لیبر مارکیٹ کا بحران: پاکستان میں بے روزگاری اضافہ: لیبر فورس سروے 2024-25 کے اہم انکشافات

لیبر

وفاقی حکومت کے فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ جاری کردہ لیبر فورس سروے 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی لیبر فورس تقریباً 83.1 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو کہ پچھلے لیبر فورس سروے 2020-21 میں دیے گئے 71.76 ملین افراد کے مقابلے میں 15.8 فیصد زائد ہے۔

حالیہ سروے کے اہم نکات کے مطابق ملک کی معیشت، روزگار کے مواقع اور صوبائی سطح پر فرق واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ ایک بڑی اور متحرک قوت رکھتی ہے، تاہم اس میں کئی چیلنجز بھی موجود ہیں، خصوصاً صوبوں کے درمیان عدم توازن اور غیر رسمی شعبے کا زیادہ ہونا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی لیبر فورس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب کا ہے جہاں 48.2 ملین افراد لیبر فورس میں شامل ہیں۔ اس کے بعد سندھ میں 18.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 12.5 ملین اور بلوچستان میں 4.0 ملین افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے پنجاب ملک کی لیبر فورس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مجموعی لیبر فورس میں سے تقریباً 77.2 ملین افراد برسر روزگار ہیں، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے وابستہ ہیں۔ یہاں بھی پنجاب سرفہرست ہے جہاں 44.7 ملین افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ سندھ میں 17.5 ملین، خیبر پختونخوا میں 11.3 ملین اور بلوچستان میں 3.8 ملین افراد ملازمت کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ مختلف صوبوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں۔

لیبر فورس میں شرکت کی شرح ملک بھر میں اوسطاً 46.3 فیصد ہے، یعنی تقریباً آدھی بالغ آبادی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ پنجاب میں یہ شرح سب سے زیادہ 49.0 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 44.7 فیصد، بلوچستان میں 41.7 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 41.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں لوگ کم تعداد میں لیبر مارکیٹ کا حصہ بنتے ہیں۔

بے روزگاری کی صورتحال بھی رپورٹ میں نمایاں کی گئی ہے۔ ملک بھر میں بے روزگاری کی اوسط شرح 7.1 فیصد ہے، جو کہ 2020-21 کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ پچھلی رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد تھی۔ پچھلے سال یعنی 2024-25 میں خیبر پختونخوا میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 9.6 فیصد تھی، جبکہ سندھ میں 7.3 فیصد تھی۔ اس کے برعکس پنجاب میں 5.3 فیصد اور بلوچستان میں 5.5 فیصد بے روزگاری کی شرح تھی۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں روزگار کے مواقع یکساں نہیں ہیں اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

روزگار اور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے قومی سطح پر یہ شرح 43.0 فیصد ہے۔ پنجاب اس معاملے میں بھی آگے ہے جہاں یہ شرح 45.4 فیصد ہے، جبکہ سندھ میں 42.3 فیصد، بلوچستان میں 39.3 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 37.2 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں روزگار کے مواقع نسبتاً زیادہ دستیاب ہیں۔

مختلف شعبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اب بھی زراعت سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، جس میں 33.1 فیصد افراد کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کمیونٹی اور سماجی خدمات کا شعبہ 19.5 فیصد، تھوک و خوردہ تجارت 16.0 فیصد، مینوفیکچرنگ 14.8 فیصد، تعمیرات 9.9 فیصد اور ٹرانسپورٹ 6.6 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بڑی حد تک زرعی بنیادوں پر قائم ہے، تاہم خدمات اور تجارت کے شعبے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

روزگار کی نوعیت کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 43.5 فیصد افراد ملازم ہیں، جبکہ 36.1 فیصد افراد خود روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ 19.1 فیصد افراد بلا معاوضہ خاندانی کارکن ہیں اور صرف 1.3 فیصد افراد آجر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں غیر رسمی معیشت کا حجم بہت بڑا ہے اور باقاعدہ کاروباری ادارے کم ہیں۔

اجرتوں کے حوالے سے بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ ملک میں اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 39,042 روپے ہے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ اوسط تنخواہ 41,780 روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 39,974 روپے، سندھ میں 39,801 روپے اور پنجاب میں 38,189 روپے ہے۔ یہ فرق مختلف علاقوں میں معاشی سرگرمیوں، مہنگائی اور روزگار کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں جدید دور کے ایک اہم رجحان یعنی گیگ ورک پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تقریباً 2.9 فیصد افراد گیگ ورک کو اپنی بنیادی ملازمت کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ 10.6 فیصد افراد اسے اضافی آمدن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں گیگ ورک کا رجحان زیادہ دیکھا گیا ہے، جہاں 15.0 فیصد خواتین اضافی کام کے طور پر اس میں شامل ہیں، جبکہ مردوں کی شرح 9.8 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آن لائن اور فری لانس مواقع خواتین کے لیے نئے راستے کھول رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ رپورٹ پاکستان کی لیبر مارکیٹ کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے وابستہ ہیں، جبکہ دوسری طرف علاقائی تفاوت، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ اور محدود صنعتی ترقی جیسے مسائل بھی واضح ہیں۔ مستقبل میں پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزگار کے مواقع بڑھانے، ہنر مندی کو فروغ دینے اور صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں تاکہ ملک کی معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔

اسی بارے میں: