Tag: حکومت

  • سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کے مطابق آٹے کے بحران سے بچنے اور صوبے کی عوام کو سستا آٹے دینے کے لیے سندھ حکومت نے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

    یہ رقم عوام کے ٹیکس سے جمع ہوئی۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ بازار میں آٹا سستا رہے اور قلت پیدا نہ ہو۔

    حکومتی دعووں کے باوجود عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ سستا آٹا کہاں ہے۔ کراچی سمیت کئی شہروں میں آٹا مہنگا رہا۔ دستیابی بھی اکثر مشکل رہی۔ عوام کا تاثر ہے کہ سبسڈی کا فائدہ انہیں براہ راست نہیں ملا۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق سبسڈی کا بڑا حصہ فلور ملز کو دیا گیا۔ چونکہ بڑی فلور ملز زیادہ تر کراچی میں ہیں، اس لیے سبسڈی بھی زیادہ تر یہیں گئی۔ اس کے باوجود یہی شہر آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات کرتا رہا۔

    محکمہ خوراک کا مؤقف ہے کہ گندم کی خریداری اور آٹے کی پیداوار ان کی ذمہ داری ہے۔ سستا آٹا عوام تک پہنچانا کسی اور محکمے کا کام ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ محکمہ کون سا ہے اور اس کی نگرانی کون کرتا ہے۔

    اسی دوران حکومت نے بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کی۔ سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا کہ گندم کی 3 لاکھ 65 ہزار بوریاں خراب ہو گئیں۔ یہ نقصان بارش، کھلے آسمان تلے ذخیرہ اور انتظامی کمزوریوں سے جوڑا گیا۔

    ایک گندم کی بوری 100 کلو وزن کی ہوتی ہے۔ ایک بوری کی قیمت تقریباً 9 ہزار 500 روپے بتائی گئی۔ اگر خراب، چوری یا ضائع ہونے والی بوریاں 3 لاکھ 65 ہزار مانی جائیں تو مجموعی طور پر ضائع ہونے والی گندم کی مالیت 3 ارب 46 کروڑ 75 لاکھ روپے بنتی ہے۔

    وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے میں کچھ نقصان ہونا معمول کی بات ہے۔ مگر عوام کے لیے یہ نقصان معمولی نہیں۔ یہ وہی پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ ہو سکتا تھا۔

    سندھ میں آج بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ خوراک کی فکر میں رہتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو پورا مہینہ گندم خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سرکاری گندم کا ضائع ہونا محض اعداد کا معاملہ نہیں رہتا۔

    اس کے ساتھ باردانہ نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ گندم ذخیرہ کرنے پر کروڑوں روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ یہ رقم بھی عوام کے ٹیکس سے دی گئی۔

    حکومتی بیانات میں چوہوں کا ذکر بھی آیا۔ کہا گیا کہ گھروں میں رکھی گندم بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مگر عوام یہ سوال ضرور کرتی ہے کہ اگر نقصان معمول کا حصہ ہے تو پھر جواب دہی کس کی ہے۔

    گندم صرف اناج نہیں۔ یہ غریب کی زندگی سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ اس کا ہر دانہ ریاستی فیصلوں کا حساب مانگتا ہے۔

  • ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔

    کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
    جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    احتجاج کیوں بھڑکے؟

    احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
    بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔

    تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار

    یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔

    دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔

    اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
    ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔

    سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔

    پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔

    احتجاج کا رخ کہاں گیا؟

    وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔

    ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔

    ماہرین کی نظر میں وجوہات

    معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔

    سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال

    رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
    صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔

    اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
    یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔

    پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں

    اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
    پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔

    اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ

    1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔

    ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔

    ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔

    یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟

    خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔

    خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
    ایک ملک قید ہے،
    جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔

    تاریخ کے سگریٹ کو
    جب تیلی نے چھوا
    تو وقت سلگ اٹھا،

    اور ایک لمبی کش میں
    درد کا سرمئی دھواں
    ہوا میں بکھرنے لگا۔

    خمینی
    تم ایک راکھ کی طرح
    اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
    بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔

    گگوش کی آنکھوں میں
    ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،

    اور خوابوں کے حسین
    اپنے قتل کی ناانصافی پر
    ہر یزید، ہر خمینی کے
    ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے

