آبپاشی، باغبانی، تاریخ، آثار قدیمہ اور سندھ کے آبپاشی پر 40 سے زائد کُتب لکھنے والے سندھ کے محقق ایم ایچ پنہور

سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی، آثار قدیمہ اور ماحولیات کے شعبوں میں اگر کسی ایک شخصیت نے غیر معمولی خدمات انجام دیں تو ان میں محمد حسین پنہور، جنہیں عام طور پر ایم ایچ پنہور کے نام سے جانا جاتا ہے، نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے محقق تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ، زراعت اور آبی وسائل کے مطالعے کے لیے وقف کر دی۔

ان کی علمی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انہیں ‘ون مین سندھالوجسٹ’ یعنی اکیلا سندھ شناس بھی کہا جاتا ہے۔

ایم ایچ پنہور 25 دسمبر 1925 کو ضلع دادو کے گاؤں ابراہیم پنہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی جبکہ میٹرک کی تعلیم میہڑ سے مکمل کی۔ تعلیم کے حصول کا شوق بچپن ہی سے ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔

انہوں نے 1949 میں این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی (جو کہ بعد میں یونیورسٹی بنا) سے مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور نمایاں کامیابی کے باعث طلائی تمغہ بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں حکومت سندھ کی جانب سے وظیفہ ملنے پر امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن سے زرعی انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1953 میں محکمہ زراعت سندھ میں بطور زرعی انجینئر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دور میں سندھ زراعت کے میدان میں کئی چیلنجز سے دوچار تھا۔ آبپاشی، زیر زمین پانی، سیم و تھور اور زرعی مشینری کے مسائل کسانوں کے لیے بڑی مشکلات کا باعث تھے۔ ایم ایچ پنہور نے ان مسائل کے حل کے لیے بھرپور کام کیا اور جلد ہی ایک ماہر انجینئر کے طور پر پہچان حاصل کر لی۔

انہوں نے حکومت سندھ اور بعد ازاں مغربی پاکستان کی حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ 1958 سے 1969 تک وہ سندھ اور بلوچستان کے سپرنٹنڈنگ انجینئر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے زرعی زمینوں کی ہمواری کے لیے سینکڑوں بلڈوزروں کے استعمال کی نگرانی کی، متعدد ورکشاپس قائم کیں، ہزاروں ٹیوب ویل نصب کرائے اور زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا۔ ان کی کوششوں سے سندھ میں زیر زمین پانی کے استعمال اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی۔

ایم ایچ پنہور کو زیر زمین پانی اور آبپاشی کے نظام پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے آبی وسائل کا تفصیلی سروے کیا اور اس موضوع پر متعدد تحقیقی کتابیں لکھیں۔ ان کی تحقیق نے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ سندھ میں پانی کے ذخائر کس طرح استعمال کیے جا سکتے ہیں اور سیم و تھور کے مسائل پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سندھ میں زیر زمین پانی کے موضوع پر 10 کتابیں تحریر کیں، جبکہ تھر اور کوہستان کے صحرائی علاقوں اور انجینئرنگ سے متعلق متعدد تحقیقی مضامین بھی لکھے۔

انہوں نے اپنی اہلیہ فرزانہ پنہور کے ساتھ مل کر بھی تحقیق میں حصہ لیا۔ فرزانہ خود بھی ایک ممتاز سائنس دان، محقق اور زرعی ماہر تھیں۔ انہوں نے زراعت، غذائی سائنس، حیاتی کیمیا اور ماحولیات کے شعبوں میں سو سے زائد تحقیقی مضامین تحریر کیے اور اپنی علمی خدمات کے باعث کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے۔

میاں بیوی نے مل کر زراعت اور باغبانی کے مختلف موضوعات پر تحقیق کی اور متعدد مشترکہ مقالات شائع کیے۔ ان کی مشترکہ تحقیق میں پھلوں کی پائیدار کاشت، سندھ میں جھینگا فارمنگ کے امکانات، سمندری پودوں سے خوردنی تیل کی پیداوار، نامیاتی کھاد، زرعی ماحولیات اور پھلوں کی پیداوار میں بہتری جیسے موضوعات شامل تھے۔

فرزانہ پنہور نے ایم ایچ پنہور کے تحقیقی کام میں نہ صرف بھرپور علمی معاونت فراہم کی بلکہ ان کے باغبانی فارم اور تحقیقی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ دونوں نے مل کر سندھ میں سائنسی تحقیق، جدید زراعت اور باغبانی کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کے اثرات آج بھی زرعی شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

