حال ہی میں ایک خبر نے سندھ کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی، جس میں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے سندھ کے مزید تین مشہور تاریخی قلعوں کو اپنی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ یہ تینوں قلعے عمرکوٹ، کوٹ ڈیجی اور نوکوٹ میں واقع ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمرکوٹ کا قلعہ مشہور راجا عمر سومرو نے تعمیر کرایا تھا، جو سندھ کی معروف لوک داستان ’عمر ماروی‘ کا اہم کردار ہے۔ تاہم بعض مقامی ماہرین اور تاریخ دانوں کے مطابق اس قلعے کا ماروی والے عمر سومرو سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے راجپوت حکمران امرسنگھ نے یہ قلعہ تعمیر کرایا اور اس شہر کی بنیاد رکھی تھی۔
دوسری جانب، عمر سومرو سے نسبت رکھنے والے مؤقف کے حامیوں کے پاس بھی کئی مضبوط دلائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں عمرکوٹ قلعے کے اندر ایک ایسا کمرہ موجود تھا جسے ’ماروی کا کوٹ‘ کہا جاتا تھا، یعنی وہ مقام جہاں روایت کے مطابق عمر سومرو نے ماروی کو لا کر رکھا تھا۔ اگرچہ وہ کمرہ اب منہدم ہو چکا ہے، تاہم اس کے آثار آج بھی قلعے میں موجود ہیں۔ ’عمر کوٹ‘ کے عنوان سے کتاب لکھنے والے ادیب جلال کوری کے مطابق ایک روایت یہ بھی ہے کہ ماروی کا اصل گاؤں بھالوا نہیں بلکہ کھاروڑو تھا، جو عمرکوٹ کے قریب واقع ہے۔
جلال کوری کا کہنا ہے کہ سندھ کا صحرا تھر دراصل گریٹرانڈین ڈیزرٹ کا حصہ ہے، جس کا ایک بڑا حصہ بھارت میں واقع ہے۔ جو لوگ جیسلمیر یا راجستھان کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے عمرکوٹ میں آباد ہوئے، وہ آج بھی اس شہر کو ’امرکوٹ‘ کہتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی اسے ’عمرکوٹ‘ کے نام سے پکارتی ہے۔
امرکوٹ نام کے حامیوں کے مطابق یہ شہر کافی عرصہ سوڈھا راجپوتوں کے زیرِ حکمرانی رہا تھا اور یہ قلعہ عمر سومرو نے نہیں بلکہ اس ریاست کے ایک راجا امرسنگھ نے تعمیر کرایا تھا۔ اس روایت کے مطابق یہ قلعہ گیارہویں صدی میں راجپوت حکمران رانا امرسنگھ کے دور یا ان کے زیرِ اقتدار تعمیر ہوا، جبکہ بعد کے ادوار میں اس پر سومرو اور سوڈھا حکمرانوں کا قبضہ تبدیل ہوتا رہا۔
تاہم لکھاری جلال کوری کے مطابق اگر تاریخی حوالوں اور راجپوت حکمرانوں کے شجرۂ نسب کا جائزہ لیا جائے تو عمرکوٹ ریاست کے راجپوت حکمرانوں میں کسی کا نام امرسنگھ نہیں ملتا۔
ان کے مطابق ماضی میں اس شہر کو عمرکوٹ یا امرکوٹ کے علاوہ ’ہمرکوٹ‘ بھی کہا جاتا تھا۔
تاریخی دستاویزات کے مطابق سوڈھا راجپوت خاندان، راجپوتوں کے پرمار قبیلے کی ایک شاخ تھا۔ یہ خاندان ابتدا میں مالوہ اور راجستھان کے بعض علاقوں میں آباد تھا، تاہم بعد میں تھر کے صحرائی خطے میں منتقل ہو گیا۔
تاہم عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما اور ادیب میر حسن آریسر کے مطابق اس شہر کا نام ابتدا ہی سے عمرکوٹ تھا، کیونکہ تاریخی کتابوں میں عمر سومرو کو سندھ کے اس خطے کے حکمران کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے یہ عمرکوٹ ہی ہے۔
تاریخ دانوں کے مطابق سندھ میں سومرو خاندان کی حکومت تقریباً 1025 سے 1351 تک قائم رہی۔ ان کا مرکز زیادہ تر ٹھٹہ اور جنوبی سندھ کے علاقے تھے۔
عمر سومرو کا نام خاص طور پر سندھ کی مشہور لوک داستان ’عمر ماروی‘ کی وجہ سے زندہ ہے، جس میں ماروی کی وطن سے محبت، اصول پسندی اور وفاداری کو بیان کیا گیا ہے۔
تھر سے تعلق رکھنے والے ایک اور ادیب اور محقق معصوم تھری کے مطابق عمر سومرو کے نام سے ایک سے زیادہ حکمران گزرے ہیں اور ماروی والے عمر سومرو نے یہ قلعہ تعمیر نہیں کرایا تھا۔
مغل عہد کا عمرکوٹ سے تعلق
عمرکوٹ کی اہمیت صرف مقامی تاریخ یا سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ مغل دور میں بھی اس شہر کو غیر معمولی تاریخی حیثیت حاصل ہوئی۔
1542 میں مغل بادشاہ ہمایوں، شیر شاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد پناہ کی تلاش میں یہاں پہنچا۔ اس وقت عمرکوٹ کے راجپوت حکمران رانا پرشاد نے ہمایوں اور اس کے خاندان کو پناہ دی۔ اسی قیام کے دوران ہمایوں کی اہلیہ حمیدہ بانو بیگم کے ہاں اکبر کی پیدائش ہوئی۔ بعد ازاں یہی بچہ برصغیر کا عظیم مغل بادشاہ بنا۔ عمرکوٹ میں اکبر کی جائے پیدائش پر سندھ حکومت نے ایک یادگار بھی تعمیر کر رکھی ہے۔