    دل کے نئے موسموں کے
    نئے عنوان بن جاتے ہیں۔

    درد کی اس پرانی جھیل پر
    جب دیس اور پردیس کے پرندے
    اکٹھے اڑان بھریں گے

    تو نیلگوں آسمان میں بھی
    پرندوں کا ایک بادل
    جھیل پر سایہ کر دے گا۔

    تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
    جوانی کی شاخ پر
    زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
    مسلسل ہنستے رہیں گے،

    اور اُن قہقہوں میں
    گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔

    حسن درس

     

  • کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت ہر سال عوام کے ٹیکس سے تقریباً ساڑھے سولہ ارب روپے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو سندھ کو دیتی ہے۔ یہ ادارہ صوبے میں بنیادی صحت کے نظام کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے اور اسے عام طور پر پی پی ایچ آئی کہا جاتا ہے۔

    پی پی ایچ آئی سندھ سنہ 2012 کے بعد صوبے کے بیشتر دیہی بنیادی صحت مراکز کے انتظامات سنبھال چکا ہے۔ کاغذوں میں اس کا مقصد سادہ ہے، دیہات تک علاج پہنچانا، ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانا اور ایسے مریضوں کو سہولت دینا جو شہروں تک نہیں پہنچ سکتے۔

    اس خطیر رقم کے بدلے پی پی ایچ آئی پر لازم ہے کہ وہ بنیادی صحت مراکز چلائے۔ دیہی علاقوں میں روزمرہ علاج کی سہولت فراہم کرے۔ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت یقینی بنائے۔ مراکز میں ڈاکٹر، طبی عملہ اور ضروری ادویات دستیاب رکھے۔

    ادارے کا دعویٰ ہے کہ سندھ بھر میں سینکڑوں بنیادی صحت مراکز فعال ہیں اور دیہی آبادی کو علاج کی سہولت میسر ہے۔ رپورٹس میں اعداد و شمار موجود ہیں، عمارتیں موجود ہیں اور نظام کاغذ پر مکمل دکھائی دیتا ہے۔

    لیکن زمینی حقیقت پر سوالات اب بھی اپنی جگہ ہیں۔ کیا آپ کے گاؤں کا بنیادی صحت مرکز روزانہ کھلتا ہے۔ کیا ڈاکٹر مقررہ وقت پر موجود ہوتا ہے۔ کیا مریض کو دوا ملتی ہے یا صرف پرچی پکڑا دی جاتی ہے۔ کیا ایمرجنسی کی صورت میں فوری علاج ممکن ہوتا ہے۔

    اگر مراکز واقعی فعال ہیں تو پھر مریض شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ غریب خاندان نجی اسپتالوں پر قرض کیوں اٹھاتے ہیں۔ بنیادی سہولت ہونے کے باوجود عوام دربدر کیوں نظر آتے ہیں۔

    یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ کئی دیہی مراکز میں عمارت تو موجود ہے مگر عملہ عارضی ہے یا بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس سے علاج کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور مریض کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔

    اصل سوال یہی ہے کہ جب سندھ حکومت ہر سال ساڑھے سولہ ارب روپے پی پی ایچ آئی کو دیتی ہے تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں۔ یہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ سہولت صرف فائلوں میں ہے یا زمین پر بھی۔ اور اگر علاج میسر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

  • پارلیمانوں میں تاریخی، دلچسپ واقعات: انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ نے بم کیوں پھینکے؟

    پارلیمانوں میں تاریخی، دلچسپ واقعات: انڈین لیجسلیٹو اسمبلی میں بھگت سنگھ نے بم کیوں پھینکے؟

     

    جب انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کے اندر بھگت سنگھ نے بم پھینکے.

    بھگت سنگھ برصغیر کا وہ انقلابی کردار ہے جس نے نہایت کم عمری میں ہی برصغیر کی سیاست اور انگریز سامراج سے آزادی کی جدوجہد پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے۔

    27 ستمبر 1907 کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے تعلقہ جڑانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنگا (جس کا نام بعد میں بھگت پور رکھا گیا) میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کو محض 23 برس کی عمر میں 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔

    بھگت سنگھ برطانوی سامراج کے بربریت سے سخت نالاں تھے۔ جب وہ صرف 12 برس کے تھے تو امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا، جس نے اُن کی سوچ اور شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کم عمری ہی میں وہ ہندوستاں سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے رکن اور رہنما کے طور پر ابھرے۔

    اُس دور میں انگریز حکومت نے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے ۔سائمن کمیشن قائم کیا، جس میں ایک بھی مقامی ہندوستانی شامل نہ تھا۔ اس پر برصغیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

