنگ ایک الگ مفہوم رکھتا ہے اور ایک پیغام دیتا ہے۔سرخ قربانی، نارنجی توانائی، پیلا دانائی اور نیلا اصول پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    کئی رنگوں کا امتزاج راجپوت ثقافت کے اتحاد اور تنوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ امتزاج اجتماعی ذمہ داری اور باہمی ربط کا اظہار بھی ہے۔اسی وجہ سے پھینٹو کو سماجی شناخت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔

    سندھ کے نگرپارکر اور کارونجھر میں پھینٹو کو خاص مقام حاصل ہے۔یہاں اسے صرف ثقافتی لباس نہیں سمجھا جاتا۔
    بلکہ اسے دھرتی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا اخلاقی عہد مانا جاتا ہے۔

    روایت کے مطابق جو شخص پھینٹو باندھتا ہے۔وہ اس خطے، اس کے پہاڑوں اور پانی کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔
    اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ناانصافی اور تباہی پر خاموش نہیں رہے گا۔

    راجپوت روایت میں کسی معزز مہمان کو پھینٹو پہنانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کی منتقلی کی علامت ہوتا ہے۔یوں مہمان کو بھی دھرتی کے ورثے کا اخلاقی امین سمجھا جاتا ہے۔

    جدید دور میں جب ثقافتی اقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں۔پٹکا یا پھینٹو راجپوت شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
    یہ نئی نسل کو تاریخ اور ذمہ داری سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ کارونجھر کے بعض علاقوں میں پھینٹو باندھنے والے فرد کو مقامی سطح پر قدرتی تنازعات میں ثالث کا اخلاقی حق بھی حاصل سمجھا جاتا ہے۔یہ تصور تحریری قانون کا حصہ نہیں۔ مگر سماجی طور پر اسے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

    آج پھینٹو صرف روایت کی علامت نہیں رہا۔یہ ثقافتی بقا، ماحولیاتی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی نشانی بن چکا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ یہ روایت آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔

    آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پٹکا یا پھینٹو محض لباس نہیں۔یہ عزت، ذمہ داری اور دھرتی سے وفاداری کا عہد ہے۔
    راجپوت کے سر پر بندھا پھینٹو اس عہد کی خاموش گواہی دیتا ہے۔