ایم ایچ پنہور 21 اپریل 2007 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی علمی میراث آج بھی زندہ ہے۔ سندھ کی تاریخ پر تحقیق کرنے والا شاید ہی کوئی طالب علم ہوگا جو ان کی کتابوں سے واقف نہ ہو۔ ان کی تحریریں آج بھی جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی حلقوں میں حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔

ان کے چار بیٹے ہیں۔ رفیع حسین (جو 2004 میں انتقال کر گئے)، طارق حسین، سنی حسین اور محمد علی۔ دو بیٹے، سنی اور طارق، امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کے چاروں بیٹے پہلی اہلیہ سے تھے، جن کا انتقال 1999 میں ہوا، جبکہ ان کی دوسری اہلیہ فرزانہ، جو حیاتی کیمیا (بایو کیمسٹری) کی ماہر تھیں، 2020 میں وفات پا گئیں۔

پھلوں کی نئی اقسام متعارف

1964 میں ایم ایچ پنہور نے پھلوں کی کاشت کے لیے ٹنڈو جام سے تین کلومیٹر دور 109 ایکڑ پر پھیلا ایک باغبانی فارم قائم کیا، جو بعد ازاں 1985 میں ایک تحقیقی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں سندھ کے موسم کے مطابق پھلوں کی نئی اقسام متعارف کرانے پر کام کیا گیا۔

انہوں نے امریکہ، برازیل، یورپ اور آسٹریلیا سے نئی اقسام منگوائیں اور ان کی آزمائش کی۔ ان تجربات کے نتیجے میں پھلوں کی کئی نئی اور بہتر اقسام متعارف ہوئیں، جن میں لیچی بھی شامل ہے، جو اس سے پہلے سندھ میں زیادہ معروف نہیں تھی۔

انہوں نے آم کی کئی غیر ملکی اقسام بھی متعارف کروائیں اور اپنے فارم پر چالیس سے زائد اقسام کے آم اگائے۔ انہوں نے لو شگر ویرائٹی ‘کیٹ’ (Keitt) متعارف کرائی، جس میں صرف 4 سے 6 فیصد شگر ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایم ایچ پنہور کے بیٹے سنی پنہور کے مطابق یہ ویرائٹی بیرون ملک بھی ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔

آم کے علاوہ انہوں نے آڑو، آلوچہ، سیب، ناشپاتی، انگور، انجیر، انار، جاپانی پھل، بیری، بادام اور پیکان جیسے پھلوں کی ایسی اقسام پر تحقیق کی جو سندھ کے گرم موسم میں کامیابی سے اگائی جا سکیں۔ انہوں نے کٹھل، پپیتا، گریپ فروٹ، لیموں اور کیلے کی بہتر اقسام کو بھی فروغ دیا۔

سندھ کی زراعت میں انقلابی اصلاحات

ایم ایچ پنہور نے زراعت، آبپاشی، باغبانی، تاریخ، آثار قدیمہ اور سندھ شناسی پر 40 سے زائد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی معروف کتابوں میں ‘کرونولوجیکل ڈکشنری آف سندھ’، ‘سورس میٹریل آن سندھ’، ‘سندھ شناسی’ اور ‘سندھ میں آبپاشی کی چھ ہزار سالہ تاریخ’ شامل ہیں۔ ان کتابوں کو آج بھی محققین اور طلبہ بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی توجہ دی۔ ان کا خیال تھا کہ سندھ کی ترقی کا انحصار پانی، زمین اور ماحول کے دانشمندانہ استعمال پر ہے۔ انہوں نے بارہا خبردار کیا کہ اگر آبی وسائل کو درست انداز میں استعمال نہ کیا گیا تو مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج جب سندھ میں پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے تو ان کی کئی باتیں حقیقت بنتی دکھائی دیتی ہیں۔

انہوں نے ‘سندھ میں آبپاشی کی 6000 سالہ تاریخ’ کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں دریائے سندھ کے بہاؤ اور اس کی زراعت میں اہمیت پر کھل کر لکھا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ سندھ کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی پیداوار کی تاریخ اور اس کے بہاؤ میں آنے والی تبدیلیوں کی تاریخ ہے۔ دریائے سندھ کے راستے بدلنے سے اکثر قحط، بھوک، اموات اور حکمران خاندانوں کی تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ سندھ کی تقریباً اسی فیصد آبادی دریائے سندھ کے میدانوں میں آباد رہی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ سندھ جیسے خطے میں زرعی پیداوار کو سمجھنے کے لیے آبپاشی کے نظام کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ 1850 تک آبپاشی کا نظام بہت ابتدائی نوعیت کا تھا اور دریائے سندھ کے بہاؤ کے بارے میں بھی مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔

دریائے سندھ بہتے ہوئے اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سلٹ (مٹی) لاتا ہے۔ سیلاب کے موسم میں پانی کے ہر ہزار حصوں میں تقریباً چھ حصے سلٹ شامل ہوتی ہے۔ یہ عمل کئی دہائیوں تک جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے سلٹ کے پہاڑ نما ٹیلے دریا کے دونوں کناروں پر بنتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے دریا اپنے بہاؤ کو تبدیل کرتا رہا ہے۔

ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے سے لے کر کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں تک دریائے سندھ کے بعض پرانے بہاؤ کو نہروں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ جب بھی سیلاب آتا تھا، ان نہروں کے ذریعے پانی دور دراز علاقوں تک پہنچتا تھا۔

1932 میں سکھر بیراج کی نہروں کی منصوبہ بندی بھی انہی قدیم راستوں کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔ بعد میں گڈو اور کوٹری بیراج کی نہروں کے لیے بھی انہی قدیم راستوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔

سکھر بیراج بننے سے سندھ کی زراعت میں انقلاب برپا ہو گیا۔ بیراج سے نکلنے والے کینالوں نے سندھ کے میدانی علاقے کے تقریباً ساٹھ فیصد حصے کو سیراب کرنا شروع کیا۔ اگلے تیس برسوں میں مزید دو بیراج، گڈو اور کوٹری کے مقام پر تعمیر کیے گئے۔ ان بیراجوں کی تعمیر سے پہلے بہت سی نہروں کے پرانے دہانے آج بھی حفاظتی بندوں کے اندر موجود ہیں اور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے خاص دلچسپی کا باعث ہیں۔

بعض پرانی نہریں نئی نہروں میں شامل تو ہو گئیں، لیکن ان کے کچھ حصے آج بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان نہروں کے کناروں پر آباد بہت سی بستیاں اب ختم ہو چکی ہیں اور ان نہروں کی زمینیں دوبارہ کاشت کے لیے استعمال ہونے لگی ہیں، مگر سندھ میں شدید بارشوں کے بعد یہ قدرتی دریائی راستے ظاہر ہو جاتے ہیں اور وہ ایک لمبی جھیل کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ مقامی طور پر ان راستوں کو واہڑ اور ڈھورا کہا جاتا ہے، جو کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

پنہور کے مطابق جب بھی دریائے سندھ اپنا راستہ بدلتا تھا تو متاثرہ علاقوں کا آبپاشی نظام مکمل طور پر تباہ ہو جاتا تھا، جس کے نتیجے میں لوگوں کی ہجرت، بدامنی، بیماریوں، قحط، بھوک اور اموات میں اضافہ ہوتا اور آبادی کم ہو جاتی تھی۔

گزشتہ پانچ ہزار سال کی سندھ کی تاریخ دراصل خوشحالی اور زوال، آبادی میں اضافے اور کمی، حکمران خاندانوں کی تبدیلی، تہذیبوں کے عروج و زوال اور شہروں و بستیوں کے ویران ہونے کی تاریخ ہے۔

سندھ میں کلہوڑا خاندان نے اپنے دارالحکومت کئی مرتبہ تبدیل کیے، جس کی بڑی وجہ دریائے سندھ میں سیلاب اور اس کا سمت تبدیل کرنا ہوتا تھا۔ کلہوڑا دور کی باقیات سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں، جیسا کہ ضلع دادو میں خیرپور ناتھن شاہ کے قریب میاں نصیر خان کا مقبرہ اور قبرستان، خدا آباد میں میاں یار محمد کلہوڑو کا مقبرہ اور جامع مسجد، ضلع مٹیاری میں ہالا کے قریب خدا آباد میں کلہوڑا قبرستان، اور حیدرآباد میں میاں غلام شاہ کا مقبرہ، پکا قلعہ اور کلہوڑا قبرستان آج بھی قائم ہیں۔

ماضی میں دریا کی سمت میں تبدیلی کی ان تباہیوں کے بعد زمین پر کھنڈرات کے ڈھیر باقی رہ جاتے تھے، جنہیں سندھ میں عام طور پر ‘دڑو’ کہا جاتا ہے، جیسا کہ موہن جو دڑو، کاہو جو دڑو۔ ان دڑوں میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے، پکی اینٹیں اور دیگر قدیم اشیا بکھری ہوئی ملتی ہیں۔

سندھ میں حفاظتی بند تعمیر ہونے سے پہلے دریائے سندھ ہر بڑے سیلاب کے دوران اپنے کناروں سے نکل کر دور دراز علاقوں تک پھیل جاتا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتیں، جبکہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ اسی وجہ سے دادو اور جامشورو اضلاع میں آج بھی کئی قدیم دیہات قدرتی یا مصنوعی مٹی کے اونچے ٹیلوں پر آباد ہیں۔ سیہون کے قریب بوبک، بختیارپور اور آراضی ایسی تاریخی بستیاں ہیں جو آج بھی بلند مقامات پر قائم ہیں اور ماضی کے تباہ کن سیلابوں کی یاد دلاتی ہیں۔