مغل حکمرانوں کے دور میں دیگر ریاستوں کی طرح عمرکوٹ بھی ایک نیم خودمختیار ریاست تھی، جو دہلی کو خراج دیتی تھی۔ معصوم تھری کے مطابق مغل دور میں عمرکوٹ پر سومرو اور راجپوتوں کی حکومت رہی ہے۔
ان کے مطابق مارواڑ کے راجپوت حکمران کے نو بیٹے تھے۔ اس نے اپنی ریاست کے نو حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو ایک حصہ دیا تھا۔ عمرکوٹ اور چھاچھرو سے لے کر موجودہ عمرکوٹ ضلع میں واقع ریاست کو ’ڈھٹ‘ ریاست کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ سندھی زبان کے ایک لہجے کو ڈھاٹی کہا جاتا ہے، جو ڈھٹ سے نکلا ہے۔
محقق میر حسن آریسر کے مطابق تھر کے وسیع و عریض ڈھاٹ والے علاقے کی طبعی اراضی اور نارا ویلی کے کناروں پر مدتوں سے آباد عمرکوٹ کو سندھی کے مشہور شاعر شاہ عبدالطیف نے بھی ’ڈھات‘ کہا ہے۔ ’مثال کے طور پر سُر رانا میں بھٹائی سائیں نے رانا مہندر کو ’ڈھاٹی‘ کہا ہے۔ رانا مہندر جو عمرکوٹ کا رہائشی تھا، اس لیے شاہ لطیف نے ایک شعر میں کہا ہے، جس کا ترجمہ ہے: تو ڈھاٹی اور ڈھاٹ والی ہے، میرے ڈھول ڈھاٹ تمہارا ہے۔
برطانیہ دور میں عمرکوٹ کی حیثیت
برطانوی دور میں اس ریاست کی سیاسی حیثیت تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اٹھارویں صدی میں جودھپور ریاست نے امرکوٹ پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا، جس کے نتیجے میں سوڈھا حکمرانوں کی طاقت کمزور پڑ گئی۔ بعد ازاں 1847 میں جودھپور کے مہاراجہ نے عمرکوٹ کا علاقہ برطانوی حکومت کے حوالے کر دیا اور انگریز نے عمرکوٹ کو سندھ کا حصہ بنا دیا۔ اس کے بدلے جودھپور پر عائد خراج میں کمی کی گئی۔
اس کے نتیجے میں امرکوٹ براہِ راست برطانوی ہندوستان کے زیرِ انتظام آ گیا جبکہ سوڈھا حکمران صرف جاگیردار کی حیثیت تک محدود ہو گئے۔ آج بھی سوڈھا جاگیر عمرکوٹ کے قریب واقع ہے۔
برطانوی دور کے ریکارڈز میں اس شہر کا نام مختلف انداز سے لکھا گیا۔ کہیں ’Amarkot‘، کہیں ’Umarkot‘ اور بعض مقامات پر ’Omarkot‘ درج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے تلفظ اور سرکاری استعمال میں تبدیلی آتی رہی۔ پاکستان کے قیام کے بعد ’عمرکوٹ‘ کی شکل زیادہ عام ہو گئی اور یہی نام سرکاری سطح پر رائج ہو گیا۔ تاہم تاریخی اور مقامی حلقوں کے لیے آج بھی ’امرکوٹ‘ کا نام جذباتی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
ادیب معصوم تھری کے مطابق سندھی زبان کے مقامی لہجے ڈھاٹکی میں عمرکوٹ کے بجائے امرکوٹ کہنا زیادہ آسان ہے، اس لیے تھر کی اکثریت آبادی امرکوٹ ہی کہتی ہے۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سوڈھا راجپوتوں کی حکمرانی کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا۔ اس وقت کے مقامی حکمران رانا ارجن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور عمرکوٹ صوبہ سندھ کا حصہ بن گیا۔
معصوم تھری کے مطابق 1965 کی جنگ کے دوران انڈین فوج نے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے کافی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں سے بیشتر علاقے تاشقند معاہدے کے بعد واپس پاکستان کو مل گئے تھے، مگر ان میں سے کچھ علاقے پھر بھی انڈیا کے پاس رہ گئے۔
بعد کے برسوں میں سوڈھا خاندان کی شخصیات پاکستان کی سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ رانا چندر سنگھ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں شامل تھے اور کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ موجودہ سندھ اسمبلی کے رکن رانا ہمیر سنگھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے انسانی حقوق رجویر سنگھ سوڈھا بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
آج کا عمرکوٹ سندھ کے اہم تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موجود قدیم قلعہ، صحرائی ثقافت، ہندو راجپوت روایات اور مغل تاریخ کے آثار ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس شہر کا نام امرکوٹ سے عمرکوٹ ہو گیا، لیکن اس کی تاریخی شناخت آج بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی دیتی ہے۔