    جب سائمن کمیشن بمبئی پہنچنے والا تھا تو لاہور میں معروف سیاسی، سماجی، فلاحی اور قوم پرست رہنما لالا لجپت رائے کی قیادت میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر احتجاج ہوا۔ اس احتجاج پر پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کی قیادت میں شدید تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن اور کانگریس کے مرکزی رہنما لالا لجپت رائے زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔

    اس واقعے کے بعد نوجوان بھگت سنگھ نے لالا لجپت رائے کے خون کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 17 دسمبر 1928 کو بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی راج گرو کے ہمراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کے بجائے غلطی سے ایک اور نوجوان پولیس افسر جان سانڈرز کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وہ روپوش ہو کر لکھنؤ چلے گئے۔

    بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر
    بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر

    اس کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں نے انگریز سرکار کے سامنے ایک بڑا دھماکا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 8 اپریل 1929 کو دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی بتوکیشور دت کے ساتھ دو کم شدت والے بم پھینکے، جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اسمبلی میں پمفلٹ اچھالے، آزادی کے نعرے لگائے اور خود کو گرفتار کرا دیا۔

    بروز پیر، 8 اپریل 1929

    مرکزی قانون ساز اسمبلی، دہلی

    ہندوستان کی تیسری مرکزی اسمبلی کا چوتھا اجلاس معمول کے مطابق اسپیکر وِٹھل بھائی پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل کے بڑے بھائی) کی صدارت میں جاری تھا۔ اس اجلاس میں سندھ کے دو اراکین، سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون اور وڈیرہ محمد پناہ خان ڈکھن سمیت کُل 94 اراکین موجود تھے۔

    سوال و جواب کے وقفے میں دو سوالات کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ اب ایوان میں ‘دی ٹریڈ ڈسپیوٹس بل‘ پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے بعد میاں محمد شاہنواز (مغربی وسطی پنجاب — مسلم)، کرنل جی ڈی کرافورڈ (بنگال — یورپی)، ایم کے اچاریہ، سی ایس رنگا ایئر، فضل ابراہیم رحمت اللہ (بمبئی سینٹرل ڈویژن، مسلم دیہی) اور سر بھوپیندر ناتھ مترا نے بل پر تقاریر کیں۔

    آخر میں اسپیکر نے قرارداد پیش کی کہ یہ بل جیسا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظور ہو کر آیا ہے، ویسے ہی اس ایوان سے بھی منظور کیا جائے۔ ووٹنگ کے نتیجے میں بل کے حق میں 56 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے۔ اسپیکر ابھی بل کی منظوری کا اعلان ہی کر رہے تھے کہ وزیٹرز گیلری سے چند بم ایوان میں اچھال دیے گئے۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا، تاہم چند اراکین زخمی ہو گئے۔

    اسی دوران بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی ‘انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں پمفلٹ پھینکتے رہے۔ دھماکوں کے بعد ایوان میں افراتفری پھیل گئی، مگر بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی فرار ہونے کے بجائے نعرے لگاتے ہوئے خود گرفتاری کے لیے پیش ہو گئے۔ اسپیکر بھی اپنی نشست چھوڑ کر چلے گئے، لیکن کچھ دیر بعد واپس آئے اور کارروائی ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اجلاس بروز جمعرات، 11 اپریل 1929، صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔

    اسمبلی میں بم دھماکے کے باوجود 11 اپریل 1929 کو اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسپیکر نے ایک قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا:  ‘یہ ایوان اس ماہ کی آٹھ تاریخ کی صبح ہونے والے وحشیانہ اور غیر انسانی حملے پر اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کرتا ہے اور سردار سر بومانجی دلال اور دیگر زخمی ہونے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

    ‘یہ ایوان خدائے مہربان کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس حملے کے سنگین نتائج برآمد نہ ہوئے۔ یہ ایوان اس حملے کی مکمل مذمت کرتا ہے اور اعلیٰ حکام کو یقین دلاتا ہے کہ ایسے جرائم کے اعادے کو روکنے کے لیے جو بھی مناسب اقدامات ضروری ہوں، اُن میں اس ایوان کا مکمل تعاون حاصل ہوگا۔‘

    اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ٹرائل کے بعد بھگت سنگھ کو اسمبلی میں بم پھینکنے کے جرم میں عمر قید، جب کہ پولیس سارجنٹ جان سانڈرز کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔

    23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اُن کے جسدِ خاکی ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے رات کی تاریکی میں گنڈا سنگھ والا گاؤں میں آخری رسومات ادا کر کے راکھ دریائے ستلج میں بہا دی گئی۔