ایم ایچ پنہور کے مطابق دریائے سندھ کے کناروں پر موجود گھنے جنگلات سیلابی پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے خیال میں جنگلات سیلابی میدانوں میں پانی کی رفتار کم کر دیتے تھے، جبکہ دریا کے اصل دھارے میں پانی کا بہاؤ نسبتاً تیز رہتا تھا، جس سے دریا کا قدرتی راستہ زیادہ مستحکم رہتا تھا۔

تاہم دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی اور حکومتوں کی ماحول دشمن پالیسیوں کے باعث سندھ کے وسیع دریائی جنگلات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ان جنگلات کی تباہی نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا بلکہ گرمیوں میں سندھ کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ماحولیاتی تبدیلی بنی ہے۔

تحقیق اور تاریخ میں دلچسپی

1969 میں ایم ایچ پنہور نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور نجی مشاورت کا شعبہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک کنسلٹنسی ادارہ قائم کیا جو آبپاشی، نکاسی آب، زراعت، باغبانی اور سائنسی آلات کے شعبوں میں خدمات فراہم کرتا تھا۔ تاہم ان کی اصل پہچان صرف انجینئر نہیں بلکہ ایک تاریخ کے محقق اور دانشور کی تھی۔

سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی توانائیاں تحقیق اور تصنیف کے لیے وقف کر دیں۔

پنہور کو سندھ کی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ نوجوانی کے زمانے میں انہوں نے سندھ کے معروف مؤرخین کی کتابیں پڑھنا شروع کیں اور پھر عمر بھر اس شعبے سے وابستہ رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ سندھ کی تاریخ کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی سوچ کے تحت انہوں نے قدیم دستاویزات، تاریخی حوالوں، آثار قدیمہ، جغرافیہ اور دریائے سندھ کے قدیم راستوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔

انہوں نے سندھ میں اپنی سرکاری ملازمت کے دوران سندھ کے چپے چپے کو چھان مارا اور قدیم آثار اور تاریخ پر مضامین اور کتابیں تحریر کیں۔ ان کے صاحبزادے سنی پنہور کے مطابق تاریخ نویسی کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے سندھ کی تاریخ کو محض روایتی داستانوں کے بجائے تحقیقی اور سائنسی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

سنی پنہور کہتے ہیں کہ ان کے والد سندھ کی سائنسی تاریخ نویسی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے قدیم سندھ کی تہذیب، دریائے سندھ کے بہاؤ، قدیم شہروں، قدیم ریاستوں اور مختلف ادوار کے سیاسی و سماجی حالات پر گہری تحقیق کی۔ ان کی تصانیف کی تعداد درجنوں میں ہے۔

اپنی سوانح حیات میں ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں تاریخ صرف بادشاہوں، جرنیلوں، جنگوں اور قتل عام کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ عام لوگوں کی محنت، پیداوار اور زندگی کی تاریخ ہوتی ہے۔ سندھ کی تاریخ پر اس کے جغرافیے، ارضیات، ماحولیات، آب و ہوا، مٹی، آبپاشی کے پانی، نہروں، زیر زمین پانی، اس کے معیار اور مقدار، دریائے سندھ کے پانی اور اس کے بدلتے ہوئے راستوں کا گہرا اثر رہا ہے۔


 اسی طرح زمین کی زرخیزی اور اس کی صلاحیت بھی اہم رہی ہے، جس کے ذریعے خوراک، چارہ، ریشہ، ایندھن، پھل، سبزیاں، لکڑی، صنعتی فصلیں اور مویشی پالے جاتے رہے ہیں۔

ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1992 میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ مختلف جامعات، زرعی اداروں اور علمی تنظیموں نے انہیں متعدد اعزازات اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیے۔ انہیں پاکستان کے ممتاز ماہر باغبانی، محقق اور سندھ شناس کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں انجینئر، مورخ، ماہر آثار قدیمہ، ماہر ماحولیات، زرعی سائنس دان اور مصنف تھے۔ یہ خصوصیت بہت کم شخصیات میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مختلف علوم کو آپس میں جوڑ کر سندھ کی تاریخ اور ترقی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام کو آج بھی منفرد حیثیت حاصل ہے۔

سندھ کی تہذیب کے عروج و زوال میں دریا کا کردار

وہ لکھتے ہیں کہ موہن جو دڑو اچانک ختم نہیں ہوا تھا۔ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شدید خشک سالی کے باعث بارشوں میں ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ کمی آ گئی، جس کی وجہ سے یہ شاہکار تہذیب بتدریج زوال کا شکار ہوئی۔ دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بھی کم ہو گئی۔ دیگر مقامی دریا، جیسا کہ سرسوتی، درشدوتی اور ہاکڑہ کا آبی نظام بھی خشک سالی کی وجہ سے سوکھ گیا۔

مشرقی نارا اسی نظام کا جنوبی حصہ تھا۔ گندم اور جو کی سردیوں کی کاشت میں نمایاں کمی آ گئی۔ لوگوں نے مویشی پالنے کے خانہ بدوش طرز زندگی کو اختیار کرنا شروع کر دیا۔

ان کے مطابق موہن جو دڑو کی مکمل تباہی کے بعد وہ تہذیب ایک نئی شکل میں تبدیل ہوئی جسے ‘جھوکر تہذیب’ کہا جاتا ہے۔ موہن جو دڑو کے شہر کو تقریباً 1650 قبل مسیح میں ترک کر دیا گیا۔ لکھنے کا فن بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا اور تقریباً 300 قبل مسیح تک یہ تقریباً ناپید ہو چکا تھا، جو شدید خشک ماحول کے آغاز کے ساتھ موافق تھا۔

لاڑکانہ شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر مغرب کی جانب، گاؤں مٹھو دیرو کے قریب جھوکر جو دڑو واقع ہے۔ اس قدیم آثار کے مقام کو برطانوی دور کے ماہر آثار قدیمہ این جی مجمدار نے 1928 میں دریافت کیا اور یہاں کھدائی کرائی۔ جھوکر جو دڑو سے ہڑپہ تہذیب کے آخری دور، جسے کاپر دور (چالکولیتھک دور) بھی کہا جاتا ہے، کے آثار بھی ملے ہیں۔

قدیم زمانے میں دریائے سندھ کی ایک شاخ اس دڑے کے قریب سے گزرتی تھی اور اسی کے کنارے جھوکر کا قدیم شہر آباد تھا۔ اس کے علاوہ یہاں سے ایک قدیم تجارتی راستہ بھی گزرتا تھا، جو مغرب سے سندھ کی طرف آتا تھا۔

پنہور صاحب کے مطابق جھوکر تہذیب موہن جو دڑو تہذیب کی ایک کمزور اور زوال پذیر شکل تھی۔ اس کے باوجود ماہرین آثار قدیمہ ان دونوں کے درمیان تعلقات کے واضح شواہد دیکھ سکتے ہیں۔ عام لوگ اور حکومتیں اکثر یہ نہیں سمجھتیں کہ خشک سالی پوری قوموں اور تہذیبوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ ا

نہوں نے یہ مثال اس لیے دی ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے کئی دوسرے علوم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان علوم کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تاریخ کی درست تصویر ہمارے سامنے نہیں آ سکتی اور حقیقت مسخ ہو سکتی ہے۔

پنہور صاحب لکھتے ہیں کہ کلائمیٹ چینج نے وادی سندھ کو صدیوں پہلے سے متاثر کرنا شروع کیا۔ تاریخی حوالوں سے انہوں نے لکھا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی نے اس علاقے کی زراعت کو شدید متاثر کیا ہے۔

اپنی انگریزی کتاب ‘سندھ اسٹڈیز’ میں پنہور لکھتے ہیں کہ آب و ہوا نے ہمیشہ انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی نے یہ طے کیا کہ لوگ کہاں شکار کریں، کہاں رہائش اختیار کریں، کس قسم کا لباس پہنیں اور کن علاقوں میں زراعت کریں۔

تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے وادی سندھ کے شہروں میں زیادہ تر مکانات پکی اینٹوں یا پتھر کی بنیادوں پر اینٹوں سے تعمیر کیے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت موسم نسبتاً خشک اور گرم تھا۔ گھروں کی دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی کا پلستر کیا جاتا تھا تاکہ اندرونی حصہ شدید گرمی سے محفوظ رہے۔ اسی وجہ سے گھروں میں کھڑکیاں بھی کم رکھی جاتی تھیں۔

اس دور میں سندھ کے گھروں میں روشندان بھی نہیں بنائے جاتے تھے تاکہ شمال سے آنے والی سرد ہوائیں اندر داخل نہ ہوں۔

بعد ازاں، تقریباً سن 1500 تک سندھ میں گھروں کی تعمیر کا انداز بدل گیا۔ گھروں کے جنوبی رخ پر برآمدے بنائے جانے لگے تاکہ کمروں کو دھوپ سے بچایا جا سکے اور گرمیوں میں جنوب سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس زمانے میں گھروں کے جنوب یا مغرب کی جانب کھڑکیاں اور روشندان کم رکھے جاتے تھے تاکہ سردیوں میں شمال سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں سے بچاؤ ممکن ہو۔

جنوبی سندھ میں، خاص طور پر حیدرآباد سمیت مانجھند سے جنوب کے علاقوں میں، کچھ عرصہ پہلے تک ہوا پکڑنے والے خصوصی مینار، جن کو سندھی میں ‘منگھ’ (ونڈ کیچر) کہا جاتا تھا، بنائے جاتے تھے، جو گرمیوں میں جنوب مغرب سے آنے والی ہواؤں کو گھروں کے اندر لے آتے تھے۔ تاہم کراچی میں ایسے ونڈ کیچر عام نہیں تھے، کیونکہ یہاں مستقل بنیادوں پر سمندر اور خشکی سے باری باری ہوائیں چلتی تھیں، اس لیے مغرب کی جانب کھلے مکانات زیادہ موزوں سمجھے جاتے تھے۔

سندھ کی قدیم قوم، موہانا یا سولنگی

ایم ایچ پنہور کے مطابق ماہی گیر یا ماچھی (جن کو سولنگی بھی کہا جاتا ہے) دراصل ماہی گیر ہی ہیں، جو سندھ کی سب سے قدیم قوم ہیں۔ ماہی گیری کا کام کرنے والوں کو سندھ میں کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسا کہ ملاح، موہانا یا میربحر۔

ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ یہ موہانا موہن جو دڑو کے زمانے کے ماہی گیر تھے اور بحیرہ عرب کے راستے دلمون (موجودہ بحرین) اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے میسوپوٹیمیا تک سفر کرتے تھے۔ اس زمانے میں سندھ کو ‘میلوہا’ بھی کہا جاتا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ نام ‘موہانا’ سے نکلا ہو یا موہانا لفظ بعد میں میلوہا سے بنا ہو۔ دونوں الفاظ کا مطلب ماہی گیر یا کشتی چلانے والے لوگوں سے متعلق ہے۔

وہ یاد کر کے لکھتے ہیں کہ 1970 تک سولنگی یا ماچھی لوگ ہر سال موہن جو دڑو کے سامنے ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور ایک پیر کی قبر کے قریب رات بھر گانا، رقص اور بعض روایتی رسومات ادا کرتے تھے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری اور منچھر جھیل کے ماہی گیروں کے رہنما مصطفیٰ میرانی کے مطابق ماہی گیری سے وابستہ برادریوں کے مختلف نام دراصل ان کی سماجی حیثیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کے بقول، جب کسی ماہی گیر خاندان کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہوتی تو وہ ‘ماچھی’ کے بجائے ‘سولنگی’ کہلانے لگتا، جبکہ ‘ملاح’ برادری کے بعض خاندان وقت کے ساتھ ‘میرانی’ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ یہ تبدیلی دراصل معاشرے میں زیادہ باوقار شناخت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

موہانا لوگوں کی معیشت دریائے سندھ کے بہاؤ کے استحکام پر منحصر تھی۔ جب دریا اپنا راستہ بدل لیتا تھا تو مال بردار اور مسافر بردار کشتیوں کے مالکان کا کاروبار کئی دہائیوں تک متاثر رہتا تھا، یہاں تک کہ لوگ دریا کے نئے بہاؤ کے کنارے دوبارہ آباد ہو جاتے۔ وہ ماہر ماہی گیر تھے اور ممکن ہے بعض اوقات سمندری قزاقی بھی کرتے ہوں۔

وہ لکھتے ہیں کہ جب بھی دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا، ماہی گیروں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ نئے راستے کے کناروں پر آبادیاں موجود نہیں ہوتی تھیں اور تجارت و سامان کی نقل و حمل رک جاتی تھی۔ سکندر اعظم کے حملے کے بعد تقریباً سن 700 سے 1758 تک دریائے سندھ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن کے نتیجے میں زیر زمین کاشت رقبہ، آبادی اور تجارت میں نمایاں کمی آئی۔

دریا کے معمولی راستہ تبدیل کرنے کے واقعات بھی سندھ کے تمام لوگوں کو متاثر کرتے تھے، لیکن غالباً موہانا یا سولنگی برادری سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی تھی۔

انگریز دور میں ریلوے کی آمد سے پہلے دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر متعدد بندرگاہیں، جن کو مقامی طور پر ‘پتن’ کہتے تھے، موجود تھیں۔ ریلوے آنے سے پہلے بھی انڈس اسٹیم بوٹ فلوٹیلا (1843 تا 1878) نے موہانوں کے روایتی کاروبار کو تقریباً 35 سے 40 سال تک متاثر کیا۔ بعد ازاں ریلوے شروع ہونے پر کشتیوں کے ذریعے تجارت دس فیصد سے بھی کم رہ گئی اور بہت سے ماہی گیر بے روزگار ہو گئے۔

سولنگی یا موہانا برادریاں اگرچہ مذہب کے اعتبار سے مسلمان تھیں، لیکن عملی طور پر انہیں معاشرے میں وہی امتیازی سلوک برداشت کرنا پڑتا تھا جو اچھوت سمجھی جانے والی سناتن یا ہندو مذہب کی ذاتوں (شیڈول کاسٹس) کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ انہیں سماجی تفریق، محرومی اور کمتر حیثیت کا سامنا رہتا تھا۔

ایم ایچ پنہور اپنی سوانح حیات میں اپنے بچپن کے ایک سیلاب کی صورتحال کا تفصیلی طور پر ذکر کرتے ہیں۔ 1930 کے جولائی کے آخر میں دریائے سندھ نے گاؤں رادھن کے قریب، نو گوٹھ کے سامنے حفاظتی بند توڑ دیا اور چودھویں اور پندرھویں صدی کے اپنے قدیم راستے پر بہنے لگا۔ دریا کا پانی مہا، جوبرجی، ستیارو، پیر گھنیو اور ٹلٹی کی جھیلوں سے گزرتا ہوا دوبارہ دریائے سندھ کے مرکزی بہاؤ میں جا ملا۔

‘سیلابی پانی نے ہمارے گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر لیا، لیکن میرے ماموں محمد صالح کی بروقت کوششوں سے گاؤں بچ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر لوگوں کو جمع کیا اور گاؤں کے گرد حفاظتی بند تعمیر کروا دیا۔ اس بند کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی دونوں اطراف مناسب ڈھلوان تھی اور اوپر کی چوڑائی اتنی تھی کہ اس پر بیل گاڑی بھی آسانی سے گزر سکتی تھی،’ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا۔

پورا گاؤں خالی کرا لیا گیا تھا اور صرف چند مرد وہاں رہ گئے تھے۔ ‘میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کشتیاں لوگوں، مویشیوں اور گھریلو سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی تھیں۔ اس عمر میں مجھے سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصان کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔’

وہ لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دریائے سندھ کے بارے میں ان کی دلچسپی مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ دریا کو سمجھنے کے لیے ان کو جغرافیہ، آبی وسائل، پانی کے بہاؤ کے اصول، نہری نظام، آبپاشی، نکاسی آب، دریا اور نہروں سے پانی کے رساؤ، دریاؤں کے اپنے راستے بنانے اور بدلنے کے عمل، کٹاؤ، ڈیلٹا کی تشکیل، ماضی کی موسمی تبدیلیوں اور ان کے دریائے سندھ پر اثرات کا مطالعہ کرنا پڑا۔

‘اس کے ساتھ ساتھ میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ دریا راستے کیوں بدلتا ہے، بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں، آبادی کیوں نقل مکانی کرتی ہے، ان تبدیلیوں سے سماجی بے چینی کیسے جنم لیتی ہے، حکومتیں اور حکمران خاندان کیسے بدلتے ہیں، بیرونی مداخلت کیا اثرات مرتب کرتی ہے، اور ان تمام عوامل نے لوگوں کی زندگی، خوراک، زراعت، مویشی پالنے اور جنگلات پر کیا اثر ڈالا۔’

پنجاب اور سندھ کے بالائی علاقوں میں متعدد بیراجوں کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی شاندار ماہی گیری کا دور عملاً ختم ہو گیا۔ سندھی ماہی گیر اب دریائے سندھ اور اس سے وابستہ تقریباً 22 لاکھ 12 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے قدرتی آبی علاقوں میں پہلے کی طرح مچھلی کا شکار نہیں کر سکتے تھے۔ سندھ کے ماہی گیر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے دریائے سندھ کے شمالی علاقوں میں ہجرت کر گئے اور آج بھی ان کی کئی نسلیں وہاں آباد ہیں۔

صرف ماہی گیر ہی نہیں، بلکہ دیہی آبادی بھی جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کے سب سے سستے اور معیاری ذریعے، یعنی مچھلی، سے محروم ہو گئی۔

وہ لکھتے ہیں: ‘مجھے یاد ہے کہ 1935 میں مچھلی کی قیمت بکرے کے گوشت سے بھی نصف سے کم ہوتی تھی۔ اس زمانے میں اگرچہ سردیوں میں دریائے سندھ میں پانی کم ہوتا تھا، لیکن گرمیوں میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ گرمیوں کا اضافی پانی جھیلوں کو بھر دیتا تھا اور سردیوں میں معمولی مقدار میں پانی بھی اس پورے آبی نظام اور مچھلی کی دولت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔’

تاہم آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی مسلسل کمی نے نہ صرف ماہی گیری کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ سندھ کی زراعت بھی سنگین بحران سے دوچار ہے۔ خصوصاً خریف کی فصلوں کو مطلوبہ مقدار میں آبپاشی کا پانی میسر نہ ہونے کے باعث زرعی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے اثرات کسانوں کی آمدنی، دیہی معیشت اور صوبے کی غذائی پیداوار پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز

ایم ایچ پنہور کی علمی خدمات کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت اور سندھ یونیورسٹی کے تعاون سے جامشورو میں ایم ایچ پنہور انسٹی ٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز قائم کیا گیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں تین ایکڑ پر محیط یہ ادارہ ایم ایچ پنہور ٹرسٹ کے تحت ان کے خاندان کی کوششوں سے وجود میں آیا۔

اس کا مقصد سندھ کی تاریخ، ثقافت، ادب، آثار قدیمہ، ماحولیات اور سماجی علوم پر تحقیق کو فروغ دینا اور اس علمی ورثے کو آنے والی نسلوں تک محفوظ انداز میں پہنچانا ہے۔

پنہور کی سب سے بڑی پہچان ان کی غیر معمولی ذاتی لائبریری بھی تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں تقریباً پچاس ہزار نایاب اور اہم کتابیں جمع کیں، جن میں تاریخ، زراعت، انجینئرنگ، ماحولیات، آبی وسائل اور سندھ شناسی سمیت متعدد موضوعات شامل تھے۔ یہ صرف ایک ذاتی کتب خانہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ایک منفرد خزانہ تھا۔

ان کے فرزند سنی پنہور کے مطابق یہ لائبریری حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں واقع ان کے گھر کے ایک حصے میں قائم تھی، مگر شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اسے بڑا نقصان پہنچا۔ پنہور نے اپنی نگرانی میں کتابوں کی بحالی کی بھرپور کوشش کی، لیکن بے شمار نایاب کتابیں ضائع ہو گئیں۔ ان کی وفات کے بعد خاندان نے سندھ یونیورسٹی سے درخواست کی کہ اس قیمتی ذخیرۂ علم کو محفوظ رکھنے کے لیے جامعہ میں جگہ فراہم کی جائے۔

سابق وائس چانسلر مرحوم مظہر الحق صدیقی نے اس مقصد کے لیے تین ایکڑ زمین مختص کی، جبکہ محکمہ ثقافت سندھ کے مالی تعاون سے ادارے کی عمارت تعمیر کی گئی۔

آج یہ ادارہ سندھ سے متعلق نایاب کتابوں، مخطوطات، نقشوں، تاریخی دستاویزات اور تحقیقی مواد کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہا ہے، تاکہ محققین، طلبہ اور عام قارئین آسانی سے اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارہ سیمینارز، کانفرنسوں، تحقیقی منصوبوں اور علمی اشاعتوں کے ذریعے سندھ کے علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جون 2003 میں ایم ایچ پنہور نے سندھ کی علمی اور سماجی ترقی کے لیے ایک ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ انہوں نے اپنی جائیداد، لائبریری، دفتر اور دیگر اثاثے اسی ٹرسٹ کے نام وقف کر دیے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے علمی سرمائے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ فیصلہ ان کی علم دوستی، دور اندیشی اور سندھ سے گہری وابستگی کا ایسا ثبوت ہے جو آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

ایم ایچ پنہور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں سرگرم رہے۔ وہ زمین، پانی، آبپاشی، زراعت، فصلوں کی پیداوار، بعد از برداشت طریقۂ کار (پری ہارویسٹ اور پوسٹ ہارویسٹ) اور دیگر زرعی موضوعات پر گہری تحقیق کرتے رہے۔ انہوں نے ان موضوعات پر سیکڑوں تحقیقی مضامین اور متعدد کتابیں لکھیں، جو آج بھی سندھ کی تاریخ، زراعت اور ترقی کے حوالے سے اہم معلومات کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

ایم ایچ پنہور کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد اپنی محنت، تحقیق اور علم دوستی کے ذریعے پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے سندھ کے ماضی کو سمجھنے، حال کے مسائل کی نشاندہی کرنے اور مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی شخصیت نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے علمی ورثے کا ایک اہم باب ہے۔ آج بھی جب سندھ کی تاریخ، زراعت، آبپاشی یا ماحولیات کا ذکر ہوتا ہے تو ایم ایچ پنہور کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں: